Explained with ayahs 38–39
کفار کی گردنوں میں طوق
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مشرکوں کو جو اللہ پر افتراء باندھتے تھے، اس کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے، فرمائے گا کہ تم بھی اپنے جیسوں کے ساتھ جو تم سے پہلے گذر چکے ہیں خواہ وہ جنات میں سے ہوں خواہ انسانوں میں سے جہنم میں جاؤ۔ (فی النار یا تو فی امم) کا بدل ہے یا (فی امم) میں (فی) معنی میں (مع) کے ہے۔ ہر گروہ اپنے ساتھ کے اپنے جیسے گروہ پر لعنت کرے گا جیسے کہ خلیل اللہ ؑ نے فرمایا ہے کہ تم ایک دوسرے سے اس روز کفر کرو گے اور آیت میں ہے (اذ تبرا) یعنی وہ ایسا برا وقت ہوگا کہ گرو اپنے چیلوں سے دست بردار ہوجائیں گے، عذابوں کو دیکھتے ہی آپس کے سارے تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔ مرید لوگ اس وقت…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 30
یعنی بہرحال تم میں سے ہر گروہ کسی کا خلف تھا تو کسی سلف بھی تھا۔ اگر کسی گروہ کے اسلاف نے اس کے لیے فکر وعمل کی گمراہیوں کا ورثہ چھوڑا تھا تو خود وہ بھی اپنے اخلاف کے لیے ویسا ہی ورثہ چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوا۔ اگر ایک گرہ کے گمراہ ہونے کی کچھ ذمہ داری اس کے اسلاف پر عائد ہوتی ہے تو اس کے اخلاف کی گمراہی کا اچھا خاصا بارخود اس پر بھی عائد ہوتا ہے۔ اسی بنا پر فرمایا کہ ہر ایک کے لیے دوہرا عذاب ہے۔ ایک عذاب خود گمراہی اختیار کرنے کا اور دوسرا عذاب دوسروں کو گمراہ کرنے کا۔ ایک سزا اپنے جرائم کی اور دوسری سزا دوسروں کے جرائم پیشگی کی میراث چھوڑ آنے کی۔
حدیث میں اسی مضمون کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–39
خلاصہ تفسیر
(ہم نے عالم ارواح ہی میں کہہ دیا تھا) اے اولاد آدم کی اگر تمہارے پاس پیغمبر آویں جو تم ہی میں سے ہوں گے جو میرے احکام تم سے بیان کریں گے سو (ان کے آنے پر) جو شخص (تم میں ان آیات کی تکذیب سے) پرہیز رکھے اور (اعمال کی) درستی کرے (مراد یہ کہ کامل اتباع کرے) سو ان لوگوں پر (آخرت میں) نہ کچھ اندیشہ (کی بات واقع ہونے والی) ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور جو لوگ (تم میں سے) ہمارے ان احکام کو جھوٹا بتادیں گے اور ان (کے قبول کرنے) سے تکبر کریں گے وہ لوگ دوزخ (میں رہنے) والے ہوں گے (اور) وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے (جب تکذیب کرنے والوں کا مستحق وعید شدید ہونا اجمالاً معلوم ہوگیا سو اب تفصیل…
Read the full tafseer →قَالَ ادْخُلُوْا فِيْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِي النَّارِ ۭكُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا ۭ حَتّٰى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38
قَالَ ادْخُلُوْا فِيْٓ اُمَمٍ ْ یہ وہ انجام بیان ہو رہا ہے جو ان لوگوں کے سامنے آئے گا، قال کا فاعل جب اس طرح کے مواقع میں حذف کردیا جاتا ہے تو یہ بےاعتنائی اور بےرخی پر دلیل ہوتا ہے۔
یہاں دو طرف مذکور ہوئے ہیں، فی امم، اور فی النار، پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
38۔ 1 امم امۃ کی جمع ہے مراد وہ فرقے اور گروہ ہیں جو کفر شقاق اور شرک و تکذیب میں ایک جیسے ہوں گے۔ فی بمعنی مع بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی تم سے پہلے انسانوں اور جنوں میں جو گروہ تم جیسے یہاں آچکے ہیں ان کے ساتھ جہنم میں داخل ہوجاؤ یا ان میں شامل ہوجاؤ۔ (لَّعْنَتُ اُخْتَھَا) اپنی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی۔ اُخْت " بہن " کو کہتے ہیں۔ ایک جماعت (امت) کو دوسری جماعت (امت) کی بہن بہ اعتبار دین، یا گمراہی کے کہا گیا۔ یعنی دونوں ہی ایک غلط مذہب کے پیرو یا گمراہ تھے یا جہنم کے ساتھی ہونے کے اعتبار سے ان کو ایک دوسری کی بہن قرار دیا گیا ہے۔
38۔ 2 اِدَّارَکُوْا کے معنی ہیں تَدَارَکُوْا۔ جب ایک دوسرے کو ملیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
20: جو لوگ سرداروں کے ماتحت تھے وہ اپنے ان سرداروں پر لعنت بھیجیں گے جنہوں نے انہیں گمراہ کیا تھا اور سردار اپنے ماتحتوں پر لعنت بھیجیں گے کہ انہوں نے ان کی حد سے زیادہ تعظیم کرکے انہیں گمراہی میں اور پختہ کردیا۔
