Al-A'raaf 7:41

Al-A'raaf · from ayah 41

7:41

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ ؕ— وَكَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ۟لَهُمۡ مِّنۡ جَهَـنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنۡ فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٍ‌ ؕ وَكَذٰلِكَ نَجۡزِى الظّٰلِمِيۡنَ

ایسے لوگوں کے لیے (نیچے) بچھونا بھی (آتش) جہنم کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی (اسی کا) اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They will have from Hell a bed and over them coverings [of fire]. And thus do We recompense the wrongdoers.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 5 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:41

ان کے لیے تو جہنم کا بچھونا ہوگا اور جہنم ہی کا اوڑھنا یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ایسے لوگوں کے لیے (نیچے) بچھونا بھی (آتش) جہنم کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی (اسی کا) اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کے لئے آتش دوزخ کا بچھونا ہوگا اور ان کے اوپر (اسی کا) اوڑھنا ہوگا اور ہم ایسے ﻇالموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان کے لیے تو دوزخ ہی کا بچھونا ہے، اور اوپر سے اسی کا اوڑھنا۔ اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے کیے کا بدلہ دیا کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

انہیں آگ ہی بچھونا اور آگ ہی اوڑھنا اور ظالموں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان کے لئے (آتشِ) دوزخ کا بچھونا اور ان کے اوپر (اسی کا) اوڑھنا ہوگا، اور ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان کے لیے جہنم ہی کا بچھونا اور ان کے اوپر کے لحاف ہوں گے اور ہم ظالموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان کے لئے بچھونا بھی جہنم کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی جہنم کا اور ہم ظالموں کو ایسے ہی سزا دیا کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کے یلے دوزخ ہی کا بچھونا اور اوپر سے اسی کا اوڑھنا ہوگا اور ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان کے لئے آتش دوزخ کا بچھونا ہوگا، اور اوپر سے اسی کا اوڑھنا، اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ظالموں کو،

— مولانا اسحاق مدنی

ان کے لئے دوزخ ہی کا بچھونا ہوگا اور ان کے اوپر (اسی کا) اوڑھنا ہوگا اور ہم اسی طرح سزا دیتے ہیں ظالموں کو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان کے لیے جہنم ہی کا بچھونا ہوگا اور اوپر سے اسی کا اوڑھنا ہوگا۔ اور اسی طرح ہم ظالموں کو بدلہ دیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ایسے لوگوں کے لیے نیچے بچھونا بھی جہنم کی آگ کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی اسی کا۔ اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Hell shall be their bed, and also above them their covering. Thus do We reward the wrong-doers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

For them there is a bed from the Jahannam, and over them there are coverings. This is how We recompense the transgressors.

— Muhammad Taqi Usmani

For them there is a bed from the Jahannam, and over them there are coverings. This is how We recompense the transgressors.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Theirs will be Mihad from the Fire, and over them Ghawash. Thus do We recompense the wrongdoers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Theirs will be a bed of hell, and over them coverings (of hell). Thus do We requite wrong-doers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They will have from Hell a bed and over them coverings [of fire]. And thus do We recompense the wrongdoers.

— Saheeh International

For them, hell will be both a cradle and a blanket. Thus do We punish the unjust.

— Muhammad Sarwar

They shall have a bed of hell-fire and from above them coverings (of it); and thus do We reward the unjust.

— Muhammad Habib Shakir

Their shall be a bed in Hell, and over them coverings; and Thus We requite the wrong-doers.

— Abdul Majid Daryabadi

For them there is Hell, as a couch (below) and folds and folds of covering above: such is Our requital of those who do wrong.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:41

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 40–41

بدکاروں کی روحیں دھتکاری جاتی ہیں کافروں کے نہ تو نیک اعمال اللہ کی طرف چڑھیں، نہ ان کی دعائیں قبول ہوں، نہ ان کی روحوں کے لئے آسمان کے دروازے کھلیں۔ چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ جب بدکاروں کی روحیں قبض کی جاتی ہیں اور فرشتے انہیں لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں تو فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گذرتے ہیں وہ کہتے ہیں یہ خبیث روح کس کی ہے ؟ یہ اس کا بد سے بد نام لے کر بتاتے ہیں کہ فلاں کی۔ یہاں تک کہ یہ اسے آسمان کے دروازے تک پہنچاتے ہیں لیکن ان کے لئے دروازہ کھولا نہیں جاتا۔ پھر حضور ﷺ نے آیت (لا تفتح لھم ابو اب السماء) پڑھی یہ بہت لمبی حدیث ہے جو سنن میں موجود ہے۔ مسند احمد میں یہ حدیث پوری یوں ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 40–43

