اللہ پر بہتان لگانے والا سب سے بڑا ظالم ہے
واقعہ یہ ہے کہ سب سے بڑا ظالم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھے اور وہ بھی جو اللہ کے کلام کی آیتوں کو جھوٹا سمجھے۔ انہیں ان کا مقدر ملے گا اس کے معنی ایک تو یہ ہیں کہ انہیں سزا ہوگی، ان کے منہ کالے ہوں گے، ان کے اعمال کا بدلہ مل کر رہے گا۔ اللہ کے وعدے وعید پورے ہو کر رہیں گے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ ان کی عمر، عمل، رزق جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے وہ دنیا میں تو ملے گا۔ یہ قول قوی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس کے بعد کا جملہ اس کی تائید کرتا ہے۔ اسی مطلب کی آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ 116) 16۔ النحل)…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 29
یعنی دنیا میں جتنے دن ان کی مہلت کے مقرر ہیں یہاں رہیں گے اور جس قسم کی بظاہر اچھی یا بری زندگی گزارنا ان کے نصیب میں ہے گزار لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–39
خلاصہ تفسیر
(ہم نے عالم ارواح ہی میں کہہ دیا تھا) اے اولاد آدم کی اگر تمہارے پاس پیغمبر آویں جو تم ہی میں سے ہوں گے جو میرے احکام تم سے بیان کریں گے سو (ان کے آنے پر) جو شخص (تم میں ان آیات کی تکذیب سے) پرہیز رکھے اور (اعمال کی) درستی کرے (مراد یہ کہ کامل اتباع کرے) سو ان لوگوں پر (آخرت میں) نہ کچھ اندیشہ (کی بات واقع ہونے والی) ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور جو لوگ (تم میں سے) ہمارے ان احکام کو جھوٹا بتادیں گے اور ان (کے قبول کرنے) سے تکبر کریں گے وہ لوگ دوزخ (میں رہنے) والے ہوں گے (اور) وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے (جب تکذیب کرنے والوں کا مستحق وعید شدید ہونا اجمالاً معلوم ہوگیا سو اب تفصیل…
Read the full tafseer →فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ الایہ۔ اوپر کی آیات میں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یاد دہانی ہے۔ اب یہ براہ راست قریش کی نسبت ارشاد ہو رہا ہے کہ ان سے بڑھ کر ظالم اور بدقسمت کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھیں یا اس کی آیات کی تکذیب کریں اولئک ینالہم نصیبہم من الکتاب۔ اس دنیا میں زندگی کے جو دن نوشتہ تقدیر میں لکھے ہوئے ہیں وہ یہ پورے کریں گے یہاں تک کہ ہمارے فرشتے ان کو موت دیں گے اور ان سے پوچھیں گے کہ اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے رہے ہو وہ کہاں گئے، اب ان کو پکارو، یہ اس افتراء علی اللہ کی وضاحت ہوگئی جا کا ذکر اوپر گزرا۔ شرک کو افتراء علی…
Read the full tafseer →37۔ 1 اسکے مختلف معنی کئے گئے ہیں۔ ایک معنی عمل، رزق اور عمر کے کئے گئے ہیں۔ یعنی ان کے مقدر میں جو عمر اور رزق ہے اسے پورا کرلینے اور جتنی عمر ہے، اس کو گزار لینے کے بعد بالآخر موت سے ہمکنار ہونگے۔ اسی کے ہم معنی یہ آیت ہے : (اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ 69 مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ اِلَيْنَا مَرْجِعُھُمْ ثُمَّ نُذِيْقُھُمُ الْعَذَاب الشَّدِيْدَ بِمَا كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ 70) 10۔ یونس :70-69) جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہونگے، دنیا کا چند روزہ فائدہ اٹھا کر، بالآخر ہمارے پاس ہی انہیں لوٹ کر آنا ہے۔
