Al-A'raaf 7:39

Al-A'raaf · from ayah 39

7:39

وَقَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ ۟۠وَقَالَتۡ اُوۡلٰٮهُمۡ لِاُخۡرٰٮهُمۡ فَمَا كَانَ لَـكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡسِبُوۡنَ

اور پہلی جماعت پچھلی جماعت سے کہے گی کہ تم کو ہم پر کچھ بھی فضیلت نہ ہوئی تو جو (عمل) تم کیا کرتے تھے اس کے بدلے میں عذاب کے مزے چکھو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the first of them will say to the last of them, "Then you had not any favor over us, so taste the punishment for what you used to earn."

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 4 of surah · Ruku 11 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:39

اور پہلا گروہ دوسرے گروہ سے کہے گا کہ (اگر ہم قابل الزام تھے) تو تمہی کو ہم پر کونسی فضیلت حاصل تھی، اب اپنی کمائی کے نتیجہ میں عذاب کا مزا چکھو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور پہلی جماعت پچھلی جماعت سے کہے گی کہ تم کو ہم پر کچھ بھی فضیلت نہ ہوئی تو جو (عمل) تم کیا کرتے تھے اس کے بدلے میں عذاب کے مزے چکھو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور پہلے لوگ پچھلے لوگوں سے کہیں گے کہ پھر تم کو ہم پر کوئی فوقیت نہیں سو تم بھی اپنی کمائی کے بدلے میں عذاب کامزه چکھو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور پہلے آنے والے بعد میں آنے والوں سے کہیں گے : تو پھر تم کو ہم پر کوئی فوقیت تو حاصل نہ ہوئی۔ لہذا جو کمائی تم خود کرتے رہے ہو اس کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور پہلے پچھلوں سے کہیں گے تو تم کچھ ہم سے اچھے نہ رہے تو چکھو عذاب بدلہ اپنے کیے کا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان کے اگلے اپنے پچھلوں سے کہیں گے: سو تمہیں ہم پر کچھ فضیلت نہ ہوئی پس (اب) تم (بھی) عذاب (کا مزہ) چکھو اس کے سبب جو کچھ تم کماتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان کی پہلی جماعت اپنی پچھلی جماعت سے کہے گی پھر تمہاری ہم پر کوئی برتری تو نہ ہوئی، تو عذاب چکھو اس کے بدلے جو تم کمایا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور پہلی جماعت پچھلی کے متعلق کہے گی۔ آخر تمہیں ہم پر کون سی برتری حاصل ہے (کہ تمہیں تو اکہرا عذاب ہو اور ہمیں دہرا یعنی دگنا ہو ؟) لہذا تم بھی جو کچھ کرتے رہے ہو اس کے عذاب کا مزا چکھو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کے اگلے اپنے پچھلوں سے کہیں گے، تم کو بھی تو ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوئی تو تم بھی اپنے کیے کی پاداش میں عذاب چکھو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان میں کی پہلی جماعت اپنی پچھلی جماعت سے کہے گی کہ پھر تم کو بھی ہم پر کوئی فوقیت نہ ہوئی، لہذا تم بھی عذاب کا مزہ چکھو اپنے ان اعمال کے بدلے میں جو تم کماتے رہے تھے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان کے اگلے اپنے پچھلوں سے کہیں گے پھر تم کو ہم پر کوئی ترجیح نہیں سو تم عذاب کا مزہ چکھو ان حرکتوں کے عوض جو تم کرتے رہے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان کے اگلے اپنے پچھلوں سے کہیں گے کہ تمہیں بھی تو ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوسکی لہٰذا اب چکھو مزہ عذاب کا اپنے کرتوتوں کے بدلے میں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور پہلی جماعت پچھلی جماعت سے کہے گی کہ تم کو ہم پر کچھ بھی برتری نہ ملی تو جو عمل تم کیا کرتے تھے اس کے بدلے میں عذاب کے مزے چکھو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then the preceding ones will say to the succeeding ones: 'You were in no way superior to us; taste, then, this torment for your deeds.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The former ones will say to the latter ones, :So, you have no privilege against us. Now, taste the punishment for what you have been earning.

— Muhammad Taqi Usmani

The former ones will say to the latter ones, :So, you have no privilege against us. Now, taste the punishment for what you have been earning.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The first of them will say to the last of them: "You were not better than us, so taste the torment for what you used to earn."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the first of them saith unto the last of them: Ye were no whit better than us, so taste the doom for what ye used to earn.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the first of them will say to the last of them, "Then you had not any favor over us, so taste the punishment for what you used to earn."

— Saheeh International

The first will then say, "You are no better than us; suffer the torment as the result of your deeds.

— Muhammad Sarwar

And the foremost of them will say to the last of them: So you have no preference over us; therefore taste the chastisement for what you earned.

— Muhammad Habib Shakir

And the first of them will say unto the last of them: ye have then no preference over us; taste then the torment for that which ye were wont to earn.