سورة الْاَعْرَاف 32 یعنی دنیا کی زندگی میں ان نیک لوگوں کے درمیان اگر کچھ رنجشیں، بدمزگیاں اور آپس کی غلط فہمیاں رہی ہوں تو آخرت میں وہ سب دور کردی جائیں گی۔ ان کے دل ایک دوسرے سے صاف ہوجائیں گے۔ وہ مخلص دوستوں کی حیثیت سے جنت میں داخل ہوں گے۔ ان میں سے کسی کو یہ دیکھ کر تکلیف نہ ہوگی کہ فلاں جو میرا مخالف تھا اور فلاں جو مجھ سے لڑا تھا اور فلاں جس نے مجھ پر تنقید کی تھی، آج وہ بھی اس ضیافت میں میرے ساتھ شریک ہے۔ اسی آیت کو پڑھ کر حضرت علی ؓ نے فرمایا تھا کہ مجھے امید ہے کہ اللہ میرے اور عثمان ؓ اور طلحہ ؓ اور زبیر ؓ کے درمیان بھی صفائی کراوے گا۔ اس آیت کو اگر ہم زیادہ وسیع نظر سے دیکھیں تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–41

خلاصہ تفسیر (یہ حالت تو کفار کے دخول نار کی ہوئی، اب حرمان جنت کی کیفیت سنو کہ) جو لوگ ہماری آیتوں کو جھوٹا بتلاتے ہیں اور ان (کے ماننے) سے تکبر کرتے ہیں ان (کی روح کے صعود) کے لئے (مرنے کے بعد) آسمان کے دروازے نہ کھولے جاویں گے (یہ تو حالت مرنے کے بعد برزخ میں ہوئی) اور (قیامت کے روز) وہ لوگ کبھی جنت میں نہ جاویں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ کے اندر سے نہ چلا جاوے (اور یہ محال ہے تو ان کا جنت میں داخل ہونا بھی محال ہے) اور ہم ایسے مجرم لوگوں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں (یعنی ہم کو کوئی عداوت نہ تھی جیسا کیا ویسا بھگتا، اور اوپر جو دوزخ میں جانا مذکور ہوا ہے وہ آگ ان کو ہر چہار طرف سے محیط ہوگی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ ۭوَكَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ مِهَادٌ کے معنی بچھونے کے ہیں اور غواش، غاشیۃ کی جمع ہے جس کے معنی ڈھانک لینے والی کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد اوڑھنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے لیے اوپر اور نیچے سے جہنم ہی اوڑھنا بچھونا ہوگی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

41۔ 1 غواش غاشیۃ کی جمع ہے ڈھانپ لینے والی۔ یعنی آگ ہی ان کا اوڑھنا ہوگا، یعنی اوپر سے بھی آگ نے ان کو ڈھانپا یعنی گھیرا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 40–41

22: یہ ایک عربی زبان کا محاورہ ہے، اور مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک اونٹ سوئی کے ناکے میں کبھی داخل نہیں ہوسکتا، اسی طرح یہ لوگ کبھی جنت میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 40–41

آیت ” نمبر 40 تا 41۔ اب ذرا اپنے تصورات کو لے کر رکیے ۔ یہ ایک عجیب منظر ہے ۔ ایک اونٹ ہے اور اسے سوئی کے ناکے میں داخل کرانے کے لئے تیار کیا جارہا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ انتظار کرو کہ یہ ناکہ اس قدر کھل جائے کہ اس سے اونٹ پار ہوجائے تب ہی ان کفار کے لئے جنت کے دروازے کھل سکتے ہیں ۔ تب ہی ان کی توبہ قبول ہو سکتی ہے ۔ لیکن وقت تو گزر چکا ہے ۔ اب یہ جنت میں اس طرح داخل نہیں ہوسکتے جس طرح سوئی کے ناکے سے ایک اونٹ پار نہیں ہو سکتا ‘ لہذا یہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور اس میں یہ لوگ پے درپے جمع ہوں گے ۔ اسی میں یہ لوگ ایک دوسرے کو ملامت کرتے رہیں گے ۔ ایک دوسرے پر لعنت بھیجتے رہیں گے ۔ ایک دوسرے کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 41 لَہُمْ مِّنْ جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَّمِنْ فَوْقِہِمْ غَوَاشٍط وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ آگ کے گدے ہوں گے بچھانے کے لیے اور اسی کے لحاف ہوں گے اوڑھنے کے لیے۔ اور اسی آگ کے اندر ان کا گزر بسر ہوگا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 40–41

