اہل بدعت گمراہ ہیں
کہتے ہیں کہ یہ آیت یہود و نصاریٰ کے بارے میں اتری ہے۔ یہ لوگ حضور کی نبوت سے پہلے سخت اختلافات میں تھے جن کی خبر یہاں دی جا رہی ہے۔ ایک حدیث میں ہے شیئی تک اس آیت کی تلاوت فرما کر حضور نے فرمایا وہ بھی تجھ سے کوئی میل نہیں رکھتے۔ اس امت کے اہل بدعت شک شبہ والے اور گمراہی والے ہیں۔ اس حدیث کی سند صحیح نہیں۔ یعنی ممکن ہے یہ حضرت ابوہریرہ کا قول ہو۔ ابو امامہ فرماتے ہیں اس سے مراد خارجی ہیں۔ یہ بھی مرفوعاً مروی ہے لیکن صحیح نہیں۔ ایک اور غریب حدیث میں ہے حضور فرماتے ہیں مراد اس سے اہل بدعت ہے۔ اس کا بھی مرفوع ہونا صحیح نہیں۔ بات یہ ہے کہ آیت عام ہے جو بھی اللہ رسول کے دین کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
سورة الْاَنْعَام 141
خطاب نبی ﷺ سے ہے، اور آپ کے واسطہ سے دین حق کے تمام پیرو اس کے مخاطب ہیں۔ ارشاد کا مدعا یہ ہے کہ اصل دین ہمیشہ سے یہی رہا ہے اور اب بھی یہی ہے کہ ایک خدا کو الٰہ اور رب مانا جائے۔ اللہ کی ذات، صفات، اختیارات اور حقوق میں کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ اللہ کے سامنے اپنے آپ کو جواب دہ سمجھتے ہوئے آخرت پر ایمان لایا جائے، اور ان وسیع اصول و کلیات کے مطابق زندگی بسر کی جائے جن کی تعلیم اللہ نے اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعہ سے دی ہے۔ یہی دین تمام انسانوں کو اول یوم پیدائش سے دیا گیا تھا۔ بعد میں جتنے مختلف مذاہب بنے وہ سب کے سب اس طرح بنے کہ مختلف زمانوں کے لیے لوگوں نے اپنے ذہن…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو (جن کے وہ مکلف ہیں) جدا جدا کردیا (یعنی دین حق کو بتمامہ قبول نہ کیا، خواہ سب کو چھوڑ دیا یا بعض کو اور طریقے شرک و کفر و بدعت کے اختیار کر لئے) اور (مختلف) گروہ گروہ بن گئے آپ ﷺ کا ان سے کوئی تعلق نہیں (یعنی آپ ﷺ ان سے بری ہیں، آپ ﷺ پر کوئی الزام نہیں) بس (وہ خود اپنے نیک و بد کے ذمہ دار ہیں، اور) ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے (وہ دیکھ بھال رہے ہیں) پھر (قیامت میں) ان کو ان کا کیا ہوا جتلا دیں گے (اور حجت قائم کرکے استحقاق عذاب ظاہر کردیں گے) جو شخص نیک کام کرے گا اس کو (اقل درجہ) اس کے دس حصے ملیں گے (یعنی ایسا سمجھا جاوے گا کہ گویا وہ نیکی دس بار…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ۔ پیغمبر کو آخری ہدایت : اوپر آیت 153 میں فرمایا تھا کہ وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (اور یہ کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے تو اس کی پیروی کرو اور مختلف پگڈنڈیوں میں نہ بھٹکو کہ خدا کی راہ سے دور جا پڑو، یہ ہے جس کی تمہیں ہدایت فرمائی ہے تاکہ تم خدا کے غضب سے بچو) ہم نے اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ اصل ملت ابراہیم کا بیان ہے جو حضرت ابراہیم کی ذریت کی دونوں شاخوں،…
Read the full tafseer →159۔ 1 اس سے بعض لوگ یہود و نصاریٰ مراد لیتے ہیں جو مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے تھے۔ بعض مشرکین مراد لیتے ہیں کہ کچھ مشرک ملائکہ کی، کچھ ستاروں کی، کچھ مختلف بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ لیکن یہ آیت عام ہے کہ کفار و مشرکین سمیت وہ سب لوگ اس میں داخل ہیں۔ جو اللہ کے دین کو اور رسول اللہ ﷺ کے راستے کو چھوڑ کر دوسرے دین یا دوسرے طریقے کو اختیار کر کے تفرق وتخرب کا راستہ اپناتے ہیں۔ شیعا کے معنی فرقے اور گروہ اور یہ بات ہر اس قوم پر صادق آتی ہے جو دین کے معاملے میں مجتمع تھی لیکن پھر ان کے مختلف افراد نے اپنے کسی بڑے کی رائے کو ہی مستند اور حرف آخر قرار دے کر اپنا راستہ الگ کرلیا، چاہے وہ رائے حق وصواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–163
84: یعنی اس سے مراد قیامت کی آخری نشانی ہے، جس کے بعد ایمان قبول نہیں ہوگا، کیونکہ معتبر ایمان وہی ہے جو دلائل کی بنیاد پر ایمان بالغیب ہو، کسی چیز کو آنکھوں سے مشاہدہ کر کے ایمان لانے سے امتحان کا وہ مقصد پورا نہیں ہوتا جس کے لیے یہ دنیا پیدا کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →آیت ” نمبر 159۔
