Al-A'raaf 7:42

Al-A'raaf · from ayah 42

7:42

وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ ؗ— اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ— هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ۟وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُـكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَاۤ اُولٰۤئِكَ اَصۡحٰبُ الۡجَـنَّةِ‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ

اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ہم (عملوں کے لیے) کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے ہی لوگ اہل بہشت ہیں (کہ) اس میں ہمیشہ رہیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But those who believed and did righteous deeds - We charge no soul except [within] its capacity. Those are the companions of Paradise; they will abide therein eternally.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 5 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:42

بخلاف اس کے جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا ہے اور اچھے کام کیے ہیں اور اس باب میں ہم ہر ایک کو اس کی استطاعت ہی کے مطابق ذمہ دار ٹھیراتے ہیں وہ اہل جنت ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ہم (عملوں کے لیے) کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے ہی لوگ اہل بہشت ہیں (کہ) اس میں ہمیشہ رہیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک کام کئے ہم کسی شخص کو اس کی قدرت سے زیاده کسی کا مکلف نہیں بناتے وہی لوگ جنت والے ہیں اور وه اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں (یاد رہے کہ) ہم کسی بھی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کی تکلیف نہیں دیتے۔ تو ایسے لوگ جنت کے باسی ہیں۔ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ جو ایمان لائے اور طاقت بھر اچھے کام کیے ہم کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں رکھتے، وہ جنت والے ہیں، انہیں اس میں ہمیشہ رہنا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلّف نہیں کرتے، یہی لوگ اہلِ جنت ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، ہم کسی شخص کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتے، یہ لوگ جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

البتہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے اور ہم ہر شخص کو اس کی طاقت کے مطابق ہی مکلف بناتے ہیں، تو یہی لوگ اہل جنت ہیں، جس میں وہ ہمیشہ رہا کریں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کیے، ہم کسی جان پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔ وہی جنت والے ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (اس کے برعکس) جو لوگ ایمان لائے ہوں گے (صدق دل سے) انہوں نے کام بھی نیک کئے ہوں گے، اور ہم کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے، تو ایسے لوگ جنتی ہوں گے، جہاں انہیں ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ہم کسی شخص کے ذمہ اس کی قدرت سے زائد کام نہیں رکھتے یہی لوگ تو جنت والے ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے۔۔ ہم کسی جان کو ذمہ دار نہیں ٹھہرائیں گے مگر اس کی وسعت کے مطابق۔۔ وہی ہوں گے جنت والے اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور ہم (اعمال کے لیے) کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے ہی لوگ جنت کے وارث ہیں اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

And those who believe and do good - We do not impose upon any of them a burden beyond his capacity. They are the people of Paradise. And there they shall abide.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those who believe and do good deeds,__We do not obligate anyone beyond his capacity___they are the people of Paradise; they shall remain there for ever.

— Muhammad Taqi Usmani

Those who believe and do good deeds,__We do not obligate anyone beyond his capacity___they are the people of Paradise; they shall remain there for ever.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But those who believed, and worked righteousness -- We burden not any person beyond his scope -- such are the dwellers of Paradise. They will abide therein.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But (as for) those who believe and do good works - We tax not any soul beyond its scope - Such are rightful owners of the Garden. They abide therein.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But those who believed and did righteous deeds - We charge no soul except [within] its capacity. Those are the companions of Paradise; they will abide therein eternally.

— Saheeh International

The righteously striving believers - We do not impose on any soul that which is beyond its ability - are the dwellers of Paradise wherein they will live forever.

— Muhammad Sarwar

And (as for) those who believe and do good We do not impose on any soul a duty except to the extent of its ability-- they are the dwellers of the garden; in it they shall abide.

— Muhammad Habib Shakir

And those who believed and worked righteous works-We burthen not a soul except according to its capacity, they shall be fellows of the Garden; therein they shell be abiders.

— Abdul Majid Daryabadi

But those who believe and work righteousness,- no burden do We place on any soul, but that which it can bear,- they will be Companions of the Garden, therein to dwell (for ever).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:42

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 42–43

اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل انسانی بس میں ہے ! اوپر گنہگاروں کا ذکر ہوا یہاں اب نیک بختوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ جن کے دل میں ایمان ہے اور جو اپنے جسم سے قرآن و حدیث کے مطابق کام کرتے ہیں بخلاف بدکاروں کے کہ وہ دل میں کفر رکھتے ہیں اور عمل سے دور بھاگتے ہیں۔ پھر فرمان ہے کہ ایمان اور نیکیاں انسان کے بس میں ہیں اللہ کے احکام انسانی طاقت سے زیادہ نہیں ہیں۔ ایسے لوگ جنتی ہیں اور ہمیشہ جنت میں ہی رہیں گے۔ ان کے دلوں میں سے آپس کی کدورتیں حد بغض دور کردیئے جائیں گے۔ چناچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ مومن آگ سے چھٹکارا حاصل کر کے جنت و دوزخ کے درمیان ایک ہی پل پر روک دیئے جائیں گے وہاں ان کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 40–43