21: مطلب یہ ہے کہ ہر ایک کا عذاب پہلے سے زیادہ ہوتا جائے گا۔ لہذا اگر سرداروں کو اس وقت دگنا عذاب دے دیا جائے گا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خود تم اتنے شدید عذاب سے محفوظ رہو گے، بلکہ ایک وقت آئے گا کہ خود تمہارا عذاب بھی بڑھ کر ان کے موجودہ عذاب کے برابر ہوجائے گا، چاہے ان کا عذاب اس وقت اور بڑھ جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
آیت ” نمبر 38 تا 39۔
آیت ” قَالَ ادْخُلُواْ فِیْ أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِکُم مِّن الْجِنِّ وَالإِنسِ فِیْ النَّارِ “۔ (7 : 38)
” اللہ فرمائے گا جاؤ ‘ تم بھی اسی جہنم میں چلے جاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہ جن وانس جا چکے ہیں ۔ “
یعنی اپنے ساتھیوں کے ساتھ جا ملو ‘ انسانوں اور جنوں میں تمہارے جو دوست ہیں ان میں شامل ہوجاؤ ‘ لیکن جہنم میں ۔ کیا تمہیں معلوم نہ تھا کہ کہ ابلیس نے اپنے رب کی نافرمانی کی تھی ؟ کیا اس نے آدم اور اس کی بیوی کو جنت سے نہ نکلوایا تھا ؟ کیا شیطان نے اولاد آدم کو گمراہ نہ کیا تھا کیا اللہ نے اسی شیطان کو دھمکی نہ دی تھی کہ وہ اور اس کے تمام متبعین جہنم میں…
Read the full tafseer →3 یعنی آگے پیچھے کفار کو دوزخ ہی میں داخل ہونا ہے۔
4 یعنی اس مصیبت میں باہم ہمدردی تو کیا ہوتی، دوزخی ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے۔ شاید اتباع اپنے سرداروں سے کہیں کہ تم پر خدا کی لعنت ہو تم اپنے ساتھ ہمیں بھی لے ڈوبے اور سردار اتباع سے کہیں کہ ملعونو ! اگر ہم گڑھے میں گرپڑے تھے تو تم کیوں اندھے بن گئے۔ وغیرذالک
5 یعنی ایک حساب سے پہلوں کا گناہ دگنا کہ خود گمراہ ہوئے اور دوسرے آنے والوں کے لئے راہ ڈالی۔ اور ایک طرح پچھلوں کا دگنا کہ خود بہکے اور پہلوں کا حال دیکھ سن کر عبرت حاصل نہ کی۔ یا چونکہ ہر دوزخی کا عذاب اپنے اپنے درجہ کے موافق وقتاً فوقتاً بڑھتا رہے گا اس لئے فرمایا کہ ہر ایک کا عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
آیت 38 قَالَ ادْخُلُوْا فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِی النَّارِ ط
یعنی ایک ایک قوم کا حساب ہوتا جائے گا اور مجرمین جہنم کے اندر جھونکے جاتے رہیں گے۔ پہلی نسل کے بعد دوسری نسل ‘ پھر تیسری نسل و علیٰ ٰہذا القیاس۔ اب وہاں ان میں مکالمہ ہوگا۔ بعد میں آنے والی ہر نسل کے مقابلے میں پہلی نسل کے لوگ بڑے مجرم ہوں گے ‘ کیونکہ جو لوگ بدعات اور غلط عقائد کے موجد ہوتے ہیں اصل اور بڑے مجرم تو وہی ہوتے ہیں ‘ ان ہی کی وجہ سے بعد میں آنے والی نسلیں بھی گمراہ ہوتی ہیں۔ لہٰذا قرآن مجید میں اہل جہنم کے جو مکالمات مذکور ہیں ان کے مطابق بعد میں آنے والے لوگ اپنے پہلے والوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
38 یہاں پہلی اور پچھلی جماعت سے مراد ایک ہی جنس کے اسلاف اور اخلاف ہیں مثلاً یہود یا نصارٰی یا مشرکین یا مسلمانوں میں سے ایک فریق گمراہ کرنے والا اور دوسرا فریق گمراہ ہونے والا۔ گمراہ ہونے والے اللہ تعالیٰ سے کہیں گے یا اللہ ہمارے ان اسلاف کو دوگنا عذاب کر۔ اس لیے کہ وہ خود تو گمراہ ہوئے ہی تھے ہمیں بھی اپنے ساتھ لے ڈوبے اور گمراہ کرنے والے اپنے اخلاف سے کہیں گے کہ ملعونو ! اگر ہم گڑھے میں گرگئے تھے تو کیا تم اندھے ہوگئے تھے جو اسی گڑھے میں تم بھی گرگئے۔ آخر تمہارا جرم کس لحاظ سے کم ہے ؟ گویا دونوں اپنے گناہ اور بدبختی ایک دوسرے کے سر تھوپنے کی کوشش کریں گے۔
39 مکافات عمل کے تقاضے :۔ اللہ…
Read the full tafseer →51 ۔ مصیبت اور پھر ایسی شدید اور انتہائی مصیبت کے وقت کچھ تھوڑی بہت تسکین اگر ہوسکتی تھی تو باہمی ہمدردی سے لیکن بدبخت اہل دوزخ اس آخری اور برائے نام راحت سے بھی محروم ہوں گے۔ وہ عالم انکشاف حقائق کا ہوگا۔ ہر بدکار دوسرے بدکار کو نہایت درجہ مبغوض رکھے گا۔ (آیت) ” امم۔ من الجن والانس “۔ جن وانس دونوں کے بدگروہ ظاہر ہے کہ کافر ہی ہوں گے۔ اور آگے پیچھے، نئے پرانے ہر قسم کے کافر جہنم میں اکٹھے ہوں گے، (آیت) ” فی امم “۔ فی یہاں مع کے معنی میں ہے۔ بعض نے فی ما بینھم کے معنی میں بھی لیا ہے۔ ای مع امم ففی بمعنی مع (قرطبی) ومعنی الدخول فی الامم الدخول فی ما بینھم (کبیر) (آیت) ” اختھا “۔ یعنی اسی کی ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
