Ayahs 6:1–10رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 10 ۔
اسرار و معارف :
توحید کے عقلی دلائل :
انسانی علوم کی حدود زمینوں اور فضا کی مختلف تبدیلیوں تک محدود ہیں وہ بادلوں کی سیر کرے یا ستاروں پہ کمندیں ڈالے بہرحال آسمان ایک ایسی بلندی ہے جس کو عبور نہیں کرسکتا تختہ زمین ایسی کتاب ہے جس کے عجائبات کو پڑھ کر تمام نہیں کرسکا اور نہ کرسکے گا ہر آنے والا دور اپنے جلو میں کوئی نئی تحقیق لاتا ہے نیا قانون یا اصول دریافت ہوتا ہے پھر اس کے مطابق دنیا کی اشیا سے انسان استفادہ کرتے ہیں مگر یہ ساری تگ وتاز سینہ خاک آلود پر ہے فضا میں ہے پھر روشنی اور اندھیرے اپنے اثرات پیدا کرتے رہتے ہیں بعض اشیاء اندھیرے کی کاوش اور بعض روشنی کی محنت کا پھل ہوتی ہیں قطرہ سیپ کی تاریکی میں چھپ جائے تو موتی بن جاتا ہے اور زمین کی تہہ میں دبے ہوئے دانے کو سورج کی شعاع نمو عطا کرتی ہے نیز دھوپ پھلوں کو پکاتی ہے تو ٹھنڈی چاندنی مٹھاس بھر دیتی ہے غرض یہ جہانِ رنگ و بو مٹی ، اندھیروں اور اجالوں کا کرشمہ ہے جس کی حدود آسمان کے اندر ہیں اب سوچئے کہ وہ ذات کسی قدر عظیم اور لائق حمد و ستائش ہے ہے جو نہ صرف زمین کی خالق ہے اس کی تمام خصوصیات کے ساتھ بلکہ اندھیرے اجالے بھی اسی کے پیدا کردہ ہیں پھر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مخلوق میں کوئی کمال یا عجیب بات دیکھ کر یہ کفار وہاں سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور وہ عظمت جو صف اس ذات کا حق ہے جو ان تمام چیزوں کو پیدا کرنے والی ہے اسے دوسروں پر ناحق تقسیم کرنا چاہتے ہیں حلان کہ ایسا ہونا ممکن بھی نہیں کہاں خالق کل کی عظمتیں اور کہاں مخلوق بیچاری ہر آن ہر گھڑی محتاج کتنی خوبصورت دعوت ہے کہ اگر ذرا فکر کرنا نصیب ہو تو آدمی کبھی مخلوق کو خالق کے برابر نہ جانے۔
یہ تو ایک بہت بڑا جہان تھا اسے عالم کبیر کہیے اور عالم صغیر کی بات کرتے ہیں خود تمہارے جسم کے اندر ایک جہان آباد ہے ہاں یہ جسم جسے اللہ نے مٹی سے بنایا مٹی کو نطفے کا نطفے کو بدن کا روپ دیا اور مسلسل مٹی کی تہیں مختلف غذاؤں کی شکل میں اس پر چڑھاتا چلا گیا کہ ایک خوبصورت تنومند جوان بن گیا اب اس میں کس قدر عجائبات ہیں عالم کبیر کی طرح اس کے اپنے عجائبات ہیں ہاتھوں کے کمالات دیکھیں پاؤں کے رگوں اور نسوں کا کام دیکھیں پٹھھوں کا مطالعہ کریں قلب و جگر کا فعل دیکھیں معدے کی ہر آن پکتی ہوئی بھٹی کانوں کی شنوائی اور آنکھوں کی بینائی پہ غور کریں زبان کی قوت گویائی کا اندازہ کرلیں کیا سب کچھ حیرت انگیز نہیں ہے تو کیا تم ان میں سے ہر عجیب بات اور عضو کی حرکت پہ اسے معبود ماننے لگو گے اگر ایسا کرو گے تو موت تمہارا یہ وہم نکال دے گی جب آنکھیں بےنور ہاتھ پاؤں بےحس زبان خاموش دل بےآواز اور معدہ کام چھوڑ چکا ہوگا اور یہ تماشہ ہر آن تمہارے گرد ہوتا ہے جس طرح اس عالم صغیر پر موت منڈلاتی رہتی ہے اور ہر انسان ایک نہ ایک دن اس کا شکار ہوجاتا ہے ایسے ہی ایک دن عالم کبیر پر بھی مقرر ہے جس کا وقت اللہ ہی کے علم میں ہے جو اس کا خالق ہے لہذا نہ انسان پرستش کے لائق ہے اور نہ اللہ کے سوا کوئی بھی دوسری ہستی اس کی اکیلی ذات تمام خوبیوں کی سزاوار ہے جو ازلی ہے ابدی ہے ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گی جسے کبھی زوال نہیں پھر یہ سب کچھ جب نگاہوں کے روبرو ہے تو اے کفار تمہیں کسی بھی شبہ میں پڑنا زیب نہیں دیتا کہ اللہ نے تمہیں انسانی عقل و خرد