قیامت اور بےبسی
اللہ تعالیٰ کافروں کو اور پیغمبروں کے مخالفوں کو اور اپنی آیات کے جھٹلانے والوں کو اور اپنی راہ سے روکنے والوں کو ڈرا رہا ہے کہ کیا انہیں قیامت کا انتظار ہے ؟ جبکہ فرشتے بھی آئیں گے اور خود اللہ قہار بھی۔ وہ بھی وقت ہوگا جب ایمان بھی بےسود اور توبہ بھی بیکار، بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ سورج مغرب سے نہ نکلے جب یہ نشان ظاہر ہوجائے گا تو زمین پر جتنے لوگ ہوں گے سب ایمان لائیں گے لیکن اس وقت کا ایمان محض بےسود ہے۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی اور حدیث ہے جب قیامت کی تین نشانیاں ظاہر ہوجائیں تو بےایمان کو ایمان لانا، خیر سے…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 139
یعنی آثار قیامت، یا عذاب، یا کوئی اور ایسی نشانی جو حقیقت کی بالکل پردہ کشائی کردینے والی ہو اور جس کے ظاہر ہوجانے کے بعد امتحان و آزمائش کا کوئی سوال باقی نہ رہے۔
سورة الْاَنْعَام 140
یعنی ایسی نشانیوں کو دیکھ لینے کے بعد اگر کوئی کافر اپنے کفر سے توبہ کر کے ایمان لے آئے تو اس کا ایمان لانا بےمعنی ہے، اور اگر کوئی نافرمان مومن اپنی نافرمانی کی روش چھوڑ کر اطاعت کیش بن جائے تو اس کی اطاعت بھی بےمعنی، اس لیے کہ ایمان اور اطاعت کی قدر تو اسی وقت تک ہے جب تک حقیقت پردے میں ہے، مہلت کی رسی دراز نظر آرہی ہے، اور دنیا اپنی ساری متاع غرور کے ساتھ یہ دھوکا دینے کے لیے موجود ہے کہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
یہ لوگ (جو کہ بعد نزول کتاب و سنت و بینات و وضوحِ حق کے بھی ایمان نہیں لاتے اپنے ایمان لانے کے لئے) صرف اس امر کے منتظر (معلوم ہوتے) ہیں (یعنی ایسا توقف کر رہے ہیں جیسے کوئی انتظار کر رہا ہو) کہ ان کے پاس فرشتے آویں یا ان کے پاس آپ ﷺ کا رب آوے (جیسا قیامت میں حساب کے وقت واقع ہوگا) یا آپ ﷺ کے رب کی کوئی بڑی نشانی (منجملہ قیامت کی نشانیوں کے) آوے (مراد اس بڑی نشانی سے آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا ہے، مطلب یہ ہوا کہ کیا ایمان لانے میں قیامت کے وقوع یا قرب کا انتظار ہے سو اس کے متعلق سن رکھیں کہ) جس روز آپ ﷺ کے رب کی (یہ) بڑی نشانی (مذکور) آپہنچے گی (اس روز) کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے…
Read the full tafseer →هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ رَبُّكَ اَوْ يَاْتِيَ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ ۭ يَوْمَ يَاْتِيْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِيْٓ اِيْمَانِهَا خَيْرًا ۭ قُلِ انْتَظِرُوْٓا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ۔
یعنی ان کے تمام عذرات ختم ہوگئے اور ہر پہلو سے ان پر حجت قائم کردی گئی لیکن یہ دلیلوں اور حجتوں سے قائل ہونے والے اسامی نہیں۔ یہ تو منتظر ہیں کہ ان پر فرشتے اتریں، یا خدا خود ان کے لیے نمودار ہو۔ یہ نہیں تو عذاب الٰہی کی نشانیوں میں سے کوئی فیصلہ کن نشانی ظاہر ہو۔ بقرہ 210 اور انعام 111…
Read the full tafseer →158۔ 1 قرآن مجید کے نزول اور حضرت محمد کی رسالت کے ذریعے سے ہم نے حجت قائم کردی ہے۔ اب بھی اگر یہ اپنی گمراہی سے باز نہ آئے تو کیا اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یعنی ان کی روحیں قبض کرنے کے لئے اس وقت یہ ایمان لائیں گے، یا آپ کا رب ان کے پاس آئے۔ یعنی قیامت برپا ہوجائے اور اللہ کے ربرو پیش کئے جائیں۔ اس وقت یہ ایمان لائیں گے ؟ یا آپ کے رب کی کوئی بڑی نشانی آئے، جیسے قیامت کے قریب سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہوگا، تو اس قسم کی بڑی نشانی دیکھ کر یہ ایمان لائیں گے۔ اگلے جملے میں وضاحت کی جارہی ہے کہ اگر یہ اس انتظار میں ہیں تو بہت ہی نادانی کا مظاہر کر رہے ہیں۔ کیونکہ بڑی نشانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–163
84: یعنی اس سے مراد قیامت کی آخری نشانی ہے، جس کے بعد ایمان قبول نہیں ہوگا، کیونکہ معتبر ایمان وہی ہے جو دلائل کی بنیاد پر ایمان بالغیب ہو، کسی چیز کو آنکھوں سے مشاہدہ کر کے ایمان لانے سے امتحان کا وہ مقصد پورا نہیں ہوتا جس کے لیے یہ دنیا پیدا کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →آیت ” نمبر 158۔
