6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 6:114–118

اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 6:114 in the Quran reader

اے نبی ! ) ان سے پوچھو کیا میں اللہ کے سوا اور کسی کو منصف بنائوں حالانکہ اس نے تو تمہارے پاس کھلی ہوئی کتاب بھیج دی ہے اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ تو یہ جانتے ہیں کہ یہ (قرآن) آپ کے رب کی طرف سے برحق نازل ہوا ہے۔ پھر (اے نبی ! ) آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجانا

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:115 in the Quran reader

(اور آپ کے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوگئیں۔ کوئی بھی اس کی بات کا بدلنے والا نہیں اور وہی (ہر ایک کی) سنتا (اور سب کی) جانتا ہے

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:116 in the Quran reader

اور دنیا میں ایسے بھی بہت سے ہیں کہ (اے مخاطب ! ) اگر تو ان کا کہنا مانے تو وہ تم کو اللہ کے رستہ سے گمراہ کردیں۔ وہ تو صرف خیالات پر چلتے ہیں اور وہ محض قیاس لڑاتے ہیں۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:117 in the Quran reader

بیشک آپ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے رستہ سے بہکا ہوا ہے اور وہ راہ راست پر چلنے والوں کو (بھی) خوب جانتا ہے۔

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:118 in the Quran reader

سو جس پر 1 ؎ اللہ کا نام لیا گیا ہے اس کو کھاؤ اگر تم کو اس کی آیتوں پر یقین ہے

ترکیب : افغیر اللّٰہ ابتغی کا مفعول حکماء اس سے حال ویجوزالعکس مفصلا الکتب سے حال ہے اور بالحق ضمیر مرفوع منزل سے۔ صدقا وعدلا تمیز ہیں اور مفعول لہ بھی اور حال بھی ہوسکتی ہیں۔ ھوا اعلم خبر ان من بمعنی الذی یانکرہ موصوفہ موضع نصب میں فعل محذوف سے جس پر اعلم دلالت کرتا ہے ای یعلم من یضل یا من استفہامیہ مبتداء ویضل خبر اور جملہ یعلم محذوف سے محل نصب میں۔ تفسیر : چونکہ پہلی آیتوں میں کفار کے اعتقادِ بد کو اور انکار نبوت اور شبہات بےجا کو رد فرما کر آنحضرت ﷺ اور جملہ ایمانداروں کی تسلی کے لئے فرما دیا تھا کہ ان کی یہ سب باتیں ملمع کاری ہے (زخرف القول) جو ان کے مادہ فاسدہ سے ابخرات کی طرح اٹھتی ہیں۔ ایک دوسرے سے بیان کرتا ہے اور اس کے دل میں جماتا ہے تم کو ان باتوں کی طرف خیال بھی نہ کرنا چاہیے۔ اس پر بحکم ” کس نگوید کہ دوغ من ترش است “ کفار کا یہ عذر بھی رد ہوتا ہے کہ چلو ہم کسی کو پنچ بنائیں وہ کیا کہتا ہے اس لئے فرماتا ہے کہ ان سے کہہ دو کہ کیا میں خدا کو چھوڑ کر کسی اور کو پنچ بنائوں کہ جس نے مجھ پر وہ کتاب نازل کی کہ جس میں نیک و بد ‘ سعادت و شقات کو کھول کھول کر بیان کردیا۔ اس کتاب کے برحق ہونے کی ایک دلیل تو خود یہی کتاب ہے۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب۔ کیونکہ الٰہیات اور احکام و قصص عبرت انگیز بصیرت خیز سعادت و شقاوت دارین کے اصول اس سچائی اور صفائی سے بیان کرنا خاصہ کتاب الٰہی ہے۔ سو یہ سب باتیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔ اگر آنکھ ہو تو دیکھ لو۔ اس کی طرف ھوالذی انزل الخ میں اشارہ فرمایا اور اگر خود عقل خداداد نہ ہو اور کسی کی شہادت درکار ہو تو اہل کتاب دل میں اس کے برحق ہونے کے مقر ہیں کیونکہ وہ اپنی کتابوں میں جو مجموعہ صحیح و غلط روایات کا ہیں ناہنوز صدہا نشان قرآن کے برحق ہونے کے پاتے ہیں۔ اس کی طرف والذین اتیناھم میں اشارہ کیا۔ اس کے بعد ان شبہات کو ہیچ و پوچ قرار دینے کے لیے فرماتا ہے کہ آپ کسی طرح سے شک میں نہ پڑیں۔ شمشیر یقین سے سب کی قطع برید کر ڈالنا چاہیے۔ اس میں خطاب آنحضرت ﷺ کی طرف ہے مگر مراد اور ہیں۔ اس کے بعد پھر اطمینان کرتا ہے کہ کتاب الٰہی کے دو حصہ ہوتے ہیں۔ ایک میں گذشتہ لوگوں کے واقعات اور آیندہ کے حالات ‘ جنت و دوزخ ‘ حساب و کتاب کی تشریح اور اپنی ذات وصفات کی توضیح ہوتی ہے۔ سو اس حصے کی دلیل اصالت تو صدق ہے یعنی سچائی اور دوسرے حصہ میں احکام روحانی و جسمانی ‘ سیاسی و نوامیسی ہوتے ہیں۔ سو اس کی دلیل عدل یعنی افراط وتفریط سے پرہیز ہونا ہے۔ حالانکہ تمت کلمت ربک صدقا وعدلا قرآن ان دونوں اوصاف صدق و عدل میں پورا ہے جس کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ کس لئے کہ وہ سمیع وعلیم ہے۔ مکذبین کی باتیں سنتا ہے۔ ان کے دلوں کے راز جانتا ہے، ان کا کوئی دائو اس سے مخفی نہیں۔ پھر فرماتا ہے اے پیغمبر ! آپ وحی کے مطابق چلیں ان کے کہنے سننے کی پروا نہ کریں کس لئے کہ یہ اندھے ہیں۔ اگر آپ ان کے کہنے پر چلیں تو آپ تو گمراہ ہیں تم کو بھی گمراہ کردیں کس لئے کہ حقیقت الامر ان کو معلوم نہیں۔ جو کچھ کہتے ہیں اٹکل اور قیاس سے کہتے ہیں۔ احکام سے لے کر قصص تک اور عالم آخرت کے معاملہ سے لے کر صفات تک محض قیاسات باطلہ ہیں۔
Ayahs 6:119–121

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 6:119 in the Quran reader

اور کیا وجہ کہ جس پر اللہ کا نام ذکر کیا جاوے اس کو نہ کھاؤ حالانکہ جو چیز تم پر حرام ہے اس کی تفصیل ہوچکی ہے مگر وہ بھی جبکہ تم کو اس کی طرف ناچارگی ہوجاوے ( تو درست ہے) اور (اے نبی ! ) بہت سے لوگ تم کو بےسمجھے (بوجھے) اپنی خواہشوں میں گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ بیشک آپ کا رب حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے

وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:120 in the Quran reader

اور (اے لوگو) چھپے اور کھلے سب گناہ چھوڑ دو ۔ بیشک جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ اپنے کئے کی عنقریب سزا پائیں گے

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:121 in the Quran reader

اور جس پر خدا کا نام نہ لیا گیا ہو اس کو نہ کھاؤ اور وہ گناہ (بھی) ہے اور بیشک شیاطین تو اپنے رفیقوں کے دل میں تمہارے ساتھ جھگڑا کرنے کے لئے وسوسے ڈالا کرتے ہیں اور اگر تم نے ان کا کہا مان لیا تو بیشک تم بھی مشرک ہوگئے۔