— Abdul Majid Daryabadi

Then the first will say to the last: "See then! No advantage have ye over us; so taste ye of the penalty for all that ye did!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–39

کفار کی گردنوں میں طوق اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مشرکوں کو جو اللہ پر افتراء باندھتے تھے، اس کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے، فرمائے گا کہ تم بھی اپنے جیسوں کے ساتھ جو تم سے پہلے گذر چکے ہیں خواہ وہ جنات میں سے ہوں خواہ انسانوں میں سے جہنم میں جاؤ۔ (فی النار یا تو فی امم) کا بدل ہے یا (فی امم) میں (فی) معنی میں (مع) کے ہے۔ ہر گروہ اپنے ساتھ کے اپنے جیسے گروہ پر لعنت کرے گا جیسے کہ خلیل اللہ ؑ نے فرمایا ہے کہ تم ایک دوسرے سے اس روز کفر کرو گے اور آیت میں ہے (اذ تبرا) یعنی وہ ایسا برا وقت ہوگا کہ گرو اپنے چیلوں سے دست بردار ہوجائیں گے، عذابوں کو دیکھتے ہی آپس کے سارے تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔ مرید لوگ اس وقت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْرَاف 31 اہل دوزخ کی اس باہمی تکرار کو قرآن مجید میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورة سبا آیات 31۔ 33 میں ارشاد ہوتا ہے کہ ”کاش تم دیکھ سکو اس موقع کو جب یہ ظالم اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے پر باتیں بنا رہے ہوں گے۔ جو لوگ دنیا میں کمزور بنا کر رکھے گئے تھے وہ ان لوگوں سے جو بڑے بن کر رہے تھے، کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے۔ وہ بڑے بننے والے ان کمزور بنائے ہوئے لوگوں کو جواب دیں گے ہم نے تم کو ہدایت سے روک دیا تھا جب کہ وہ تمہارے پاس آئی تھی ؟ نہیں، بلکہ تم خود مجرم تھے۔“ مطلب یہ ہے کہ تم خود کب ہدایت کے طالب تھے ؟ اگر ہم نے تمہیں دنیا کے لالچ دے کر اپنا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 35–39

خلاصہ تفسیر (ہم نے عالم ارواح ہی میں کہہ دیا تھا) اے اولاد آدم کی اگر تمہارے پاس پیغمبر آویں جو تم ہی میں سے ہوں گے جو میرے احکام تم سے بیان کریں گے سو (ان کے آنے پر) جو شخص (تم میں ان آیات کی تکذیب سے) پرہیز رکھے اور (اعمال کی) درستی کرے (مراد یہ کہ کامل اتباع کرے) سو ان لوگوں پر (آخرت میں) نہ کچھ اندیشہ (کی بات واقع ہونے والی) ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور جو لوگ (تم میں سے) ہمارے ان احکام کو جھوٹا بتادیں گے اور ان (کے قبول کرنے) سے تکبر کریں گے وہ لوگ دوزخ (میں رہنے) والے ہوں گے (اور) وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے (جب تکذیب کرنے والوں کا مستحق وعید شدید ہونا اجمالاً معلوم ہوگیا سو اب تفصیل…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَقَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۔ یہ اگلوں کی طرف سے پچھلوں کی مذکورہ بالا بات کا جواب ہوگا کہ اگر ہم نے تمہارے لیے بری مثال قائم کی تو تم نے دوسروں کے لیے کون سی اچھی مثال قائم کی۔ بات تو جب تھی کہ تم نے کوئی اچھی مثال قائم کی ہوتی۔ اس صورت میں بیشک تم ہمارے مقابل میں ترجیح اور فضیلت کے سزوار تھے لیکن جب تم بھی وہی کچھ کر کے آئے ہو جو وہ کر کے آئے ہیں تو ہم میں اور تم میں فرق کیا ؟ جس طرح ہم اپنے کیے کا مزا چکھیں گے تم بھی اپنے کیے کا مزا چکھو

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 38–39

38۔ 1 امم امۃ کی جمع ہے مراد وہ فرقے اور گروہ ہیں جو کفر شقاق اور شرک و تکذیب میں ایک جیسے ہوں گے۔ فی بمعنی مع بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی تم سے پہلے انسانوں اور جنوں میں جو گروہ تم جیسے یہاں آچکے ہیں ان کے ساتھ جہنم میں داخل ہوجاؤ یا ان میں شامل ہوجاؤ۔ (لَّعْنَتُ اُخْتَھَا) اپنی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی۔ اُخْت " بہن " کو کہتے ہیں۔ ایک جماعت (امت) کو دوسری جماعت (امت) کی بہن بہ اعتبار دین، یا گمراہی کے کہا گیا۔ یعنی دونوں ہی ایک غلط مذہب کے پیرو یا گمراہ تھے یا جہنم کے ساتھی ہونے کے اعتبار سے ان کو ایک دوسری کی بہن قرار دیا گیا ہے۔ 38۔ 2 اِدَّارَکُوْا کے معنی ہیں تَدَارَکُوْا۔ جب ایک دوسرے کو ملیں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 38–39

