6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 6:38–41

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

اور جتنے حیوانات زمین پر چلتے پھرتے اور جتنے پرندے اپنے دونوں بازوئوں سے اڑتے پھرتے ہیں سب تمہارے ہی جیسے گروہ ہیں 2 ؎ ہم نے کتاب 3 ؎ میں کوئی بات نہیں چھوڑی۔ پھر وہ سب کے سب اللہ کے پاس اکٹھے کئے جاویں گے

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

اور جو ہماری آیتیں جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں۔ اندھیروں میں پڑے ہوئے۔ جس کو اللہ چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے راہ راست پر لاتا ہے۔

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

دیکھو تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آپڑے یا وہ گھڑی آجاوے تو کیا تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے۔ اگر سچے ہو

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

(تو بتائو) بلکہ اسی کو پکارو گے۔ پھر اگر وہ چاہے تو جس مصیبت کے دور کرنے کے لئے اس کو پکارو گے اس کو دور بھی کرے اور جن کو اس کا شریک کرتے ہو ان کو بھول جائو۔

2 ؎ یعنی جس طرح بنی آدم کے گروہوں کے جدا جدا نام اوراقسام ہیں اسی طرح ان کے بھی چیونٹی ‘ سانپ ‘ بچھو ‘ چیل ‘ چڑیا ‘ کوا ہر ایک جنس اور نوع جدا ہے اور اس طرح ان کے بھی رزق اور اجل مقرر ہے اور اسی طرح ان کو بھی ان کے انواع کے مفید علوم انعام ہوئے ہیں۔ حشرات الارض زمین میں مناسب مواقع پر بل اور سوراخ بناتے ہیں۔ پر نداونچے اونچے درختوں میں کس خوبی سے گھونسلے بناتے ہیں کہ جس سے عقلاء کی عقل کی دنگ ہوجاتی ہے۔ پھر جب حیوانات پر ہماری یہ عنایت ہے تو نوع انسان کو ہم امور آخرت سے کیونکر بےبہرہ چھوڑ دیتے۔ جہاں نہ عقلاء و حکماء کی عقل پوری رہنمائی کرسکتی ہے اس لئے ہم نے انبیاء بھیجے اور سب سے اخیر اس نبی ﷺ کو بھیجا۔ پھر بار بار کیا ان سے نشانیاں اور معجزے ہی مانگتے ہو۔ 3 ؎ کتاب یعنی لوح محفوظ۔ 12 منہ
Ayahs 6:42–45

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے آپ سے پہلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے ہیں۔ سو ہم نے ان لوگوں کو خوف اور مرض میں مبتلا کیا کہ (کہیں) عاجزی کریں۔

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

پھر جبکہ ان پر ہمارا عذاب آیا تو کیوں نہ عاجزی کی لیکن ان کے دل تو سخت ہوگئے تھے اور شیطان نے ان کے (بد) کاموں کو (ان کی نگاہ میں) آراستہ کر دکھایا تھا۔

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

پھر جبکہ جس کی انہیں نصیحت کی گئی تھی اسے بھول گئے۔ ہم نے بھی ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے یہاں تک کہ جو نعمتیں ان کو دی گئی تھیں ان پر اترانے لگے تو ہم نے ان کو یکایک پکڑ لیا پھر تو وہ ناامید ہوگئے۔

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

پس ظالم قوم کی جڑ کٹ گئی اور سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام عالم کا رب ہے۔

ترکیب : فلولا کلمہ تخصیص ہے اذ جاء ھم ظرف ہے تضرعوا کا۔ زین جملہ معطوف ہے قست قلوبہم پر۔ ماکانوا جملہ مفعول ہے زین کا لہم اس سے متعلق ہے۔ تفسیر : پہلے ذکر تھا کہ شدائد میں کفار بتوں کو چھوڑ کر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں پھر وہ اپنی رحمت سے ان کی مصیبت دور کردیتا ہے (غالباً مکہ یا عرب کے بت پرست ایسا کرتے تھے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی قدرت کاملہ کے بھی قائل تھے۔ البتہ بتوں اور تھانوں اور دیگر خیالی معبودوں کو خدا کی طرف کارکن سمجھ کر پوجتے اور ان کو پکارتے تھے جیسا کہ اکثر ہندو کرتے ہیں) اب یہاں یہ بات بتاتا ہے کہ اے نبی علیک السلام ان سے بھی بڑھ کر سیاہ دل قومیں گذری ہیں کہ وہ مصیبت کے وقت بھی خدا کو پکارنا بھول گئی تھیں پھر جب ان کی یہ حالت ہوئی اور انبیاء کی تمام وعظ و نصیحت کو بالائے طاق رکھ دیا تو پھر ان پر اپنی نعمت کے دروازے کھول دیے۔ غلے اور میوے ہیں کہ خوب پیدا ہوتے ہیں۔ تجارت اور صنعت میں کامیابی ہے۔ الغرض ہر ایک قسم کی خوشی اور کامیابی دیکھی گئی۔ (جیسا کہ آج کل اہل یورپ اور ان کے ہم خیال لوگوں کو ہے) یہ اس لئے کہ سختی سے وہ خدا کی طرف رجوع نہ ہوئے۔ کاش اس راحت اور سرور میں ہی اس کی طرف رجوع کریں مگر یہ بھی نہ ہوا کیونکہ ان کے دل سیاہ ہوگئے تھے۔ وہ اس سختی اور تنگدستی کے زمانہ کو اور پھر اس راحت و سرور کے عہد کو اپنے گناہوں پر خدا کی طرف سے تنبیہ و آزمائش خیال نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی سوئِ تدبیری اور خوش تدبیری کا نتیجہ کہتے تھے۔ ان کے محقق خدا کو وہمی چیز خیال کرنے لگے کہ صاحب ہم نے یوں کوشش کی اور یہ کیا اور یوں تدبیر کی تو یوں راحتیں ہم کو نصیب ہوئیں اور ایسا نہ کیا تھا تو تنگدستی ‘ بد اقبالی تھی۔ اس میں خدا نے کیا کردیا اور خدا کیسا جیسا کہ آج کل دہریوں کے خیالات فاسدہ ہیں (مانا کہ عالم اسباب میں بندہ کی خوش تدبیری اور بدتدبیری کو دخل ہے مگر ارضی و سماوی راحت و مصیبت میں کیا دخل ہے اور نیز خوش تدبیری اور بدتدبیری ادھر سے ہے) پس جب ان کی یہ حالت ہوئی تو ان پر خدا کی طرف سے ناگہانی بلا نازل ہوئی اور وہ قومیں ہلاک ہوگئیں۔ ایسی راحت و سرور کی حالت میں بلا آنا بھی غضب ہے۔ ولقد ارسلنا الی امم جیسا کہ بابل اور نینوا اور صمور کے لوگوں کے پاس انبیاء آئے تھے۔ فاخدناھم بالباساء الخ پھر ان پر بیماری اور قحط اور بےامنی کی بلائیں بھی نازل ہوئیں۔ لعلہم یتضرعون تاکہ عاجزی اور خدا کی طرف رجوع کریں۔ التضرع التخنفع وھوالا نقیا دو ترک التمر ولکن قست قلوبہم ان کے دل سخت ہوگئے تھے جن میں الحادو شہوت وتکبر کے سوا اور کچھ نہ تھا اس پر زین لہم الشیطان الخ شیطان نے افعالِ بد کو ان کی آنکھوں میں خوب چبھا دیا تھا کہ وہ ان کو بہت اچھا سمجھتے تھے۔ فلما نسوا پھر جب وعظ و نصیحت کو بھول گئے تو فتحنا علیہم ابواب کل شیء ان پر راحت اور سرور کے درازے کھول دیے۔ امتحان و آزمائش کے لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے گناہ کرنے پر جب انسان کو سزا نہ ملے بلکہ راحت و کشائش پیش آوے تو اس کو قہر الٰہی سے ڈرنا چاہیے (معالم) کیونکہ یہ ایسی راحت ہے جس طرح پھانسی دینے سے پہلے اس کو ہر قسم کے کھانے پینے کی رخصت دیتے ہیں پھر قطع دابر القوم خدا نے ان کی جڑ کاٹ دی۔ سینکڑوں نشان 1 ؎ ان کے اجاڑ شہروں میں اب تک پائے جاتے ہیں۔ یہ ہلاکت کبھی زلزلہ سے ہوئی جیسا کہ کئی سو برس ہوئے کہ اٹلی میں کئی شہر اور ہزاروں آدمی غارت ہوگئے اور کبھی کسی قہار بادشاہ کے ہاتھ سے اور کبھی آسمان سے پتھر برسانے سے اور کبھی وباء اور قحط سے۔
Ayahs 6:46–50

