6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsسراج البیان

Ayah 6:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader

سب تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور تاریکی اور روشنی کو پیدا کیا (ف 1) ۔ پھر یہ کافر اپنے رب کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔

ظلمت ونور : (ف 1) مجوسی تنویث کے قائل تھے ، اور نوروظلمت کو الگ عہد اقرار دیتے تھے ، اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس عقیدے کی تردید کی ہے ، اور فرمایا ہے کہ اندھیرے اور اجالے کو پیدا کرنے والا میں ہوں ، ظلمت ونور سے مراد کفر اور اسلام میں ہو سکتا ہے یعنی خدا نے دونوں راہیں پیدا کی ہیں ، خدا کے نیک بندے ہدایت وصداقت کی تابناک راہ پسند کرتے ہیں ، اور وہ لوگ جن کے دل سیاہ ہیں ، جن سے ہدایت کی توفیق چھن گئی ہے ظلمت کی پگڈنڈی پر ہو لیتے ہیں ۔ اور خدا کے ساتھ دوسروں کو ساجھی ٹھہراتے ہیں ۔ حل لغات : شھید : گواہ مبلغ ، مطلع ۔ توفیتنی : مادہ توفے ، بمعنی وفات یا اٹھا لینا ، لے لینا ۔
Ayahs 6:2–5

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے بنایا ، پھر ایک وقت (موت) ٹھہرایا ، اور ایک وقت اس کے پاس مقرر ہے (یعنی قیامت) پھر بھی (ف 1) ۔ تم شک میں ہو ۔

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں وہی اللہ ہے ، تمہارا خفیہ وآشکارا حال اور جو تم کماتے ہو ‘ وہ جانتا ہے ۔

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

اور جو کوئی آیت بھی اہل مکہ کے پاس ان کے رب کی آیتوں میں سے آتی ہے اسی سے وہ منہ پھیر لیتے ہیں ۔

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

سو وہ حق کو جب ان کے پاس آیا جھٹلاچکے اب آگے اس کا انجام جس پر وہ ہنستے تھے ، ان پر آئے گا ۔

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ سب مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں تم میں کوئی بڑا اور چھوٹا نہیں سب خدا کے حضور میں عاجز اور محتاج ہیں ۔ اس لئے باہمی تفافس وکبر کو چھوڑ دو ، کسی انسان کے سامنے سر نہ جھکاؤ ، اور سب کو برابر سمجھو مٹی سے پیدا ہونے کے معنی یہ ہیں کہ تمہاری زندگی یکسر ارضیت پر موقوف ہے ، نباتات سے لے کر حیوانات تک سب چیزیں مٹی کی محتاج ہیں اس لئے تمہاری تکوین میں مٹی کو بہت زیادہ دخل حاصل ہے لہذا پیشگاہ خداوندی میں ہمیشہ خشوع وخصوع کا اظہار کرو ، اور اپنی فطری بےکسی اور بےمائیگی کو بھول نہ جاؤ ۔ حل لغات : تمترون ۔ مادہ امتراء بمعنی شک کرنا ۔ انبوائ : جمع نباء ، بمعنی خبرواطلاع ۔
Ayah 6:6

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھتے کہ ان سے پہلے ہم نے کس قدر امتوں کو ہلاک کیا ہے ؟ انہیں ہم نے زمین میں اس قدر جمایا کہ اس قدر تمہیں نہیں جمایا اور ہم نے ان پر پے در پے مینہ برسایا ، اور ان کے نیچے نہریں جاری کیں ، پھر ہم نے ان کے گناہوں کے سبب انہیں ہلاک کردیا ، اور ان کے بعد اور امت ہم نے کھڑی کی (ف 1) ۔

تباہی گناہوں سے ہے : (ف 1) اللہ تعالیٰ کا قانون ہے ، وہ ہر قوم کو سرسبز و شاداب کرتا ہے ، اور ہر ملت کو نشو وارتقاء کے مواقع بہم پہنچاتا ہے ، اگر قوم میں صلاحیت ہو ، اور خدا کی اطاعت شعار ہے ، تو پھر زمین ان پر فیوض وانعام کے دریا بہا دیتی ہے اور آسمان کی برکتیں بارش کی طرح نازل ہوتی ہیں اور جب گناہ اور معصیت کے جھگڑ چلنے لگیں ، اس وقت اللہ تعالیٰ کا قانون غضب حرکت میں آجاتا ہے اور بڑی بڑی باقتدار قومیں آن واحد میں صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرف مٹا دی جاتی ہیں ۔ (آیت) ” فاھلکنھم بذنوبھم “۔ میں اسی آیت ہلاکت کی طرف اشارہ ہے ۔
Ayahs 6:7–8