Read the full tafseer →19: یہاں یہ واضح کردیا گیا کہ دنیا میں رزق دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مومن اور کافر میں تفریق نہیں فرمائی ہے ؛ بلکہ ہر ایک کے لئے رزق کا ایک حصہ مقرر فرمادیا ہے جو اسے ہر حال میں پہنچتا رہے گا، چاہے وہ کتنا بڑا کافر کیوں نہ ہو ؛ لہذا اگر کسی کو دنیا میں رزق کی فراوانی حاصل ہے تو اسے یہ نہ سمجھ بیٹھنا چاہیے کہ اس کا طریقہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، جیسا کہ یہ کفار مکہ سمجھ رہے ہیں، ان کو اصل حقیقت کا پتہ اس وقت چلے گا جب موت کا منظر ان کے سامنے آجائے گا۔
Read the full tafseer →آیت ” نمبر 37۔
دیکھئے اب ہم ان لوگوں کو دیکھ رہے ہیں جنہوں نے اللہ پر بہتان باندھا اور اللہ کی آیات کو جھٹلایا ۔ حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کے رسول آچکے تھے ۔ اس منظر میں پہلے تو ان کی روح قبض کی جاتی ہے گویا ملزم گرفتار ہوتے ہیں ۔ پھر ان کے درمیان یہ مکالمہ ہوگا : فرشتے کہیں گے ” بتاؤ اب کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کو تم خدا کے بجائے پکارتے تھے ؟ “ وہ کہیں گے کہ ” وہ سب ہم سے گم ہوگئے ۔ “
اب تمہارے وہ دعوے کہاں ہیں جن کے ذریعے تم اللہ پر افتراء باندھتے تھے ‘ اور وہ الہ کہاں ہیں جن کو تم نے دنیا میں دوست بنا رکھا تھا ‘ جن کی وجہ سے تم فتنے میں پڑگئے اور رسولوں کی لائی ہوئی دعوت کو چھوڑ دیا ۔…
Read the full tafseer →6 یعنی ان سچے پیغمبروں کی تصدیق کرنا ضروری ہے جو واقعی خدا کی آیات سناتے ہیں، باقی جو شخص پیغمبری کا جھوٹا دعویٰ کر کے اور جھوٹی آیات بنا کر خدا پر افتراء کرے یا کسی سچے پیغمبر کو اور اس کی لائی ہوئی آیات کو جھٹلائے ان دونوں سے زیادہ ظالم کوئی نہیں۔
1 یعنی دنیا میں عمر و رزق وغیرہ جتنا مقدر ہے یا یہاں کی ذلت و رسوائی جو ان کے لئے لکھی ہے وہ پہنچے گی، پھر مرتے وقت اور مرنے کے بعد جو درگت بنے گی اس کا ذکر آگے آتا ہے۔ اور اگر نَصِیْبُھُم مِّنَ الْکِتَابِ سے دنیا کا نہیں عذاب اخروی کا حصہ مراد لیا جائے تو حتی اذا جاءتھم سے اس پر تنبیہ ہوگی کہ اس عذاب کے مبادی کا سلسلہ اسی دنیاوی زندگی کے آخری…
Read the full tafseer →اُولٰٓءِکَ یَنَالُہُمْ نَصِیْبُہُمْ مِّنَ الْکِتٰبِ ط
دنیا میں رزق وغیرہ کا جو معاملہ ہے وہ ان کے کفر کی وجہ سے منقطع نہیں ہوگا ‘ بلکہ دنیوی زندگی میں وہ انہیں معمول کے مطابق ملتا رہے گا۔ یہ مضمون سورة بنی اسرائیل میں دوبارہ آئے گا۔
حَتّٰیٓ اِذَا جَآءَ تْہُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَہُمْ لا قالُوْٓا اَیْنَ مَا کُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط
اب کہاں ہیں وہ تمہارے خود ساختہ معبود جن کے سامنے تم ماتھے رگڑتے تھے اور جن کے آگے گڑ گڑاتے ہوئے دعائیں کیا کرتے تھے ؟
Read the full tafseer →36 افتراء علی اللہ کی اقسام :۔ اس آیت میں قبول ہدایت کے لحاظ سے لوگوں کی اقسام بیان فرمائیں : ایک تو ایسے لوگ ہیں جو خود جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں اللہ کی طرف سے وحی آئی ہے یا وہ نبوت کا دعویٰ تو نہیں کرتے تاہم اپنے آپ کو اسی مقام پر سمجھتے ہیں باتیں خود گھڑتے ہیں پھر انہیں اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں اور ایک وہ ہیں جو سچے رسولوں کی تصدیق بھی نہیں کرتے اور ان پر نازل شدہ آیات سے انکار بھی کردیتے ہیں یہ سب طرح کے لوگ سب سے بڑھ کر ظالم ہیں کیونکہ یہ صرف خود گمراہ نہیں ہوتے بلکہ بیشمار مخلوق کو گمراہ کرنے میں حصہ دار بنتے ہیں ایسے لوگوں کو بھی اس دنیا میں رزق جتنا ان کے…
