Ayah 6:1آیت نمبر : 1۔
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الحمد اللہ “ اس سورت کا آغاز اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف سے کیا اور اپنی الوہیت کے اثبات سے کیا یعنی سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اگر یہ کہا جائے کہ اس کے علاوہ سورتوں کا آغاز بھی (آیت) ” الحمد للہ “۔ کے ساتھ ہے، ایک پر اکتفا باقی تمام سے مستغنی کردیتا ہے، تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ان میں سے ہر ایک کا اپنی جگہ ایک معنی ہے دوسرا مقام اس کو ادا نہیں کرتا، کیونکہ مختلف نعمتوں کے ساتھ اس کو گرہ لگائی ہے نیز اس میں ان لوگوں کے خلاف حجت ہے جو اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو برابر ٹھہراتے ہیں۔ (آیت) ” الحمد “۔ کا معنی سورة فاتحہ میں گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الذی خلق السموت والا رض اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت علم اور ارادہ کی خبر دی ہے، فرمایا : جس نے پیدا کیا، کبھی خلق بمعنی اختراع ہوتا ہے اور کبھی بمعنی تقدیر ہوتا ہے، یہ مفہوم پہلے گزر چکا ہے یہاں یہ دونوں معنی مراد ہیں یہ آسمانوں اور زمین کے حدوث پر دلیل ہے، اس نے آسمان کو بغیر ستونوں کے بلند کیا اور بغیر کجی کے برابر پیدا فرمایا ان میں چاند اور سورج کو دو نشانیاں بنایا اور انہیں ستاروں کے ساتھ مزین کیا اور ان بادلوں کو ودیعت کیا، زمین کو پھیلایا اور اس میں رزق اور نبات کو ودیعت رکھا اور ان میں ہر جانور کو بطور آیات پھیلایا اس میں پہاڑوں کو کیل کے طور پر اور راستے بنائے اور ان میں نہریں اور دریا جاری فرمائے اور پتھروں سے چشمے جاری فرمائے، یہ سب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلیل ہیں اور اس کی عظیم قدرت کی نشانیاں ہیں اور وہ اللہ واحد اور قہار ہے، آسمانوں اور زمین کی تخلیق کو بیان کر کے یہ ظاہر فرمایا کہ وہ ہر چیز کا خالق ہے۔
مسئلہ نمبر : (3) مسلم نے فرمایا : مجھے شریح بن یونس اور ہارون بن عبداللہ نے بتایا انہوں نے کہا ہمیں حجاج بن محمد نے بتایا انہوں نے کہا ابن جریج نے کہا مجھے اسماعیل بن امیہ نے بتایا انہوں نے ایوب بن خالد سے روایت کیا انہوں نے عبداللہ بن رافع مولی ام سلمۃ سے روایت کیا انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے میرے ہاتھ سے پکڑا اور فرمایا :” اللہ تعالیٰ نے زمین کو ہفتہ کے دن پیدا فرمایا اور اس میں پہاڑ اتوار کے روز پیدا کیے اور درختوں کو سوموار کے دن پیدا کیا اور مکروہ کو منگل کے روز پیدا کیا نور کو بدھ کے روز پیدا کیا اور جمعرات کو زمین میں جانور پھیلائے اور جمعہ کے روز ساری مخلوق سے آخر میں جمعہ کی آخری گھڑی میں عصر کے بعد رات تک کے درمیان حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا “ (1) (صحیح مسلم، صفۃ المنافقین واحکامھم جلد 2، صفحہ 371)
میں کہتا ہوں : علماء نے اس حدیث کو اس سورت کے آغاز کے لیے تفسیر کے طور پر ذکر کیا ہے بیہقی نے کہا : محدثین نے کہا ہے کہ یہ غیر محفوظ ہے، کیونکہ اہل تفسیر اور اہل تاریخ کے نظریہ کے مخالف ہے، بعض علماء نے کہا : اسماعیل بن امیہ نے ابراہیم بن یحییٰ سے انہوں نے ایوب بن خالد سے روایت کی ہے اور ابراہیم سے حجت نہیں پکڑی جاتی، محمد بن یحی نے ذکر کیا ہے فرمایا : میں نے علی بن مدینی سے حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث (اللہ نے زمین کو ہفتہ کے دن پیدا کیا الخ) کے متعلق پوچھا تو علی نے کہا : یہ حدیث مدنی ہے اس کو ہشام بن یوسف نے ابن جریج نے انہوں نے اسماعیل بن امیہ سے انہوں نے ایوب بن خالد سے انہوں نے ابو رافع مولی سلمہ سے انہوں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا۔۔۔۔۔۔ علی نے فرمایا : ابراہیم بن ابی یحی نے میری انگلیوں میں انگلیاں ڈالیں اور انہوں نے مجھے کہا : ایوب بن خالد نے میری انگلیوں میں انگلیاں ڈالیں اور انہوں نے مجھے کہا : عبداللہ بن رافع نے میری انگلیوں میں انگلیاں ڈالیں اور انہوں نے مجھے کہا حضرت ابوہریرہ ؓ نے میری انگلیوں میں انگلیاں ڈالیں اور انہوں نے مجھے کہا : ابوالقاسم ﷺ نے میرے ہاتھ کی انگلیوں میں انگلیاں ڈالیں اور فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے زمین کو ہفتہ کے روز پیدا فرمایا “۔ پھر اسی طرح حدیث ذکر کی۔
علی بن مدینی نے کہا : میرا خیال ہے اساعیل بن امیہ نے یہ امر ابراہیم بن ابی یحی سے حاصل کیا ہے، بیہقی (رح) نے کہا : اس میں موسیٰ بن عبیدہ ربذی نے ابوب بن خالد سے روایت کرنے میں اس کی متابعت کی ہے مگر موسیٰ بن عبیدۃ ضعیف ہے بکر بن شرود سے مروی ہے انہوں نے ابراہیم بن ابی یحییٰ سے انہوں نے صفوان بن سلیم سے انہوں نے ایوب بن خالد سے اس کی سند ضعیف ہے۔۔۔۔۔۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے انہوں نے نبی مکرم ﷺ سے روایت کیا ہے فرمایا : ” جمعہ کے دن میں ایک گھڑی کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے میں اس کی موافقت نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ اسے وہ سوال عطا فرما دیتا ہے “۔ فرمایا حضرت عبداللہ بن سلام نے کہا : اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی تخلیق کا آغاز کیا، اتوار اور سوموار کے روز زمین کو پیدا کیا، منگل کے دن اور بدھ کے دن آسمانوں کو پیدا کیا اور خوراک اور جو کچھ زمین میں ہے اسے جمعرات اور جمعہ کے دن کی عصر تک کے وقت میں پیدا کیا اور عصر کی نماز اور سورج کے غروب ہونے کے وقت کے درمیان حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا اس حدیث کو بیہقی (رح) نے روایت کیا ہے۔ (1) (مسند امام احمد حدیث نمبر 17151)
میں کہتا ہوں : اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہفتہ کے دن نہیں اتوار کے روز مخلوق کو پیدا کیا، اسی طرح سورة بقرہ میں حضرت ابن مسعود ؓ اور دوسرے نبی مکرم ﷺ کے صحابہ سے مروی ہے، یہ اختلاف تفصیلا گزر چکا ہے کہ زمین کو پہلے پیدا فرمایا یا آسمان کو پہلے پیدا فرمایا الحمد للہ۔