حتی اذا ادارکوا فیہا جمیعا، (الآیۃ) یعنی اب ایک دوسرے کو طعنہ دینے اور الزام دھرنے سے کوئی فائدہ نہیں، تم سب ہی اپنی اپنی جگہ بڑے مجرم ہو اور تم سب ہی دوگنے عذاب کے مستحق ہو۔
Read the full tafseer →قل ادخلوا فی امم قد خلت من قبلکم من الجن والانس فی النار کلما دخلت امۃ لعنت اختہا (قیامت کے دن اللہ یا موت کے وقت فرشتہ) کہے گا تم سے پہلے جن و انس کے جو فرقے گزر چکے ہیں ان کے ساتھ شامل ہو کر تم بھی دوزخ میں چلے جاؤ جس وقت بھی (دوزخ میں) کوئی جماعت داخل ہوگی وہ اپنی جیسی دوسری جماعت پر لعنت کرے گی۔ یعنی اس جماعت پر لعنت کرے گی جو اسی کی طرح گمراہ ہوگی اور جس کی پیروی کی وجہ سے یہ گمراہ ہوئی ہوگی۔ یہودی عیسائیوں پر اور عیسائی یہودیوں پر اور تمام گمراہ پیرو گمراہ کرنے والے لیڈروں پر لعنت کریں گے۔
حتی اذا ادارکوا فیہا جمیعاً قالت اخرہم لاولہم ربنا ہولآء اضلونا فاتہم عذاب ضعفا من النار قال لکل…
Read the full tafseer →(38) اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا جو فرقے جنات اور انسانوں میں سے گزر گئے تم بھی ان کے ساتھ دوزخ میں داخل ہوجاؤ جو جماعت دوزخ میں داخل ہوگی، اپنی جیسی جماعت پر جو اس سے پہلے داخل ہوچکی ہے، لعنت بھیجے گی ،
جس وقت سب جماعتیں دوزخ میں جائیں گی تو پچھلی جماعت پہلی جماعت والوں کی نسبت کہے گی ان سرداروں نے ہمیں آپ کی اطاعت اور آپ کے دین سے گمراہ کیا، ان کو ہم سے دوہرا عذاب دیجیے، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا ہر ایک فرقے کو دوہرے عذاب ہے مگر تم اپنے عذاب کی شدت کا سبب نہیں سمجھتے۔
Read the full tafseer →قَالَ ادْخُلُوْا فِيْٓ اُمَمٍ۔۔ : اس میں بھی کفار کی حالت کا بیان ہے، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام کفار ایک ساتھ جہنم میں نہیں جائیں گے، بلکہ ان میں سے کچھ پہلے ہوں گے، کچھ بعد میں جائیں گے۔ (رازی)
كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا ۭ: ”اُخْتٌ“ کا معنی بہن ہوتا ہے، یعنی ہر بعد میں داخل ہونے والی امت اپنی پہلی ہم مذہب امت پر لعنت کرے گی جو اس سے پہلے جہنم میں داخل ہوگی، مثلاً یہودی دوسرے یہودیوں پر، دہریے دوسرے دہریوں پر، نصاریٰ دوسرے نصاریٰ پر، مشرکین اور ندائے غیر اللہ والے دوسرے مشرکین اور غیر اللہ کو پکارنے والوں پر۔
حَتّٰى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا ۙ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
آیت نمبر : 38۔ 39
قولہ تعالیٰ : قال ادخلوا فی امم قد خلت من قبلکم من الجن والانس فی النار، ای مع امم یعنی تم داخل ہوجاؤ ان امتوں کے ساتھ۔ تو اس میں فی بمعنی مع ہے۔ اور یہ ممتنع نہیں ہے، کیونکہ تیرا قول : زید فی القوم بمعنی زید مع القوم ہی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فی اپنے معنی میں ہی ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 398) ۔ ای ادخلوا فی جملتھم ( تم بھی ان کے اجتماع میں داخل ہوجاؤ) اور قائل ( کہنے والا) کے بارے میں بھی کہا گیا ہے کہ وہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم داخل ہوجاؤ۔ اور یہ قول بھی ہے کہ وہ دروغہ جہنم مالک ہے۔ (یعنی وہ انہیں کہے گا : تم داخل ہوجاؤ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(1) ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” قدخلت “ یعنی جو گزر چکی لفظ آیت ” کلما دخلت امۃ لعنت اختھا “ جب بھی ایک دین والے داخل ہوں گے تو وہ اس دین پر چلنے والے اپنے ساتھیوں پر لعنت کریں گے مشرک لوگ لعنت کریں گے مشرکوں پر یہودی لعنت کریں گے یہودیوں پر نصاری لعنت کریں گے نصاری پر صابی لعنت کریں گے صائبین پر مجوسی لعنت کریں گے مجوسیوں پر لفظ آیت ” حتی اذا ادارکوا فیہا جمیعا، قالت اخرہم “ یعنی وہ لوگ جو آخری زمانہ میں تھے وہ کہیں گے ” لاولہم “ ان پہلے لوگوں کے لئے جنہوں نے ان کے لئے اس دین کو شروع کیا تھا لفظ آیت ” ربنا ھولاء اضلونا “ سے لے کر ” قال لکل ضعف “ تک…