یہ ایک دو ٹوک اور واضح تہدید ہے ‘ کیونکہ یہ اللہ کی ناقابل تبدیل سنت ہے کہ جب کوئی معجزہ آتا ہے اور لوگ پھر بھی تکذیب کرتے ہیں تو انہیں ہلاک کردیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جن خوارق عادت واقعات کا مطالبہ کرتے ہیں اگر ان میں سے کوئی واقعہ لایا جاتا تو ان کا فیصلہ کب کا ہوچکا ہوتا کیونکہ جب اس قسم کا کوئی معجزہ آتا ہے تو مدت عمل اور مہلت ختم ہوجاتی ہے اور پھر ایمان وعمل مفید نہیں ہوتے ۔ جو لوگ پہلے سے مومن اور اسلامی نظام پر عمل پیرا نہ تھے ان کے لئے پھر کوئی وقت نہیں ہوتا ۔ قرآن کریم میں ایمان کے ساتھ عمل کا ذکر ہمیشہ کیا جاتا ہے کیونکہ اسلامی پیمانے کے مطابق…
Read the full tafseer →2 یعنی اللہ کی طرف سے ہدایت کی جو حد تھی وہ پوری ہوچکی، انبیاء تشریف لائے، شریعتیں اتریں کتابیں آئیں حتیٰ کہ اللہ کی آخری کتاب بھی آچکی، تب بھی نہیں مانتے تو شاید اب اس کے منتظر ہیں کہ اللہ آپ آئے یا فرشتے آئیں یا قدرت کا کوئی بڑا نشان (مثلاً قیامت کی کوئی بڑی علامت) ظاہر ہو تو یاد رہے کہ قیامت کے نشانوں میں سے ایک نشان وہ بھی ہے جس کے ظاہر ہونے کے بعد نہ کافر کا ایمان لانا معتبر ہوگا نہ عاصی کی توبہ۔ صحیحین کی احادیث بتلاتی ہیں کہ یہ نشان آفتاب کا مغرب سے طلوع کرنا ہے۔ یعنی جب خدا کا ارادہ ہوگا کہ دنیا کو ختم کرے اور عالم کا موجودہ نظام درہم برہم کردیا جائے تو موجودہ قوانین طبیعیہ کے خلاف…
Read the full tafseer →آیت 158 ہَلْ یَنْظُرُوْنَ الاّآ اَنْ تَاْتِیَہُمُ الْمَلآءِکَۃُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّکَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ ط
دراصل یہ ان واقعات یا علامات کا ذکر ہے جن کا ظہور قیامت کے دن ہونا ہے۔ جیسے سورة الفجر میں فرمایا : وَجَآءَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِایْٓءَ یَوْمَءِذٍم بِجَہَنَّمَلا یَوْمَءِذٍ یَّتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰی لَہُ الذِّکْرٰی قصۂ زمین برسر زمین کے مصداق روز محشر فیصلہ یہیں اسی زمین پر ہوگا۔ یہیں پر اللہ کا نزول ہوگا ‘ یہیں پر فرشتے پرے باندھے کھڑے ہوں گے اور یہیں پر سارا حساب کتاب ہوگا۔ چناچہ اس حوالے سے فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں…
Read the full tafseer →181 فرشتہ آئے یا پروردگار، عام انسان ان کے دیدار تک کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ایسی صورتوں میں اس پر فوراً موت واقع ہوجائے گی اور موت کے وقت کا ایمان قبول نہیں ہوتا اور اگر انسان کوئی ایسا حسی معجزہ دیکھ لے جو اسے ایمان لانے پر مجبور بنا دے تو ایسا جبری ایمان بھی قابل قبول نہیں کیونکہ ایسی صورتوں میں ایمان بالغیب رہتا ہی نہیں اور فائدہ ایمان بالغیب کا ہے۔ موجود اور آنکھوں دیکھی چیز پر تو سب ہی یقین رکھتے ہیں۔ جب حقیقت سے پردہ اٹھ گیا تو پھر ایمان کے کیا معنی ؟ لہذا یقینی چیز یا کوئی یقینی علامت دیکھنے کے بعد اس پر ایمان لانے کا کچھ فائدہ نہیں جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے :
1۔ سورج کا…
Read the full tafseer →249 ۔ منکرین کی نفسیات کا بیان ہورہا ہے۔ (آیت) ” ھل ینظرون “۔ ھل یہاں ما کے معنی میں ہے۔ ای ما ینظرون (بیضاوی) ھل استفھام معناہ النفی (کبیر) فقرہ بہ طور تعریض کے ہے۔ یعنی یہ لوگ جو اتنے وضوح حق کے بعد بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے، اور ایمان لانے کی کوئی فکر واہتمام نہیں کرتے تو ان کی بےفکری سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے یہ قیامت کے انتظار میں ہے۔ (آیت) ” ان تاتیھم الملیکۃ فرشتوں کے ورود کے انتظار میں ہیں۔ جیسا کہ وہ موت کے وقت اور قیامت کے دن ہوگا۔ (آیت) ” یاتی ربک “۔ پروردگار کا ان کا آمنا سامنا ہوجائے۔ جیسا کہ قیامت میں حساب کے وقت واقع ہوگا۔ مشرکانہ اور جاہلی عقیدہ کے مطابق یہ بھی کہا جاسکتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–163
آیت نمبر 155 تا 165
