Ayah 5:1ترکیب : احلت فعل مجہول بہیمۃ الانعام مفعول مالم یسم فاعلہ الا مایتلی محل نصب میں ہے بوجہ استثناء از بہمیۃ الانعام کے غیر حال ہے۔ ضمیر مجرور سے جو علیکم یالکم میں ہے۔ محلی اسم فاعل مضاف ہے مفعول کی طرف جو الصید ہے دراصل محلین تھا نون اضافت کی وجہ سے ساقط ہوگیا الصید مصدر ہے بمعنی مفعول۔
تفسیر : سورة نساء میں پیشتر احکام معاملات بیان ہوئے تھے جن کی زیادہ ضرورت تھی۔ اس کے بعد کھانے پینے اور حلال و حرام چیزوں کے متعلق احکام بیان کرنا بھی عین حکمت تھا اور لطف یہ کہ اس سورة مائدہ میں کہ جس کا نام حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر مائدہ یعنی دستر خوان یا نعمت نازل ہونے کے بیان سے مائدہ رکھا گیا حرام حلال چیزوں کا بیان کرنا گویا یہ بات بتلادینا ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بعد پولوس وغیرہ نے سب ناپاک چیزوں کو حلال بتا کر جو شریعت انبیاء (علیہم السلام) کو درہم و برہم کیا۔ فطرتِ الٰہی کو محرف کردیا ہے۔ اس سورة میں سب سے پہلا حکم عقود کا پورا کرنا ہے۔ عقود عقد کی جمع ہے جس کے معنی گرہ لگانا یعنی خواہ ایک جسم کو دوسرے جسم سے خوب ملا کر باندھنا جس طرح دو رسی کے ٹکڑوں میں گرہ لگاتے ہیں خواہ کسی بات یا معانی میں گرہ لگانا اس لفظ کے تعبیر کرنے میں اس بات کی پابندی اور التزام مقصود ہوتا ہے اور یہی بات عہد میں بھی ہوتی ہے۔ عقد اور عہد قریب المعنی ہیں جن سے محاورہ قرآن میں خدائے تعالیٰ کی شریعت مراد لی جاتی ہے اور امرو نواہی و معاملات و عبادات جیسا کہ واوفو بعہد اللہ۔ بعض عرفاء نے فرمایا ہے کہ اس جگہ دونوں میں یہ فرق ہے کہ عہد سے مرادوہ جو قضائے ازل میں خدا نے ارواح سے الست بربکم قالوا بلی سے توحید کا اقرار کرایا تھا جس کی پابندی فطری طور پر ہر فرد و بشر پر بذریعہ رسول عقل لازم و واجب ہے اور دنیا میں ہر فرد بشر جب آتا ہے تو اسی فطرت پر پیدا ہوتا ہے اور اسی فطرت کو اسلام کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے اور یہی بار امانت ہے اور عقد عالم ظہور میں آکر شریعت کی بجاآوری ہے جو اس عہد کے پورا کرنے کا سبب ہے۔ پس عہد عقد سے مقدم ہے۔ یا ایہا الذین امنوا کے بعد او فوا بالعقود کا مطالبہ کرکے پھر احلت لکم الآیہ میں احکام حلال و حرام کا بیان فرمانا ایک اعلیٰ
دوسرا حکم : احلت لکم دوسرا حکم ہے اس آیت میں حکم دیتا ہے کہ تمہارے لئے بجز ان جانوروں کے جن کو ہم اگلی آیت حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما احل لغیر اللّٰہ بہ والمخنقۃ والموقوذۃ والمتردیۃ والنطیحۃ وما اکل السبع الا ما ذکیتم وما ذبح علی النصب الآیہ) میں بیان کریں گے۔ بہمیۃ الانعام یعنی چارپائے حلال ہیں مگر یہ بھی حالت احرام یا حرم میں حلال نہیں۔
جانوروں کے حلال ہونے کی وجہ اور ہنود کا جواب : پھر ان کے حلال اور ان کے حرام ہونے کی وجہ ان یحکم ما یرید میں فرماتا ہے کہ ہمیں اپنی مخلوقات کا اختیار ہے جس چیز میں مصلحت عباد اور ان کے فوائد دیکھتے ہیں ٗ اجازت دیتے ہیں۔ (ہم پر یہ اعتراض کرنا کہ وہ جانوروں کے کھانے کی اجازت دے کر اپنے بندوں کو ظلم اور دکھ دینے کی اجازت کیوں دیتا ہے ؟ جیسا کہ بعض ہنود کہتے ہیں۔ ) عبث ہے۔ رہا بےزبان جانوروں پر تکلیف پہنچنا بوقت ذبح و شکار سو یہ ویسی ہی تکلیف ہے جو عمر طبعی سے بڈھا ہو کر ‘ بیماری کے دکھ اٹھا کر ازخود مرنے میں ہوتی ہے اور اگر یہی ہے تو پھر کوئی سبز درخت یا گھاس بھی نہ کاٹی جائے نہ پھل توڑے جائیں کیونکہ نفس نبابۃً کو بھی تکلیف دینا ویسا ہی ہے اور یہ بات انتظام عالم میں خلل انداز ہے بہمیۃ مشتق ہے ایھم الامر علی فلان اذا اشکل سے جس کے معنی ہیں بےعقل جاندار جس کو ہندی میں پسو کہتے ہیں یعنی چارپائے اور انعام اونٹ ‘ بکری ‘ گائے۔ نعومۃ بمعنی نرمی سے مشتق ہے۔ اس تقدیر بہمیہ بمنزلہ جنس اور انعام بمنزلہ نوع کے ہے۔ تب بہیمۃ الانعام کی اضافت بتقدیر من ہوگی۔ بیان کے لئے جیسا کہ خاتم فضۃ میں ہے یعنی وہ بہائم جو از قسم انعام ہیں یا دونوں سے ایک مراد ہے تب اضافت تاکید کے لئے ہوگی جیسا کہ ذات الشیء اور نفسہ میں ہے اس لفظ میں گائے ‘ بھینس ‘ اونٹ ‘ بھیڑ ‘ بکری ‘ جنگل کے قابل شکار جانور ہرن ‘ چکارا وغیرہ وہ سب شامل ہیں جو کچلیاں اور ناخن یعنی پنجے نہیں رکھتے اور انسان پر حملہ نہیں کرتے اس میں بجز شیر بھیڑیئے وغیرہ درندوں کے سب چارپائے شامل ہیں اور پرند غیر شکاری اور غیر انعام گھوڑا ‘ گور خر وغیرہ سو وہ اور آیت قل لَّا
امر و نواہی کی تکمیل کے لئے عقود کا ایک ایسا جامع لفظ فرمایا جو باہمی عہد و عقود کو بھی شامل ہے کہ نعمتیں کھا کر انسان خرمستیاں کرنے لگتا ہے اور جس قدر جورو جفا ہوتے ہیں یہ سب پیٹ بھرائی کے نتائج ہیں جو آقا کی پوری نمک حرامی ہے جس کا نتیجہ عالم آخرت میں نعمائِ روحانی و جسمانی سے بدنصیبی ہے۔ اس کے بعد جو کھانے چاہییں وہ نعمتیں ارشاد فرمائیں۔ احل لکم الخ سے کہ تمہارے لئے نباتات اور فواکہ تو حلال ہی ہیں جیسا کہ ہم نے سورة بقر میں فرمایا تھا خَلَقَ لَکُمْ مَا فِی الْاَرْضْ جَمِیْعًا مگر اب ہم تم کو گوشت کی بھی اجازت دیتے ہیں جو بوجہ مشابہت معتدی کے لذیذ اور مفید غذا ہے۔ پس چارپائے عموماً تمہارے لئے حلال ہیں مگر وہ نہیں کہ جن کو ہم ابھی بیان کریں گے کس لئے کہ ان میں تمہارے لئے سخت مضرت ہے جس کو ہم حکیم خوب جانتے ہیں ان اللّٰہ یحکم ما یرید میں اس طرف اشارہ ہے اور یہ حلال جانور بھی ہر وقت تمہارے لئے حلال نہیں یعنی جب چاہو ان جنگل کے وحشیوں کا شکار کرکے نفس کو تازہ کیا کرو بلکہ حالت احرام میں جبکہ ایک خاص لباس پہن کر ہمارے دربار میں حاضر ہونے کا قصد کردیا ‘ دربار کے حدود یعنی حرم میں داخل ہوجائو تب ہمارے ادب سے نفس کی باگ روکو اور ان کو شکار نہ کرو یہ تم کو نفس اور خواہش نفسانی کو زیر کرنے کے لئے ایک ریاضت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ بیشک جس کا نفس جس پر غالب آگیا اور وہ جدھر لے جاتا ہے اس میں اور گدھے وغیرہ حیوانوں میں کچھ بھی فرق نہیں بیشک سعادت انسانی نفس کے مقہور کرنے میں ہے۔ 12 منہ