40 یہ عربی زبان کا محاورہ ہے جو کسی ناممکن العمل بات کے موقع پر بولا جاتا ہے یعنی جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا ناممکن ہے۔ ویسے ہی شیطان سیرت آدمیوں کا جنت میں داخل ہونا ناممکن ہے اور جنت میں داخلہ تو دور کی بات ہے ایسے لوگوں کی روح کو جب فرشتے لے کر آسمان کی طرف جاتے ہیں تو آسمان کا دروازہ ہی نہیں کھولا جاتا جبکہ نیک لوگوں کا شاندار استقبال کیا جاتا ہے۔ بدکار لوگوں کی روح کو وہیں سے نیچے پھینک دیا جاتا ہے اور قبر کے امتحان میں ناکامی کے بعد اسے سجین میں قید کردیا جاتا ہے۔ وَلَجَ کے معنی کسی تنگ جگہ میں داخل ہونا، گھسنا یا گھسنے کی کوشش کرنا ہے جیسے تلوار کا میان میں یا بارش کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

55 ۔ یہ (آیت) ” الظلمین “۔ یا اپنے اوپر ظلم کرنے والے وہی ہیں جن کا ذکر اوپر (آیت) ” فمن اظلم “۔ سے شروع ہوا ہے۔ قال ابن عباس یرید الذین اشرکوا باللہ واتخذوا من دونہ الھا وعلی ھذہ الاتقدیر فالضلمون ھھنا ھم الکافرون (کبیر) (آیت) ” لھم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش “ عذاب ہی کا اوڑھنا عذاب ہی کا بچھونا، غرض ہر طرف عذاب ہی عذاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 40–42

آیت نمبر 40 تا 47 ترجمہ : یقین مانو، جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان کے مقابلہ میں سرکشی کی کہ ان پر ایمان نہ لائے، اور جب مرنے کے بعد ان کی ارواح کو آسمان کی طرف لیجایا جائیگا تو ان کیلئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے، بلکہ ان کو سجین میں اتارا جائیگا بخلاف مومنین کے کہ ان کیلئے دروازے کھولے جائیں گے، اور ان کی روحوں کو ساتویں آسمان کی طرف چڑھایا جائیگا جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے، اور وہ لوگ ہرگز جنت میں داخل نہ ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہ ہوجائے، اور یہ ناممکن ہے اسی طرح ان کا (جنت میں) دخول بھی ناممکن ہے، کفر کے مجرموں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں ان کیلئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لہم من جہنم مہاد ومن فوقہم غواش وکذلک نجزی الظلمین۔ ان کا بچھونا اور اوڑھنا جہنم کا ہوگا اور ایسی ہی ہم ظالموں کو سزا دیں گے۔ مہاد بستر۔ غواش (غاشیہ کی جمع ہے) اوڑھنے کی چیز۔ یعنی آگ ان کو ہر طرف سے محیط ہوگی دوسری آیت میں بھی اسی مضمون کو ادا کیا گیا ہے فرمایا : (من فوقہم ظلل من النار ومن تحتہم ظلل) جنت سے محرومی کے ساتھ مجرمین کا لفظ اور عذاب نار کے ساتھ ظالمین کا لفظ ذکر کیا اس سے اس بات پر تنبیہ ہوگئی کہ ظلم کا درجہ جرم سے بڑا ہے۔ اس سے آگے حسب اسلوب قرآنی اہل ایمان کے ثواب کا ذکر کیا اور فرمایا :

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ۔۔ : ”غواش“ یہ ”غَاشِیَۃٌ“ کی جمع ہے، ڈھانپنے والے، یعنی نیچے اور اوپر آگ ہوگی۔ دیکھیے سورة عنکبوت (54، 55) ”الظّٰلِمِيْنَ“ سے مراد یہاں مشرک ہیں، کیونکہ آیات کو جھٹلانا اور ان سے تکبر کرنا مسلمان کا کام نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 40–41