ترجمہ : اور یہ قرآن ایک بڑی خیر و برکت والی کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے، اے مکہ والو ! جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرکے اس کی اتباع کرو، اور کفر سے بچو تاکہ تم پر رحم کیا جائے اس کو نازل کیا تاکہ تم یہ نہ کہو سکو کہ کتاب تو ہم سے پہلے وہ فرقوں یہود و نصاریٰ پر نازل کی گئی تھی اور ہم ان کو پڑھنے پڑھانے سے ناواقف تھے ہماری زبان میں ان کتابوں کے نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں ان کی معرفت حاصل نہ تھی (اِنْ ) مخففہ ہے اس کا اسم محذوف ہے ای اِنّا، یا یوں نہ کہو کہ اگر ہم پر کوئی کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم اپنی تیزی ذہانت کی وجہ سے زیادہ راہ راست پر ہوتے، سو اب تمہارے پاس رب کی جانب…
Read the full tafseer →ہل ینظرون الا ان تاتیہم الملئکۃ او یاتی ربک او یاتی بعض ایت ربک . یہ لوگ صرف اس امر کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں یا آپ کا رب آجائے یا آپ کے رب کی کوئی بڑی نشانی آجائے۔ ہل ینظرون : میں استفہام انکاری ہے یعنی اہل مکہ قرآن پر ایمان لانے کے لئے بس اس بات کے منتظر ہیں کہ الخ۔۔ الملائکہ : سے موت کے یا عذاب کے فرشتے مراد ہیں یا وہ ملائکہ مراد ہیں جو روبرو آکر رسول اللہ کی صداقت اور قرآن مجید کی حقانیت کی شہادت دیں۔ خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ جس چیز کی اہل مکہ آرزو مند تھے وہ آگئی لیکن وہ ایمان نہ لائے تو شاید ایمان لانے کے لئے وہ ملائکہ کے آنے کے منتظر ہیں حالانکہ فرشتوں کے آنے کے بعد کوئی ایمان…
Read the full tafseer →(158) کیا مکہ والے اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرنے کے لیے فرشتے آئیں یا قیامت کے دن ان کا پروردگار ان کے پاس آئے یا مغرب سے سورج طلوع ہوجائے ،
جب مغرب سے آفتاب طلوع کیا جائے گا تو تب مہلت عمل ختم ہوجائے گی اس وقت کسی شخص کا ایمان اس کے کام نہ آئے گا جو اس نشانی کے ظاہر ہونے سے پہلے ایمان نہ رکھتا ہوگا یا اس نشانی کے ظہور سے پہلے اس نے اپنے ایمان میں ابھی تک کوئی نیکی کا کام نہیں کیا ہوگا کیوں کہ جو شخص اس نشانی کو دیکھ کر ایمان لائے گا تو اسکا ایمان اور توبہ اور کوئی عمل بھی قبول نہیں ہوگا ماسوا اس کے کہ وہ اس وقت چھوٹا ہو یا یہ کہ پیدا ہوا ہو اور پھر مرتد ہوجائے…
Read the full tafseer →هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ : کفار پر اسلام کے حق ہونے کے دلائل تو پوری طرح واضح ہوچکے تھے، مگر وہ صرف لاجواب کرنے کے لیے ایسی چیزیں دکھانے کا مطالبہ کرتے رہتے تھے جن کا دنیا میں ہوتے ہوئے دکھایا جانا ممکن ہی نہیں، کیونکہ ان کے آنے کے بعد اپنے اختیار سے غیب پر ایمان کا موقع ہی باقی نہیں رہتا، نہ ان کے آنے کے بعد کسی کی مجال ہے کہ وہ ایمان نہ لائے، مگر اس وقت ایمان لانے کا کچھ فائدہ نہیں۔ ان مطالبات کا قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ذکر کیا گیا ہے، جیسا کہ سورة بنی اسرائیل (90 تا 93) میں اکٹھے نو مطالبات پیش کیے گئے ہیں، جن میں نہایت گستاخانہ مطالبہ خود اللہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 158
قولہ تعالیٰ : آیت : ھل ینظرون اس کا معنی ہے میں نے ان پر حجت قائم کردی اور ان پر کتاب نازل کی لیکن وہ ایمان نہ لائے، پس وہ کس کی انتظار کر رہے ہیں ؟ آیت : ھل ینظرون الا ان تاتیھم الملٰئکۃ کس کی انتظار کر رہے ہیں بجز اس کے کہ موت کے وقت ان کی اروا اح کو قبض کرنے کے لیے فرشتے ان کے پاس آئیں۔
اویاتی ربک حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ضحاک (رح) نے کہا : اس کا مفہوم ہے : امر ربک یا ان کے بارے میں قتل وغیرہ سے متعلقہ تیرے رب کا حکم آجائے، کبھی مضاف الیہ کو ذکر کیا جاتا ہے اور اس سے مراد مضاف ہوتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : آیت : وسئل القریۃ ( یوسف : 82) مراد اھل القریۃ ہے۔
اور…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ھل ینظرون الا ان تاتیھم الملئکۃ سے مراد ہے موت کے وقت لفظ آیت اویاتی ربک یا قیامت کے دن خود ان کا رب آئے۔
(2) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ھل ینظرون الا ان تاتیھم الملئکۃ یعنی موت کے ساتھ اس کے پاس فرشتے آئیں لفظ آیت اویاتی ربک یا قیامت کے دن آپ کا رب خود آئے۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت اویاتی ربک یعنی قیامت کے دن بادلوں کے سائے میں (رب تعالیٰ تشریف لائیں گے )
(4) امام احمد، عبد بن حمید نے مسند میں ترمذی، ابو یعلی، ابن ابی حاتم، ابو…