سورة الْاَعْرَاف 32 یعنی دنیا کی زندگی میں ان نیک لوگوں کے درمیان اگر کچھ رنجشیں، بدمزگیاں اور آپس کی غلط فہمیاں رہی ہوں تو آخرت میں وہ سب دور کردی جائیں گی۔ ان کے دل ایک دوسرے سے صاف ہوجائیں گے۔ وہ مخلص دوستوں کی حیثیت سے جنت میں داخل ہوں گے۔ ان میں سے کسی کو یہ دیکھ کر تکلیف نہ ہوگی کہ فلاں جو میرا مخالف تھا اور فلاں جو مجھ سے لڑا تھا اور فلاں جس نے مجھ پر تنقید کی تھی، آج وہ بھی اس ضیافت میں میرے ساتھ شریک ہے۔ اسی آیت کو پڑھ کر حضرت علی ؓ نے فرمایا تھا کہ مجھے امید ہے کہ اللہ میرے اور عثمان ؓ اور طلحہ ؓ اور زبیر ؓ کے درمیان بھی صفائی کراوے گا۔ اس آیت کو اگر ہم زیادہ وسیع نظر سے دیکھیں تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تیسری آیت میں احکام خداوندی کی پیروی اور پابندی کرنے والوں کا ذکر ہے، کہ یہ لوگ جنت والے ہیں اور جنت ہی میں ہمیشہ رہیں گے۔ احکام شریعت میں سہولت کی رعایت لیکن ان کے لئے جہاں یہ شرط ذکر کی گئی ہے کہ وہ ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں، اس کے ساتھ ہی رحمت و کرم سے یہ بھی فرما دیا (آیت) لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَآ جس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی بندہ پر کوئی ایسا بوجھل کام نہیں ڈالتے جو اس کی طاقت سے باہر ہو، مقصود یہ ہے کہ اعمال صالحہ جن کو دخول جنت کے لئے شرط کہا گیا ہے وہ کوئی بہت مشکل کام نہیں جو انسان نہ کرسکے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے احکام شریعت کو ہر شعبہ میں نرم اور آسان کردیا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَآ ۡ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۔ اب یہ مقابلہ کے اصول پر اہل ایمان کا حال بیان ہو رہا ہے کہ وہ جنت میں کس طرح خوش و خرم، ایک دوسرے سے راضی و مطمئن اور اللہ کی توفیق ہدایت اور رسولوں کی رہنمائی پر کس طرح سراپا شکر وسپاس ہوں گے۔ آیت میں لانکلف نفسا وسعہا کا ٹکڑا بطور جملہ معترضہ ہے جس سے یہ اطمینات دلا دیا کہ یہ ذمہ داری اللہ نے اپنے بندوں پر ان کی حد وسع سے زیادہ نہیں ڈالی ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ ایسا بوجھ ہے جو اٹھایا نہیں جاسکتا۔ یہ ذمہ داری بس اسی حد تک ہے جس حد تک بندوں کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

42۔ 1 یہ جملہ معترضہ ہے جس سے مقصود یہ بتانا ہے کہ ایمان اور عمل صالح، یہ ایسی چیزیں نہیں ہیں کہ جو انسانی طاقت سے زیادہ ہوں اور انسان ان پر عمل کرنے کی قدرت نہ رکھتے ہوں، بلکہ ہر انسان ان کو باآسانی اپنا سکتا ہے اور ان کے عمل کو بروئے کار لاسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

23: نیک عمل کے ذکر کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جملہ معترضہ کے طور پر یہ وضاحت فرمادی کہ نیک عمل کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے جو انسان کی طاقت سے باہر ہو کیونکہ ہم نے کوئی حکم انسانوں کو ایسا نہیں دیا جو ان کی استطاعت میں نہ ہو، نیز شاید اشارہ اس طرف بھی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی طاقت کی حد تک نیک عمل کرنے کی کوشش کررہا ہو اور پھر اس سے کوئی بھول چوک ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس پر گرفت نہیں فرماتے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 42–43