مسئلہ نمبر : (4) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وجعل الظلمت والنور “ جواہر کی تخلیق کے ذکر کے بعد اعراض کی تخلیق کا ذکر کیا، کیونکہ جوہر عرض سے مستغنی نہیں ہوتا اور جو حوادث سے مستغنی نہیں ہوتا وہ حادث ہوتا ہے، جوہر متکلمین کی اصلاح میں اس جز کو کہتے ہیں جس کا آگے جز نہیں بنتا جو عرض کا جامع ہوتا ہے، ہم نے یہ بحث اپنی کتاب ” الاسنی فی شرح الاسماء الحسنی “ میں الواحد اسم کے تحت ذکر کی ہے، اور عرض کو عرض اس لیے کہتے ہیں، کیونکہ یہ جوہر اور جسم کو لاحق ہوتا ہے اور وہ اس کی وجہ سے ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہوتا ہے جسم مجتمع ہوتا ہے اور کم از کم جس پر جسم کے اسم کا اطلاق ہوتا ہے جو مجتمع جوہر ہیں یہ اصطلاحات ہیں اگرچہ صدر اول میں موجود نہیں تھیں، ان پر کتاب وسنت کا معنی دلالت کرتا ہے ان کے انکار کی کوئی وجہ نہیں، ان کو علماء نے استعمال کیا ہے ان پر اصطلاح قائم کی ہے اور ان پر اپنے کلام کی بنیاد رکھی ہے اور ان کے ساتھ مخالفین کو نیست ونابود کیا ہے جیسا کہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ علماء کا (آیت) ” الظلمت اور النور “ کے معنی میں اختلاف ہے سدی، قتادہ اور جمہور مفسرین نے کہا : اس سے مراد رات کی تاریکی اور دن کی روشنی ہے، حسن نے کہا : اس سے مراد کفر اور ایمان ہیں، ابن عطیہ نے کہا : یہ ظاہر سے خروج ہے (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 266 دارالکتب العلمیہ)
میں کہتا ہوں : لفظ اس معنی کو بھی شامل ہے قرآن حکیم میں ہے : (آیت) ” اومن کان میتا فاحیینہ وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس کمن مثلہ فی الظلمت “۔ (انعام : 122) کیا وہ جو (پہلے) مردہ تھا پھر زندہ کیا ہم نے اسے اور بنا دیا اس کے لیے نور چلتا ہے جس کیا جالے میں لوگوں کے درمیان وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیروں میں پڑا ہو۔
اس آیت میں ” الارض “ جنس کے لیے ہے لفظ مفرد ہے لیکن مراد جمع ہے اسی طرح ” النور “ ہے اس کی مثال یہ ارشاد : (آیت) ” ثم یخرجکم طفلا “۔ (غافر : 67) شاعر نے کہا :
کلوا فی بعض بطنکم تعفوا “۔
یہ پہلے گزر چکا ہے۔
یہاں جعل بمعنی خلق ہے، اس کے علاوہ کوئی معنی نہیں، یہ ابن عطیہ (رح) کا قول ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 266 دارالکتب العلمیہ)
میں کہتا ہوں اس پر لفظ اور معنی نسق میں متفق ہیں جمع، جمع پر معطوف ہے اور مفرد مفرد پر معطوف ہوتا ہے، پس لفظ ایک جیسے ہوتے ہیں اور فصاحت ظاہر ہوتی ہے، واللہ اعلم۔
بعض علماء نے فرمایا : (آیت) ” الظلمت “ کو جمع اور (آیت) ” النور “ کو مفرد ذکر کیا، کیونکہ ظلمات متعدی نہیں ہوتی ہیں اور نور متعدی ہوتا ہے، ثعلبی نے حکایت کیا ہے کہ بعض اہل معانی نے کہا : یہاں جعل زائدہ ہے اور عرب جعل کو کلام میں زائدہ کرتے ہیں جیسا کہ شاعر نے کہا :
قد جعلت اری الاثنین اربۃ والواحد اثنین لماھدنی الکبر :
نحاس نے کہا : جعل بمعنی خلق ہے جب یہ خلق کے معنی میں ہوتا ہے تو صرف ایک مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے، یہ معنی پہلے گزر چکا ہے اور جعل کے محل پر سورة بقرہ میں تفصیلی بحث گزر چکی ہے۔
مسئلہ نمبر : (5) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ثم الذین کفروا بربھم یعدلون “۔ یہ مبتدا خبر ہیں، معنی یہ ہے پھر کافر لوگ اللہ تعالیٰ کے لیے شریک اور برابر ٹھہراتے ہیں، حالانکہ اس نے تنہا ان چیزوں کو پیدا کیا ہے، ابن عطیہ (رح) نے کہا : ثم کفار کے فعل کی قباحت پر دلالت کر رہا ہے، کیونکہ مطلب یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا ثابت ہے اور اس کی آیات پھیلی ہوئی ہیں اور اس کا انعام ظاہر ہے پھر اس کے بعد بھی وہ اپنے رب کا برابر ٹھہراتے ہیں، یہ اس طرح ہے جیسے تو کہتا ہے : اے فلاں ! میں نے تجھے عطا کیا، میں نے تجھے عزت دی، میں نے تجھ پر احسان کیا، پھر تو مجھے گالی دیتا ہے، اگر اس میں واؤ وغیرہ کے ساتھ عطف ہوتا تو توبیخ اس طرح لازم نہ آتی جس طرح ثم کے ساتھ توبیخ لازم ہوتی ہے۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 266 دارالکتب العلمیہ)
Ayah 6:2آیت نمبر : 2۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ھوالذی خلقکم من طین “۔ یہ آیت خبر ہے، اس کے مفہوم میں دو قول ہیں : ایک وہ ہے جو مشہور ہے اور اکثر علماء کی یہی رائے ہے اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور خلق سے مراد آپ کی نسل ہے اور فرع اور اپنے اصل کی طرف منسوب ہوتی ہے اسی وجہ سے فرمایا (آیت) ” خلقکم “ جمع کی ضمیر ذکر فرمائی آپ کو خطاب فرمایا جب کہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں، یہ حسن، قتادہ، ابن ابی نجیح، سدی، ضحاک، اور ابن زید [ کا قول ہے دوسرا یہ ہے کہ نطفہ (3) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 266 دارالکتب العلمیہ)
کو حقیقت میں اللہ نے مٹی سے پیدا فرمایا، پھر اسے تبدیل کیا حتی کہ اس سے انسان بن گیا، یہ نحاس نے ذکر کیا ہے۔
میں کہتا ہوں : جب اللہ تعالیٰ نے عالم کبیر کا پہلے ذکر فرمایا تو اس کے بعدعالم صغیر کا ذکر فرمایا اور وہ عالم صغیر انسان ہے اس میں وہ سب کچھ رکھا جو عالم کبیر میں ہے جیسا کہ ہم نے آیت توحید کے تحت سورة بقرہ میں بیان کیا ہے ابو نعیم الحافظ نے اپنی کتاب میں مرہ عن ابن مسعود ؓ کے سلسلہ سے روایت کیا ہے کہ وہ فرشتہ جو رحم پر متعین ہوتا ہے وہ نطفہ کو پکڑتا ہے پھر اپنی ہتھیلی پر رکھتا ہے، پھر کہتا ہے : اے رب ! اس کے اعضاء مکمل بنانے ہیں یا نامکمل بنانے ہیں ؟ اگر مکمل بنانے کا ارشاد ہوتا ہے تو فرشتہ عرض کرتا ہے اس کا رزق کیا ہے ؟ اس کا اثر کیا ہے ؟ اس کی عمر کیا ہے ؟ ارشاد ہوتا ہے : ام الکتاب میں دیکھو۔ وہ لوح محفوظ میں دیکھتا ہے تو اس میں وہ اس کا رزق اس کا اثر، اس کی عمر اور کا عمل دیکھتا ہے اور پھر وہ ایسی جگہ کی مٹی پکڑتا ہے جس جگہ اسے دفن ہونا ہے پس اس مٹی کے ساتھ اس نطفہ کو گوندھتا ہے۔ (آیت) ” منھا خلقنکم وفیھا نعیدکم “۔ (طہ : 55) سے یہی مراد ہے، حضرت ابوہریرہ سے تخریج کیا ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” کوئی بچہ نہیں ہوا مگر اس پر اس کی قبر کی مٹی سے چھڑکاؤکیا گیا “ (1) (حلیۃ ولیاء جلد 2، صفحہ 280)
میں کہتا ہوں : اس بنا پر ہر انسان مٹی اور ماء مہین سے پیدا کیا گیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة المومنون میں خبر دی ہے، پس آیات اور احادیث موافق ہوجائیں گی اور تعارض اور اشکال اٹھ جائے گا۔ واللہ اعلم۔
حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے متعلق اخبار سورة بقرہ میں گزر چکی ہیں، یہاں ہم کچھ مزید ان کی صفات عمر اور وفات وغیرہ کے متعلق ذکر کرتے ہیں۔