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

اور اگر ہم تجھ پر کاغذ میں لکھی ہوئی کتاب بھی نازل کریں پھر وہ اپنے ہاتھوں سے اسے ٹٹول لیں ، تو بھی کافر ضرور یہی کہیں گے کہ یہ تو صریح جادو ہے (ف 2) ۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اترا اور اگر ہم فرشتہ اتاریں ، تو بات ہی فیصل ہوجائے پھر ان کو مہلت بھی نہ ملے ۔

(ف 2) مقصد یہ ہے کہ مکہ والوں کا جمود وکفر ناقابل اصلاح ہے ، وہ درحقیقت جان بوجھ کر مخالفت کرتے ہیں ، وہ شخص جو سو رہا ہو ، اسے بیدار کیا جاسکتا ہے ، مگر جو بیدار ہو ، اسے کون اپنی طرف متوجہ کرسکتا ہے ، ان کی کیفیت یہ ہے کہ قرآن حکیم کو اپنی آنکھوں سے نازل ہوتا دیکھیں ، جب بھی نہ مانیں ، اور صاف کہہ دیں ، اس میں بھی کچھ بھید ہے ۔ بات یہ ہے کہ جب دلوں میں تاریکی ہو اور بصیرت کی آنکھیں بند کرلی جائیں ، تو اس وقت صداقت کی روشنی دلوں تک نہیں پہنچتی ۔ حل لغات : مدارار : خوب برسنے والا ، مادہ در ۔ انشانا : مادہ انشاء پیدا کرنا ۔
Ayahs 6:9–11

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

اور اگر ہم کسی فرشتے کو رسول بناتے تو اسے آدمی بنا کر بھیجتے اور ان پر وہی شبہ ڈالتے جو وہ اب شبہ کرتے ہیں (ف 1) ۔

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

اور تجھ سے پہلے رسولوں سے ٹھٹھا کیا گیا ہے ، تو جن لوگوں نے ان سے ٹھٹھا کیا تھا ان کو اسی نے آگھیرا جس کا وہ ٹھٹھا کیا کرتے تھے ۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

تو کہہ زمین میں پھرو پھر دیکھو کہ مکذبوں کا کیا انجام ہوا ۔

(ف 1) ان دو آیتوں میں مکہ والوں کے ایک مخصوص شبہ کا جواب ہے ، مکہ والے یہ کہتے تھے کہ ایک انسان ہمارے لئے کیسے راہنما ہو سکتا ہے ، گویا ان کی نخوت انہیں ایک انسان کو نبی ماننے سے ابا کرتی تھی ، ان کا خیال یہ تھا کہ منصب نبوت کسی فرشتہ کو ملنا چاہئے تھا ، قرآن حکیم نے اس اعتراض کے وہ جواب دیئے ہیں ایک تو یہ کہ اگر فرشتہ پیغمبر قرار پاتا ، تو حجت تمام ہو چکتی ، اور تمہارے لئے انکار وتاویل کی قطعی گنجائش نہ رہتی ، اس صورت میں تمہاری ہلاکت یقینی تھی ، پھر اگر فرشتہ ہوتا ، جب بھی انسانی قالب میں ظاہر ہوتا ، اور تمہار اعتراض بدستور قائم رہتا ۔
Ayah 6:12

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

ان سے پوچھ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے ‘ کس کا ہے ، تو کہہ اللہ کا ہے ، اس نے اپنی ذات پر رحمت لکھ لی ہے (ف 2) ۔ قیامت کے دن جس میں کچھ شبہ نہیں ، وہ تم سب کو جمع کرے گا ، جو اپنی جانوں کا نقصان کرتے ہیں ، وہی ایمان نہیں لاتے ۔

(ف 2) اللہ تعالیٰ انتہا درجے کے رحیم ہیں ‘ جب تک کوئی شخص خود جہنم کا کندا بننے کی کوشش نہ کرے ، وہ بخشتے اور معاف کرتے رہیں گے ، (آیت) ” کتب علی نفسہ الحمۃ “۔ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کی فطرت بخشش پسند ہے ، خسارہ اور گھاٹا ان لوگوں کے لئے ہے جو نعمت ایمان سے محروم ہیں ۔
Ayahs 6:13–16