آیت ” نمبر 42 تا 43۔ یہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنی استطاعت کے مطابق عمل کیا (کیونکہ اللہ کی جانب سے صرف وہی فرائض عائد کئے جاتے ہیں جن پر عمل ممکن ہوتا ہے) تو یہ لوگ ان باغوں کی طرف لوٹیں گے جو ان کیلئے تیار کیے گئے ہیں ۔ یہ لوگ اللہ کے فضل وکرم کی وجہ سے ان جنتوں کے مالک ہوں گے اور اس نے ان لوگوں کو ان جنتوں کا وارث ومالک بنا دیا ہے ۔ اور یہ اس لئے کہ انہوں نے ایمان کے بعد عمل صالح کو اپنایا اور یہ باغات اس بات کا صلہ ہیں کہ انہوں نے رسولوں کا اتباع کیا اور شیطان کے مخالف چلے ۔ انہوں نے اللہ رحیم وکریم کے احکام مانے اور شیطان رجیم کی معصیت کی لیکن یہ سب کچھ اللہ کی رحمت سے ممکن ہوا ۔ اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 (لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَآ) 7 ۔ الاعراف :42) جملہ معترضہ ہے جس سے درمیان میں متنبہ فرما دیا کہ ایمان و عمل صالح جس پر اتنا عظیم الشان صلہ مرحمت ہوتا ہے کوئی ایسی مشکل چیز نہیں جو انسان کی طاقت سے باہر ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہر آدمی سے عمل صالح اس قدر مطلوب ہے جتنا اس کی مقدرت اور طاقت میں ہو اس سے زائد کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 42 وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لاَ نُکَلِّفُ نَفْسًا الاَّ وُسْعَہَآز اولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِج ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ یہ مضمون سورة البقرۃ کی آخری آیت میں بھی آچکا ہے۔ اب یہاں پھر دہرایا گیا ہے کہ آخرت کا محاسبہ انفرادی طور پر ہوگا اور ہر فرد کی صلاحیتوں اور اس کو ودیعت کی گئی نعمتوں کے عین مطابق ہوگا۔ کسی کی استطاعت سے زیادہ کی ذمہ داری اس پر نہیں ڈالی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

41 یعنی جنت میں داخلے کی خاطر ہر ایک کے لیے ایک ہی مقررہ مقدار عمل ضروری نہیں بلکہ ہر ایک شخص کا اس کی استعداد اور قوت کار کے مطابق ہی امتحان لیا جاتا ہے اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک لکھ پتی آدمی سو روپے صدقہ کرتا ہے اور اسی وقت ایک مفلس پانچ روپے صدقہ کرتا ہے تو عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں مفلس کے پانچ روپے صدقے کی قدر و قیمت لکھ پتی کے سو روپے کے صدقے کی قدر و قیمت سے زیادہ ہو لہذا ہر شخص کے احوال و ظروف کا لحاظ رکھ کر اور اس کے اعمال کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ لگانے کے بعد اسے جنت میں داخل کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

56 ۔ بندوں کی ہمت افزائی اور تسلی قلب کے لیے قرآن مجید کا ایک عام دستور سا ہے کہ اہل جہنم کی وعیدوں کے مقابل اہل جنت کی بشارتوں کا بھی ذکر کردیتا ہے۔ (آیت) ” لانکلف نفسا الا وسعھا “۔ یہاں ذکر جنت کے ضمن میں یہ جملہ معترضہ لا کر یہ بتا دیا کہ جنت تک رسائی کچھ دشوار نہیں۔ اس کا ذریعہ عمل صالح ہے اور عمل صالح انہی احکام کی تعمیل کا نام ہے جو ہر بندہ کو اس کی وسعت و طاقت کے اندر ہی دیئے جاتے ہیں۔ جنت کے نام سے کوئی یہ خیال کرکے نہ گھبرائے کہ وہاں تک رسائی کے لیے خدا معلوم کیسی کیسی دشوار منزلوں سے ہو کر گزرنا ہوگا۔ دوسری طرف کافروں کے حق میں بھی تنبیہ ہے کہ جنت جو ایسی آسانی سے حاصل ہوسکتی ہے اسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 40–42