ٓاَجْدُ فِیْمَآ اُوْحِیَ اِلَّا مُحَرَّمًا الآیہ یا حدیث یا قیاس سے حلال ہیں بہیمۃ الانعام کو خدا نے حلال کردیا مگر ان میں دو قید لگائیں۔ اول الا ما یتلی علیکم یعنی ان میں سے وہ جانور جو آیندہ ذکر ہوں گے جیسا کہ بت کا ذبیحہ سو حرام ہیں دوم غیر محلی الصید وانتم حرم یعنی ان بہائم میں جو شکار کئے جاتے ہیں حالت احرام یا حرم میں وہ بھی شکار کرنے درست نہیں اور جو قابل شکار نہیں ہیں۔ حالت احرام یا حرم میں ان کے کھانے کا کچھ مضائقہ نہیں۔ جیسا کہ بھیڑ بکری اونٹ گائے وانتم حرم یعنی جبکہ تم احرام باندھے ہوئے ہو خواہ حج کے لئے خواہ عمرے کے لئے بولتے ہیں۔ احرم بالحج والعمرۃ فہو محرم و حرم جیسا کہ کہتے ہیں مجنب و جنب اور احرم اس وقت پر بھی اطلاق کیا جاتا ہے کہ جب کوئی حرم میں داخل ہو یعنی حرم مکہ معظمہ میں۔ پس حرم کے معنی حرم میں داخل ہونے والے کے بھی ہوئے۔ اسی لئے حرم مکہ معظمہ میں بھی ادباً شکار حرام ہے جس طرح کہ حالت احرام میں حرم مکہ میں اور اس سے باہر بھی شکار کرنا حرام ہے احلت لکم بہیمۃ کے حلال ہونے سے مراد اس کا گوشت کھانا اور اس کے چمڑے اور ہڈی اور چربی سے ہر ایک قسم کا انتفاع حاصل کرنا ہے۔بعض اہل طریقت نے حرم و احرام میں شکار نہ کرنے سے بارگاہ تقرب میں مستلذات کی طرف متوجہ ہونے یا خواطر نفوس کے شکار کے حرام ہونے کی طرف اشارہ ہونا بھی بیان کیا ہے۔
Ayah 5:2ترکیب : ولا القلائد معطوف ہے والا الہدی پر ای لا تحلوا القلائد جمع قلادۃ 1 ؎ اور مراد قلادہ پہنے والے جانور ہیں نہ صرف قلادوں کی تحریم مراد ہے۔ ولا آمین اے ولا تحلوا اقتال آمین ای قاصدین البیت الحرام۔ یبتغون موضع حال میں ہے ضمیر آمین سے یجرمنکم 1 ؎ پٹہ جو جانوروں کے گلوں میں ڈالا جاتا ہے۔ 12 منہ
: حرم اور احرام میں حلال جانوروں کے شکار کی ممانعت مذکور ہوئی تھی اس لئے اسی مناسبت سے اور جو جو افعال حرم احرام کے منافی اور اخلاف ادب ہیں ان کو بھی منع فرماتا ہے۔ فقال یا ایہا الذین امنوا الخ ان آیات میں اول تو عموماً جملہ ارکان و فرائض و احکام شرعی خصوصاً احکامِ حج کی بجا آوری کی تاکید ‘ مخالفت کی ممانعت ہے کہ ان کو خلاف ورزی کرکے بےحرمت نہ کرو جو مائدہ الٰہی کے کھانے والے کے لئے پوری نمک حرامی ہے۔ شعائر اللہ میں سب آگئے۔ اس کے بعد بالخصوص چند چیزوں سے ممانعت فرماتا ہے۔ شہر حرام ہدی قلائد وغیرہ کی بےحرمتی سے۔ 12 منہ
بالفتح والضم اور یہ دونوں لغت ہیں یقال جرم و اجرم فاعل اس کا شنٰان مصدر ہے جیسا کہ غلیان اور نزدان۔ ان صدوکم ان مفتوحہ مصدر یہ ہے والتقدیر لان صدوکم ای لا جل ان صدوکم وقیل بکسر النون وہی شرطیۃ۔
تفسیر : پہلی آیت میں حرم یا احرام میں شکار کرنے کی ممانعت تھی۔ اس لئے اس کے بعد بیت الحرام کے ادب اور اس کی تعظیم اور اس کی رونق اور آبادی کے متعلق ادب ملحوظ رکھنے کے مسائل بیان کرنا گویا کلام سابق کو تمام کردینا ہے۔
اس کا شان نزول یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ہجرت کے چھٹے سال مکہ معظمہ کا قصد عمرہ کے لئے کیا جب مع صحابہ آنحضرت ﷺ مکہ کے متصل ایک مقام حدیبیہ پر آکر خیمہ زن ہوئے تو مکہ کے مشرکین قریش نے جنگ کی تیاری کردی اور یہ کہا کہ ہم آپ کو ہرگز کعبہ کا طواف نہ کرنے دیں گے نہ شہر مکہ میں آنے دیں گے۔ آپ نے فرمایا صاحبو ! میں جنگ کے لئے نہیں آیا۔ اچھا تم نہیں چاہتے تو میں واپس چلا جاتا ہوں۔ باہم ایک عہدنامہ ہوگیا اور آنحضرت ﷺ مع صحابہ واپس چلے آئے مگر صحابہ کو ان کی سرکشی سخت ناگوار معلوم ہوئی۔ آخر یہ بھی عرب کے بہادر اور شیر دل لوگ تھے خصوصاً جبکہ ایک محرک مذہبی اور جوش دینی بھی مؤید ہو تو پھر مخالفین کی کیا حقیقت سمجھتے تھے ؟ اس عرصے میں اسلام اور بھی ترقی کر گیا اور مخالفوں پر بہت کچھ اقتدار آتشی شریعت اور آسمانی بادشاہت کی وجہ سے ہوگیا۔ انہوں نے بھی حج کے آنے والے مشرکین کو روکنا اور ان کے ہدایہ اور قافلوں پر دست درازی شروع کی۔ چونکہ اسلام ایک حقانی اور آسمانی مذہب ہے اس لئے ضد میں آکر بدلہ لینے اور غیروں کے نیک کاموں میں دست انداز ہونے سے کیا علاقہ ؟ اس لئے آٹھویں سال یہ آیات مسلمانوں کو اس دست اندازی سے روکنے کے لیے نازل ہوئیں۔ ان آیات میں خدا تعالیٰ ان چند باتوں سے منع کرتا ہے۔ اول لا تحلوا شعائر اللّٰہ شعائر جمع شعیرۃ کی ہے ابن فارس کہتے ہیں شعارۃ کی جمع ہے اور شیعرۃ بروزن فیعلۃ بمعنی مفعلۃ اور شعار کے معنی اعلام یعنی خبر دینے کے ہیں۔ شعور سے مشتق ہے اور مشاعر کا مفر دمشعر ہے یعنی وہ مواضع جن میں خدا تعالیٰ کی طرف سے علامات برکت و عزت رکھی گئی ہیں یا وہ اوقات کہ جن میں اس کے وہ فرائض ادا کئے جاتے ہیں جو اس کے برگزیدوں کی یادگار ہیں۔ جیسا کہ ارکانِ حج۔ پہلی تقدیر پر مشاعر اور شعائر سے مراد صفا ومروہ کی پہاڑی جس پر حضرت ہاجرہ کو اس کی رحمت کا کرشمہ دکھایا گیا تھا۔ ان کی بےحرمتی نہ کرو کیونکہ ایام جاہلیت میں عامۃ العرب ان کا طواف نہیں کرتے تھے۔ یہ فرّا کا قول ہے۔ دوسری تقدیر پر عام فرائض مراد ہیں۔ حسن بصری فرماتے ہیں شعائر اللہ دین اللہ بعض علماء کہتے ہیں یہاں مخصوص چیزیں مراد ہیں یعنی جو چیزیں حالت حلت میں حلال ہیں وہ حرم میں اس کی تعظیم کے لئے حرام کردی گئی ہیں۔ وہ شعائر اللہ ہیں۔ ان کو حلال نہ جانو۔ شکار نہ کرو اور جو چیزیں ارکانِ حج ہیں ان کو بجا لائو ترک کرکے بےحرمتی نہ کرو کیونکہ اعتبار عموم لفظ کا ہے نہ خصوص سبب کا۔ بعض کہتے ہیں وہ جانور مراد ہیں جو خانہ کعبہ میں قربانی کے لئے نیاز اللہ کے طور پر ذبح ہونے کو بھیجے جاتے ہیں جن کو ہدی کہتے ہیں۔ چونکہ عرب میں یہ رسم قدیم تھی۔ مشرکین بھی ایام حج میں ایسا کرتے تھے جن پر مسلمانوں نے ان کے مقابلہ میں آکر دست درازی شروع کی تھی جیسا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے اور گو لفظ شعائر اللہ عام ہے تمام فرائض اور دیگر شعائر کو شامل ہے مگر قرینہ کلام اسی کا مؤید ہے۔