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

اور رات اور دن میں جو کچھ بستا ہے اسی کا ہے اور وہ سنتا جانتا ہے (ف 1) ۔

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader

تو کہہ کیا میں اللہ زمین وآسمان کے خالق کے سوا کسی اور کو دوست بناؤں ؟ وہ سب کو کھلاتا ہے اور اسے کوئی نہیں کھلاتا ، تو کہہ مجھے حکم ملا ہے کہ میں پہلا مسلمان بنوں اور یہ کہ مشرکوں میں سے نہ ہو ۔

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader

تو کہہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader

اس دن جس کسی سے وہ عذاب ہٹایا گیا ، اسی پر رحم ہوا ، اور یہ صریح کامیابی ہے ۔

(ف 1) دن کی روشنی اور رات کی تاریکی میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کی بادشاہت میں داخل ہے وہی سنتا ہے اور وہی دل کی گہرائیوں سے آگاہ ہے ، آسمانوں کو اور زمین کو اسی نے پیدا کیا ہے تمام مخلوق کو کھانا دیتا ہے ، اپنی ذات کے لئے اسے ایک حبہ کی ضرورت نہیں ، اس لئے عبادت اور ستائش کے لئے بھی وہی زیبا ہے ، (آیت) ” اول من اسلم سے مراد پہلا نہیں بلکہ وہ جو اسلام کا مطحی نمائندہ ہو ، یعنی م ” یرؤن الہ الاسلام : حل لغات : فاطر : پیدا کرنے والا ، مادہ فطرت معنی پیدائش تخلیق بعض علماء لغت کے نزدیک فطرت کے معنی بلا ذرائع طبعی کے کسی چیز کو پیدا کرنے کے ہیں ، مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ زمین اور آسمانوں کو بغیر مادہ کی وساطت اور توسل کے بنایا ہے ۔
Ayahs 6:17–18

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader

اور اگر اللہ تجھے کوئی ضرر پہنچائے تو اس کا دور کرنے والا اس کے سوا کوئی نہیں اور جو وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر شے پر قادر ہے (ف 1) ۔

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ حکمت والا خبردار ہے ۔

کاشف ضر صرف اللہ ہے : (ف 1) تمام بندوں پر اللہ کی حکومت ہے سب کے مصالح سے وہ آگاہ ہے ، اس کی طرف سے جب کوئی تکلیف آئے تو پھر کسی شخص کی مجال نہیں کہ اسے دور کرسکے ، اور جب وہ کسی کو آزمائش وابتلا میں ڈال دے تو پھر کون ہے جو اسے ابتداء وآزمائش سے نکال باہر کرسکے ۔ اس لئے مسلمانوں کو ادہام سے بچنا چاہئے اور یہ مضبوط عقیدہ رکھنا چاہئے کہ ہر خیر اور ہر شر اللہ کی جانب سے ہے ،
Ayah 6:19

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader

تو کہہ گواہی کس چیز کی بڑی ہے ؟ تو کہہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے ، اور یہ قرآن میری طرف اتار ہے ، (ف 2) ۔ تاکہ میں اس سے تم کو (اے اہل مکہ) اور جس کو یہ پہنچے اس کو ڈراؤں کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور بھی معبود ہیں ؟ تو کہہ میں گواہی نہ دوں گا ، تو کہہ وہی ایک معبود ہے ، اور جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو میں ان سے بیزار ہوں ۔

(ف 2) قصد یہ ہے کہ قرآن حکیم کا نزول اس لئے ہوا ہے ، تاکہ اس کی ہدایات کو عالمگیر کیا جائے ، اور ہر شخص تک اس کے پیغام پہنچایا جائے ، ھذا القران ۔ سے مراد جلب التفات ہے ، نزول ووحی کا حصر نہیں ۔ یعنی مقصود یہ نہیں کہ قرآن کے علاوہ اور کوئی چیز وحی والہام نہیں ، بلکہ یہ ہے کہ یہ قرآن وحی کی صورت میں نازل اس لئے ہوا ہے تاکہ سب تک پہنچے ۔ حل لغات : تشھدون : مادہ شہادت ۔ گواہی دینا ، اعتراف کرنا ، ماننا ، یہاں مقصود اقرار کرنا ہے ، اس لئے جوابا فرمایا ، قل لا اشھد : یعنی کہ دو ، میں نہیں مانتا ۔
Ayahs 6:20–24