آیت نمبر 40 تا 47 ترجمہ : یقین مانو، جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان کے مقابلہ میں سرکشی کی کہ ان پر ایمان نہ لائے، اور جب مرنے کے بعد ان کی ارواح کو آسمان کی طرف لیجایا جائیگا تو ان کیلئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے، بلکہ ان کو سجین میں اتارا جائیگا بخلاف مومنین کے کہ ان کیلئے دروازے کھولے جائیں گے، اور ان کی روحوں کو ساتویں آسمان کی طرف چڑھایا جائیگا جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے، اور وہ لوگ ہرگز جنت میں داخل نہ ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہ ہوجائے، اور یہ ناممکن ہے اسی طرح ان کا (جنت میں) دخول بھی ناممکن ہے، کفر کے مجرموں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں ان کیلئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین امنوا وعملوا الصلحت لا نکلف نفسا الا وسعہا اولئک اصحب الجنۃ ہم فیہا خالدون۔ اور جو ایمان لائے اور نیک کام کئے ایسے ہی لوگ جنتی ہیں جنت کے اندر وہ ہمیشہ رہیں گے ہم کسی کو اس کی گنجائش سے زیادہ مکلف نہیں کرتے۔ الصلٰحت جمع ہے اور جب جمع کے صیغے پر الف لام آجائے تو صیغۂ استغراق بن جاتا ہے اس لئے عملوا الصلحٰت کے کہنے سے یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ جنت کا وعدہ انہی مؤمنوں سے کیا گیا ہے جنہوں نے تمام زندگی نیکیاں کی ہوں کبھی گناہ نہ کیا ہو یا تمام نیکیاں کی ہوں کوئی نیکی نہ چھوڑی ہو اس شبہ کو دور کرنے کے لئے درمیان میں لا نکلف نفسا الا وسعہابطور جملہ معترضہ فرما دیا (ہم نے اس جملہ کا ترجمہ جملۂ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(42) یعنی رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم پر ایمان لائے اور حقوق اللہ کی بجاآوری کی اور ہم اعمال کا مکلف اس کی طاقت سے زیادہ نہیں بناتے یہ مومن جنت والے ہیں یہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کو وہاں موت آئے گی اور نہ اس سے نکالے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَآ ۡ: یہ جملہ کہ ”ہم کسی شخص کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتے“ جملہ معترضہ ہے، اس جملے کو بیچ میں لانے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جنت میں جانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو کام فرض کیے ہیں وہ انسان کی وسعت اور طاقت سے زیادہ نہیں کہ انسان کے لیے ان کا کرنا مشکل ہو بلکہ سب اس کی وسعت کے مطابق ہیں کہ ان کا کرنا اس کے لیے آسان ہے، نیز وہ اتنے ہی بجا لانے فرض ہیں جتنی انسان میں طاقت ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کر دوں تو اس سے بچ جاؤ اور جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو اس میں سے اتنا بجا لاؤ جتنی تم میں طاقت ہو۔“ [ بخاری، الاعتصام…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر۔ 42 قولہ تعالیٰ : لا نکلف نفسا الا وسعھا یہ کلام معترضہ ہے، یعنی والذین امنوا وعملوا الصالحات اولئک اصحاب الجنۃ فیھا خالدون (اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے وہ جنتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ اور آیت : لا نکلف نفسا الا وسعھا کا معنی یہ ہے کہ اس نے کسی کو بیویوں کے نفقہ کا مکلف نہیں بنایا مگر صرف اتنی مقدار کا جسے وہ پالے اور اس پر قدرت رکھتا ہو، نہ کہ اتنی مقدار کا جس تک اس کا ہاتھ پہنچ ہی نہ سکے۔ اور اس سے، فعل سے پہلے استطاعت ثابت کرنے کا ارادہ نہیں کیا۔ ابن الطیب نے کہا ہے۔ اس کی نظیر یہ آیت ہے : لا یکلف اللہ نفسا الا ما اتھا (الطلاق : 7) ( اور تکلیف نہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–42

(1) امام ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لہم من جھنم مھاد “ سے مراد ہے بچھونا اور ” ومن فوقھم غواش “ یعنی لحاف۔ (2) امام ابو الحسن القطان نے الطوالات میں، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے براء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کافر کو اس کی قبر میں آگ میں سے دو لوح (یعنی طوق) پہنائے جائیں گے۔ اسی کو فرمایا لفظ آیت ” لہم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش “ (3) امام ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے یہ آیت ” لہم من جھنم مھادو من فوقھم غواش “ تلاوت فرمائی اور فرمایا یہ طبقات ہیں اس کے اوپر کی جانب اور طبقات ہیں اس کے نیچے کی جانب یہ معلوم نہیں کہ اس کے اوپر زیادہ ہیں یا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالَّذِيْنَ [ اور جو لوگ ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [ اور انہوں نے عمل کئے ] الصّٰلِحٰتِ [ نیک ] لَا نُكَلِّفُ [ ہم پابند نہیں کرتے ] نَفْسًا [ کسی جان کو ] اِلَّا [ مگر ] وُسْعَهَآ ۡ [ اس کی وسعت کو ] اُولٰۗىِٕكَ [ تو وہ لوگ ] اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ [ جنت والے ہیں ] هُمْ [ یہ لوگ ] فِيْهَا [ اس میں ] خٰلِدُوْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہیں ] (آیت ۔ 42) وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ، مبتدا ہے اور اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ اس کی خبر ہے ، درمیان میں لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَآ ۡ جملہ معترضہ ہے۔ آیت نمبر۔ 43 سے شروع ہوکر آگے کئی آیات تک قیامت کا ذکر ہے۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اہل ایمان کو جنت کی خوشخبری اور جنت میں داخل ہو کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ان آیات میں اہل ایمان کی جزا کا ذکر فرمایا جو اعمال صالحہ میں مشغول رہتے ہیں۔ اور ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ جنت والے ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ درمیان میں بطور جملہ معترضہ فرمایا کہ ہم کسی شخص کو ایسا حکم نہیں دیتے جو اس کی قوت و طاقت سے باہرہو جس شخص کو جو حکم دیا گیا وہ اس کو کرسکتا ہے۔ یہ مضمون پہلے بھی (لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا) کے ذیل میں بیان ہوچکا ہے۔ اہل جنت جن نعمتوں میں ہوں گے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ ان کا ذکر ہے۔ یہاں ایک خاص نعمت کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ دنیا میں ان کے دلوں میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 35–43