Read the full tafseer →49 ۔ (آیت) ” ممن افتری علی اللہ کذبا “۔ افتراء علی اللہ کی مثال یہ ہے کہ جو احکام خدائی نہ ہوں، بلکہ انسانی ہوں انہیں خدا کی جانب منسوب کردینا۔ (آیت) ” تکذیب یا بات اللہ کی مثال یہ ہے کہ جو کچھ اللہ کا فرمان ہے اسے اس کا فرمان نہ ماننا۔ (آیت) ” نصیبھم من الکتب “۔ یعنی رزق، عمر، اعمال وغیرہ جو کچھ ان کے لیے مقدر ہوچکے ہیں۔ ای ما کتب لھم من رزق وعمر وعمل (قرطبی)
50 ۔ (لیکن اس وقت کا اقرار جبکہ عالم برزخ کا انکشاف شروع ہوچکے گا، سرتاسر لا حاصل رہے گا) (آیت) ” رسل “۔ یہاں ظاہر ہے کہ فرشتوں کے معنی میں ہے۔ ای ملائکۃ العذاب (کبیر) (آیت) ” حتی “۔ یہاں، یہاں تک کے معنی میں نہیں، چناچہ کے معنی میں ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
وَلِکلّ امۃ اَجَلٌ، ہر قوم کیلئے مہلت کی مدت مقرر ہے، یہ مہلت ہر فرد و قوم کو ملتی ہے اور یہ مہلت آزمائش کے طور پر عطا کی جاتی ہے کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے یا اس کی بغاوت و سرکشی میں مزید اضافہ ہوتا ہے یہ مہلت بعض کو پوری زندگی کیلئے ہوتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ پوری زندگی میں اس کی گرفت نہیں فرماتے، بلکہ آخرت ہی میں مواخذہ فرماتے ہیں اس کی اجل سمیٰ قیامت کا دن ہے اور جس کو وہ دنیا ہی میں عذاب سے دوچار کردیتا ہے ان کو اجل مسمّٰی وہ ہے جب ان کا مؤاخذہ فرماتا ہے۔ قوم کی مدت مہلت مقرر کئے جانے کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ ہر قوم کیلئے برسوں اور مہینوں اور دنوں کے…
Read the full tafseer →فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او کذب بایتہ پس اس سے زیادہ ظالم کون جو اللہ پر دروغ بندی کرتا ہے یا اللہ کی آیات کو جھوٹا قرار دیتا ہے۔ یعنی اللہ کے لئے شریک اور بیوی بچے قرار دیتا ہے اور سانڈھ اور دوسرے بتوں کے ناموں پر چھوڑے ہوئے جانوروں کی حرمت کا قائل ہے اور برہنہ طواف کرنے کو ضروری کہتا ہے ( اور ان احکام کی نسبت اللہ کی طرف کرتا ہے) آیت کے عموم میں وہ رافضی بھی داخل ہیں جو اللہ پر اور اللہ کے پیغمبروں پر دروغ بندی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ نے تو قرآن میں کچھ آیات اور بھی اتاری تھیں مگر صحابہ ؓ نے ان کو قرآن سے ساقط کردیا۔
او کذب باتیہ میں حرف او تردید کے لئے ہے لیکن یہ تردید جمع کی…
Read the full tafseer →(37) اس شخص سے بڑھ کر سرکش اور ظالم کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ لگاتا ہے، اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرتا ہے۔
تو کتاب اللہ میں سیاہ چہرے والوں اور نیلی آنکھوں سے جو ان کو ڈرایا گیا ہے، وہ ان کے سامنے آجائے گا، لہٰذا اے محمد ﷺ آپ ان سے دور رہیے یہاں تک کہ ملک الموت (موت کا فرشتہ) اور ان کے مددگار ان کی ارواح قبض کرلیں، وہ ان کی ارواح قبض کرلیں، وہ ان کی ارواح کے قبض کے وقت کہیں گے کہ تمہارے معبودان باطل کہاں ہیں تمہاری حفاظت کیوں نہیں کرتے۔
کافر کہیں گے انکو خود اپنی فکر دامن گیر ہے، چناچہ دنیا میں اللہ تعالیٰ اور رسول کا جو انکار کرتے تھے اس کا اقرار واعتراف کرلیں گے۔
Read the full tafseer →فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا : اس کا تعلق اوپر کی آیت : (وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا) سے ہے، یعنی یہ دو قسم کے لوگ تو بہت ہی بڑے ظالم ہیں، پہلی قسم میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے یا اللہ کا شریک بنانے والے، یا اللہ تعالیٰ کی طرف کسی حکم کی جھوٹی نسبت کرنے والے، (اس میں رسول اللہ ﷺ کی طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرنے والے بھی شامل ہیں) اور دوسری قسم میں تمام وہ لوگ شامل ہیں جو قرآن کے کتاب الٰہی ہونے سے انکار کرتے ہیں، یا رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے منکر ہیں۔