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

(اے نبی ! ) کہو تم دیکھو تو سہی اگر اللہ تمہاری شنوائی اور بینائی چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر کر دے تو اللہ کے سوا کوئی (اور بھی) معبود ہے جو تم کو انہیں لا کر دیوے۔ دیکھو ہم کیونکر طرح طرح سے دلیلیں بیان کرتے ہیں پھر وہ منہ پھیر لیتے ہیں۔

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

کہو تم دیکھو تو سہی اگر تم پر عذاب الٰہی یکایک یا کھلم کھلا آپڑے تو ظالموں کے سوا کوئی اور بھی ہلاک ہوگا ؟

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

اور ہم رسولوں کو تو صرف خوشی اور ڈر سنانے کو بھیجا کرتے ہیں۔ پھر جو کوئی ایمان لائے اور نیک ہوجائے تو اس پر کچھ خوف ہے اور نہ وہ غم کرے گا۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں ان کو ان کی بدکاری کی وجہ سے عذاب پہنچے گا

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

(اے نبی ! ) کہہ دو میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب داں ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف اسی کا پیرو ہوں جو مجھے الہام ہوتا ہے پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوسکتا ہے ؟ پھر تم کیوں نہیں سوچتے ؟

ترکیب : ان اخذ اللّٰہ شرط من الہ جملہ جواب ارایتکم میں کاف کوئی اسم مستقل نہیں جس کو ارایت کا معمول بنایا جاوے بلکہ وہ حرف خطاب ہے۔ بعض کہتے ہیں اس کا مفعول محذوف ہے ارایتکم عبادتکم الاصنام۔ تفسیر : وہ ملحد جو کامیابی اور ناکامی کو اپنی تدبیر کا نتیجہ سمجھتے ہیں ان کا جواب دیتا ہے کیونکہ ارضی و سماوی بلیات میں تو کسی کو کلام ہی نہیں کہ وہ عالم غیب سے ہیں۔ وہ یہ کہ انسان کی تمام صنعت اور دانش اور تدابیر کے آلات کان اور آنکھ اور دل ہے۔ اگر ان میں فتور ہے تو پھر کچھ نہیں 1 ؎ بابل اور نینوا گو اس وقت کی ترقی اور ترفہ میں لندن اور پیرس سے کچھ کم نہ تھے مگر ان پر کیا موقوف ہے۔ ہزاروں جگہ زمین کھودنے کے بعد شاہی محل اور سلطانی بارگاہوں کے نشان برآمد ہوتے ہیں۔ بہت سے شہر پہاڑ میں سے ایک قسم کا دھات سا گرم مادہ بہنے سے دفعتاً ہلاک ہوئے ہیں اس کے غضب سے ڈرنا چاہیے چند روز ہوئے کشمیر میں بہت سے لوگ زلزلہ سے ہلاک ہوئے۔ 12 منہ اور یہ سب اسی کی نعمت ہے۔ اس میں بندہ کو کیا دخل ہے۔ اس کی طرف اس میں اشارہ کرتا ہے قل ارایتم ان اخذ اللّٰہ سمعکم الخ اور مشرکین پر بھی ایک چابک مارتا ہے کہ بھلا یہ چیزیں تمہارے کون سے معبود کے قبضہ میں ہیں۔ پھر ایسی کھلی نشانیاں دیکھ کر بھی بہکے جاتے ہو۔ پھر قل ارأیتم ان اتاکم الخ سے یہ بات بتلاتا ہے کہ ہم جس طرح فرادی فرادی ہر شخص کے بلا پر قادر ہیں اسی طرح قوموں کے عذاب سے جہرۃ کہ اس کے پہلے سے علامات دکھا کر اور بغتۃ کہ بےعلامات کے یکایک آفت بھیج کر بھی ہلاک کرسکتے ہیں کہ جس کے ظالم ہی مستحق ہیں۔ یہاں تک منکرین ذات الٰہی اور نبوت کے شبہات کا جواب دیا جو وہ اپنی دنیاوی نعماء کے گھمنڈ پر طرح طرح کے معجزات طلب کرنے کے پیرایہ میں شبہات کرتے تھے۔ اس کے بعد انبیاء کے بھیجنے کی اصل غرض ظاہر کرتا ہے۔ وما نرسل المرسلین الخ کہ رسول صرف دنیا میں نیک و بد کے کام کے نتائجِ خیر و شر سے مطلع کرنے کو آتے ہیں باقی معجزات سو وہ ہمارے اختیار میں ہیں۔ جب مناسب جانتے ہیں ظاہر کردیتے ہیں۔ پھر اس کے بعد آنحضرت ﷺ سے جو منکرین کہتے تھے کہ اگر آپ نبی برحق ہیں تو ہمیں بہت سا مال دے دیجئے یا زمین کے مدفون خزانے بتلا دیجئے اور بعض یہ شبہ کرتے تھے کہ پھر آپ کیوں کھاتے پیتے ہیں ؟ ان کے جواب میں فرماتا ہے قل لا اقول کہ ان سے کہہ دے نہ تو میرے پاس خزانے ہیں نہ میں غیب داں ہوں کہ تم کو دفائن بتلائوں نہ میں فرشتہ ہوں کہ جو نہ کھائوں نہ پیوں انسان ہوں اس کی وحی اور الہام کا پابند ہوں۔
Ayah 6:51

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) اس قرآن سے ان لوگوں کو ڈر سناؤ کہ جو اپنے رب کے پاس حاضر ہونے سے ڈرتے ہیں حالانکہ ان کے سوا ان کا نہ کوئی حمایتی ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا تاکہ وہ بچتے رہیں