ترکیب : وما استفہامیہ مبتداء لکم خبر الاتاکلوا حرف جر محذوف ای فی ان لاتاکلوا حرف جر کے حذف ہونے کے بعد محل نصب میں ہے وقد فصّل جملہ حال ہے۔ ما اضطررتم الیہ ماموصولہ اضطرر تم الیہ صلہ ماموضع نصب میں ہے جنس سے استثناء ہونے کے سبب معنی۔ کس لئے اللہ تعالیٰ نے جس پر اللہ کا نام لیا جاوے اس کے کھانے سے پرہیز کرنے پر تنبیہ کی ہے جو اباحت اکل کو مطلقاً چاہتا ہے۔ تفسیر : منجملہ مزخرفات قول کفار کے کہ جس کو شیاطین انس و شیاطینِ جن ملمع کار دلیلوں سے ان کے دلوں میں ڈالا کرتے تھے۔ ایک بات یہ بھی تھی کہ کفار جس طرح اور ناپاک چیزوں کو کھاتے تھے جیسا کہ خون وغیرہ اسی طرح جو جانور کہ از خود مرجاتا تھا یا بتوں پر چڑھایا جاتا تھا اور کسی طرح سے مرجاتا تھا ‘ اس کو کھالیا کرتے تھے اور ذبیحہ کو اپنا مارا سمجھ کر نہ کھاتے۔ اس کی بابت حکم دیتا ہے فکلومما ذکر اسم اللہ کہ تم وہ جانور کھائو کہ جس پر بوقت ذبح اللہ کا نام لیا گیا ہے یعنی بسم اللہ کہہ کر ذبح کیا گیا ہو۔ پھر اس کی تاکید فرماتا ہے کہ ان کنتم بآیاتہ مؤمنین کہ تم ان کے شک ڈالنے کی طرف خیال نہ کرو۔ اگر تم کو اللہ کی آیتوں کی طرف یقین ہے اس کے بعد پھر تاکید فرماتا ہے مالکم الا تاکلوا مما ذکر اسم اللہ علیہ کہ تم کفار کے ان شبہات کی طرف کہ اللہ کی ماری ہوئی (یعنی مردار) کو تو مسلمان کھاتے نہیں اور اپنی ماری ہوئی ( یعنی ذبیحہ) کو کھاتے ہیں۔ یہ عجب بات ہے۔ خیال کرکے کیوں اس کے کھانے میں تامل کرتے ہو ؟ یہ حرام نہیں کس لئے کہ 1 ؎ یعنی جس ذبیح پر اللہ کا نام لیا گیا اللہ اکبر کہہ کر ذبح کیا گیا ہے اس کے کھانے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ 12 منہ۔ قدفصل لکم ما حرم علیکم کہ جو چیزیں تم پر حرام کی ہیں۔ ان کی تفصیل و تشریح تو ہوچکی ہے۔ اس کے بعد کی اس آیت میں قل لا اجدوفیما اوحی الی محرم علی طاعم یطعمہ الایہ 1 ؎ اس کی تفسیر آگے آتی ہے اور نیز یہ بیان سورة مائدہ میں بھی ہوچکا ہے۔ حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر الخ نزولا گو یہ بعد ہے مگر ترتیب اصلی میں جو مطابق لوح محفوظ ہے مقدم ہے مگر وہ محرمات بھی حالت اضطرار میں مستثنیٰ ہیں۔ الاما اضطررتم الیہ پھر کفار کے شبہ کو رد کرتا ہے کہ وان کثیرا لیضلون الخ کہ بہت سے دنیا میں شیاطین ہیں کہ وہ اپنی جہالت سے الٹی سیدھی باتیں بنا کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ چناچہ عرب میں سب سے پہلے یہ گمراہی عمرو بن لحی نے ایجاد کی تھی۔ سو اس کو یہ سرکش لوگ خوب معلوم ہیں وہ ان کو سزا دے گا۔ اس کے بعد قاعدہ کلیہ کے طور پر ایک عام حکم دیتا ہے جو تمام شرائع کی اصل ہے اور بتوں کے چڑھاوے اور مردار چیزوں کے کھانے میں دل پر تاریکی پیدا ہونے کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ وذروا ظاھر الاثم و باطنہ کہ ظاہر اور باطن کے سب گناہ چھوڑ دو ۔ گناہ ظاہری میں قزاقی ‘ زنا بالاعلان ‘ مردار خوری سب آگئے اور باطنی چھپ کر زنا کرنا ‘ دل پر برے خیالات کو جگہ دینا ‘ حسد و کبر کرنا ‘ کیونکہ ان ہر ایک کی سزا پاوے گا۔ اس کے بعد بالصراحۃ مردار کے کھانے سے منع کرکے بقولہ ولا تاکلوا ممالم یذکر اسم اللّٰہ علیہ وانہ لفسق کفار کے اس شبہ کا وحی شیطانی اور خطرہ نفسانی ہونا ظاہر کرتا ہے۔ بقولہ وان الشیاطین الخ اور مسلمانوں کو متنبہ کرتا ہے کہ خدا کی مرضی کے خلاف کسی حرام کو حلال اور حلال کو حرام جاننے میں کفار کا کہا مانو گے تو تم بھی مشرک ہوجائو گے۔ وان اطعتموھم انکم لمشرکون کس لئے کہ دوسرے کو تعلیم حکم میں خدا تعالیٰ کے برابر جاننا یہ شرک فی الحکم ہے۔ فوائد : (1) فکلوا مما ذکر اسم اللّٰہ یعنی جو جانور حلال ہیں ان کو اللہ کے نام (تکبیر) سے ذبح کیا جاوے تو کھائو یعنی تمہارے لئے دینی طور سے اس کے کھانے میں اجازت و اباحت ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جبکہ یہود نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ ہم مردار نہیں کھاتے ٗ آپ مار کر کھاتے ہیں۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ کما اخرج ابو دائود والترمذی عن ابن عباس۔ (2) ولاتأکلوا ممالم یذکر اسم اللہ علیہ عطا کہتے ہیں کہ یہ حکم کچھ ذبیحہ ہی پر موقوف نہیں بلکہ ہر کھانے پینے پر بھی بسم اللہ ضرور ہے ورنہ وہ چیز حرام ہے مگر جمہور کے نزدیک اور چیزوں پر بسم اللہ امر مسنون ہے نہ کہ فرض کس لئے کہ اس آیت میں مما سے جانور مراد ہیں مگر جانور بھی حلال کہ جن کو کتاب و سنت نے حرام نہ کہا ہو اور یہ بسم اللہ کہنا بھی ذبیحہ کو باحادیث صحیحہ جب درست کرتا ہے جبکہ مومن یا اہل کتاب نے ذبح کیا ہو۔ (3) اہل علم کے نزدیک اس آیت سے وہ ذبیحہ کہ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو خواہ جھٹکا کیا ہو یا گردن مروڑ نے سے مار ڈالا گیا ہو یا بتوں کے نام سے ذبح ہوا ہو یا از خود اپنی موت سے مرا ہوا الغرض اس پر بوقت ذبح اللہ کا نام پاک نہ لیا گیا۔ پھر خواہ اس کو کسی نے مارا ہو۔ اہل کتاب نے یا ملحد یا کسی اور نے وہ حرام ہے۔ اگر مسلمان سے بھی بوقت ذبح بسم اللہ کہنا ترک ہوجاوے خواہ عمداً خواہ سہواً علماء کا ایک گروہ کہتا ہے وہ بھی حرام ہے۔ آیہ لم یذکر اسم اللّٰہ علیہ اس پر صادق ہے۔ یہ ابن عمر و نافع و شعبی و ابن سیرین کا قول ہے اور ایک روایت سے مالک و احمد حنبل کا بھی قول ثابت ہوتا ہے اور دائو ظاہری بھی اسی کے قائل ہیں مگر علماء کا ایک دوسرا گروہ کہتا ہے اگر سہواً بسم اللہ کہنا ترک ہوگیا تو اس کا کھانا حلال ہے۔ یہ حضرت علی و ابن عباس و سعید بن مسیب وعطاء و طائوس و حسن بصری و عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ و ابوحنیفہ وغیرہ کا قول ہے اور مشہور امام احمد ومالک کا بھی یہی قول ہے۔ وہ کہتے ہیں سہواً ترک دراصل ترک نہیں بھول چوک مسلمان کی معاف ہے۔ امام 1 ؎ سورة مائدہ جس میں حرام چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے گو نزول میں مؤخر ہے مگر اصل ترتیب میں اس آیت سے مقدم ہے اور نیز اس آیت کے بعد میں حرام چیزوں کا ذکر ہے اور اس قدر متاخر کو ایک متصل اور مسلسل کلام میں یہ کہنا کہ تم کو بتا چکے ہیں درست ہے۔ 12 منہ شافعی وغیرہ فرماتے ہیں اگر مسلمان عمداً بھی ترک کر دے تو بھی ذبیحہ درست ہے کس لئے کہ آیت میں ذبح غیر اللہ کی حرمت مذکور ہے۔ یہ قول اس آیت کے بظاہر مخالف ہے۔
Ayahs 6:122–123

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

کیا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کردیا اور اس کے لئے ایسی روشنی کردی کہ جس سے وہ لوگوں میں چلتا ہو۔ اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جس کا حال یہ ہو کہ وہ اندھیریوں میں پڑا ہو ان سے نکل نہ سکتا ہو۔ ہم نے کافروں کے لئے ان کے کام مزین کردیے ہیں

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور ہم نے اسی طرح سے ہر گائوں میں وہاں کے فاسق لوگ سردار بنائے تاکہ وہاں مکر کیا کریں اور ان کا مکر صرف انہیں کے لئے ہو۔ حالانکہ وہ جانتے ہیں

