Explained with ayahs 40–41
بدکاروں کی روحیں دھتکاری جاتی ہیں
کافروں کے نہ تو نیک اعمال اللہ کی طرف چڑھیں، نہ ان کی دعائیں قبول ہوں، نہ ان کی روحوں کے لئے آسمان کے دروازے کھلیں۔ چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ جب بدکاروں کی روحیں قبض کی جاتی ہیں اور فرشتے انہیں لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں تو فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گذرتے ہیں وہ کہتے ہیں یہ خبیث روح کس کی ہے ؟ یہ اس کا بد سے بد نام لے کر بتاتے ہیں کہ فلاں کی۔ یہاں تک کہ یہ اسے آسمان کے دروازے تک پہنچاتے ہیں لیکن ان کے لئے دروازہ کھولا نہیں جاتا۔ پھر حضور ﷺ نے آیت (لا تفتح لھم ابو اب السماء) پڑھی یہ بہت لمبی حدیث ہے جو سنن میں موجود ہے۔ مسند احمد میں یہ حدیث پوری یوں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
سورة الْاَعْرَاف 32
یعنی دنیا کی زندگی میں ان نیک لوگوں کے درمیان اگر کچھ رنجشیں، بدمزگیاں اور آپس کی غلط فہمیاں رہی ہوں تو آخرت میں وہ سب دور کردی جائیں گی۔ ان کے دل ایک دوسرے سے صاف ہوجائیں گے۔ وہ مخلص دوستوں کی حیثیت سے جنت میں داخل ہوں گے۔ ان میں سے کسی کو یہ دیکھ کر تکلیف نہ ہوگی کہ فلاں جو میرا مخالف تھا اور فلاں جو مجھ سے لڑا تھا اور فلاں جس نے مجھ پر تنقید کی تھی، آج وہ بھی اس ضیافت میں میرے ساتھ شریک ہے۔ اسی آیت کو پڑھ کر حضرت علی ؓ نے فرمایا تھا کہ مجھے امید ہے کہ اللہ میرے اور عثمان ؓ اور طلحہ ؓ اور زبیر ؓ کے درمیان بھی صفائی کراوے گا۔
اس آیت کو اگر ہم زیادہ وسیع نظر سے دیکھیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
خلاصہ تفسیر
(یہ حالت تو کفار کے دخول نار کی ہوئی، اب حرمان جنت کی کیفیت سنو کہ) جو لوگ ہماری آیتوں کو جھوٹا بتلاتے ہیں اور ان (کے ماننے) سے تکبر کرتے ہیں ان (کی روح کے صعود) کے لئے (مرنے کے بعد) آسمان کے دروازے نہ کھولے جاویں گے (یہ تو حالت مرنے کے بعد برزخ میں ہوئی) اور (قیامت کے روز) وہ لوگ کبھی جنت میں نہ جاویں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ کے اندر سے نہ چلا جاوے (اور یہ محال ہے تو ان کا جنت میں داخل ہونا بھی محال ہے) اور ہم ایسے مجرم لوگوں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں (یعنی ہم کو کوئی عداوت نہ تھی جیسا کیا ویسا بھگتا، اور اوپر جو دوزخ میں جانا مذکور ہوا ہے وہ آگ ان کو ہر چہار طرف سے محیط ہوگی…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَاۗءِ وَلَا يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰي يَلِجَ الْجَمَلُ فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ ۭوَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِيْنَ۔
لفظ استکابر کے ساتھ ‘ عن ’ کے صلہ کا فائدہ ہم اوپر واضح کرچکے ہیں۔
لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَاۗءِ کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کے لیے سماء جنت کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، دوسرا یہ کہ اہل ایمان کی طرح آسمان میں ان کا خیر مقدم نہیں ہوگا بلکہ وہ نہایت ذلت و فضیحت کے ساتھ اپنا انجام بد دیکھنے کے لیے مجرموں اور بدمعاشوں کی طرح ہنکاتے ہوئے لے جائے جائیں گے۔…
Read the full tafseer →40۔ 1 اس سے بعض نے اعمال، بعض نے ارواح اور بعض نے دعا مراد لی ہے، یعنی ان کے عملوں، یا روحوں یا دعا کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے، یعنی اعمال اور دعا قبول نہیں ہوسکتی اور روحیں واپس زمین میں لوٹا دی جاتی ہیں (جیسا کہ مسند احمد، جلد 2 صفحہ 364، 365 کی ایک حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے امام شوکانی فرماتے ہیں کہ تینوں ہی چیزیں مراد ہوسکتی ہیں۔
40۔ 2 یہ تعلیق بالمحال ہے جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گزرنا ممکن نہیں، اسی طرح اہل کفر کا جنت میں داخلہ ممکن نہیں۔ اونٹ کی مثال بیان فرمائی ہے اس لئے کہ اونٹ عربوں میں متعارف تھا اور جسمانی اعتبار سے ایک بڑا جانور تھا اور سوئی کا ناکہ (سوراخ) یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