نداء چہارم تذکیر عہد قدیم باطاعت خداوند کریم وبیان نعیم وجحیم قال اللہ تعالیٰ یبنی ادم اما یاتینکم رسل منکم۔۔۔ الی۔۔۔ اور ثتموھا بماکنتم تعملون۔ (ربط) ( گزشتہ آیات میں بنی آدم کے لیے تین نداؤں کا بیان ہوا جن میں عقائد و اعمال میں ابلیس کے اتباع اور موافقت سے اور احکام الہیہ کی مخالفت سے ممانعت فرمائی اب آئندہ آیات میں نداء چہارم کا ذکر ہے جس سے بنی آدم کو اپنا عہد قدیم یاد دلاتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ تم کو اس مضمون کا خطاب کوئی جدید امر نہیں بلکہ عالم ارواح میں تم سے یہ عہد لے لیا گیا تھا کہ دیکھو ہم دنیا میں اپنے رسول بھیجیں گے اور ان کے ذریعہ سے ہم تم کو راہ ہدایت اور صراط مستقیم سے آگاہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

47: یہ بشارت اخروی ہے۔ “ لَانُکَلِّفُ نَفْسًا اِلّا وُسْعَھَا ” جملہ معترضہ ہے۔ “ وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِھِمْ الخ ” ایمان والوں کے دلوں میں دنیا میں ایک دوسرے کے بارے میں جو رنجشیں ہوں گی جنت میں ان کو دلوں سے محو کردیا جائے گا اور وہاں انہیں ہر قسم کا دلی سکوں حاصل ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 40–43

ربط آیات عالم ارواح میں جب اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی تمام روحوں سے خطاب کیا تھا تو اس وقت انہیں صاف صاف بتلا دیا تھا کہ اگر تم اپنے جد امجد آدم (علیہ السلام) کے ٹھہرنے والی جنت میں دوبارہ جانے کے خواہشمند ہو تو اس کا طریق کار یہ ہے کہ جب دنیا میں تمہارے پاس اللہ کے رسول آئیں گے تو اس وقت جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا یعنی کفر ، شرک ، نفاق ، بدعقیدگی اور برائیوں سے بچ جائے گا اور نیک اعمال انجام دے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ اپنے باپ کی وراثت جنت کو دوبارہ کرلیں گے اس کے برخلاف جو لوگ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کریں گے اور غرور اور تکبر میں مبتلا ہوں گے وہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِہِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہِمُ الْاَنْھٰرُ۝ 0 ۚ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِيْ ہَدٰىنَا لِـھٰذَا۝ 0 ۣ وَمَا كُنَّا لِنَہْتَدِيَ لَوْلَآ اَنْ ہَدٰىنَا اللہُ۝ 0 ۚ لَقَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ۝ 0 ۭ وَنُوْدُوْٓا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّۃُ اُوْرِثْتُمُوْہَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝ 43 نزع نَزَعَ الشیء : جَذَبَهُ من مقرِّه كنَزْعِ القَوْس عن کبده، ويُستعمَل ذلک في الأعراض، ومنه : نَزْعُ العَداوة والمَحبّة من القلب . قال تعالی: وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] . وَانْتَزَعْتُ آيةً من القرآن في كذا، ونَزَعَ فلان کذا، أي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 42–43

ترکیب : والذین مبتداء اولئک الخ خبر لاتکلف جملہ معترضہ ما موصولہ مع صلہ مفعول نزعنا من غل اس کا بیان تجری الخ جملہ حال صدورھم کی ضمیر سے والعامل معنی الاضافۃ۔ وما کنا الخ جملہ حال ہے ان ھدانا بتاویل مصدر محل رفع میں ہے مبتداء ہو کر کس لئے کہ لولا کے بعد جو اسم واقع ہوا ہے وہ ایسا ہی ہوتا ہے ‘ جو اب لولا محذوف دلالت کرتا ہے اس پر لنہتدی ان تلکم ان مفسرہ ہے اور مخففہ بھی ہوسکتا ہے۔ تب اس کا اسم محذوف ہوگا اور اس کے بعد کا جملہ خیر ہوگا تقدیرہ ای نودوا انہ تلکم الجنۃ اول صورت میں بیان ہوگا نداء کا۔ تفسیر : جبکہ اہل شقاوت کا مآل کار بیان فرما چکا تو اس کے بعد اہل سعادت کا حال بیان فرماتا ہے گرچہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