20: جو لوگ سرداروں کے ماتحت تھے وہ اپنے ان سرداروں پر لعنت بھیجیں گے جنہوں نے انہیں گمراہ کیا تھا اور سردار اپنے ماتحتوں پر لعنت بھیجیں گے کہ انہوں نے ان کی حد سے زیادہ تعظیم کرکے انہیں گمراہی میں اور پختہ کردیا۔ 21: مطلب یہ ہے کہ ہر ایک کا عذاب پہلے سے زیادہ ہوتا جائے گا۔ لہذا اگر سرداروں کو اس وقت دگنا عذاب دے دیا جائے گا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خود تم اتنے شدید عذاب سے محفوظ رہو گے، بلکہ ایک وقت آئے گا کہ خود تمہارا عذاب بھی بڑھ کر ان کے موجودہ عذاب کے برابر ہوجائے گا، چاہے ان کا عذاب اس وقت اور بڑھ جائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 38–39

آیت ” نمبر 38 تا 39۔ آیت ” قَالَ ادْخُلُواْ فِیْ أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِکُم مِّن الْجِنِّ وَالإِنسِ فِیْ النَّارِ “۔ (7 : 38) ” اللہ فرمائے گا جاؤ ‘ تم بھی اسی جہنم میں چلے جاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہ جن وانس جا چکے ہیں ۔ “ یعنی اپنے ساتھیوں کے ساتھ جا ملو ‘ انسانوں اور جنوں میں تمہارے جو دوست ہیں ان میں شامل ہوجاؤ ‘ لیکن جہنم میں ۔ کیا تمہیں معلوم نہ تھا کہ کہ ابلیس نے اپنے رب کی نافرمانی کی تھی ؟ کیا اس نے آدم اور اس کی بیوی کو جنت سے نہ نکلوایا تھا ؟ کیا شیطان نے اولاد آدم کو گمراہ نہ کیا تھا کیا اللہ نے اسی شیطان کو دھمکی نہ دی تھی کہ وہ اور اس کے تمام متبعین جہنم میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی ہماری سزا میں اضافہ کی درخواست کر کے تمہیں کیا مل گیا ؟ کیا تمہارے عذاب میں کچھ تخفیف ہوگئی ؟ نہیں، تم کو بھی اپنی کرتوت کا مزہ چکھنا ہے

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 38–39

آیت 38 قَالَ ادْخُلُوْا فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِی النَّارِ ط یعنی ایک ایک قوم کا حساب ہوتا جائے گا اور مجرمین جہنم کے اندر جھونکے جاتے رہیں گے۔ پہلی نسل کے بعد دوسری نسل ‘ پھر تیسری نسل و علیٰ ٰہذا القیاس۔ اب وہاں ان میں مکالمہ ہوگا۔ بعد میں آنے والی ہر نسل کے مقابلے میں پہلی نسل کے لوگ بڑے مجرم ہوں گے ‘ کیونکہ جو لوگ بدعات اور غلط عقائد کے موجد ہوتے ہیں اصل اور بڑے مجرم تو وہی ہوتے ہیں ‘ ان ہی کی وجہ سے بعد میں آنے والی نسلیں بھی گمراہ ہوتی ہیں۔ لہٰذا قرآن مجید میں اہل جہنم کے جو مکالمات مذکور ہیں ان کے مطابق بعد میں آنے والے لوگ اپنے پہلے والوں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 38–39

38 یہاں پہلی اور پچھلی جماعت سے مراد ایک ہی جنس کے اسلاف اور اخلاف ہیں مثلاً یہود یا نصارٰی یا مشرکین یا مسلمانوں میں سے ایک فریق گمراہ کرنے والا اور دوسرا فریق گمراہ ہونے والا۔ گمراہ ہونے والے اللہ تعالیٰ سے کہیں گے یا اللہ ہمارے ان اسلاف کو دوگنا عذاب کر۔ اس لیے کہ وہ خود تو گمراہ ہوئے ہی تھے ہمیں بھی اپنے ساتھ لے ڈوبے اور گمراہ کرنے والے اپنے اخلاف سے کہیں گے کہ ملعونو ! اگر ہم گڑھے میں گرگئے تھے تو کیا تم اندھے ہوگئے تھے جو اسی گڑھے میں تم بھی گرگئے۔ آخر تمہارا جرم کس لحاظ سے کم ہے ؟ گویا دونوں اپنے گناہ اور بدبختی ایک دوسرے کے سر تھوپنے کی کوشش کریں گے۔ 39 مکافات عمل کے تقاضے :۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

53 ۔ غرض اہل جہنم میں باہم سخت گلخپ شروع ہوجائے گی، ایک دوسرے پر الزام وطعن سے کام لینے لگیں گے اور یہ بجائے خود ایک عذاب ہوگا۔ (آیت) ” قالت اولھم لاخرھم “۔ اگلوں کا یہ خطاب اپنے بعد والوں سے حق تعالیٰ کا یہ جواب سننے کے بعد ہوگا۔ (آیت) ” ماکان لکم علینا من فضل “۔ یعنی تخفیف عذاب کے بارے میں تم ہم سے کچھ بھی بہتر نہیں، تخفیف سے جس طرح ہم محروم ہیں تم بھی محروم ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 38–39