Read the full tafseer →هَلْ [ کیا ] يَنْظُرُوْنَ [ انتظار کرتے ہیں یہ لوگ ] اِلَّآ اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] تَاْتِيَهُمُ [ آئیں ان کے پاس ] الْمَلٰۗىِٕكَةُ [ فرشتے ] اَوْ يَاْتِيَ [ یا آئے ] رَبُّكَ [ آپ کے رب ] اَوْ يَاْتِيَ [ یا آئیں ] بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ ۭ [ آپ کے رب کی نشانیوں سے کوئی ] يَوْمَ [ جس دن ] يَاْتِيْ [ آئے گی ] بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ [ آپ کے رب کی نشانیوں سے کوئی ] لَا يَنْفَعُ [ تو فائدہ نہیں دے گا ] نَفْسًا [ کسی ایسی جان کو ] اِيْمَانُهَا [ اس کا ایمان ] لَمْ تَكُنْ [ جو نہیں تھی کہ ] اٰمَنَتْ [ ایمان لاتی ] ممِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے ] اَوْ كَسَبَتْ [ یا کماتی ] فِيْٓ اِيْمَانِهَا [ اپنے ایمان…
Read the full tafseer →جب مغرب سے سورج طلوع ہوگا تو کسی کا ایمان اور توبہ قبول نہ ہونگے
پہلی آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ تمہارے پاس جو واضح حجت آچکی ہے قرآن نازل ہوچکا ہے جو ہدایت ہے اور رحمت ہے، اور اس آیت میں یہ فرمایا کہ محض واضح ہونے کے بعد اور ہدایت سامنے آجانے کے بعد اب کسی انتظار کی ضرورت نہیں حق قبول کرو اور ہدایت پر آؤ۔ اب بھی حق قبول نہیں کرتے تو کیا انتظار ہے (ان کا ڈھنگ ایسا ہے) جیسے اسی انتظار میں ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آجائیں یا اللہ تعالیٰ ہی ان کے پاس پہنچ جائے۔ یا اللہ تعالیٰ کی کسی بڑی نشانی کے انتظار میں ہیں، لیکن جس دن اس کی ایک نشانی ظاہر ہوجائے گی تو کسی کافر کو اس وقت اس کا ایمان لانانفع نہ دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–158
بیان اصول محرمات دربارۂ اقوال وافعال وتلقین مکارم اخلاق و محاسن اعمال
قال اللہ تعالیٰ قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ قل انتظروا انا منتظرون
(ربط) گذشتہ آیات میں جب حق تعالیٰ کافروں کی حرام کردہ چیزوں کو باطل کرچکے اور کھانے اور پینے کے متعلق جو چیزیں من جانب اللہ حرام تھیں ان کا ذکر ہوچکا تو اب ان آیات میں ان حرام چیزوں کو بیان کرتے ہیں جو اقوال اور افعال سے متعلق رہیں ان آیتوں میں بالترتیب دس چیزوں کو ذکر فرمایا جن میں اللہ نے معاش اور معاد کی صدہا حکمتیں رکھی ہیں۔
1 ۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔
2 ۔ ماں باپ کے ساتھ سلوک اور احسان کرو اور ان کے ساتھ برائی نہ کرو
3 ۔…
Read the full tafseer →179 یہ تخویف دنیوی ہے۔ عذاب دنیوی ہے۔ عذاب دنیوی کی یہاں تین صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ یعنی مذکورہ دلائل وبراہین کے باوجود وہ ایمان نہیں لا رہے ہیں۔ کیا وہ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں خہ موت کے فرشتے آپہنچیں اور ان کی جانیں قبض کرلیں تو موت کے بعد ان کی آنکھیں کھل جائیں گی یا یہ کہ ان پر اللہ کا عذاب آجائے یا قیامت کی نشانیوں میں سے کوئی ایسی نشانی دیکھ لیں جو ان کو ایمان لانے پر مجبور کردے۔ مگر ان تینوں صورتوں میں ایمان لانا بےسود ہوگا فرشتوں کے آنے سے قبض ارواح کے لیے یا اللہ کا عذاب لے کر آنا مراد ہے۔ یَاتِیْ رَبُّکَ ای یاتی امر ربک بالعذاب (روح ج 8 ص 62) ۔
180 بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ جس…
Read the full tafseer →شرک ، مشرکین اور شرکیہ رسوم کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے سے متعلق حرام اشیاء کی وضاحت فرمائی پھر مشرکین کی خود ساختہ محرمات از قسم نذر لغیر اللہ کی تردید فرمائی ۔ پھر ملت حنیفی کی ناجائز باتوں کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا۔ پھر تورات کا بیان آیا اور آخر میں قرآن حکیم کا تذکرہ بطور بابرکت کتاب کے کیا۔ نیز اس کا اتباع کرنے کا حکم دیا اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی نصیحت کی تا کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی تمہارے شامل حالہو جائے خداوند تعالیٰ نے اس آخری کتاب کو نازل کر نیکی وجہ بھی بیان فرما دی تا کہ مشرک لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم سے پہلے یہودونصاریٰ کو کتابیں ملیں مگر ہمارے پاس وئی کتاب…