آیت نمبر 40۔ 41 قولہ تعالیٰ : آیت : ان الذین کذبوا بایتنا واستکبروا عنھا لا تفتح لھم ابواب السماء یعنی ان کی ارواح کے لے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ اسی لیے صحیح احادیث موجود ہیں جو ہم نے کتاب ” التذکرہ “ میں ذکر کی ہیں۔ ان میں سے ایک حدیث حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے۔ اس میں کافر کی روح قبض کرنے کا ذکر ہے۔ فرمایا : اس سے ایسی ہوا (بو) خارج ہوتی ہے جو سطح زمین پر پائے جانے والے مردار سے زیادہ بدبودار ہوتی ہے، پس وہ اسے لے کر اوپر کی جانب چڑھتے ہیں اور ملائکہ کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں : یہ خبیث روح کس کی ہے ؟ تو یہ بتاتے ہیں : فلاں بن فلاں کی۔ اور یہ اس کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–42

(1) امام ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لہم من جھنم مھاد “ سے مراد ہے بچھونا اور ” ومن فوقھم غواش “ یعنی لحاف۔ (2) امام ابو الحسن القطان نے الطوالات میں، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے براء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کافر کو اس کی قبر میں آگ میں سے دو لوح (یعنی طوق) پہنائے جائیں گے۔ اسی کو فرمایا لفظ آیت ” لہم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش “ (3) امام ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے یہ آیت ” لہم من جھنم مھادو من فوقھم غواش “ تلاوت فرمائی اور فرمایا یہ طبقات ہیں اس کے اوپر کی جانب اور طبقات ہیں اس کے نیچے کی جانب یہ معلوم نہیں کہ اس کے اوپر زیادہ ہیں یا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَهُمْ [ ان کے لیے ] مِّنْ جَهَنَّمَ [ جہنم میں سے ہے ] مِهَادٌ [ ایک بچھونا ] وَّمِنْ فَوْقِهِمْ [ اور ان کے اوپر سے ] غَوَاشٍ ۭ [ کچھ چھا جانے والی چیزیں ] وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] نَجْزِي [ ہم بدلہ دیتے ہیں ] الظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والوں کو ] ترکیب : (آیت ۔ 41) مھاد اور غواش مبتدا مؤخر نکرہ ہیں ۔ لھم من جھنم ان دونوں کی قائم مقام خبر مقدم ہے ۔ جبکہ ومن فوقہم ، غواش کی متعلق خبر ہے ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(مِنْ فَوْقِھِمْ غَوَاشٍ ) (اور ان کے ڈھانپنے والی چیزیں بھی دوزخ سے ہوں گی) یعنی ان کا اوڑھنا بچھونا سب آگ ہی آگ ہوگا۔ پھر فرمایا (وَ کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ) (اور اس طرح ہم ظالموں کو بدلہ دیتے ہیں) ظالموں سے کافر مراد ہیں کیونکہ کفرسب سے بڑا ظلم ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 35–43

نداء چہارم تذکیر عہد قدیم باطاعت خداوند کریم وبیان نعیم وجحیم قال اللہ تعالیٰ یبنی ادم اما یاتینکم رسل منکم۔۔۔ الی۔۔۔ اور ثتموھا بماکنتم تعملون۔ (ربط) ( گزشتہ آیات میں بنی آدم کے لیے تین نداؤں کا بیان ہوا جن میں عقائد و اعمال میں ابلیس کے اتباع اور موافقت سے اور احکام الہیہ کی مخالفت سے ممانعت فرمائی اب آئندہ آیات میں نداء چہارم کا ذکر ہے جس سے بنی آدم کو اپنا عہد قدیم یاد دلاتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ تم کو اس مضمون کا خطاب کوئی جدید امر نہیں بلکہ عالم ارواح میں تم سے یہ عہد لے لیا گیا تھا کہ دیکھو ہم دنیا میں اپنے رسول بھیجیں گے اور ان کے ذریعہ سے ہم تم کو راہ ہدایت اور صراط مستقیم سے آگاہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 40–41