22: یہ ایک عربی زبان کا محاورہ ہے، اور مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک اونٹ سوئی کے ناکے میں کبھی داخل نہیں ہوسکتا، اسی طرح یہ لوگ کبھی جنت میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
آیت ” نمبر 40 تا 41۔
اب ذرا اپنے تصورات کو لے کر رکیے ۔ یہ ایک عجیب منظر ہے ۔ ایک اونٹ ہے اور اسے سوئی کے ناکے میں داخل کرانے کے لئے تیار کیا جارہا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ انتظار کرو کہ یہ ناکہ اس قدر کھل جائے کہ اس سے اونٹ پار ہوجائے تب ہی ان کفار کے لئے جنت کے دروازے کھل سکتے ہیں ۔ تب ہی ان کی توبہ قبول ہو سکتی ہے ۔ لیکن وقت تو گزر چکا ہے ۔ اب یہ جنت میں اس طرح داخل نہیں ہوسکتے جس طرح سوئی کے ناکے سے ایک اونٹ پار نہیں ہو سکتا ‘ لہذا یہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور اس میں یہ لوگ پے درپے جمع ہوں گے ۔ اسی میں یہ لوگ ایک دوسرے کو ملامت کرتے رہیں گے ۔ ایک دوسرے پر لعنت بھیجتے رہیں گے ۔ ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →7 یعنی نہ زندگی میں ان کے اعمال کے لئے آسمانی قبول و رفعت حاصل ہے۔ نہ موت کے بعد ان کی ارواح کو آسمان پر چڑھنے کی اجازت ہے۔ حدیث صحیح میں ہے کہ " بعد موت کافر کی روح کو آسمان کی جانب سے سجین کی طرف دھکے دئیے جاتے ہیں اور مومن کی روح ساتویں آسمان تک صعود کرتی ہے۔ " مفصل احوال کتب احادیث میں ملاحظہ کرو۔
8 یہ تعلیق بالمحال کے طور پر فرمایا۔ ہر زبان کے محاورات میں ایسی امثال موجود ہے جن میں کسی چیز کے محال ہونے کو دوسری محال چیز پر معلق کر کے ظاہر کرتے ہیں۔ یعنی جس طرح یہ ناممکن ہے کہ اونٹ اپنی اسی کلانی اور جسامت پر رہے اور سوئی کا ناکہ ایسا ہی تنگ اور چھوٹا ہو۔ اس کے باوجود اونٹ سوئی کے ناکے…
Read the full tafseer →آیت 40 اِنَّ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَاسْتَکْبَرُوْا عَنْہَا لاَ تُفَتَّحُ لَہُمْ اَبْوَاب السَّمَآءِ
اگرچہ یہ بات حتمیت سے نہیں کہی جاسکتی ‘ تاہم قرآن مجید میں کچھ اس طرح کے اشارات ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم اسی زمین پر برپاہو گی اور ابتدائی نُزُل مہمانی والی جنت بھی یہیں پر بسائی جائے گی۔ وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ الانشقاق کی عملی کیفیت کو ذہن میں لانے سے یہ نقشہ تصور میں یوں آتا ہے کہ زمین کو جب کھینچا جائے گا تو یہ پچک جائے گی ‘ جیسے ربڑ کی گیند کو کھینچا جائے تو وہ اندر کو پچک جاتی ہے۔ اس عمل میں زمین کے اندر کا سارا لاوا باہر نکل آئے گا جو جہنم کی شکل اختیار کرلے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
40 یہ عربی زبان کا محاورہ ہے جو کسی ناممکن العمل بات کے موقع پر بولا جاتا ہے یعنی جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا ناممکن ہے۔ ویسے ہی شیطان سیرت آدمیوں کا جنت میں داخل ہونا ناممکن ہے اور جنت میں داخلہ تو دور کی بات ہے ایسے لوگوں کی روح کو جب فرشتے لے کر آسمان کی طرف جاتے ہیں تو آسمان کا دروازہ ہی نہیں کھولا جاتا جبکہ نیک لوگوں کا شاندار استقبال کیا جاتا ہے۔ بدکار لوگوں کی روح کو وہیں سے نیچے پھینک دیا جاتا ہے اور قبر کے امتحان میں ناکامی کے بعد اسے سجین میں قید کردیا جاتا ہے۔
وَلَجَ کے معنی کسی تنگ جگہ میں داخل ہونا، گھسنا یا گھسنے کی کوشش کرنا ہے جیسے تلوار کا میان میں یا بارش کے…
Read the full tafseer →54 ۔ یعنی یہ عام ضابطہ اور قانون ہمارے ہاں کا ہے جو جیسا کرے گا بھگتے گا۔ ہمیں کسی بندہ کے ساتھ کوئی کد تو ہے نہیں۔ (آیت) ” لا تفتح لھم ابواب السمآء۔ براء بن عازب ؓ صحابی کی روایت سے حدیث میں آتا ہے کہ بعد وفات جب کافر کی روح آسمان کی طرف لے جائی جانے لگتی ہے تو اس سے ایسی سخت بدبو نکلتی ہے جیسی دنیا میں مردار کی ہوتی ہے۔ اس پر آسمان کے فرشتے اسے راستہ دینے اور اس کے لیے در آسمان کھولنے سے انکار کردیتے ہیں۔ قال السدے وغیرہ لا تفتح لارواحھم ابواب السماء وتفتح لارواح المومنین (کبیر) ذکروا فی صعود الروحین الی السماء الاذن لروح ال مومن ورد روح الکافر احادیث وذلک عند موتھما (بحر) دوسرے معنی یہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