یہاں آکر رسول اللہ ﷺ کے دین ‘ آپ کی شریعت اور نظام حیات کے بارے میں یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ دنیا میں قائم تمام ادیان ‘ تمام نظام ہائے قانونی کا آپ کے دین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ نہ آپ کا تعلق مشرکین عرب سے ہے جنہیں ادہام جاہلیت ‘ جاہلی اعتقادات اور عادات ورسومات نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے اور وہ باہم جنگ وجدال میں مصروف ہیں ‘ گروہ فرقے اور شاخ در شاخ بٹے ہوئے ہیں نہ آپ کے دین ونظام کا تعلق اہل کتاب اور یہود ونصاری کے ساتھ ہے جن کو مذہبی اختلافات نے تکڑے ٹکڑے کردیا ہے اور ان کے اندر کئی کئی فرقے اور گروہ بن گئے ہیں اور نہ آپ کا تعلق آئندہ آنے والے فرقوں اور مسلکوں سے ہوگا جو…
Read the full tafseer →3 پچھلے رکوع میں ( قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ) 6 ۔ الانعام :151) سے بہت سے احکام بیان فرما کر ارشاد ہوا تھا ( وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ) 6 ۔ الانعام :153) یعنی صراط مستقیم (دین کی سیدھی راہ) ہمیشہ سے ایک رہی ہے۔ اس سے ہٹ کر گمراہی کے راستے بہت ہیں۔ تمام انبیاء ومرسلین اصولی حیثیت سے اسی ایک راہ پر چلے اور لوگوں کو بلاتے رہے (شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهٖٓ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسٰٓى…
Read the full tafseer →آیت 159 اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْءٍ ط۔
یہ وہی وحدت ادیان کا تصور ہے جو سورة البقرۃ کی آیت 213 میں دیا گیا ہے : کَان النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً قف کہ پہلے تمام لوگ ایک ہی دین پر تھے۔ پھر لوگ صراط مستقیم سے منحرف ہوتے گئے اور مختلف گروہوں نے اپنے اپنے راستے الگ کرلیے۔ چناچہ حضور ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ صراط مستقیم کو چھوڑ کر اپنی اپنی خود ساختہ پگڈنڈیوں پر چل رہے ہیں وہ سب ضلالت اور گمراہی میں پڑے ہیں اور آپ ﷺ کا ان گمراہ لوگوں سے کوئی تعلق نہیں۔
Read the full tafseer →182 تفرقہ بازی کی بنیاد حب جاہ ومال ہوتی ہے :۔ فرقہ بازی ایسی لعنت ہے کہ ملت کی وحدت کو پارہ پارہ کر کے رکھ دیتی ہے اور ایسی قوم کی ساکھ اور وقار دنیا کی نظروں سے گر جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرقہ بندی کو عذاب ہی کی ایک قسم بتایا ہے اور دوسرے مقام پر فرقہ بازوں کو مشرکین کے لفظ سے ذکر کیا گیا ہے وجہ یہ ہے کہ کسی بھی مذہبی فرقہ کا آغاز کسی بدعی عقیدہ سے یا عمل سے ہوتا ہے۔ مثلاً کسی نبی یا رسول یا بزرگ اور ولی کو اس کے اصل مقام سے اٹھا کر اللہ تعالیٰ کی صفات میں شریک بنادینا یا کسی کی شان کو بڑھا کر بیان کرنا یا کسی سے بغض وعناد رکھنا وغیرہ۔ یہی وہ غلو فی الدین ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →252 ۔ (کہ وہی خوب سب کو دیکھ بھال رہا ہے) (آیت) ” ان الذین فرقوا دینھم “۔ یعنی دین حق کو بتمامہ قبول نہ کیا کہ خواہ سب کو چھوڑ دیا، خواہ اس کے بعض حصوں کو۔ (آیت) ” دینھم “۔ مراد وہ دین ہے جس کے وہ مکلف تھے۔ اما دینھم فقد قیل الذی امرھم اللہ بہ وجعلہ دینا لھم (جصاص) (آیت) ” وکانوا شیعا “۔ یعنی کفر وشرک یا بدعت کے طریقوں کو اختیار کرکے ٹکڑیوں میں بٹ گئے، اس کا مصداق کون گروہ ہوا ہے ؟ عموما مراد یہود ونصاری سے لی گئی ہے۔ من الیھود والنصاری (ابن جریر، عن قتادۃ) ھؤلاء الیھود والنصاری (ابن جریر، عن السدی) یعنی الیھود والنصاری (ابن جیریر، عن الضحاک) مشرکین بھی مراد لیے گئے ہیں :۔ یرید المشرکین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–163
آیت نمبر 155 تا 165
ترجمہ : اور یہ قرآن ایک بڑی خیر و برکت والی کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے، اے مکہ والو ! جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرکے اس کی اتباع کرو، اور کفر سے بچو تاکہ تم پر رحم کیا جائے اس کو نازل کیا تاکہ تم یہ نہ کہو سکو کہ کتاب تو ہم سے پہلے وہ فرقوں یہود و نصاریٰ پر نازل کی گئی تھی اور ہم ان کو پڑھنے پڑھانے سے ناواقف تھے ہماری زبان میں ان کتابوں کے نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں ان کی معرفت حاصل نہ تھی (اِنْ ) مخففہ ہے اس کا اسم محذوف ہے ای اِنّا، یا یوں نہ کہو کہ اگر ہم پر کوئی کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم اپنی تیزی ذہانت کی وجہ سے زیادہ راہ راست پر ہوتے، سو اب تمہارے پاس رب کی جانب…