ترکیب : من مبتداء یمشی بہ موضع نصب میں ہے صفت ہے نورا کی کمن خبر۔ مثلہ مبتداء فی الظلمات خبر لیس بخارج حال ہے ضمیر مثلہ سے۔ اکابر مفعول اول جعلنا فی کل قریہ ثانی۔ تفسیر : پہلی آیت میں مسلمانوں کو کفار کی اطاعت سے منع فرمایا تھا یہاں اس کی وجہ بیان فرماتا ہے کہ قابل اطاعت تو وہ شخص ہے کہ جس کو خدا نے موت ظلمات طبیعت سے بسبب انکشاف و تجلیات روحانیہ کے زندہ کیا ہو اور اس کے ساتھ اس کے پاس خدا کی طرف کا ایک چراغ ہدایت بھی ہو ( قرآن) کہ جس کی روشنی میں وہ لوگوں کو لانا چاہتا ہے نہ وہ کہ جو طرح طرح کی اندھیریوں میں ایسا مبتلا ہو کہ جو ان میں سے کبھی نکل ہی نہ سکے (کیونکہ نہ کفر و شرک کو برا جان کر ہادی کی تلاش کرے گا نہ ورطہ ظلمت سے نکلے گا) سو اول صفت تو نبی کی ہے اور دوسری کافر کی۔ پھر کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں۔ ہرگز نہیں پس قابل اتباع نبی ہے نہ کافر۔ پھر اس کافر کی ظلمات سے باہر نہ آنے کی وجہ بیان فرماتا ہے۔ کذلک زین للکافرین ماکانوا یعملون کہ ان کی روحانیت میں قضاء و قدر نے خباثت کی طرف میل طبیعت رکھتا ہے جس طرح کہ نجاست کے کیڑے کو نجاست کی طرف میل طبعی ہے۔ وہ پاک چیزیں چھوڑ کر اسی پر ریجھتا ہے۔ اسی طرح یہ بد افعال ان کی آنکھوں میں خوشنما معلوم ہوتے ہیں۔ پھر کیونکر ظلمات سے نکلیں ؟ خدا ایسی حالت سے بچاوے۔ پھر فرماتا ہے کہ مکہ کے سرداروں پر ہی کچھ موقوف نہیں کہ وہ مومنین اور نبی کے مقابلہ میں لوگوں کو مکر و فریب سے گمراہی کی طرف کھینچتے ہیں بلکہ ہم نے جس جگہ اور جس گائوں میں نبی بھیجے وہاں کے مکاروں اور بدکاروں کو وہاں کی سرداری اور دنیاوی عزت دی تاکہ وہ اپنے کام میں پوری کامیابی حاصل کرکے ابدی جہنم کے مستوجب ہوجاویں (افسوس بعض کی دنیاوی ترقی اور کثرت مال و جاہ اسی کی ہلاکتِ آخرت کا باعث ہوجاتی ہے) ۔ مکہ کے کافر سردار ابوجہل اور ولید بن مغیرہ جب آنحضرت ﷺ کا کوئی بڑا معجزہ دیکھتے تھے تو حسد و کبر کے مارے یہ حیلہ کرتے تھے کہ اس شخص میں کیا بات ہم سے زیادہ ہے ؟ ہمیں کیوں نبی صاحب معجزات نہیں کیا گیا ؟ ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ نبوت کے لئے ازل میں نفوس قدسیہ پیدا کئے گئے ہیں۔ وہی مناسب جان کر وہ وحی اور نبوت قائم کرتا ہے ؎ کلاہ خسروی و تاج شاہی بہرسر کے رسد حاشاو کلا سو عنقریب ان متکبروں کو دنیا میں (جیسا کہ بدر کے دن یا فتح مکہ میں ہوا) یا آخرت میں تکبر کے عوض ذلت اور نخوت کے بدلے میں عذاب شدید ملے گا۔
Ayah 6:124

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس کوئی معجزہ آتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ ہم کو بھی ویسی ہی 1 ؎ چیز نہ ملے جیسی کہ اللہ کے رسولوں کو دی گئی تھی۔ اللہ خوب جانتا ہے جہاں کہ اپنی پیغمبری قائم کرتا ہے۔ عنقریب گنہگاروں کو خدا کے ہاں کی ذلت اور عذاب شدید پہنچے گا۔ ان کی مکاری کی وجہ سے۔

1 ؎ یعنی وہی معجزات و نبوت جو رسولوں کو عطا ہوئے ہیں جب تک ہم کو نہ ہوں گے ایمان نہ لائیں گے۔ 12 منہ
Ayahs 6:125–129

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:125 in the Quran reader

پھر جس کو اللہ ہدایت دینی چاہتا ہے تو اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے اور جس کو گمراہ کرنا چاہتا ہے تو اس کا سینہ ایسا بھنچا ہوا تنگ کردیتا ہے کہ گویا اس کو آسمان پر چڑھنا پڑتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 6:126 in the Quran reader

ان پر اللہ ایسی ہی پھٹکار ڈال دیا کرتا ہے اور آپ کے رب کا سیدھا رستہ تو یہ (اسلام) ہے۔ ہم نے سمجھنے والوں کے لئے آیتیں کھول کر بیان کردی ہیں۔

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:127 in the Quran reader

ایمانداروں کے لئے ان کے رب کے پاس سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا کارساز ہوگا۔ ان کے ان عملوں کے سبب جو وہ کیا کرتے تھے

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور جس دن کہ ان سب کو جمع کرکے (پوچھے گا) کہ اے قوم جن ! تم نے بہت سے آدمی اپنے کر لئے تھے اور ان کے انسان دوست عرض کریں گے کہ اے رب ! ہم میں سے (دنیا میں) ایک دوسرے سے فائدہ لیتا رہا جنوں نے ہم سے نذر و نیاز لی ہم نے لوگوں سے دھوکا دے کر کمایا اور (اب) ہم اپنے اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لئے مقرر کیا تھا یعنی سزا کا وقت آگیا، اب آپ کے ہاتھ بات ہے) فرمائے گا تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہوگے مگر جب تک اللہ چاہے۔ بیشک آپ کا رب حکمت والا اور خبردار ہے

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اور ہم اسی طرح سے (وہاں بھی) ۔ ایک ظالم کو دوسرے کے ساتھ ان کے اعمال کے سبب جو وہ کیا کرتے تھے ٗ رفیق بنا دیں گے۔

ترکیب : فمن شرط یشرح جواب حرجا اے ضیقًا بکسر الراصفۃ وفتحہا مصدر وصف بہ مبالغہ کانما فی موضع نصب اوحال من الضمیر فی جرح۔ مستقیما حال ہے صراط ربک سے والعامل ہذا حرجا بالفتح جمع حرجۃ وہی شدۃ الضیق یصعد قری مخففامن الصعود ومشد دا واصلہ یتصعدو معناۃ یتکلف مالایطق مرۃ بعد مرۃ۔ تفسیر : پہلے کافر کی مثال مردہ اور اندھیریوں میں پڑے ہوئے کی اور مومن کی زندہ اور نور میں چلنے والی کی بیان کی تھی۔ اب یہاں سے اس تعجب واستبعاد کو دور کرکے اس کی وجہ بیان فرماتا ہے کہ باوجود اس قدر معجزات و آیات نبی ات کے پھر کیوں ایمان نہیں لاتے ؟ وہ یہ کہ ایمان لانا اور کفر میں پڑا رہنا یہ سب باتیں قضاء و قدر کے بس میں ہیں جس کو ہدایت کرنا چاہتے ہیں اس کی آنکھوں سے یہ تمام حجابات جو اس کو ایمان کی روشنی کے دیکھنے سے مانع آتے ہیں اٹھا دیتے ہیں۔ سو اسلام قبول کرنے پر بسہولت آمادہ ہوجاتا ہے اور جس کو اسی گمراہی میں پڑا رہنا چاہتے ہیں اس کے دل سے یہ حجاب دور نہیں ہوتے۔ سو حیات دنیا اور اس کے لذات و شہوات پر ایسا غش ہوجاتا ہے کہ اسلام قبول کرنے کو جس میں لذات روحانیہ اور عالم باقی کی طرف رہنمائی ہے ایسا سخت اور مشکل جانتا ہے کہ جیسا کوئی آسمان پر چڑھنے کو ہدایت عام ہے۔ ہذا صراط ربک مستقیما اسلام خدا کی سیدھی سڑک ہے جو دارالسلام تک پہنچتی ہے مگر اس پر چلنا ہر ایک کی تقدیر میں نہیں بلکہ سمجھ والوں کے لئے۔ پس جو اس پر چلیں گے ان کے لئے دارالسلام ہی سلامتی اور امن کا گھر یعنی جنت جو عند ربہم اس محبوب حقیقی کے پاس ہے اور وھو ولیہم وہ وہاں ان کا دوست بھی رہے گا۔ بما کانوا یعملون نہ صرف زبانی جمع خرچ اور جھوٹے دعوے کی وجہ سے بلکہ ان کے اعمال صالحہ اور کوشش سے جو حقیقی اسلام کی علامت ہے اور اسلام سے دل تنگ ہونے والوں کے لئے یہ ہوگا کہ یوم یحشرھم الخ ان سب کو جمع کرکے ان کے بہکانے والے اور خدائی کے مستحق بننے والے جن اور خبیثوں سے سوال ہوگا کہ تم نے بہت سے آدمیوں کو گمراہ اور خراب کیا تھا۔ اس بازپرس کی وجہ ان جنوں اور خبیثوں کے دنیاوی یار یعنی ماننے والے یہ عذر کریں گے کہ دنیا میں باہمی رابطہ کرکے ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کام لیا جنوں کو ہم نے بہکا کر اپنی نذر و بھینٹ اور پرستش پر آمادہ کرکے کام لیا اور ہم نے ان سے غیب کی باتیں دریافت کرنے اور دیگر تخویفات میں کام لیا تھا (ہندوستان میں اب تک سینکڑوں ارواح خبیثہ اور جن بھوتوں کی پرستش ہو رہی ہے۔ ہندوستانیوں سے وہ خوب کام لے رہے ہیں اور سینکڑوں برہمن جوگی اتیت ساحر بھوت وغیرہ سے کرشمہ دکھلانے اور توہماتِ بےجا پیدا کرکے ڈرانے میں کام لے رہے ہیں اور اے رب ! ہم اپنے لکھے کو پہنچے یا یہ معنی کہ زندگی بھر ایسا کرتے رہے۔ ہم سے بیوقوفی ہوگئی ان جنوں نے بہکا دیا۔ فرمائے گا جائو تم دونوں کے لئے جہنم ٹھکانا ہے ٗ ہمیشہ وہیں رہو گے۔ مگر جب اللہ چاہے تو نکالے سو وہ کیوں چاہے گا۔
Ayahs 6:130–134

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

اے جنوں اور انسانوں کی جماعت ! کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے جو تمہیں میری آیتیں سنایا کرتے اور اس دن کے پیش آنے سے ڈرایا کرتے تھے۔ وہ عرض کریں گے ہم اپنے اوپر آپ ہی گواہی دیتے ہیں اور ان کو تو یہ دنیا کی زندگی نے فریب میں ڈال رکھا تھا اور وہ آپ ہی اپنے اوپر گواہی دیں گے کہ ہم منکر تھے۔