Read the full tafseer →قَالَ [ وہ (یعنی اللہ ) کہے گا ] ادْخُلُوْا [ تم لوگ داخل ہوجاؤ ] فِيْٓ اُمَمٍ [ ایک ایسی امت میں جو ] قَدْ خَلَتْ [ جو گزر چکی ہے ] مِنْ قَبْلِكُمْ [ تم لوگوں سے پہلے ] مِّنَ الْجِنِّ [ جنوں میں سے ] وَالْاِنْسِ [ اور انسانوں میں سے ] فِي النَّارِ ۭ [ آگ میں ] كُلَّمَا [ جب کبھی ] دَخَلَتْ [ داخل ہوتی ہے ] اُمَّةٌ [ کوئی امت ] لَّعَنَتْ [ تو لعنت کرتی ہے ] اُخْتَهَا ۭ [ اپنی بہن (یعنی دوسری امت ) کو ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] اِذَا [ جب ] ادَّارَكُوْا [ وہ لوگ آملیں گے ] فِيْهَا [ اس میں ] جَمِيْعًا ۙ [ سب کے سب ] قَالَتْ [ تو کہے گی ] اُخْرٰىهُمْ [ ان کی دوسری ] لِاُوْلٰىهُمْ [ اپنی پہلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
موت کے وقت کافروں کی بد حالی اور دوزخ میں ایک دوسرے پر لعنت کرنا
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے یا اس کی آیات کی تکذیب کرے۔ طرز تو سوال کا ہے لیکن بتانا یہ ہے کہ ایسے لوگ ظلم میں سب ظالموں سے بڑھ کر ہیں۔
پھر یہ فرمایا کہ جو ان کا رزق مقدر ہے اور جو ان کی عمر مقرر ہے وہ تو اس دنیا میں ان کو مل جائے گی۔ ہاں موت کے وقت اور موت کے بعد ان کا برا حال ہوگا اور برا انجام ہوگا۔ موت کے وقت جو فرشتے ان کی جانیں قبض کرنے لگیں گے ان سے سوال کریں گے کہ اللہ کو چھوڑ کر جن کو تم اپنی حاجتوں کے لیے پکارتے تھے اور ان کی عبادت کیا کرتے تھے وہ کہاں ہیں ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
نداء چہارم
تذکیر عہد قدیم باطاعت خداوند کریم وبیان نعیم وجحیم
قال اللہ تعالیٰ یبنی ادم اما یاتینکم رسل منکم۔۔۔ الی۔۔۔ اور ثتموھا بماکنتم تعملون۔
(ربط) ( گزشتہ آیات میں بنی آدم کے لیے تین نداؤں کا بیان ہوا جن میں عقائد و اعمال میں ابلیس کے اتباع اور موافقت سے اور احکام الہیہ کی مخالفت سے ممانعت فرمائی اب آئندہ آیات میں نداء چہارم کا ذکر ہے جس سے بنی آدم کو اپنا عہد قدیم یاد دلاتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ تم کو اس مضمون کا خطاب کوئی جدید امر نہیں بلکہ عالم ارواح میں تم سے یہ عہد لے لیا گیا تھا کہ دیکھو ہم دنیا میں اپنے رسول بھیجیں گے اور ان کے ذریعہ سے ہم تم کو راہ ہدایت اور صراط مستقیم سے آگاہ…
Read the full tafseer →40:“ فِیْ اُمَمٍ ” فِیْ بمعنی مع ہے ای مع اُمَمٍ فِیْ النَّارِ ، یہ اُدْخُلُوْا سے متلعق ہے۔ (مدارک، روح) ۔
41 ۔ “ اُخْتٌ” سے ہم مسلک جماعت مراد ہے۔ جب مشرکین کی وہ جماعت جہنم میں داخل ہوگی جو دوسروں کی پیروی کرتی تھی تو وہ اپنے پیشواؤں پر لعنت بھیجے گی جنہوں نے ان کو گمراہ کیا اور جب پیشوایان مشرکین دوزخ میں داخل ہوں گے تو وہ اپنے متبعین کو کو سیں گے جنہوں نے ان کا اتباع کر کے ان کی ہمت افزائی کی اور ان کی گمراہی میں اضافہ کیا۔ ای دعت علی نظیرھا فی الدین تلعن التابعۃ المتبوعۃ التی اضلتہا و تلعن المتبوعۃ التابعۃ التی زادت فی ضلالھا (روح ج 8 ص 166) ۔
42:“ اُخْرٰھُمْ ” مشرک مریدوں کی جماعت “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ربط آیات
آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے ضمن میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کو خطاب کرکے فرمایا کہ اگر تم اپنے جدامجد کے ٹھہرنے والی جنت میں دوباہر داخلہ چاہتے ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ دنیا میں جب تمہارے پاس اللہ کے رسول آئیں تو ان کا اتباع کرنا اور ان کے بتلائے ہوئے راستے پر چلنا پھر یہ بھی فرمایا کہ جو کوئی تقویٰ اختیار کرے گا کفر اور شرک سے بچتا رہے گا معاصی کے قریب نہیں جائے گا نیکی اختیار کرے گا تو ایسے لوگوں کے لیے نہ آئندہ کا کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ سابقہ اعمال پر غمگین ہوں گے اس کے برخلاف جن لوگوں نے تکذیب کی اللہ کے نبیوں کی مخالفت کی خدا تعالیٰ کی وحدانیت…
Read the full tafseer →وَقَالَتْ اُوْلٰىہُمْ لِاُخْرٰىہُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ 39 ۧ
فضل
الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر
فعلی ثلاثة أضرب :
فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات .
وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله :
وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا
وفضل من حيث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
ادخلوا فی امم قد خلت من قبلکم الخ میں حشر کے روز کا واقعہ بیان فرماتا ہے کہ ان کے لئے حکم ہوگا کہ ان کو ان سے پہلے جو گمراہ امتیں گزریں ہیں ان کے ساتھ ملا کر جہنم میں داخل کرو یہاں تک کہ جب سب وہاں جا پڑیں گے تو پچھلے لوگ خدا تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ اے پروردگار ! ہم کو تو ان بڑے بزرگوں نے گمراہ کیا ہے بری رسمیں چلا گئے تھے ٗ ہم ان پر چلے۔ ان کو زیادہ عذاب دے۔ ان کے مقتدا کہیں گے کہ ان کو ہم پر کیا فوقیت ہے۔ یہ بھی گمراہی میں… شریک اور مساوی ہیں۔ انہوں نے ہمارا یوں اتباع کیا۔ حکم ہوگا کہ تم میں سے ہر ایک کو ہر آن زیادہ عذاب ہے تم کو معلوم نہیں کہ دوسرے فریق کو بھی ایسا ہی روز افزوں عذاب ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ط اُولٰٓئِکَ یَنَالُھُمْ نَصِیْبُھُمْ مِّنَ الْکِتٰبِ ط حَتّٰٓی اِذَا جَآئَتْھُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَھُمْ لا قَالُوْآ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ ط قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَھِدُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ اَنَّھُمْ کَانُوْا کٰفِرِیْنَ ۔ قَالَ ادْخُلُوْا فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِی النَّارِ ط کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَھَا ط حَتّٰٓی اِذَا ادَّارَکُوْا فِیْھَا جَمِیْعًا لا قَالَتْ اُخْرٰھُمْ لِاُوْلٰھُمْ رَبَّنَا ھٰٓؤُلَآئِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ جس میں مکذبین کی بری موت کے بعد ان کا برا انجام بتلایا گیا ہے۔
متکبرین اور مکذبین گروہ درگروہ جہنم میں پھینکے جائیں گے جہنم میں ڈالا جانے والا جنوں اور انسانوں کا ہر گروہ اپنے سے پہلے گروہ پر لعنت اور پھٹکار بھیجتے ہوئے کہے گا کہ ہم تمہاری وجہ سے اس انجام کو پہنچے ہیں اگر تم ہدایت کا راستہ اختیار کرتے تو ہم تمہارے بعد کبھی گمراہ نہ ہوتے۔ وہ جواب دیں گے کہ تم نے خود ہی ایمان کا راستہ اختیار نہیں کیا جبکہ ہم نے تم پر کوئی جبر نہیں کیا تھا۔ (الصافات 22 تا 31) سورة الاحزاب آیت 66 تا 68 میں بیان کیا گیا ہے کہ جب جہنمی جہنم کی آگ سے منہ باہر نکالیں گے تو اللہ…
Read the full tafseer →آیت 38: قَالَ ادْخُلُوْا (اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم داخل ہوجائو) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کفارکو فرمائیں گے کہ تم داخل ہوجائو۔ فِیْٓ اُمَمٍ (ان جماعتوں کے ساتھ) یہ موضع حال میں ہے یعنی اس حال میں کہ وہ بھی منجملہ ان امتوں میں سے ہونیوالے ہوجائیں جو ان کے مصاحب ہیں۔ قَدْ خَلَتْ (جو ہوئیں) گزریں مِنْ قَبلِکُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ (تم سے پہلے جنات اور انسانوں کی) جن وانس میں سے جو کافر ہوئے فِی النَّارِ (دوزخ میں) یہ ادْخُلُوا سے متعلق ہے۔ کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ (جب بھی کوئی جماعت داخل ہوگی) آگ میں لَّعَنَتْ اُخْتَہَا (اپنی جیسی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی) دین میں ان کے ہمشکل یعنی جو…
Read the full tafseer →تفسیر (38) (قال ادخلوا فی امم) یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کو کہیں گے کہ دوسری جماعتوں کے ساتھ داخل ہو جائو (قد خلت من قبلکم من الجن والانس فی النار) پہلی امتوں کے کفار کے ساتھ (کلما دخلت امۃ لغت اختھا) یہاں دینی بہن مراد ہے نہ کہ نسبی تو یہود یہود کو اور نصاریٰ نصاریٰ کو لعنت کریں گے۔ ہر جماعت اپنے دینی بھائیوں کو اور متعبین اپنے قائدین کو لعنت کریں گے۔ یہاں اخ کا لفظ استعمال نہیں کیا کیونکہ اتم اور جماعت مئونث ہیں۔ (حتی انا ادارکوا فیھا جمیعاً ) یعنی جہنم میں سب جمع ہوجائیں گے (قالت اخرھم لاولھم) مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ” اخری “ سے مراد وہ متعبین ہیں جو بعد میں جہنم میں داخل ہوں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(38 ۔ 39) ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مالک دوزخ کا داروغہ کہے گا کہ داخل ہو آگ میں ہمراہ اور امتوں کے جو تم سے پہلے جن اور آدمیوں میں سے گذر چکی ہیں پھر دوزخ میں داخل ہوتے ہی ایک امت دوسری امت کو لعنت کرنے لگے گی مشرک مشرکوں یہود یہود کو لعنت کرنے لگیں گے پچھلی امت کے لوگ پہلی امت کے لوگوں کے حق میں خدا تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ اے پروردگار انہوں نے ہم کو تیرے راستہ سے بہکا دیا تھا ان کو دوچند عذاب کر جواب ملیگا کہ تم سب کے واسطے دو چند عذاب ہے لیکن تم نہیں جانتے کیونکہ ہم نے ہر ایک کو اس کے عمل کے موافق سزادی ہے اور پہلی امت کے لوگ پچھلی امت کے لوگوں سے کہیں گے کہ تم کو ہم پر کچھ فوقیت نہیں ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
آیت 38
فرشتے ان سے کہیں گے : (قال ادخلوا فی ام) ” ان قوموں میں داخل ہوجاؤ۔ “ یعنی ان جملہ امتوں میں داخل ہوجاؤ۔ (قد خلت من قبلکم من الجن والانس) ” جو تم سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے گزر چکیں “ یعنی وہ بھی اسی راستے پر گامزن رہے تھے جس پر تم چلتے رہے ہو۔ یعنی کفر و استکبار کا راستہ۔۔۔ اس لئے سب رسوائی اور ہلاکت کے مستحق ٹھہرے (فی النار) اور ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہو۔
سرکش اور نافرمان قوموں میں سے جب کوئی قوم جہنم میں جاخل ہوگی (لعنت اختھا) ” اپنی جیسی جماعت پر لعنت کرے گی۔ “ یعنی اپنے جیسے مشرکانہ عقائد رکھنے والی قوم پر لعنت کرے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” قیامت کے روز تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–54
فواحش سے مراد
قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھا وما بطن ولاثم والبغی بغیر الحق۔ اے محمد ﷺ ، ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں، بےشرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی) مجاہد کا قول ہے کہ فواحش سے زنا مراد ہے یہ سری خواحش ہے اور برہنہ حالت میں طواف کرنا جہری فواحش ہے۔ ایک قول ہے کہ بےشرمی کے تمام کام فواحش ہیں۔ شروع میں اجمالاً ان کا ذکر کیا پھر ان کی مختلف صورتوں کی تفصیل بیان کردی اور یہ فرمایا کہ گناہ حق کے خلاف زیادتی اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا فواحش کی صورتیں ہیں۔ یعنی لوگوں پر ناحق اور بزور قوت غلبہ جمانے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
46 دنیا میں اہل باطل کو بھی ان کا حصہ ملتا رہے گا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ظالموں کو نوشتہ تقدیر کے مطابق ان کا ملتا رہے گا۔ عمر اور رزق وغیرہ کا جو بھی حصہ ان کے مقدر میں لکھا ہے وہ ان کو ملتا رہے گا۔ ( صفوۃ، المراغی وغیرہ) ۔ کہ دنیا کے اس " دارالامتحان " کا متقضٰی یہی ہے۔ سو ایسے لوگ انہی مشاغل میں الجھے اور انہی بھول بھلیوں میں پھنسے رہیں گے۔ یہاں تک کہ فرصت عمر ختم ہوجائے گی اور فرشتے آکر ان کا رشتہ حیات کاٹ ڈالیں گے اور انکو انکے اپنے کفر و انکار اور تکذیب و افتراء کی بناء پر ہمیشہ کیلئے عذاب میں دھر لیا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ پاک کسی کے کفر و انکار کی بناء پر اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–43
سزا اور جزا کی خبر
تشریح : پچھلی آیات میں بہترین زندگی گزارنے کے اصول، قوانین اور طریقے بتائے گئے ہیں۔ ان آیات میں دوبارہ صالحین اور مشرکین کے بارے میں وضاحت کی جا رہی ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی شک باقی نہ رہ جائے کیونکہ اکثر لوگ یہی کہتے ہیں کہ جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا۔ اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ بھئی مرنے کے بعد کس طرح ہم زندہ ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو باربار سمجھا رہے ہیں کہ کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔ تم کھائو، پیو اور مزے اڑالو مگر یاد رکھو موت کا وقت مقرر ہے ایک سیکنڈ بھی اس سے آگے پیچھے نہ ہوگا۔ اس وقت تم اپنے برے اعمال پر پچھتائو گے تو کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ عمل کا وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 32 تا 39:
اسرار و معارف :
اچھا کھانا اور لباس :
چونکہ انسانی شرف کا مدار ہی اللہ کریم کی رضا ہے لہذا اصل کام خلوص دل سے اطاعتِ الہی کرکے اس کی رضا حاصل کرنا ہے اسلام نے باطل مذاہب کی طرح فضول اور خود ساختہ مشقت اٹھانے سے منع فرما دیا ہے اور لذیذ کھانوں سے اجتناب یا اچھا لباس پہننا کوئی عبادت نہیں نہ رب جلیل نے اس کا حکم دیا ہے جب مالک اللہ ہے اور اس نے بہتر رزق اچھے پھل مزیدار کھانے جو حلال اور جائز ذرائع سے حاصل کئے گئے ہوں ایسے ہی خوبصورت اور آرام دہ لباس یا بہتر سواری اور خوبصورت گھر سے منع نہیں فرمایا پھر دوسرا کون ایسا ہوسکتا ہے جو اس کے بندوں کو ان چیزوں سے روک دے…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی جس عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے وہ اس صورت میں ال کتاب سے مراد قرآن ہے جیسا کہ مترجم نے تصریح کردی ہے اور یہ ہوسکتا ہے کہ یہاں الکتاب سے مراد لوح محٖفوظ ہو یعنی جو سعادت و شقاوت اور رزق وعمر وغیرہ چیزیں اور ان کے لیے لوح محفوظ میں مقدر ہیں وہ ان کو حاصل ہو کر رہیں گی۔ اور ان کے ظلم و بدکار کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان میں کوئی کی نہیں کریگا شاید یہ توبہ کرلیں اور اپنے گناہوں سے باز آجائیں یہ معنی یہ آیت کے مابعد سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں کیونکہ جعی اذا جائ تھم رسلنا یتوفو نھم میں ان کے فوت ہونے کو اس نصیب کے حصول کے لے غایت قرار دیا ہے اور یہ جبھی ہوسکتا ہے کہ یہ عمرورزق اور…
Read the full tafseer →(7:38) لعنت اختھا۔ لعنت۔ بمعنی لعنت بھیجے گی۔ (یعنی وہ جماعت جو نئی جہنم میں داخل ہو رہی ہوگی) اختھا۔ اپنی بہن پر (یعنی اپنی جیسی جماعت پر جو اس سے قبل جہنم میں داخل ہوچکی ہوگی۔ اپنی جیسی سے مراد یہ کہ جس پاداش میں دونوں جہنم میں پہنچی ہیں یعنی مشرکین کی جماعت مشرکین پر۔ یہود کی جماعت یہود پر ۔ وغیرہ وغیرہ) ۔
ادارکوا۔ ندارک یتدارک (تفاعل) تدارک کے تاء کو دال میں ادغام کرکے شروع میں ہمزہ وصل لائے ادارک ہوگیا۔ ادارکوا ماضی جمع مذکر غائب۔ تدارک سے۔
الدرک اور الدرج کے ایک ہی معنی ہیں۔ لیکن الدرج کا لفظ اوپر چڑھنے کے اعتبار سے بولا جاتا ہے اور الدرک کا لفظ نیچے اترنے کے لحاظ سے۔ اسی لئے درجات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–39
لغات الا قرآن آیت نمبر (35 تا 39 ) ۔
یاتینکم (تمہارے پاس آئیں) ۔ ینال (پہنچے گا۔ ملے گا) ۔ نصیب (حصہ) ۔ یتوفون (موت دیں گے۔ جان نکالیں گے) ۔ تدعون (تم پکارتے ہو) ۔ ضلواعنا (ہم سے غائب ہوگئے۔ گم ہوگئے) ۔ شیدوا (وہ گواہ بن گئے) ۔ امم (امتیں۔ جماعتیں) ۔ خلت (گزر گئی۔ (گزر گئیں) ۔ لعنت (لعنت کی۔ (لعنت کریں گے) ۔ اختھا (اپنے ساتھی کو) ۔ ادرکوا (مل جائیں گے) ۔ ضعف (دو گناہ ) ۔ فضل (بڑائی ) ۔ تکسبون (تم کماتے ہو ) ۔
تشریح ـ آیت نمبر (35 تا 39 ) ۔”
کفار اور مشرکین کو آگاہ کرنے کے لئے ان آیات میں چار بڑی حقیقتوں کو پیش کیا جا رہا ہے ان حقیقتوں کا تعلق اس دنیا کی زندگی سے بھی ہے اور اس کے بعد آنے والی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کی دعا اور نیک عمل آسمان پر نہیں جاتے اور قبول نہیں ہوتے، یا جب مرتے ہیں تو ان کی ارواح کے واسطے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں، اور تکبر سے ان کو نہیں مانتے، یہ جنت میں داخل نہ ہوں گے، جب تک اونٹ سوئی کے ناکے میں نہ گھسے۔ یعنی اونٹ عرب کے نزدیک سب حیوانوں میں بڑا ہے اور سوئی کا ناکہ بہت چھوٹا ہوتا ہے، اس واسطے مشرک بہشت میں داخل ہونے سے قطعی محروم ہیں۔ پھر فرمایا مجرموں کی یہی سزا ہے کہ ان کی آگ کی تو شک اور آگ ہی کا لحاف ہوگا۔ ظالموں کو یہی بدلہ ملے گا۔ کیونکہ شرک بڑا ظلم ہے۔ جو اللہ کے سوا…
Read the full tafseer →[19] یعنی اگلوں کو دوگنا عذاب اس لئے کہ آپ خود بدی کی اور دوسروں کو بدی کی ترغیب دی۔ اور پچھلوں کو دوگنا عذاب اس لئے کہ خود بدی کی اور اگلوں کے حال سے متنبہ نہ ہوئے، یا اس لئے کہ جیسے اگلوں نے ان کے لئے برا نمونہ قائم کیا انہوں نے اپنے بعد آنے والوں کے لئے ویسا ہی نمونہ چھوڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