Read the full tafseer →ان الذین فرقوا دینہم . بلاشبہ جنہوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا۔
یعنی دین کے بعض حصوں پر ایمان لائے اور بعض کا انکار کردیا یا یہ مطلب کہ مختلف فرقے بن گئے۔ مجاہد ‘ قتادہ اور سدی نے کہا اس سے یہودی اور عیسائی مراد ہیں کچھ لوگ یہودی بن گئے اور کچھ عیسائی حالانکہ دین (سب کا) ایک ہی تھا۔ یہ قول غلط ہے کیونکہ یہودیت کی بناء حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی نبوت و شریعت پر ہے اور نصرانیت کی بناء حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی بعثت پر ہے دونوں کے دینی اصول ایک ہی تھے یعنی حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے دین کے اصول ہی دونوں کے اصول تھے پھر یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی نبوت کا چونکہ انکار کردیا…
Read the full tafseer →(159) جن لوگوں نے اپنے آبائی دین کو چھوڑ دیا یا یوم المیثاق کو جو انہوں نے اقرار کیا تھا اس کو ترک کردیا اور اگر ”فرقوا“ تشدید کے ساتھ پڑھا جائے تو مطلب یہ کہ دین میں اختلاف کیا اور اس کو جدا جدا کردیا اور مختلف فرقے مثلا یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت بن گئے، آپ کا ان کے قتال سے کوئی واسطہ نہیں پھر اس کے بعد ان سے قتال کرنے کا حکم دیا یا یہ کہ آپ کے قبضہ میں مان کی توبہ اور ان کا عذاب نہیں ہے، اللہ تعالیٰ ہی ان کو ان کی نیکی اور برائی جتلا دیاے گا۔
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ۔۔ : یعنی اصل دین شروع سے ایک ہی ہے جس کی بنیاد اللہ کی توحید، یوم آخرت اور انبیاء پر ایمان اور ان کی اطاعت پر ہے۔ دیکھیے سورة مومنون (52، 53) ، سورة یونس (19) ، سورة انعام (153) اور سورة بقرہ (213)۔ اپنے اپنے زمانے کے مطابق احکام میں کچھ فرق ہوسکتا ہے مگر اصل سب کا ایک اسلام ہی ہے۔ نبی آخر الزماں ﷺ کی آمد پر اللہ تعالیٰ نے قیامت تک ہر شخص کے لیے آپ پر ایمان لانا اور آپ کے طریقے پر چلنا لازم قرار دے دیا۔ اب جو شخص بھی اپنا کوئی جدا راستہ اختیار کر کے الگ گروہ بنائے، خواہ وہ دہریہ ہو یا مشرک یا یہودی یا نصرانی، اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دے رہے ہیں کہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 159
قولہ تعالیٰ : آیت : ان الذین فرقوا دینھم اسے حمزہ اور کسائی نے فارقوا الف کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کی قراءت ہے، یہ المفارقۃ اور الفراق سے ماخوذ ہے۔ یہ اس معنی پر ہے کہ انہوں نے اپنا دین چھوڑ دیا اور اس سے نکل گئے۔ اور حضرت علی ؓ فرماتے ہیں : واللہ ما فرقوہ ولکن فارقوہ ( قسم بخدا ! انہوں نے دین میں تفرقہ نہیں ڈالا بلکہ انہوں نے دین کو چھوڑ دیا ) ۔ اور باقیوں نے اسے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے، سوائے نخعی کے، کیونکہ انہوں نے اسے فرقو مخفف پڑھا ہے، یعنی وہ بعض احکام کے ساتھ ایمان لائے اور بعض کے ساتھ انہوں نے کفر کیا۔ حضرت مجاہد، قتادہ، سدی اور ضحاک رحمۃ…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہود و نصاری کے درمیان محمد ﷺ کی بعثت سے پہلے اختلاف ہوا اور متفرق ہوگئے جب محمد ﷺ بھیجے گئے تو آپ پر یہ آیت نازل کی گئی۔ لفظ آیت ان الذین فرقوا دینھم الایہ
(2) امام نحاس نے ناسخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ان الذین فرقوا دینھم سے یہود و نصاری مراد ہیں جنہوں نے اسلام کو اور اس دین کو چھوڑا جس کا وہ حکم کئے گئے تھے اور فرمایا لفظ آیت وکانوا شیعا اور وہ مختلف فرقے اور گروہ بن گئے۔ لفظ آیت لست منھم فی شیء (اور آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں) مکہ میں نازل ہوئی پھر اس کو لفظ آیت قاتلوا الذین لا یومنون باللہ نے منسوخ کردیا۔
(3) امام ابو…