ترکیب : یخافون کا مفعول ان یحشروا جملہ لیس لہم ضمیر فاعل یحشروا سے حال ہے غداوۃ ہے۔ العشی کو بعض مفرد کہتے ہیں۔ بعض جمع عشیۃ یریدون حال ہے من شیئٍ سے من زائدہ اور شیء مبتداء ہے علیک اس کی اصل خبر من حسابہم صفت شیء اس پر مقدم ہوگئی۔ اس لئے حال ہوگئی فتطرد جواب ہے ما نافیہ کا اس لئے منصوب ہوگیا گویا کہ یہ جواب النہی ہے ای لانظر۔ تفسیر : پہلے تھا کہ انبیاء خدا کی طرف سے خوشی اور ڈر سنانے کو آتے ہیں اس لئے آنحضرت ﷺ کو اس جگہ ڈر سنانے کا حکم ہوتا ہے اور خوف کو اس لئے یہاں ترجیح دی کہ منافع حاصل کرنے سے جو خوشی کا محل ہے اپنے نفس سے مضرت کا دور کرنا جو محل خطر ہے مقدم اور ارجح ہے اور خوف سنانے میں ان لوگوں کو مخصوص کیا کہ جو خدا کے پاس حاضر ہونے کے دن سے ڈرتے ہیں کہ جہاں اس کے مقابلہ میں نہ کوئی حمایتی ہوگا نہ سفارشی۔ اس لئے کہ دراصل خطرناک باتیں سن کر یہی لوگ پرہیز کیا کرتے ہیں اور جس کو قیامت کا یقین ہی نہیں وہ اس وعظ و پند اور خطرناک باتوں سے منتفع کم ہوتا ہے اور اس میں اثبات حشر کی طرف بھی ایک عجیب لطف کے ساتھ ایماء ہے اور منکرین حشر پر وہ تعریض ہے جو نفس پر اثر کرتی ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ الذین یخافون الخ سے مراد کفار ہیں کیونکہ ڈر تو خدا کے پاس جانے سے انہیں کو ہونا چاہیے سو ان کا ڈرانا زیادہ مقصود ہے اور قوی یہ ہے کہ آیت میں عموم ہے۔ ولا تطرد الذین چونکہ اتدار کا حکم ان کے لئے تھا کہ جو قیامت پر ایمان رکھتے اور اپنے رب کے پاس حاضر ہونے سے اپنے قصور اعمال کی وجہ سے ڈرتے ہیں اور جبکہ یہ سورة نازل ہوئی اس وقت مکہ میں بیشتر غرباء اور فقراء ہی قیامت پر ایمان لانے والے اور اللہ سے ڈرنے والے تھے جن کو مکہ کے دولت مند اور رئیس کفار بنظر حقارت دیکھتے تھے اور خدا کی بادشاہت میں دخل ہونے کا مستحق نہ سمجھتے تھے بلکہ وہاں سے نکالے جانے کے قابل دنیا پر قیاس کرکے اس لئے آنحضرت ﷺ کو یہ حکم ہوا کہ تم ان پاک بازوں کو جو صبح اور شام اللہ کو اللہ ہی کے لئے پکارتے اور یاد کرتے ہیں عام ہے کہ نماز پڑھنے یا ذکر کرنے یا دعا کرنے سے ہو یعنی یہ گروہ طالبان مولیٰ ہے ان کی حقارت و ذلت ظاہری کا اے مخاطب تجھ سے کچھ حساب نہیں اور نہ آپ کا کچھ محاسبہ ان سے ہے یعنی یہ کسی کا کیا لیتے ہیں اور کسی کو کیا دکھ دیتے ہیں جو ان سے اعراض کیا جاوے اور جو ان سے اعراض کرے گا تو خود خسارہ میں پڑے گا اور دولت دنیا اور اس کے اسباب مفاخر ہمارے ہاں کوئی عزت و امتیاز کی علامت نہیں۔ یہ دنیا میں ایک دوسرے کی آزمائش کے لئے ہے تاکہ غریب کو دیکھ کر امیر شکر بھی کرتا ہے کہ نہیں اور تاکہ متکبر لوگ ان فقراء کو دیکھ کر طعن کی راہ سے یہ کہیں کہ کیا وہ یہی ہیں کہ جن پر ہم میں سے خدا نے احسان کیا ہے کہ ان کو دینی بزرگی دی یا یوں کہو کہ مفلس لوگ اغنیاء کو دیکھ کر یہ کہیں کہ خدا نے ان کو نعمت دی۔ ان کو شکر ہم کو صبر کرنا چاہیے اور جو شکر کرے گا تو وہ خدا سے مخفی نہ رہے گا۔ پھر اس جماعت کی نسبت حکم دیتا ہے کہ اے نبی جیسا یہ تیرے پاس آویں تو آپ ان کو سلام کہیں اور یہ مژدہ سنائیں کہ خدا نے تمہارے لئے اپنی ذات پر مہربانی کرنی لازم کرلی ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص نادانستگی سے گناہ کرلے گا پھر اس کے بعد تائب اور صالح ہوجائے گا تو خدا معاف کر دے گا۔ نہ آنحضرت ﷺ نے اس گروہ کو اپنے پاس سے نکالا تھا نہ نکالنے کا قصد کیا تھا بلکہ یہ حکم صرف ان متکبرین کے مقابلہ میں دیا گیا ہے تاکہ ان کی عزت و حرمت ثابت ہو۔ عطا نے کہا ہے کہ اس جماعت کے لئے یہ آیت نازل ہوئی ان میں خلفائِ اربعہ اور بلال وسالم و ابی عبیدہ و مصعب بن عمیر و جعفر و ابن مظعون و عمار بن یاسر و ارقم بن ابی ارقم و ابی سلمۃ بن عبدالاسد ہیں۔ ؓ ۔ سلمان اور خباب فرماتے تھے کہ یہ ہمارے لئے نازل ہوئی ہے۔ آنحضرت ﷺ ہم فقراء کے ساتھ نہایت انس و محبت کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ چونکہ یہ سورة باتفاق مفسرین مکہ میں یکبارگی نازل ہوئی۔ اس لئے اس کی ہر ہر آیت کے لئے ایک جداگانہ شان نزول ہونا خیال میں نہیں آتا کہ فلاں آیت یہ ہوا تھا تو نازل ہوئی اور فلاں اس میں۔ اس لئے ان آیات کے صاف صاف معنی ہم نے اوپر بیان کردیے جس میں کوئی قصہ طلب بات نہیں کہ جس کے لئے کوئی خاص شان نزول تلاش کرنا پڑے لیکن مفسرین نے ولاتطرد الذین الخ کے لئے مختلف شان نزول نقل کئے ہیں۔ تفسیر کبیر میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ مکہ میں ایک بار آنحضرت ﷺ کے پاس قریش کے معززوں کی ایک جماعت گذری اور آپ کے پاس اس وقت صہیب اور بلال اور عمار و خباب وغیرہم ؓ فقراء حاضر تھے۔ ان کو دیکھ کر قریش نے کہا کہ آپ نے کیا انہیں کو پسند کرلیا ؟ اب ہم ان کے مطیع بنیں ٗ اگر آپ ان کو دھتکار دیں تو شاید ہم لوگ آپ کے تابع ہوجاویں۔ آپ نے اس سے انکار کیا۔ پھر کہا اچھا جب ہم آویں تب ان کو اٹھا دیا کریں۔ اس پر آپ نے کفار قریش کے ایمان لانے کے لئے ہاں کردی جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ معالم التنزیل میں اقرع بن حابس تمیمی و عیینہ بن حصین فزاری کا قصہ لکھا ہے کہ انہوں نے یہ بات چاہی تھی اور ممکن ہے کہ انہوں نے بھی تنفر کیا ہو۔ فقیر کے نزدیک اس شان نزول کے معنی وہ ہیں جو مقدمہ تفسیر میں ذکر ہوئے کہ مکہ کے سرداروں نے یا اور متکبروں نے فقراء المسلمین کے ساتھ مل کر بیٹھنا پسند نہ کیا۔ اس پر آنحضرت ﷺ کے دل میں ان آیات نازل شدہ کا القاء ہوا گویا یہ القاء ہونا نازل ہونا ہے۔ اس تقدیر پر سب روایات میں بشرط ثبوت توافق ممکن ہے واللہ اعلم۔
Ayah 6:52

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

اور (اپنے پاس سے) ان لوگوں کو نہ نکالئے جو اپنے رب سے صبح و شام مناجات کرتے ہیں (اور) اسی کی رضامندی ڈھونڈتے ہیں نہ آپ پر ان کا کچھ حساب ہے اور نہ آپ کا ہی کچھ حساب ان پر ہے۔ آپ ان کو دھتکار دیں گے ٗ آپ ظالموں میں ہوجاویں گے

1 ؎ ابن عامر غدوۃ اور العشی کو اس جگہ اور سورة کہف میں واو اور ضمہ غین سے پڑھتے ہیں اور باقی بالالف پڑھتے ہیں جیسا کہ زکوٰۃ و صلوٰۃ کو نکرہ سمجھ کر۔
Ayahs 6:53–55

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:53 in the Quran reader

اور ہم نے ایک کا دوسرے سے ہی 2 ؎ امتحان کیا ہے تاکہ وہ یہ کہیں کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں کہ جن پر اللہ نے ہم میں سے عنایت کی ہے۔ کیا اللہ شکر کرنے والوں کو نہیں جانتا

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

اور جب کہ آپ کے پاس وہ لوگ آویں کہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہو سلامتی ہو تم پر تمہارے رب نے اپنے اوپر مہربانی کرنا لازم کرکے یہ بات مقرر کردی ہے کہ جو کوئی تم میں سے نادانستگی سے کوئی برا کام کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرے اور نیک ہوجاوے تو اللہ بخشنے والا (اور) مہربان ہے

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

اور ہم یوں (اپنی) آیتیں کھول کر بیان کرتے ہیں (تاکہ لوگ سمجھیں) اور تاکہ گنہگاروں کا رستہ (صاف) معلوم ہوجاوے۔

2 ؎ یعنی ہم نے دنیا میں امیر و غریب پیدا کئے اس امتحان کے لئے کہ امیر نیک غریبوں کو ان کی افلاس کی حالت میں دکھ کر ان پر تکبر و نخوت کرتے ہیں یا اپنی نعمت کا شکریہ۔ 12 منہ
Ayahs 6:56–60