دوم۔ ولا الشہر الحرام۔ شہر مہینے کو کہتے ہیں۔ حرام بمعنی محترم یعنی جو مہینے خدا کے نزدیک محترم ہیں اور وجہ احترام ملائِ اعلیٰ کو ان ایام میں بندوں کی عبادات و تقربات کی طرف زیادہ التفات ہوتا ہے۔ الشہر اگرچہ لفظ مفرد ہے مگر جنس ہے ایک مہینے پر بھی اس کا اطلاق ہوسکتا ہے اور کئی پر بھی۔ عرب میں قدیم دستور چلا آتا تھا کہ اور مہینوں میں باہم جنگ وجدل ‘ مار دھاڑ کرتے تھے مگر ان چار مہینوں میں کوئی کسی کو کچھ نہ کہتا تھا۔ وہ چار مہینے یہ ہیں۔ ذوالعقدہ ‘ ذوالحج۔ محرم ‘ رجب۔ قرآن میں ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ عِدَّۃَ الشَّہُورِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشْرَ شَہْرًا فِیْ کِتَاب اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰواتِ وَالْاَرْضَ مِنْہَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ یعنی بارہ مہینوں میں سے یہ چار محترم ہیں۔ اس آیت میں عام مفسرین کے نزدیک چاروں مراد ہیں۔ بعض کہتے ہیں صرف ذی الحجہ کیونکہ زیادہ کاروبار حج کے اس میں ادا ہوتے ہیں۔ مسلمان بھی مشرکین کو ان مہینوں میں روک ٹوک کرنے لگے تھے۔ اس لئے اس کی ممانعت کی گئی کہ ان مہینوں کو بھی حلال نہ سمجھو یعنی ان میں ایسے امور کو حلال نہ جانو۔ عام مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہے کیونکہ اس میں مشرکوں سے ان مہینوں میں جنگ کی ممانعت ہے اور ناسخ اس کی یہ آیت ہے واقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَد تُّمُوْھُمْ کہ جہاں کہیں مشرکین کو پائو قتل کر ڈالو مگر محققین کہتے ہیں یہ آیت منسوخ نہیں کس لئے کہ اول آیت میں مشرکین کی بابت کوئی حکم نہیں بلکہ مسلمانوں کی ہدی اور ان کے مراسمِ حج میں خلل اندازی سے ممانعت ہے۔ سو وہ بدستور اب بھی ہے مگر یہ توجیہ درست نہیں کس لئے کہ قطع نظر سبب نزول کے اخیر کا جملہ وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ صاف یہی کہہ رہا ہے کہ مشرکین کی ہدی اور خاص ان سے ان ایام میں تعرض نہ کرو۔ اصل بات یہ ہے کہ ان دونوں آیتوں میں کچھ تعارض ہی نہیں نسخ کیسا کس لئے کہ آیت واقْتُلُوا الْمُشْرْکِیْنَ کے یہ معنی نہیں کہ جہاں کہیں کسی مشرک کو پائو مار ڈالو کس لئے کہ جو مشرکین اسلام کے ساتھ مصالحت رکھتے اور امن میں ہیں وہ ہرگز قتل نہیں کئے جاتے تو لامحالہ آیت واقْتُلُوا الْمُشْرْکِیْنَ سے وہی مشرکین مراد ہوں گے کہ جن سے جنگ قائم ہے اور یہ عام قاعدہ ہے کہ جب کسی قوم سے عموماً جنگ قائم ہوتی ہے تو طرفین سے ایسا ہی ہوا کرتا ہے کہ جس نے اپنے مخالف پر جہاں کہیں قابو پایا مار ڈالا تو لا محالہ آیت اقتلوا کو خاص کرنا پڑا۔
اور آیت ولا الشَّہْرْ الْحَرَام میں انہیں مشرکین سے تعرض کرنے کی ممانعت ہے جو اسلام سے پرخاش اور جنگ قائم نہیں رکھتے اور بجرم اسلام کسی مسلمان کو ایذا دینا گوارا نہیں کرتے۔ رہی یہ بات کہ اس تقدیر پر تو شہر حرام کی کیا خصوصیت۔ ہر مہینے میں ان سے تعرض نہ کرنا چاہیے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حقیقت میں یہی بات ہے مگر اس زمانے میں مشرکین اور دیگر قبائل عرب کو باہمی مار دھاڑ سے بجز ان مہینوں کے امن سفر میسر نہ آتا تھا اور وہ ان ہی مہینوں میں کعبہ میں نذر و نیاز لایا کرتے تھے۔ اس لئے شہر حرام کی تخصیص کرنی پڑی۔ والعلم عند اللہ۔
سوم۔ وَلاَالْہَدْیٰ ۔ امام واحدی کہتے ہیں کہ ہدی وہ نذر و نیاز ہے جو اللہ کے لئے کعبہ میں بھیجی جاتی ہے۔ اونٹ اور گائے اور بکری اس کا مفرد ہدیہ ہے۔ بسکون دال۔ یعنی ان چیزوں سے بھی تعرض نہ کیا کرو گرچہ شعائر اللہ میں یہ بھی شامل ہے مگر تعمیم کے بعد تخصیص تاکید و اہتمام کے لئے ہے۔
چہارم۔ وَلَا القَلَائِدِ یہ قلادہ کی جمع ہے اور مراد اس سے وہ ہدی ہیں کہ جن کے گلے میں کوئی قلادہ یعنی پٹہ اس لئے ڈال دیا جاتا تھا کہ یہ اللہ کی نیاز ہے۔ پھر اس سے کوئی ایام جاہلیت میں تعرض نہ کرتا تھا۔ ایسی قربانیوں کے گلے میں عرب کے لوگ کبھی کوئی بالوں کی رسی بٹ کر ڈال دیتے تھے کبھی اس کے جسم میں ذرا سا چرکا دے کر نشان بھی کردیتے تھے۔ ہدی کے بعد قلائد کا ذکر بھی وہی تعمیم کے بعد تخصیص ہے۔
پنجم۔ وَلَآاٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامِ ۔ اعمش نے امی البیت الحرام بھی پڑھا ہے۔ اضافت کی وجہ سے ن ساقط کرکے اممت بمعنی قصدت سے مشتق ہے یعنی کعبہ کے قصد کرنے والوں کو جو حج وعمرہ کے لئے آتے ہیں نہ چھیڑو۔ عام مفسرین نے اس جملہ کو بھی آیت فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجْدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہْمْ ھٰذَا سے منسوخ کیا ہے یعنی مشرکین کو خانہ کعبہ میں آنے کی اس آیت میں ممانعت ہوگئی۔ پہلے جملہ سے اجازت ثابت ہوتی تھی لیکن اگر یوں کہا جائے کہ یہاں بھی نسخ نہیں تو ممکن ہے کس لئے کہ اس جملہ میں صرف یہ بات ہے کہ جو کوئی مسلمان یا مشرک خانہ کعبہ کو آوے تو اس سے تعرض نہ کرو۔ یہ اور بات ہے اب ان کو اس آیت میں آیندہ آنے کی ممانعت کردی۔ دونوں باتوں میں کچھ مخالف نہیں۔