44: یہ تخویف اخروی ہے۔ آیات سے توحید و رسالت اور معاد اور اصول دین کے دلائل مراد ہیں۔ الدالۃ علی اصول الدین و احکام الشرع کالادلۃ الدالۃ علی وجود الصانع و وحدتہ والدالۃ علی النبوۃ والمعاد و نحو ذلک (روح ج 8 ص 118) ۔ یعنی کذبوا بدلائل التوحید فلم یصدقوا بہا ولم یتبعوا رسلنا (خازن ج 2 ص 188) ۔ 45 حدیث میں وارد ہے کہ جب مومن کی وفات ہوتی ہے فرشتے اس کی روح کو لے کر آسمان کی طرف جاتے ہیں اور اس کی خاطر آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ ساتویں آسمان پر پہنچ جاتی ہے۔ اسی طرح مؤمن کے اعمال صالحہ کے لیے بھی آسمانوں کے دروازے کھلے رہتے ہیں لیکن کفار و مشرکین کی ارواح اور ان کے اعمال…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 40–43

ربط آیات عالم ارواح میں جب اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی تمام روحوں سے خطاب کیا تھا تو اس وقت انہیں صاف صاف بتلا دیا تھا کہ اگر تم اپنے جد امجد آدم (علیہ السلام) کے ٹھہرنے والی جنت میں دوبارہ جانے کے خواہشمند ہو تو اس کا طریق کار یہ ہے کہ جب دنیا میں تمہارے پاس اللہ کے رسول آئیں گے تو اس وقت جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا یعنی کفر ، شرک ، نفاق ، بدعقیدگی اور برائیوں سے بچ جائے گا اور نیک اعمال انجام دے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ اپنے باپ کی وراثت جنت کو دوبارہ کرلیں گے اس کے برخلاف جو لوگ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کریں گے اور غرور اور تکبر میں مبتلا ہوں گے وہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَآ۝ 0 ۡاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ۝ 0 ۚ ہُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۝ 42 أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 38–41

ادخلوا فی امم قد خلت من قبلکم الخ میں حشر کے روز کا واقعہ بیان فرماتا ہے کہ ان کے لئے حکم ہوگا کہ ان کو ان سے پہلے جو گمراہ امتیں گزریں ہیں ان کے ساتھ ملا کر جہنم میں داخل کرو یہاں تک کہ جب سب وہاں جا پڑیں گے تو پچھلے لوگ خدا تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ اے پروردگار ! ہم کو تو ان بڑے بزرگوں نے گمراہ کیا ہے بری رسمیں چلا گئے تھے ٗ ہم ان پر چلے۔ ان کو زیادہ عذاب دے۔ ان کے مقتدا کہیں گے کہ ان کو ہم پر کیا فوقیت ہے۔ یہ بھی گمراہی میں… شریک اور مساوی ہیں۔ انہوں نے ہمارا یوں اتباع کیا۔ حکم ہوگا کہ تم میں سے ہر ایک کو ہر آن زیادہ عذاب ہے تم کو معلوم نہیں کہ دوسرے فریق کو بھی ایسا ہی روز افزوں عذاب ہو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَھُمْ مِّنْ جَھَنَّمَ مِھَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِھِمْ غَوَاشٍ ط وَ کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 41) ” ان کے لیے جہنم ہی کا بچھونا اور اوپر سے اسی کا اوڑھنا ہوگا اور ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیں گے “۔ مھاد۔ غواش کا مفہوم ” مہاد “ کا معنی ہے بچھونا اور ” غواش “ غاشیہ کی جمع ہے جس کا معنی ہے ڈھانپ لینے والی چیز ‘ اس سے مراد ہے اوڑھنا۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے لیے اوپر اور نیچے سے جہنم ہی اوڑھنا بچھونا ہوگی۔ کسی شخص کو نہایت اذیت دینا مقصود ہو تو اس کے لیے سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ اسے دہکتے انگاروں پر لٹا دیا جائے۔ آگ سے بڑا عذاب شاید ہی دنیا میں کوئی ہو۔ آدمی کے جسم کو آگ کی لپٹ بھی چھو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 40–41