Read the full tafseer →اِنَّ [ بیشک ] الَّذِيْنَ [ جن لوگوں نے ] فَرَّقُوْا [ الگ الگ کیا ] دِيْنَهُمْ [ اپنے دین کو ] وَكَانُوْا [ اور وہ ہوئے ] شِيَعًا [ فرقے ] لَّسْتَ [ آپ (کو سروکار) نہیں ہے ] مِنْهُمْ [ ان سے ] فِيْ شَيْءٍ ۭ [ کسی چیز میں ] اِنَّمَآ [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] اَمْرُهُمْ [ ان کا کام ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ کی طرف ہے ] ثُمَّ [ پھر ] يُنَبِّئُهُمْ [ وہ جتادے گا ان کو ] بِمَا [ اسے جو ] كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ [ وہ لوگ کرتے تھے ]
Read the full tafseer →دین میں تفریق کرنے والوں سے آپ بری ہیں
انسان میں سب سے بڑی بیماری تو یہ ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کو نہ مانے یا مانے لیکن اس کے ساتھ شرک کرے اور اس نے جو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذریعہ اپنا دین بھیجا اس کی تکذیب کرے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اور اس کے دین کو جھٹلائے۔ اور دوسری گمراہی یہ ہے کہ وہ اللہ کو بھی مانے اس کے بھیجے ہوئے دین کو ماننے کا دعویدار بھی ہو لیکن اللہ کے دین میں اپنی طرف سے ایسی باتیں داخل کر دے جو اللہ تعالیٰ کے دین میں نہیں ہیں۔ شیطان کی یہ بہت بڑی چالاکی ہے۔ بہت سے وہ لوگ جو یوں کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے دین کو قبول کیا جو اس نے اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–165
خاتمۂ سورت مشتمل بر ترہیب از تفریق دین قویم وترغیب بر اتباع صراط مستقیم
قال اللہ تعالیٰ ان الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا۔۔۔ الی۔۔۔ وانہ لغفور رحیم
(ربط) گذشتہ آیت میں دین حق سے اعراض اور روگردانی پر توبیخ اور تہدید تھی اب ان آیات میں صراط مستقیم اور ملۃ ابراہیم کے اتباع کی ترغیب اور دین حق میں تفریق اور اختلاف سے ترہیب ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ صراط مستقیم دین ابراہیم ہے اور اس سے اختلاف اور انحراف گمراہی ہے نیز ان آیات میں آں حضرت ﷺ کو تسلی اور تشفی دی جاتی ہے کہ جن لوگوں نے اپنے دین میں اختلاف کیا اور مختلف گروہ بن گئے کوئی عیسیٰ بن مریم کو خدا کہنے لگا اور کوئی بت پرستی میں لگ گیا اور کوئی…
Read the full tafseer →182 تخویف اخروی ہے اور اس سے مراد مشرکین کی جماعتیں میں جنہوں نے توحید کو چھوڑ کر مشرکانہ عقائد کی بنیادوں پر مختلف فرقے بنا لیے۔ جو شخص اس سے فقہاء اسلام اور ائمہ دی کا باہمی فروعی اختلاف مراد لیتا ہے وہ قرآن میں صریح تحریف کا مرتکب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
ربط آیات
پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین اور ان کی شرکیہ رسوم کا پورے طریقے پر رد کیا اور پھر صراط مستقیم پرچلنے کی ہدایت فرمائی اور اس کا اتباع کرنے کی ہدایت فرمائی۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات کا تذکرہ کرنے کے بعد حضور ﷺ اور قرآن پاک کا ذکر کیا اور صراط مستقیم پر ایمان نہ لانے والوں کا شکوہ کیا کہ یہ لوگ جس چیز کا انتظار کر رہے ہیں۔ کیا یہ موت کا انتظار کر رہے ہیں یا قیامت کی نشانیوں کے ظہور کے منتظر ہیں۔ فرمایا کہ ایسی نشانیاں ظاہر ہونے پر تو ایمان بھی قبول نہیں ہوگا کیونکہ اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہوچکا ہوگا۔ گذشتہ آیات میں زیادہ شرک کی تردید تھی اب آج کی آیات میں فرقہ پرستی کی مذمت…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَہُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْہُمْ فِيْ شَيْءٍ 0 ۭ اِنَّمَآ اَمْرُہُمْ اِلَى اللہِ ثُمَّ يُنَبِّئُہُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ 159
تَّفْرِيقُ ( فرقان)
أصله للتّكثير، ويقال ذلک في تشتیت الشّمل والکلمة . نحو :
يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ [ البقرة/ 102] ، رَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرائِيلَ
[ طه/ 94] ، وقوله : لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ [ البقرة/ 285] ، وقوله : لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ [ البقرة/ 136] ، إنما جاز أن يجعل التّفریق منسوبا إلى (أحد) من حيث إنّ لفظ (أحد) يفيد في النّفي، وقال : إِنَّ الَّذِينَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