ف۔ یبتغون الخ یہ جملہ مفسرین کے نزدیک آمین کی صفت ہے۔ بہ پیرایہ حال پھر ان کا حج وعمرہ میں جب کہ آمین سے مشرکین مراد لیا جاوے فضل اور رضائے الٰہی کے تلاش کرنے کے یہ معنی ہیں کہ بذریعہ تجارت نفع چاہتے تھے جو فضل ربی ہے اور اپنے اعتقاد میں حج وغیرہ سے اس کی رضا حاصل کرتے تھے۔ وَاِذَا حَلَلْتُمْ الخ یعنی شکار کی ممانعت حرم و احرام میں ہے اور جب تم حلال ہوجائو یعنی احرام کھول دو یا حرم سے باہر نکل جائو تب شکار کرنا مضائقہ نہیں۔ یہ امر وجوب کے لیے نہیں بلکہ اباحت کے لئے بقرنیہ اس بات کے نہی کے بعد آیا ہے۔
ششم۔ وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ جرم بمعنی کسب تھا جب لا اس کے ساتھ لگا تو معنی لا یحملنکم کے ہوگئے۔ وقیل لا یکسبنکم بغض قوم ان تعتدوا الحق الی الباطل شنان کے معنی بغض کے ہیں۔ مرد کو شنان اور عورت کو شنانہ کہا کرتے ہیں یعنی تم کو جو انہوں نے مسجد الحرام سے روک دیا ہے اس بغض میں آکر تعدی نہ کرو کیونکہ بری بات کے بدلے میں برائی نہ کرنا چاہیے بلکہ جو کوئی نیکی کرے اس میں مشارکت کرنی چاہیے اسی لئے اس کے بعد یہ (امر) صادر فرما دیا وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبْرّْوَ التَّقْوٰی وَلاَ تَعَاوُنُوْا عَلَی الْاِثْمْ وَالْعُدْوَانَ اس میں نیکی میں شرکت اور اعانت کرنے اور بدی سے بچنے کا حکم دیا۔ امام احمد اور عبد بن حمید اور بخاری نے اپنی تاریخ میں وابصہ کے ذریعے سے آنحضرت ﷺ سے بر (نیکی) اور (اثم) گناہ کی تفسیر میں یہ نقل کیا ہے کہ جس پر دل ٹھکے وہ نیکی ہے اور جو دل میں کھٹکے وہ بدی ہے۔ حقیقت میں دل آئینہ غیب ہے سب کے بعد آیت کو واتقوا اللّٰہ پر تمام کیا کیونکہ تمام عملیات کا دار و مدار تقویٰ یعنی خوف خدا پر ہے اور خوف خدا قائم کرنے کے لئے ان اللّٰہ شدید العقاب فرمایا۔
Ayah 5:3ترکیب : حرمت فعل مجہول المیتۃ مفعول مالم یسم فاعلہ والدم اور لحم الخنزیر اور ما اھل اور المنخنقۃ والموقوذۃ والمتردیۃ والنطیحۃ وما اکل السبع وما ذبح وان تستقسموا سب اس پر معطوف ہیں فمن اضطر شرط ہے محل رفع میں بسبب مبتدا ہونے کے غیر حال ہے فان اللّٰہ جواب شرط اور عائد محذوف ہے اے لہ۔
تفسیر : میتۃ کی بحث چار پایا : یہاں سے ان حرام چیزوں کا بیان شروع ہوتا ہے کہ جن کا پہلی آیت الا مایتلی علیکم میں بیان کرنے کا اشارہ فرمایا تھا اور یہ وہ چیزیں ہیں کہ جو حلال چیزوں سے مستثنیٰ کی گئی تھیں اور وہ گیارہ چیزیں ہیں : (1) المیتۃ یعنی مردار بیضاوی فرماتے ہیں والمیتۃ فارقۃ الروح من غیر تزکیۃ کہ میۃ اس جانور کو کہتے ہیں کہ جس کی روح بغیر ذبح کے نکل جائے۔ اس میں کسی جانور کی خصوصیت نہیں خواہ چرند ہو خواہ پرند۔ عرب کے محاورہ میں خصوصاً جبکہ قرآن مجید نازل ہو رہا تھا میتہ کو اسی عام معنی پر اطلاق کرتے تھے اس میں بہیمہ کی کوئی خصوصیت نہیں کیونکہ اگر میتہ سے خاص بہیمہ ہی مراد ہوتا تو خود حضرت پیغمبر ﷺ کو جن پر قرآن نازل ہوا ہے اور جن سے بہتر کوئی شخص قرآن کے معنی و مطالب نہیں جان سکتا میتہ میں مچھلی اور ٹڈی کو شامل کرکے پھر اس سے مستثنیٰ نہ کرتے۔ دیکھو آپ فرماتے ہیں احل لنا میتتان ودمان فاما المیتتان فالحوت والجراد واما الدمان فالکبد وابطحال کہ دا نے ہمارے لئے دو میتہ اور دو خون حلال کردیے۔ دو میتہ سے مراد مچھلی اور ٹڈی اور خون سے مراد کلیجی اور تلی ہے۔ اس حدیث کو امام شافعی اور امام احمد حنبل اور ابن ماجہ اور دارقطنی اور بیہقی وغیرہ نے روایت کیا ہے اور اسی کی مؤید ایک اور حدیث ہے جس کو اصحاب سنن اور احمد اور جماعت محدثین نے اسناد مختلفہ سے روایت کیا ہے کہ سمندر کا پانی پاک اور اس کی میتہ یعنی بغیر ذبح کی ہوئی مچھلی حلال ہے اور جس مفسر نے المیتہ کے اول لفظ البہیمۃ کو موصوف مقدر مانا ہے تو فرو غالب کا لحاظ کیا ہے نہ کہ حصر۔ اس آیت میں بعبارۃ النص اس بات کی تصریح ہے کہ جس جانور کو خواہ پرند ہو مرغی وغیرہ یا کوئی چرند ‘ بہائم ‘ گائے ‘ بکری جب تک ذبح نہ کیا جاوے حرام ہے بجز مچھلی اور ٹڈی کے اور کوئی جانور ذبح سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتا اور سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ولا تاکلوا ممالم یذکر اسم اللہ علیہ کہ جس پر خدا کا نام نہ لیا جاوے جو ذبح میں لیا جاتا ہے اس کو نہ کھائو۔ اس میں پرند کی کوئی خصو صیت نہیں لفظ ما عرب کی زبان میں عام ہے اپنے معنی پر قطعاً دلالت کیا کرتا ہے اس سے صرف مچھلی اور ٹڈی ہی مستثنیٰ ہوسکتی ہیں کہ جن کو کسی خاص وجہ الہامی سے خود پیغمبر ﷺ نے مستثنیٰ کیا۔ اب جو بعض محرفین کلام الٰہی نے نصاریٰ کی خوشامد سے آیت مذکورہ سے جاہلانہ اگر مگر ملا کر پرند خصوصاً مرغی کو بغیر ذبح کے حلال کیا اور گلا گھونٹی مرغی کو المنخنقۃ سے باطل تاویل کرکے حلال بنایا ہے اور اس کو طعام اہل کتاب بنا کر مباح کیا ہے محض لغو اور سراسر بےدینی اور علم قرآن و حدیث سے محض ناواقفی
: یہاں ان چند چیزوں کا بیان ہے کہ جن کی نسبت فرمایا تھا کہ ان کو ہم ابھی بیان کریں گے ان کو اس خوان دنیا میں سے نہ کھانا (1) مردار (2) خون (3) سور کا گوشت ان کی حرمت توریت میں بھی ہے اور ان کا اخلاق اور جسم پر بڑا اثر پڑتا ہے (4) بتوں کے نام پر جو جانور چھوڑا گیا اس لئے کہ اس میں حکم نجاست ہے (5) گلا گھونٹا ہوا (6) چوٹ سے مرا ہوا (7) گر کر مرا ہوا (8) سینگ سے مرا ہوا (9) درندوں کا پھاڑا ہوا اگر زندہ پا کر ذبح نہ کیا گیا ہو (10) بتوں پر ذبح کیا ہوا (11) گوشت یا اور کسی چیز کا پانسے ڈال کر تقسیم کرنا جیسا کہ عرب کا دستور تھا کہ وہ تیروں کے پانسے ڈال کر تقسیم بھی کرتے تھے اور اسی پر …اور نکاح وغیرہ کاموں میں کاربند تھے۔ یہ جوا ہے جو بدکاری اور اس قوم کے لئے جو دنیا کی قوموں کی رہبر بنائی جاوے بدنما ہے ان گیارہ چیزوں کی حرمت بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ اب کفار کو تمہارے دین کی طرف سے ناامیدی ہوگئی کیونکہ اب مسلمانوں کا دستور و قانون مرتب ہوگیا۔ ان کو کفار کے رسم و رواج سے بےنیازی ہوگئی اور یہ قانون بھی مکمل ہے۔ اس میں دست اندازی کا کوئی موقع نہیں رہا۔ ایسی حالت میں جب کہ کفار کی امیدیں اسلام سے پھرجانے کی جاتی رہیں تو طبعی بات ہے کہ وہ ستاویں گے۔ پر تم اے مسلمانو ! ان سے کچھ خوف نہ کرو۔ خدا سے ڈرتے رہو۔ کس لئے کہ خدا ترس کی ہیبت مخالف پر پڑتی ہے یہ جملہ معترضہ تھا۔ اس کے بعد پھر انہیں حرام اشیاء میں کلام کرتا ہے کہ اگر کوئی بھوک سے مرتا ہو اور کچھ نہ ملے اور شکم پری اور نفس کی خواہش مقصود نہ ہو تو خدا معاف کرنے والا ہے اگر کھالے۔ 12 منہ۔
