Al-A'raaf 7:6

Al-A'raaf · from ayah 6

7:6

فَلَنَسْـَٔلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَلَنَسْـَٔلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ ۟ۙفَلَنَسۡـئَــلَنَّ الَّذِيۡنَ اُرۡسِلَ اِلَيۡهِمۡ وَلَـنَسۡئَـــلَنَّ الۡمُرۡسَلِيۡنَ

تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان سے بھی پرسش کریں گے اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then We will surely question those to whom [a message] was sent, and We will surely question the messengers.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:6

پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم اُن لوگوں سے باز پرس کریں، جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں (کہ اُنہوں نے پیغام رسانی کا فرض کہاں تک انجام دیا اور انہیں اس کا کیا جواب ملا)

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان سے بھی پرسش کریں گے اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے جن کے پاس پیغمبر بھیجے گئے تھے اور ہم پیغمبروں سے ضرور پوچھیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب ہم ان لووں سے ضرور باز پرس کریں گے جن کے پاس پیغمبر بھیجے گئے تھے، او ہم خود پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے (کہ انہوں نے کیا پیغام پہنچایا، اور انہیں کیا جواب ملا ؟)

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو بیشک ضرور ہمیں پوچھنا ہے ان سے جن کے پاس رسول گئے اور بیشک ضرور ہمیں پوچھنا ہے رسولوں سے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ہم ان لوگوں سے ضرور پرسش کریں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور ہم یقیناً رسولوں سے بھی (ان کی دعوت و تبلیغ کے ردِّ عمل کی نسبت) دریافت کریں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو یقینا ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور یقینا ہم رسولوں سے (بھی) ضرور پوچھیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جن لوگوں کی طرف ہم نے رسول بھیجے تھے ہم ان سے بھی ضرور باز پرس کریں گے اور رسولوں سے بھی ضرور پوچھیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

سو، یاد رکھو، ہم ان لوگوں سے پرسش کریں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور خود رسولوں سے بھی ہم استفسار کریں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر (قیامت کے دن) ہم نے ضرور پوچھنا ہے ان لوگوں سے جن کی طرف رسول بھیجے گئے تھے، اور ہم ضرور پوچھنا ہے رسولوں سے بھی

— مولانا اسحاق مدنی

سو ہم ان لوگوں سے بھی ضرور پوچھیں گے جن کے پاس (پیغمبر) بھیجے گئے تھے اور پیغمبروں سے (بھی) ہم ضرور پوچھیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پس ہم لازماً پوچھ کر رہیں گے ان سے بھی جن کی طرف ہم نے رسولوں کو بھیجا اور لازماً پوچھ کر رہیں گے رسولوں سے بھی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان سے پوچھ گچھ کریں گے اور پیغمبروں کو بھی پوچھیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So We shall call to account those to whom Messengers were sent, and We shall call to account the Messengers (to see how dutifully they conveyed the Message, and how people responded to it).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, We shall ask those to whom the messengers were sent, and We shall ask the messengers (how they conveyed the message).

— Muhammad Taqi Usmani

So, We shall ask those to whom the messengers were sent, and We shall ask the messengers (how they conveyed the message).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then surely, We shall question those (people) to whom it was sent and verily, We shall question the Messengers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then verily We shall question those unto whom (Our message) hath been sent, and verily We shall question the messengers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then We will surely question those to whom [a message] was sent, and We will surely question the messengers.

— Saheeh International

We will certainly question the people and the Messengers sent to them.

— Muhammad Sarwar

Most certainly then We will question those to whom (the apostles) were sent, and most certainly We will also question the apostles;

— Muhammad Habib Shakir

Then We will surely question those to whom were the messengers sent, and We will surely question the sent ones.

— Abdul Majid Daryabadi

Then shall we question those to whom Our message was sent and those by whom We sent it.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–7