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader

جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو ایسا پہنچاتے ہیں (ف 1) ۔ جنہوں نے اپنی جانیں خسارہ میں ڈالیں وہی ایمان نہیں لاتے ۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے کہ خدا پر جھوٹ باندھے ، یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے ؟ بیشک ظالم لوگ چھٹکارا نہ پائیں گے ۔

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے پوچھیں گے کہ تمہارے وہ شریک جن کا دعوی کرتے تھے کہاں ہیں ۔

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader

پھر ان کا بہانا سوائے اس کے اور کچھ نہ ہوگا کہ کہیں گے کہ ہمیں اللہ اپنے رب کی قسم ہم مشرک ہی نہ تھے ۔

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader

دیکھ اپنی جانوں پر کیسا جھوٹ بولے ، اور کھوئی گئیں ان سے وہ باتیں جو بنایا کرتے تھے ۔

آفتاب نبوت کی درخشانی : (ف 1) اہل کتاب کا جذبہ کتمان حق مشہور ہے اس آیت میں اسی چیز کی طرف اشارہ ہے ۔ یعنی ان کو سابقہ پیشگوئیوں کی وجہ سے یقین ہے کہ حضور ﷺ خدا کے سچے اور موعود نبی ہیں ، اور یہ علم اس درجہ واثق اور غیر مشکوک ہے ، جب طرح ایک باپ کو اپنے بیٹے کے متعلق ، مگر محض ضد اور حبیت نفس کی وجہ سے نہیں مانتے ، (آیت) ” کما یعرفون ابنآء ھم “ ۔ سے غرض یہ بھی ہے کہ وہ وجدانی طور پر حضور ﷺ کے متعلق قطعی علم رکھتے ہیں اس طرح ایک باپ کو اپنے بیٹے کے لئے یہ یقین کرتا ہے اور وہ اسے بیٹا کہنے کے لئے خارجی دلائل کا محتاج نہیں ہوتا ، بلکہ دل کے اندر ایک پدرانہ محبت اور کشش پاتا ہے جس کی وجہ سے وہ اسے اپنا بیٹا سمجھنے پر مجبور ہوجاتا ہے ، اسی طرح یہ لوگ دل میں وجدانی طور پر محسوس کرتے ہیں ، کہ آفتاب نبوت کی شعاعیں ہیں ، جو قلب کے تاریک گوشوں کو روشن کر رہی ہیں ، مگر بربنائے تعصب نہیں مانتے ، دل گواہ ہے واقعات شہادت دیتے ہیں پہلی کتابوں کا حرف حرف اور شوشہ شوشہ اعلان کر رہا ہے مگر یہ نہیں سنتے ، اس لئے ظالم ہیں ، اور جان لیں کہ انہیں کامیابی نہیں ہوگی ، دل کی یہ آواز لبوں تک آئے گی ، اور پھر کائنات کے تمام گوشوں میں پہنچے گی ، اس لئے کہ صداقت بجائے خود شہادت ہے ، اور دلیل سچائی میں پھیل جانے اور مقبول ہوجانے کی قدرتی استعداد ہے ۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب : بہرحال منکر رہیں گے :
Ayahs 6:25–28

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

اور ان میں بعض ہیں کہ تیری طرف (قرآن ) سننے کو کان لگاتے ہیں ‘ اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں کہ نہ سمجھیں ، اور ان کے کانوں میں بوجھ رکھ دیا ہے ، اور اگر وہ سب معجزے بھی دیکھیں تو بھی ان کو نہ مانیں ‘ یہاں تک کہ جب تیرے پاس جھگڑنے آتے ہیں تو کافر کہتے ہیں کہ یہ تو صرف اگلوں کی کہانیاں ہیں (ف 1) ۔

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

اور اس کے ماننے سے منع کرتے اور اس سے بھاگتے ہیں اور وہ اپنی جانوں ہی کو ہلاک کرتے ہیں ، اور نہیں سمجھتے ۔

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

اور کاش تو ان کو اس وقت دیکھ جب آگ پر کھڑے کئے جائیں گے سو کہیں گے کاش کہ ہم پھر دنیا میں بھیجے جائیں تو اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان والوں میں رہیں ۔

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

نہیں بلکہ جو کچھ وہ پہلے چھپاتے تھے اس کا بدلہ اب ان پر کھلا ہے اور اگر وہ پھر دنیا میں بھیجے جائیں تو وہی کریں جو ان کو منع ہوا تھا اور وہ جھوٹ بولتے ہیں ۔