چناچہ ارشاد فرمایا : وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُکلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَآ ز اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (الاعراف : 42) ” اور جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک کام کیے ‘ ہم کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے ‘ وہی جنت والے ہیں ‘ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے “۔ سابقہ آیت کریمہ میں اہل جہنم کا جو طرز عمل بیان فرمایا گیا تھا یہ اس کے بالکل برعکس ہے کہ وہ لوگ پیغمبر اور اس کی دعوت کی تکذیب کرتے تھے یہ لوگ ایمان لاتے ہیں انھوں نے استکبار کا رویہ اختیار کیا ‘ ان کی زندگی کا اصل سرمایہ عمل صالح یعنی حسن عمل ہے اس کا منطقی نتیجہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلہ میں جنتیوں کا انعام و مقام۔ جنتیوں کا مرتبہ ومقام اور ان کا اجروثواب ذکر کرنے سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس میں ایک طرف جنتیوں کو سمجھایا گیا ہے کہ جنت کا حصول اور دین پر عمل کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ دوسری طرف جہنمیوں کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ اپنے جرائم کی وجہ سے جہنم میں ہمیشہ سزا پائیں گے۔ یہ ان کے تکبر کا نتیجہ ہوگا۔ اگر یہ لوگ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو دل وجان سے تسلیم کرکے ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتے تو یہ ان کی ہمت سے باہر نہیں تھا لیکن انہوں نے اپنے نفس کی خواہشات کو اپنے رب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ایمان والوں کا صلہ : آیت 42: وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَآ (اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ہم کسی شخص کو اس کی وسعت سے زائد کوئی کام نہیں بتلاتے) اس کی طاقت کے مطابق۔ التکلیفؔ ایسی چیز کو لازم کرنا جس میں مشقت ہواولٰٓپکَ یہ مبتداء ہے اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (ایسے لوگ جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے) یہ خبر ہے۔ یہ سب مل کر الذین کی خبر ہے اور لانکلف جملہ معترضہ ہے

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(42) (والذین امنوا و عملوا الصلحت لانکلف نفسا الا وسعھآ) یعنی ان کی طاقت کے مطابق اور جس میں کوئی حرج اور تنگی نہ ہو۔ (اولئک اصحب الجنۃ ھم فیھا خلدون)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 42–43

(42 ۔ 43) ۔ اوپر قرآن کی آیتوں کے جھٹلانے والوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں قرآن پر ایمان لانے والوں نیک عمل کرنے والوں کا ذکر فرمایا اور یہ بھی جتلایا کہ ایمان لانا اور نیک عمل کرنا کچھ مشکل نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی طاقت سے باہر تکلیف نہیں دیتا پھر فرمایا جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہی جنت میں ہمیشہ رہیں گے ان کے دلوں میں جو کچھ رنجش ہوگی وہ جنت میں جانے سے پہلے نکال دی جاوے گی صاف دل ہو کر جنت میں جاویں گے قتادہ (رح) کا قول ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ مجھ کو امید ہے کہ ان لوگوں میں میں اور عثمان ؓ اور طلحہ ؓ اور زبیر ؓ ہوں گے حضرت علی ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کی لڑائی جس کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–42

آیت 41 اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص کے عذاب کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس نے اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور وہ ان پر ایمان نہ لایا۔۔۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی آیات بالکل واضح تھیں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات سے تکبر کیا اور ان کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا بلکہ انہوں نے ان کو جھٹلایا اور پیٹھ پھیر کر چل دیئے۔۔۔ یہ ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے۔ ان کی روحید اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے آسمان کی طرف بلند ہوں گی اور اجازت طلب کریں گی مگر ان کو اجازت نہیں ملے گی۔ وہ موت کے بعد آسمان کی طرف اسی طرح بلند نہ ہوسکیں گی جس طرح انہوں نے ایمان باللہ، اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی محبت کی طرف…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 33–54

فواحش سے مراد قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھا وما بطن ولاثم والبغی بغیر الحق۔ اے محمد ﷺ ، ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں، بےشرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی) مجاہد کا قول ہے کہ فواحش سے زنا مراد ہے یہ سری خواحش ہے اور برہنہ حالت میں طواف کرنا جہری فواحش ہے۔ ایک قول ہے کہ بےشرمی کے تمام کام فواحش ہیں۔ شروع میں اجمالاً ان کا ذکر کیا پھر ان کی مختلف صورتوں کی تفصیل بیان کردی اور یہ فرمایا کہ گناہ حق کے خلاف زیادتی اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا فواحش کی صورتیں ہیں۔ یعنی لوگوں پر ناحق اور بزور قوت غلبہ جمانے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

57 اللہ کسی پر بھی اسکی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا : سو ارشاد فرمایا گیا اور ایک قاعدئہ کلیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ہم کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔ سو دین متین کا کوئی بھی حکم وارشاد ایسا نہیں ہوسکتا جو انسان کی طاقت اور اس کی قدرت سے باہر ہو۔ پس اپنی طرف سے پوری کوشش کے باوجود جو کمی اور کوتاہی کسی کے عمل میں رہ جائے گی اسے ہم اپنے کرم سے معاف کردیں گے۔ نیز یہ کہ ہم اپنے بندوں کو ان کی طاقت سے زیادہ کوئی حکم دیتے ہی نہیں۔ اس لئے ہمارا کوئی حکم ایسا ہو ہی نہیں سکتا جو انسانی طاقت سے باہر ہو۔ اس لیے کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسلام کے احکام اور دین متین کا کوئی بھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 29–43