ابن سعد نے ” الطبقات “ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم (علیہ السلام) مٹی سے ہیں (2) (جامع ترمذی کتاب التفسیر جلد 2، صفحہ 159، ایضا سنن ابی داؤد، باب التفاخر بالاخساب حدیث نمبر 4452، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو ایسی زمین سے پیدا کیا جسے دجناء کہا جاتا ہے “۔ حسن نے کہا : حضرت آدم (علیہ السلام) کا سینہ ضریۃ سے پیدا کیا گیا، جوہری نے کہا : ضریۃ بنی کلاب کا ایک شہر ہے جو بصرہ کے راستہ پر ہے یہ مکہ کے زیادہ قریب ہے، حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو بھیجا تو اس نے زمین کی سطح سے مٹی اور نمکین مٹی سے کچھ اٹھایا اس سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تخلیق کیا گیا پس جو اس کی میٹھی مٹی سے تخلیق کیا گیا وہ جنت کی طرف جانے والا ہے اگرچہ وہ کافر کا بیٹا بھی وہ اور جو اس کی نمکین مٹی سے تخلیق کیا گیا وہ آگ کی طرف جانے والا ہے اگرچہ وہ کسی متقی کا بیٹا بھی ہو، اسی وجہ سے ابلیس نے کہا تھا ؛ کیا میں اسے سجدہ کروں جس کو جس کو تو نے پیدا کیا ؟ کیونکہ وہ مٹی وہی لایا تھا، پھر آپ کا نام آدم رکھا گیا، کیونکہ انہیں ادیم الارض (زمین کی سطح) سے پیدا کیا گیا تھا۔
حضرت عبداللہ بن سلام سے مروی ہے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو جمعہ کے ساتھ کے آخر میں پیدا کیا حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو اس کا سرآسمان کو چھوتا تھا۔۔۔۔۔ فرمایا پھر اسے زمین کی طرف جھکایا حتی کہ وہ ساٹھ ہاتھ لمبے اور سات ہاتھ چوڑے ہوگئے حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو اس کا سر آسمان چھوتا تھا۔۔۔۔۔۔۔ فرمایا۔۔۔۔۔۔ پھر اسے زمین کی طرف جھکایا حتی کہ وہ ساٹھ ہاتھ لمبے اور سات ہاتھ چوڑے ہوگئے، حضرت ابی بن کعب ؓ سے مروی ہے فرمایا : حضرت آدم (علیہ السلام) بہت زیادہ لمبے گھنگھریالے بالوں والے تھے گویا لمبی کھجور ہیں، حضرت ابن عباس سے مروی ہے ان کی حدیث میں طول کا ذکر ہے حضرت آدم (علیہ السلام) نے ہند سے مکہ کی طرف پیدل چالیس حج کیے، حضرت آدم (علیہ السلام) کو جب اتارا گیا تو ان کا سر آسمان کو چھوتا تھا اسی وجہ سے وہ گنجے ہوگئے اور آپ کی اولاد بھی گنجی ہوتی ہے، آپ کے قد کی طوالت کی وجہ سے خشکی کے جانور بھاگ گئے اور اس دن سے وہ وحشی بن گئے، حضرت آدم (علیہ السلام) کا وصال نہ ہوا حتی کہ ان کی اولاد کی اولاد چالیس ہزار ہوگئی، آپ نے اس پہاڑ کی چوٹی پر وصال فرمایا جس پر آپ اترے تھے حضرت شیث (علیہ السلام) نے جبریل (علیہ السلام) سے کہا : حضرت آدم (علیہ السلام) کی نماز جنازہ پڑھاؤ جبریل (علیہ السلام) نے حضرت شیث (علیہ السلام) سے کہا : تم آگے بڑھو اور اپنے باپ کی نماز جنازہ پڑھاؤاور ان پر تیس تکبریں کہو، پانچ تو نماز جنازہ کی ہیں اور پچیس حضرت آدم (علیہ السلام) کی فضیلت کے لیے ہیں، بعض نے کہا : اس پر چار تکبیریں کہیں۔ حضرت شیث (علیہ السلام) کی اولاد نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو ایک غار میں رکھا اور اس پر محافظ مقرر کیے تاکہ قابیل کے بیٹوں میں سے کوئی ان کے قریب نہ آئے، جو لوگ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آتے تھے اور آپ کے لیے استغفار کرتے تھے وہ حضرت شیث (علیہ السلام) کے بیٹے تھے، حضرت آدم (علیہ السلام) کی عمر نو سو چھتیس سال تھی، کہا جاتا ہے : کیا اس آیت میں دلیل ہے کہ جو ہر ایک جنس سے ہیں ؟ اس کا جواب ہے : ہاں کیونکہ جب مٹی زندہ، قادر علیم انسان بن سکتی ہے تو جواہر کا بھی ہر حال کی طرف تبدیل ہونا جائز ہے، کیونکہ حکم میں عقل برابری کا تقاضا کرتی ہے پتھروں کا انسان کی طرف بدلنا جائز اور صحیح ہے اس کی دلیل یہی آیت ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ثم قضی اجلا “۔ اجلا، مفعول ہے (آیت) ” واجل مسمی عندہ “ مبتدا خبر ہے، ضحاک نے کہا : ” اجلا “ سے مراد موت ہے (آیت) ” واجل مسمی عندہ “ سے مراد قیامت کی مدت ہے، اس بنا پر معنی یہ ہوگا کہ اس نے مدت کا فیصلہ فرمایا اور اس نے تمہیں بتایا کہ تم موت نے موت تک ٹھہرنا ہے اور اس نے تمہیں قیامت کی مدت کے بارے آگاہ نہیں کیا، حسن، مجاہد، عکرمہ، خصیف، قتادہ، نے کہا : یہ حسن کے الفاظ ہیں : جس دن اس نے تجھے پیدا کیا اس دن سے دنیا کی مدت کا تیرے مرنے تک کا فیصلہ کیا (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 266 دارالکتب العلمیہ)
(آیت) ” واجل مسمی عندہ “ یعنی آخرت کی مدت اس کے پاس ہے، بعض علماء نے فرمایا (آیت) ” قضی اجلا “۔ یعنی ہمیں بتایا گیا ہے حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے (آیت) ” واجل مسمی “ آخرت کی مدت کا علم اس کے پاس ہے، بعض نے فرمایا (آیت) ” قضی اجلا “ اس سے مراد وہ ہے جو ہم چاند اور کھیتی باڑی کے اوقات جانتے ہیں (آیت) ” واجل مسمی “ سے مراد موت کی مدت ہے انسان نہیں جانتا کہ وہ کب مرے گا، حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد (رح) نے کہا : آیت کا معنی یہ ہے کہ قضی اجلا دنیا کی موت کا فیصلہ فرمایا (آیت) ” واجل مسمی عندہ “ آخرت کی ابتدا کا فیصلہ اس کے پاس ہے (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 266 دارالکتب العلمیہ) بعض علماء نے کہا : پہلی اجل سے مراد نیند میں روحوں کو قبض کرنا ہے اور دوسری اجل سے مراد موت کے وقت روح کا قبض کرنا ہے حضرت ابن عباس سے بھی یہ مروی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” ثم انتم تمترون “۔ یہ مبتدا خبر ہیں، یعنی تم اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے میں شک کرتے ہو بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب یہ ہے تم شک کرنے والوں کے جھگڑا کی طرح جھگڑتے ہو، التماری کا معنی شک کی بنا پر جھگڑنا ہے اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” افتمرونہ علی مایری ” (النجم)
Ayahs 6:3–5آیت نمبر : 2 تا 5۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وھوا للہ فی السموت وفی الارض “۔ اس میں سوال یہ ہے کہ وھوا للہ فی السموت وفی الارض کا عامل کیا ہے، اس کے کئی جوابات ہیں :
(1) اس کا مطلب ہے ھو اللہ المعظم او المعبود فی السموت وفی الارض۔ یعنی آسمانوں اور زمین میں اللہ تعالیٰ ہی بلند شان والا ہے یا معبود ہے جیسے تو کہتا ہے : زید الخلیفۃ فی الشرق والغرب، یعنی شرق وغرب میں اس کا حکم ہے، یہ معنی بھی جائز ہے، کہ یہ خبر کے بعد خبر ہو، معنی یہ ہوگا وھوا للہ فی السموات وھواللہ فی الارض بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے ھو اللہ یعلم سرکم وجھرکم فی السموت وفی الارض فلا یخفی علیہ شیء یعنی اللہ تعالیٰ مسلمانوں اور زمین میں تمہارے اعلانیہ امور اور بھیدوں کو جانتا ہے اس پر کوئی چیزمخفی نہیں ہے۔