Read the full tafseer →ہَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِـيَہُمُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ اَوْ يَاْتِيَ رَبُّكَ اَوْ يَاْتِيَ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ 0 ۭ يَوْمَ يَاْتِيْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُہَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِيْٓ اِيْمَانِہَا خَيْرًا 0 ۭ قُلِ انْتَظِرُوْٓا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ 158
نظر
النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
1 ؎ یعنی قیامت کے آثار کبریٰ ۔ 12 منہ
2 ؎ یعنی ایمان کی حالت میں۔ 12 منہ
ترکیب : یوم کا عامل لا ینفع ہے نفسا مفعول ایمانہا فاعل لم تکنٍ الخ او کسبت الخ دونوں جملہ صفت ہیں نفسا کی۔ خیرا کسبت کا مفعول لست منہم خبر ان الذین دینا بدل ہے صراط سے جو معنی منصوب ہے۔
تفسیر : جب معجزات و آیات بینات سے مخالفوں کی ہر طرح کی تسلی کی گئی ٗ توحید کے مضامین نئے نئے عنوان سے بیان ہوئے ‘ عالم آخرت اور وہاں کی جزاء و سزا کا نقشہ کھینچ دیا گیا مگر اس پر بھی کفار کا نہ ماننا اور اسی قدیم لکیر کا فقیر بنا رہنا حد درجہ کی سیاہ دلی ہے جس کی نسبت آخر کو یہی فرمانا پڑا کہ کیا اب تم اسی بات کے منتظر ہو کہ تمہارے پاس…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِیَھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّکَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ ط یَوْمَ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُھَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْ اِیْمَانِھَا خَیْرًا ط قُلِ انْتَظِرُوْٓا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ ۔ (الانعام : 158)
(وہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا تیرا رب آئے یا تیرے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ظاہر ہو جس دن تیرے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ظاہر ہوگی تو کسی ایسے نفس کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے اپنے ایمان…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
جو لگ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب یا ان سے انحراف کرتے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ اب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے ملائکہ آئیں جو ان کو اپنے زور سے کتاب اللہ کو ماننے پر مجبور کریں یا پھر اللہ کی طرف سے ایسی نشانی یا عذاب نازل ہو کہ یہ مجبور ہو کر پکار اٹھیں کہ واقعی یہ رسول سچا اور اس پر نازل ہونے والی کتاب برحق ہے۔ یاد رہے اہل مکہ برملا یہ اظہار کیا کرتے تھے۔ اس نبی کی تائید کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے فرشتے نازل کیوں نہیں کرتا یا اب تک ایسا عذاب نازل کیوں نہیں ہوا کہ جس کو دیکھ کر ہم قرآن مجید کی تائید اور نبی کی تصدیق کرنے پر مجبور…
Read the full tafseer →واضح دلائل کے بعد یہ نہیں مانتے گویا قیامت کے منتظر ہیں :
آیت 158: ہَلْ یَنْظُرُوْنَ یعنی ہم نے رسالت کے ثبوت اور وحدانیت کے دلائل قائم کردیئے اور اس گمراہی کو جو ان کے اعتقادات میں گھسی ہوئی تھی باطل کردیا۔ اب وہ گمراہی کے چھوڑنے میں کس چیز کے منتظر ہیں۔ اِلَّآ اَنْ تَاْتِیَہُمُ الْمَلٰٓپکَۃُ یعنی موت کے فرشتے ان کی ارواح کو قبض کرنے کے لئے۔ قراءت : حمزہ اور کوفی نے یاتیہم پڑھا ہے۔ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّکَ یعنی تیرے رب کا حکم اور وہ عذاب یا قیامت ہے اور اس لیے کہ اتیان متشابہ ہے اور اتیان امر تو منصوص علیہ ہے۔ محکم ہے اسی لیے اس کے معنی کو اس کی طرف لوٹایا جائے گا۔ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ ٰایٰتِ…
Read the full tafseer →تفسیر 158 (ھل ینظرون ) یعنی رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے اور قرآن کا انکار کرنے کے بعد وہ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں (الا ان تاتیھم الملئکۃ) تاکہ ان کی روح قبض کریں اور بعض نے کہا عذاب کے ساتھ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” یاتیھم “ یاء کے ساتھ یہاں اور النحل میں پڑھا ہے اور باقی حضرات نے تاء کے ساتھ۔ (اویاتی ربک) بغیر کسی کیفیت کے تاکہ قیامت کے اپنی مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دے (اویاتی بعض ایت ربک) یعنی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔ یہی اکثر مفسرین کی رائے ہے اور اسی کو حضرت ابو سعید خدری ؓ نے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