سے اور انسانی کمالات سے نوازا ہے اور تم کھلی آنکھوں دیکھ رہے ہو کہ آسمانوں اور زمینوں میں اسی کا حکم جاری ہے اگر کسی بھی دوسری ہستی میں مجال دم زدن ہوتی تو کبھی تو اس نظام میں خلل آتا کہیں کوئی گڑبڑ ہوتی ہر حکومت میں اور ہر سلطنت میں انسانوں کے باغی انسان ہوتے ہیں ا سلیے کاروبار حکومت کو متاثر کرتے رہتے ہیں مگر اس سے بغاوت بھی کرنے والے اس کی برابر نہیں کرسکتے کہ اس کی مخلوق ہیں وہ خالق ہے اس لیے اس کا نظام حکومت کسی کے ماننے یا انکار کرنے سے متاثر نہیں ہوتا بلکہ اس کا علم اتنا کامل ہے کہ خود انسان کو اگلے لمحے کی خبر نہیں انسان ایک دوسرے سے چھپا کر بات کرتے ہیں مگر وہ سب کچھ ذاتی طور پر جانتا ہے کوئی چھپ کر کرے یا کھلے بندوں ہر عمل سے اس کی ذات واقف ہے۔
استعداد قلبی :
کفر ایک ایسا زنگ ہے جو دلوں کو بیکار کردیتا ہے اور اس کا ایک درجہ ایسا بھی ہے کہ پھر دلوں میں قبول حق کی استعداد ہی نہیں رہتی اسی لیے آپ دیکھیں گے کہ نہ صرف قرآن کے ساتھ ان کا رویہ بےرخی کا ہے بلکہ اس سے پہلے بھی جب اللہ کی طرف سے کوئی بات پہنچی تو انہوں نے مان کر نہیں دی اور اب قرآن حکیم یا محمد رسول اللہ ﷺ کا بھی انکار ہی کر رہے ہے ہیں حالانکہ آپ کی حیات مبارکہ خاندان بچپن ، لڑکپن جوانی سبھی کچھ تو ان کے سامنے ہے کہ مثالی ہے اور اس کافرانہ اور سنگدل اور فاسق و فاجر معاشرے میں بھی آپ ﷺ قبل بعثت بھی پاکباز تھے کہ مشرکین مکہ آپ ﷺ کو صادق اور امین کہتے تھے ایسا آدمی بھلا جس نے عمر بھر کسی انسان پر جھوٹ نہ بولا ہو وہ یکایک اپنے رب پر جھوٹ بولنے لگا یہ تو محال عقلی ہے اور علمی دلیل یہ ہے کہ چالیس برس تک آپ نے نہ کوئی مدرسہ دیکھا نہ خانقاہ نہ کسی پادری کے شاگرد بنے نہ راہب و جادوگر کے حتی کہ نام مبارک لکھنا نہیں جانتے تھے چالیس برس کے بعد اعلان فرمایا کہ لوگو میرے پاس اللہ کی طرف سے پیغام آیا ہے اور چونکہ اللہ کا کلام ہے لہذا جہاں ہدایت و راہنمائی میں افضل و برتر ہے وہاں علمی و ادبی لحاظ سے بھی بےمثل ہونا ضروری ہے اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ انسانی کلام ہے تو تم بھی انسان ہو بڑے بڑے ادیب شعراء اور صاحبان فن تم میں موجود ہیں ، ہے کوئی اکیلا یا سب مل کر یا ان معبودان باطلہ کو بھی ملا کر صرف ایک جملہ لکھ دو جو علمی وادبی اعتبار سے بھی اس کے پایہ کا ہو اور باوجود کہ انکار پر جان لڑائے بیٹھے تھے نہ کرسکے اور نہ آج تک کرسکے ہیں اور نہ آئندہ کرسکیں گے اس کے باوجود قبول نہیں کیا بلکہ جب نہ بن پڑا تو مذاق اڑانے لگے فمایا کفار کو ان کے ان کرتوتوں کی پاداش میں بہت جلد عذاب الہی گھیر لے گا اور قرآن کی پیشگوئی پوری ہوئی دنیا میں بھی مشرکین کو ذلت آمیز شکستیں ہوئیں پھر مکہ بھی اور پورا عرب ہاتھ سے نکل گیا اور اسلامی ریاست بن گیا یہود بےبہبود بھی ذلیل و رسوا ہوئے کچھ قتل ہوئے کچھ وطن بدر کیے گئے اور بہت جلدی دنیا کا ھساب چکا دیا گیا آخرت بھی کچھ دور نہیں وہاں بھی کفر کا انجام جہنم کے سوا کچھ نہیں۔
ہر گناہ اپنے منطقی انجام کو پاتا ہے :