فہم القرآن ربط کلام : اب مسلسل (11) گیارہ آیات میں اللہ کے باغیوں اور اس کے تابعداروں کا یکے بعد دیگرے کردار اور انجام بیان کیا جاتا ہے۔ عربی زبان میں ” تکذیب “ کا معنی حقیقت کو جھٹلانا یا اس کا انکار کرنا ہے۔ تکبر کا مفہوم یہ ہے کہ حقیقت جاننے کے باوجود اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا جائے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام کے ساتھ تکذیب اور تکبر کا رویہ اختیار کریں گے ان کے بارے میں دوٹوک اور قطعی طور پر فرما دیا گیا ہے کہ ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور نہ ہی ان کو جنت میں داخلہ نصیب ہوگا۔ اس فرمان میں قطعیت اور مزید تاکید پیدا کرنے کے لیے فرمایا کہ ان کا جنت میں داخلہ اتنا ہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جہنم کا حال : آیت 41: لَھُمْ مِّنْ جَھَنَّمَ مِھَادٌ (ان کے لئے آتش دوزخ کا بچھونا ہوگا) یعنی بستر وَّمِنْ فَوْقِھِمْ غَوَاشٍ (اور ان کے اوپر اسی کا اوڑھنا ہوگا) جمع غاشیۃ اوڑھناوَکَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ (اور ہم ایسے ظالموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں) انہیں کو ان کے کفر کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(41) (لھم من جھنم مھادومن فوقھم غواش) ” غواش غاشبۃ “ کی جمع ہے یعنی لحاف۔ مراد یہ آگ ان کو ہر طرف سے گھیر لے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” لھم من فوقھم ظلل من النار ومن تحتھم ظلل “ (وکذلک نجزی الظلمین اور ہم یوں بدلہ دیتے ہیں ظالموں کو)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 40–41

(40 ۔ 41) ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ مسلمان کے دروازے نہ کھولے جانے سے مراد یہ ہے کہ کوئی عمل نیک اور دعا ان کی آسمان پر نہیں جاتی اور قبول نہیں ہوتی یا جبکہ وہ مرتے ہیں تو ان کی ارواح کے واسطے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے امام احمد ابوداؤد ابن ماجہ اور نسائی میں براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ حضرت نے فرمایا فرشتے جب نافرمان شخص کی روح کو آسمان پر لے جاتے ہیں تو کسی جماعت فرشتوں پر گذر نہیں ہوتا مگر وہ ملائکہ کہتے ہیں کہ کیا روح خبیث ہے روح لے جانے والے کہتے ہیں کہ فلاں شخص ہے پھر وہ روح کے لے جانے والے فرشتے آسمان کا دروازہ کھلوانا چاہتے ہیں تو کھولا نہیں جاتا پھر حضرت ﷺ نے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–42

آیت 41 اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص کے عذاب کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس نے اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور وہ ان پر ایمان نہ لایا۔۔۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی آیات بالکل واضح تھیں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات سے تکبر کیا اور ان کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا بلکہ انہوں نے ان کو جھٹلایا اور پیٹھ پھیر کر چل دیئے۔۔۔ یہ ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے۔ ان کی روحید اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے آسمان کی طرف بلند ہوں گی اور اجازت طلب کریں گی مگر ان کو اجازت نہیں ملے گی۔ وہ موت کے بعد آسمان کی طرف اسی طرح بلند نہ ہوسکیں گی جس طرح انہوں نے ایمان باللہ، اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی محبت کی طرف…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 33–54

فواحش سے مراد قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھا وما بطن ولاثم والبغی بغیر الحق۔ اے محمد ﷺ ، ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں، بےشرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی) مجاہد کا قول ہے کہ فواحش سے زنا مراد ہے یہ سری خواحش ہے اور برہنہ حالت میں طواف کرنا جہری فواحش ہے۔ ایک قول ہے کہ بےشرمی کے تمام کام فواحش ہیں۔ شروع میں اجمالاً ان کا ذکر کیا پھر ان کی مختلف صورتوں کی تفصیل بیان کردی اور یہ فرمایا کہ گناہ حق کے خلاف زیادتی اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا فواحش کی صورتیں ہیں۔ یعنی لوگوں پر ناحق اور بزور قوت غلبہ جمانے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

56 ظالموں کے لئے جہنم کا بچھونا اور اسی کا اوڑھنا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لیے جہنم کا بچھونا ہوگا اور اوپر سے اسی کا اوڑھنا۔ اور ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ظالموں کو۔ سو ظلم کا بدلہ دوزخ کا ہولناک عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہوں اور ہر کسی کو اس کے کئے کا پورا بدلہ ملے۔ اور آیات خداوندی کی تکذیب اور ان کے انکار کے سنگین جرم کی سنگینی کا تقاضا یہی ہے کہ ایسوں کو دوزخ کے ایسے ہولناک عذاب میں جھونکا جائے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے ظالموں کے لئے بچھونا بھی جہنم کا ہوگا اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 29–43