سزا اور جزا کی خبر تشریح : پچھلی آیات میں بہترین زندگی گزارنے کے اصول، قوانین اور طریقے بتائے گئے ہیں۔ ان آیات میں دوبارہ صالحین اور مشرکین کے بارے میں وضاحت کی جا رہی ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی شک باقی نہ رہ جائے کیونکہ اکثر لوگ یہی کہتے ہیں کہ جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا۔ اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ بھئی مرنے کے بعد کس طرح ہم زندہ ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو باربار سمجھا رہے ہیں کہ کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔ تم کھائو، پیو اور مزے اڑالو مگر یاد رکھو موت کا وقت مقرر ہے ایک سیکنڈ بھی اس سے آگے پیچھے نہ ہوگا۔ اس وقت تم اپنے برے اعمال پر پچھتائو گے تو کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ عمل کا وقت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 40–47

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 40 تا 47 ۔ اسرار و معارف : دعا پر عدم اعتماد کی وجہ : جو لوگ ہمارے ارشدات کو قبول نہیں کرتے اور اکڑ دکھاتے ہیں ان کا سارا کروفر مھض دکھاوا ہی رہ جاتا ہے کہ ان کے سارے کمالات زیر آسمان ہی رہتے ہیں اور ان پر آسمانوں کے دروازے نہیں کھلتے۔ اور نہ ہی وہ جنت میں داخل ہوسکیں حتی کہ اونٹ سوئی کے ن کے سے گزر جائے یعنی جس طرح یہ امر محال ہے کفار کے لیے دخول جنت بھی محال ہے۔ مفسرین کرام نے آسمانوں کے دروازے نہ کھلنے سے متعدد امور مراد لیے ہیں اول دعا کہ ان کی دعا کو بارگاہ الوہیت تک رسائی کی اجازت نہیں ملتی اور یہ بھی بہت بڑی محرومی ہے غالباً یہ بھی ایک وجہ ہے کہ دعا پر بہت کم لوگ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 41–42

ف 4 یہ جملہ ہم تو کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے جملہ معترضہ ہے اس لے ترجمہ میں قوسین کے درمیان لکھا گیا ہے اس جملہ کو دمیان میں لانے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جنت میں جانے لانے سے یہ بتابا مقصود ہے کہ جنت میں جانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو کام فرض کئے ہیں وہ نہایت آسان اور انسانی طاقت کے اند ر ہیں لہذ ہر شخص کو ان کے لیے بجالانے کی کوشش کرنی چاہیئے (کذافی لکبیر، وحیدی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 41–42

(7:41) مھاد۔ بچھونا۔ ٹھکانہ۔ قرار گاہ۔ مھد گہوارہ۔ پالنا۔ زمین۔ مھد مصدر (باب نصر) بچھانا۔ اختیار کرنا۔ کام کرنا۔ تمہید۔ کام کو ہموار کرنا۔ عذر سننا۔ عذر قبول کرنا ۔ غواش۔ غاشیۃ کی جمع۔ اصل میں غواشی تھا۔ حالت رفع کے سبب ی کو ساقط کردیا گیا۔ معنی آگ کے پردے۔ ہر طرف سے ڈھانک لینے والی آگ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 40–43

لغات القرآن آیت نمبر (40 تا 43 ) ۔ لا تفتح (کھولے نہیں جائیں گے) ۔ ابواب السمآء (آسمان کے دروازے ) ۔ لا یدخلون ( داخل نہ ہوں گے ) ۔ حتی یلج (جب تک داخل نہ ہوجائے) ۔ الجمل (اونٹ ) ۔ فی سم الخیاط (سوئی کے ناکے میں ) ۔ مھاد (آرام کی جگہ۔ بچھونا ) ۔ غواش (اوڑھنے کی چیز) ۔ نزعنا ( ہم نے کھینچ لیا۔ ہم کھینچ لیں گے) ۔ غل (کینہ ۔ بغض ) ۔ نودوا (آواز دی (جائے گی) ۔ اور ثتمو ھا (جس کے تم مالک بنائے گئے) ۔ تشریح : آیت نمبر (40 تا 43 ) ۔ ” ان آیتوں میں اہل جنت اور اہل دوزخ کے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اللہ کی آیتوں کو قول اور عمل سے جھٹلانا اور آیات کو پیش کرنے والے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مقابلے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 42–43