یہ تاجر لوگ ہیں اور سفر کرنا ان کا پیشہ ہے زندگی کا حصہ ہے کیا انہوں نے اقوام عالم کی تباہی کے آثار نہیں دیکھے جو اس کے راستوں میں عبرت کا سامان بن کر دعوت نظارہ دیتے ہیں کیا یہ نہیں سوچتے کہ ان سے پہلے کس قدر اقوام اپنے انجام بد سے دوچار ہوچکی ہیں کبھی وہ بھی زمین پر آباد تھے اور تم سے زیادہ شان و شوکت رکھتے تھے طاقت اور قد و قامت میں تم سے بڑھ کر تھے مال و دولت کی فراوانی تھی آسمان سے بارشیں برستی تھیں تو زمین نہروں سے بھی سیراب ہوتی تھی اور ان کی کھیتیاں سونا اگلتی تھیں تمہارے پاس تو ان کے مقابلے میں نہ قوت ہے نہ شوکت اور نہ مال و زر میں ان کے ہم پلہ ہو مگر گناہ کا اپنا منطقی انجام ہوتا ہے جب انہوں نے برائی کا راستہ اپنا لیا اور کسی صورت باز نہ آئے تو ہم نے انہیں تباہ وبرباد کردیا کھیت ویران نہریں خشک اور مکان کھنڈروں میں تبدیل ہوگئے بسنے والوں کا نام و نشانمٹ گیا نہ مال و دولت کام آیا اور نہ شان و شوکت عذاب الہی سے بچا سکی۔ عاد وثمود اور مدائن وغیرہکا حال دیکھو در اصل قرآن حکیم کا موضوع تاریخ نہیں اصلاح احوال ہے لہذا اس غرض سے جس قصے کا جتنا حسہ جس جگہ ضروری ہوتا ہے بیان کردیا جاتا ہے اسی لیے ایک ہی بات کے متفرق ٹکڑے مختلف جگہوں پہ ملتے ہیں اس میں بڑا لطیف اشارہ ہے کہ طالب حق کو دنیا کی بات اپنے مقصد کو سامنے رکھ کر کرنا چاہئے ورنہ خاموشی سے اللہ اللہ کیا کرے اور ایسی باتوں میں وقت صرف نہ کیا جائے جن کا تعلق اخروی فائدے سے نہ ہو ہاں رزق حلال حاصل کرنا یا اصلاح احوال اگرچہ دنیا کے کام ہیں مگر ان سے آخرت بنتی ہے لہذا ان امور پہ گفتگو کرے مگر وہ بھی اللہ کے ذکر سے خالی نہ ہو اور لطف کی بات یہ ہے کہ اتنی بڑی قوموں کی تباہی سے کارگاہ حیات متاثر نہیں ہوئے اللہ کریم فرماتے ہیں ہمارے نظام کو کوئی فرق نہیں پڑا ان کی جگہ دوسرے لوگ پیدا کردئیے ہم روز مرہ زندگی میں دیکھتے ہیں کہ کتنے لوگ روزانہ دفن ہو کر ذہنوں سے بھی محو ہوجاتے ہیں اور زندگی کا پہیہ چلتا رہتا ہے آگے اور آگے کی طرف اپنی منزل کی طرف جہاں پہنچ کر سب کچھ ختم ہونے کو ہے۔
اہل مکہ کا یہ مطالبہ بھی کہ آسمان سے لکھی ہوئی کتاب بھیجی جائے قبول نہ کرنے کا ایک بہانہ ہے ورنہ آپ ﷺ کی ذات گرامی سے بڑی حقیقت اور کیا ہوگی اور اگر ان میں ان کی بات میں خلوص ہوتا تو ایسا ہوجانا ناممکن نہ تھا مگر یہ ایسے لوگ ہیں کہ آسمان سے کتاب آجائے یہ اسے چھو کر ٹٹول کر تسلی کرلیں کہ ہاں واقعی کتاب ہے مھض وہم نہیں تو کہہ دیں گے یہ جادو کا کرشمہ ہے چونکہ ان کا مطالبہ ہدایت حاصل کرنے کے لیے نہیں یہ صرف آپ کو عاجز اور لاجواب کرنا چاہتے ہیں یہی حال ان کے دوسرے مطالبے کا ہے کہ ہمارے سامنے آ کر فرشتہ بات کرے ان کی یہ بات پہلی بات سے بھی عجیب تر ہے کہ کافر کو اگر فرشتہ یا برزخ یا آخرت نظر آنے لگے تو اس کے بعد اسے مہلت نہیں دی جاتی نہ اس کی توبہ قبول ہوتی ہے کیونکہ موت کے وقت ہر انسان کو کشف ہوجاتا ہے یہ سب مفسرین کرام نقل فرماتے ہیں اور قرآن حکیم میں کفار کے ساتھ موت کے وقت فرشتوں کا باتیں کرنا یا انہیں مارنا وغیرہ مذکورہ ہے مگر اس وقت توبہ قبول نہیں ہوتی جیسے فرعون نے توبہ کی تھی مگر ارشاد ہوا ۔ الان و قد کنت من الکفرین۔ اب توبہ کرتے ہو اور جب توبہ کا وقت تھا اللہ کا رسول (موسی علیہ السلام) توبہ کی دعوت دیتا رہا کفر پر جمے رہے اب قبولیت کا وقت گذر چکا اور اگر یہ ایمان لے آئیں تو مطالبہ فضول ٹھہرا یعنی بحالت کفر فرشتے نظر آنے لگیں تو قصہ ختم پھر انہیں مہلت نہ ملے گی اور مومن ہوں تو پھر مطالبے کی ضرورت نہیں ایک صورت دوسری ہے کہ فرشتہ انہیں بصورت انسان نظر آئے اور فرشتے کو انسانی لباس میں بھیج دیا جائے ایسی صورت میں ان کی ہلاکت کا اندیشہ تو نہیں مگر وہ فرشتہ بھی آپ کے پایہ کا انسان تو نہ بن سکے گا اس کا اپنا مقام ہوگا یہ آپ کی بات تسلیم نہیں کر رہے تو اس کی بات کیا خاک مانیں گے۔