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ یہ ناقابل اصلاح گروہ ہے ، ان کے لد بےحس ہوچکے ہیں فطرتیں بگڑ چکی ہیں ، اب بالکل صلاحیت موجود نہیں کہ قرآن کے اثر کو قبول کریں ، عذر یہ ہے کہ اساطیر اور قصص ہیں جن میں کوئی جدت وصداقت موجود نہیں ، مگر دلوں میں ڈر اس قدر ہے کہ قرآن کے نزدیک نہیں پھٹکتے خود رکتے ہیں ، مجالس وعظ میں نہیں آتے ، قرآن سننے کی کوشش نہیں کرتے ، دوسروں کو روکتے ہیں کہ مبادا اس کا جادو چل جائے اور یہ متاثر ہوجائیں ، جب حالت یہ ہو تو اصلاح کی کیا توقع کی جاسکتی ہے ، حل لغات : اساطیر : جمع اسطورۃ ، فسانہ کہانی ، بات بےحقیقت ۔ ینھون : مادہ فھی معنی وہ منع بھی کرتے ہیں لیت : کاش ، فسوس ۔
Ayahs 6:29–30

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہماری یہی دنیوی زندگی ہے اور ہم پھر جی اٹھنے والے نہیں (ف 1) ۔

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

اور کاش تو ان انکی اس وقت کی حالت دیکھتے جب وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کئی جائیں گے اللہ کہے گا کیا یہ (عذاب) سچ نہ تھا کہ کہیں گے ہمیں اپنے رب کی قسم ضرور سچ تھا کہے گا تم اب اپنی کفر کے بدلے میں عذاب چکھو ۔

(ف 1) یہ قول ان میں سے ان لوگوں کا ہے جن پر یاس ومادیت کا غلبہ ہے یعنی وہ صرف اس زندگی پر قانع ہیں ، آخرت پر ایمان ہے اور نہ بھروسہ ۔ یا حکایت حال مقصود ہے غرض یہ ہے کہ ان کے اعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت پر بالکل ایمان نہیں رکھتے ، یعنی ہر قسم کی نافرمانی اور معصیت کو جائز قرار دیتے ہیں ہتک محادم میں بےباق ہیں ، مظالم ڈھانے میں پیش پیش ہیں ، خیانت عذر ، اور دھوکا ان کے نزدیک بلا تامل درست ہے ، ان لوگوں کو اس وقت معلوم ہوگا جب دنیا ان کو چھوڑ دے گی اور رب قدیر کے سامنے یہ جواب دہ ہوں گے ، حل لغات : یخفون : مادہ اخفا ، چھپانا ، پوشیدہ رکھنا ۔ رد : پھیرنا ، واپس کرنا ، وقف : ڈھیل دینا ، کھڑا کرنا ، مطلع ہونا ، بغتۃ : اچانک ، ناگہان ، غیر متوقع انداز میں ، فرطنا : تقصیر اور کوتاہی کرنا ۔
Ayah 6:31

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

خسارہ میں پڑگئے وہ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھوٹ جانا ، یہاں تک کہ جب اچانک وہ گھڑی ان پر آئے گی ، کہیں گے افسوس ہم نے دنیا میں قصور کیا اور وہ اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے ، سنتا ہے وہ بوجھ برا ہے جو اٹھاتے ہیں (ف 1) ۔

(ف 1) قیامت کے کئی نام ہیں ، ان میں ایک الساعۃ بھی ہے یعنی وقت مقرر اور متعین پر آنے والی ۔ بغتۃ : سے مراد یہ ہے کہ گو وہ مقدر ہے ، مگر دنیا والوں کو اس کا صحیح صحیح علم نہیں وہ اچانک غیر متوقع طور پر آجائے گی ، آیت کا مقصد یہ ہے کہ یہ مکہ والے جو خدا سے نہیں ڈرتے ، جنہیں یوم حساب کا کوئی خوف نہیں ، بےدھڑک اور بلاتامل نافرمانیوں میں مبتلا اور مصروف ہیں ، یہ اس وقت کیا جواب دیں گے ، جب قیامت اچانک آکر ان کی مسرتوں کا خاتمہ کر دے گا ، اور یہ دیکھتے کے دیکھتے رہ جائیں گے ، گناہوں پر پیٹھ لادنے کے معنی یہ ہیں کہ گناہ کا جذر اور بوجھ نتائج کی شکل میں یہ بھگت رہے ہوں گے یا محسوس کر رہے ہوں گے ، یہ بھی ہو سکتا ہے اس وقت اعمال کوئی جسمانی قالب اختیار کرلیں ،
Ayahs 6:32–33