مطلب یہ ہے جس وقت جنتی اور دوزخی داخل ہوچکیں گے اور اپنی اپنی جگہ ٹھہر جاویں گے تو جنتی لوگ دوزاخیوں کو حسرت دلانے کی غرض سے پکاریں گے اور کہیں گے کہ ہم نے تو اپنے رب کا وعدہ سچا پایا جو اس نے اپنے رسولوں کی معرفت کیا تھا۔ تم نے بھی اپنے رب کا وعدہ سچا پایا کہ تم اپنے اعمال سزا کو پہنچے یا نہیں۔ اس وقت دوزخی سخت نادم وقائل ہو کر کہیں گے کہ ہاں ہم نے بھی اللہ کا وعدہ سچا پایا۔ غرضیکہ اس گفتگو کے بعد ایک پکارنے والا پکارے گا کہ لعنت خدا کی ان ظالموں پر جو خدا کی راہ سے لوگوں کو روکتے اور سیدھے راستے پر لوگوں کو چلنے نہیں دیتے تھے اور اس میں کجی چاہتے تھے اور آخرت کا انکار کرتے اور حساب وکتاب کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 41–46

[22] یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور بدیاں دونوں تول میں برابر ہوں گی۔ اس وجہ سے ان کا فیصلہ ابھی معلق ہوگا کہ دوزخ میں بھیجے جائیں یا جنت میں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–42

(ف 1) آیت کا مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جو متکبر ہیں ، جو محض سرکشی اور نخوت کی وجہ سے صداقت کی نعمت سے محروم ہیں ، جو دنیوی جاہ و جلال کے لئے دنیوی حظوظ ولذات کے لئے اسلام کے رتبہ عقیدت کو زینت گلو نہیں کرتے ، وہ مجرم ہیں اور میں قابل نہیں ، کہ خدا کی بادشاہت میں داخل ہوں ، جس طرح اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہیں گذر سکتا ، اسی طرح ان کے لئے آسمان کے دروازے بند رہیں گے ۔ حل لغات : ابواب السمآء : جمع باب ، دروازہ راستہ ۔ الجمل : کے معنی عام مترجمین نے اونٹ کے کئے ہیں ، اس لئے کہ یہ معنی زیادہ متبادر نہیں ، الجمل موٹے رسے کو بھی کہتے ہیں ، یہ زیادہ صحیح معنی ہیں کیونکہ اس طرح سوئی اور رسے میں ایک تلازم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

42 بروں کے ذکر کے بعد اب نیکوں کا ذکر فرماتے ہیں اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور یہ واقعہ ہے کہ ہم کسی شخص کو اس کی طاقت و قوت اور برداشت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے یعنی اتنا بوجھ رکھتے ہیں جس کی وہ برداشت کرسکتا ہے اس لئے نیک کاموں کا عامل بن جانا کچھ مشکل نہیں تو ایسے ہی حضرات اہل جنت ہیں وہ اس جنت میں ہمیشہ رہیں گے یعنی عقائد صحیح ہوں دلائل توحید پر ایمان ہو اور نیک کردار کے پابند ہوں تو وہی جنتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان لانے والوں کے لئے ہمیشہ رہنے کی جنت تیار کی گئی ہے : 53: جب جہنم اور جہنم والوں کا ذکر کیا گیا تو اس کے مقابل جنت اور جنت والوں کا ذکر بھی ضروری تھا اس لئے فرمایا جا رہا ہے کہ اہل ایمان کا حال یہ ہے کہ وہ باغات میں ہر طرح سے خو ش وخرم ہوں گے اور ایک دوسرے سے راضی اور مطمئن سراپا شکرو سپاس ہوں گے حالانکہ دنیا میں بھی ان پر کوئی ایسا بوجھ نہیں رکھا گیا تھا جو ان کی برداشت سے زیادہ تھا بلکہ ہم تو کسی جان پر اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ کبھی ڈالتے ہی نہیں بات صرف اتنی ہے کہ انہوں نے ہمارے احکام کے مطابق زندگی بسر کی اور ہمارے قانون کے مطابق وہ اس انعام کے مستحق قرار پائے اور جو وعدہ ہم نے ان سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–45

The third verse (42) mentions those who dutifully follow Divine injunctions as they are the people of Paradise and there they shall live forever. Injunctions of the Shari'ah : Consideration of Convenience But, along with the condition set forth for such people; that they believe and do good deeds - said there, in all mercy, was: لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (Allah does not obligate anyone beyond his capacity). The purpose is to emphasize that good deeds - which is a condition for entry into Paradise - is really not something so difficult as would be beyond the ability of a man or…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–43

32. If there develops any rancour or ill-will among good people during the course of their worldly lives, such rancour and will be removed in the Hereafter. Their hearts will be purged of all hostile feelings and they will enter Paradise as cordial friends. They will not feel envious towards those who had formerly been opposed or hostile to them that they share with them the bounties of Paradise. Significantly, 'Ali once recited this very verse and remarked: 'I wish that I and 'Uthman and Talhah and al-Zubayr will be among those about whom God has said: "And We shall take away all rancour…

Read the full tafseer →