آپ ان کے مذاق سے دل برداشتہ نہ ہوں کہ آپ سے پہلے مبعوث ہونے والے رسولوں کو بھی ایسے ہی حالات سے گزرنا پڑا اور کفار سے جب کوئی بات بن نہ پڑی تو ان سے بھی مذاق کرتے تھے اور انہیں اپنی باتوں سے ایذا پہنچاتے تھے مگر ان کا یہ فعل اپنے نتائج کے اعتبار سے بہت گراں ثابت ہوا اور جن عذاب کے وعدوں پر وہ ہنسا کرتے تھے انہیں ان عذابوں نے آپکڑا اور ذلت و رسوائی کے ساتھ تباہ و برباد ہوگئے۔ ان کے پاس بھی دو ہی راستے ہیں آپ ﷺ کی اطاعت جس میں امن کی ضمانت بھی ہے اور آبرو کی بھی ہر دو عالم کی کامیابی کا وعدہ ہے یا پھر زلت کی موت شکست اور رسوائی۔
Ayahs 6:11–20رکوع نمبر 2 ۔ آیات 11 تا 20 ۔
اسرار و معارف :
ان سے کہیے زمین کا سینہ بھی تو کھلے ہوئے اوراق کی طرح گذشتہ قوموں کے حالات بیان کر رہا ہے ذرا تم بھی چل پھر کر دیکھو یہ اجڑی ہوئی بستیاں اور مسمار شدہ قلعے اپنے بنانے والوں کے گناہوں کی ڈھال نہ بن سکے اور نہ انہیں بچا سکے نہ خود بچ سکے اگر تم تکذیب کا راستہ اختیار کروگے تو سوائے تباہی کے تمہارے حصے میں بھی کچھ نہیں آئے گا۔ ذرا ان سے یہ تو پوچھا چاہئے کہ یہ جو کچھ زمینوں اور آسمانوں میں ہے یہ ہے کس کا اسکا مالک کون ہے پھر انہیں بتا دیجئے کہ یہ صرف اور صرف اللہ کی ملکیت ہے جس نے خود اپنی قدرت کاملہ سے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے نہ پیدا کرنے میں کسی نے اس کی مدد کی نہ ملکیت میں کوئی اس کا کوئی حصہ دار ہے اب یہ کہیں گے کہ یہ تو اس کے دشمن بھی کھاتے ہیں اگر صرف اس کا ہے کہ تو کفار مشرکین اور منکرین کو کیوں دیتا ہے تو انہیں بتا دیجئے کہ یہ اس کی رحمت عامہ ہے اس کا کرم ہے یہ دنیا اس کے عمومی اظہار کا مقام ہے اس نے یہاں اپنی بخشش عام کردی اگر صرف ماننے والوں کو دیتا تو لوگ مجبورا مانتے اور مجبوری کا ماننا اسے قبول نہیں لہذا دنیا کی دولت ایمان کے ساتھ مشروط نہیں کی بلکہ رحمت مجسم ﷺ تمہیں دعوت دینے تمہارے پاس تشریف لائے ہیں مگر اس کا یہ معنی مت سمجھو کہ سدا ایسا ہی حال رہے گا بلکہ یہ دنیا ختم ہونے والی ہے جیسا کہ روزانہ ہمارے گرد لوگ مرتے ہیں آخر سب دنیا ختم ہو کر قیامت قائم ہوگی اور وہاں اگلے پچھلے تمہارے سمیت سب لوگ حاضر ہوں گے یہ اتنی یقینی بات ہے کہ اس میں معمولی سا شبہہ کرنے کی گنجائش نہیں وہاں رحمت خاصہ کا ظہور ہوگا اور صرف ان لوگوں تک رحمت تقسیم ہوگی جن میں ایمان ہوگا پھر تم دیکھ لو گے کہ ایمان نہ لانے والوں نے اپنا کس قدر نقصان کرلیا بلکہ اپنے آپ کو تباہ کرلیا۔ کیونکہ اللہ نے اپنے ذمہ رحمت لکھ دی تھی اس نے کسی کو اس سے محروم نہیں فرمایا یہ انسان تھا جس نے اس کے دامان رحمت کو جھٹک دیا اور خواہشاتِ نفس اور شیطان کی پیروی اختیار کرکے اللہ کی رحمت سے محروم ہوگیا۔ لوگو یقین کرو رات دن میں اگر کسی بھی چیز کا وجود ہے یا کوئی چیز قرار پکڑتی ہے تو وہ اسی کی ہے صرف اس کی اور وہ سب کچھ سنتا بھی ہے اور جانتا بھی۔ یہ اسلام کا وہ انقلابی نظریہ ہے جس نے دنیائے کفر کو ہلاکر رکھ دیا۔ کفار آخرت سے واقف نہ تھے اور نہ یہ بات ان کے بس میں تھی۔ کہ علوم آخرت کے حاصل کرنے کا ذریعہ نور نبوت ہے اور بس۔ اس سے کفار کے دل خالی تھے تو انہوں نے بعض رسومات ایجاد کرکے ان کے ساتھ بطور نتیجہ کے دنیا ہی کی نعمتوں کو منسلک کردیا اور یوں ایک مذہب نام کی شئے وجود میں آگئی یہ تمام مذاہب باطلہ کا مشترکہ فلسفہ ہے اگرچہ رسومات اور ان کے ساتھ وابستہ نتائج میں فرق ہو مگر مرکزی خیال سب میں یہی کار فرما ہے اسلام نے اس سارے فلسفے کو رد کردیا اور دو طرح سے کیا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ اکیلا خالق ہے اور باقی سب مخلوق اس لیے عبادت کا حق صرف اللہ تعالیٰ کا ہے اس کے سوا کسی دوسرے کی عبادت نہ کی جائے گی عبادت کمال اطاعت کا نام ہے بےچون و چرا غلامی یعنی یہ ساری رسومات جو مذاہب کے نام پر بنی ہیں غلط ہیں مذہب متعین کرنا اللہ کا حق ہے دوسرے ہر چیز ہے ہی اس کی مالک وہ ہے کوئی دوسرا تمہیں کیسے دے سکتا ہے وہ جو چاہے دے اور جو نہ چاہے وہ نہیں مل سکتا پھر اس کی ذات ایسی ہے کہ ہر بات کو صرف سنتا ہی نہیں ہر شخص کے اس ھال سے بھی واقف ہے جس سے وہ خود بھی واقف نہیں مانگنا تو ایک کھلی سی بات ہے آدمی تو وہی مانگے گا جس کی ضرورت کا اسے احساس ہوگا مگر اللہ تعالیٰ اس سے بہت زیادہ جانتا ہے خود آدمی کو اپنی موجودہ ضرورت کا بھی صحیح اندازہ نہیں ہوسکتا جبکہ اللہ اس کی آئندہ ضرورتوں کو بھی جانتا ہے۔
اللہ والوں کا کام :
ان سے کہیے کیا یہ انصاف ہوگا کہ ایسی ہستی کو چھوڑ کر اس کے سوا دوسروں کو اپنا مددگار بناؤں اور اپنی ضروریات کے لیے تمہارے فرضی خداؤں کو پکاروں یاد رہے ہر ضرورت کا سوال اللہ تعالیٰ ہی سے کرنا اسلام ہے اور اللہ والوں سے اس کا سلیقہ سیکھا جاتا ہے اسی طرح انبیاء و صلحاء کے توسل سے دعا کرنا جائز ہے جس کی بات لفظ وسیلہ کی بحث میں گزر چکی مانگا بھی اللہ ہی سے جائیگا اور عبادت بھی اسی کی کی جائے گی ۔ پکارا بھی اسی کو جائے گا۔ اس لیے کہ وہ ارض و سما یعنی سب عالم کا بنانے والا ہے وہ خالق ہے باقی سب مخلوق۔ ساری مخلوق خود اپنی بقا کے لیے اس کی محتاج ہے کسی دوسرے کی فریاد رسی کیا کرسکے گی اور وہ کسی کا محتاج نہیں نہ اس کی بارگاہ میں کسی چیز کی کمی ہے ساری مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے خواہ پانی میں ہے یا خشکی پر فضا میں ہے یا آسمان کا فرشتہ سب کی غذا ہے حیوانات اور نباتات کی غذا سے تو عام آدمی واقف ہے فرشتے کی غذا بھی ہے اور وہ ہے ذکر الہی اسی طرح ہر وہ شے جو اللہ کا ذکر کرتی ہے باقی رہتی ہے ورنہ فنا ہوجاتی ہے یعنی ہر شے کو رزق دیا جاتا ہے مگر وہ کسی کا محتاج نہیں نہ اسے رزق کی ضرورت ہے ساری کائنات اس کے قائم رکھنے سے قائم ہے اور وہ خود اپنی ذات سے قائم ہے کسی کا محتاج نہیں ایسی عظیم ذات کو چھوڑ کر اس کے بندوں غلاموں اور محتاجوں کو اپنا معبود مان لوں حالانکہ اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ماننے والوں کے لیے مثال قائم کروں اور اطاعت کرنے والوں میں اپنے آپ کو پہلا آدمی ثابت کروں اور کبھی بھی اس کی ذات یا صفات میں کسی کی شرکت کا تصور دل میں نہ لاؤں۔ میں تو ایسا ہی کروں گا اور تمہیں بھی ایسا ہی کرنا چاہئے کہ یہی انسانیت کی عظمت کا راستہ ہے۔
اس کے خلاف جو راستہ ہے وہ نافرمانی کا راستہ ہے جس پر کسی بھی نبی کا چلنا ممکن نہیں اس لیے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اس میں گناہ اور خطا کا مادہ ہی نہیں ہوتا لیکن اگر بفرض محال نبی بھی اس راستہ پر چل پڑے تو اس کے منطقی انجام ہی کو پالے گا یعنی اللہ کا عذاب جس کا فیصلہ ایک بہت بڑے دن میں کیا جائے گا ایک مثالی دن جس روز ساری انسانیت بیک وقت حاضر ہو کر اپنے اعمال کا بدلہ پائے گی لہذا تم نے اگر یہ راہ اپنائی ہے تو اس میں کوئی جائے پناہ نہیں۔ اور یاد رکھو سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس روز انسان اللہ تعالیٰ کی رحمت کو پا لے اور بخشا جائے مگر کفر رحمت کا محل ہی نہیں یہ تو غضب کا محل ہے ایمان موجود ہو تو خطائیں معاف ہو کر رحمت الہی کی پناہ مل سکتی ہے مگر کافر کے لیے اس کا کوئی موقع نہ ہوگا اور اس روز سے جو زندگی شروع ہوگی وہ کبھی ختم ہوگی نہ بنائی یا بگاڑ جاسکے گی اس دنیا میں سب کچھ کرکے جانا ہے۔