حتی اذا ادارکوا فیہا جمیعا، (الآیۃ) یعنی اب ایک دوسرے کو طعنہ دینے اور الزام دھرنے سے کوئی فائدہ نہیں، تم سب ہی اپنی اپنی جگہ بڑے مجرم ہو اور تم سب ہی دوگنے عذاب کے مستحق ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقالت اولہم لاخرہم فما کان لکم علینا من فضل فذوقوا العذاب بما کنتم تکسبون : اور پہلی جماعت پچھلی جماعت سے کہے گی اب تم کو ہم پر کوئی برتری نہیں لہٰذا اپنے کئے کا مزہ چکھو۔ پہلی جماعت اپنے کلام کو اللہ کے کلام پر مرتب کرتے ہوئے کہے گی اللہ کے کلام سے ثابت ہوگیا کہ کہ تم کو ہم پر کوئی برتری حاصل نہیں۔ سب استحقاق عذاب میں برابر ہیں لہٰذا اپنے کئے کی سزا بھگتو فذوقوا العذاب رہنماؤں کے کلام کا جزء ہے یا اللہ کا وہ کلام ہے۔ جو دونوں فریقوں سے ان کی باہمی گفتگو کے بعد اللہ فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(39) اور پہلی جماعت بعد میں آنے والوں سے کہے گی، ہم کو دوہرا عذاب کیوں ہو، تم نے بھی ہماری طرح کفر کیا اور تم نے بھی غیر اللہ کی، عبادت کی جیسا کہ ہم نے کی، سو تم بھی اپنے اقوال و اعمال شرکیہ کی وجہ سے عذاب کا مزہ چکھو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ : یعنی اگر ہم مجرم و بدکار تھے تو تمہارا حال ہم سے کون سا بہتر تھا، تم نے بھی اپنی مرضی سے کفر کی روش اختیار کی اور اگر ہم نے تمہیں گمراہ کیا تھا تو تم نے بھی کتنے لوگوں کا بیڑا غرق کیا، اب تمہیں ہم پر کون سی برتری حاصل رہی ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 38–39

آیت نمبر : 38۔ 39 قولہ تعالیٰ : قال ادخلوا فی امم قد خلت من قبلکم من الجن والانس فی النار، ای مع امم یعنی تم داخل ہوجاؤ ان امتوں کے ساتھ۔ تو اس میں فی بمعنی مع ہے۔ اور یہ ممتنع نہیں ہے، کیونکہ تیرا قول : زید فی القوم بمعنی زید مع القوم ہی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فی اپنے معنی میں ہی ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 398) ۔ ای ادخلوا فی جملتھم ( تم بھی ان کے اجتماع میں داخل ہوجاؤ) اور قائل ( کہنے والا) کے بارے میں بھی کہا گیا ہے کہ وہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم داخل ہوجاؤ۔ اور یہ قول بھی ہے کہ وہ دروغہ جہنم مالک ہے۔ (یعنی وہ انہیں کہے گا : تم داخل ہوجاؤ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 38–39

(1) ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” قدخلت “ یعنی جو گزر چکی لفظ آیت ” کلما دخلت امۃ لعنت اختھا “ جب بھی ایک دین والے داخل ہوں گے تو وہ اس دین پر چلنے والے اپنے ساتھیوں پر لعنت کریں گے مشرک لوگ لعنت کریں گے مشرکوں پر یہودی لعنت کریں گے یہودیوں پر نصاری لعنت کریں گے نصاری پر صابی لعنت کریں گے صائبین پر مجوسی لعنت کریں گے مجوسیوں پر لفظ آیت ” حتی اذا ادارکوا فیہا جمیعا، قالت اخرہم “ یعنی وہ لوگ جو آخری زمانہ میں تھے وہ کہیں گے ” لاولہم “ ان پہلے لوگوں کے لئے جنہوں نے ان کے لئے اس دین کو شروع کیا تھا لفظ آیت ” ربنا ھولاء اضلونا “ سے لے کر ” قال لکل ضعف “ تک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَالَتْ [ اور کہے گی ] اُوْلٰىهُمْ [ ان کی پہلی ] لِاُخْرٰىهُمْ [ اپنی دوسری سے ] فَمَا كَانَ [ پس نہیں تھی ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] عَلَيْنَا [ ہم پر ] مِنْ فَضْلٍ [ کسی قسم کی کوئی فضیلت ] فَذُوْقُوا [ تو چکھو ] الْعَذَابَ [ عذاب کو ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ [ تم لوگ کمائی کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَ قَالَتْ اُوْلٰھُمْ لِاُخْرٰیھُمْ فَمَا کَانَ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ ) کہ پہلے لوگ بعد والوں سے کہیں گے کہ جب سب کی سزا کا یہ حال ہے تو پھر تم کو ہم پر کوئی فوقیت نہ ہوئی نہ عذاب کی تخفیف ہمارے لیے ہے نہ تمہارے لیے۔ (فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ ) (سو تم اپنے اعمال کے بدلے عذاب چکھ لو) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 35–43