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ آپ کا رب کسی گائوں کو ان کے ظلم پر ان کی بیخبر ی میں ہلاک کرنے والا نہیں

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور ہر کسی کو اپنے اعمال کے درجہ ملیں گے اور آپ کا رب ان کے کام سے بیخبر نہیں

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

اور آپ کا رب بےپروا ‘ رحمت والا ہے۔ اگر چاہے تو تم کو فنا کر دے اور تمہارے پیچھے جس کو چاہے قائم کرے جس طرح کہ تم کو اور لوگوں کی نسل سے پیدا کردیا۔

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ وہ آنے والا ہے اور تم ہرگز روک نہ سکو گے۔

ترکیب : یقصون موضع رفع میں صفت ہے رسل کی اور حال بھی ہوسکتا ہے ہذا خبر ہے مبتدا محذوف کی یایومکم کی صفت ان لم ان مصدریتہ یا مخففہ ہے اور لام محذوف ای لان لم یکن ریک موضعہ نصب اوجر۔ تفسیر : پھر اس عذر بارد کے رد کرنے کو ہر ایک جن و انسان سے خطاب کرکے فرمائے گا الم یاتکم رسل منکم الخ کہ کیا تمہارے پاس ہمارے رسول نہیں آئے جو تمہیں میں سے تھے جن سے بوجہ ہم زبان و ہم قوم و موانست کے نصیحت حاصل کرنا بہت آسان تھا جو تمہیں میری آیتیں سناتے اور آج کے دن سے خوف دلاتے تھے ؟ اس کے بعد وہ اپنے کفر کا اقرار کریں گے۔ علمائِ اسلام میں سے جمہور بقرائنِ آیات ان اللہ اصطفیٰ آدم الخ وغیرہا اس بات کے قائل ہیں کہ رسول صرف انسانوں ہی میں سے مبعوث ہوئے ہیں جنوں کو بھی وہی تعلیم کیا کرتے مامنکم جو یہاں آیا ہے سو اس سے یہ مراد نہیں کہ جن و انسان کے ہر ہر فریق میں سے رسول آئے بلکہ دونوں کے مجموعہ میں سے کہ جو صرف انسانوں پر صادق آسکتا ہے۔ یا رسل انس کے نائب رسل جن تھے جن پر رسل کا لفظ مجازاً اطلاق ہوا۔ ضحاک کے نزدیک جنوں میں سے بھی رسول ہوئے ہیں۔ اس کے بعد رسول بھیجنے کی وجہ بیان فرماتا ہے کہ ہم کسی گائوں کو بھی غفلت کی حالت میں مبتلائے عذاب نہیں کرتے بلکہ پیشتر رسول یا ان کے نائب صحابہ سے لے کر قیامت تک علمائِ کرام بھیج کر متنبہ کردیتے ہیں۔ اب یہ ظاہر کرتا ہے کہ دار آخرت میں جو کچھ سختی و نرمی ‘ جنت و دوزخ اور ان میں ثواب و عتاب کے متفاوت درجات ہوں گے اس میں کچھ ہماری کسی پر بےرحمی و ظلم و زیادتی یا کوئی ذاتی بغض و نفرت نہیں بلکہ مما عملوا اور ہم تو کسی کی عبادت و ریاضت کے محتاج بھی نہیں ہیں۔ وربک الغنی اور نیز بالذات ہم کو اپنی ہر مخلوق پر رحمت ہے۔ ذوالرحمۃ اور اس رحمت سے یہ سمجھ کہ وہ تمہاری سرکشی کی سزا دنیا میں نہیں اور اپنے وعدہ عذاب وثواب دنیا و آخرت کو پورا نہیں کرسکتا۔ ان یشاء الخ وان ماتوعدون لات اور تم اس کے آنے والے وعدہ کو روک نہیں سکو گے۔
Ayahs 6:135–137

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ) کہہ دو بھائیو تم اپنی جگہ عمل کرو میں اپنی جگہ ( عمل) کر رہا ہوں۔ سو تم کو ابھی معلوم ہوجاوے گا کہ کس کے لئے دار آخرت کا انجام اچھا ہے۔ بیشک ظالموں کا تو بھلا ہوگا نہیں

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

اور اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور مواشی میں سے مشرکین اس کے لئے حصہ لگا کر اپنے خیال سے کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ کا ہے اور یہ ہمارے معبودوں کا پھر جو ان کے معبودوں کا ہوجاتا ہے وہ تو خدا کو نہیں پہنچتا اور جو اللہ کا ٹھہرتا ہے وہ ان کے معبودوں کو بھی پہنچ جاتا ہے۔ کیا برا فیصلہ کر رہے ہیں

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کو تو ان کے معبودوں نے ان کی اولاد کا قتل کرنا پسند کرا دیا تھا تاکہ ان کو خراب کریں اور ان کے دین میں غلطی ڈال دیں اور اگر اللہ چاہتا تو وہ یہ بات نہ کرتے سو آپ ان کو اور ان کے ڈھکوسلوں کو چھوڑیئے۔

ترکیب : مکانتکم ای حالتکم ‘ من موصولہ مفعول تعلمون ‘ نصیبا مفعول اول جعلوا للہ اور مما ذراجعل سے متعلق من الحرث ما کا بیان شرکاؤھم فاعل زین قتل مصدر مضاف الی المفعول مفعول زین۔ تفسیر : ان ما تو عدون الآت فرما کر قیامت اور وعدہ الٰہی کے منکروں کے مقابلہ میں آنحضرت ﷺ کو بمزید وثوق سے یہ حکم ہوتا ہے کہ ان سے کہہ دو اچھا اگر تمہیں یقین نہیں تو تم جو کچھ کرتے ہو کئے جائو اور جو میں کرتا ہوں وہ میں کئے جاتا ہوں۔ آپ معلوم ہوجاوے گا کہ کس کے لئے دار آخرت اور وہاں کی خوبیاں ہیں اور اس کے ساتھ یہ حکم ناطق بھی سنا دیا کہ ظالموں کو فلاح نہ ہوگی۔ اس کے بعد کفار عرب کی چند وہ حماقتیں بیان کرتا ہے کہ جن کو انہوں نے مذہب اور وسیلہ نجات سمجھ رکھا تھا تاکہ معلوم ہو کہ ان کی سرکشی اور بےجا حجتیں ان کی بیوقوفی کا ثمرہ ہے۔ منجملہ ان کے ایک یہ بات تھی کہ کھیتی اور چارپایوں میں سے باوجود اللہ کے پیدا کئے ہوئے ہیں حصہ لگا رکھتے تھے۔ کچھ اناج اور کچھ جانوروں کو اللہ کے حصہ کا اپنے گمان کے بموجب قرار دیتے تھے اور کچھ اپنے بتوں کے نام کا (جیسا کہ بعض دیہات میں اناج اٹھاتے وقت ڈھیریاں لگاتے ہیں کہ یہ اللہ کے نام کی اور یہ مدار کی اور یہ سالار کی یہ قلندر کی۔ اسی طرح جانوروں میں کرتے ہیں) اور اس پر لطف یہ تھا کہ اگر اللہ کی ڈھیری میں سے بتوں کی ڈھیری میں جا ملتا تھا تو نہ اٹھاتے تھے اور ان کی ڈھیریوں میں سے جو اللہ کی ڈھیری میں آملتا تھا تو اسے اٹھا کر بتوں کی ڈھیری میں ملا دیتے تھے کہ ان کو زیادہ حاجت ہے اور خدا کو کچھ حاجت نہیں۔ اس پر فرماتا ہے کہ کیا ہی برا فیصلہ ہے۔ منجملہ ان کے ایک یہ بات تھی کہ اپنے فرضی معبودوں سے اولاد کا سوال کیا کرتے تھے اور جب کئی اولاد ہوتی تھیں تو ان میں سے ایک کو اس بت خانہ کے پاس لے جا کر اس بت کے نام سے ذبح کردیتے تھے جس طرح کے ہندو بتوں پر جانوروں کی بھینٹ چڑھاتے ہیں اور یہ رسم بابل اور نینوٰی میں بھی تھی اور پھر کہیں ایک دن مقرر ہوتا تھا کہ جس میں ایک قسم کی نذریں ادا ہوتی تھیں یعنی بےزبان ‘ معصوم بچے آگ میں ڈالے جاتے تھے۔ کہیں ذبح کئے جاتے تھے۔ ہنود میں بھی یہ رسم تھی جن کی صحبت سے جاہل اہل اسلام ایک بیٹے کو بجائے ذبح کرنے کے اولیاء اللہ کی خانقاہوں میں چڑھا دیتے ہیں اور کہیں اولیاء اللہ کے نام سے ان کے سر پر چوٹی رکھتے ہیں جس کو وہاں لے جا کر بوقت معین مونڈتے ہیں۔ ان باتوں کی نسبت فرماتا ہے۔ وکذالک زین لکثیر الخ۔
Ayah 6:138

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

اور وہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں یہ مواشی اور کھیتی اچھوتی ہے۔ ان کے خیال پر اس کو وہی کھائے جس کو وہ چاہیں اور بہت سے ایسے چارپائے بھی ہیں کہ جن پر چڑھنا اور لادنا حرام کر رکھا ہے اور ایسے بھی چارپائے ہیں کہ جن پر (بوقت ذبح) اللہ کا نام نہیں 1 ؎ لیتے اللہ پر جھوٹ بنا رکھا ہے۔ وہ ان کو بھی ان کے جھوٹ کی سزا دے گا