سابقہ باغیوں کی بستیوں کے کھنڈرات باعث عبرت ہیں ان لوگوں کو جو ہمارے رسولوں کی مخالفت کرتے تھے انہیں جھٹلاتے تھے تم سے پہلے ہم ہلاک کرچکے ہیں۔ دنیا اور آخرت کی ذلت ان پر برس پڑی، جیسے فرمان ہے تجھ سے اگلے رسولوں سے بھی مذاق کیا گیا، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ مذاق نے انہیں تہو بالا کردیا، ایک اور آیت میں ہے، بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے غارت کردیا جو اب تک الٹی پڑی ہیں اور جگہ ارشاد ہے بہت سے اتراتے ہوئے لوگوں کے شہر ہم نے ویران کردیئے دیکھ لو کہ اب تک ان کے کھنڈرات تمہارے سامنے ہیں جو بہت کم آباد ہوئے۔ حقیقتاً وارث ومالک ہم ہی ہیں ایسے ظالموں کے پاس ہمارے عذاب اچانک آگئے اور وہ اپنی غفلتوں اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْرَاف 6 باز پرس سے مراد روز قیامت کی باز پرس ہے۔ بدکار افراد اور قوموں پر دنیا میں جو عذاب آتا ہے وہ دراصل ان کے اعمال کی باز پرس نہیں ہے اور نہ وہ ان کے جرائم کی پوری سزا ہے۔ بلکہ اس کی حیثیت تو بالکل ایسی ہے جیسے کوئی مجرم جو چھوٹا پھر رہا تھا، اچانک گرفتار کرلیا جائے اور مزید ظلم و فساد کے مواقع اس سے چھین لیے جائیں۔ تاریخ انسانی اس قسم کی گرفتاریوں کی بیشمار نظیروں سے بھر پڑی ہے اور یہ نظیریں اس بات کی ایک صریح علامت ہیں کہ انسان کو دنیا میں شتر بےمہار کی طرح چھوڑ نہیں دیا گیا ہے کہ جو چاہے کرتا پھرے، بلکہ اوپر کوئی طاقت ہے جو ایک حد خاص تک اسے ڈھیل دیتی ہے، تنبیہات پر تنبیہات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–7

(آیت) فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ یعنی قیامت کے روز عوام الناس سے سوال کیا جائے گا کہ ہم نے تمہارے پاس اپنے رسول اور کتابیں بھیجی تھیں، تم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا، اور رسولوں سے پوچھا جائے گا کہ جو پیغام رسالت اور احکام الٓہیہ دے کر ہم نے آپ کو بھیجا تھا وہ آپ حضرات نے اپنی اپنی امتوں کو پہنچا دیئے یا نہیں (اخرجہ البیہقی عن ابن عباس مظہری)۔ اور صحیح مسلم میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے حجة الوداع کے خطبہ میں لوگوں سے سوال کیا کہ قیامت کے روز تم لوگوں سے میرے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ میں نے تم کو اللہ کا پیغام…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ۔ انذار کی تفسیل : ہم ذکر کرچکے ہیں کہ اللہ کے رسول دو چیزوں سے لوگوں کو ڈراتے ہیں۔ ایک اس عذاب سے جو رسول کی تکذیب کرنے والی قوم پر لازماً آتا ہے۔ دوسرے اس جزا و سزا سے لوگوں کو ڈراتے ہیں۔ ایک اس عذاب سے جو رسول کی تکذیب کرنے والی قوم پر لازماً آتا ہے۔ دوسرے اس جزا و سزا سے جس سے آخرت میں ہر شخص کو لازماً دو چار ہونا ہے۔ اوپر والی آیت میں پہلی چیز سے ڈرایا ہے۔ اب آگے اس دوسری چیز سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ فرمایا کہ ایک دن آنے والا ہے جب ہم ان امتوں سے بھی پرسش کریں گے جن کی طرف ہم نے اپنے رسول بھیجے اور خود…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

6۔ 1 امتوں سے پوچھا جائے گا کہ تمہارے پاس پیغمبر آئے تھے ؟ انہوں نے تمہیں ہمارا پیغام پہنچایا تھا ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہاں ! یا اللہ تیرے پیغمبر یقینا ہمار پاس آئے تھے لیکن ہماری قسمت پھوٹی تھی کہ ہم نے ان کی پروا نہیں کی اور پیغمبروں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے ہمارا پیغام اپنی امتوں کو پہنچایا تھا ؟ اور انہوں نے اس کے مقابلے میں کیا رویہ اختیار کیا ؟ پیغمبر سوال کا جواب دیں گے۔ جس کی تفصیل قرآن مجید کے مختلف مقامات پر موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 2–10

2: آپ کو یہ پریشانی نہیں ہونی چاہیے کہ اس کے مضامین کو آپ لوگوں سے کیسے منوائیں گے اور اگر لوگ نہ مانے تو کیا ہوگا ؟ کیونکہ آپ کا فریضہ لوگوں کو ہوشیار اور خبردار کرنا ہے ان کے ماننے نہ ماننے کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 6–9

آیت ” فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِیْنَ أُرْسِلَ إِلَیْْہِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ (6) فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْْہِم بِعِلْمٍ وَمَا کُنَّا غَآئِبِیْنَ (7) وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (8) وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُواْ أَنفُسَہُم بِمَا کَانُواْ بِآیَاتِنَا یِظْلِمُونَ (9) ” پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم ان لوگوں سے باز پرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں ۔ پھر ہم خود پورے علم کے ساتھ ساری سرگزشت ان کے آگے پیش کردیں ‘ آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے اور وزن اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 جن امتوں کی طرف پیغمبر مبعوث ہوئے، ان سے سوال ہوگا (مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ ) 28 ۔ القصص :65) (تم نے ہمارے پیغمبروں کی دعوت کو کہاں تک قبول کیا تھا ؟ ) اور خود پیغمبروں سے پوچھیں گے ماذا اُجِبْتُمْ (تم کو امت کی طرف سے کیا جواب ملا تھا ؟ )