ہے۔ اول تو آیات کے عموم کو بلاوجہ وجیہ خاص کرنا اور پھر آج کل کے انگریزوں کو جو اکثر عیسائی نہیں بلکہ ملحد اور دہریہ ہیں۔ اہل کتاب 1 ؎ قرار دینا اور پھر ان کے طعام کو عام رکھنا نہ اس میں سے شراب کو مستثنیٰ کرنا نہ سور کو نہ مردار کو ایک جاہلانہ گفتگو ہے جس کی طرف کوئی مسلمان سلف سے لے کر خلف تک کان بھی نہیں لگا سکتا۔
(2) الدم یعنی خون۔ صاحب کشاف فرماتے ہیں کہ عرب میں یہ بھی دستور تھا کہ وہ خون کو جما کر توے پر بھون لیا کرتے تھے۔ یا تل لیا کرتے تھے پھر اس کو کھاتے تھے مگر وہ خون جس کا کھانا اس آیت میں حرام کردیا ہے دم مسفوح ہے یعنی وہ خون جو بہہ سکتا ہے یا بہایا گیا اس سے وہ خون جو کہیں گوشت پر لگا رہتا ہے یا کلیجی اور تلی مستثنیٰ ہے۔ (3) لحم الخنزیر یعنی سور کا گوشت اس میں اس کی چربی اور بال کھال سب شامل ہیں۔ (4) ما اہل لغیر اللہ یہ وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور کے نام پر پکارا گیا ہو ایام جاہلیت میں مشرکین اپنے بتوں کے نام پر جانور چھوڑ دیتے تھے جس طرح اب تک ہندو دیوی دیوتائوں کے نام پر سانڈ چھوڑتے ہیں جن کو وہ لوگ ادباً چھیڑتے نہ تھے۔ ان کا بتوں کے نام پر چھوڑنا اہلال لغیر اللّٰہ ہے جس سے وہ جانور شریعت محمدیہ میں بت پرستی کی تحقیر کے لئے ناپاک اور حرام قرار دیا گیا مگر عام مفسرین کا یہ قول ہے کہ صرف اس کا پکارنے سے وہ جانور اس مرتبہ میں نہیں پہنچ گیا کہ اب جو کوئی اللہ کے نام سے اس کو ذبح کرے تب بھی وہ حرام ہی رہے بلکہ مراد یہ کہ جو بتوں کے نام پر ذبح کیا جائے جیسا کہ جاہلیت کا دستور تھا اور پھر اس میں اور ماذبح علی النصب میں یہ فرق ہوگا کہ اول میں خاص بتوں کا نام لے کر ذبح کرنا دوسری میں بتوں کے لئے ذبح کرنا نام لیں یا نہ لیں یہ بحث سورة ٔ بقرہ میں ہوچکی اس کو وہاں دیکھنا چاہیے۔ (5) المنخنقتہ یعنی جو جانور گلا گھوٹنے سے مرجائے خنفق اور اختناق گلا گھٹنا اس کی تین صورتیں ہیں اول یہ کہ ایام جاہلیت میں بغیر ذبح کرنے کے یوں بھی جانور کا گلا گھونٹ کر مار ڈالتے تھے پھر اس کو کھاتے تھے۔ دوم یہ کہ کسی رسی کے پھندا لگ جانے سے گلا گھٹ کر مرجاوے۔ سوم یہ کہ درختوں کی ٹہنیوں میں گردن پھنس جانے سے گلا گھٹ کر مرجاوے تنیوں صورتوں میں یہ جانور چونکہ بغیر ذبح کئے مرا ہے میتہ یعنی مردار ہے۔ سو یہ بھی حرام ہے (تفسیر کبیر) اس میں اس کی کوئی قید نہیں کہ اگر وہ جانور مرغی ہے اور کسی جنٹلمین کے گورے گورے ہاتھوں سے اس کی گردن مروڑی گئی ہے تو وہ حلال ہے اور جس کو حرام کھانے شراب پینے سے کچھ پروا نہ ہو تو پھر کیا ضرورت ہے کہ زمین آسمان کے قلابے ملا کر قرآن میں تحریف کرکے اس کو حلال بھی بنا دے۔ (6) الموقوذۃ وقذ ہابمعنی ضرب یعنی جس جانور کو لٹھ سے یا پتھر سے مار دیا جاوے جیسا کہ عرب کا دستور تھا یہ بھی ذبح نہ ہونے کی وجہ سے میتہ اور حرام ہے اور وہ جانور کہ جو بندوق کی گولی سے مارا جاوے وہ بھی موقوذہ میں شمار ہے۔
شکار میں جانور مارے جانے کی بابت : شکار کھیلتے میں شریعت نے یہ اجازت دی ہے کہ شکار اگر ہاتھ آکر ذبح نہ ہو سکے تو بسم اللہ پڑھ کر دھار دار چیز نیزہ یا تیر پھینک کر مار دینے سے اگر اس کا جسم کٹ کر خون نکلے خواہ کہیں لگے وہ جانور حلال ہے اسی طرح شکاری 2 ؎ کتے کا بسم اللہ پڑھ کر چھوڑنا بھی ذبح میں داخل ہے، اگر اس کی گرفت میں وہ جانور مرجائے گا حلال ہوگا مگر جو چیز شکار پر پھینکی جائے
1 ؎ اہل کتاب اور ان کے طعام سے جو کہ حلال کیا گیا ہے کیا مراد ہے۔ اس کی تفسیر آگے چل کر ہم خوب بیان کریں گے مگر مختصراً یہ ہے کہ اہل کتاب سے مراد یہود ہیں جو توریت اور شریعت موسویہ کی پابندی کا دعویٰ کرتے ہیں اور عیسائی بھی جو توریت اور انجیل اور شریعت عیسویہ کی پابندی کے مدعی ہیں یہ اور بات ہے کہ وہ اس ادعاء میں کامل ہیں یا ناقص۔ سچے ہیں یا جھوٹے نہ وہ ملحد کہ ان کو برائے نام عیسائی کہا جاتا ہے اور دراصل وہ اپنے اس مذہب کو بھی ہیچ و پوچ سمجھتے ہیں نبوت اور الہامِ الٰہی پر قہقہہ اڑاتے ہیں جیسا کہ فرنگستان کے اکثر لوگ اور ان کے طعام سے مراد وہ چیزیں ہیں کہ جن میں شریعت محمدیہ کے برخلاف چیزیں نہ ہو خصوصاً وہ کہ جن کو نص نے ممنوع کیا ہو۔ 12 منہ
2 ؎ اس کو کلب تعلم کردہ کہتے ہیں اور اس میں باز اور چیتا بھی شامل ہیں یعنی جو قابل تعلیم ہوں اور نجس العین نہ ہوں ان سے شکار کرنا درست ہے۔ بسم اللہ کہہ کر چھوڑنا ذبح کرنا ہے مگر اس شکار میں زخم ہو کر خون نکلنا چاہیے اور بعض روایت میں خون نکلنا کچھ شرط نہیں جیسا کہ امام شافعی (رح) کا مذہب ہے (در المختار) 12 منہ
دھاردار ہو ابن عمر اور امام مالک اور امام ابوحنیفہ اور شافعی اور سفیان ثوری وغیرہم کا یہی فتویٰ ہے مگر بعض علماء نے بسم اللہ کہہ کر گولی کے