آیت نمبر 40 تا 47
ترجمہ : یقین مانو، جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان کے مقابلہ میں سرکشی کی کہ ان پر ایمان نہ لائے، اور جب مرنے کے بعد ان کی ارواح کو آسمان کی طرف لیجایا جائیگا تو ان کیلئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے، بلکہ ان کو سجین میں اتارا جائیگا بخلاف مومنین کے کہ ان کیلئے دروازے کھولے جائیں گے، اور ان کی روحوں کو ساتویں آسمان کی طرف چڑھایا جائیگا جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے، اور وہ لوگ ہرگز جنت میں داخل نہ ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہ ہوجائے، اور یہ ناممکن ہے اسی طرح ان کا (جنت میں) دخول بھی ناممکن ہے، کفر کے مجرموں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں ان کیلئے…
Read the full tafseer →ان الذین کذبوا بایتنا واستکبروا عنہا لا تفتح لہم ابواب السمآء ولا یدخلون الجنۃ حتی یلج الجمل فی سم الخیاط جن لوگوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی اور ان پر ایمان لانے سے سرتابی کی ان کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں گھس جائے۔ یعنی ان کے اعمال اور روحوں کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ان کی روحوں کے لئے نہیں کھولے جائیں گے کیونکہ ان کی روحیں گندی ہوں گی ان کو اوپر نہیں چڑھایا جائے گا بلکہ نیچے سجین میں پھینک دیا جائے گا۔
امام مالک (رح) نسائی اور بیہقی (رح) نے حضرت براء بن عازب کی روایت سے…
Read the full tafseer →(40) قرآن کریم اور رسول اکرم ﷺ کی جھٹلانے والے لوگوں کے اعمال اور ارواح کے چڑھنے کے لیے آسمانی دروازے نہیں کھولے جائیں گے جیسا کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں نہیں داخل ہوسکتا ہے یا یہ کہ تاوقتیکہ وہ موٹی رسی جس سے کشتی کو باندھا جاتا ہے، سوئی کے ناکہ میں داخل ہوجائے یہ چیز ناممکن ہے تو ان کا جنت میں داخلہ بھی ناممکن ہے۔
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا۔۔ : یہ پچھلی آیت میں مذکور وعید ”پس چکھو عذاب۔۔“ کی کچھ تفصیل ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ آسمانوں کے دروازے ہیں۔ بہت سی صحیح احادیث میں ان دروازوں کا ذکر موجود ہے۔ دروازے نہ کھولے جانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اعمال اور دعا کے اوپر جانے کے لیے دروازے نہیں کھلتے اور یہ بھی کہ مرنے کے بعد ان کی روحوں کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے، جیسا کہ مومن کی روح کے اوپر چڑھنے کے لیے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ براء بن عازب ؓ سے مروی ایک لمبی حدیث کے ضمن میں ہے کہ مومن کی روح اوپر چڑھتی ہے تو اس کے لیے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور فرشتے مرحبا کہہ کر اس کا استقبال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
آیت نمبر 40۔ 41
قولہ تعالیٰ : آیت : ان الذین کذبوا بایتنا واستکبروا عنھا لا تفتح لھم ابواب السماء یعنی ان کی ارواح کے لے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ اسی لیے صحیح احادیث موجود ہیں جو ہم نے کتاب ” التذکرہ “ میں ذکر کی ہیں۔
ان میں سے ایک حدیث حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے۔ اس میں کافر کی روح قبض کرنے کا ذکر ہے۔ فرمایا : اس سے ایسی ہوا (بو) خارج ہوتی ہے جو سطح زمین پر پائے جانے والے مردار سے زیادہ بدبودار ہوتی ہے، پس وہ اسے لے کر اوپر کی جانب چڑھتے ہیں اور ملائکہ کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں : یہ خبیث روح کس کی ہے ؟ تو یہ بتاتے ہیں : فلاں بن فلاں کی۔ اور یہ اس کا…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لاتفتح لہم ابواب السماء “ یعنی ان کے عمل میں سے کوئی چیز بھی اللہ کی طرف اوپر نہیں چڑھے گی۔
(2) امام عبدبن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لاتفتح لہم ابواب السماء “ یعنی ان کے کسی عمل اور دعا کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔
(3) امام عبد بن حمید، ابن جریرابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لاتفتح لہم ابواب السماء “ یعنی عاردلائی اس کے ساتھ کافروں کو کہ آسمان کے دروازے نہیں کھو لے جائیں گے ان کی ارواح کے لئے اور وہ…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ [ بیشک جن لوگوں نے ] كَذَّبُوْا [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں کو ] وَاسْتَكْبَرُوْا [ اور گھمنڈ کیا ] عَنْهَا [ ان سے ] لَا تُفَتَّحُ [ نہیں کھولے جائیں گے ] لَهُمْ [ ان کے لیے ] اَبْوَابُ السَّمَاۗءِ [ آسمان کے دروازے ] وَلَا يَدْخُلُوْنَ [ اور نہ ہی وہ داخل ہوں گے ] الْجَنَّةَ [ جنت میں ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] يَلِجَ [ گھس جائے ] الْجَمَلُ [ اونٹ ] فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ ۭ [ سوئی کے ناکے میں ] وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] نَجْزِي [ ہم بدلہ دیتے ہیں ] الْمُجْرِمِيْنَ [ جرم کرنے والوں کو ]
ج م ل : (ک) جمالا ۔ خوب صورت ہونا ۔ خوب سیرت ہونا ۔ جمال ۔ اسم ذات بھی ہے ۔…
Read the full tafseer →مکذبین و متکبرین جنت میں نہ جاسکیں گے ان کا اوڑھنا، بچھونا آگ کا ہوگا
پہلی آیت میں مکذبین یعنی آیات کے جھٹلانے والوں اور مستکبرین یعنی آیات الٰہیہ کے ماننے سے تکبر کرنے والوں کے مردود ہونے کی ایک حالت بتائی اور وہ یہ کہ ان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے۔
حدیث شریف میں مومن اور کافر کی موت کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب حضرت ملک الموت (علیہ السلام) مومن کی روح کو قبض کرتے ہیں تو وہ ایسی آسانی سے نکل آتی ہے جیسے (پانی کا) بہتا ہوا قطرہ مشکیزہ سے باہر آجاتا ہے جب وہ اس روح کو لے لیتے ہیں تو ان کے پاس جو دوسرے فرشتے جنتی کفن اور جنتی خوشبو لیے ہوئے بیٹھے ہوتے ہیں پل بھر بھی ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
نداء چہارم
تذکیر عہد قدیم باطاعت خداوند کریم وبیان نعیم وجحیم
قال اللہ تعالیٰ یبنی ادم اما یاتینکم رسل منکم۔۔۔ الی۔۔۔ اور ثتموھا بماکنتم تعملون۔
(ربط) ( گزشتہ آیات میں بنی آدم کے لیے تین نداؤں کا بیان ہوا جن میں عقائد و اعمال میں ابلیس کے اتباع اور موافقت سے اور احکام الہیہ کی مخالفت سے ممانعت فرمائی اب آئندہ آیات میں نداء چہارم کا ذکر ہے جس سے بنی آدم کو اپنا عہد قدیم یاد دلاتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ تم کو اس مضمون کا خطاب کوئی جدید امر نہیں بلکہ عالم ارواح میں تم سے یہ عہد لے لیا گیا تھا کہ دیکھو ہم دنیا میں اپنے رسول بھیجیں گے اور ان کے ذریعہ سے ہم تم کو راہ ہدایت اور صراط مستقیم سے آگاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
44: یہ تخویف اخروی ہے۔ آیات سے توحید و رسالت اور معاد اور اصول دین کے دلائل مراد ہیں۔ الدالۃ علی اصول الدین و احکام الشرع کالادلۃ الدالۃ علی وجود الصانع و وحدتہ والدالۃ علی النبوۃ والمعاد و نحو ذلک (روح ج 8 ص 118) ۔ یعنی کذبوا بدلائل التوحید فلم یصدقوا بہا ولم یتبعوا رسلنا (خازن ج 2 ص 188) ۔
45 حدیث میں وارد ہے کہ جب مومن کی وفات ہوتی ہے فرشتے اس کی روح کو لے کر آسمان کی طرف جاتے ہیں اور اس کی خاطر آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ ساتویں آسمان پر پہنچ جاتی ہے۔ اسی طرح مؤمن کے اعمال صالحہ کے لیے بھی آسمانوں کے دروازے کھلے رہتے ہیں لیکن کفار و مشرکین کی ارواح اور ان کے اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
ربط آیات
عالم ارواح میں جب اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی تمام روحوں سے خطاب کیا تھا تو اس وقت انہیں صاف صاف بتلا دیا تھا کہ اگر تم اپنے جد امجد آدم (علیہ السلام) کے ٹھہرنے والی جنت میں دوبارہ جانے کے خواہشمند ہو تو اس کا طریق کار یہ ہے کہ جب دنیا میں تمہارے پاس اللہ کے رسول آئیں گے تو اس وقت جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا یعنی کفر ، شرک ، نفاق ، بدعقیدگی اور برائیوں سے بچ جائے گا اور نیک اعمال انجام دے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ اپنے باپ کی وراثت جنت کو دوبارہ کرلیں گے اس کے برخلاف جو لوگ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کریں گے اور غرور اور تکبر میں مبتلا ہوں گے وہ…