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6 فَلَنَسْءَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْہِمْ وَلَنَسْءَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ یہ فلسفہ رسالت کا بہت اہم موضوع ہے جو اس آیت میں بڑی جلالی شان کے ساتھ آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی طرف رسول کو اس لیے بھیجتا ہے تاکہ وہ اسے خبردار کردے۔ یہ ایک بہت بھاری اور حساس ذمہ داری ہے جو رسول پر ڈالی جاتی ہے۔ اب اگر بالفرض رسول کی طرف سے اس میں ذرا بھی کوتاہی ہوگی تو قوم سے پہلے اس کی پکڑ ہوجائے گی۔ اس کی مثال یوں ہے کہ آپ نے ایک اہم پیغام دے کر کسی آدمی کو اپنے کسی دوست کے پاس بھیجا کہ وہ یہ کام کل تک ضرور کردے ورنہ بہت نقصان ہوگا ‘ لیکن آپ کے اس دوست نے وہ کام نہیں کیا اور آپ کا نقصان ہوگیا۔ اب…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 5–6

5 یعنی اللہ کی گرفت ہمیشہ اس وقت آتی ہے جب انسان اللہ کی تنبیہات سے بےنیاز ہو کر غفلت کی نیند سو جاتا ہے پھر جب اللہ کی گرفت یا اس کا عذاب واقع ہوجاتا ہے تو اس وقت یہ اعتراف کرنے لگتا ہے کہ یہ ہمارا ہی قصور تھا جو ہم غفلت میں پڑے رہے مگر وقت گزرنے کے بعد ایسا اعتراف کوئی فائدہ نہیں دیتا، بلکہ حسرت و یاس کا سبب بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ فرما یہ رہے ہیں کہ تمہارے سامنے بیسیوں ایسی مثالیں موجود ہیں۔ پھر کیا یہ ضروری ہے کہ تم اسی وقت عبرت حاصل کرو جب تم خود عذاب میں گرفتار ہوجاؤ ؟ آخر تم گزشتہ اقوام کے انجام سے کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

7 ۔ ان امتوں سے تو یہ کہ تم نے انبیاء کی دعوت کہاں تک قبول کی ؟ اور پیغمبروں سے یہ کہ تمہاری دعوت کہاں تک قبول کی گئی ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–7

فلا یکن فی صدرک حرج، پہلی آیت میں آپ ﷺ کو خطاب فرماتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے، لہٰذا آپ کو کسی قوم کی دل تنگی نہ ہونی چاہیے، دل تنگی سے مراد یہ ہے کہ قرآن کریم اور اس کے احکام کی تبلیغ میں آپ کو کسی قسم کا خوف اور جھجک نہیں ہونی چاہیے اور اس سے انکار و تکذیب کی صورت میں آپ کو کوفت اور کڑھن نہ ہونی چاہیے (ای یضیق صدرک اَلاَّ یؤمنونوا بہ) قرطبی (یعنی) قیامت کے روز عوام الناس سے سوال کیا جائیگا کہ ہم نے تمہارے پاس اپنے رسول اور کتابیں بھیجی تھیں تم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ اور رسولوں سے پوچھا جائیگا کہ جو پیغام رسالت اور احکام شریعت دیکر ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلنسئلن الذین ارسل الیہم ولنسئلن المرسلین پھر ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے جن کے پاس پیغمبروں کو بھیجا گیا تھا اور پیغمبروں سے بھی ضرور پوچھیں گے۔ بیہقی نے ابو طلحہ ؓ کی سند سے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہم لوگوں سے پوچھیں گے کہ پیغمبروں کی دعوت کا تم نے کیا جواب دیا اور پیغمبروں سے سوال کریں گے کہ تم نے ہمارے احکام پہنچائے یا نہیں۔ ابن مبارک نے وہب (بن منبہ) کا قول بیان کیا ہے کہ قیامت کے دن اسرافیل کو طلب کیا جائے گا اسرافیل لرزتے کپکپاتے حاضر ہوں گے دریافت کیا جائے گا۔ لوح محفوظ نے جو کچھ تم کو دیا تھا تم نے اس کا کیا کیا۔ اسرافیل عرض کریں گے میں نے جبرئیل (…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 3–7