نحاس نے کہا : یہ میرے نزدیک عمدہ قول ہے، حمد بن جریر نے کہا : واللہ فی السموات ویعلم سرکم وجھرکم فی الارض پس یعلم دونوں صورتوں میں مقدم ہے، پہلا قول اشکال سے سلام ہے اس کے علاوہ بھی اقوال قاعدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حرکت، انتقال اور امکنہ کے شغل سے پاک ہے۔ (آیت) ” ویعلم ما تکسبون “۔ یعنی خیر وشر میں سے جو تم کماتے ہو، الکسب سے مراد نفع حاصل کرنے یا نقصان کو دور کرنے کے لیے فعل کرنا ہے اسی وجہ سے اللہ کے فل کو کسب نہیں کہا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وما تاتیھم من ایۃ یعنی علامت جیسے چاند کا پھٹنا وغیرہ، من جنس کے استغراق کے لیے ہے تو کہتا ہے : ما فی الدار من احد گھر میں کوئی نہیں ہے۔ (آیت) ’ من ایت ربھم “۔ دوسرا من بعضیۃ ہے (آیت) ” معرضین “۔ کانوا “ کی خبر ہے الاعراض سے مراد ان آیات میں غور وفکر کا ترک کرنا ہے جن کے ذریعے توحید پر استدلال کرنا ان پر واجب تھا جیسے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اس کی تخلیق کی علامت، یہ چیز ثابت کرتی ہے کہ وہ قدیم، حی اور تمام اشیاء سے غنی ہے، قادر ہے جس کو کوئی چیز عاجز نہیں کرتی، عالم جس پر کوئی چیز مخفی نہیں جو اس معجرات اپنے نبی ﷺ کے لیے قائم کیے ہیں تاکہ ان کے ذریعے اس کے لائے ہوئے پیغام کی صداقت پر استدلال کی جائے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فقد کذبوا “ یعنی مشرکین مکہ نے جھٹلایا، (آیت) ” بالحق “ یعنی قرآن تو بعض علماء نے فرمایا (آیت) ” بالحق “ سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے، (آیت) ” فسوف یاتیھم “ یعنی ان پر عذاب نازل ہوگا، الانباء سے مراد اخبار ہیں، یعنی عذاب جیسے تیرا قول ہے : اصبر وسوف یاتیک الخبر تو صبر کر عنقریب تیرے پاس خبر (عذاب) آجائے گی، اس سے مراد وہ ہے جو انہیں جنگ بدر وغیرہ میں تکلیف پہنچی تھی، بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد قیامت کا عذاب ہے۔
Ayah 6:6آیت نمبر : 6۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الم یروا کم اھلکنا من قبلھم من قرن “ ، کم اھلکنا “ کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ (آیت) ” الم یروا “ کی وجہ سے منصوب نہیں، کیونکہ لفظ استفہام میں اس کا ماقبل اس میں عمل نہیں کرتا، اس کا مقام صدر کلام ہے، معنی یہ ہے کہ وہ عبرت حاصل نہیں کرتے پہلی قوموں سے جن کو ہم نے اس لیے ہلاک کیا تھا کیونکہ انہوں نے اپنے انبیاء کو جھٹلایا تھا یعنی کیا انہوں نے اس کو نہیں پہچانا ؟ القرن سے مراد لوگوں کی ایک امت ہے اس کی جمع القرون ہے۔ شاعر نے کہا :
اذا ذھب القرن الذی کنت فیھم وخلفت فی قرن فانت غریب :
قرن سے مراد اپنے زمانہ کے لوگ ہیں یہ اقتران سے مشتق ہے، یعنی بعض لوگ بعض سے ملے ہوئے ہیں۔ حدیث میں نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : خیرالناس قرنی (1) (صحیح بخاری، کتاب الشہادات جلد 1، صفحہ 362)
یعنی لوگوں میں سے بہتر میرے اصحاب ہیں پھر وہ لوگ جو ان سے ملے ہوئے ہیں پھر وہ جو ان سے ملے ہوئے ہیں، جو کچھ ان کے متعلق کہا گیا ہے اس میں سے اصح یہی قول ہے، بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد اھل قرن ہے، اھل کو حذف کیا گیا ہے، جیسے (آیت) ” وسئل القریۃ “۔ (یوسف : 82) میں اہل حذف ہے، اس بنا پر قرن سے مراد زمانہ کی ایک مدت ہوگی، بعض نے فرمایا : یہ ساٹھ سال ہیں بعض نے فرمایا : ستر سال ہیں، بعض نے فرمایا : اسی سال ہیں بعض نے فرمایا سو سال ہیں، اکثر اصحاب حدیث کا نظریہ یہ ہے کہ یہ سو سال ہیں اور انہوں نے اس حجت پکڑی ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے کہا : تعیش قرنا تو سو سال زندہ رہے (1)
نحاس نے ذکر کیا ہے القرن کی اصل ظاہر ہونے والی چیز جیسے قرن مالہ، قرن من الحیوان، حیوان کا سینگ۔
(آیت) ” مکنھم فی الارض مالم نمکن لکم “۔ یہ غائب سے خطاب کی طرف خروج ہے اس کا عکس یہ ہے۔ (آیت) ” حتی اذا کنتم فی الفلک وجرین بھم بریح طیبۃ “۔ (یونس 22) اس آیت میں پہلے خطاب تھا، پھر غائب کی ضمیر ذکر فرمائی اہل بصرہ نے کہا : اللہ تعالیٰ اپنے قول (آیت) ” الم یروا کے ساتھ ان کے متعلق خبر دی اور ان میں حضرت محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب موجود تھے پھر انہیں ان کے ساتھ خطاب کیا عرب کہتے ہیں : قلت لعبد اللہ ما اکرمہ وقلت لعبد اللہ ما اکرمک “۔ اگر غیب کے صیغہ پر آتا (آیت) ” مالم نمکن لکم “ ہوتا مکنہ اور مکن لہ دونوں جائز ہیں اس میں دونوں لغتیں ہیں یعنی ہم نے دنیا سے انہیں وہ عطا کیا جو تمہیں عطا نہیں کیا۔
(آیت) ” وارسلنا السمآء علیھم مدرارا “ اس سے مراد موسلادھار بارش ہے اس کو السماء سے تعبیر فرمایا، کیونکہ بارش آسمان سے آتی ہے شاعر کا قول ہے :
واذا سقط السماء فارض قوم :
(آیت) ” مدرارا “ یہ وزن کثرت پر دلالت کرتا ہے جیسے مذکار اس عورت کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کی مذکر اولاد زیادہ ہو اور مثنات وہ عورت جس کی مونث اولاد زیادہ ہو، کہا جاتا ہے : دار اللبن، یدر جب دودھ کثرت سے آئے اور (آیت) ” مدرارا “ پر نصب حال کی بنا پر ہے۔ (آیت) ” وجعلنا الانھر تجری من تحتھم “۔ اسی سے فرعون کا قول ہے : ھذہ الانھار تجری من تحتی :
مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان پر نعمتوں میں وسعت کی تو انہوں نے اس کا انکار کیا (آیت) ” فاھلکنھم بذنوبھم “۔ یعنی ان کے کفر کی وجہ سین ہم نے انہیں ہلاک کیا، گناہ، انتقام اور نعمتوں کے زوال کا سبب ہیں۔
(آیت) ” وانشانامن بعدھم قرنا اخرین “۔ یعنی ہم نے ان کو پیدا کیا پس ان لوگوں کو اہلاک سے بچنا چاہیے۔
Ayah 6:7آیت نمبر : 7۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولو نزلنا علیک کتبا فی قرطاس “۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اسے محمد ﷺ اگر ہم ان کے سامنے آپ کتاب نازل کرتے جیسا کہ انہوں نے کاغذ پر لکھی ہوئی کلام طلب کی ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اس کا مطلب ہے کتاب جو آسمان اور زمین کے درمیان معلق ہوتی، یہ ظاہر کرتا ہے کہ تنزیل کا عمل دو اعتبار سے ہوسکتا ہے ایک یہ کہ نزل علی الکتاب کا معنی ہے کہ فرشتہ اس کے ساتھ اترتا۔ دوسرا یہ کہ اگر ہم کاغذ میں کتاب نازل کرتے جس کو اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین کے درمیان روک لیتا۔
(آیت) ” نزلنا مبالغہ فرمایا، کتاب کا آسمان اور زمین کے درمیان ٹھہرنا طویل ہوتا ہے، الکتاب مصدر ہے بمعنی کتابۃ پس واضح ہوا کہ کتابت کاغذ میں ہوتی ہے کتاب کو نہیں سمجھا جاتا مگر کاغذ میں یعنی صحیفۃ میں، القرطاس سے مراد صحیفہ ہے کہا جاتا ہے :
قرطاس ضمہ کے ساتھ، قرطس فلان، جب کوئی تیر پھینکے اور اس صحیفہ کو جالگے جو ہدف کے ساتھ ملا ہوا ہے۔