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

(اے نبی ! ) ان سے کہہ دو کہ بیشک مجھے ان چیزوں کے پوجنے سے ممانعت کردی گئی ہے کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو (اور یہ بھی کہہ دو ) میں تمہاری خواہشوں کی پیروی کرنے والا نہیں (اگر ایسا کروں) جب تو میں گمراہ ہوچکا اور ہدایت پانے والوں میں سے نہ رہا۔

قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ Open ayah 6:57 in the Quran reader

کہہ دو میں تو اپنے رب کے ہاں کی ایک دلیل پر ہوں حالانکہ تم اس کو جھٹلا چکے ہو جس کی تم جلدی کرتے ہو وہ میرے پاس نہیں۔ بیشک حکم تو اللہ ہی کا حکم ہے جو حق بیان فرماتا ہے اور وہ سب سے عمدہ فیصلہ کرنے والا ہے۔

قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:58 in the Quran reader

کہہ دو اگر میرے اختیار میں وہ بات ہوتی کہ جس کی تم جلدی کر رہے ہو تو مجھ میں اور تم میں فیصلہ ہی ہو چکتا اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو بجز اس کے اور کوئی نہیں جانتا اور اس کو خشکی اور تری کی سب چیزیں معلوم ہیں اور کوئی ایسا پتہ نہیں چھڑتا کہ جس کو وہ نہ جانتا ہو اور نہ کوئی دانہ زمین کی اندھیریوں میں ہے اور نہ کوئی ایسی تر اور خشک چیز ہے کہ کتاب مبین میں نہ ہو (یعنی لوح محفوظ میں) ۔

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو رات کو تمہیں مردہ کرتا ہے اور تم نے جو کچھ دن میں کیا ہے اس کو بھی جانتا ہے۔ پھر تم کو دن میں اٹھا بٹھاتا ہے تاکہ وعدہ مقرر پورا ہو پھر تم کو اس کی طرف پھر کر جانا ہے۔ پھر وہ تم کو بتلائے گا کہ تم کیا کیا کرتے تھے۔

ترکیب : اذاً ای ان اتبعتہا گویا قد ضللت وما انا جواب ہیں شرط محذوف کے بمفاتح جمع مفتح بالفتح کی جس کے معنی خزانہ کے ہیں اور مفتح یا مفتاح بمعنی کلید اس کی جمع مفاتیح آتی ہے الا فی کتاب ای الاھو فی کتاب۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ہم آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ گنہگاروں کا طریقہ معلوم ہوجاوے کیونکہ جو آیات الٰہی کے خلاف طریق ہے وہ گنہگاروں کا رستہ ہے۔ اب یہاں وہ گنہگاروں کا رستہ بتلاتا ہے کہ ان مشرکوں سے کہہ دو مجھے اللہ کے سوا اور کسی چیز کے پوجنے کی ممانعت کردی گئی ہے اور ان سے یہ کہہ دو کہ یہ بلا دلیل وبرہان جو تم نے اپنے اوہام باطلہ سے سینکڑوں معبود بنا رکھے ہیں۔ میں تمہارا اس امر میں کہا نہ مانوں گا اگر ایسا کروں تو گمراہ ہوجائوں اور یہ بھی کہ توحید پر جو میں قائم ہوں میرے پاس خدا کی طرف کی دلیل ہے کہ جس کو تم نہیں جانتے وہ یہ کہ اس کے سوا جو کچھ ہے محتاج ہے۔ پھر محتاج کا پوجنا کس عقل کا حکم ہے۔ آنحضرت ﷺ ان کی بت پرستی پر ان سے عذاب الٰہی کا آنا ذکر فرمایا کرتے تھے۔ اس کو سن کر وہ جھوٹ جان کر یہ کہتے تھے کہ اچھا ابھی وہ عذاب آجاوے چونکہ خدا کے ہاں ہر بات کا وقت مقرر ہے اس کی مصلحت اور اس کے حکم کی وجہ سے اور نیز انتظام عالم بھی یہ نہیں کہ جہاں بندوں نے سرکشی کی ان پر آسمان پر سے پتھر برسا کے ان کو ہلاک کر دے۔ اس لئے آنحضرت ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان سے کہہ دو ماعندی ما تستعجلون کہ جس کی تم جلدی کر رہے ہو وہ میرے قبضہ میں نہیں اگر میرے قبضہ میں ہوتی تو مجھ میں اور تم میں ابھی فیصلہ ہوجاتا یہ سب باتیں اللہ ہی کے حکم میں ہیں جو ہر چیز کی مصلحت جانتا اور اسی کے موافق کاروائی کرتا ہے۔ ان الحکم الا للّٰہ یقص الحق وھو خیر الفاصلین اس کے اس حکم و تحمل سے یہ نہ خیال کرو کہ وہ تمہیں بھول گیا یا وہ تم سے واقف نہیں بلکہ واللّٰہ اعلم بالظلمین کہ وہ خوب جانتا ہے۔ پھر اپنی غیب دانی ظاہر فرماتا ہے۔ وعندہ مفاتح الغیب مفتح بالفتح خزانہ اس سے استعارہ ہے مکان غیب کی طرف ‘ گویا وہ ایک خزانہ ہے جس میں امور غیب سربمہر رکھے ہوئے ہیں کہ جن تک بجز ان خزائن کے مالک حق سبحانہ کے اور کسی کی رسائی نہیں۔ یہ معنی ہوئے کہ عندہ خزائن الغیب اور بالکسر بمعنی مفتاح یہ معنی ہوں گے اے عندہ مایتوصل بہ من خزائن الغیب یعنی سب ممکنات پر اسی کو قدرت ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے وان من شیء الا عندنا خزانئہ وماننزلہ الابقدر معلوم تمام عالم خواہ جواہر خواہ اعراض سب کا فاعل یعنی پیدا کرنے والا وہی ہے اور فاعل مختار کو اپنے مصنوعات کا علم ہونا ضروری بات ہے یا یوں کہو وہ تمام مخلوقات کا مبداء ہے اور مبداء کا علم آثر کے علم کو مقتضی ہے جس سے اس کا تمام عالم کا عالم ہونا لازم آیا۔ یہ ایک ایسا حکم عقلی ہے کہ جس پر احاطہ کرنا عقول صافیہ کا کام ہے۔ عالم حس کے باہر جس قدر بطون ہیں وہ ہمارے لحاظ سے سب عالم غیب ہیں۔ پھر ان میں جو کچھ ہے اس کا کوئی اندازہ نہیں پھر اس حکم عقلی کی توضیح کے لئے عقول عامہ کے سمجھانے کے واسطے چند نمونے بیان کرتا ہے : (1) یعلم مافی البر والبحر کہ وہ خشکی اور تری کی سب چیزیں جانتا ہے۔ جب انسان بر یعنی جنگل اور اس کی وسعت اور اس کے پہاڑوں اور غاروں اور بیشمار درختوں اور جڑی بوٹیوں کو تختہ خیال پر رکھ کر نظر کرے گا اور پھر سمندر کی وسعت اور اس کی بیشمار مخلوقات کا تصور کرے گا اور سب کو اس کے بحر علم کا ایک قطرہ سمجھے گا تو کسی قدر مفاتح الغیب کے معنی ذہن نشین ہوں گے۔ (2) ماتسقط من ورقۃ الایعلمہا کہ بر کی چیزوں کا علم اجمالی نہیں بلکہ ہر ایک پتے کو بھی جانتا ہے تو اور بھی ذہن میں وسعت ہوگی۔ (3) ولاحبۃ فی ظلمات الارض کہ بھلا جو چیزیں تمہیں دکھائی دیتی ہیں اور ظاہر ہیں ان کا علم تو ہے ہی وہ تو زمین کے اندر مخفی چیزیں بھی جانتا ہے۔ یہاں سے عالم غیب کی طرف ذرا سا رخ کیا۔ (4) ولارطب ولایابس الافی کتاب مبین کہ اس سے بھی آگے بڑھو۔ تمام کائنات اور جو کچھ ہوچکا ہے یا آیندہ ہوگا وہ سب کتاب مبین میں ہے کتاب مبین لوح محفوظ یعنی اس کے علم کا ایک مرتبہ یہ عجب نورانی تختہ ہے کہ جس میں تمام کائنات کا عالم ظہور میں آنے سے پیشتر ہی نقشہ کھنچ گیا ہے یعنی ازل میں پھر اسی کے مطابق ہو رہا ہے۔ اس کے بعد عالم حشر میں جمع کرنے اور مار کر زندہ کرنے اور وہاں جزاء و سزا دینے پر قادر ہونا انسان کی روزمرہ حالت سے ثابت کرتا ہے جو اس کی ان باتوں پر قدرت رکھنے کا پورا پورا فوٹو ہے یا عکسی تصویر۔ اور وہ انسان کا ہر روز مرنا اور صبح کو زندہ ہوجانا یعنی جاگنا اور سونا ہے۔ سوتے میں گو روح کی جسم سے مفارقت نہیں ہوتی مگر عالم حس سے منہ پھیر کر عالم خیال میں اپنی مدرکات کی سیر کرنے اور ان کے نتائج دیکھنے میں جیسا کہ خواب میں ہوتا ہے موت کے ساتھ کہ اس وقت اس عالم سے غفلت اور دوسرے عالم میں اپنے کئے کو دیکھتا اور ادھر متوجہ ہوتا ہے۔ پوری پوری تشبیہ ہے سو اس کو ھوالذی یتوفکم الخ میں بیان کرتا ہے۔ اعجاز بیان اس کو کہتے ہیں۔
Ayahs 6:61–62