1 ؎ ذبح کرتے وقت یہ وہ تھے کہ جن کو بتوں کے نام پر چھوڑ رکھا تھا۔ ترکیب : لایطعمہا موضع رفع میں صفت ہے حرث کی حجر بکسر جاء و سکون جیم اور بضم حاء و سکون جیم بھی جائز ہے۔ اس کے معنی منع اور حرام افترائً مفعول مطلق بھی ہوسکتا ہے کس لئے کہ ان کا قول سابق افتراء ہے ‘ اے یفترون افترائً اور مفعول لہ بھی ہوسکتا ہے۔ اول صورت میں علیہ قالوا سے متعلق ہوگا۔ دوسرے میں نفس مصدر سے ما بمعنی الذی مبتداء خالصۃ خبرو التانیث لرعایۃ المعنی لان ما فی البطون انعام وقیل للمبالغۃ کعلامۃ والمعنی حلال وصفہم منصوب ہے مفعول لہ ہونے کی وجہ سے سفہاء مفعول لہ ہے یا تمیز مختلفا حال مقدرہ ہے۔ ایسا ہی متشابہا حمولۃ وفرشا معطوف ہیں جنات پر اے وانشاء من الانعام حمولۃ صالحۃ للحمل علیہا کالابل وفرشا کا لغنم لانھا لفرش للارض لدنوھا منھا ثمانیۃ ازواج منصوب ہے جنات پر معطوف ہو کر یا بدل ہے یا کلوا محذوف ہے۔ تفسیر : کہ یہ ناپاک اور مکروہ فعل شیطان نے ان کی آنکھوں میں خوشنما کردیا ہے۔ لیلبسوا علیہم دینھم کہ ان کے دین کو اپنی طرف کے حاشیہ چڑھا کر خراب کر دے۔ ولیر دوھم ارداء ہلاک کرنا قال اللہ تعالیٰ کدت لتردین اور تاکہ ان کو ہلاک کو برباد کرے۔ دنیاء و آخرت میں ایسی جاہل قومیں رسوا و برباد ہوتی ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ تھا کہ اپنی کھیتی اور چار پایوں میں سے بتوں کے نام چڑھاتے تھے (جیسا کہ ہندوستان میں چڑھاوا چڑھتا ہے) اور اس کو حجر 5 ؎ یعنی اچھوتا کہتے تھے کہ بجز پوجاریوں کے اور کسی کو کھانا درست نہ سمجھتے تھے اور عورتوں کے لئے بھی کھانے کی اجازت نہ تھی اور ان جانوروں پر تعظیما سوار ہونا بھی برا اور حرام جانتے تھے اور ان میں سائبہ و بحیرہ وغیرہا بھی شامل ہیں جن کی تفصیل اوپر گذری ہے اور ان جانوروں پر بوقت ذبح اللہ کا نام بھی نہ لیتے تھے بلکہ بتوں کے نام سے ذبح کرتے یا یہ معنی کہ ان کو کسی کار ؎ صورت میں متشابہ اور لذت میں خلاف۔ 12 منہ خیر میں صرف نہ کرتے تھے اور اس فعل کو خدا کا حکم سمجھتے تھے۔ افتراء علیہ یہ سب افترا تھا خدا تعالیٰ پر۔ منجملہ ان کے یہ بات تھی کہ ان سائبہ اور بحیرہ کے پیٹ سے اگر زندہ بچہ پیدا ہوتا تھا تو اس کو خالص اپنے مردوں کے لیے حلال جانتے تھے اور عورتوں پر اس کا کھانا حرام کر رکھا تھا اور جو مردہ پیدا ہوتا تھا تو اس کے کھانے میں مردو زن سب شریک ہوجاتے تھے۔ اب ان کی بیہودہ ڈھکوسلوں کے رد میں فرماتا ہے سیجزیھم وصفہم کہ ان کے اس وصف یعنی خدا پر جھوٹ باندھنے کی خدا ان کو عنقریب سزا دے گا اور وہ علیم 1 ؎ ہے کوئی بات اس سے مخفی نہیں حکیم مہلت کسی مصلحت سے دے رکھی ہے ان ناپاک باتوں میں سب سے بری بات اولاد کا قتل کرنا ہے پیشتر رو کرتا ہے قد خسر الذین قتلوا اولادھم الخ اور بعدہ ان چیزوں کا از خود حرام کرلینا تھا اس کی نسبت فرماتا ہے وحرموا ما رزقھم اللہ اور یہ فعل ان کا خدا پر محض افتراء ہے اس نے تو نہیں فرامایا اور خود ان میں اس بات کی عقل نہیں قد ضلوا اور نہ اس بات کی قابلیت ہے وما کانوا مھتدین وھو الذی انشاء جنت الخ یہاں سے لے کر انیسویں رکوع تک کھیتی اور مواشی کا اپنی رحمت و انعام سے پیدا کرتا اور بندوں کے لیے حلال ہونا ایسے عمدہ طور سے بیان فرماتا ہے کہ جس سے بتوں کے مقابلہ میں خاص اللہ تعالیٰ کا ہی خالق الاشیاء ہونا اپنے بندوں کے فوائد کے لیے ان چیزوں کا حلال و مباح کردینا ثابت ہوتا ہے۔ 5 ؎ حجرحا کی کسر معنی المنع اور عقل کو بھی اسی لئے حجر کہتے ہیں کہ وہ قبائح سے منع کرتی ہے اور اسی لئے قاضی کے حکم امتناعی کو حجر کہتے ہیں۔ اس سے مراد کہ اور لوگ اس کے کھانے سے ممنوع کئے گئے تھے حسن و قتادہ نے حجر بضم بھی پڑھا بجز اللہ۔ 12 منہ
Ayahs 6:139–140

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ جو بچہ ان چارپایوں کے پیٹ 2 ؎ میں ہے وہ تو ہمارے مردوں کے لئے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے اور اگر مرا ہوا ہو تو پھر اس میں سب شریک ہیں۔ وہ ابھی ان کو ان باتوں کی سزا دے گا۔ بیشک وہ حکمت والا خبردار ہے۔

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

بیشک وہ خرابی میں پڑگئے جو اپنی اولاد کو بیوقوفی میں آکر جہالت سے قتل کر ڈالتے تھے اور اللہ پر جھوٹ باندھ کر اللہ کی دی ہوئی چیزوں کو حرام کرتے تھے۔ ضرور وہ تو گمراہ ہوگئے اور وہ ہدایت پانے کے لائق بھی نہ تھے

2 ؎ ذبح کے وقت گابھن چارپوں کے پیٹ کے بچے پر کہا کرتے تھے۔ 12 منہ
Ayah 6:141

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 6:141 in the Quran reader

اور وہی تو ہے کہ جس نے چھتری 3 ؎ دار اور بغیر چھتری کے باغ اگائے اور کھجور اور کھیتی پیدا کی کہ جن کے مزے مختلف ہیں اور زیتون اور انار بھی جو کہ باہم (صورت) میں ملتے جلتے ہیں اور (مزے میں) نہیں ملتے جب وہ پھل لائیں تو ان کے پھل کھائو (پیو) اور کٹنے کے دن اس کا حق ادا کردیا کرو (زکوٰۃ) اور فضول خرچی نہ کیا کرو کیونکہ اس کو فضول خرچ کرنے والے پسند نہیں

3 ؎ یعنی ٹیٹوں پر ان کی بیل چڑھتی ہی جائے انگور وغیرہ۔ 12 منہ طریق اول : ھو الذی سے لے کر لا لئہب المسرفین تک یعنی ہر قسم کے باغ اور سب نباتات اللہ کے پیدا کئے ہوئے ہیں سو تم شوق سے ان کو کھاؤ کلوا من ثمرہ البتہ دو باتوں کی پابندی کرنی چاہیے ایک تو واتو حقہ یوم حصا وہ اس میں علماء کے تین قول ہیں اول ابن عباس وعطاء و ابن عمر و مجاہد و سعید وغیر ہم کا کہ اس حق ادا کرنے سے مراد زکوٰۃ یعنی عشر دسواں یا چالیسواں حصہ ہے اس کو بقدر امکان کٹنے کے روز ادا کرے ورنہ بعد میں اور حصاد کھیتی اور پھلوں کے کٹنے کو کہتے ہیں اور گو مدینہ میں آکر دوسرے برس آیت زکوٰۃ نازل ہوئی مگر اس سے قبل واجب ہونا خصوصاً کھیتی و ثمار میں کچہہ تعجب نہیں اور ممکن ہے کہ یہ آیت بھی مدینہ ہو۔ امام 2 ؎ ابوحنیفہ کے نزدیک اس آیت سے جس طرح ہر قسم کی پیداوار زمین عشر واجب ہے بلا قید زرع اسی طرح ہر مقدار پر بھی بلا قید خمسہ اوسق عشر واجب ہے۔ جمہور پانچ وسق میں عشر کہتے ہیں۔ دوسرا علی بن حسین وعطا و مجاہد و حماد کا قول۔ وہ یہ کہ علاوہ عشر و نصف عشر کے کٹنے کے روز جو غرباء و مساکین کھیت اور باغ میں آجاتے ہیں کچہ ان کو بھی دینا چاہیے کیونکہ زکوٰۃ تو مدینہ میں فرض ہوئی اور یہ آیت مکیہ ہے (اور پہی فوی ہے) تیسرا قول سعید بن جبیر وغیر کا ہے کہ یہ حکم مکہ میں تھا مگر جب مدینہ میں زکوٰۃ عشر یا نصف عشر مقرر ہوگیا تو یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ دوسری بات یہ کہ اسراف یعنی فضول خرچی نکرد جس میں بتوں کے نام پر یا معصیت میں دینا آگیا۔ اس کے بعد مواشی کی بابت ذکر فرماتا ہے کہ عرب میں چار قسم کے جانور لوگوں کے پاس زیادہ ہے بھیڑ ‘ بکری ‘ اونٹ ‘ گائے نر اور مادہ ہر ایک کو لیا جائے تو آٹھ قسم ہوتی ہیں جن کو ثمانیۃ ازواج کہا گیا اب آنحضرت سے فرماتا ہے کہ ان حمقاء سے پوچھئے کہ ان میں سے خدا نے نر کو حرام کیا ہے یا مادہ کو یا پیٹ کے بچہ کو (اما اشتملت علیہ ارحام الانثین) اور کیا تم اس وقت موجود تھے یا تم سے کہہ دیا ہے ؟ جب یہ نہیں تو پھر کیوں خدا پر جھوٹ باندھ کر حرام کہتے ہو ؟ 1 ؎ اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ کسی چیز کا حلال یا حرام کرنا علت مصلحت پر مبنی ہے۔ سو یہ بات تو اللہ ہی کا حصہ ہے کیونکہ وہ علیم ہے نہ کہ یہ حمقائِ عرب پھر ان کو حرام و حلال کرنے کا کیا منصب ہے۔ 12 منہ 2 ؎ چھواروں اور منقیٰ میں تو جمہور کے نزدیک بھی جبکہ پانچ وسق تک پیدا ہو۔ 12 منہ ؎ فطرت اسلام یا ملت اسماعیلیہ و ابراہیمیہ۔ 12 منہ
Ayahs 6:142–144