Read the full tafseer →لَہُمْ مِّنْ جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَّمِنْ فَوْقِہِمْ غَوَاشٍ 0 ۭ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِــمِيْنَ 41
جهنم
جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب جهنام وقال أبو مسلم : كهنّام
( ج ھ ن م ) جھنم
۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔
جہنم کے مختلف طبقات ( درکات) علی سبیل التنزل یہ ہیں۔
(1) جہنم (2) لظیٰ (3) حطمہ (4) سعیر (5) سقر (6) جحیم (7) ہاویۃ۔ سب سے نیچے منافقوں کا یہی ٹھکانہ ہے
مهد
المَهْدُ : ما يُهَيَّأُ للصَّبيِّ. قال تعالی: كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا [ مریم/ 29] والمَهْد والمِهَاد : المکان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
ادخلوا فی امم قد خلت من قبلکم الخ میں حشر کے روز کا واقعہ بیان فرماتا ہے کہ ان کے لئے حکم ہوگا کہ ان کو ان سے پہلے جو گمراہ امتیں گزریں ہیں ان کے ساتھ ملا کر جہنم میں داخل کرو یہاں تک کہ جب سب وہاں جا پڑیں گے تو پچھلے لوگ خدا تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ اے پروردگار ! ہم کو تو ان بڑے بزرگوں نے گمراہ کیا ہے بری رسمیں چلا گئے تھے ٗ ہم ان پر چلے۔ ان کو زیادہ عذاب دے۔ ان کے مقتدا کہیں گے کہ ان کو ہم پر کیا فوقیت ہے۔ یہ بھی گمراہی میں… شریک اور مساوی ہیں۔ انہوں نے ہمارا یوں اتباع کیا۔ حکم ہوگا کہ تم میں سے ہر ایک کو ہر آن زیادہ عذاب ہے تم کو معلوم نہیں کہ دوسرے فریق کو بھی ایسا ہی روز افزوں عذاب ہو…
Read the full tafseer →چند آیات پیشتر ایک عہد و میثاق کا ذکر ہے جو حضرت آدم اور ان کی اولاد سے اس وقت لیا گیا تھا جب انھیں زمین پر بھیجا گیا تھا اس میں یہ فرمایا گیا تھا کہ تم زمین پر چلے جاؤ لیکن یہ بات یاد رکھو کہ تمہاری غذائی ضروریات تو تمہیں زمین سے مہیا کی جائیں گی لیکن جہاں تک زندگی گزارنے کے لیے رہنمائی اور ہدایت کا تعلق ہے وہ تمہیں ہماری طرف سے آئے گی جس نے ہماری اس ہدایت کے مطابق زندگی گزاری اس کے لیے نہ تو دنیا میں خوف ہوگا نہ آخرت میں کوئی غم لیکن جن لوگوں نے ہماری آیات اور ہماری ہدایات سے انکار کیا اور اس کے خلاف رویہ اختیار کیا یہ وہ لوگ ہیں جو جہنم میں ڈالے جائیں گے اور وہ ہمیشہ اس عذاب میں مبتلا رہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
فہم القرآن
ربط کلام : اب مسلسل (11) گیارہ آیات میں اللہ کے باغیوں اور اس کے تابعداروں کا یکے بعد دیگرے کردار اور انجام بیان کیا جاتا ہے۔
عربی زبان میں ” تکذیب “ کا معنی حقیقت کو جھٹلانا یا اس کا انکار کرنا ہے۔ تکبر کا مفہوم یہ ہے کہ حقیقت جاننے کے باوجود اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا جائے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام کے ساتھ تکذیب اور تکبر کا رویہ اختیار کریں گے ان کے بارے میں دوٹوک اور قطعی طور پر فرما دیا گیا ہے کہ ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور نہ ہی ان کو جنت میں داخلہ نصیب ہوگا۔ اس فرمان میں قطعیت اور مزید تاکید پیدا کرنے کے لیے فرمایا کہ ان کا جنت میں داخلہ اتنا ہی…
Read the full tafseer →کافروں کا جنت میں داخلہ اسی طرح ناممکن ہے جیسا سوئی کے ناکے سے اونٹ کا گزرنا ناممکن ہے :
آیت 40: اِنَّ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَاسْتَکْبَرُوْا عَنْھَا لَاتُفَتَّحُ لَھُمْ اَبْوَابُ السَّمَآ ئِ (جو لوگ ہماری آیات کو جھوٹا بتلاتے ہیں اور ان سے تکبر کرتے ہیں ان کے لئے آسمانوں کے دروازے نہ کھولے جائیں گے) ان کو آسمانوں کی طرف چڑھنے کی اجازت نہ دی جائے گی تاکہ جنت میں وہ داخل ہوسکیں۔ کیونکہ جنت تو آسمانوں سے اوپر ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ان کا کوئی عمل صالح اوپر نہ چڑھے گا اور نہ ان پر برکت اترے گی ایک اور تفسیر یہ ہے کہ موت کے بعد ان کی ارواح آسمان کی طرف صعود نہ کریں گی۔
قراءت :…