(3۔ 4۔ 5۔ 6۔ 7) اور بہت سے بستیوں والوں کو ہم نے عذاب کے ذریعے ہلاک کردیا ہے، ہمارا عذاب رات کو یا دن کو یا دوپہر کے وقت جب کہ وہ آرام میں تھے پہنچا تو جس وقت ان کی ہلاکت کے لیے ہمارا عذاب نازل ہوا تو ماسوا پنے مشرک ہونے کے اقرار کے اور کچھ ان کی زبان سے نہیں جاری ہوا تو ان قوموں سے پیغمبروں کی اطاعت اور پیغمبروں سے تبلیغ رسالت کے بارے میں ہم ضرور پوچھیں گے، ہم ان کے سامنے پیغمبروں کی تبلیغ اور ان کی قوموں کی اطاعت کو بیان کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ : پچھلی آیت میں جس چیز سے ڈرایا گیا وہ دنیا کا عذاب تھا، اس آیت میں آخرت کے معاملات سے ڈرایا گیا ہے۔ (کبیر) یعنی ہم لوگوں سے تو یہ پوچھیں گے کہ تم نے ہمارے پیغمبروں کی دعوت کو کہاں تک قبول کیا جیسا کہ سورة قصص آیت نمبر (65) میں فرمایا (وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ) اور جس دن وہ انھیں آواز دے۔ پس کہنے لگا تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا اور پیغمبروں سے دریافت کریں گے کہ تم نے لوگوں تک ہمارا پیغام پہنچایا تھا یا نہیں ؟ اور پہنچایا تھا تو انھوں نے کیا جواب دیا تھا ؟ جیسا کہ سورة مائدہ آیت نمبر (109) میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–7

قولہ تعالیٰ : فلنسئلن الذین ارسل الیھم یہ اس پر دلیل ہے کہ کفار سے حساب لیا جائے گا۔ اور قرآن میں ہے : آیت : ثم ان علینا حسابھم ( الغاشیہ) ( پھر یقینا ہمارے ہی ذمہ ان کا حساب لینا ہے) ۔ اور سورة القصص میں ہے : ولا یسئل عن ذنوبھم المجرمون (القصص) ( اور نہیں دریافت کیے جائیں گے مجرموں سے ان کے گناہ) یعنی جب وہ عذاب میں قرار پکڑ اجائیں گے۔ اور آخرت میں کئی وطن ہوں گے۔ ایک وطن ایسا ہوگا جس میں حساب و کتاب کے لیے پوچھ گچھ کی جائے گی اور ایک وطن ایسا ہوگا جس میں ان سے کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔ اور ان سے سوال ( عذاب کو) پختہ کرنے، زجروتوبیخ اور انہیں ذلیل ورسوا کرنے کے لیے ہوں گے۔ اور رسولوں سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 6–7

(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلنسئلن الذین ارسل الیھم ولنسئلن المرسلین “ سے مراد ہے کہ ہم لوگوں سے سوال کریں گے ان چیزوں سے جو انہوں نے جواب دیا تھا پیغمبروں کو اور ہم پیغمبروں سے بھی سوال کریں گے جو انہوں نے تبلیغ کی (یعنی اللہ کا پیغام پہنچایا) لفظ آیت ” لنقصن علیھم بعلم “ یعنی کتاب (اعمال نامہ) رکھا جائے گا قیامت کے دن اور وہ بات کرے گا ان معاملات کے بارے میں جو وہ عمل کرتے تھے۔ (2) امام عبد بن حمید نے عبد بن حمید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلنسئلن الذین ارسل الیھم ولنسئلن المرسلین “ سے مراد ہے کہ ایک ان میں سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ [ تو ہم لازما پوچھیں گے ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں سے ] اُرْسِلَ [ بھیجا گیا ] اِلَيْهِمْ [ جن کی طرف ] وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ [ اور ہم لازما پوچھین گے ] الْمُرْسَلِيْنَ (6) [ بھیجے ہوؤں سے ] نوٹ۔ 1: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ ذمہ دارافسر ہو ۔ تم سب سے اپنے اپنے زیر اثر ماتحتوں کے بارے میں پرسش ہوگی ۔ بادشاہ سے رعایا کے بارے میں ، مرد سے بیوی بچوں کے بارے میں ، عورت سے شوہر کے بارے میں اور خادم سے اس کے آقا کے مال کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ (ابن کثیر) (آیت ۔ 6) ارسل کا نائب فاعل ھو کی ضمیر ہے اس کا مرجع رسول یا مرسل محذوف ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 3–6