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

اور چار پایوں میں سے اس نے کچھ بارکش بنائے اور کچھ بلند قامت زمین سے لگے ہوئے 4 ؎ جو کچھ اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر مت چلو کیونکہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

آٹھ قسم کے جوڑے پیدا کئے بھیڑوں میں سے دو اور بکریوں میں سے دو ۔ پوچھو کیا ان میں سے اللہ نے نروں کو حرام کیا ہے یا مادائوں کو یا ان دونوں ماداؤں کے پیٹ کے بچے کو۔ مجھے سمجھ کر بتاؤ تو اگر تم سچے ہو

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور اونٹ کے بھی دو نر مادہ اور گائے کے بھی دو نر مادہ۔ پوچھو کیا ان میں سے نروں کو حرام کیا ہے یا مادائوں کو یا اس بچہ کو جو ان دونوں مادائوں کے پیٹ میں ہے۔ کیا تم جبکہ خدا نے تمہیں یہ حکم دیا تھا تم موجود تھے پھر اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹی باتیں لوگوں کو ناسمجھی سے گمراہ کرنے کے لئے بنائے۔ بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

4 ؎ یعنی چھوٹے قد کے جیسا کہ بھیڑ بکری یا زمین پر ذبح کے لئے لٹانے کے قابل۔ 12 منہ ؎ دنبہ بھی اس میں شامل ہے۔ 12 منہ
Ayahs 6:145–146

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

(اے نبی ! ان سے) کہہ دو جو کچھ میری طرف وحی 1 ؎ کیا گیا ہے میں تو اس (قرآن) میں کھانے والے کے لئے کوئی چیز حرام نہیں پاتا مگر مردار یا بہا ہوا خون یا سور کا گوشت کیونکہ وہ ناپاک ہے یا گناہ کا جانور جو اللہ کے سوا غیر کے نام سے پکارا گیا ہو۔ اس پر بھی جو کوئی ناچار ہی ہوجاوے (اور کچھ کھالے) بشرطیکہ وہ نہ باغی ہو اور حد سے تجاوز کرنے والا تو (اس کے لئے) آپ کا رب معاف کرنے والا ‘ مہربان ہے

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور یہودیوں پر ہم نے ایک گھر والا جانور حرام کردیا تھا اور گائے اور بکریوں کی چیزیں بھی ان پر حرام کردی تھیں مگر وہ چربی جو ان کی پشت یا انتڑیوں پر لگی ہو یا جو ہڈی سے ملی (لپٹی) ہوئی ہو۔ یہ ہم نے ان کو ان کی سرکشی کی سزا دی تھی اور ہم سچ کہتے ہیں

1 ؎ یعنی قرآن 12 منہ ترکیب : یطعمہ طاعم کی صفت محلا مجرور الا ان یکون استثناء ہے جنس سے اس کا موضع نصب ہے ای لا اجد محرماً الا المیتۃ بالنصب خبر ہے یکون کی اسم الماکول محذوف او وماء ولحم خنزیر اس پر معطوف اوفسقاء عطف ہے لحم خنزیر پر۔ بعض کہتے ہیں موضع الا ان یکون پر معطوف ہے اور فانہ رجس فاصل ہے اہل فسقا کی صفت ومن البقراء معطوف ہے کل پر اوالحوایا موضع نصب میں عطا علی ما السفح الصب وقیل السیلان ویستعمل لازما ومتعدیا و الفرق فی المصدر فی الاول المصدر السفوح وفی الثانی السفح۔ الحوایا الا معاء جمع حاویۃ کضاربۃ وضوارب وقیل جمع حاویاء مثل قاصعاء و قواصع وقیل جمع حویۃ۔ تفسیر : اب دوسرے طریق سے مشرکین کے قول کو رد کرتا ہے کہ جو انہوں نے دائرہ معیشت تنگ کرنے کے لئے بہت سی چیزوں کو ازخود حرام کر رکھا تھا اور جس میں وہ اپنے معبودوں کی خوشنودی سمجھتے تھے ٗ وہ یہ کہ حرام کرنا کسی چیز کا خدا تعالیٰ کا کام ہے جو بندوں کی مصلحت پر نظر کرکے بذریعہ وحی اس کے حرام ہونے کی نبی کی معرفت خبر دیتا ہے اس لئے یہاں نبی کو فرماتا ہے کہ ان سے کہہ دو کہ جو کچھ مجھ پر وحی کیا گیا یعنی قرآن اس میں تو میں کھانے کی چیزوں سے بجز ان چار چیزوں کے اور کوئی حرام نہیں پایا : اول میتۃ یعنی مردار اس میں نطیحہ اور متردیہ اور درندوں کا پھاڑا ہوا اور لٹھ سے مارا ہوا یعنی بغیر ذبح کیا ہوا جانور بھی آگیا کیونکہ ہر ایک مردار ہے۔ دوم دم مسفوح یعنی وہ خون جو بہہ کر جانوروں میں سے نکلتا ہے بوقت ذبح یا زخم یا کاٹنے سے اور وہ خون جو گوشت کے ساتھ لگا ہوتا ہے یا جما ہوا جسم میں ہوتا ہے جیسا کہ تلی اور کلیجی وہ حرام نہیں اس لئے اس کو آنحضرت ﷺ نے مستثنیٰ کردیا جیسا کہ میتہ سے مچھلی اور ٹڈی کو مستثنیٰ کردیا۔ سوم لحم الخنزیر یعنی سور کا گوشت۔ اب ان کے حرام ہونے کی وجہ بیان فرماتا ہے فانہ رجس کہ یہ ناپاک ہے یعنی علت حرمت ناپاکی ہے جس سے پیغمبر ﷺ نے اور بھی ناپاک جانوروں اور ناپاک چیزوں کو جو اس آیت میں مخفی تھیں ظاہر کردیا جانور ہزاروں ہیں کس کس کے نام لئے جاتے۔ عام قاعدہ بتلا دیا کہ پرندوں میں جو چونچ اور چنگل سے شکار کرے اور صحرائی جانوروں میں جو درندہ ہو جس کی کچلیاں ہوں شیر ‘ کتا ‘ بھیڑیا ‘ گیدڑ وغیرہ اور اسی طرح ناپاک چیزوں میں گوہ ‘ موت ‘ شراب داخل ہے کیونکہ اس کو تو بالتخصیص قرآن میں ناپاک کہا ہے۔ چہارم فسق یعنی وہ قربانیاں جو بتوں کے نام سے ذبح کی جاویں۔ اس کے بعد مدینہ میں سورة مائدہ نازل ہوئی۔ اس میں موقوذہ دمتردیہ و نظیحہ کی حرمت آگئی۔ حاصل کلام یہ کہ اگر عموم کھانے کی چیزوں کی نسبت ہے تو اس کے بعد جو کچھ کتاب و سنت سے حرام ہو وہ بھی اس میں داخل ہو مگر بوقت اضطرار ان کی بھی رخصت ہے۔ فمن اضطر الخ اس کے بعد یہ بات بتلاتا ہے کہ ہم نے یہود 1 ؎ پر بھی ذی ظفر یعنی ناخون چری ہوئی چیزیں اور گائے بکری کی چربی حرام کردی تھی۔ اس کی تشریح پہلے ہوچکی۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر وہ تیری تکذیب کریں اور عذاب کے خواستگارہوں تو کہہ دو کہ وہ بڑا رحیم و حلیم ہے ٗ جلد باز نہیں مگر جب اس کا عذاب آتا ہے تو کوئی روک بھی نہیں سکتا۔ ابحاث : (1) قل لا اجد الخ یہ سورة مکیہ ہے اس میں حصر کردیا کہ کھانے پینے کی چیزیں جو شریعت محمدیہ علیہ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں حرام ہیں صرف یہی چار چیزیں ہیں پھر اسی بات کی متعدد مقامات میں تاکید بھی کردی۔ چناچہ سورة نحل میں فرماتا ہے انما حرم علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اھل لغیر اللہ بہ فمن اضطر غیر باغ دلا عاد فان اللہ غفور رحیم اور کلمہ انما حصر کے لئے آتا ہے۔ ان دونوں مکی سورتوں سے بھی صرف چار چیزوں کا حرام ہونا ثابت ہوا اور سورة بقرہ میں فرمایا۔ انما حرم علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اھل لغیر اللہ اور سورة مائدہ میں بھی فرمایا ہے احلت لکم بہیمۃ الانعام الا مایتلی علیکم اور تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ یتلٰی سے مراد وہ ہے جو بعد میں فرمایا ہے۔ اعنی حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اھل لغیر اللہ بہ والمنخنقۃ الوموقوذۃ والمتردیۃ والنطیحۃ وما اکل السبع الا ماذکیتم اور سورة مائدہ اور بقرہ مدینہ میں نازل ہوئی ہیں۔ ان میں سے صرف انہیں چاروں چیزوں کی حرمت پائی جاتی ہے کیونکہ منخنقۃ وغیرہا میں داخل ہیں۔ جیسا کہ اس کی تفسیر میں بیان ہوا ہے کہ شریعت مصطفویہ میں اول سے آخر تک صرف انہیں چار چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔ شبہ : یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہی چار چیزیں حرام ہوں اور انہیں میں حصر ہوجاوے تو نجاسات و قذورات گوہ ‘ موت اور شراب اور گھر کا پلا ہوا گدھا اور کتا اور تمام درند پرندو چرند اور دیگر وہ چیزیں جو کتب فقہ و احادیث میں حرام لکھی ہیں ٗ حلال سمجھی جاویں حالانکہ وہ اہل اسلام کے نزدیک حرام متصور ہوئیں ہیں۔ جواب : اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ یہ چار چیزیں حرام قرآن میں کی گئی مگر ان چاروں چیزوں کے ضمن میں اور چیزیں بھی ہیں جو انہیں چاروں سے سمجھی جاسکتی ہیں۔ خواہ ان کو پیغمبر خدا ﷺ نے سمجھا اور اس کی تشریح فرمائی مثلاً انہیں آیات میں جو سور کو حرام کیا تو اس کی وجہ یہ فرمائی کہ فانہ رجس یہ ناپاک ہے۔ بس اس ناپاکی کو کتے اور دیگر درندوں میں آنحضرت ﷺ نے دیکھ کر ہر ذی ناب اور ہر ذی مخلب کو بھی خنزیر کے ساتھ ملحق کردیا اور اسی طرح شراب کو بھی نجس قرآن میں کہا ہے اور اسی وجہ سے قرآن میں اس کی نسبت فاجتنبوہ آگیا کہ اس سے بچو۔ الغرض نجاسات کو حرام کیا اور بطور نمونہ خنزیر کا ذکر کردیا کیونکہ اس میں زیادہ نجاست ہے اور نیز عرب کی قومیں اس کا استعمال کرتی 1 ؎ یعنی کچھ تمہاری خصوصیات نہیں ہمیشہ سے مصلحتِ الٰہیہ بندوں کو بعض مضر چیزوں سے جن کی مضرت خواہ جسمانی ہو خواہ اخلاقی ہو ‘ روکتی رہی ہے۔ اشیائِ مذکورہ بالا میں اخلاقی اور جسمانی مضرت ہے اور نفس سرکش جو خواہشوں کے مرض میں گرفتار ہے اس کے لئے پرہیز ضرور ہے۔ حکیم روحانی کا یہ اہم کام ہے۔ 12 منہ ہیں اور اسی طرح خون بھی نجاست کا دوسرے طور سے نمونہ ہے اور کلیۃً اس لئے ایک آیت میں یحل لہم الطیبات ویحرم علیھم الخبائث بیان کردیا جس طرح کہ مخنفۃ اور متردیۃ اور نطیحۃ میتۃ کے اقسام ہیں خواہ علماء صحابہ وتابعین ومن بعدھم مجتہدین نے سمجھ کر ان کی تشریح کی ہو یا خود پیغمبر ﷺ نے۔ خلاصہ یہ کہ یہ چار چیزیں اور بہت سی ناپاک چیزوں کا نمونہ ہیں کیونکہ علت نجاست بیان ہوئی ہے۔ عام ہے کہ نجاست ظاہری ہو یا باطنی (2) وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر میں علماء نے کلام کیا ہے۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اس سے اونٹ مراد ہے۔ (چنانچہ تورات کتاب احبار باب 11 میں یہ عبارت ہے مگر ان میں سے جو جگالی کرتے ہیں یا کھر ان کے چرے ہوئے ہیں ان کو نہ کھائو جیسا کہ اونٹ جگالی کرتا ہے پھر کھر اس کا چرا ہوا نہیں ہوتا سو وہ ناپاک ہے۔ تمہارے لئے خرگوش الخ اور سافن اور سور الخ اور سب چارپائے جن کے کھر دو حصے ہوں پر پائوں چرے ہوئے نہ ہوں اور نہ جگالی کرتے ہو وہ ناپاک ہیں۔ تمہارے لئے جو ان کو چھوئے گا ناپاک ہوگا۔ چربی کی بابت بھی ایسا ہی لکھا ہے۔
Ayah 6:147