(آیت) ” فلمسوہ بایدیھم “۔ پس وہ اسے دیکھتے اور اسے ہاتھ سے چھوتے جیسا کہ انہوں نے تجویز کیا ہے اور ہاتھوں سے ٹٹول کر تمیز بھی کرلیتے تاکہ ہر شک اور شبہ زائل ہوجائے تو پھر بھی ہٹ دھرمی اور کفر کی متابعت میں قائم رہتے اور کہتے : یہ تو کھلا جادو ہے، ہماری آنکھیں بند کی گئی ہیں اور ہم پر جادو کیا گیا ہے۔ یہ آیت ان کے قول (آیت) ” حتی تنزل علینا کتبا نقرؤہ “۔ (الاسراء : 93) کا جواب ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کی بنا پر بتایا کہ اگر اس طرح نازل ہوتا تو یہ اس کو بھی جھٹلائیں گے، کلبی نے کہا : یہ نظر بن حرث عبداللہ بن ابی امیہ اور نوفل بن خویلد کے بارے میں نازل ہوئی انہوں نے کہا : (آیت) ” لن نؤمن لک حتی تفجرلنا من الارض ینبوعا “۔ (الاسرائ) ہر گز ایمان نہیں لائیں گے آپ پر جب تک آپ رواں نہ کردیں ہماری زمین سے ایک چشمہ۔
Ayahs 6:8–10آیت نمبر : 8 تا 10۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وقالوا لولاانزل علیہ ملک “۔ یہ بھی انہوں نے تجویز کی۔ لولا بمعنی ھلا ہے، (آیت) ” ولو انزلنا ملکا نقضی الامر “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اگر وہ فرشتے کو اپنی صورت میں دیکھتے تو مر جاتے کیونکہ وہ اس کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتے، مجاہد اور عکرمہ نے کہا : تو قیامت قائم ہوجاتی، حسن اور قتادہ نے کہا : وہ عذاب کے ساتھ ہلاک کیے جاتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ سنت جاری فرمائی ہے کہ جس نے کوئی نشانی طلب کی پھر وہ اس کے لیے ظاہر کردی گئی اور وہ ایمان نہ لایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے فورا ہلاک کردیا (آیت) ” ثم لا ینظرون “۔ یعنی انہیں مہلت نہیں دی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولو جعلنہ ملکا لجعلنہ رجلا “۔ یعنی وہ فرشتے کو دیکھنے کی طاقت نہ رکھتے مگر مجسم ہونے کے بعد کو ین کہ ہر جنس اپنی جنس سے مانوس ہوتی ہے اور دوسری جنس سے دور ہوتی ہے، اگر اللہ تعالیٰ انسانوں کا رسول فرشتہ کو بناتا تو وہ اس کے قرب سے دور ہوتے اور اس سے مانوس نہ ہوتے اور اس کی کلام سے رعب داخل ہوتا تو یہ چیز انہیں اس سے کلام کرنے اور سوال کرنے انہیں روک دیتی اور مصلحت عام نہ ہوتی۔
اور اگر اللہ تعالیٰ اسے ملائکہ کی صورت سے انسانوں کی صورت کی طرف منتقل کرتا تاکہ وہ اس سے مانوس ہوں اور اس سے سکون پائیں تو تو یہ کہتے تو فرشتہ نہیں ہے تو تو بشر ہے ہم تجھ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ پہلے حال کی طرف لوٹ جاتے، ملائکہ انبیاء کرام کے پاس انسانی شکل میں آتے تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آدمیوں کی شکل میں آئے تھے اور جبریل امین نبی مکرم ﷺ کی خدمت میں حضرت دحیہ کلبی کی شکل میں کی شکل آتے تھے یعنی اگر فرشتہ نازل ہوتا تو وہ اسے انسانی شکل میں دیکھتے جیسا کہ انبیاء کی عادت جاری ہے اور اگر وہ اپنی عادت پر نازل ہوتا تو وہ اسے نہ دیکھ سکتے اور جب ہم اسے انسان بنا کر بھیجتے تو ان مشتبہ ہوجاتا اور وہ کہتے : یہ تو تیری طرح جادوگر ہے۔
زجاج نے کہا : (آیت) ” وللبسنا علیھم “ یعنی ہم ان کے رؤساء پر مشتبہ کردیتے جس طرح وہ اپنے کمزور لوگوں پر مشتبہ ہوتے تھے وہ انہیں کہتے تھے : محمد ﷺ بشر ہیں اس کے اور تمہارے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ وہ اس طرح ان پر معاملہ مشتبہ کرتے اور وہ انہیں شک میں مبتلا کرتے اللہ تعالیٰ نے انہیں بتایا کہ اگر وہ انسانی شکل میں فرشتہ نازل کرتا تو وہ التباس کا راستہ پاتے جیسا کہ وہ کرتے ہیں اللبس کا معنی مشتبہ کرنا اور خلط ملط کرنا ہے، لبست علیہ الامر، البسہ لبسا یعنی میں نے اس پر خلط ملط کردیا، اس کا اصل معنی کپڑے کے ساتھ ڈھانپنا ہے اور فرمایا للبسنا اپنی طرف نسب کی تخلیق کی جہت پر اور (آیت) ” یلبسون “ فرمایا ان کی طرف نسب کی اکتسباب کی جہت پر پھر اپنی نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” ولقداستھزی برسل من قبلک فحاق “ یعنی جنہوں نے اپنے انبیاء استہزاء کیا اس کی سزا کے طور پر عذاب نازل کرکے انہیں ہلاک کیا گیا، حاق بالشی یحیق حیقا وحیوقا وحیقانا “ اس کا معنی ہے اترنا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولا یحیق المکر السیء الا باھلہ “۔ (فاطر : 43) اور نہیں گھیرتی گھناؤنی سازش بجز سازشیوں کے۔
(آیت) ” ماکانو ا “ میں ما بمعنی الذی ہے بعض نے فرمایا : مامصدریہ ہے یعنی اس کے استہزا کے انجام نے انہیں گھیر لیا
Ayahs 6:11–12آیت نمبر : 11 تا 12۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” قل سیروا فی الارض “ یعنی اے پیارے محمد ﷺ ان استہزا کرنے والوں اور جھٹلانے والوں کو کہو کہ زمین میں سفر کرو اور دیکھو اور خبر طلب کرو تاکہ تم جان لو جو عذاب اور عقاب تم سے پہلے کافروں پر اترا ایسا سفر کرنا مستحب ہے جب کہ پہلی امتوں اور اجڑے ہوئے شہروں کے کھنڈرات سے عبرت حاصل کرنے کے لیے ہو اور ان کا آخری انجام دیکھنے کے لیے ہو، یہاں مکذبون سے مراد وہیں جنہوں نے حق اور حق والوں کو جھٹلایا نہ کہ وہ جنہوں نے باطل کو جھٹلایا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” قل لمن مافی السموت والارض “ یہ بھی ان کے خلاف حجت ہے یعنی اے محمد ﷺ آپ سے پوچھئے : کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ؟ اگر وہ کہیں کہ کس کا ہے ؟ تو تم کہو : اللہ کے لیے ہے یعنی جب ثابت ہوگیا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اس کا ہے اور وہی تمام کا خالق ہے، ان کے اعتراف کرنے کے ساتھ یا ان پر حجت قائم کرنے کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ پھر اس پر بھی قادر ہے کہ وہ انہیں جلدی عذاب دے اور انہیں موت کے بعد اٹھائے لیکن (آیت) ” کتب علی نفسہ الرحمۃ “ اس نے اپنے آپ پر رحمت کرنا لازم کرلیا ہے، اس نے اپنی جناب سے فضل وکرم کا وعدہ فرمایا ہے اس لیے اس نے ڈھیل دی ہے، یہاں نفس کا ذکر فرمایا مراد اس کو وجوب ہے اور وغدہ کی تاکید ہے اور اس کے علاوہ وسائط اٹھانا ہے کلام کا مطلب یہ ہے کہ اس نے روگردانی کرنے والوں پر مہربانی فرمائی ہے کہ وہ انہیں ڈھیل دیتا ہے کہ وہ اس کی بارگاہ کی طرف لوٹ آئیں اس نے خبر دی کہ وہ اپنے بندوں پر رحیم ہے وہ انہیں جلدی عذاب نہیں دیتا بلکہ وہ ان سے تو بہ اور رجوع کو قبول فرماتا ہے۔
صحیح مسلم میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو اس نے کتاب میں اپنے اوپر یہ لازم کرلیا، وہ کتاب اس کے پاس ہے، کہ میری رحمت میری غضب پر غالب ہے ‘(1) (صحیح مسلم، کتاب التوبہ، جلد 2 صفحہ 356 )