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

اور وہی اپنے بندوں پر بالادست ہے اور وہ تم پر (ملائکہ) نگبہان بھیجا کرتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آجاتی ہے تو اس کو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) قبض کرلیتے ہیں اور وہ کمی نہیں کرتے

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر وہ اللہ کے آگے حاضر کئے جاتے ہیں جو ان کا برحق مالک ہے۔ دیکھو اسی کا حکم ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

ترکیب : ویرسل ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو اور یہ بھی کہ یتوفّٰکم پر معطوف ہو۔ مولٰہم الحق دونوں اللہ کی صفت ہیں۔ الحکم مبتدا لہ خبر مقدم وھو اسرع الخ جملہ لہ ضمیر سے حال بھی ہوسکتا ہے اور معطوف بھی جملہ مقدمہ پر۔ تفسیر : اس جگہ اور دوسری طرح سے اپنی قدرت اور حساب و حشر کا برحق ہونا بھی انسان کی حالت اندرونی و بیرونی سے ثابت کرتا ہے تاکہ اس بےصبرے انسان کو جو بن دیکھے خدا پر اور بن دیکھے مرنے کے بعد کے حالات پر تردد کرتا ہے یقین ہوجاوے۔ (1) وھوا لقاھر فوق عبادہ کہ اس کا اپنے بندں پر قبضہ و اقتدار ہے۔ جب انسان اپنی ابتدائِ آفرنیش کو دیکھتا ہے کہ ایک پانی کا قطرہ تھا۔ پھر رحم میں اس کے ہاتھ پائوں و دیگر اعضاء کا درست کرنا ‘ ہر چیز اس کے موقع پر لگانا ‘ قوائے عطا کرنا اور پھر کشاں کشاں اس کو باہر لانا اور ہر طرح کے کمالات جسمانی اور روحانی سے مزین کرنا اور پھر بےاختیار اس کو کشاں کشاں دوسرے عالم کی طرف منزل بمنزل لے جانا۔ جب تک اس عالم کے منازل طے کرتا تھا (اور وہ منازل اس کی حیات کے لیل و نہار ہیں) تو اس پر اس کی طرف کے نگہبان مقرر تھے یعنی ملائکہ جو اس کو بلیات سے محفوظ رکھتے تھے جیسا کہ ایک جگہ آیا ہے : 1 ؎ لہ معقبات من بین یدیہ ومن خلفہ یحفظونہ من امر اللّٰہ وما یلفظ من قول : سبحان اللہ کس لطف کے ساتھ مشرکوں کا برا طریقہ اور اس برے طریقہ پر چلنے والے کو سزا اور اپنا اس سزا پر قادر ہونا بیان کیا ہے اور اپنی ذات وصفات کے متعلق کس قدر اسرار ہیں فرمایا گیا ہے کہ جس کا مثل بیان کرنا بشر سے محال ہے۔ 12 منہ 1 ؎ ان آیات میں وجود ملائکہ پر تصریح ہے کیونکہ اعمال کا لکھنا قویٰ کا کام نہیں۔ 12 منہ الا لدیہ رقیب عتید وان علیکم لحافظین کراماً کاتبین۔ اور وہ اس کے اعمال بھی لکھتے ہیں اور اس کے قوائے بدنیہ بھی نگہبانِ الٰہی ہیں۔ (2) اور جب دوسرے عالم کی سڑک پر آیا تو حتی اذا جاء احدکم الموت توفتہ رسلنا۔ اس کے اس جسم سے تعلقات منقطع کرنے کے لئے اور اس جسم سے (کہ جس کی حفاظت گلنے سڑنے سے روح کرتی تھی اور روح کے کمالات کا جسم آلہ تھا) تعلق بستہ کو کاٹنے کے لئے ملائکہ کا آنا۔ (3) اور پھر اس کو مولیٰ حق کے پاس لے جانا اس کے قبضہ و اقتدار اور بندہ کے عجز کی پوری دلیل ہے۔ اس سفر کا اور اس میں انسان کی بےکسی اور اضطراری کا ہر شخص مقر ہے۔ آخر کوئی تو ہے جو اس کا دل چاہے یا نہ چاہے مگر اس کو جوان پھر بڈھا کرتا ہے۔ اس کے سفر کے یہی منازل ہیں کہ جس میں بےاختیار گھستا جاتا ہے۔ اگر کہو انسان کے قویٰ جب کم تھے صغر سنی تھی اور جب زیادہ ہوتے گئے ٗ جوانی شروع ہوئی اور جب کم ہونے شروع ہوئے ٗ بڑھاپا آیا اور جب کم ہوگئے یا کوئی عارضہ پیش آگیا۔ چراغ ٹھنڈا ہوگیا (اور یہی موت ہے اور یہ تمام حیوانات بلکہ نباتات میں بھی ہے) تو اس پر یہ کہا جاوے گا کہ آخر ان قویٰ میں کسی کا تصرف ہے۔ کون کم زیادہ کرتا ہے ‘ کون کمی زیادتی کے اسباب بہم پہنچاتا ہے۔ ضرور وہ اس کے جسم سے باہر اور ہے سو وہ بجز اللہ کے اور کوئی نہیں کہ جس کی طرف تمام علل و اسباب کا سلسلہ تمام ہوتا ہے۔ رد کا لفظ یہ بتلا رہا ہے کہ یہ خدا کے ہی پاس سے آیا تھا جو پھر وہیں چلا ہے۔ اس قبضہ کے بعد الا لہ الحکم گویا دلیل پر نتیجہ مرتب کردینا ہے حکم فطری اور شرعی سب اسی کو ہیں اور اسرع الحاسبین میں انسان کی اس مہلت چند روزہ کی بےثباتی کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 6:63–65

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

(اے نبی ! ان سے) پوچھو کون ہے جو جنگل اور دریا کی اندھیریوں سے بچا کر لایا کرتا ہے جس سے نہایت عجز اور چپکے چپکے دعا کیا کرتے ہو (اور کہتے ہو) اگر تو نے ہم کو اس بلا سے بچا دیا تو ضرور ہم تیری شکر گذاری کیا کریں گے۔

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

سو (ان سے) کہہ دو اللہ ہی تم کو اس بلا سے اور ہر بےچینی سے نجات دیا کرتا ہے۔ پھر بھی تم شریک ٹھہراتے ہو۔

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

کہہ دو وہی اس بات پر (بھی) قادر ہے کہ تم پر اوپر سے یا تمہارے پائوں کے نیچے سے کوئی عذاب نکال کھڑا کر دے یا تم میں نا اتفاقی ڈال دے اور ایک کو دوسرے کی لڑائی کا مزہ چکھا دے۔ (دیکھو) ہم کیونکر پھیر پھیر کر ان سے آیتیں بیان کر رہے ہیں تاکہ وہ سمجھیں۔