Read the full tafseer →تفسیر 40 (ان الذین کذبوا بایتنا واستکبروا عنھا لاتفتح ) تاء کے ساتھ باوعمرو نے بغیر شد کے پڑھا ہے اور یاء کے ساتھ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے اور باقی حضرات نے تاء اور رشد کے ساتھ پڑھا ہے۔ (لھم ابواب السمآء ) نہ ان کی دعائوں کے لئے اور نہ اعمال کے لئے۔
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کی روحوں کے لئے کیونکہ وہ خبیث ہیں ان کو آسمان پر نہیں چڑھایا جاتا بلکہ سجین میں لے جایا جائے گا۔ آسمان کے دروازے مئومنین کی روحوں کے لئے کھولے جائیں گے اور ان کی دعائوں اور اعمال کے لئے (ولا یدخلون الجنۃ حتی یلج الجمل فی سم الخیاط) یعنی جب اونٹ سوئی کے سوراخ میں داخل نہ ہوجائے۔ مخیط اور خیاط کا ایک معنی ہے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
(40 ۔ 41) ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ مسلمان کے دروازے نہ کھولے جانے سے مراد یہ ہے کہ کوئی عمل نیک اور دعا ان کی آسمان پر نہیں جاتی اور قبول نہیں ہوتی یا جبکہ وہ مرتے ہیں تو ان کی ارواح کے واسطے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے امام احمد ابوداؤد ابن ماجہ اور نسائی میں براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ حضرت نے فرمایا فرشتے جب نافرمان شخص کی روح کو آسمان پر لے جاتے ہیں تو کسی جماعت فرشتوں پر گذر نہیں ہوتا مگر وہ ملائکہ کہتے ہیں کہ کیا روح خبیث ہے روح لے جانے والے کہتے ہیں کہ فلاں شخص ہے پھر وہ روح کے لے جانے والے فرشتے آسمان کا دروازہ کھلوانا چاہتے ہیں تو کھولا نہیں جاتا پھر حضرت ﷺ نے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
آیت 38
فرشتے ان سے کہیں گے : (قال ادخلوا فی ام) ” ان قوموں میں داخل ہوجاؤ۔ “ یعنی ان جملہ امتوں میں داخل ہوجاؤ۔ (قد خلت من قبلکم من الجن والانس) ” جو تم سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے گزر چکیں “ یعنی وہ بھی اسی راستے پر گامزن رہے تھے جس پر تم چلتے رہے ہو۔ یعنی کفر و استکبار کا راستہ۔۔۔ اس لئے سب رسوائی اور ہلاکت کے مستحق ٹھہرے (فی النار) اور ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہو۔
سرکش اور نافرمان قوموں میں سے جب کوئی قوم جہنم میں جاخل ہوگی (لعنت اختھا) ” اپنی جیسی جماعت پر لعنت کرے گی۔ “ یعنی اپنے جیسے مشرکانہ عقائد رکھنے والی قوم پر لعنت کرے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” قیامت کے روز تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–54
فواحش سے مراد
قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھا وما بطن ولاثم والبغی بغیر الحق۔ اے محمد ﷺ ، ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں، بےشرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی) مجاہد کا قول ہے کہ فواحش سے زنا مراد ہے یہ سری خواحش ہے اور برہنہ حالت میں طواف کرنا جہری فواحش ہے۔ ایک قول ہے کہ بےشرمی کے تمام کام فواحش ہیں۔ شروع میں اجمالاً ان کا ذکر کیا پھر ان کی مختلف صورتوں کی تفصیل بیان کردی اور یہ فرمایا کہ گناہ حق کے خلاف زیادتی اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا فواحش کی صورتیں ہیں۔ یعنی لوگوں پر ناحق اور بزور قوت غلبہ جمانے اور…
Read the full tafseer →54 منکروں کے لئے دائمی محرومی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ منکروں کے لیے آسمان کے دروازے کبھی نہیں کھولے جائیں گے اور اس طرح یہ لوگ دائمی محرومی کا شکار ہوں گے۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلانے والوں اور منکروں کیلئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے ان کے اعمال اور ان کی دعاء کے رفع و قبول کے لئے۔ ، کہ یہ موقوف ہے ایمان و اخلاص پر۔ اور اس سے یہ لوگ محروم ہیں۔ اور نہ کھولے جائیں گے ان کی روحوں کے لئے کہ ُ ان کا ٹھکانہ " علیین " نہیں " سجین " ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کامیابی کی بنیادی شرط اور اولین اساس ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی ہے۔ اور اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–43
سزا اور جزا کی خبر