1 ؎ یعنی قیامت کے آثار کبریٰ ۔ 12 منہ
2 ؎ یعنی ایمان کی حالت میں۔ 12 منہ
ترکیب : یوم کا عامل لا ینفع ہے نفسا مفعول ایمانہا فاعل لم تکنٍ الخ او کسبت الخ دونوں جملہ صفت ہیں نفسا کی۔ خیرا کسبت کا مفعول لست منہم خبر ان الذین دینا بدل ہے صراط سے جو معنی منصوب ہے۔
تفسیر : جب معجزات و آیات بینات سے مخالفوں کی ہر طرح کی تسلی کی گئی ٗ توحید کے مضامین نئے نئے عنوان سے بیان ہوئے ‘ عالم آخرت اور وہاں کی جزاء و سزا کا نقشہ کھینچ دیا گیا مگر اس پر بھی کفار کا نہ ماننا اور اسی قدیم لکیر کا فقیر بنا رہنا حد درجہ کی سیاہ دلی ہے جس کی نسبت آخر کو یہی فرمانا پڑا کہ کیا اب تم اسی بات کے منتظر ہو کہ تمہارے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–164
ارشاد ہوتا ہے :
اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَھُمْ وَ کَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْھُمْ فِیْ شَیْئٍ ط اِنَّمَا اَمْرُھُمْ اِلَی اللہِ ثُمَّ یُنَبِّئُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ ۔ مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَا ج وَمَنْ جَآئَ بِالسَّیِّئَۃِ فَلَا یُجْزٰٓی اِلَّا مِثْلَھَا وَھُمْ لَا یُظلَمُوْنَ ۔ قُلْ اِنَّنِیْ ھَدٰنِیْ رَبِّیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ 5 ج دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا ج وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ لَا شَرِیْکَ لَہٗ ج وَبِذٰلِکَ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : انسان کی گمراہی کے اسباب میں ایک کا سبب دین میں اختلاف کرنا ہے۔ باہمی اختلاف کی صورت میں لوگ ٹھوس دلائل کے باوجود انکار کی روش پر قائم رہتے ہیں۔
سورۃ آل عمران میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی دین حق ہے۔ جس کے بنیادی اصول ہمیشہ سے ایک رہے ہیں۔ وہ توحید و رسالت کے بارے میں ہوں یا حلال و حرام اور اخلاق و معاملات کے متعلق۔ لہٰذا جو دین کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں اور اس کو لوگوں کی نظروں میں مختلف فیہ بناتے ہیں۔ اے نبی ﷺ ! آپ کا ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی آپ کے ماننے والوں کا ایسے لوگوں کے ساتھ تعلق ہونا چاہیے۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے وہ…
Read the full tafseer →فرقہ بندی میں صحیح راہ :
آیت 159: اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ دین میں اختلاف ڈالا اور فرقے بن گئے جیسے یہود و نصاریٰ مختلف ہوئے۔ حدیث میں ہے کہ یہود اکہتر فرقوں میں بٹ گئے۔ تمام جہنمی ہیں سوائے ایک کے جو نجات پانے والا ہے۔ اور نصاریٰ بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے ایک کے سواء تمام جہنمی ہیں۔ میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی۔ تمام جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے اور وہ سواد اعظم ہے ایک روایت میں ہے کہ وہ وہ ہے جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ (ابن ماجہ ٗ ابودائود ٗ ابن حبان۔ احمد)
کہا جاتا ہے۔ انہوں نے تفرقہ ڈالا اپنے دین میں بعض باتوں پر ایمان لائے اور بعض کا انکار کیا۔
قراءت : حمزہ ٗ علی…
Read the full tafseer →تفسیر 159 (ان الذین فرقوا دینھم) حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” فارقوا “ الف کے ساتھ یہاں اور سورة روم میں پڑھا ہے۔ یعنی اپنے دین سے نکل گئے اور اس کو چھوڑ دیا اور باقی حضرات نے ” فرقوا “ شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی اللہ کا دین ایک ہے یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کا دین حنیف ان لوگوں نے اس کے مختلف دین بنا کر یہودی اور نصرانی بن گئے۔ اس مطلب پر آیت کا یہ حصہ دلالت کررہا ہے (وکانوا شیعاً ) یعنی مختلف فرقے یہود و نصاریٰ وغریہ ہوگئے۔
وکانوا شیعاً سے کون سے فرقے مراد ہیں
یہ مجاہد، قتادہ اور سدی رحمہما اللہ کا قول ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے اس امت کے بدعتی اور شبہ میں پڑنے والے لوگ مراد ہیں۔ حضرت عمر…