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

اور دنیا کی زندگی تو صرف کھیل تماشا ہے اور ڈرنے والوں کے لئے آخرت کا گھر بہتر ہے ، کیا تم نہیں سمجھتے ؟ (ف 2) ۔

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

ہم جانتے ہیں (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تجھے ان کی باتوں سے غم ہوتا ہے ، سو وہ تجھے نہیں جھٹلاتے بلکہ ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ۔

آخرت کا گھر اچھا ہے : (ف 2) دنیا کی حیثیت اسلام میں صرف یہ ہے کہ یہ عارضی اور فانی مقام ہے اصل جگہ اور مقام آخرت ہے ، یعنی وہ زندگی جو موت کے بعد شروع ہوتی ہے ۔
Ayah 6:34

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

اور تجھ سے پہلے بہت رسول جھٹلائے گئے ‘ وہ اس جھٹلانے اور ایذا پر صابر رہے ‘ یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آئی اور خدا کی باتیں کوئی بدلنے والا نہیں ، اور بیشک تجھے رسولوں کی کچھ خبریں مل چکی ہیں (ف 1) ۔

(ف 1) غرض یہ ہے کہ اللہ کے سچے بندوں کو تکلیفیں پہنچی ہیں ‘ اور انبیاء بالخصوص ستائے جاتے ہیں ، سب پیغمبروں کو جھٹلایا گیا ، سب کو ایذائیں دی گئیں ، اس لئے آپ صبر و استقامت سے کام لیں ، اور گھبرا نہ جائیں آخر میں نصرت واعانت یقینی وحتمی ہے ، یہ خدا کا وعدہ ہے اور خدا کے وعدوں میں کبھی تخلف نہیں ہوتا ۔
Ayahs 6:35–37

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

اور اگر اہل مکہ کی روگردانی تجھ پر گراں گرزتی ہے تو تو اگر کرسکتا ہے تو زمین میں کوئی سرنگ لگا کر یا آسمان میں کوئی سیڑھی تلاش کرکے انہیں کوئی معجزہ لا دے (تو کر دیکھ) اور اگر اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت پر جمع کردیتا ، تو تو نادانوں میں نہ ہو (ف 2) ۔

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

مانتے وہ ہیں ، جو سنتے ہیں ، اور مردوں کو خدا ہی اٹھائے گا ، پھر اس کی طرف جائیں گے ،

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ محمد ﷺ پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشان نازل کیوں نہ ہوا ، تو کہہ اللہ میں قدرت ہے کہ نشان نازل کرے ، لیکن ان میں بہتوں کو سمجھ نہیں ۔

(ف 2) ان آیات کا مقصد یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ شفقت نبوی سے مجبور ہو کر چاہتے ہیں کہ مکہ والوں کو اتمام حجت کے لئے وہ سب کچھ دکھایا جائے جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں ، یعنی خوارق ومعجزات اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ نہایت غلط ذہنیت ہے ، ہم معجزہ طلبی کی اس روح کو پسند نہیں کرتے ، ہمارے لئے سب کچھ ممکن ہے اور کوئی معجزہ یا نشانی ہمارے احاطہ قدرت سے باہر نہیں ، مگر یہ کیا ضرور ہے کہ ان کی ہر خواہش پر قدرت کے قوانین بدل جائیں ۔ اور بات یہ ہے کہ یہ چونکہ روحانی طور پر مردہ ہوچکے ہیں ، اس لئے قطعا سزاوار التفات نہیں (آیت) ” ان کان کبرعلیک اعراضھم “ سے غرض یہ ہے کہ آپ اپنی سی کر دیکھیں ان کی ہر خواہش اور ہر مطالبہ کا احترام کریں ، یہ جب بھی نہیں مانیں گے ، (آیت) ” ولو شآء اللہ لجمعھم علی الھدی “ ۔ سے مقصود اللہ کے اس ہمی گیر قانون کی جانب توجہ دلانا ہے کہ اختلاف ناگزیر ہے ، اس لئے آپ ناحق جان کو ان کی محبت میں تکلیف ، پہنچائیں ۔ حل لغات : نفق : سوراخ راہ ، یستجب : مادہ استیجاب یعنی قبول کرنا ۔