تشریح : پچھلی آیات میں بہترین زندگی گزارنے کے اصول، قوانین اور طریقے بتائے گئے ہیں۔ ان آیات میں دوبارہ صالحین اور مشرکین کے بارے میں وضاحت کی جا رہی ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی شک باقی نہ رہ جائے کیونکہ اکثر لوگ یہی کہتے ہیں کہ جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا۔ اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ بھئی مرنے کے بعد کس طرح ہم زندہ ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو باربار سمجھا رہے ہیں کہ کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔ تم کھائو، پیو اور مزے اڑالو مگر یاد رکھو موت کا وقت مقرر ہے ایک سیکنڈ بھی اس سے آگے پیچھے نہ ہوگا۔ اس وقت تم اپنے برے اعمال پر پچھتائو گے تو کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ عمل کا وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–47
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 40 تا 47 ۔
اسرار و معارف :
دعا پر عدم اعتماد کی وجہ :
جو لوگ ہمارے ارشدات کو قبول نہیں کرتے اور اکڑ دکھاتے ہیں ان کا سارا کروفر مھض دکھاوا ہی رہ جاتا ہے کہ ان کے سارے کمالات زیر آسمان ہی رہتے ہیں اور ان پر آسمانوں کے دروازے نہیں کھلتے۔ اور نہ ہی وہ جنت میں داخل ہوسکیں حتی کہ اونٹ سوئی کے ن کے سے گزر جائے یعنی جس طرح یہ امر محال ہے کفار کے لیے دخول جنت بھی محال ہے۔ مفسرین کرام نے آسمانوں کے دروازے نہ کھلنے سے متعدد امور مراد لیے ہیں اول دعا کہ ان کی دعا کو بارگاہ الوہیت تک رسائی کی اجازت نہیں ملتی اور یہ بھی بہت بڑی محرومی ہے غالباً یہ بھی ایک وجہ ہے کہ دعا پر بہت کم لوگ…
Read the full tafseer →ف 2 اوپر کی آیت میں جو وعید مذکور ہے یہ کہ اس کا تمتہ ہے اس سے معلوم کہ آسمانوں کے دروازے بہت سی صحیح احادیث میں ان دروازوں کا ذکر موجود ہے۔ دروازے نہ کھولے جانے کا مطلب تو یہ ہے کہ ان کے اعمال اور دعا کے اوپر جانے کے لیے درد ناک کھلتے یا یہ کہ مرنے کے بعد ان کی اراوح کے لیے دروازے نہیں کھلتے جیسا کہ مومن کی صعود کے لیے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ چناچہ ایک طویل حدیث کے ضمن میں ہے کہ مومن کی روح اوپر چڑھتی ہے تو اس کے لیے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور فرشتے مرحبا کہہ کر اس کا استقبال کرتے ہیں حتی کہ وہ ساتویں آسمان پر چلی جاتی ہے مگر جب کافر روح آسمان تک پہنچتی ہے تو اس کے لیے دروازہ نہیں…
Read the full tafseer →(7:40) یلج ولج یلج سے مضارع منصوب واحد مذکر غائب۔ دلوج۔ مصدر۔ داخل ہوجائے۔
سم الخیاط۔ مضاف مضاف الیہ۔ سم۔ ناکہ۔ سوارخ۔ خیاط۔ سوزن۔ سوئی۔ سم الخیاط سوئی کا ناکہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
لغات القرآن آیت نمبر (40 تا 43 ) ۔
لا تفتح (کھولے نہیں جائیں گے) ۔ ابواب السمآء (آسمان کے دروازے ) ۔ لا یدخلون ( داخل نہ ہوں گے ) ۔ حتی یلج (جب تک داخل نہ ہوجائے) ۔ الجمل (اونٹ ) ۔ فی سم الخیاط (سوئی کے ناکے میں ) ۔ مھاد (آرام کی جگہ۔ بچھونا ) ۔ غواش (اوڑھنے کی چیز) ۔ نزعنا ( ہم نے کھینچ لیا۔ ہم کھینچ لیں گے) ۔ غل (کینہ ۔ بغض ) ۔ نودوا (آواز دی (جائے گی) ۔ اور ثتمو ھا (جس کے تم مالک بنائے گئے) ۔
تشریح : آیت نمبر (40 تا 43 ) ۔ ” ان آیتوں میں اہل جنت اور اہل دوزخ کے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اللہ کی آیتوں کو قول اور عمل سے جھٹلانا اور آیات کو پیش کرنے والے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مقابلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کی دعا اور نیک عمل آسمان پر نہیں جاتے اور قبول نہیں ہوتے، یا جب مرتے ہیں تو ان کی ارواح کے واسطے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں، اور تکبر سے ان کو نہیں مانتے، یہ جنت میں داخل نہ ہوں گے، جب تک اونٹ سوئی کے ناکے میں نہ گھسے۔ یعنی اونٹ عرب کے نزدیک سب حیوانوں میں بڑا ہے اور سوئی کا ناکہ بہت چھوٹا ہوتا ہے، اس واسطے مشرک بہشت میں داخل ہونے سے قطعی محروم ہیں۔ پھر فرمایا مجرموں کی یہی سزا ہے کہ ان کی آگ کی تو شک اور آگ ہی کا لحاف ہوگا۔ ظالموں کو یہی بدلہ ملے گا۔ کیونکہ شرک بڑا ظلم ہے۔ جو اللہ کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