نداء چہارم تذکیر عہد قدیم باطاعت خداوند کریم وبیان نعیم وجحیم قال اللہ تعالیٰ یبنی ادم اما یاتینکم رسل منکم۔۔۔ الی۔۔۔ اور ثتموھا بماکنتم تعملون۔ (ربط) ( گزشتہ آیات میں بنی آدم کے لیے تین نداؤں کا بیان ہوا جن میں عقائد و اعمال میں ابلیس کے اتباع اور موافقت سے اور احکام الہیہ کی مخالفت سے ممانعت فرمائی اب آئندہ آیات میں نداء چہارم کا ذکر ہے جس سے بنی آدم کو اپنا عہد قدیم یاد دلاتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ تم کو اس مضمون کا خطاب کوئی جدید امر نہیں بلکہ عالم ارواح میں تم سے یہ عہد لے لیا گیا تھا کہ دیکھو ہم دنیا میں اپنے رسول بھیجیں گے اور ان کے ذریعہ سے ہم تم کو راہ ہدایت اور صراط مستقیم سے آگاہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

43 اللہ تعالیٰ کا مذکورہ ارشاد سن کر متبوعین تابعین سے کہیں گے کہ سزا وار عذاب ہونے میں ہم اور تم برابر ہیں اور تخفیف عذاب کا تمہیں کوئی استحقاق نہیں لہذا اب اپنے کیے کی سزا بھگتو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 38–39

ربط آیات آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے ضمن میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کو خطاب کرکے فرمایا کہ اگر تم اپنے جدامجد کے ٹھہرنے والی جنت میں دوباہر داخلہ چاہتے ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ دنیا میں جب تمہارے پاس اللہ کے رسول آئیں تو ان کا اتباع کرنا اور ان کے بتلائے ہوئے راستے پر چلنا پھر یہ بھی فرمایا کہ جو کوئی تقویٰ اختیار کرے گا کفر اور شرک سے بچتا رہے گا معاصی کے قریب نہیں جائے گا نیکی اختیار کرے گا تو ایسے لوگوں کے لیے نہ آئندہ کا کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ سابقہ اعمال پر غمگین ہوں گے اس کے برخلاف جن لوگوں نے تکذیب کی اللہ کے نبیوں کی مخالفت کی خدا تعالیٰ کی وحدانیت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاسْـتَكْبَرُوْا عَنْہَا لَا تُفَتَّحُ لَہُمْ اَبْوَابُ السَّمَاۗءِ وَلَا يَدْخُلُوْنَ الْجَـنَّۃَ حَتّٰي يَـلِجَ الْجَمَلُ فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ۝ 0 ۭ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِيْنَ۝ 40 فتح الفَتْحُ : إزالة الإغلاق والإشكال، وذلک ضربان : أحدهما : يدرک بالبصر کفتح الباب ونحوه، وکفتح القفل والغلق والمتاع، نحو قوله : وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] ، وَلَوْ فَتَحْنا عَلَيْهِمْ باباً مِنَ السَّماءِ [ الحجر/ 14] . والثاني : يدرک بالبصیرة کفتح الهمّ ، وهو إزالة الغمّ ، وذلک ضروب : أحدها : في الأمور الدّنيويّة كغمّ يفرج، وفقر يزال بإعطاء المال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 38–41

ادخلوا فی امم قد خلت من قبلکم الخ میں حشر کے روز کا واقعہ بیان فرماتا ہے کہ ان کے لئے حکم ہوگا کہ ان کو ان سے پہلے جو گمراہ امتیں گزریں ہیں ان کے ساتھ ملا کر جہنم میں داخل کرو یہاں تک کہ جب سب وہاں جا پڑیں گے تو پچھلے لوگ خدا تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ اے پروردگار ! ہم کو تو ان بڑے بزرگوں نے گمراہ کیا ہے بری رسمیں چلا گئے تھے ٗ ہم ان پر چلے۔ ان کو زیادہ عذاب دے۔ ان کے مقتدا کہیں گے کہ ان کو ہم پر کیا فوقیت ہے۔ یہ بھی گمراہی میں… شریک اور مساوی ہیں۔ انہوں نے ہمارا یوں اتباع کیا۔ حکم ہوگا کہ تم میں سے ہر ایک کو ہر آن زیادہ عذاب ہے تم کو معلوم نہیں کہ دوسرے فریق کو بھی ایسا ہی روز افزوں عذاب ہو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 37–39

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ط اُولٰٓئِکَ یَنَالُھُمْ نَصِیْبُھُمْ مِّنَ الْکِتٰبِ ط حَتّٰٓی اِذَا جَآئَتْھُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَھُمْ لا قَالُوْآ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ ط قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَھِدُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ اَنَّھُمْ کَانُوْا کٰفِرِیْنَ ۔ قَالَ ادْخُلُوْا فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِی النَّارِ ط کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَھَا ط حَتّٰٓی اِذَا ادَّارَکُوْا فِیْھَا جَمِیْعًا لا قَالَتْ اُخْرٰھُمْ لِاُوْلٰھُمْ رَبَّنَا ھٰٓؤُلَآئِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–39