یعنی جب اس نے اپنا فیصلہ ظاہر فرمایا اور جس کے لیے چاہا ظاہر فرمایا تو اس نے لوح محفوظ میں یہ تحریر ظاہر فرمائی یا جس میں ظاہر کرنا چاہا، اس کا مقتضا یہ ہے کہ خبر سچ ہے اور وعدہ حق ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے یعنی میری رحمت میرے غضب سے سبقت لے جاتی ہے اور اس پر زائد ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لیجمعنکم “ لام قسم ہے نون تاکید ہے، فراء وغیرہ نے کہا : یہ جائز ہے کہ (آیت) ” الرحمۃ پر کلام مکمل ہو اور بابعد وضاحت کی جہت سے نئی کلام ہو، پس (آیت) ” لیجمعنکم “ کا معنی ہوگا وہ تمہارے جمع کرنے کو مؤخر کرے گا اور وہ تمہیں مہلت دے گا، بعض علماء نے فرمایا : وہ تمہیں قبور میں جمع کرے گا اس دن تک جس کا تم انکار کرتے ہو بعض علماء نے فرمایا : الی بمعنی فی ہے یعنی وہ تمہیں قیامت کے دن میں جمع کرے گا، بعض علماء نے فرمایا : یہ بھی جائز ہے کہ (آیت) ” لیجمعنکم “ الرحمۃ “ سے بدل کی بنا پر منصوب ہو اس صورت میں لام بمعنی ان ہوگا، معنی یہ ہوگا کہ تمہارے رب نے تمہیں جمع کرنا اپنے اوپر لازم کرلیا ہے، اسی طرح بہت سے نحویوں نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں کہا ہے : (آیت) ” ثم بدالھم من بعد ماراوالایت لیسجننہ (یوسف : 35) یعنی ان یسجنوہ، بعض علماء نے فرمایا : (آیت) ” کتب کی وجہ سے محل نصب میں ہے، جیسا کہ (ان) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے : (آیت) ” کتب ربکم علی نفسہ الرحمۃ انہ من عمل منکم سوءا بجھالۃ “۔ یہ رحمت کی تفسیر کرنے والا ہے۔ کہ وہ قیامت تک مہلت دیتا ہے یہ زجاج سے مروی ہے۔
(آیت) ” لاریب فیہ “ اس میں شک نہیں (آیت) ’ الذین خسروا انفسھم فھم لایؤمنون “۔ یہ مبتدا خبر ہیں، یہ زجاج نے کہا ہے۔ یہ عمدہ قول ہے اس میں سے جو کچھ اس کے متعلق کہا گیا ہے، تو کہتا ہے : الذی یکرمنی فلہ درہم، فاشرط اور جزا کے معنی کے مضمن ہونے کی وجہ سے ہے اخفش نے کہا : اگر تو چاہے تو (آیت) ” الذین “ کو (آیت) ” لیجمعنکم “ میں کم ضمیر سے بدل ہونے کی بنا پر محل نصب میں بنا دے یعنی وہ ضرور ان مشرکوں کو جمع کرے گا جنہوں نے نقصان میں ڈال دیا اپنے آپکو، مبرد نے اس اسکا انکار کیا ہے، اس نے کہا : یہ خطا ہے کیونکہ اس کو مخاطب اور مخاطب سے بدل نہیں بنایا جاتا یہ نہیں کہا جاتا : مررت بک زید اور نہ یہ کہا جاتا ہے : لا امررت بی زید کیونکہ یہ مشکل ہی نہیں ہے کہ بیان کیا جائے قتبی نے یہ جائز ہے کہ (آیت) ” الذین المکذبین “ سے بدل ہو جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے یا یہ ان کی صفت ہو بعض نے فرمایا (آیت) ” نداء مفرد ہے۔
Ayahs 6:13–16آیت نمبر 13 تا 16 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ولہ ما سکن فی الیل و النھار یعنی جو ثابت ہے یہ بھی مشرکوں کے خلاف حجت ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ آیت نازل ہوئی، کیونکہ انہوں نے کہا تھا ہم جانتے ہیں کہ جو تم کرتے ہو اس پر تمہیں کوئی چیز نہیں ابھارتی مگر حاجت پس ہم تمہارے لیے مال جمع کرتے ہیں حتی کہ تو ہمارے غنی لوگوں میں ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے محبوب ! انہیں بتائیے کہ تمام اشیاء اللہ تعالیٰ کی ہیں وہ مجھے غنی کرنے پر قادر ہے۔ سکن کا معنی پرسکون ہونا اور ٹھہرنا ہے مراد ہے جو ساکن ہے اور جو متحرک ہے سامع کے علم کی وجہ سے حذف کیا گیا۔ بعض علماء نے فرمایا : ساکن کو خصوصی طور پر ذکر کیا، کیونکہ سکون جن کو شامل ہے وہ حرکت کرنے والی چیزوں سے زیادہ ہیں۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے جو اس نے پیدا کیا یہ تمام ساکن ومتحرک و مخلوقات کو شامل ہے، کیونکہ اس پر رات، دن جاری ہوتے ہیں۔ اس مفہوم کی بناء پر سکون سے مراد وہ نہ ہوگا جو حرکت کی ضد ہے بلکہ مراد مخلوق ہے۔ یہ عمدہ قول ہے، کیونکہ یہ مختلف اقوال کا جامع ہے۔
آیت : وھوالسمیع وہ ان کی آوازوں کو سننے والا ہے۔ العلیم ان کے بھیدوں کو جاننے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قل اغیر اللہ اتخذولیا، اتخذ کے دو مفعول ہیں جب مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے آباء کے دین بت پرستی کی طرف بلایا تو اللہ تعالیٰ یہ ارشاد نازل فرمایا : اے پیارے محمد ﷺ ! تم کہو کہ میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو اپنا رب، معبود اور ناصربنائوں ؟ آیت : فاطرالسموت ولارض اسم جلالت کی صفت کی بناپرجر کے ساتھ ہے۔ اخفش نے مبتدا کے اضمار کی بنا پر رفع کو جائز قرار دیا ہے۔ زجاج نے کہا : مدح کی بنا پر نصب بھی جائز ہے۔ ابوعلی فارسی نے کہا : فعل مضمر پر اس کی نصب بھی جائز ہے گویا فرمایا : اترک فاطرالسموت والارض کیا میں آسمانوں اور زمین پیدا کرنے والے کو چھوڑدون ؟ کیونکہ آیت : اغیر اللہ اتخذولیا اس کی ولایت ترک پر دلالت کرتا ہے۔ اس دلالت کی قوت کی وجہ سے فعل اضماربہتر ہے۔
آیت : وھویطعم ولا یطعم اکثر علماء کی یہی قراءت ہے یعنی وہ رزق دیتا ہے، اسے رزق نہیں دیا جاتا، اس کی دلیل یہ ارشاد ہے آیت : ما اریدمنھم من رزق وما اریدان یطعمون (50) (الذاریات) میں ان سے رزق نہیں چاہتا اور میں نہیں چاہتا کہ وہ مجھے کھلائیں۔ سعید بن جبیر، مجاہد اور اعمش کی قراءت وھویطعم ولایطعم ہے۔ یہ قراءت عمدہ ہے یعنی وہ بندوں کو رزق دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا محتاج نہیں جس کی مخلوق محتاج ہوتی ہے مثلا غذا (وغیرہ) ۔ دونوں فعلوں کو یا کے ضمہ اور عین کے کسرہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کھلاتا ہے اور انہیں رزق دیتا ہے اور بت نہ اپنے آپ کو کھلاتا ہے اور نہ اپنے بنانے والے کو کھلاتا ہے۔ پہلے میں یا اور عین کے فتح کے ساتھ پڑھا گیا ہے یعنی بت ولا یطعم نہیں کھلاتا یا کے ضمہ اور عین کے کسرہ کے ساتھ۔ کھانا کھلانے کو خصوصاذکر کیا گیا ہے دوسرے انعامات کو ذکر نہیں کیا، کیونکہ تمام لوگوں کو اس کی زیادہ حاجت ہوتی ہے۔
آیت : قل انی امرت ان اکون اول من اسلم یعنی سب سے پہلے میں اللہ کے امر کے سامنے سر جھکائوں۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے اپنی قوم اور اپنی امت سے میں پہلے اخلاص کا اظہار کروں۔ یہ ھسن وغیرہ سے مروی ہے۔ آیت : ولا تکونن من المشرکین یعنی مجھے کہا گیا کہ تو ہر گز نہ بننا مشرکوں میں سے۔
آیت : قل انی اخاف ان عصیت ربی یعنی ڈر رہتا ہے کہ میں غیر کی عبات کروں گا تو وہ مجھے عذاب دے گا۔ الخوف کا معنی مکروہ کی توقع ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اخاف یہاں اعلم کے معنی میں ہے۔
آیت : من یصرف عنہ یعنی جس سے عذاب ٹالا گیا۔ یومئذ یعنی قیامت کا دن۔ فقد رحمہ وہ نجات پا گیا، کامیاب ہوگیا رحم کیا گیا۔