(یوم یاتی بعض ایت ربک لا ینفع نفساً ایمانھا لم تکن امنت من قبل) یعنی اس نشانی کے…
Read the full tafseer →بعضے مفسروں نے اس انتظار کے وعدہ کی حدیث آیت جہاد کو ٹھہرایا ہے اور آیت جہاد سے اس آیت کو منسوخ کہا ہے لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے اس واسطے کہ آیت کے اوپر کے ٹکڑے میں جن نشانیوں کا مجمل طور پر ذکر ہے اس کی صراحت حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے صحاح ستہ میں آچکی ہے کہ ان نشانیوں سے مراد علامت قیامت میں سے آفتاب کو مغرب کی جانب سے طلوع ہونا ہے اور خود قرآن شریف میں فَہْلْ یَنُظْرُوُنَ اِلَّاالسَّاعَۃَ اَنْ تَاْیِتَہُمْ بَغْتَہً سے اس انتظار کی تفسیر ہوچکی ہے اس وجہ سے صحیح تفسیر یہی ہے کہ اس انتظار سے مراد آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا ہے اور معنے آیت میں گویا آنحضرت ﷺ کی یہ تسکین فرمائی گئی ہے کہ روزمرہ…
Read the full tafseer →آیت 158
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا یہ لوگ جو اپنے ظلم وعناد پر جمے ہوئے ہیں، اس بات کا انتظار کر رہے ہیں (الا ان تاتیھم الملئکۃ) ” کہ ان کے پاس فرشتے آئیں۔ “ یعنی آخرت اور عذاب کے مقدمات کی صورت میں ان کے سامنے فرشتے ان کی روح قبضک رنے کے لئے آحا ضر ہوں۔ کیونکہ جب وہ اس حالت کو پہنچ جائیں گے تو اس وقت ایمان اور اعمال صالحہ ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گے۔ (اویاتی ربک) ” یا خود تمہارا رب آئے۔ “ یعنی تمہارا رب بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے، نیکو کاروں اور بدکاروں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دینے کے لئے آجائے (اویاتی بعض ایت ربک) ” یا تمہارے رب کی کچھ نشانیاں آجائیں “ جو قرب قیامت پر دلالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–158
اتباعِ قرآن حکیم
قول باری ہے ( وھذا کتاب انزلنہ مبارک فاتبعوہ واتقوا، اور اسی طرح یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے۔ ایک برتک والی کتاب ، پس تم اس کی پیروی کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو) یہ کتاب یعنی قرآن مجید کی اس کے مقتضیات یعنی فرض یا نفل یا اباحت کے بموجب اتباع کا حکم ہے، نیز اس میں مندرج ہر چیز کا اس کے مقتضیٰ کے مطابق اعتقاد کا امر ہے۔ برکت خیر یعنی بھلائی کے ثبوت اور اس کے نمو کا نام ہے،۔ فقرہ ” تبارک اللہ “ ثبات کی صفت ہے جس کا نہ کوئی اول ہے نہ آخر۔ اس تعظیم کا استحقاق صرف اللہ وحدہ، لا شریک کو حاصل ہے۔ قول باری ہے ( ان تقولوا انما انزل الکتاب علی طائفتین من قبلنا۔ اب تم یہ نہیں کہہ سکتے…
Read the full tafseer →333 فرشتوں کے آنے سے مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا اب یہ لوگ بس اسی کے منتظر ہیں کہ آپہنچیں ان کے پاس فرشتے۔ یعنی ان کے پاس فرشتے آجائیں ان کی روحیں قبض کرنے اور ان کو ان کے آخری انجام تک پہنچانے کے لئے جبکہ ان کے لئے توبہ کا بھی کوئی موقع نہیں رہے گا اور نہ کسی عذر و معذرت کا سوائے ان کی تذلیل اور تخجیل کے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { وَلَوْ تَرٰی اِذْ یَتَوَفَّی الَّذِیْنَ کَفَرُوا الْمَلَئِکِۃُ یَضْرِبُونَ وَجُوْھَہُمْ وَاَدْبَارَھُمْ } ۔ (الانفال : 50) ۔ یعنی ان لوگوں کے تمام عذرات ختم ہوگئے اور ان پر ہر پہلو سے حجت قائم کردی گئی۔ لیکن یہ لوگ حجتوں اور دلیلوں سے ماننے والے…
Read the full tafseer →اب بہانہ کیسا ؟
تشریح : اس آیت میں ایک حکمت کی بات بتائی گئی ہے کہ جب ان لوگوں کے پاس، یعنی کفارو مشرکین کے پاس قرآن مجید آچکا ہے تو پھر یہ اور کس بات کا انتظار کر رہے ہیں ؟ اس پر ایمان کیوں نہیں لاتے ؟ اللہ رب العزت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ کیا ان کو یقین دلانے کے لیے فرشتے آسمان سے نازل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ خود ان کے سامنے آموجود ہوگا تو ایمان لائیں گے یا پھر اللہ کی طرف سے کوئی خاص نشانیاں ان کے لیے بھیجی جائیں گی ؟ یہ سب کچھ تو صرف ایمان نہ لانے کے بہانے ہیں تو اللہ تعالیٰ غصے کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے پیغمبر ﷺ ! ان کو اچھی طرح سمجھا دیجیے کہ ہماری نشانیاں جب ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–165