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

پھر اگر (اے رسول ! ) وہ آپ کو جھٹلا دیں تو کہہ دو کہ تمہارا رب 2 ؎ رسیع رحمت والا ہے (جو عذاب نازل نہیں کرتا) اور گنہگاروں سے اس کا عذاب دور ہونے والا نہیں۔

2 ؎ یعنی اس کی رحمت جلد عذاب نازل ہونے سے روکے ہوئے ہے۔ آخر تو عذاب آوے گا ہی جو کسی کے روکے رکنے کا نہیں۔ 12 منہ
Ayah 6:148

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

مشرک ابھی کہنے لگیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم از خود کوئی چیز حرام کرتے۔ اسی طرح ان سے پہلوں نے جھٹلایا تھا۔ یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھ لیا (اے نبی ! ان سے) کہو تمہارے پاس کچھ علم ہو (کتابی سند) تو اس کو ہمارے روبرو نکال کر لائو۔ تم تو محض خیال کی پیروی کرتے ہو اور تم تو صرف اٹکلیں دوڑاتے ہو۔

ترکیب : ولا آبائنا عطف ہے ضمیر پر جو اشرکنا میں ہے اور نحن کلمہ تاکید قائم مقام کلمہ لا ہے جو اس مقصد فصل کو پورا کر رہا ہے۔ ھلم اسم فعل شہداء کم اس کا مفعول الذین موصول وصلہ اس کی صفت فان شہدوا شرط فلا تشہد جواب۔ تفسیر : ایسے جاہلوں کی ایک یہ بھی عادت ہے کہ وہ جب حجت میں مغلوب اور ایسے افعال ضمیمہ کے ارتکاب پر ملزم کئے جاتے ہیں تو لاچار ہو کر یہ جواب دیا کرتے ہیں کہ اگر خدا کو یہ بات پسند ہی نہ ہوتی تو وہ نہ ہم سے سرزد ہونے دیتا نہ ہمارے باپ دادا سے کہ جن کی تقلید ہم کرتے آئے ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ خدا کو یہ کام پسند ہے۔ اسی طرح مکہ کے کافروں نے کہا سو اس بیہودہ عذر اور باطل حجت کو رد کرنے کے لئے قبل ان کے کہنے کے خود خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ عنقریب وہ ایسا کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا نہ شرک کرتے نہ کسی چیز کو ازخود حرام کرتے۔ اس کے رد میں فرماتا ہے کہ یہ تو انبیاء کی تکذیب ہے وہ بذریعہ الہامِ الٰہی ان افعال کو منع کرتے ہیں۔ سو یہ تکذیب انہیں پر موقوف نہیں۔ ان سے پہلے لوگ یوں ہی انبیاء کی تکذیب کرتے چلے آئے ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھ لیا۔ پھر اس عذر کو دوسری طرح سے رد کرتا ہے کہ بتلائو تمہارے پاس اس بات کی دلیل ہے کہ خدا تمہاری ان باتوں سے خوش ہے۔ ھل عند کم من علم بلکہ کوئی سند نہیں صرف تم قیاس لڑاتے ہو۔ اس کے بعد ان کو اس مشیت الٰہی کے بارے میں تحقیقی جواب دیتا ہے مگر پہلے بطور تمہید کے یہ فرماتا ہے للّٰہ الحجۃ البالغہ کہ خدا کی دلیل اور حجت قوی اور پوری ہے اور وہ جواب یہ ہے کہ دنیا میں جس طرح بندے کو قضا و قدر نے اپنے ازلی نوشتہ کا تابع کر رکھا ہے اسی طرح کچھ اختیار بھی دے رکھا ہے جس کو موقع پر استعمال میں نہ لانے سے بندے کو الزام دیا جاتا ہے یہ ہے حجت بالغہ اس لئے بہت سے لوگ دنیا میں برخلاف کرتے ہیں اور تقدیرِ الٰہی میں ان کا جہنمی ہونا بھی لکھا ہے سو وہ اس لیے یہ افعال ان کے اختیار کی وجہ سے ان سے سرزد ہونے دیتا ہے تاکہ دنیا میں ہدایت یافتہ اور گمراہوں میں امتیاز رہے۔ اس سے کچھ اس کی خوشنودی اور رضامندی نہیں سمجھی جاتی۔ ہاں اگر ہم چاہتے تو سب کو ہدایت دیتے فلو شاء لہدا کم اجمعین یا یوں کہو کہ یہ تو قطعاً معلوم ہے کہ دنیا میں سب ہدایت پر نہیں ٗ کچھ گمراہ بھی ہیں۔ پھر ان گمراہوں کے افعال ذمیمہ کیونکر موافق مرضی 1 ؎ الٰہی سمجھے جاویں گے ؟ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ گمراہی اس کی مشیت ازلی سے ہے۔ اگر چاہتا تو نہ ہوتی۔ پھر ان کو ان کے خیال پر اور بھی قائل کرتا ہے کہ اچھا تمہارا اس بات پر کوئی گواہ ہے کہ خدا نے ان بحیرہ وغیرہا چیزوں کو حرام کیا ہے ؟ فرماتا ہے اگر کوئی گواہی بھی دے تو اے نبی تم ان کے ساتھ گواہی نہ دینا وہ قطعاً جھوٹے اور بدعقل ہیں اور ان کی خواہشوں پر نہ چلنا جھوٹا ہونا تو اس لئے کہ کذبوابا یتنا اور بدعقل ہونا اس لئے کہ لایؤمنون بالاخرۃ۔ الخ 1 ؎ مشیت اور رضا میں فرق ہوتا ہے دنیا میں بھی اس کی بہت مثالیں ہیں۔ ہم بسا اوقات کسی وجہ خاص سے کوئی مکان گرانایا گھر میں آگ لگانا یا کسی کو کچھ دینا چاہتے ہیں مگر مرضی کے خلاف۔ اسی طرح مرضی الٰہی بھی ہے کہ سب نیک رستے پر چلیں جو حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے وسیلہ سے دنیا میں بتایا گیا مگر انتظام عالم اور نوشتہ ازلی سے چاہا یہ بھی جاتا ہے کہ یہ گمراہی میں رہیں اس نازک مسئلہ کو اب تک بھی روشن دماغ عمدہ طور سے بغیر غور و تامل نہیں سمجھ سکتے چہ جائیکہ مکہ کے جاہل بت پرست مگر جب حجت میں عاجز ہوجاتے اور قائل ہونا پڑتا تو دھاندلی کرنے کے لیے یہ مسئلہ مشیت و رضا کا اڑاتے جس کا جواب ان آیات میں دیا گیا۔ 12 منہ
Ayahs 6:149–150