ترکیب : تدعونہ موضع حال میں ہے ضمیر مفعول سے جو ینجیکم میں ہے۔ اسی طرح تضرعا و خفیہ۔ بعض نے خفیۃ 2 ؎ کو خیفۃ بھی پڑھا ہے۔ من الخوف من فوقکم اومن تحت متعلق یبعث۔ 1 ؎ عام حمزہ کسائی نے ینجیکم کو بالتشدید باقی نے بالتخفیف پڑھا ہے۔ نجا اور نتجا ایک معنی میں آیا ہے۔ الشیع الشیعۃ کی جمع ہے جیسا کہ الشیاع ہے۔ شیعہ ایک دوسرے کے تابع یلبس شیعکم یخلط امرکم۔ 2 ؎ خفیۃ ضد آشکارا یہ عام قراء کا مذہب ہے، عاصم کی روایت میں کسرہ ہے یہاں بھی اور اعراف میں بھی خیفہ اول اخفاء سے دوم خوف سے ہوگا۔ معالم 12 منہ تفسیر : یہ ان دلائل میں سے ہے جو اس کے کمال وقدرت اور رحمت پر دلالت کرتے ہیں۔ ایک اور قسم ہے عرب کے مشرکین جنگلوں اور سمندر میں تجارت کے لئے سفر کیا کرتے تھے۔ پھر وہ جنگل کی اندھیریوں میں جو رات اور ابر اور درختوں کی وجہ سے زیادہ ہوا کرتی ہے ٗ راہ بھول جاتے یا کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے تھے۔ اسی طرح سمندر میں رات اور ابر کی اندھیریوں میں جب دریا میں طوفان آتا اور گویا موت کے دروازہ پر پہنچ جاتے تب اس وقت نہایت گریہ وزاری سے خدا کو پکارتے اور دعا کرتے کہ اگر اب کے اس سے بچا دیا تو ہمیشہ شکر کیا کریں گے۔ اس حال کو خدا یاد دلا کر فرماتا ہے کہ ایسی حالت میں اور اسی طرح ہر بیقراری کے وقت وہی نجات دیتا ہے۔ پھر تم اس کے ساتھ اوروں کو شریک بناتے ہو ؟ مقصود یہ ہے کہ ایسی شدت کے وقت انسان فطرتی طور پر اپنے اصلی مرکز اور حقیقی معبود کی طرف رجوع کرتا ہے کیونکہ اس وقت عوارض و ہمانیہ دور ہوجاتے ہیں۔ پس اگر دراصل صرف ایک وہی مدبر عالم اور کارساز نہیں ہے تو اس کی طرف ایسی بیقراری میں رجوع کیوں ہے اور اس رجوع کے بعد مشکل کشائی کیوں ہے ؟ اس آیت میں شرک خفی کے رد کی طرف بھی اشارہ ہے کس لئے کہ ایسی حالت میں چار باتیں ہوتی ہیں۔ دعا ‘ تضرع ٗ اخلاص بالقلب جیسا کہ خفیہ سے ثابت ہے ‘ ہمیشہ شکرگذاری کرنے کا وعدہ جیسا کہ لئن انجیتنا من ھذہ لنکونن من الشاکرین سے ثابت ہے اور جب انسان اس تہلکہ سے نجات پا کر اپنی اس حالت کو بھول گیا اور اسباب ظاہرہ کی طرف منسوب کیا تو شرک ہوا۔ قل ھو القادر علٰی یہاں حالت حضر سے اپنی قدرت ویکتائی پر دلیل قائم کرتا ہے کہ تم یہ نہ سمجھو کہ جنگل اور دریا ہی میں اس کے قبضہ میں تھے حضر میں نہیں بلکہ وہ حضر میں بھی تم کو کئی طور سے ہلاک کرنے پر قادر ہے یا تو اوپر سے یعنی آسمان سے کوئی عذاب نازل کرے پھر پتھر برسا دے ‘ ژالہ باری کرے ٗ بجلی سے تباہ کر دے یا نیچے سے عذاب بھیج دے۔ زلزلہ خسف بہتیری باتیں ہیں یا تم میں باہم پھوٹ ڈال کر ایک دوسرے کا عذاب چکھا دے۔ باہم اتفاق عجب نعمت و برکت ہے۔ گھر میں ہو تو گھر کا لطف ‘ قوم اور ملک اور ملت میں ہو تو اور بھی لطف۔ اس کے خلاف میں ویسا ہی عذاب دیتا ہے۔ بخاری نے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے تین چیزیں مانگیں جن میں سے دو ملیں ایک نہ ملی۔ یہ بھی منظور ہوا کہ تیری امت پر کوئی غیر مسلط ہو کر استیصال نہ کرنے پاوے گا اور یہ بھی کہ قحط سے ہلاک نہ ہوں گے مگر تیسری بات آپس کی پھوٹ نہ ہو۔ یہ دعا قبول نہ ہوئی۔ اس لئے عہد خلفاء سے لے کر پھوٹ شروع ہوئی۔ وہ برکت جاتی رہی گو اور مذاہب میں بھی پھوٹ ہے۔ آئمہ میں مذہبی اختلاف بھی آگیا۔ اس کی حکمت غامضہ ہے۔
Ayahs 6:66–69

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

اور آپ کی قوم نے تو اس کو جھٹلا دیا حالانکہ وہ حق تھا تو کہہ دو میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

ہر ایک پیشین گوئی کا ایک وقت مقرر ہے اور تم ابھی جان لو گے

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

اور جبکہ آپ ان لوگوں کو دیکھیں کہ جو ہماری آیتوں میں نکتہ چینیاں کرتے ہیں تو ان سے ٹل جاؤ جب تک کہ وہ کسی اور بات میں نہ لگیں اور جو کبھی آپ کو شیطان فراموش کرا دے تو آپ یاد آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھیں

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

اور پرہیزگاروں پر ان ظالموں کی کچھ بھی جوابدہی نہیں۔ البتہ نصیحت کردینا چاہیے۔ شاید وہ ڈرنے لگیں