مارنے سے جو مرجاوے اس کو بھی حلال بتایا ہے اور دلیل اس پر عدی بن حاتم کی وہ حدیث ہے کہ جس کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے کہ یارسول اللہ میں تیر سے شکار کھیلا کرتا ہوں اس میں کیا فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا جب دھار کی طرف سے لگ کر کٹے تو کھا اور جو اس کی عرض 1 ؎ سے مرے تو مت کھا اور گولی میں کٹنا نہیں پایا جاتا بلکہ بارود کے زور سے ٹوٹنا اور نہ اس میں دھار ہے۔ ہاں قاضی شوکانی اس میں اختلاف کرتے ہیں۔ (7) المتردیۃ کہتے ہیں اوپر سے نیچے گر پڑنے کو جو جانور پہاڑ یا کسی درخت یا چھت پر سے گر کر مرجاوے اس کو متردیہ کہتے ہیں۔ یہ بھی بہ سبب ذبح نہ ہونے کے میتہ میں شمار ہے۔ (8) انطیحۃ بروزن فعیلہ بمعنی مفعولۃ نطح کہتے ہیں سینگ مارنے کو نطیحہ وہ جانور جو دوسرے جانور کے سینگ مارنے سے مرجاوے یہ بھی بہ سبب ذبح نہ ہونے کے میتہ ہے۔ (9) ما اکل السبع وہ جانور کہ جس کو کسی درندے نے پھاڑ کھایا ہو اور وہ اسی حالت میں بغیر ذبح کئے مرگیا ہو۔ وہ بھی حرام ہے (الاماذکیتم) یہ سب اقسام کی طرف راجع ہے یعنی موقوذہ اور متردیہ اور نطیحہ اور جس کو درندے نے پھاڑ کھایا ہو۔ حرام ہیں مگر جب کہ تم ان کو زندہ پالو اور ذبح کرلو تب درست ہیں۔
ذبح کا بیان : ذکوٰۃ کلام عرب میں ذبح کے لئے آتا ہے اور لغت میں بمعنی تمام اور تیزی طبع کے بھی آتے ہیں۔ (الذکوۃ) شرع میں شاہ رگوں اور حلقوم کو کاٹ کر خون نکالنا (یہ اس جانور کے لئے جو ذبح کیا جاوے) اور نحر کرنا ہے اور جس پر ذبح کی قدرت نہ ہو تو اس کی بسم اللہ کہہ کر کونچیں کاٹنا یا زخمی کردینا ذکوٰۃ ہے اور جس آلہ سے ذکوٰۃ واقع ہوتی ہے وہ جمہور کے نزدیک بجز ناخن اور دانت کے ہر دھار دار چیز ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے۔ (10) ماذبح علی النصب یعنی وہ جانور جو نصب کے لئے ذبح کیا جاوے۔ نصب ان گھڑت پتھروں کو کہتے ہیں کہ جن کو مشرکین پوجتے اور نذر و نیاز کے لئے کھڑا کرلیتے ہیں اور اصنام وہ جن میں صورت کھدی ہو۔ ایام جاہلیت میں مشرکین عرب کہیں تو ترشے اور کھدے ہوئے پتھر کھڑے کرلیتے تھے اور کبھی ایسے ہی ان گھڑت پتھر کھڑے کرکے ان پر اپنے دیوی دیوتائوں کے نام سے قربانیاں کرتے اور کچھ خون ان پر بھی چھڑک دیتے تھے جیسا کہ اب تک ہندوئوں میں دستور ہے۔ اس کو بھی خدا نے نجس قرار دیا اور حرام کردیا۔ (11) وان تستقسموا بالازلام یعنی فال کے تیروں سے تقسیم کرنا۔ ازلام زلم کی جمع ہے جس کے معنی برابر کرنے کے ہیں۔ چونکہ ایام جاہلیت میں تیر رکھ چھوڑتے تھے جن سے پانسے کے طور پر قربانی کے گوشت اور دیگر چیزوں کی تقسیم اس طور سے کرتے تھے جو ایک قسم کا جوا ہوتا تھا اس کو بھی حرام کردیا مثلاً کسی تیر پر تین حصہ کسی پر دو حصے کسی کو خالی قرار دے کر ان کو کسی کپڑے کی تھیلی میں سے ہاتھ ڈال کر نکالتے تھے اگر جس پر دو حصہ مقرر تھے وہ نکل آیا تو وہ دو حصہ لے گیا اور جس کے لئے خالی نکلا تو وہ محروم رہا اور اسی طرح کسی تیر پر لکھا تھا کر کسی پر نہ کر کسی کو خالی رکھا پھر جس کام کو کرنا چاہتے تو اسی طرح سے ان تیروں کو نکالتے اگر وہ تیر نکلا کہ جس پر کرنا لکھا تھا تو اس کام کو کرتے ورنہ ترک کرتے اور جو خالی تیر نکلتا تو بار دیگر اس عمل کو کام میں لاتے تھے۔ اگرچہ آیت میں عموماً ان سب قسم کی لغو حرکات کو حرام کردیا مگر یہاں گوشت کی اسی طرح سے تقسیم کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ جو وہ اپنے بتوں کے چڑھاوے کے گوشت کو تقسیم کرتے تھے اور قرعہ میں جس کو شرع نے جائز رکھا ہے اور اس سے پا اندازی میں بڑا فرق ہے۔ قرعہ حصص مساویہ پر ڈالا جاتا ہے اس میں کسی کو مضرت نہیں پہنچتی نہ کچھ عیب جوئی مقصود ہوتی ہے۔ جن چیزوں کو اس آیت میں حرام کیا ہے ان کی تین قسم ہیں : اول وہ کہ ان کی ذات میں ایسی خباثت دائمی پائی جاتی ہے کہ جو انسان کے اخلاق اور روح پر برا اثر پیدا کرتی ہے اور وہ میتہ اور دم اور لحم خنزیر ہے۔ دوم وہ کہ ان جانوروں کو بتوں کے نام اور ان کی نیاز کے لئے ذبح کیا گیا ہے اور یہ خباثت ان میں عارض ہوگئی ہے ورنہ بذات خود ان جانوروں میں کوئی قباحت نہیں۔ سوم وہ کہ
1 ؎ یعنی جو اس کی لکڑی یا چوڑے رخ سے تیر کا پھل لگے۔
ان میں عارضی قباحت ہے مگر ان کی اصلاح ممکن ہے۔ دوم قسم میں اھل لغیر اللّٰہ جو زیادہ نجس ہے اور ماذبح علی النصب قسم سوم میں داخل ہے اور گیارہویں قسم کوئی جداگانہ نہیں بلکہ ان ہی کے گوشت کی بری تقسیم ہے۔ پھر ان تینوں قسموں کو کس خوبی اور لحاظ مراتب سے خدا تعالیٰ نے مقدم و مؤخر کیا ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ اس کے بعد الیوم سے لے کر رضیت لکم الاسلام دینا تک جملہ معترضہ کے طور پر یہ بات بتلائی ہے کہ ابتدائِ اسلام میں نہ تو بعض مصالح کی وجہ سے ان اشیاء کی حلت و حرمت بیان ہوئی تھی اور نہ مخالفین کے جورو ظلم سے شرائع اسلام پر عمل کرنے کی آزادی تھی۔ اس لحاظ سے کہ کفار اس چشمہ غیبی کو اپنے تعصب کے ریتے اور مٹی سے روکنا چاہتے تھے اور مسلمان کو بار دیگر اپنے مذہب میں پھر آنے کی طرف مجبور کرتے تھے۔ آخر وہ چشمہ غیبی اس روک سے اور بھی چاروں طرف ایسا پھوٹ نکلا کہ اب مخالفین کو اس کے بند کرنے کی امید بھی باقی نہ رہی اور تمام و کمال شرائط ظاہر کر دییگئے۔ اے اہل اسلام ! اب تم کو کسی کا خوف نہیں رہا۔ اس بات پر میرا شکر کرو۔ اس کے بعد فمن اضطر سے لے کر رحیم تک یہ بات بیان کرتا ہے کہ یہ جانور جو ہم نے حرام کئے ہیں اسی حالت میں ہیں کہ جب ان سے بچ کر ہلاکت میں نہ پڑ سکو اور جب ایسی حالت ہو کہ جس کو اضطرار اور مخمصہ 1 ؎ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس شخص کی نیت حرام خوری کی بھی نہ ہو تو صرف بھوک سے جان بچانا یا سخت دشمن سے جان بچانا مقصود ہو تو اس کے لئے ان چیزوں کی اجازت ہے مگر اس کے ساتھ غفور رحیم کے لفظ سے اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ یہ حالت اجازت بھی خطرہ سے خالی نہیں مگر وہ تم کو معاف کر دے گا۔
1 ؎ خمص یا خمیص پیر کے تلوے کے گڑھے کو کہتے ہیں بھوک میں پیٹ میں گڑھا پڑجاتا ہے اس لئے بھوک کو مخمصہ کہتے ہیں۔