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 6:149 in the Quran reader

(ان سے کہہ دیجئے) پس اللہ ہی کی دلیل قوی ہے 1 ؎ پھر اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دیتا

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 6:150 in the Quran reader

(یہ بھی ان سے) کہو تم اپنے ان گواہوں کو تو لاؤ جو تمہارے ساتھ ہو کر اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ نے یہ (چیزیں) حرام کردیں پھر اگر وہ گواہی بھی دیں تو ان کے ساتھ آپ گواہی نہ دیں اور نہ آپ ان لوگوں کی خواہشوں پر چلیں کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور نہ وہ آخرت پر یقین کرتے اور وہی اپنے رب کے برابر (اوروں کو) کرتے ہیں۔

1 ؎ یعنی تمہارے پاس کوئی علمی سند ہو تو لائو پھر جب لا نہ سکے تو اللہ ہی کی دلیل غالب رہی۔ 12 منہ
Ayahs 6:151–153

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ١ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:151 in the Quran reader

(اور ان سے کہو) ادھر آؤ میں تمہیں وہ چیزیں سنائوں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کی ہیں وہ یہ کہ اللہ کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ سلوک کرو اور نہ تنگدستی کے مارے اپنی اولاد کو قتل کرو۔ ہم تم کو بھی روزی دیا کرتے ہیں اور ان کو بھی اور نہ کسی بےحیائی 1 ؎ کے پاس جاؤ خواہ پوشیدہ ہو اور نہ اس جان کو قتل کرو کہ جس کو اللہ نے حرام کردیا ہے مگر حق پر یہ ہے جس کا اللہ نے تمہیں حکم دیا تاکہ تم سمجھو

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ Open ayah 6:152 in the Quran reader

اور نہ تم یتیم کے مال کے پاس جاؤ مگر اس طریقہ سے جو بہتر ہو جب تک کہ وہ اپنی جوانی کو نہ پہنچے اور انصاف کے ساتھ ناپ اور تول پورا کیا کرو۔ ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ حکم ہی نہیں دیتے اور جب کوئی بات کہو تو انصاف کرو۔ اگرچہ کوئی قرابت دار ہی کیوں نہ ہو اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ یہ ہے جس کا اللہ نے تمہیں حکم دیا تاکہ تم یاد رکھو

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 6:153 in the Quran reader

اور یہ بھی کہ میرا ہی سیدھا راستہ ہے سو اسی پر چلو اور دوسرے رستوں پر نہ چلنا کہ یہ رستے تم کو اس کے رستہ سے (بھٹکا کر) پریشان کردیں گے۔ یہ ہے جس کی اس نے تم سے تاکید کی ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔

1 ؎ بےحیائی ‘ زنا اور اس کے وداعی ناچ رنگ شہوت انگیز قصے ‘ اور اشعار ‘ گالی گلوچ ٗ ننگی تصاویر رکھنا دیکھنا یا خلوۃ کی باتیں سننا ‘ فحش بکنا ‘ اس میں ظاہر بےحیائی ہے اور باطن دل میں برے خیالات کو جگہ دینا تصورات فاسدہ اور شہوت انگیز سے لذت اٹھانا اور ان سب سے بچنا چاہیے۔ کس لئے کہ یہ روح تاریک کرتی ہیں اور جس سے دنیا میں فساد اور فتنہ اور صدہا آفتیں برپا ہوتی ہیں۔ 12 منہ ترکیب : ما بمعنی الذی اور عائد محذوف ای ماحرمہ اور مصدریہ بھی ہوسکتا ہے ان لاتشرکوا ان مفسرہ اور لانبی کے لیے اور مصدریہ بھی ہوسکتا ہے تب لا زائد ہوگا اے حرم ربکم ان تشرکوا اور جملہ محل نصب میں ہوگا محذوفہ سے بدل ہو کر ماظہر وما بَطَنَ فواحش سے بدل الاشتمال ہیں منہا موضع حال میں ہے۔ ذلکم مبتدا وصاکم خبر۔ وان ھذا معطوف ہے ماحرم پر ای واتلوا علیکم ان ہذا الخ جملہ محلا ٗ منصوب فتفرق جواب نہی بکم موضع مفعول میں ہے۔ تفسیر : کھانے پینے کی چیزیں جو خدا نے حرام کی ہیں ان کو بیان فرما کر اب دوسرے طور پر ان کی حرام کی ہوئی چیزوں پر تعریض کرتا ہے کہ اے نبی ! ان سے کہو کہ آئو تمہیں میں بتائوں کہ خدا نے تم پر کیا کیا چیزیں حرام کی ہیں یعنی حرام اور قابل رعایت تو یہ باتیں ہیں کہ جن میں معاد اور معاش کی صدہا حکمتیں اور ہزارہا بھلائیاں رکھی ہوئی ہیں۔ سو وہ نو باتیں جن کو بالترتیب ذکر فرماتا ہے : (1) ان لا تشرکوا الخ کہ خدا کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک نہ کرو۔ چونکہ عرب کی جاہل قومیں کہیں تو بتوں کو اور کہیں ستاروں کو اور کہیں جنوں کو اور کہیں ارواح انبیاء و صلحاء کو خدائی اختیارات میں دخیل و حصہ دار جانتی تھیں اور ان کو نافع و ضار سمجھ کر پکارتی منتیں مانتی تھیں۔ یہ ان کا شرک تھا۔ اس میں ہر قسم کے شرک کا اور ہر فرقہ کا رد ہے۔ (2) بالوالدین احسانا۔ ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو ٗ خدا کے بعد ماں باپ کا حق ہے۔ (3) اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔ عرب میں فقر و فاقہ کے خوف سے اولاد کو مار ڈالا کرتے تھے کہ ان کے لیے کھانے کو کہاں سے لاویں گے اور بیٹیوں کو زندہ زمین پر دفن کردیتے تھے کہ اس کا بیاہ شادی کیونکر کریں گے اور بیٹی کو ایک مصیبت ذات سمجھتے تھے۔ اس لئے فرمایا کہ روزی کی تمہیں کیا فکر ہے تمہیں اور ان کو بھی روزی دیتے ہیں اور اولاد کو بےتربیت چھوڑنا دینی و دنیاوی مصالح کی تعلیم سے غافل رکھنا بھی مار ڈالنا ہے۔ ماں باپ کے بعد اولاد کا حق تھا اس لئے اس کے بعد اس کو ذکر کیا۔ (4) فحش کام نہ کرو خواہ خفیہ ہوں خواہ ظاہر اس میں زنا اور ناچ ‘ گالی گلوچ وغیرہ سب آگئے۔ (5) جس جان کا مارنا خدا نے منع کیا ہے اسے نہ مارو یعنی ناحق خون نہ کرو۔ (6) یتیم کا مال بغیر کسی وجہ شرعی کے نہ کھائو۔ (7) ماپ تول میں کمی نہ کرو۔ (8) جب کوئی بات کہو تو انصاف سے کہو خواہ اس میں کوئی کیوں نہ ہو۔ قرابت دار یا غیر۔ (9) اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ توحید کا قائم رکھنا رسالت کا اقرار اور ظاہراً و باطناً خدا سے خوف کرنا۔ تہذیب اخلاق اور سیاست مدن اور تدبیر المنزل کے تمام اصل الاصول یہ ہیں۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ اس کی تمہیں خدا نے وصیت کی ہے اور دارالسلام کا یہی سیدھا راستہ ہے ٗ ادھر ادھر نہ جائو ورنہ بہک جائو گے۔