اگر اللہ تم پر مصیبت بھیج دے اور ساری مخلوق مل کر بھی اسے ہٹانا چاہے ہرگز نہ ہٹا سکے گی جب تک وہ خود ہی نہ ہٹا دے اور اگر وہ کوئی نعمت دینا چاہے تو ساری مخلوق مل کر چھین نہیں سکتی وہ خود جو چاہے کرسکتا ہے اور اپنے بندوں پہ اپنی مخلوق پہ اسے مکم اختیار حاصل ہے وہ سب کے حال سے واقف بھی ہے مگر دانا تر ہے اس کی حکمت کے تقاضے کے مطابق دنیا چل رہی ہے ایک ایک کام میں سینکڑوں حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔
ان سب باتوں پہ اگر تمہیں گواہی کی ضرورت ہو تو اللہ سے بڑا گواہ اور کون ہوسکتا ہے اور اس کی گواہی سے بڑی گواہی کا تو کوئی تصور نہیں میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہ ہے کہ میں کس خلوص سے اور کتنی محبت سے تمہیں حق کی طرف دعوت دے رہا ہوں اور اسی غرض سے مجھ پہ یہ قرآن نازل ہوا ہے کہ آنے والے خطرے سے تمہیں بروقت آگاہ کردوں نہ صرف تم بلکہ میرا مخاطب ہر وہ شخص ہے جس تک یہ قرآن پہنچے۔ اسی لیے ارشاد فرمایا کہ میری طرف سے پہنچا دو خواہ تمہارے پاس ایک آیت ہو اور صحابہ فرمایا کرتے تھے کہ جس نے قرآن سن لیا اس نے نہ صرف اللہ تعالیٰ کا کلام سنا آپ ﷺ کی بات اور دعوت بھی سن لی۔ لہذا قیامت تک دنیا کے جس گوشے جس حصے میں یہ کلام پہنچے گا میری بات پہنچتی رہے گی اور لوگوں کو موت سے قبل ان خطرات کی نشاندہی ہوتی رہے گی جو موت کے پردے کے پیچھے ہیں۔
اب تم بتاؤ کیا تم اب بھی یہی کہتے ہو کہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کو بھی عبادت کا حق حاصل ہے اور بھی ہے کوئی عبادت کے قابل اگر تم اس بات پر بضد رہو تو سن لو میں یہ ہرگز نہیں کہتا بلکہ میری شہادت یہ ہے کہ اللہ کی اکیلی ذات ہے جو عبادت کے لائق ہے اور تمہاری تمام مشرکانہ باتوں اور رسومات سے بیزاری اور برات کا اعلان کرتا ہوں۔ رہ گئے یہ اہل کتاب ان کی بابت خود رب جلیل فرماتے ہیں کہ ان کی کتابوں میں اس قدر تفصیل سے نشانیاں اور حالات بیان ہوئے ہیں کہ یہ میرے رسول ﷺ کو اس طرح یقین کے ساتھ پہچانتے ہیں جس طرح کوئی اپنی اولاد کو پہچانتا ہے یا جس طرح یہ خود اپنے بچوں کو پہچانتے ہیں پھر مانتے کیوں نہیں اس لیے کہ انہوں نے خسارے کا سودا کرلیا ہے یعنی گناہ آلود زندگی اپنا لی ہے اور گناہ رفتہ رفتہ دلوں کو سیاہ کردیتا ہے پھر ان میں ایمان قبول کرنے کی اہلیت ہی نہیں رہتی۔
Ayahs 6:21–30رکوع نمبر 3 ۔ آیات 21 تا 30:
اسرار و معارف :
اور یہ تو بدبختی کے اس درجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف کردی اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے یا دولت حاصل کرنے کے لیے وہ کچھ لکھ دیا جو اللہ نے نہیں فرمایا تھا اور جو اللہ کا حکم تھا اسے چھپا دیا یا مٹا دیا جو شخص اپنی خواہشات کا اس قدر اسیر ہو کہ اللہ کی ذات پر جھوٹ بولنے سے نہ چوکے وہ بھلا کسی اور کو معاف کردے گا یا نبی اور رسول کے ساتھ سچ بولے گا ایسے آدمی سے اس کی امید رکھنا ہی فضول ہے کہ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھا جائے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا وہ اللہ کے نام سے کہا جائے