Ayah 5:4ترکیب : وما بمعنی الذی والتقدیر صید۔ ما علمتم من الجوارح حال ہے ہائے محذوفہ یا ما سے جوارح جمع جارحۃ ای الکواسب یعنی شکار کرنے والے جانور جیسا کہ کتا اور باز مکلبین بالتخفیف والتشدید حال ہے ضمیر علمتم سے۔ تعلمونہن جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے اور ضمیر مکلبین سے حال بھی ہوسکتا ہے۔ طعام الذین مبتدا احل لکم خبر وطعامکم مبتداء حل لہم خبر والمحصنت معطوف ہے الطیبات پر اذا آتیتموھن ظرف ہے حل کا محصنین حال ہے ضمیر مرفوع آتیتموھن سے۔ غیر صفت ہے محصنین کی ولامتخذی اس پر معطوف ہے۔
تفسیر : شکاری کتوں کے شکار کا ذکر : یہ بھی پہلی آیت کا تتمہ ہے۔ ایام جاہلیت میں عرب کی قومیں باوجود یکہ بعض چیزوں کو پاک اور ستھری سمجھتی تھیں مگر اپنے واہی شبہات سے ان کا کھانا حرام جانتے تھے (حالانکہ شریعت نے جن چیزوں کو حرام کیا ہے وہ یا تو ناپاک اور گندی ہیں یا ان میں بت پرستی کی وجہ سے عارضی ناپاکی آگئی ہے) جیسا کہ بحیرہ اور سائبہ سو اس لئے وہ پیغمبر ﷺ سے سوال کرتے تھے ان کے جواب میں فرمایا کہ سب پاک اور ستھری چیزیں تمہارے لئے حلال ہیں۔ اس میں افراط ہے نہ تفریط۔ وماعلمتم یعنی کھانے پینے کی نہ صرف یہی پاک چیزیں تمہارے لئے حلال ہیں بلکہ تمہارے تعلیم کئے ہوئے شکاری کتوں کے وہ شکار بھی تمہارے حلال ہیں کہ جو وہ تمہارے لئے پکڑتے ہیں۔ اس آیت سے تمام امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس کتے کو شکار کرنا سکھایا جاوے اور امتحان ہوجاوے کہ وہ ہمارے کہنے سے منہ شکار پر ڈالتا اور منع کرنے سے رک جاتا ہے۔ (تعلمونہن مما علمکم اللّٰہ سے اسی طرف اشارہ ہے) اور خود نہیں کھاتا۔ بشرطیکہ اس کو بسم اللہ کہہ کے چھوڑا ہو جیسا کہ واذکروا اسم اللّٰہ علیہ سے مستفاد ہے اس کا کھانا بغیر ذبح کئے بھی درست ہے۔ گویا یہ اس کا پکڑ کر اس کا پھاڑنا ذبح کرنا ہے۔ اس میں بعض نے اس کے پھاڑنے کی بھی قید لگائی ہے۔ بعض کہتے ہیں اس کی کچھ قید نہیں۔ اس قدر تو قرآن مجید کی عبارت سے صاف طور سے معلوم ہوتا ہے۔ اب آیندہ اس آیت کے الفاظ پر بحث کرکے علماء نے اپنے اجتہاد اور اخبار سے اختلاف کیا ہے۔ (1) من الجوارح اس کو جمہور نے جرح واجترح بمعنی اکتسب سے لیا ہے اور اس کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے والذین اجترحوا السیئات ای اکتسبوا وقال یعلم ما جرحتم بالنہار ای کسبتم یعنی کمانے والے جانور اس میں کتے کی کوئی خصوصیت نہیں بلکہ چیتا اور باز اور صقرہ بجز نجس العین جانوروں کے جو قابل تعلیم ہیں سب شامل ہیں اور ان کے شکار میں زخم کرنے کی بھی کوئی قید نہیں مگر بعض علماء نے جرح کو زخم کے معنی میں لے کر یہ بات ثابت کی ہے کہ اس شکار میں ان کے پکڑنے سے زخم ہو کر خون بھی نکلنا چاہیے اور جو خون نہ نکلے گا تو اس کو بغیر ذبح کے کھانا درست نہیں ہوگا۔ (2) مکلبین جمع مکلب کی ہے اور مکلب اس شخص کو کہتے ہیں جو شکاری جانوروں کو شکار کرنا سکھاوے اور چونکہ کتا سب میں زیادہ اس صنعت کو قبول کرتا ہے اس لئے اس کو کلب سے لیا گیا اور مراد عام ہے جس میں اور جانور بھی شامل ہیں اور نیز عرب میں ہر ایک درندہ پر لفظ کلب کا اطلاق ہوتا تھا۔ خواہ مجازاً خواہ حقیقۃً اور ضحاک اور سدی اور ابو جعفر نے لفظ کلب جس کے معنی کتا ہیں خیال کرکے اس کو کتے کے شکار میں مخصوص کیا ہے اور دیگر جانوروں کے شکار کو بغیر ذبح کے نا درست قرار دیا ہے۔ عبداللہ بن عمر ؓ کی بھی یہی رائے تھی اور پھر کتوں میں سے کالے کتے کے شکار کو حسن اور قتادہ اور نخعی اور ابن راہویہ نے مستثنیٰ کیا ہے کہ اس کو حضرت پیغمبر ﷺ نے بلفظ شیطان تعبیر کیا ہے اس کا شکار بھی درست نہیں مگر جمہور نے عام رکھا ہے اور ان ہی کے دلائل قوی ہیں۔ (3) جمہور کے نزدیک بقید لفظ مما امسکن علیکم اور حدیث عدی بن حاتم ؓ سے کہ جس کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے یہ بات ثابت ہے کہ جو شکاری کتا شکار کو پکڑ کر آپ کھانے لگا اس کا شکار بغیر ذبح کے درست نہیں کیونکہ قرآن اور حدیث میں یہ لفظ ہے کہ جو تمہارے لئے پکڑے مگر اب اس نے اپنے لئے پکڑا اور نیز اول صورت میں تو وہ بمنزلہ ایک آلہ یا حربہ کے تھا اور جب اس نے اپنے لئے ایک فعل خلاف منشائِ شکاری کیا تو وہ ایک مستقل ہوگیا۔ پھر کتے کے مارے کو بغیر ذبح کے کیونکر کھایا جاوے۔ اول صورت میں وہ کتا بمنزلہ چھری کے تھا مگر بعض علماء جیسا کہ عطا بن ابی رباح اور اوزاعی ؓ اور سلمان فارسی ؓ اور سعد بن ابی وقاص ؓ یہ کہتے ہیں کہ امسکن علیکم کے منافی نہیں کہ کچھ شدت گرسنگی میں اس نے بھی کھالیا ہو۔ اس لئے شکار بھی درست ہے۔ اس صورت میں بھی کتے کا شکاری کے لئے شکار مارنا پایا جاتا ہے اور اس کی سند میں وہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ جس کو ابو دائود نے ابی ثعلبہ ؓ سے اور نسائی نے عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے جب تم کتے کو بسم اللہ پڑھ کر چھوڑو تو شکار کو کھالو گو وہ بھی اس میں سے کھالے۔