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ جس میں مکذبین کی بری موت کے بعد ان کا برا انجام بتلایا گیا ہے۔ متکبرین اور مکذبین گروہ درگروہ جہنم میں پھینکے جائیں گے جہنم میں ڈالا جانے والا جنوں اور انسانوں کا ہر گروہ اپنے سے پہلے گروہ پر لعنت اور پھٹکار بھیجتے ہوئے کہے گا کہ ہم تمہاری وجہ سے اس انجام کو پہنچے ہیں اگر تم ہدایت کا راستہ اختیار کرتے تو ہم تمہارے بعد کبھی گمراہ نہ ہوتے۔ وہ جواب دیں گے کہ تم نے خود ہی ایمان کا راستہ اختیار نہیں کیا جبکہ ہم نے تم پر کوئی جبر نہیں کیا تھا۔ (الصافات 22 تا 31) سورة الاحزاب آیت 66 تا 68 میں بیان کیا گیا ہے کہ جب جہنمی جہنم کی آگ سے منہ باہر نکالیں گے تو اللہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

داخلہ جہنم کا ایک منظر : آیت 39: وَقَالَتْ اُوْلٰھُمْ لِاُخْرٰ ہُم فَمَا کَانَ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضلٍ (اور پہلے لوگ پچھلے لوگوں سے کہیں گے کہ پھر تم کو ہم پر کوئی فوقیت نہیں) نچلے درجہ کے لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لِکُلٍّ ضِعْفٌ (الاعراف۔ 38) اس کے بعد یہ کلام لائے یعنی یہ بات ثابت ہوچکی کہ ہم عذاب کے بڑھائے جانے میں برابر کے حقدار ہیں۔ فَذُوْقُوا الْعَذابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ (پس تم بھی اپنے کردار کے بدلے میں عذاب کا مزا چکھتے رہو) تمہاری کمائی اور کفر کی وجہ سے اور یہ قائدین کا قول ہے جو نیچے درجہ والے لوگوں کو کہیں گے اس لیے فضل پر وقف نہیں یا ان تمام کو یہ کہا اس صورت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(39) (وقالت اولھم لاخرھم ) یعنی قائدین (پچھلوں کو) پیروکاروں کو (فما کان لکم علینا من فضل) کیونکہ تم نے بھی ہماری طرح کفر کیا تو کفر اور عذاب میں بھی ہم برابر ہوں گے (فذوقوا العذاب بما کنتم تکسبون)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–39

(38 ۔ 39) ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مالک دوزخ کا داروغہ کہے گا کہ داخل ہو آگ میں ہمراہ اور امتوں کے جو تم سے پہلے جن اور آدمیوں میں سے گذر چکی ہیں پھر دوزخ میں داخل ہوتے ہی ایک امت دوسری امت کو لعنت کرنے لگے گی مشرک مشرکوں یہود یہود کو لعنت کرنے لگیں گے پچھلی امت کے لوگ پہلی امت کے لوگوں کے حق میں خدا تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ اے پروردگار انہوں نے ہم کو تیرے راستہ سے بہکا دیا تھا ان کو دوچند عذاب کر جواب ملیگا کہ تم سب کے واسطے دو چند عذاب ہے لیکن تم نہیں جانتے کیونکہ ہم نے ہر ایک کو اس کے عمل کے موافق سزادی ہے اور پہلی امت کے لوگ پچھلی امت کے لوگوں سے کہیں گے کہ تم کو ہم پر کچھ فوقیت نہیں ہے جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 38–40

آیت 38 فرشتے ان سے کہیں گے : (قال ادخلوا فی ام) ” ان قوموں میں داخل ہوجاؤ۔ “ یعنی ان جملہ امتوں میں داخل ہوجاؤ۔ (قد خلت من قبلکم من الجن والانس) ” جو تم سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے گزر چکیں “ یعنی وہ بھی اسی راستے پر گامزن رہے تھے جس پر تم چلتے رہے ہو۔ یعنی کفر و استکبار کا راستہ۔۔۔ اس لئے سب رسوائی اور ہلاکت کے مستحق ٹھہرے (فی النار) اور ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہو۔ سرکش اور نافرمان قوموں میں سے جب کوئی قوم جہنم میں جاخل ہوگی (لعنت اختھا) ” اپنی جیسی جماعت پر لعنت کرے گی۔ “ یعنی اپنے جیسے مشرکانہ عقائد رکھنے والی قوم پر لعنت کرے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” قیامت کے روز تم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 33–54

فواحش سے مراد قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھا وما بطن ولاثم والبغی بغیر الحق۔ اے محمد ﷺ ، ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں، بےشرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی) مجاہد کا قول ہے کہ فواحش سے زنا مراد ہے یہ سری خواحش ہے اور برہنہ حالت میں طواف کرنا جہری فواحش ہے۔ ایک قول ہے کہ بےشرمی کے تمام کام فواحش ہیں۔ شروع میں اجمالاً ان کا ذکر کیا پھر ان کی مختلف صورتوں کی تفصیل بیان کردی اور یہ فرمایا کہ گناہ حق کے خلاف زیادتی اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا فواحش کی صورتیں ہیں۔ یعنی لوگوں پر ناحق اور بزور قوت غلبہ جمانے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