سزا اور جزا کی خبر تشریح : پچھلی آیات میں بہترین زندگی گزارنے کے اصول، قوانین اور طریقے بتائے گئے ہیں۔ ان آیات میں دوبارہ صالحین اور مشرکین کے بارے میں وضاحت کی جا رہی ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی شک باقی نہ رہ جائے کیونکہ اکثر لوگ یہی کہتے ہیں کہ جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا۔ اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ بھئی مرنے کے بعد کس طرح ہم زندہ ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو باربار سمجھا رہے ہیں کہ کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔ تم کھائو، پیو اور مزے اڑالو مگر یاد رکھو موت کا وقت مقرر ہے ایک سیکنڈ بھی اس سے آگے پیچھے نہ ہوگا۔ اس وقت تم اپنے برے اعمال پر پچھتائو گے تو کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ عمل کا وقت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 40–47

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 40 تا 47 ۔ اسرار و معارف : دعا پر عدم اعتماد کی وجہ : جو لوگ ہمارے ارشدات کو قبول نہیں کرتے اور اکڑ دکھاتے ہیں ان کا سارا کروفر مھض دکھاوا ہی رہ جاتا ہے کہ ان کے سارے کمالات زیر آسمان ہی رہتے ہیں اور ان پر آسمانوں کے دروازے نہیں کھلتے۔ اور نہ ہی وہ جنت میں داخل ہوسکیں حتی کہ اونٹ سوئی کے ن کے سے گزر جائے یعنی جس طرح یہ امر محال ہے کفار کے لیے دخول جنت بھی محال ہے۔ مفسرین کرام نے آسمانوں کے دروازے نہ کھلنے سے متعدد امور مراد لیے ہیں اول دعا کہ ان کی دعا کو بارگاہ الوہیت تک رسائی کی اجازت نہیں ملتی اور یہ بھی بہت بڑی محرومی ہے غالباً یہ بھی ایک وجہ ہے کہ دعا پر بہت کم لوگ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 41–42

ف 4 یہ جملہ ہم تو کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے جملہ معترضہ ہے اس لے ترجمہ میں قوسین کے درمیان لکھا گیا ہے اس جملہ کو دمیان میں لانے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جنت میں جانے لانے سے یہ بتابا مقصود ہے کہ جنت میں جانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو کام فرض کئے ہیں وہ نہایت آسان اور انسانی طاقت کے اند ر ہیں لہذ ہر شخص کو ان کے لیے بجالانے کی کوشش کرنی چاہیئے (کذافی لکبیر، وحیدی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 41–42

(7:41) مھاد۔ بچھونا۔ ٹھکانہ۔ قرار گاہ۔ مھد گہوارہ۔ پالنا۔ زمین۔ مھد مصدر (باب نصر) بچھانا۔ اختیار کرنا۔ کام کرنا۔ تمہید۔ کام کو ہموار کرنا۔ عذر سننا۔ عذر قبول کرنا ۔ غواش۔ غاشیۃ کی جمع۔ اصل میں غواشی تھا۔ حالت رفع کے سبب ی کو ساقط کردیا گیا۔ معنی آگ کے پردے۔ ہر طرف سے ڈھانک لینے والی آگ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 40–43

لغات القرآن آیت نمبر (40 تا 43 ) ۔ لا تفتح (کھولے نہیں جائیں گے) ۔ ابواب السمآء (آسمان کے دروازے ) ۔ لا یدخلون ( داخل نہ ہوں گے ) ۔ حتی یلج (جب تک داخل نہ ہوجائے) ۔ الجمل (اونٹ ) ۔ فی سم الخیاط (سوئی کے ناکے میں ) ۔ مھاد (آرام کی جگہ۔ بچھونا ) ۔ غواش (اوڑھنے کی چیز) ۔ نزعنا ( ہم نے کھینچ لیا۔ ہم کھینچ لیں گے) ۔ غل (کینہ ۔ بغض ) ۔ نودوا (آواز دی (جائے گی) ۔ اور ثتمو ھا (جس کے تم مالک بنائے گئے) ۔ تشریح : آیت نمبر (40 تا 43 ) ۔ ” ان آیتوں میں اہل جنت اور اہل دوزخ کے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اللہ کی آیتوں کو قول اور عمل سے جھٹلانا اور آیات کو پیش کرنے والے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مقابلے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اہل جنت و دوزخ کی گفتگو ان آیتوں میں قرآن پر ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کا ذکر فرمایا، اور یہ بھی جتلایا کہ ایمان لانا اور نیک عمل کرنا کچھ مشکل نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی طاقت سے باہر تکلیف نہیں دیتا۔ پھر فرمایا کہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہی ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ ان کے دلوں میں جو کچھ رنجش ہوگی وہ جنت میں جانے سے پہلے نکال دی جاوے گی۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان والے دوزخ سے نجات پاویں گے تو بہشت و دوزخ کے درمیان میں ایک پل پر ٹھہرائے جائیں گے اور ان ظلموں کا بدلہ جو دنیا میں ان کے ذمہ تھے ہوگا۔ اس بدلے کے بعد جب ان کے دل بغض سے پاک وصاف ہوجاویں گے تو پھر ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 41–46