ترکیب : لست علیکم متعلق ہے وکیل سے مستقر مبتداء لکل خبر من شیء من زائدہ ہے من حسابہم حال ہے والتقدیر شیء من حسابہم۔ ان تبسل مفعول لہ ہے ای مخافۃ ان تبسل الابسال المنع اے ترتھن فی جہنم بما کسبت (ابن عباس) وقیل ان تبسل اے لان لا تبسل اے لا تسلم نفس للہلاک بما کسبت۔ تفسیر : ان خوف و عذاب کی باتوں کو سن کر بجائے تصدیق و عبرت کے مکہ کے مشرکین ان کی تکذیب کرکے آنحضرت ﷺ سے عذاب آنے کا وعدہ لیتے تھے کہ اگر فلاں روز عذاب آیا تو ہم تیری مان لیں گے اور اسلام قبول کرلیں گے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ سے فرماتا ہے کہ ان حق باتوں کو آپ کی قوم نے جھٹلا دیا۔ (بعض کہتے ہیں بہ کی ضمیر قرآن یا اسلام یا الیوم الموعود کی طرف پھرتی ہے) اور آپ پر ان کا ہدایت قبول کرانا لازم نہیں۔ آپ ان کے ذمہ دار نہیں اور رہا ان کے کہنے پر عذاب یا قیامت کا آنا سو یہ بھی نہیں کیونکہ ہر بات اور ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے جو بہت سے مصالح اور انتظام عالم کے لحاظ سے ایک وقت پر منحصر ہے۔ تمہاری جلدی اور نادانی سے خدا ایسا نہیں کہ ابھی آسمان سے پتھر برسا کر یا آندھی یا زلزلہ کے صدمہ سے نسل قطع کر دے۔ واذارایت الذین یخوضون مشرکین مکہ تکذیب کے سوا قرآن اور ارکان اسلام کے ساتھ تمسخر بھی کیا کرتے تھے۔ ایک احمق نے تمسخر کی کوئی بات کہی۔ دس بیس لڑکوں نے اس کے ساتھ قہقہہ لگایا۔ اس سے مسلمانوں کو جو اتفاقاً ان کی مجالس میں جا بیٹھے تھے بڑا رنج ہوتا تھا اور طبیعت مکدر ہوتی تھی۔ اس لئے حکم آیا کہ تم وہاں نہ بیٹھو۔ اٹھ کھڑے ہوا کرو کیونکہ منع کرنے اور رد کی تو قدرت نہیں۔ اب وہاں بیٹھ کر ان کی محفل میں شریک ہونا اور اسلام کا مضحکہ اڑوانا ناروا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اور باتوں میں لگ جاویں یا یوں کہو کہ ان کی محفل میں نہ بیٹھو تاکہ اس کے بعد وہ اور دوسری بات میں تمسخر نہ شروع کریں اور جو بھولے سے بیٹھ جائو جب یاد آجاوے تو ان کے پاس سے اٹھ کھڑے ہوا کرو۔ جب کفار کی یہ عادت تھی کہ وہ عموماً اپنے جلسوں میں اسلام کی ہجو کیا کرتے تھے اور ایسے جلسوں میں اہل اسلام کو ان کے ساتھ شریک ہونے کی ممانعت ہوگئی تو ان کو وعظ و نصیحت کیونکر ہو ؟ اس بات سے اہل اسلام کو فکر ہوئی کہ ہمارا منصب وعظ ترک ہوا۔ یہ لوگ جو معاصی و شرک کریں گے نہ ممانعت کرنے سے ہم سے بھی مؤاخذہ ہوگا۔ اس لئے یہ فرما دیا وما علی الذین یتقون من حسابہم من شیء کہ پرہیزگاروں پر یعنی اہل اسلام پر ان کفار کا کچھ حساب دینا نہ ہوگا کیونکہ جو گناہ کرتا ہے وہی اس کا بدلہ پاتا ہے۔ اپنے برے اعمال کے خود ہی ذمہ دار ہیں۔ نہ اہل اسلام ولکن ذکریٰ لعلہم یتقون۔ ہاں جہاں تک ممکن ہو ان کو نصیحت کر دینی چاہیے تاکہ وہ بھی پرہیزگاری اختیار کریں۔ کفر و بت پرستی سے باز آویں۔ نصیحت کے لئے ان کی مجالس میں شریک ہونے کی اجازت ہوئی۔ اس کے بعد ان کفار کے دین کا لغو ہونا اور آخرت میں معذب ہونا ظاہر کرکے ان سے بےاعتنائی اور آنکھوں میں ان کی بےوقری پیدا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ بقولہ وذرالذین اتخذو دینھم لعبًا ولہوًا الخ کہ ان لوگوں کو چھوڑ دو یعنی دل میں ان کے تجمل اور ان کے برخلاف ہونے کو کچھ جگہ نہ دو ۔ تھوڑی سی زندگی ہے جس نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ اس پر ریجھے ہوئے ہیں۔ پھر تو عالم آخرت میں انسان اپنے کئے سے ماخوذ ہوگا نہ وہاں کوئی خدا سے زبردستی بچا سکے گا۔ لیس لہا من دون اللّٰہ ولی اور نہ کوئی سفارش کرسکے گا ولا شفیع اور جو کچھ تاوان یا بدلہ فدیہ یہ دے کر چھوٹنا چاہے گا جیسا کہ دنیا میں جرمانہ بھگت کر جسمانی سزا سے بچ جاتے ہیں سو یہ بھی قبول نہ ہوگا۔ وان تعدل کل عدل لایؤخذ منہا پھر وہاں ان کے لئے کیا ہے۔ شراب حمیم ‘ جہنم کا گرم کھولتا ہوا پانی پینے کو اور عذاب الیم ‘ سدا جینے کو ہوگا۔ یہاں کی یہ چند روزہ زندگی اور عیش و نشاط وہاں کے عذاب اور رنج و ہمومِ دائمی کے مقابلہ میں عمر قیدی کے لئے رات کا احتلام ہے۔ اس پر یہ غرور یہ غفلت ! کفار کا نام لے کر ترک کرنے کا حکم نہ دیا کیونکہ پھر تو شخص خاص سے بحث ہوجاتی جو الہام اور نبوت کے فیض عام کے منافی ہے بلکہ ان کفار کے دو وصف بدذکر کئے جس سے معلوم ہوا کہ صرف انہیں وصفوں کی وجہ سے ان سے حسد نفرت کا حکم دیا۔ وہ یہ ہیں : (1) اتخذوا دینہم لعبا ولہوا کہ انہوں نے کھیل کود کو اپنا مذہب بنا رکھا ہے حالانکہ مذہب اور دین تو وہ باتیں ہونی چاہییں جو اس کی روح کو منور اور دنیا میں اصلاح کریں اور جب عبادت شہوت پرستی ہوئی تو اس شخص کی زیاں کاری کا کیا ٹھکانا ہے ؟ کس شائستہ طور سے کفار کے مذہب کا بطلان فرمایا۔ اگر آپ غور کرکے دیکھئے گا تو کفار کی ہر عبادت شہوت پرستی ہے۔ ہندوئوں کو دیکھئے بڑے بڑے معابد کے میلے ‘ وہاں گانا اور ناچنا اور عورت مردوں کا بےحیا طور پر ملنا ہے اور کچھ نہیں۔ بخلاف حج کے کہ وہاں بجز خدا کی تسبیح و تقدیس کے اور کچھ نہیں۔ اسی طرح عبادت کیا ہے بھجن ‘ گانا ‘ بجانا ‘ بھنگ پینا۔ اسی طرح عیسائیوں کے مذہب کو خیال کرلیجئے۔ چونکہ یہ مذہب ابتداء سے حقانی تھا۔ اس لئے اس میں کچھ آثار اس کے بھی باقی ہوں تو موجود مذہب کی حقانیت کی دلیل نہیں ہوسکتی۔ (2) غرتہم الحیوۃ الدنیا خدا کی پناہ جب انسان دنیا کی زندگی پر فریفتہ ہوجاتا ہے تو گویا عالم آخرت سے اس کی آنکھیں اندھی ہوجاتی ہے۔ رات دن ہے کہ دنیا کے حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ خواہ حرام طور سے ہو ٗ خواہ حلال سے اپنے مطلوب و معشوق کے حاصل کرنے میں نہ اس کو ظلم کی پروا ہوتی ہے نہ اس بات کا دھیان آتا ہے کہ آخر تاب کے یہاں ہوں گا اب بڈھا ہو کر پھر کیا جوان ہونا ہے۔ جب دوسرے عالم کا دھیان ہی نہیں تو وہاں کا سامان کیسا ! سو یہ بھی بڑی حرمانِ آخرت کی وجہ ہے۔ ہنود و نصاریٰ کو عموماً دیکھئے کس قدر دنیا پر فریفتہ ہیں اور کس طرح حاصل کرتے ہیں۔ الحمد للہ مسلمانوں میں اب تک عالم آخرت کا دھیان رہتا ہے مگر بعض حمقاء 1 ؎ یعنی نیا چر ترقی مذہب اسلام دنیا کے وافر ہونے کو سمجھتے ہیں۔ خواہ سود کھانے سے ہو۔ کیوں نہ ہو اس عقل کا کیا ٹھکانا ہے ؟ واللہ اعلم
Ayah 6:70

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) جنہوں نے کہ اپنا دین کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے ان کو چھوڑ دو اور ان کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں نے ڈال رکھا ہے اور ان کو اس (قرآن) سے نصیحت کرتے رہو تاکہ کوئی شخص اپنے اعمال میں باندھا نہ جاوے (گرفتار نہ ہوجاوے) اس کے لئے اللہ کے سوا نہ کوئی حمایتی اور نہ کوئی سفارش کرنے والا ہے اور وہ جس قسم کا بھی تاوان دے گا تو اس سے قبول نہ کیا جاوے گا۔ یہی ہیں وہ لوگ کہ جو اپنے اعمال میں گرفتار کئے جائیں گے اور ان کو کھولتا ہوا پانی ملے گا اور ان کے کفر کی وجہ سے ان کو سخت عذاب الیم ہوگا۔

1 ؎ گر ہمیں مکتب است ہمیں ملا۔۔ کار طفلاں تمام خواہد شد
Ayahs 6:71–73

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

(اے نبی ! ان سے) پوچھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر اس کو پکاریں کہ جو نہ ہم کو نفع دے سکے اور نہ ضرر اور بعد اس کے کہ اللہ تم کو ہدایت کرچکا اس شخص کی طرح سے الٹے پائوں لوٹائے جاویں کہ جس کو شیاطین نے جنگل میں بھلا کر بھونچکا کردیا ہو۔ اس کے دوست اسے پکار رہے ہوں براہ راست ہماری طرف چلا آ (اے نبی ! ) کہو بیشک ہدایت اللہ ہی کی ہدایت ہے اور ہم کو تو اللہ رب العالمین کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا ہے

وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:72 in the Quran reader

اور یہ (بھی) کہ نماز پڑھا کرو اور اس سے ڈرا کرو اور اسی کے پاس تم سب جمع کئے جاؤ گے

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:73 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک طور پر بنایا اور جس روز ( ہوجانے کے لئے) فرمائے گا تو ہر چیز ہوجائے گی۔ اس کا قول برحق ہے اور اسی کی بادشاہت ہوگی جس روز کہ صور پھونکا جائے گا (اور) وہ چھپے اور کھلے کا جاننے والا ہے اور وہی حکمت والا خبردار بھی ہے۔

ترکیب : من دون اللّٰہ متعلق ہے ندعوا سے ما نکرہ موصوفہ یا موصولہ مفعول ندعوا ونرد معطوف ہے ندعوا پر اور ممکن ہے کہ حال ہو۔ کالذی کاف حال ہے ضمیر یزد سے اے مشبہین للذی فی الارض متعلق ہے استہوتہ سے حیران غیر منصرف ہے کس لئے کہ اس کے مونث حیرٰی ہے یہ حال ہے استہوتہ کی ہاء سے لہ اصحاب جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے اور حیران کی ضمیر سے حال ہے وان اقیموا معطوف ہے لنسلم پر۔ تفسیر : وہ کفار جو اسلام و توحید پر ہنستے تھے اب ان کے مذہب بت پرستی کو رد کرتا ہے جو دراصل قابل مضحکہ بات ہے۔ وہ یہ کہ کسی کی اطاعت و عبادت کی دو وجہ ہوتی ہیں۔ ایک امید نفع ‘ دوم خوف مضرت۔ اور اللہ کے سوا جو کچھ عالم میں ہے ان دونوں کا اختیار کلی نہیں رکھتا۔ خصوصاً ہاتھ کے تراشیدہ بت۔ اس لئے فرماتا ہے قل اندعوا من دون اللّٰہ الخ کہ کیا خدا کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو پوجیں جو نہ نافع ہیں نہ ضار پھر مضرت بت پرستی ظاہر فرما کر بت پرستوں کی ہنسی پر تاسف کرنے کا حکم دیتا ہے۔ نرد علی اعقابنا کہ کیا ہم پھر ویسے ہی گمراہ ہوجاویں کہ جس میں یہ تین باتیں ہوں کہ پھر اس سے بدتر حال کوئی بھی نہ ہوسکتا : (1) کالذی استہوتہ الشیاطین فی الارض کہ اس کو شیاطین نے جنگل میں بہکا دیا ہو استہوت مشتق ہے ہویٰ فی الارض سے جس کے معنی بلندی سے گڑھے میں گرنا وقیل من اتباع الہوی قال ابن عباس ؓ کالذی استہوثہ الغیلان فی المہامۃ فاضلوہ (معالم) یعنی جیسا کسی کو جنگل میں غول بیابانی راہ بھلا دیں۔ (2) سو وہ حیران ہوجاوے قال الاصمعی یقال حاریحاء حیرۃ وحیر او زالفراء حیرانہ (کبیر) ۔ (3) لہ اصحاب کہ اس کے یار اس کو راہ راست کی طرف پکار رہے ہوں مگر وہ اس بدحواسی میں ان کی طرف بھی خیال نہ کرتا ہو۔ یہی حال بت پرستوں کا ہے کہ آبائی رسوم اور ملکی خیالات سے اس ورطہ ضلالت میں اس طرح پڑے ہیں۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں اور ایسی حالت میں اللہ کی رہنمائی دراصل رہنمائی ہے تم حیران سرگردان بھٹکا کرو مگر ہم تو اس پر مامور ہیں۔ چونکہ ہدایتِ الٰہی کی دو شاخ ہیں اعتقاد کا درست کرنا۔ اس کی طرف 1 ؎ لنسلم لرب 1 ؎ سر جھکانا بھی رب العالمین کے لئے ذکر کے ساتھ اور وصف کے ساتھ کیونکہ سر ولی النعمۃ کے آگے جھکا کرتا ہے اور ولی النعمۃ بھی عالم کا بلکہ عالمین کا کہ جس نے غیر معبودوں کی وقعت کھو دی۔ 12 منہ العلمین میں اشارہ کیا۔ دوم عمل اچھے کرنا اور اعمال صالحہ میں سب سے بڑھ کر نماز ہے۔ اس لئے اس کے بعد ان اقیموالصلوۃ فرمایا اور عموماً پرہیزگاری کے لئے اتقوۃ کہہ دیا۔ مشرکین اللہ کے مقابلہ میں اور چیزوں کو پوجتے تھے۔ اب ان اندھوں کو اللہ تعالیٰ کی ذات دو جملوں میں بتلائی جاتی ہے تاکہ عظمت ہو۔ اول ہوالذی کہ اللہ وہ ہے جس کے پاس جانا ہے نہ کہ بتوں کے۔ پھر سمجھ لو کہ اس سے کیا تعلق ہے ؟ یہ بلحاظ مبدایہ دوسرا جملہ ہے۔ ہو الذی خلق کہ اس نے سب کچھ بنایا۔ تمہارے معبدوں نے کیا بنایا۔ پھر ان کو پوجنا حمق ہے۔ پھر چند اوصاف ممیزہ ذکر کرتا ہے (1) یقول کن الخ جو چاہتا ہے فوراً ہوجاتا ہے (2) قولہ الحق (3) ولہ الملک الخ (4) عالم الغیب والشہادۃ (5) وھو الحکیم الخبیر پھر جو کچھ ان اوصاف کی ترتیب میں نکتے ہیں بیان سے باہر ہیں۔
Ayah 6:74

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:74 in the Quran reader

اور جبکہ ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے (یہ) کہا کہ کیا تم بتوں کو خدا مانتے ہو ؟ میں تو تم کو اور تمہاری قوم کو صریح گمراہی میں مبتلا دیکھتا ہوں

ترکیب : اذ قال مفعول ہے اذکر کا آزر بدل ہے ابیہ سے اصناما مفعول اول تتخذ کا آلہۃ مفعول دوم۔ وکذلک محلا منصوب ہے۔ اے کما اریناہ اضلال ابیہ وقومہ اریناہ ذلک ای ملکوت السموت۔ تفسیر : ان دلائل کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس واقعہ سے جو ان کی قوم بت پرست اور ان میں گذرا۔ مشرکین عرب کو الزام دیتا ہے کیونکہ عرب کی بہت قومیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں اور ان کے علاوہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تمام عرب اور یہود و نصاریٰ سب کے نزدیک مسلم تھے (ایسا مسلم آج کل بھی دنیا میں کوئی ہوگا۔ یہ سب اس اب الانبیاء کے خلوص کا ثمرہ ہے) کہ دیکھو تمہارے بزرگ نے بت پرستوں کو کس طرح سے قائل کیا۔ پھر تم بت پرستی کرتے ہو ؟ سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تاریخ مفصلاً بیان کر آئے ہیں کہ حضرت شہر بابل یا اس کے اطراف کے رہنے والے تھے جس کے کھنڈر اب تک بغداد سے چالیس میل کے فاصلہ پر دور تک سیاحوں کو عبرت ناک ٹیلوں میں دبے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ طوفان کے بعد قطعاً اور اس سے پہلے غالباً بنی آدم کی آبادی سے ملک آرمینیا اور عراق اور ایران اور شام و ایشیا کو چک وغیرہ ایشیاء کا وسط حصہ آباد ہوا تھا یہیں سے پھر تمام ملکوں میں بنی آدم پھیلتے گئے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارخ ہے۔ آزر لقب ہوگا یا بالعکس اور یہ کہنا کہ آزر ان کے چچا تھے اور تارخ باپ اس لئے کہ کسی نبی کا باپ مشرک نہیں گذرا ہے محض تکلف ہے اور اس کے رد و اثبات میں کلام کو اس موقع پر طول دینا منصب تفسیر کے برخلاف ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد میں بت پرستی کا ازحد رواج تھا۔ حال کے زمانہ میں جو فرانس اور انگلینڈ کے لوگوں نے بابل اور نینوا کے بعض مقامات کو باجازت سلطان روم خلد اللہ ملکہ کھودا ہے تو سنگ مر مر کے عجیب و غریب ترشے ہوئے بت مختلف صورتوں کے برآمد ہوئے ہیں جو وہاں بطور نمائش کے رکھے ہوئے ہیں۔