53 گروؤں کا اپنے چیلوں کو جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ دوزخ میں پڑے وہ گرو اپنے چیلوں سے کہیں گے کہ تمہارے اس مطالبے سے تمہیں کوئی فائدہ نہ ہوا بلکہ ہم تم برابر ہی ہوئے۔ پھر تم کو ہمارے خلاف اس شکایت سے کیا ملا ؟ اس طرح وہ بڑے گرو اپنے چیلوں کی تذلیل کریں گے اور ان کی تذلیل سے وہ خوش ہوں گے جنکی حمایت و ہمدردی کے وہ دم بھرا کرتے تھے۔ سو اس روز ان کے یہ تمام رشتے کٹ جائیں گے اور ان کی باہمی دوستیاں دشمنیوں میں بدل جائیں گی۔ بہرکیف اس طرح وہ گرو ان سے کہیں گے کہ اگر ہم نے تمہارے لئے بری مثال قائم کی تھی تو تم نے کونسی کوئی اچھی مثال قائم کی تھی ؟۔ تم بھی تو برائی میں ہمارے معاون و مددگار اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 29–43

سزا اور جزا کی خبر تشریح : پچھلی آیات میں بہترین زندگی گزارنے کے اصول، قوانین اور طریقے بتائے گئے ہیں۔ ان آیات میں دوبارہ صالحین اور مشرکین کے بارے میں وضاحت کی جا رہی ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی شک باقی نہ رہ جائے کیونکہ اکثر لوگ یہی کہتے ہیں کہ جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا۔ اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ بھئی مرنے کے بعد کس طرح ہم زندہ ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو باربار سمجھا رہے ہیں کہ کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔ تم کھائو، پیو اور مزے اڑالو مگر یاد رکھو موت کا وقت مقرر ہے ایک سیکنڈ بھی اس سے آگے پیچھے نہ ہوگا۔ اس وقت تم اپنے برے اعمال پر پچھتائو گے تو کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ عمل کا وقت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–39

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 32 تا 39: اسرار و معارف : اچھا کھانا اور لباس : چونکہ انسانی شرف کا مدار ہی اللہ کریم کی رضا ہے لہذا اصل کام خلوص دل سے اطاعتِ الہی کرکے اس کی رضا حاصل کرنا ہے اسلام نے باطل مذاہب کی طرح فضول اور خود ساختہ مشقت اٹھانے سے منع فرما دیا ہے اور لذیذ کھانوں سے اجتناب یا اچھا لباس پہننا کوئی عبادت نہیں نہ رب جلیل نے اس کا حکم دیا ہے جب مالک اللہ ہے اور اس نے بہتر رزق اچھے پھل مزیدار کھانے جو حلال اور جائز ذرائع سے حاصل کئے گئے ہوں ایسے ہی خوبصورت اور آرام دہ لباس یا بہتر سواری اور خوبصورت گھر سے منع نہیں فرمایا پھر دوسرا کون ایسا ہوسکتا ہے جو اس کے بندوں کو ان چیزوں سے روک دے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعنی اگر ہم مجرم و بدکار تھے تو تمہار احال کونسا بہتر تھا تم نے اپنی مرضی سے کفر کی روش اختیار کی، (ابن کثیر۔ قرطبی) 1 اس سے مقصود تخویف وزجر ہے۔ (کبیر )

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 35–39

لغات الا قرآن آیت نمبر (35 تا 39 ) ۔ یاتینکم (تمہارے پاس آئیں) ۔ ینال (پہنچے گا۔ ملے گا) ۔ نصیب (حصہ) ۔ یتوفون (موت دیں گے۔ جان نکالیں گے) ۔ تدعون (تم پکارتے ہو) ۔ ضلواعنا (ہم سے غائب ہوگئے۔ گم ہوگئے) ۔ شیدوا (وہ گواہ بن گئے) ۔ امم (امتیں۔ جماعتیں) ۔ خلت (گزر گئی۔ (گزر گئیں) ۔ لعنت (لعنت کی۔ (لعنت کریں گے) ۔ اختھا (اپنے ساتھی کو) ۔ ادرکوا (مل جائیں گے) ۔ ضعف (دو گناہ ) ۔ فضل (بڑائی ) ۔ تکسبون (تم کماتے ہو ) ۔ تشریح ـ آیت نمبر (35 تا 39 ) ۔” کفار اور مشرکین کو آگاہ کرنے کے لئے ان آیات میں چار بڑی حقیقتوں کو پیش کیا جا رہا ہے ان حقیقتوں کا تعلق اس دنیا کی زندگی سے بھی ہے اور اس کے بعد آنے والی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–40

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کی دعا اور نیک عمل آسمان پر نہیں جاتے اور قبول نہیں ہوتے، یا جب مرتے ہیں تو ان کی ارواح کے واسطے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں، اور تکبر سے ان کو نہیں مانتے، یہ جنت میں داخل نہ ہوں گے، جب تک اونٹ سوئی کے ناکے میں نہ گھسے۔ یعنی اونٹ عرب کے نزدیک سب حیوانوں میں بڑا ہے اور سوئی کا ناکہ بہت چھوٹا ہوتا ہے، اس واسطے مشرک بہشت میں داخل ہونے سے قطعی محروم ہیں۔ پھر فرمایا مجرموں کی یہی سزا ہے کہ ان کی آگ کی تو شک اور آگ ہی کا لحاف ہوگا۔ ظالموں کو یہی بدلہ ملے گا۔ کیونکہ شرک بڑا ظلم ہے۔ جو اللہ کے سوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 39–40