[20] مطلب یہ ہے کہ وہ خیر و برکت کے نزول سے محروم رہیں گے۔
[21] اور یہ محال ہے لہذا کفار کا جنت میں جانا بھی محال ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
(ف 2) یہ عجیب بات ہے جب یہ لوگ جہنم میں داخل ہوں گے تو یہ چاہیں گے کہ وہ لوگ جنہوں نے ان کی گمراہی میں بہت بڑا حصہ ہے لیا ہے ، اس بری طرح پھنسیں ، اور ان کو یہ عذاب میں دکھ اٹھاتے ہوئے دیکھیں ، اس لئے کہیں گے ، یا اللہ ، ان لوگوں نے ہمیں دینا میں گمراہ کیا تھا ان کو دگنا عذاب دے ، اللہ فرمائے گا سب عذاب بھگت رہے ہیں مگر تمہیں علم نہیں کمبختو ! اگر دنیا میں تمہیں اپنی گمراہی کا احساس ہوتا ، تو ایک بات بھی تھی اس عذاب الیم سے بچ جاتے ، اب کیا فائدہ جو پڑے جھلس رہے ہو ،
یہ نہایت خوفناک منظر ہوگا ، وہ لوگ جن سے دنیا میں عقیدت تھی ، جنہیں یہ لوگ خدا اور دیوتا سمجھتے تھے ، جن کی پرستش کرتے تھے ، جو…
Read the full tafseer →40 یقیناً جن لوگوں نے ہمارے دلائل اور احکام کی تکذیب کی اور ہماری آیات کے ساتھ متکبرانہ برتائو کیا تو ان لوگوں کے لئے آسمانوں کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور ان کی ارواح خبیثہ کو آسمان پر صعود نصیب نہ ہوگا اور یہ لوگ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ سوئی کے ناکے میں اونٹ داخل نہ ہوجائے۔ یعنی سوئی کا ناکہ اس قدر چھوٹا اور اونٹ اتنا جسیم جس طرح یہ ناممکن ہے کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل ہوسکے اسی طرح ان مکذبین اور متکبرین کا جنت میں داخل ہونا ممکن نہیں۔ اور ہم گناہ گاروں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں یعنی برزخ میں روح پر آسمانوں کے دروازے بند اور سجین میں ٹھکانا اور محشر میں جنت میں…
Read the full tafseer →ف 6۔ اور یہ محال ہے پس معلق بالمحال بھی ہمیشہ کے لیے منفی ہوگا۔
Read the full tafseer →آیات الٰہی کے منکروں کے لئے آسمان کے دروازے کبھی کھلنے والے نہیں :
51: ” سماء جنت کے دروازے کھلنے والے نہیں۔ “ مطلب یہ ہے کہ ان کا خیر مقدم نہیں ہوگا بلکہ وہ نہایت ذلت وفضیحت کے ساتھ اپنا انجام بد دیکھنے کے لئے مجرموں اور بدمعاشوں کی طرح ہنکائے ہوئے لائے جائیں گے۔ اس لئے ان بدنصیبوں پر نہ آسمانی خیرات وبرکات کا نزول ہوگا اور نہ ان کے اعمال نیک بندوں کے اعمال کی طرح آسمان کی طرف اٹھائے جائیں گے اور جب یہ مریں گے اور فرشتے ان کی خبیث روحیں لے کر آسمان کی طرف جائیں گے تو رحمت و قبولیت کے دروازے ان کے لئے نہ کھولے جائیں گے اور ان کو واپس سجین کی پستیوں اور گہرائیوں کی طرف لوٹا دیا جائے گا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
Commentary
Mentioned first in the set of verses cited above (35-37) is a pledge taken from every human being in the world of spirits, before being born into the material world. The pledge envisaged that they would, when the prophets of Allah come to them with Divine guidance and injunctions, listen to them in earnest and act accordingly. They were also told that those who abide by the pledge and fulfill what it entails, will have their salvation from sorrows and deserve eternal peace and comfort. And conversely, those who belie prophets or rebel against injunctions they bring shall have the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
32. If there develops any rancour or ill-will among good people during the course of their worldly lives, such rancour and will be removed in the Hereafter. Their hearts will be purged of all hostile feelings and they will enter Paradise as cordial friends. They will not feel envious towards those who had formerly been opposed or hostile to them that they share with them the bounties of Paradise. Significantly, 'Ali once recited this very verse and remarked: 'I wish that I and 'Uthman and Talhah and al-Zubayr will be among those about whom God has said: "And We shall take away all rancour…
Read the full tafseer →