قیامت کے دن رسولوں سے اور ان کی امتوں سے سوال اور اعمال کا وزن ان آیات میں آخرت کے سوال و جواب اور عقائد و اعمال کے تولے جانے کا پھر اوزان کے ہلکا بھاری ہونے کا اور اس کے مطابق کامیاب اور نا کام ہونے کا ذکر فرمایا۔ قیامت کے دن امتوں سے سوال ہوگا کہ تمہارے پاس رسول آئے تھے تو تم نے ان کو کیا جواب دیا تھا کمافی سورة القصص (وَ یَوْمَ یُنَادِیْھِمْ فَیَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ ) اور حضرات رُسُلِ عظام و انبیاء کرام (علیہ السلام) سے بھی سوال ہوگا کہ کیا آپ حضرات نے ہمارا پیغام پہنچایا اور یہ بھی سوال ہوگا کہ امتوں نے اس کا کیا جواب دیا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–18

قال اللہ تعالیٰ ۔ المص۔ کتاب انزل الیک۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانو بایاتنا یظلمون (ربط) گذشتہ سورت کے آخری رکوع میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم اور اس کی ترغیب تھی اور اس سے انحراف اور اعراض پر نزول عذاب کی وعید تھی اور اسی بناء پر گزشتہ سورت کے آخری رکوع کو ان ربک سریع العقاب وانہ لغفور رحیم پر ختم فرمایا اب اس سورت کے آغاز میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم دیتے ہیں اور گزشتہ امتوں کے منکرین حق اور مکذبین حق کی ہلاکت اور بربادی کا ذکر کرتے ہیں تاکہ منکرین قرآن اس سے عبرت پکڑیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ المص سورة بقرہ کے شروع ہی میں اس قسم کے حروف مقطعات کے متعلق مفسرین کے اقوال بسط اور تفصیل کے ساستھ گزر چکے ہیں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

حروف مقطعات اس سورة مبارکہ کی ابتداء حروف مقطعات المص ہ سے کی گئی ہے ان حروف کے معانی کے متعلق مفسرین نے مختلف تاویلات پیش کی ہیں تاہم یقین کے ساتھ ان کے معانی کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا تفسیر جلالین میں علامہ جلال الدین سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہ ان حروف کے متعلق اسی حد تک اعتقاد رکھنا چاہیے اللہ اعلم بمرادہ بذالک (امنا و صدفنا) ان کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ہم اسی پر ایمان لاتے ہیں اور اسی کی تصدیق کرتے ہیں لہٰذا ان حروف کے معانی و مطالب کے سلسلے میں یہی طریقہ اختیار کرنا زیادہ اسلم ہے تاکہ انسان گمراہی اور فتنے سے بچ سکے تاہم امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے اپنے ذوقی اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْہِمْ وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ۝ 6 ۙ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–8

ترکیب : الذین صلہ و موصولہ مفعول ہے لنسئلن کا بعلم لنقصن سے متعلق یا مفعول اس کا علیہم فعل سے متعلق۔ والوزن مبتدا یومئذ ثابت کے متعلق ہو کر خبر الحق الوزن کی صفت اور بھی احتمال ہے۔ تفسیر : رسول کو تبلیغ پر اور امت کو قبول پر مامور کرکے اول رسول کی مخالفت کا دنیاوی نتیجہ بیان فرمایا تھا کہ ہم ان کو یکایک مبتلائے بلا کردیں گے (مسلمانوں پر جو آج کل نحوست ہے وہ نافرمانی رسول کریم ﷺ کا نتیجہ ہے) اب یہاں آخرت کا نتیجہ بیان کرتا ہے اور ضمناً عالم آخرت میں پیش آنے والی حالتیں بھی بیان فرماتا ہے۔ اول یہ کہ ہم ان لوگوں سے کہ جن کے پاس رسول یا ان کے نائب آئے اور انہوں نے نہ مانا ٗ بازپرس کریں گے اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 6–7

ارشاد فرمایا : فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْھِمْ وَلَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْھِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا کُنَّا غَآئِبِیْنَ ۔ (الاعراف : 6، 7) ” سو یاد رکھو ہم ان لوگوں سے پرسش کریں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور خود رسولوں سے بھی ہم استفسار کریں گے پھر ہم ان کے سامنے سب بیان کریں گے پورے علم کے ساتھ اور ہم کہیں غائب نہیں رہے “۔ انذار کی تفصیل سب سے پہلے ان آیات کے اسلوب پر غور کیجیے کہ اس کے تیور کس قدر تیکھے ہیں یہ تصور دیا جا رہا ہے کہ ذرا اس وقت کو ذہن میں تازہ کرو جب تم سب اپنی ان تمام بےایمانیوں اور بد اعمالیوں سمیت اور اپنے تمام پندار اور تکبر و غرور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–7