شان نزول : اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ عدی بن حاتم ؓ بڑے شکاری تھے۔ انہوں نے انحضرت ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا تھا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور نیز احادیث میں اکثر ان ہی کے سوال کے مطابق شکار کے مسائل ذکر فرمائے گئے ہیں۔ تیر سے بسم اللہ پڑھ کر شکار مارنا یا کسی اور دھار دار چیز سے اسی پر قیاس کیا گیا ہے اور اس بارے میں احادیث صحیحہ بھی وارد ہیں جیسا کہ عدی بن حاتم کی وہ حدیث جو صحیحین میں ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں تیر سے بھی شکار کیا کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا اگر دھار سے مرے اور زخم ہو تو کھا اور جو اس کے عرض یعنی بغیر دھار کے دوسری طرف سے لگ کر اس کے صدمہ سے مرے تو نہ کھائو کیونکہ وہ موقوذہ قیذ ہے واذکروا اسم اللّٰہ علیہ جمہور مفسرین کے نزدیک اللہ کا نام اس پر لینے سے کتا چھوڑتے وقت بسم اللہ کہنا مراد ہے اور حدیث عدی جو صحیحین میں ہے اسی کی مؤید ہے۔ ان ارسلت کلبک وسمیت فاخذفکل مگر بعض علماء نے اس سے کھانے کے وقت بسم اللہ کہنا مراد لیا ہے۔ علامہ قرطبی اس کو ان احادیث سے کھانے کے وقت جو بسم اللہ کہنے کے بارے میں آئی ہیں۔ ترجیح دیتے ہیں مگر یہ وہم ہے کیونکہ کھانے کے وقت بسم اللہ کہنا اور حکم ہے اور تیر چلاتے یا شکاری کتا چھوڑتے وقت بسم اللہ کہنا جداگانہ حکم مؤکد ہے۔ احل لکم الطیبات کا اعادہ گویا طعام اہل الکتاب حل لکم کے لئے نہ صرف تمہید بلکہ اس بات کا اعلان بھی ہے کہ اہل کتاب کا ہر کھانا تمہارے لئے حلال نہیں بلکہ صرف طیبات کہ جن میں شرعی یا عرفی کوئی ناپاکی یا بدمزگی نہ ہو۔
Ayah 5:5طعام اہل کتاب کی بحث : طعام اہل کتاب میں جمہور مفسرین کے تین قول ہیں (1) ان کے ذبائح (2) ان کے ہاں کی روٹی اور میوے وغیرہ۔ وہ چیزیں جن میں ذبح کی حاجت نہیں پڑتی اور یہ قول بعض آئمہ زیدیہ سے منقول ہے (3) عموماً ذبح و دیگر مطعومات طیبہ اول قول قوی ہے بقرینہ مقام۔
اہل کتاب سے جمہور کے نزدیک یہود و نصاریٰ مراد ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ خاص بنی اسرائیل اور مجوس جمہور کے نزدیک اہل کتاب نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے مقام ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے۔ اب ہم کو اس بات کا بتلانا ضرور ہے کہ اس آیت میں جو طعام اہل کتاب کو حلال قرار دیا ہے اس سے ان کا ہر قسم کا کھانا مراد نہیں کہ جس میں گلا گھونٹی مرغی بھی شامل ہو۔ چند وجوہ سے : اول احل لکم الطیبات یہ جملہ سب سے اول اعلان کر رہا ہے کہ جن چیزوں کو شرع نے نجس یا رجس قرار دیا ہے وہ مسلمانوں کو کسی حالت میں بجز اضطرار کے درست نہیں کیونکہ ان میں قبح ذاتی ہے جو کسی وقت دور نہیں ہوتا یہ عقل میں نہیں آسکتا کہ جس چیز کو ناپاک قرار دے کر مسلمان کے لئے حرام کرے وہ ناپاک چیز اہل کتاب کے ہاتھ میں جا کر پاک ہوجاوے۔ مسلمانوں کے دسترخوان پر سور ‘ شراب ‘ منخنقہ حرام اور ناپاک ہو۔ اہل کتاب کے دستر خوان پر رکھنے سے پاک ہوجاوے اور شراب اور سور اور منخنقہ وغیرہ چیزوں کو خدا تعالیٰ ناپاک اور ان کے کھانے کو اس سے پہلی آیت میں فسق فرما چکا ہے۔ دوم سلف سے خلف تک کسی مسلمان نے طعام اہل کتاب کو عام مراد نہیں رکھا ہے کہ اس میں سور اور شراب بھی شامل ہوں۔ پھر جب یہ نہیں نو منخنقہ جو منصوصاً حرام ہے اس میں کیونکر شامل ہوسکتا ہے۔ سوم آیت مذکورہ سے جس نے ذبائح مراد لئے ہیں اس کے نزدیک تو منخنقہ ذبائح میں داخل نہیں اور نیز ذبائح بھی حضرت علی اور ابن عمر اور عائشہ صدیقہ و دیگر کبار صحابہ ؓ کے نزدیک وہ حلال ہیں جو اللہ کا نام لے کر ذبح کئے گئے ہوں نہ وہ کہ جو مسیح اور عزیر کے نام سے بقرینہ آیت ولا تاکلوا ممالم یذکر اسم اللّٰہ علیہ اور یہی صحیح اور احوط ہے اور جن سے عام مراد لیا ہے تو عام سے ہر قسم کے طعام مراد نہیں بلکہ ذبائح اور دیگر خوردنی چیزیں جو ناپاک اور حرام نہیں۔ چہارم یہود کے نزدیک قدیم سے اب تک ذبح کرنے کا دستور ہے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کے حواری شریعت موسویہ کی پابندی کیا کرتے تھے۔ کسی روایت سے ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے سور یا شراب یا گلا گھونٹی مرغی کا استعمال کیا ہو۔ ہاں رومیوں اور دیگر اقوام جو پولوس کے تراشیدہ مذہب میں آئی تھیں۔ ان کے ہاں ان کا دستور ہو تو ہو مگر آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام ؓ نے برائے نام عیسائیوں کے ذبیحہ کو بھی درست نہیں جانا ہے چہ جائیکہ ان کے ہاں کی وہ ناپاک اور نجس چیزیں جن میں گلا گھونٹی مرغی بھی شامل ہے۔ حضرت علی ؓ اور دیگر صحابہ عرب کی قوموں سے بنی تغلب اور تنوخ اور جذام اور لخم اور عاملہ وغیرہ ہا قبائل عرب متنصرہ کے ہاتھ کا ذبیحہ کھانے کی اجازت نہ دیتے تھے۔ صرف اس لئے کہ یہ لوگ برائے نام عیسائی ہیں۔ پھر آج کل کے ملاحدہ یورپ تو ہرگز عیسائی شمار نہ ہوں گے۔ فقیر کے نزدیک ان لوگوں کے ساتھ طیبات کا ٹکر کھانا بھی خالی از فتنہ و فساد نہیں وطعامکم حل لہم گرچہ یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے کھانے کو حلال سمجھتے تھے اور سمجھتے ہیں مگر پھر حل لہم کہنے سے یہ اشارہ ہے کہ طرفین میں اباحت ذبائح حاصل ہے نہ کہ اباحت مناکحت جس کو اس جملہ میں واضح فرماتا ہے والمحصنت من المؤمنات یعنی مسلمان پارسا عورتیں تمہارے لئے نکاحاً حلال ہیں۔ والمحصنت من الذین اوتوالکتاب من قبلکم یعنی اہل کتاب کی پارسا عورتوں سے بھی نکاح کرنا حلال ہے۔ جمہور کا اس پر اتفاق ہے مگر ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب عورتوں سے جب نکاح درست ہے جبکہ وہ مسلمان ہوجاویں۔ جمہور کے نزدیک بغیر مسلمان ہوئے نکاح درست ہے کیونکہ عورت زیردست ہے۔ امید ہے اس کی صحبت سے اسلام میں آجاوے۔ برخلاف مرد کافر کے خواہ اہل کتاب ہو خواہ کوئی اور ہو مسلمان عورت کا نکاح اس سے درست نہیں۔ جیسا کہ پہلے گذرا۔ اکثر فقہاء کتابیات کو جن سے نکاح درست ہے ذمیات 1 ؎ میں منحصر کرتے ہیں۔ سعید بن المسیب اور حسن کے نزدیک اس کی کچھ قید نہیں۔ مجوس اہل کتاب میں داخل نہیں مگر ابو ثور کے نزدیک داخل ہیں۔ پھر ان سب کے نکاح میں مہر ادا کرنا پارسائی اور ہمیشہ کو ساتھ رکھنے کا قصد ملحوظ ہونا شرط ہے جیسا فرماتا ہے اذا آتیتموھن اجورھن الآیہ۔
1 ؎ یعنی ان اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح درست ہے جو مسلمانوں کی رعیت اور زیر فرمان ہوں اور ان کو ذمی کہتے ہیں کہ ان کے جان و مال کی حفاظت کا اسلام نے ذمہ لے لیا ہے۔ 12 منہ