[22] یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور بدیاں دونوں تول میں برابر ہوں گی۔ اس وجہ سے ان کا فیصلہ ابھی معلق ہوگا کہ دوزخ میں بھیجے جائیں یا جنت میں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–42

(ف 1) آیت کا مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جو متکبر ہیں ، جو محض سرکشی اور نخوت کی وجہ سے صداقت کی نعمت سے محروم ہیں ، جو دنیوی جاہ و جلال کے لئے دنیوی حظوظ ولذات کے لئے اسلام کے رتبہ عقیدت کو زینت گلو نہیں کرتے ، وہ مجرم ہیں اور میں قابل نہیں ، کہ خدا کی بادشاہت میں داخل ہوں ، جس طرح اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہیں گذر سکتا ، اسی طرح ان کے لئے آسمان کے دروازے بند رہیں گے ۔ حل لغات : ابواب السمآء : جمع باب ، دروازہ راستہ ۔ الجمل : کے معنی عام مترجمین نے اونٹ کے کئے ہیں ، اس لئے کہ یہ معنی زیادہ متبادر نہیں ، الجمل موٹے رسے کو بھی کہتے ہیں ، یہ زیادہ صحیح معنی ہیں کیونکہ اس طرح سوئی اور رسے میں ایک تلازم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

41 ان لوگوں کے لئے آگ ہی کا بچھونا ہوگا اور ان لوگوں کے لئے آگ ہی کا اوڑھنا ہوگا اور ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں یعنی سب طرف ان کے آگ ہی آگ ہوگی، ظالم فرمایا مکذبین اور متکبرین کو یا ان کو جو اللہ تعالیٰ کی طرف بےاصل باتوں کو منسوب کریں اور آیات الٰہی کی تکذیب کریں۔ جیسا اوپر گزرا ہے۔ فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ وہ لوگ ہیں جن کا اوڑھنا بچھونا آگ ہی کا ہوگا : 52: آرام ان بدبختوں کے لئے کیسے ؟ ایک ناخن کی تکلیف انسان کو بےچین کر کے رکھ دیتی ہے اور یہ تو بےچینی میں ڈوبے پڑے ہوں گے جن کا اوڑھنا بچھونا ہی آگ کا ہوگا اور ان کے اندر باہر آگ کے بھانبڑ بھڑک رہے ہوں گے ان کو کسی پہلو بھی چین اور قرار نصیب نہیں ہوگا اور ان کے تکبر و غرور کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہوگی اور یہ بات ان کے لئے دکھ پر دکھ کا باعث ہوگی اور ظالموں کو اسی طرح کی جزا دی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–41

Commentary Mentioned first in the set of verses cited above (35-37) is a pledge taken from every human being in the world of spirits, before being born into the material world. The pledge envisaged that they would, when the prophets of Allah come to them with Divine guidance and injunctions, listen to them in earnest and act accordingly. They were also told that those who abide by the pledge and fulfill what it entails, will have their salvation from sorrows and deserve eternal peace and comfort. And conversely, those who belie prophets or rebel against injunctions they bring shall have the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–43

32. If there develops any rancour or ill-will among good people during the course of their worldly lives, such rancour and will be removed in the Hereafter. Their hearts will be purged of all hostile feelings and they will enter Paradise as cordial friends. They will not feel envious towards those who had formerly been opposed or hostile to them that they share with them the bounties of Paradise. Significantly, 'Ali once recited this very verse and remarked: 'I wish that I and 'Uthman and Talhah and al-Zubayr will be among those about whom God has said: "And We shall take away all rancour…

Read the full tafseer →