فہم القرآن ربط کلام : قوم کس قدر بھی اکھڑ مزاج ہو اور تباہی کے گڑھے پر کھڑی ہو اسے آخر وقت تک سمجھانا۔ انبیاء ( علیہ السلام) کی سنت ہے کیونکہ ہر نبی سے اپنی امت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ جس طرح نبی سے اس کی امت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اسی طرح امت سے سوال ہوگا کہ اس نے اپنے نبی کی دعوت کا کیا جواب دیا۔ چناچہ قیامت کے دن تمام انبیاء ( علیہ السلام) وقت مقررہ کے مطابق اپنی اپنی امت کو لے کر عدالت کبریا میں حاضر ہوں گے سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) رب کی بارگاہ میں پیش ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر فرد کے سامنے اس کا اعمال نامہ پیش فرمائیں گے۔ جس میں ایک بات بھی حقیقت کے خلاف نہ ہوگی۔ کیونکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قیامت کی مسئولیت برائے توبیخ : آیت 6: فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْھِمْ (پھر ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے جن کے پاس پیغمبروں کو بھیجا گیا تھا) اُرْسِلَ کا اسناد اِلَیْہِمْ کی طرف ہے مطلب یہ ہوا فلنسألن المرسل الیھم وھم الامم۔ ہم ضرور امتوں سے سوال کریں گے کہ انہوں نے رسولوں کو کیا جواب دیا۔ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ (اور پیغمبروں سے بھی ضرور پوچھیں گے کہ) ان کو کیا جواب ملا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(6) (فلنسئلن الذین ارسل الیھم) یعنی امتوں سے کہ انہوں نے رسولوں کو کیا جواب دیا یہ سوال تو بیخی ہے یہ جاننے کے لئے سوال نہیں ہے۔ یعنی ہم ان سے سوال کریں گے ان کے بارے میں جو ان کو رسولوں نے پہنچا دی ہیں۔ (ولنسئلن المرسلین) پیغام پہنچانے کے بارے میں ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 4–7

(4 ۔ 7) ۔ اوپر کی فہمائش کے بعد ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو یوں ڈرایا ہے کہ جب تم سے پچھلے لوگوں نے کفر وشرک نہ چھوڑا اور خدا تعالیٰ کے حکموں اور رسولوں کی فرمانبرداری نہ کی تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رسولوں کی مخالفت کے سبب سے ان نافرمانوں کی بہت سی بستیاں تباہ کردی گئیں دونوں جہان کی ذلت ان کو حاصل ہوئی تم لوگ بھی الگ اللہ کے رسول کی نافرمانی سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی یہی انجام ہونے والا ہے قوم لوط (علیہ السلام) پر رات کے وقت اور قوم شعیب (علیہ السلام) پر دوپہر کے وقت عذاب الٰہی نازل ہوا تھا یہ دونوں وقت نہایت آرام و غفلت کے ہوتے ہیں ایسے ہی وقت میں خدا کا عذاب یکایک اترا اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–8

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ سے قرآن کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (کتب انزل الیک) ” یہ کتاب اتاری گئی ہے آپ پر ‘ یعنی یہ نہایت جلیل القدر کتاب جو ان امور پر مشتمل ہے جن کے بندے محتاج ہیں اور اس میں تمام مطالب الہیہ اور مقاصد شرعیہ محکم اور فمصل طور پر موجود ہیں (فلایکن فی صدرک حرج منہ) ” پس آپ کا سینہ اس (کے پہنچانے) سے تنگ نہ ہو “ یعنی آپ کے دل میں کوئی تنگی اور شک و شبہ نہ ہو۔ تاکہ آپ جان لیں کہ یہ حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور سب سے سچا کلام ہے۔ (لایتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ) (حم السجدہ :62/31) ” باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 3–16

پیروی قرآن قول باری ہے اتبعواماانزل الیکم من ربکم۔ لوگوں جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو) اس کا مفہوم یہ ہے کہ بندوں کے تمام تصرفات کا دائرہ اللہ کے حکم کی مراد تک محدود ہو یعنی اس کے حکم کی جو مراد ہو اس کے بندے اس کے مطابق عمل کریں۔ یہ اہتمام یعنی اقتداء کی نظیر ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکم کی مراد کی اتباع اور اس پر عمل میں اس کی اس طرح اقتداء کی جائے کہ وہ اس کے دائرہ تدبیر سے خارج نہ ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیا مباح پر عمل کرنے والا اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے ؟ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ایسا شخص اس وقت اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے جب وہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 6–7

10 روز قیامت کی باز پرس کی تذکیر و یاددہانی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا اور اس بات کی تصریح فرما دی گئی کہ قیامت کے دن ضرور پوچھ ہوگی کہ انہوں نے پیغمبروں کی تبلیغ اور دعوت حق کا کیا جواب دیا تھا۔ سو ان سے یہ سوال ان کی تقبیح و توبیخ کیلئے ہوگا جس کے بعد ان کو اس انجام کے حوالے کردیا جائے گا جسکے وہ اپنے کفر و انکار کی بناء پر مستحق ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو روز قیامت کی اس پرسش و پوچھ سے غفلت و لاپرواہی بڑے ہی ہولناک خسارے کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین پر جو عذاب دنیا میں آئے انہی پر بس نہیں اور اس سے وہ اخروی عذاب سے چھوٹ نہیں جائیں گے بلکہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 4–7