(ف 2) یہ عجیب بات ہے جب یہ لوگ جہنم میں داخل ہوں گے تو یہ چاہیں گے کہ وہ لوگ جنہوں نے ان کی گمراہی میں بہت بڑا حصہ ہے لیا ہے ، اس بری طرح پھنسیں ، اور ان کو یہ عذاب میں دکھ اٹھاتے ہوئے دیکھیں ، اس لئے کہیں گے ، یا اللہ ، ان لوگوں نے ہمیں دینا میں گمراہ کیا تھا ان کو دگنا عذاب دے ، اللہ فرمائے گا سب عذاب بھگت رہے ہیں مگر تمہیں علم نہیں کمبختو ! اگر دنیا میں تمہیں اپنی گمراہی کا احساس ہوتا ، تو ایک بات بھی تھی اس عذاب الیم سے بچ جاتے ، اب کیا فائدہ جو پڑے جھلس رہے ہو ،
یہ نہایت خوفناک منظر ہوگا ، وہ لوگ جن سے دنیا میں عقیدت تھی ، جنہیں یہ لوگ خدا اور دیوتا سمجھتے تھے ، جن کی پرستش کرتے تھے ، جو…
Read the full tafseer →38 یہ تو برزخ کا احوال ہوا اور قیامت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے فرمائے گا کہ تم سب بھی جنات اور انسانوں کے ان فرقوں اور جماعتوں کے ہمراہ جہنم میں داخل ہوجائو جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں کیونکہ تمہارا اور ان کا مسلک ایک ہی ہے جس وقت بھی کوئی جماعت آگ میں داخل ہوگی تو وہ اپنی سابقہ داخل شدہ جماعت پر لعنت بھیجتی ہوگی اور جماعت لاحقہ جماعت سابقہ پر لعنت کرے گی یعنی مشرک مشرکوں پر اور یہود یہود پر اور نصاریٰ نصاریٰ پر لعنت کریں گے یہاں تک کہ جب یہ سب پہلے اور پچھلے آگ میں جمع ہوجائیں گے تو ان میں سے پچھلے پہلوں کے لئے یوں کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! ہم کو ان پہلوں نے گمراہ کیا اور صحیح راستہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ف 5۔ یعنی باہم ہمدردی نہ ہوگی بوجہ انکشاف حقائق کے ہر شخص دوسرے کو بری نظر سے دیکھے گا اور براک ہے گا۔
Read the full tafseer →اہل دوزخ کا آپس میں اینٹ کھڑکا جو اپنے وقت پر ہونے والا ہے :
49: اس آیت 38 سے اہل دوزخ کے حالات کا بیان شروع ہورہا ہے جس کا حال اللہ کی ذات کے سوا کوئی نہیں جانتا اس کے بیان کردہ حالات پر ہمارا ایمان ہے اور اس کو ایمان بالغیب کہتے ہیں۔ جو کچھ کہا گیا وہ یقیناً حق ہے اور اپنے وقت پر سب کچھ اس طرح ہونا ہے جس طرح اللہ نے اپنی کتاب قرآن کریم میں بیان فرمایا اور لسان نبوت نے جس طرح اس کی وضاحت فرمائی۔ اہل دوزخ کون ہوں گے ؟ وہی جو قانون الٰہی کے مطابق مجرم قرار پائیں گے۔ اس جگہ یہ بات ہم کو بتائی گئی ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مجرم قوموں کو حکم دیں گے کہ چلو دوزخ میں داخل ہو جائو۔ مجرمین کی حالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
The first and the second verse both mentioned two crimes committed by disbelievers. They took Halal as Haram and made the Haram become Halal for themselves by themselves. The third verse (34) describes their sad end and the punishment they would have in the Hereafter. It was said:
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ
(And for every people there is an appointed time. So, when their appointed time comes, they will not be late for a moment, nor will they go before).
In other words, what is being said here is that those…
Read the full tafseer →30. As it is, each group of people is followed, even as it is preceded, by others. A group which inherits an error of outlook and conduct from its predecessors passes on the same, in turn, to future generations. In addition, whereas a group owes its wrong-doing partly to the wrong-doing of its predecessors, it will also be held responsible for leaving behind an evil legacy for the future generations. The Qur'an, therefore, pronounces a double punishment on such a group: it will incur punishment for its own misdeeds and also for leaving behind such a legacy for the coming generations. A number…
Read the full tafseer →