Read the full tafseer →بعضے مفسروں نے گروہ درگروہ یہود نصارا اور مشرکین کو ٹھہرایا ہے اور آیت کو درگذر کی آیتوں میں شمار کر کے جہاد کی آیت سے منسوخ کہا ہے لیکن اوپر صحیح حدیث سے ثابت ہوچکا ہے کہ اس امت کے اہل قبلہ میں سے بھی تہتر 73 گروہ ہیں اس لئے صحیح مذہب یہی ہے کہ آیت عام ہے اور آیت جہاد سے منسوخ نہیں ہے کیونکہ اہل قبلہ سے جہاد نہیں ہے پھر انہیں آیت کے معنے میں جہاد کے حکم کا انتظار ہی نہیں تو وہ آیت آیات درگذر میں شمار ہو کر آیت جہاد سے منسوخ کیونکر ہوسکتی ہے علاوہ اس کے اوپر بیان ہوچکا ہے کہ آیت جہاد سے کوئی درگذر کی آیت منسوخ نہیں ہے عبادت الٰہی کے طریقہ کو دین کہتے ہیں حرام حلال کے احکام ہر ایک نبی کے عہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–164
آیت 159
(1) صحیح بخاری، کتاب الرفاق، باب، حدیث :65/6
اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو عید سناتا ہے جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے فرقوں میں بٹ گئے اور ہر ایک نے اپنا ایک نام رکھ لیا جو انسان کے لئے اس کے دین میں کوئی کام نہیں آتا جیسے یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت وغیرہ یا اس سے انسان کے ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی، جیسے وہ شریعت میں سے کسی ایک چیز کو اخذ کر کے اس کو دین بنا لے اور اس جیسییا اس سے کسی افضل چیز کو چھوڑ دے جیسا کہ اہل بدعت اور ان گمراہ فرقوں کا حال ہے جنہوں نے امت سے الگ راستہ اختیار کرلیا ہے۔
آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ دین اجتماعیت اور اکٹھے رہنے کا…
Read the full tafseer →فرقہ پرستی
قول باری ہے ( ان الذین فرقوا دینھم و کالو شیعا۔ جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ درگروہ بن گئے) مجاہد کا قول ہے کہ اس سے یہود مراد ہیں اس لیے کہ یہی لوگ مسلمانوں کے خلاف بت پرستوں کی مدد کرتے تھے۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں اس لیے کہ نصاریٰ ایک دوسرے کی تکفیر کرتے تھے۔ یہود کا بھی یہ حال تھا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول ہے کہ اس سے امت مسلمہ کے گمراہ لوگ مراد ہیں اس طرح آیت میں مسلمانوں کو اہل اسلام کا اتحاد پارہ پارہ ہونے سے ڈرایا گیا ہے۔ اور انہیں دین کے نام پر اکٹھے ہوجانے اور یگانگت قائم کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اس سے تمام مشرکین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–161
338 آپس میں مختلف گروہ بننے سے مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اپنے دین کو اور وہ مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔ یعنی دین کے اصول و مبادی میں اختلاف کر کے۔ پس حضرات صحابہ اور ائمہ کرام کا اختلاف اس میں داخل نہیں کہ وہ اختلاف اصولی اور بنیادی نہیں بلکہ فروعی ہے۔ اور اس تفرقہ و اختلاف میں یہود و نصاریٰ اور اسلام کے نام لیوا و دعویدار وہ سب فرقے داخل و شامل ہیں۔ جو اہل حق سے بنیادی اختلافات رکھتے ہیں۔ جیسے خوارج و روافض وغیرہ اہل بدعت ۔ کما اختارہ الحافظ ابن کثیر فی تفسیرہ وغیرہ من کبار العلماء و المفسرین ۔ (ابن کثیر، قرطبی اور معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف اس بارے پیغمبر کو ہدایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–165
فرقہ بندی کا نقصان، خالص توحید، انسان کی نیابت
تشریح : یہ سورة الانعام کی آخری آیات ہیں اور ان میں بیشمار مسائل کا حل بتایا گیا ہے۔ مسلمانوں میں کئی فرقے بن چکے ہیں۔ فرقہ بندی کسی بھی قوم کو کمزور کرنے کا بہت بڑا سبب ہے اس لیے قومی ترقی، کامیابی اور مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ فرقہ پرستی اور گروہ بندی سے بچا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کو مسلمانوں کی گروہ بندی سے فکر ہوتی تھی تو رب العلمین نے ان سے کہا کہ آپ اس بات کی ہرگز فکر نہ کریں کیونکہ آپ کا کام تھا تعلیم دینا وہ آپ نے دیدی اب اس پر عمل کرنا نہ کرنا یا اس کو بگاڑ دینا یہ سب ہر شخص کا ذاتی عمل ہے جو بھی غلط کام یا شریعت سے ہٹ کر کام کرے گا وہ عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–165