گناہوں پر عذاب تشریح : یہاں اس عذاب کا ذکر کیا جا رہا ہے جو گزشتہ نافرمان قوموں پر آچکے ہیں۔ اللہ رب العزت بڑا مہربان ہے کہ اس نے بندوں کی ہدایت کے لیے رسول اور آسمانی کتابیں نازل فرمائیں مگر اس کے ساتھ ساتھ رب العالمین بڑا سخت حساب لینے والا اور بڑی سخت سزا دینے والا بھی ہے۔ قرآن مجید میں بڑی تفصیل سے ان قوموں کا ذکر کیا گیا ہے جن کو بڑی مہلت دی گئی اور بالآخر ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر عذاب الٰہی نازل ہوا۔ اور یہ تو محض ہلاکت ہی تھی اعمال کا بدلہ تو قیامت کے بعد دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ کرے گا، حالانکہ وہ سب کے اعمال و کردار سے پوری طرح واقف ہے، پھر بھی وہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

رکوع نمبر 1 ۔ آیات نمبر 1 تا 10 ۔ اسرار و معارف : کتاب کا مفہوم : حفورف مقطعات کے متعلق شروع میں ہی عرض کیا جا چکا ہے کہ انھا سر بین اللہ ورسولہ نیز جنہیں قلب اطہر سے نسبت تام نصیب ہوجائے اللہ کی عطا سے وہ بھی اپنی حیثیت کے مطابق آگاہ ہوجاتے ہیں ان پر ایمان ضروری ہے اور تلاوت سے وہ فائدہ جو مقصود ہے نصیب ہوجاتا ہے لہذا ہر کس و ناکس کو معافی کی کرید نہ کرنا چاہئے۔ یہ کتاب ہے جامع مکمل اور سچی محض اوراق لکھ کر جوڑ دینا کتاب کا مفہوم ادا نہیں کرتا اس لیے کہ ہر کتاب کسی موضوع پر ہوتی ہے اور حق یہ ہے کہ اسے موضوع کے بارے مکمل سچی اور حتی بات قاری تک پہنچانا چاہئے۔ انسانی اندازے تو ہوتے ہیں قطعی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 14 پہلی تہدید کا تعلق دنیا میں عذاب کے ساتھ تھا اور اب اس آیت میں تہدید اخروی کا مذکور ہے (کبیر) یعنی لوگوں سے تو یہ دریافت کریں گے کہ تم نے ہمارے پیغمبر کی دعوت کو کہا تک قبول کیا اور پیغمبر سے دریافت کریں گے کہ تم نے لوگوں تک ہمارا پیغام پہنچایا تھا یا نہیں ؟ اس سوال سے مقصود تقریع و توبیخ ہے۔ (کبیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:6) فلنسئلن الذین ارسل الیہم ۔ لنسئلن مضارع جمع متکلم ۔ بالام تاکید و نون ثقیلہ سو ہم ضرور پوچھیں گے۔ الذین ارسل الیہم۔ ان لوگوں سے جن کی طرف رسول بھیجے گئے تھے (کہ انہوں نے رسولوں کا کہاں تک اتباع کیا۔ المرسلین۔ رسولوں سے (کہ انہوں نے خدا کا پیغام پہنچا دیا) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 6–10

لغات القرآن : آیت نمبر 6 تا 10 : نسئلن (ہم ضرور پوچھیں گے) نقصن ( ہم ضرور بتائیں گے) غآ ئبین ( غائب رہنے والے) ثقلت (بھاری ہوئے) موازین ( موزون) ۔ وزن۔ تول ‘ خفت (ہلکے ہوئے) خسروا (انہوں نے نقصان اٹھایا) ‘ مکنا ( ہم نے ٹھکانا دیا (معایش (معیشۃ) ۔ زندگی گذارنے کا سامان۔ تشریح : آیت نمبر 6 تا 10 : سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 4 تا 5 میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی بستیوں اور شہر والوں کا ذکر کیا ہے جن کے برے اعمال اور بد کرداریوں کی وجہ سے مختلف وقتوں میں مختلف عذاب آئے ‘ کسی قوم کی شکل بدل دی گئی ‘ کہیں پتھربرسائے گئیے ‘ بہت سی بستیوں کو ان پر الٹ دیا گیا ‘ زلزلے ‘ سیلاب بیماریوں اور آفتوں میں مبتلا کیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–8