[20] مطلب یہ ہے کہ وہ خیر و برکت کے نزول سے محروم رہیں گے۔ [21] اور یہ محال ہے لہذا کفار کا جنت میں جانا بھی محال ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 38–40

(ف 2) یہ عجیب بات ہے جب یہ لوگ جہنم میں داخل ہوں گے تو یہ چاہیں گے کہ وہ لوگ جنہوں نے ان کی گمراہی میں بہت بڑا حصہ ہے لیا ہے ، اس بری طرح پھنسیں ، اور ان کو یہ عذاب میں دکھ اٹھاتے ہوئے دیکھیں ، اس لئے کہیں گے ، یا اللہ ، ان لوگوں نے ہمیں دینا میں گمراہ کیا تھا ان کو دگنا عذاب دے ، اللہ فرمائے گا سب عذاب بھگت رہے ہیں مگر تمہیں علم نہیں کمبختو ! اگر دنیا میں تمہیں اپنی گمراہی کا احساس ہوتا ، تو ایک بات بھی تھی اس عذاب الیم سے بچ جاتے ، اب کیا فائدہ جو پڑے جھلس رہے ہو ، یہ نہایت خوفناک منظر ہوگا ، وہ لوگ جن سے دنیا میں عقیدت تھی ، جنہیں یہ لوگ خدا اور دیوتا سمجھتے تھے ، جن کی پرستش کرتے تھے ، جو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

39 اور اس پر پہلے لوگ پچھلوں سے کہیں گے بس اب تم کو ہم پر کوئی فوقیت نہ رہی کہ ہمارے مقابلہ میں تم کو عذاب کم دیا جائے لہٰذا تم اس کمائی کی پاداش میں جو کمایا کرتے تھے دگنے عذاب کا مزہ چکھتے رہو یعنی جہنم میں پہلے اور پچھلے سب جمع ہوجائیں گے اول تو ہر گروہ دوسرے گروہ پر لعنت ملامت کرے گا پھر پہلے پچھلوں کیلئے دگنا عذاب طلب کریں گے اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم سب کو ہی دگنا عذاب ہوگا اول تو دوزخ میں عذاب بڑھتا ہی رہے گا دوسرے یہ کہ پہلوں پر اس لئے کہ انہوں نے کفر کی رسم پیدا کی اور دوسروں کو گمراہ کیا اور پچھلوں پر اس لئے کہ انہوں نے پہلوں کا انجام دیکھ کر سن کر عبرت نہیں پکڑی اور اندھا دھند ان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 38–39

ف 5۔ یعنی باہم ہمدردی نہ ہوگی بوجہ انکشاف حقائق کے ہر شخص دوسرے کو بری نظر سے دیکھے گا اور براک ہے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہر پہلی امت دوسری کو مطعون کرے گی لیکن اس طعنہ زنی کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا : 50: یہ حقیقت ہے کہ جب کوئی جماعت کسی برائی میں مبتلا ہوتی ہے تو خود بھی گمراہ ہوتی ہے اور دوسروں کے لئے بھی گمراہی کی مثال قائم کردیتی ہے۔ اسی لئے پچھلی امتیں اپنے سے پہلی امتوں پر لعنت بھیجیں گی کہ ان کی تقلید وپیروی میں ہم گمراہ ہوئیں اس لئے وہ پہلوں کو زیادہ عذاب کی متمنی ہوں گی حالانکہ اس طرح ہر پہلی جماعت دوسری کے لئے بری مثال قائم کرتی رہی اس لئے ان سب کو کہا جائے گا کہ تم سب کے لئے ہی دوگنا عذاب ہے اس لئے اس طعنہ زنی کا ان کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا بلکہ الٹا نقصان ہی ہوگا کہ وہ جوتوں کے ساتھ پیاز بھی کھائیں گے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–39

The first and the second verse both mentioned two crimes committed by disbelievers. They took Halal as Haram and made the Haram become Halal for themselves by themselves. The third verse (34) describes their sad end and the punishment they would have in the Hereafter. It was said: وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُ‌ونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ (And for every people there is an appointed time. So, when their appointed time comes, they will not be late for a moment, nor will they go before). In other words, what is being said here is that those…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

31. In addition to the above verse, the Qur'an elsewhere recounts the mutual incriminations of the dwellers of Hell. For example, it occurs in Sarah al-Saba' in the following words: 'Could you but see when the wrong-doers will be made to stand before their Lord, throwing back the word (of blame) on one another! Those who had been abased will say to the arrogant ones: "Had it not been for you, we should certainly have been believers!" The arrogant ones will say, to those who had been abased: "Was it we who kept you back from Guidance after it reached you? Nay, rather it was you yourselves who…

Read the full tafseer →