کوفیوں نے من یصرف یا کے فتحہ اور را کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن ابی حاتم اور ابوعبید کا یہی مختار ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قل لمن ما فی السموت ولارض قل للہ۔ اور ارشاد ہے فقدرحمہ رحم مجہول کا صیغہ ذکر نہیں فرمایا اور حضرت ابی کی قراءت کی وجہ سے من یصرفہ اللہ عنہ۔ سیبویہ نے پہلی قراءت کو اختیار کیا اور اہل مدینہ اور ابی عمرو کی قراءت ہے۔ سیبویہ نے کہا : جب کلام میں اضمار کم ہوتا ہے تو بہتر ہوتا ہے۔ رہی ان کی قراءت جنہوں نے یصرف یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا تو اس کی تقدیر یہ ہوگی : من یصرف اللہ عنہ العذاب اور جب من یصرف عنہ پڑھا جائے گا تو تقدیر یہ ہوگی من یصرف عنہ العذاب۔
آیت : وذالک الفوز المبین (16) یعنی واضح نجات۔
Ayah 6:17آیت نمبر 17 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : و ان یمسسک اللہ بضرفلاکاشف لہ الا ھو، المس اور الکشف، اجسام کی صفات سے ہیں یہاں مجازا استعمال ہوا ہے معنی یہ ہے کہ اے محمد ﷺ ! آپ پر فقریا مرض کی شدت نازل ہو تو اللہ تعالیٰ کے سوا اسے کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر آپ کو عافیت، خوشحالی، نعمت ملے تو اللہ تعالیٰ خیر اور شر پر قادر ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھا، آپ ﷺ نے فرمایا :" اے غلام ! یا فرمایا : اے میرے بیٹے ! کیا میں تجھے ایسے کلات نہ سکھائوں جن کے ساتھ تجھے اللہ تعالیٰ نفع دے "۔ میں نے کہا : ضرور کرم فرمایئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا :" اللہ تعالیٰ کو یاد کر وہ تیری حفاظت فرمائے گا، تو اللہ تعالیٰ کو یاد کر تو اسے اپنے سامنے پائے گا، تو خوشحالی میں اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل کر وہ شدت میں تجھ پر کرم فرمائے گا، جب تو سوال کرے تو اللہ تعالیٰ سے سوال کر اور جب تو مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر، جو کچھ ہونا ہے اس کے ساتھ قلم خشک ہوچکا ہے۔ اگر تمام مخلوق تجھے کوئی تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے جس کا تیرے لیے اللہ تعالیٰ نے ارادہ نہیں فرمایا تو وہ اس پر قادر نہ ہوں گے۔ تو اللہ تعالیٰ کے لیے شکر اور یعقین کے ساتھ عمل کر اور جان لے کہ ناپسندیدہ چیز پر صبر کرنے میں خیر کثیر ہے اور نصرت و کامیابی صبر کے ساتھ ہے اور کشادگی، کرب کے ساتھ ہے اور تنگی کے ساتھ آسانی ہے " (1) (کنزالعمال، جلد 1، صفحہ 134۔ 133، حدیث 631۔ ایضا، جامع ترمذی، باب ما جاء فی صفتہ اوانی الحوطی، حدیث 2440، ضیا القرآن پبلی کیشنز) ۔ اس حدیث کو ابوبکر بن ثابت خطیب نے اپنی کتاب " الفصل والوصل " میں ذکر کیا ہے۔ یہ حدیث ہے۔ ترمذی نے بھی ذکر کی ہے اور یہ مکمل ہے۔
Ayahs 6:18–19آیت 18 تا 19 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت ؛ وھو القاھرفوق عبادہ، القھر کا معنی غلبہ ہے۔ القاھر کا معنی غالب ہے۔ اقھر الرجل بولا جاتا ہے جب کوئی مجبور کر کے ذلیل کیا جائے۔ شاعر نے کہا۔
تمنی حصین ان یسود جذاعہ فامسی حصین قد اذل و اقھرا
قھر کا معنی ہے مغلوب کیا گیا۔ فوق عبادہ غلبہ کے ساتھ فوقیت مراد ہے، یعنی تمام بندے اس کے حکم کے تحت مسخر ہیں۔ فوقیت سے مراد فوقیت مکانی مراد نہیں ہے، جیسے تو کہتا ہے : السلطان فوق رعیتہ یعنی سلطان منزل و رفعت کے اعتبار سے رعیت سے بلند ہے۔ قہر میں ایک زائد معنی ہے جو قدرت میں نہیں ہے وہ ہے کسی کو مراد حاصل کرنے سے روک دینا۔ وھو الحکیم وہ اپنے امر میں حکیم ہے۔ الخبیر اپنے بندوں کے اعمال سے باخبر ہے یعنی جو ان صفات سے متصف ہو واجب ہے کہ اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرایاجائے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قل ای شیء اکبر شھادۃ اس کا واقع یہ ہے کہ مشرکین نے نبی کریم ﷺ سے کہا : کون تمہاری گواہی دیتا ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ حسن وغیرہ سے مروی ہے یہاں لفظ شی اللہ کی اسم کی جگہ واقع ہوا ہے معنی یہ ہے کہ اللہ اکبر شھادۃ یعنی وہ ربوبیت کے ساتھ منفرد ہے اپنی توحید پر براہین کا قیام بہت بڑی شہادت ہے وہ تمہارے اور میرے درمیان گواہ ہے کہ میں نے تبلیغ کی اور میں نے جو کچھ کہا اور جو میں نے رسالت کا دعوی کیا ہے میں اس میں سچا ہوں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : واوحی الی ھذا القرآن قرآن میری نبوت کا گواہ ہے۔ آیت : لانذرکم بہ اے اہل مکہ ! میں تمہیں اس کے ساتھ ڈراتا ہوں اور من بلغ جس کو قرآن پہنچا ہے۔ کلام کی طوالت کی وجہ سے ھاحذف کی گئی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے جو بالغ ہوا۔ اس سے دلیل پکڑی جاتی ہے کہ جو بالغ نہیں ہوا وہ مخاطب نہیں ہے اور وہ مکلف نہیں ہے۔ قرآن وسنت کی تبلیغ کا حکم دیا گیا ہے فرمایا : آیت : یا یھا الرسل بلغ ما انزل الیک من ربک (المائدہ : 67) اے رسول ! پہنچا دیجیے جو اتارا گیا ہے آپ کی طرف آپ کے پروردگار کی جانب سے۔
صحیح بخاری میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرو نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے فرمایا :" میری طرف سے پہنچائواگرچہ ایک آیت ہی ہو اور بنی اسرائیل کے متعلق بیان کرو اس میں کوئی حرج نہیں اور جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولاوہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں تلاش کرے ـ" (1) (جامع ترمذی، کتاب العلم، جلد 2، صفحہ 91) ۔ خبر میں ہے جس کو کتاب اللہ کی ایک آیت پہنچی تو اسے اللہ کا امر پہنچا اسے وہ اپنائے یا اسے ترک کرے (اس کی مرضی) مقاتل نے کہا : جن وانس میں سے جس کو قرآن پہنچا وہ اس کے لیے نذیر (ڈرانے والا) ہے۔ قرطبی نے کہا : جس کو قرآن پہنچا گویا اس نے حضرت محمد ﷺ کو دیکھا اور ان سے سنا۔ ابونہیک نے کہا : آیت : واوحی الی ھذا القرآن پڑھا یعنی معروف کا صیغہ پڑھا۔ یہ جماعت کی قراءت کا معنی ہے۔
آیت : ائنکم لتشھدون ان مع اللہ الھۃ اخریاستفہام توبیخ و تقریع کے لیے ہے۔ ائنکم اصل پر دو ہمزوں کیساتھ بھی پڑھا گیا ہے جب تو دوسرے ہمزہ میں تخفیف کرے گا تو تو کہے گا : ننکم، اصمعی نے ابو عمرو اور نافع سے آئنکم روایت کیا ہے یہ لغت معروفہ ہے دو ہمزوں کے درمیان الف لگایا جاتا ہے، کیونکہ دو ہمزے جمع کرنا ناپسندیدہ ہوتا ہے۔ شاعر نے کہا :
ایا ظیبۃ الوعساء بین جلاجل و بین النقا آ انت ام ائم سالم
اور جنہوں نے انکم پڑھا خبر کی بنا پر تو اس نے ان پر شرک ثابت کیا۔ اور فرمایا : الھتہ اخری، نہیں فرمایا۔ فراء نے کہا : اس کی وجہ یہ ہے کہا لھتہ جمع ہے اور جمع پر تانیث واقع ہوتی ہے۔