حشر کا بیان مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے قیامت کے دن عملوں کو ایک طرح کا جسم دیا جائے گا جس سے جسم میں نیکی کے سبب سے ایک بھاری پر اور بدی کے سبب سے ہلکا پن ہوگا۔ اب عملوں کے تولے جانے کے بعد جن کے نیک عملوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ جنتی قرار پاویں گے، اور جن کا نیکی کا پلڑا ہلکا ہوگا وہ دوزخ میں جاویں گے۔ دوزخ میں جانے کے بعد جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا آخر کو وہ دوزخ سے نکال کر جنت میں بھیجا جاوے گا، اور برابر والا اعراف پر، جنتیوں اور دوزخیوں کے فیصلہ آخیر تک ٹھہرائے جا کر پھر جنت میں جاوے گا۔ اعراف : جنت اور دوزخ کے درمیان ایک دیوار ہے۔ قیامت کے تین مقام بڑے خوفناک اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 3–11

[2] یعنی تمہارے باپ آدم کو۔ [3] یعنی تمہارے باپ آدم کی صورت بنائی۔ [4] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 28 صفحہ 96۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–8

(ف 3) یعنی جب لوگوں نے احکام الہی کو تمردو سرکشی کی وجہ سے ٹھکرا دیا ہے تو عذاب نے آگھیرا ہے ، رات کو سوئے ہیں ، اور پھر نہیں اٹھے ، یا دن کو دوپہر کے وقت لیٹے ہیں ، اور خدا کی غیر جوش میں آگئی ، بستیاں الٹ گئیں ، اور یہ مٹ گئے ، (آیت) ” فلنسئلن “ سے مراد یہ ہے کہ یہ سب کچھ اتمام حجت کے بعد ہوگا ، مجرم پکار اٹھیں گئے کہ واقعی ہم سزاوار تعزیر تھے اور انبیاء (علیہم السلام) برملا کہہ دیں گے کہ ہم نے تمام احکام بلاکم وکاست ان لوگوں تک پہنچا دیئے ، حل لغات : بیاتا : سوتے وقت بیات کے معنی رات گزارنے ، کے ہیں ، بیت : اس گھر کو کہتے ہیں جن میں رات گزاری جائیے ، قائلون : ، قیلولۃ یعنی دوپہر کو آرام…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

6 پھر اس سزا کے بعد ہم قیامت میں ان لوگوں سے بھی باز پرس کریں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے تھے اور خود رسولوں سے بھی پوچھیں گے اور ضرور دریافت کریں گے۔ یعنی امتوں سے یہ پوچھا جائے گا کہ تم نے رسولوں کا کہنا مانا یا نہیں اور رسولوں سے یہ کہ تمہاری امتوں نے تمہیں کیا جواب دیا اور تمہاری دعوت کو سن کر قبول کیا یا نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یقیناً ہم ان لوگوں سے بھی سوال کریں گے جن کی طرف رسول بھیجے اور رسولوں سے بھی : 6: پیچھے آپ پڑھ آئے کہ اللہ کے رسول دو چیزوں سے لوگوں کو ڈراتے تھے ایک اس عذاب سے جو رسول کی تکذیب کرنے والی قوم پر لازماً آتا ہے دوسرے اس جزا سزا سے جس سے آخرت میں ہر شخص کو لازماً دو چار ہونا ہے۔ اوپر والی آیت میں پہلی چیز سے ڈرایا گیا اور اب دوسری چیز سے ان کو آگاہ کیا جارہا ہے کہ ایک دن آنے والا ہے جب ان امتوں سے بھی پرسش کریں گے جن کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور خود رسولوں سے بھی سوال کریں گے۔ امتوں سے جو پرسش ہونا ہے اس کی تفصیل قرآن کریم میں آچکی ہے فرمایا : ” ہر بار جب کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا تو اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

The statement: فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْ‌سِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْ‌سَلِينَ ﴿6﴾ in verse 6 refers to the day of Qiyamah when people will be asked by Allah how did they receive the messengers and Books sent to them by Him - and the messengers will be asked if they did convey to their communities the message and injunctions Allah had sent them with. (Narrated by Baihaqi from Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ - Mazhari) It appears in Sahib Muslim on the authority of a narration from Sayyidna Jabir ؓ that the Holy Prophet ﷺ asked people during the address of his Last Hajj: When, on the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6. The words 'call to account' refers to the questioning people will be subjected to on the Day of Judgement. For it is the reckoning on the Day, of Judgement that really matters. Punishment dealt upon corrupt individuals and communities in this world does not constitute their true punishment. Punishment in this world is no more than what happens when a criminal, who has been strutting scot-free, is suddenly arrested. The arrest constitutes no more than depriving the criminal of the opportunity to perpetrate further crimes. The annals of history are filled with instances where corrupt nations…

Read the full tafseer →