رکوع نمبر 20 ۔ آیات 156 تا 166 ۔
اسرار و معارف :
اور اب یہ کتاب ہے یعنی قرآن حکیم جسے ہم نے بہت برکت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یعنی کتب سابقہ کا دور ختم ہوا پہلی کتابوں کا انکار نہ کیا جائے گا کہ وہ بھی اللہ کی نازل کردہ تھیں مگر ان پر عمل کا زمانہ بیت چکا اب ساری برکات قرآن کا اتباع کرنے سے ہی نصیب ہوسکتی ہیں اور اللہ کی عظمت کا احساس کرو تاکہ اللہ تم پر رحم فرمائے اور تمہاری کوتاہیوں اور کمزوریوں کو معاف فرمائے کہیں یہ نہ کہنا کہ اللہ کی کتابیں تو صرف یہود و نصاری پہ ہی نازل ہوئی تھیں جنہیں ہم سمجھنے سے قاصر تھے ان کا پڑھنا پڑھانا ہمارے بس میں ہی نہ تھا زبان اور تھی یا اصل کتب نہ رہیں اور…
Read the full tafseer →ف 3 مراد یہود و نصاری ہیں جنہوں نے گمراہی میں مبتلا ہو کر اپنے دین میں فر قہ بندیاں قائم کرلیں یا تفریق دین کے یہ معنی ہیں کہ کتاب کے بعض حصوں پر ایمان لائے او بعض کے ساتھ کفر کیا اور خود مسلمانوں میں سے پیدا کر کے اس میں تفرقہ پیدا کر رہے ہیں، کذا المودی عن عائشتہ ؓ (ابن کثیر)4 یعنی آپ ﷺ ان سے بری ہیں اور ان کا آپ ﷺ سے کوئی تعلق نہیں (کذافی الکبیر)5 اور پھر ان کو ان کے لیے سزادے گا یہ وعید ہے۔ (کبیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
6:159) فرقوا۔ فرق یفرق تفرق (تفعیل) انہوں نے ٹکڑے کر دئیے۔ یعنی انہوں نے مذہب کے کئی فرقے بنا دئیے۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ وکانوا شیعا۔ اور ہوگئے کئی گروہ۔ اور گروہوں میں بٹ گئے۔ شیعا۔ جمع ہے شیعۃ کی۔ اصل میں شیاع کے معنی انتشار اور تقویت کے ہیں۔ اس کا اطلاق واحد تثنیہ جمع مذکر اور مؤنث سب پر ہوتا ہے۔
لست منھم فی شئی۔ تو کسی امر میں بھی ان میں سے نہیں ہے۔ یعنی آپ کا ان سے کوئی سروکار نہیں ہے آپ کا ان سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ ینبئہم۔ نبا ینبی تنبئۃ (تفعیل) وہ بتادے گا۔ وہ خبردار کر دے گا۔ مضارع جمع مذکر غائب ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
لغات القرآن : آیت نمبر 159 تا 160 :
فرقوا (جنہوں نے فرقے بنادیئے) امرھم ( ان کا معاملہ) عشرامثال (دس کے برابر)
تشریح : آیت نمبر 159 تا 160 :
” دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردینا “ تفرقہ اس کا نام ہے۔ تفرقہ اور اختلاف میں فرق ہے۔ تفرقہ بنیادی ایمانی عقیدوں اور اصولوں میں الگ راستہ نکال دینا اور اختلاف کے معنی ہیں علمی اور فقہی تفصیلات اور جزئیات میں اجتہاد کرنا۔ اجتہاد میں غلطی ہو سکتی ہے ۔ اگر غلطی اور اختلاف کا دروازہ بند کردیا جائے تو عقل کی ترقی کا راستہ بھی بند ہوجاتا ہے۔ مگر اجتہاد وہی کرسکتا ہے جس کے پاس قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ خلوص ہو ‘ علم ہو ‘ عقل ہو ‘ بصیرت ہو اور اعمال صالحہ ہوں۔
جس تفرقہ کی…
Read the full tafseer →اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان مختلف فرقوں میں جن کا ذکر آیت میں ہے جو ایسے لوگ ہیں کہ عبادت الٰہی مین دوسروں کو شریک کرتے ہیں، بغیر توبہ اور شرک سے باز آنے کے ان کی مغفرت کی کوئی صورت نہیں۔ ہاں جو لوگ شرک سے کم درجہ کے گناہ کر کے بغیر توب کے مرجائیں گے انکی مغفرت کی امید ہے۔
Read the full tafseer →[63] مطلب یہ ہے کہ دین ہمیشہ سے ہی یہ رہا ہے کہ اللہ کی ذات وصفات میں کسی کو شریک نہ کیا جائے اور یوم آخرت پر ایمان لایا جائے اور جو ہدایات اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے بھیجیں ان پر عمل کیا جائے۔ لیکن بعد میں لوگوں نے دین میں نئی نئی باتیں ملائیں۔ اس طرح بیشمار مذاہب اور فرقے بنتے چلے گئے۔ افسوس آج کل کے مسلمان بھی اس آیت کا مصداق بنے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →فرقہ بندی منظور نہیں !:
(ف 3) انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کا مقصد یہ ہے کہ وہ آئیں اور خدا کے مقدس نام پر سب کو جمع کر جائیں اس لئے طبعا انہیں گروہوں اور جماعتوں میں تقسیم ہوجانا پسند نہیں ، وہ یہ چاہتے ہیں کہ تمام لوگ توحید کے مضبوط رشتہ کو عملا تھام لیں ، سب ایک ہوجائیں ، ان کی ذاتی مصلحتیں اور ذاتی مفاد فنا ہوجائیں تمام کائنات انسانی ایک وحدت ایک نظام اور ایک رنگ میں نظر آئے سب خدا کے پرستار ہوں ، سب کا مقصد اللہ کے دین کی پیروی اور فرمانبرداری ہو ، کوئی اختلاف اور کوئی امتیاز باقی نہ رہے ، اس آیت کا یہی مقصد ہے کہ حضور ﷺ کو فرقہ بندوں سے کچھ تعلق نہیں ، حضور ﷺ نسل انسانی کو ایک مرکز…