یعنی فتوی فروشی کہ حق پہ فیصلہ نہ دیا جائے بلکہ دولت وغیرہ کے لالچ میں اگر کوئی جان بوجھ کر خلاف واقع فتوی دے سکتا ہے تو ایسا انسان ہر گناہ کرسکتا ہے اور یاد رکھو ایسے ظالم انجام کار کبھی اچھے انجام کو نہیں پہنچتے کہ ظلم کا نتیجہ دل کی سیاہی اور ایمان سے محرومی ہوتا ہے بلکہ یوم حشر کو یہ تماشہ دیکھئے گا جب یہ سب لوگ ایک جگہ جمع ہوں گے تو ہم ان مشرکین سے سوال کریں گے کہ تمہارے وہ معبودان باطلہ کہاں ہیں جو تم نے اپنے خیال کے مطابق بنا رکھے تھے اکثر مفسرین کے مطابق یہاں چونکہ اہل کتاب کی بات چل رہی تھی اور ارشاد ہوا کہ انہوں نے دولت یا اقتدار یا ہوا وہوس کی خاطر اللہ کی کتاب تک بدل دی یعنی ان کا معبود اللہ نہ رہا بلکہ وہ چیز معبود قرار پائی جس کی خاطر انہوں نے اسلام کے نام پر کفر تک گھڑ لیا۔
شرک خفی :
یہ شرک خفی ہے جس میں لوگ بظاہر تو اللہ کا سجدہ کرتے ہیں مگر اس سجدے سے بھی دنیا حاصل کرنا یا کوئی خواہش پوری کرنا ہچاتے ہیں۔ اس میں ان نام نہاد مسلمانوں کو ضرور سبق حاصل کرنا چاہئے جنہوں نے اسلام کے نام پر رسومات اور رواجات کو اپنا رکھا ہے حتی کہ برصغیر میں کتنی رسوم ایسی ہیں جو خالص ہندوؤں کی مذہبی رسوم ہیں اور اب اسلام کے نام پر نادان مسلمانوں میں پھیلائی جا رہی ہیں وہاں کوئی چھل فریب تو چل نہ سکے گا۔ نہ ہیرا پھیر ہوگی مگر قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم ہرگز مشرک نہ تھے دنیا میں اوصاف ربوبیت بانٹ رکھے تھے کہیں سے اولاد حاصل کرتے اور کہیں چڑھاوا مال حاصل کرنے کے لیے چڑھاتے کسی کو مشکل میں پکارتے اور کسی کی طرف آسانیاں منسوب کرتے غرض سارا نظام ربوبیت بانٹ کر مختلف ہستیوں کو اپنے خیال کے مطابق ان کاموں پہ لگا رکھا تھا اور ساتھ اسلام کا دعوی بھی تھا جیسے نصاری مبتلائے شرک بھی ہیں اور اہل کتاب بھی کہلاتے ہیں جب میدان حشر میں بات صاف ہوئی کہ کسی نبی یا ولی یا نیک صالح آدمی نے تو نہ ایسا دعوی کیا تھا نہ ایسا کام کرنے کا حکم دیا تھا یہ سب ان کا اپنا وہم تھا جس کی قلعی کھل گئی اب کچھ جواب بن نہیں پڑتا تو بڑی سوچ بچار کے بعد عرض کرتے ہیں اللہ کی قسم اے ہمارے رب ہم مشرک تو نہ تھے۔ فرمایا دیکھئے اپنے کردار کو خود جھٹلا رہے ہیں اس لیے کہ آج سب غلط فہمیاں دور ہوگئیں دور تو دنیا میں بھی ہوسکتی تھیں اگر آپ پر اعتبار کرتے آپ ﷺ کی بات کا یقین کرتے تو دنیا میں ہی بات صاف ہوجاتی۔ مگر وہاں ان بدبختوں کو خواہشات نفس نے اندھا بہرا کردیا تھا آپ اپنے زمانے کے مبتلائے شرک اور مبتلائے وہم لوگوں کو دیکھئے تو سہی کہ آپ کی بات سنتے ہیں۔ اور بڑے کان لگا کر سنتے ہیں انسان ویسے بھی فطرتاً حسن پسند واقعی ہوا ہے بات حسین ترین ہو کہ اللہ کی ہو لب خوبصورت ترین ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کے ہیں آواز بےمثل ہو معانی بےمثال ہوں تو سننے والے کو تو سوائے اس کے کہ دل ہار دے اور کوئی راستہ ہی نہیں مگر ان پر الٹا اثر ہوتا ہے اس لیے کہ دل کی حیات ہے ایمان باللہ اور دل کی قوت ہے اطاعت الہی۔ ان کے پاس دونوں نہیں ہیں نہ یہ حاصل کرنا چاہتے ہیں بلکہ اپنے وہم کے مطابق اپنے خود تراشیدہ خداؤں پہ خوش بیٹھے ہیں۔ اس جرم کی سزا کے طور پر ہم نے ان کے دلوں پر پردے تان دئیے ہیں۔ ظلمات بعضہا فوق بعض۔ تاریکی کے پردے سختی کے پردے اور کان بھی بند کردئیے گئے ہیں ہدایت کی بات نہ ان کی عقل تک پہنچتی ہے کہ ممکن ہے عقلاً توبہ کا فیصلہ کرتے تو دل بھی درست ہوجاتے نہ دل میں قبول کرنے کی طاقت باقی ہے اب یہ کچھ بھی دیکھتے رہیں ہزاروں معجزات بھی انہیں راہ راست پر لانے سے رہے چونکہ ان میں استعداد ہی نہیں رہی بلکہ یہ تو آپ ﷺ سے جھگڑا کرنے آتے ہیں اور اپنے کفر کی وجہ سے انہیں نہ کلام الہی کا حسن متاثر کرتا ہے نہ لب ہائے رسول ﷺ کی چاشنی بلکہ کہتے ہیں یہ پرانے قصے ہیں یہ کونسی کمال کی بات کہ آپ اگلی قوموں کے حالات بیان کرتے پھریں۔ یہ بھی جھوٹ بولتے ہیں قرآن کریم نے کبھی تاریخ کو بطور موضوع ذکر نہیں فرمایا بطور نصیحت یا دلیل اگر کسی واقعہ کا کوئی حصہ مفید تھا تو اتنا ہی حصہ بیان فرمادیا اور بس باقی سب دلائل ہیں عقلی بھی نقلی بھی توحید پر رسالت پر آخرت پر یا احکام ہیں مگر انہیں یہ سب کچھ نظر نہیں آتا دوسروں کو بھی روکتے پھرتے ہیں کہتے ہیں کیا کروگے سن کر اور خود بھی آپ کی تعلیمات سے دور بھاگتے ہیں مگر یہ کسی کا کچھ نہیں بگاڑ رہے کہ جو بھی آپ کی تعلیمات سے دور ہوتا ہے اپنی جان کو اپنے آپ کو تباہی کے منہ میں دے دیتا ہے یہ اور بات ہے کہ انہیں اس کا شعور ہی نہیں یہ سمجھ نہیں پا رہے۔
دل کی تباہی کے اثرات اگر دوبارہ زندگی ملے تو بھی متاثر کریں گے :
آپ دیکھئے گا جب انہیں دوزخ کے کنارے کھڑا کیا جائے گا یعنی جب ان کے دوزخ میں جانے کا فیصلہ ہوچکے گا اور انہیں کنارے پر کھڑا کریں گے کہ اب پھینکے جانے والے ہیں تو یہ کہیں گے اے کا اللہ تعالیٰ ہمیں ایک بار پھر دنیا میں بھیج دے تو کبھی اپنے رب کی باتوں کا انکار نہ کریں اور ماننے کا حق ادا کردیں بڑے پکے ایماندار ثابت ہوں لیکن حقیقت یہ نہیں ہے کہ اب تو ان کا باطن سامنے آگیا اور وہ قلبی کیفیات جو دنیا میں دنیا کی نگاہوں سے پوشیدہ تمہیں میدان حشر میں ہر کسی نے ان کو دیکھ لیا ان کے دل اس طرح سے تباہ ہوچکے ہیں کہ اگر انہیں پھر دنیا میں لوٹا دیا جائے پھر گناہ اور نافرمانی میں مبتلا ہوجائیں گے یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں سب جھوٹ ہے میدان حشر جزا و سزا کی جگہ ہے عمل کی جگہ نہیں کہ یہاں آ کر ان کے دل کی اصلاح ہوگئی ہو اور اس خبث باطن کے ساتھ دوبارہ دنیا میں جائیں تو دوبارہ بھی گناہ ہی کریں گے۔ کیونکہ دل کی اصلاح کا موقع صرف دنیا میں نصیب ہوتا ہے اس کی بنیاد ایمان اور اس کی حیات ذکر قلبی ہے جو اس کی غذا بھی ہے دوا بھی ہے ان دونوں نعمتوں کا دارومدار اس توجہ پر ہے جو انعکاسی طور پر شیخ کے قلب سے نصیب ہوتی ہے اور جس کا سلسلہ اوپر چلتا ہوا نبی اکرم ﷺ تک پہنچتا ہے اگر یہ نعمت نصیب ہو تو کم از کم عقیدہ تو درست ہو اور اگر دنیا سے خالی چلا گیا تو حشر سے لوٹ کر بھی آئے تو کہہ دیں گے کہ یہی دنیا کی زندگی ہے اس میں عیش کرلو میاں کیسی آخرت اور کہاں کا حساب اللہ کریم تو اپنے ذاتی علم سے جانتے ہیں مگر اب تو ان کی اندرونی حالت سب کے سامنے کھل گئی ہے لہذا اس سے بھی صاف پتہ چل رہا ہے کہ اس دل کے مالک دنیا میں جا کر کس کردار کا مظاہرہ کریں گے انہیں دیکھئے گا یہ صرف اس وقت تصدیق کرینگے جب میدان حشر میں حساب کتاب کے لیے پیش ہوں گے تو سوال ہوگا کہ کیا یہ سب کچھ سچ اور درست نہیں ہے آخرت فرشتے جنت و دوزخ جزا و سزا اللہ کی توحید نبی کی رسالت اللہ کی کتاب تم کس بات کو غلط ثابت کرسکتے ہو تو اس وقت کہیں گے اے ہمارے پروردگار یہ سب سچ ہے تو ارشاد ہوگا پھر اس سچ کے مطابق تو تمہارا ٹھکانا جہنم ہے کہ اس نے تمہیں بتا دیا تھا جو کفر پہ مرے گا ہمیشہ جہنم میں رہے گا اب جہنم میں جاؤ اس لیے کہ تم کفر میں ہی مبتلا رہے۔