رکوع نمبر 20 ۔ آیات 156 تا 166 ۔
اسرار و معارف :
اور اب یہ کتاب ہے یعنی قرآن حکیم جسے ہم نے بہت برکت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یعنی کتب سابقہ کا دور ختم ہوا پہلی کتابوں کا انکار نہ کیا جائے گا کہ وہ بھی اللہ کی نازل کردہ تھیں مگر ان پر عمل کا زمانہ بیت چکا اب ساری برکات قرآن کا اتباع کرنے سے ہی نصیب ہوسکتی ہیں اور اللہ کی عظمت کا احساس کرو تاکہ اللہ تم پر رحم فرمائے اور تمہاری کوتاہیوں اور کمزوریوں کو معاف فرمائے کہیں یہ نہ کہنا کہ اللہ کی کتابیں تو صرف یہود و نصاری پہ ہی نازل ہوئی تھیں جنہیں ہم سمجھنے سے قاصر تھے ان کا پڑھنا پڑھانا ہمارے بس میں ہی نہ تھا زبان اور تھی یا اصل کتب نہ رہیں اور…
Read the full tafseer →یعنی ان تین چیزوں سے کسی ایک کے منتظر ہیں اور ان آیات سے مراد علامات قیامت ہیں اور وہ احادیث میں بکثرت مذکور ہیں مگر دس علامات وہ جو حذیفہ ؓ سے صحت کے ساتھ ثابت ہیں۔ (روح) جامع البیان میں ہے یعنی وہ نشان جو ان کے ایمان لانے پر مجبور کردیں مگر جمہور مفسرین کے نزدیک یہاں بعض آیات سے خاص کر سورج کا مغرب سے طلوع ہونا مراد ہے۔ کذافی المو ضح) حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ اس جملہ کی آنحضرت ﷺ نے یہی تفسیر فرمائی ہے اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے نبی ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہوجاتا اور جب وہ طلوع ہوگا مگر اس وقت ایمان لانا…
Read the full tafseer →(6:158) ینظرون۔ نظر ینظر (نصر) مضارع۔ جمع مذکر غائب۔ وہ انتظار کرتے ہیں ۔ وہ دیکھتے ہیں۔ ہل ینظرون۔ وہ کس کی انتظار کر رہے ہیں الا ان۔ وائے اس کے کہ۔ یہاں استفہام انکاری ہے۔ بمعنی کہ وہ کسی اور بات کا انتظار نہیں کر رہے بجز اس کے کہ۔
الملئکۃ۔ سے مراد امر ربک بالعذاب۔ تیرے رب کا حکم ان کے عذاب کے لئے۔
ایات۔ سے مراد آیات قاہرہ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–158
لغات القرآن : آیت نمبر 154 : 158 :
تماما ( مکمل) طائفتین (طائفۃ) ۔ دو جماعتیں۔ دوفرقے) صدف ( اس نے انکار کیا) انتظروا (تم انتظار کرو) ۔
تشریح : آیت نمبر 154 تا 158 :
فرمان الٰہی کا رخ اہل عرب کفار و مشرکین کی طرف ہے۔ فرمایا کہ
تمہیں جو بہانہ ڈھونڈنے ‘ بھاگنے کا چور دروازہ تلاش کرنے اور کسی نہ کسی طرح چھوٹ نکلنے کی عادت ہے۔ تو ممکن تھا تم یہ بہانہ کرتے۔ کہ توریت اور انجلش تو یہودیوں اور عیسائیوں کے لئے نازل کی گئی تھیں۔ ہمیں کیا خبر وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے۔ ہم تو کلام الٰہی سے بےبہرہ رہے۔ اس لئے ہم بےقصور ہیں۔ تمہیں جو بڑھ بڑھ کے جھوٹے دعوے کرنے کی عادت ہے ‘ بعید نہ تھا تم یہ کہتے ۔ اگر ہم…
Read the full tafseer →اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین کے ایمان لانے اور گنہگاروں کے توبہ کرنے کا انتظار اس وقت تک ہے جب تک آفتاب مغرب سے نہیں نکلا، اور جب مغرب سے نکل آوے گا تو پھر کوئی عمل قبول نہ ہوگا۔ اور یہی حالت اس وقت کی ہے جب موت کے فرشتے نظر آجائیں گے اور اپنی زنگی کی امید نہ ہوگی، اس وقت کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ آنحضرت ﷺ نے فرمای کہ حشر کے میدان میں ہر شخص کو چار باتوں کی جوابدہی کے لئے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑا ہونا پڑے گا۔ (1) ایک تو یہ کہ تمام عمر کس کام میں صرف کی۔ (2) دوسرے یہ کہ جوانی میں کیا کیا۔ (3) تیسرے یہ کہ دنیا میں روپیہ پیسہ کیونکر کمایا اور کہاں کہاں خرچ کیا۔ (4) چوتھے یہ کہ دین کا کچھ علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
[60] یعنی قیامت کے آثار مثلاً آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال کا ظاہر ہونا، عیسیٰ (علیہ السلام) کا آسمان سے اترنا۔
[61] یعنی آثار قیامت ظاہر ہونے کے بعد تو ایمان بالغیب نہ رہے گا بلکہ شہود کے حکم میں داخل ہوجائے گا، تو ایمان اختیاری اب باقی کہاں رہا۔ بلکہ یہ ایمان اضطراری ہوگیا جو حقیقی ایمان نہیں۔