اسی وجہ سے ارشاد ہے : آیت : و للہ الاسماء الحسنی فادعوہ بھا (الاعراف : 180) اور ارشاد ہے : آیت : فما بال القرون الاولی (طہ : 50) اور اگر الاول اور آخر ہوتا تو بھی صحیح ہوتا۔ قل لا اشھد یعنی میں تمہارے ساتھ گواہی نہیں دیتا، کلام کی دلالت کی وجہ سے معکم کو حذف کیا گیا اس کی مثال یہ ہے : آیت : فان شھدوا فلا تشھد معھم اگر وہ گواہی دیں تو تم ان کے ساتھ گواہی نہ دو
Ayah 6:20آیت نمبر 20 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : الذین اتینھم الکتاب اس سے مراد یہود اور نصاری ہیں اپنے بیٹوں کو جنہوں نے نبی کریم ﷺ کو پہچانا اور جان بوجھ کر مخالفت کی۔ اس کا مفہوم سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔
الذین مبتدا کی حیثیت سے محل رفع میں ہے۔ یعرفونہ یہ محل خبر میں ہے یعنی نبی کریم ﷺ کو پہنچانتے تھے۔ یہ حسن اور قتادہ سے مروی ہے۔ یہ زجاج کا قول ہے۔ بعضعلماء نے فرمایا : ضمیر کا مرجع الکتاب ہے یعنی وہ اسے پہنچانتے تھے جس پر وہ کتاب دلالت کرتی ہے، آیت : الذین خسروا انفسھم یہ نعت کی جگہ پر ہے اور اس کا مبتدا ہونا اور فھم لا یومنون (20) کا خبر ہونا بھی جائز ہے۔
Ayahs 6:21–22آیت نمبر 21 تا 22 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن ظلم مبتدا اور خبر ہیں یعنی کوئی زیادہ ظالم نہیں۔ ممن افتری جس نے بہتان باندھا (1) (المحررالوجیز، جلد، 2، صفحہ 277) آیت : علی اللہ کذبااو کذب بایتہ مراد قرآن اور معجزات ہیں۔ آیت : انہ لا یفلح الظالمون بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے دنیا میں فلاح نہیں پائیں گے، پھر نئی کلام شروع فرمائی فرمایا : آیت : ویوم نحشرھم جمیعا اس کا معنی ہے یاد کرو جب ہم ان سب کو جمع کریں گے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے ظالم دنیا میں فلاح نہیں پائیں گے اور اس دن جس میں ہم ان سب کو جمع کریں گے۔ اس تقدیر الظالمون پر وقف نہیں ہوگا، کیونکہ یہ متصل ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ ما بعد کے متعلق ہے اور وہ انظر ہے یعنی دیکھ کیسے انہوں نے جھٹلایا اس دن کو جس میں ہم انہیں جمع کریں گے یعنی کیسے اس دن کو جھٹلاتے ہیں جس میں ہم انہیں جمع کریں گے ؟
آیت : ثم نقول للذین اشرکوا این شرکاء کم یہ سوال انہیں رسوا کرنے کے لیے ہے نہ کے وضاحت طلب کرنے کے لیے ہے۔ آیت : الذین کنتم تذعمون تم کہتے تھے کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں تمہارے شنیع ہیں یہ تمہیں اللہ کا قرب بخشیں گے۔ یہ ان کو تو بیخ ہے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا : قرآن میں زعم کا لفظ کذب کے معنی میں ہے۔
Ayah 6:23آیت نمبر 23 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ثم لم تکن فتنتھم الفتنۃ سے مراد پرکھنا اور آزمائش کرنا ہے یعنی ان کے پاس جواب نہ ہوگا جب انہیں اس سوال سے آزمایاجائے گا اور وہ حقائق دیکھ لیں گے اور اس کے دعاوی اٹھ جائیں گے۔ آیت : الاان قالواو اللہ ربناما کنامشرکین وہ شرک سے برأت کریں گے اور شرک سے نفی کریں گے جب وہ مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور درگزر دیکھیں گے۔ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا : اخلاص والوں کے اللہ تعالیٰ گناہ معاف کر دے گا اور اس پر کسی گناہ کو بخشنا بڑا نہیں ہے۔ جب مشرکین یہ دیکھیں گے تو وہ کہیں گے : ہمارا رب گناہوں کو بخشتا ہے اور شرک کو نہیں بخشتا تم آؤ ہم کہیں ہم گناہ گار تھے اور ہم مشرک نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : چونکہ انہوں نے شرک کو چھپایا پس ان کے مونہوں پر مہر لگادو، پس ان کے مونہوں پر مہر لگادی جائے گی، ان کے ہاتھ بولیں گے اور ان کے کرتوتوں کی ان کے پاؤں گواہی دیں گے اس وقت مشرکین پہچان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپائی نہیں جاسکتی۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : یومئذیودالذین کفرواوعصوا الرسول لو تسوی بھم الارض ولا یکتمون اللہ حدیثا (النسائ) اس روز تمنا کریں گے وہ جنہوں نے کفر کیا اور نافرمانی کی رسول کی کہ کاش (دبا کر) ہموار کردی جاتی ان پر زمین اور نہ چھپاسکیں گے اللہ سے کوئی بات۔
ابواسحاق زجاج نے کہا : اس آیت کی تاویل بہت لطیف ہے، اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے واقعات اور ان کی شرک کے ساتھ آزمائش کی خبردی، پھر بتایا کہ ان کی معذرت اور بہانا کوئی نہ ہو ہوگا جب وہ حقائق کو دکھیں مگر یہ کہ وہ شرک سے برأت کا اظہار کریں گے۔ اس کی مثال لغت میں یہ ہے کہ تو ایک انسان کو دیکھتا ہے جو ایک گمراہ شخص سے محبت کرتا ہے، پھر جب وہ ہلاکت میں گرتا ہے تو وہ اس سے برأت کا اظہار کرتا ہے، کہا جاتا ہے : تیری اس سے محبت نہ تھی مگر تو نے اس سے برأت کی۔ حسن نے کہا : یہ منافقین کے ساتھ خاص ہے جو اپنی عادت پر دنیا میں چلتے رہے۔ فتنتھم کا معنی ہے ان کے کفر کا انجام۔ قتادہ نے کہا : اس کا معنی ہے ان کا معذرت کرنا۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ کی حدیث ہے فرمایا :" اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے ملاقات کرے گا اور فرمائے گا : اے فلاں ! کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی تھی اور تجھے سردار نہیں بنایا تھا اور میں نے تیرا نکاح نہیں کیا تھا اور میں نے تیرے لیے گھوڑے اور اونٹ کو مسخر نہیں کیا تھا، میں نے تجھے رائیس نہیں بنایا تھا کہ راحت سے رہتا تھا ؟ وہ کہے گا : کیوں نہیں اے میرے رب ! پھر فرمائے گا : کیا توگمان رکھتا تھا کہ تو مجھ سے ملاقات کرنے والا ہے ؟ وہ کہے گا نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں نے تجھے فراموش کردیا جس طرح تو نے مجھے فراموش کیا تھا، پھر اللہ تعالیٰ دوسرے بندے سے ملے گا تو اسے فرمائے گا : وہ بھی اسی طرح کہے گا، پھر تیسرے سے ملے گا اسے یہ فرمائے گا تو وہ کہے گا : یارب ! میں تجھ پر، تیری کتاب پر، اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا اور میں نے نماز پڑھی اور میں نے روزہ رکھا اور میں نے صدقہ کیا، جتنی اسے طاقت ہوگی وہ تعریف کرے گا۔ فرمایا : اسے کہا جائے گا : یہاں ٹھہر، پھر اسے کہا جائے گا : ابھی ہم تجھ پر گواہ پیش کریں گے، وہ دل میں سوچے گا کون ہے جو مجھ پر گواہی دے گا ؟ پھر اس کے منہ پر مہر لگادی جائے گی اور اس کی ران، گوشت اور ہڈیاں اس کے عمل کے متعلق بولیں گی، وہ اپنے نفس سے بہانہ بنائے گا : یہ منافق ہے، اس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوگا (1) (صحیح مسلم، کتاب الزہد، جلد 2۔ صفحہ 409)