Read the full tafseer →159 بلاشبہ جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے جدا جدا کردیا اور مختلف گروہ بن گئے۔ آپ کا ان سے کوئی تعلق اور آپ کو ان سے کوئی سروکار نہیں ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے پھر جو کچھ وہ کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ ہی ان کو بتادے گا اور جتلا دے گا۔ یعنی جن لوگوں نے اس دین کو جوان کو دیا گیا تھا پوری طرح قبول نہ کیا اور پورے دین پر عمل نہیں کیا یا اس دین میں شرک و بدعت کی آمیزش کردی اور اس طرح اپنے دین کو ٹکڑے کردیا اور مختلف پارٹیوں میں اور گروہوں میں تقسیم ہوگئے تو ایسے لوگوں سے آپ کا کوئی واسطہ نہیں ان کا معاملہ خدا کے سپرد ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کاموں کی حقیقت سے آگاہ فرمادے گا…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی دین حق کو بتمامہ قبول نہ کیا خواہ سب کو چھوڑ دیا یا بعض کو اور طریقے شرک وکفر و بدعت کے اختیار کرلیے۔
4۔ درمنثور میں ابن عباس سے ان گروہوں سے یہود و نصاری مراد ہونا اور ابوہریرہ سے مرفوعا اہل بدعات ہونا اور خاندان میں حسن سے جمیع مشرکین اس اعتبار سے کہ بعض بت پرست ہیں بعض ستارہ پرست ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مراد ہونامنقول ہے چونکہ لفظ فرقو سب کو شامل ہوسکتا ہے اس لیے عام مراد لیناانسب ہے۔ البتہ مراتب وعید کے معفاوت ہوں گے یعنی کفار کو عذاب مخلد ہوگا اور مبتدعین کو بوجہ وجود ایمان کے بعد سزائے عقائد فاسدہ کے نجات ہوگی۔
Read the full tafseer →دین میں تفرقہ ڈالنے والوں سے بیزاری کا اعلان اور ان سب سے الگ تھلگ رہنے کا حکم :
252: وہ کہتا ہے کہ خدا کے ٹھہرائے ہوئے دین کی حقیقت تو یہ تھی کہ وہ نوع انسانی پر خدا پرستی اور نیک عمل کی راہ کھولتا تھا یعنی اللہ کے اس قانون کا اعلان کرتا تھا کہ دنیا کہ ہرچیز کی طرح انسانی افکارو اعمال کے بھی خواص و نتائج ہیں۔ اچھے فکر و عمل کا بدلہ اچھا ہے ، برے فکر وعمل کا بدلہ برا ہے لیکن لوگوں نے یہ حقیقت فراموش کردی اور دین و مذہب کو نسلوں ، قوموں ، ملکوں اور طرح طرح کی رسموں اور رواجوں کا ایک جتھا بنا دیا نتیجہ یہ نکلا کہ اب انسان کی نجات وسعادت کی راہ یہ نہیں سمجھی جاتی کہ کسی کا اعتقاد اور عمل کیا…
Read the full tafseer →Commentary
As pointed out earlier, a major portion of Surah Al-An'am is devoted to addressing the disbelievers of Makkah and answering questions asked by them. They were told that the straight path to Allah was following the Qur'an and the Holy Prophet ﷺ . Before him, during the time of past prophets, salvation depended on following their books and code of laws. The same thing is true today. Today, salvation lies in following nothing but the Shari` ah brought by him. So, they were asked to become reasonable, take the straight path and avoid exchanging it with paths of error right and left. If…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
141. This is addressed to the Prophet (peace be on him) and through him to all followers of the true faith. The import of this statement is that true faith has always consisted, and still consists, in recognizing the One True God as one's God and Lord; in associating none with God in His divinity - neither in respect of His essence, nor of His attributes, nor of His claims upon His creatures; in believing in the Hereafter and hence considering oneself answerable before God; and in living according to those principles and values which have been communicated by God to mankind through His…
Read the full tafseer →