[62] یعنی ایمان گو پہلے سے رکھتا ہو، لیکن اس کی برکت سے ذرا بھی نفع نہ حاصل کیا ہو بلکہ سرتا سر نادانیوں اور خباثتوں میں مبتلا رہا اور توبہ کر کے نیکی کا کوئی عمل شروع کرنا چاہے تو آثار قیامت ظاہر ہوجانے کے بعد توبہ بھی قبول نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →(ف 2) مقصد یہ ہے کہ اس درجہ وضاحت و تفصیل کے بعد بھی جو نہیں مانتے کو کیا فرشتوں کا انتظار ہے کہ آئیں اور ان کی روحوں کو قبض کرلیں یا عذاب الہی کے متوقع ہیں ، یا یہ چاہتے ہیں کہ قیامت آجائے ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ جب قیامت آگئی تو اس وقت کا پچتانا کام نہیں آئے گا ،
(آیت) ” اویاتی ربک “ سے مجازا عذاب الہی مراد ہے ، یعنی خدا اپنی قوتوں کے ساتھ آئے ، جاہ و جلال کا مظاہرہ کرے اور انکو چشم زدن میں غارت کر دے ۔
Read the full tafseer →-158 کیا یہ لوگ صرف اس امر کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا آپ کا پروردگار ان کے پاس کے پروردگار کی۔ ……… یہ بڑی نشانی ظاہر ہوگی اور آجائے گی اس دن کسی ایسے شخص کو جو ظہور نشان سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا ایمان لانا نفع نہیں دے گا اور ان کے حق میں ایمان لانا مفید نہیں ہوگا یا وہ شخص جو ظہور علامت سے پہلے ایمان لے آیا تھا مگر اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو اور باوجود مومن ہونے کے کوئی بھلائی نہ کمائی ہو تو اس کو بھی توبہ کرنا اور توبہ کرکے کوئی بھلا کام کرنا مفید اور نافع نہ ہوگا آپ کہہ دیجئے اچھا تم انتظار کرو اور ہم بھی حالات کا انتظار کررہے ہیں۔ یعنی باوجود دلائل واضحہ کے…
Read the full tafseer →ف 1۔ مطلب یہ ہوا کہ کیا ایمان لانے میں قیامت کے وقوع یاقرب کا انتظار ہے۔
2۔ یہاں تک زیادہ حصہ بیان مشرکین کے باب میں ہے آگے ایک عام عنوان سے دوسرے گمراہوں کا حق سے بعید اور مورد وعید ہونا بیان فرماتے ہیں جس میں سب کفار مشرکین اور اہل کتاب اور اہل ہوا اور بدعات بتفاوت مراتب وعید سب داخل ہوگئے۔
Read the full tafseer →کیا یہ لوگ اللہ ، اس کے فرشتے اور اس کے مزید کسی نشان کے منتظر ہیں ؟ :
250: جہاں تک سمجھانے کا تعلق تھا اے پیغمبر اسلام ! آپ نے ایک ایک حقیقت پوری طرح کھول کر سمجھا دی ، دلائل سے اس کا ثبوت پیش کردیا ، کائنات کے پورے نظام سے اس کی شہادتیں پیش کردیں۔ کسی ذی فہم آدمی کے لئے کفر وشرک اور انکار پر جمے رہنے کی کوئی گنجائش باقی نہ چھوڑی اب یہ لوگ ایک صاف ، سیدھی بات کو مان لینے میں کیوں تامل کر رہے ہیں ؟ ایک بار پھر غور کرو کہ لوگوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے اور گمراہی کے ظلمت کدے سے باہر نکالنے کے لئے اللہ نے اپنا جلیل القدر رسول مبعوث فرمایا اور اس رسول پر قرآن کریم جیسی بےمثال کتاب نازل…
Read the full tafseer →Commentary
The major portion of Surah Al-An` am has been revealed to correct the beliefs and deeds of the people of Makkah and the disbelievers of Arabia and to remove their doubts and to answer questions raised by them.
All through the Surah, specially in the previous verses, the people of Makkah and the rest of Arabia were given to understand that they had seen open signs and miracles at the hands of the Holy Prophet ﷺ . They had heard about the prophesies of past books and prophets about him. Then, they had themselves listened to the recitation of the Qur'an from one totally unlettered…
Read the full tafseer →139. That is, either tokens of the approach of the Day of Reckoning or God's scourge or any other sign that will uncover the Truth, after which there will be no reason left for testing man.
140. Those tokens will be so clear that after their appearance it will neither avail the unbeliever to repent of his unbelief nor the disobedient to forsake his disobedience. For faith and obedience have meaning and value only as long as the Truth remains hidden, as long as the tenure of life granted to people does not seem to have approached its end and the world with all its vanities continues to delude…
Read the full tafseer →