اُولٰۗىِٕكَ يَنَالُهُمْ نَصِيْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ ۭ: یعنی اللہ تعالیٰ نے کتاب ”لوح محفوظ“ میں ان کا جو…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 37
قولہ تعالیٰ : آیت : فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا اور کذب بایٰتہ اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھنے سے اور اس کی آیات کو جھٹلانے سے زیادہ برا اور شنیع ظلم کون سا ہے۔ پھر فرمایا : آیت : اولئک ینالھم نصیبھم من الکتٰب یعنی رزق، عمر اور عمل میں سے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے وہ انہیں مل جائے گا۔ یہ ابن زید کا قول ہے۔ اور ابن جبیر (رح) نے کہا ہے : شقاوت وسعادت میں سے جو ان کی قسمت میں لکھا ہے وہ حصہ انہیں مل جائے گا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : خیر اور شر میں سے جو ان کی قسمت میں لکھا ہے ( وہ انہیں مل جائے گا) حسن اور ابو صالح نے کہا ہے : ان کے کفر کی مقدار کے برابر عذاب…
Read the full tafseer →(1) امام فریابی، ابن جریر، ابو الشیخ اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس نے فرمایا کہ لفظ آیت ” اولئک ینالہم نصیبھم من الکتب “ سے مراد ہے جو مقدر کیا گیا ان کے لئے خیر اور شر میں سے۔
(2) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اولئک ینالہم نصیبھم من الکتب “ سے مراد ہے اعمال میں سے جو شخص نیک عمل کرے گا اس کا بدلہ پالے گا اور جو شخص برا عمل کرے گا اس کا بدلہ پالے گا۔
(3) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” نصیبھم من الکتب “ یعنی جو لکھا گیا ان پر بدبختی ہے اور نیک بختی سے وہ انہیں مل جائے گا۔
(4) امام ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور…
Read the full tafseer →فَمَنْ [ تو کون ] اَظْلَمُ [ زیادہ ظالم ہے ] مِمَّنِ [ اس سے جس نے ] افْتَرٰي [ گھڑا ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] كَذِبًا [ ایک جھوٹ ] اَوْ [ یا ] كَذَّبَ [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِهٖ ۭ [ اس کی آیات کو ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ہیں ] يَنَالُهُمْ [ پہنچے گا جن کو ] نَصِيْبُهُمْ [ ان کا حصہ ] مِّنَ الْكِتٰبِ ۭ [ لکھے میں سے ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] اِذَا [ جب ] جَاۗءَتْهُمْ [ آئیں گے ان کے پاس ] رُسُلُنَا [ ہمارے پیغامبر (فرشتے) ] يَتَوَفَّوْنَهُمْ ۙ [ ان کو پورا پورا لیتے ہیں (یعنی روح قبض کرتے ہوئے ) ] قَالُوْٓا [ تو وہ کہیں گے ] اَيْنَ [ کہاں ہے ] مَا [ وہ ، جس کو ] كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ [ تم لوگ پکارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
موت کے وقت کافروں کی بد حالی اور دوزخ میں ایک دوسرے پر لعنت کرنا
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے یا اس کی آیات کی تکذیب کرے۔ طرز تو سوال کا ہے لیکن بتانا یہ ہے کہ ایسے لوگ ظلم میں سب ظالموں سے بڑھ کر ہیں۔
پھر یہ فرمایا کہ جو ان کا رزق مقدر ہے اور جو ان کی عمر مقرر ہے وہ تو اس دنیا میں ان کو مل جائے گی۔ ہاں موت کے وقت اور موت کے بعد ان کا برا حال ہوگا اور برا انجام ہوگا۔ موت کے وقت جو فرشتے ان کی جانیں قبض کرنے لگیں گے ان سے سوال کریں گے کہ اللہ کو چھوڑ کر جن کو تم اپنی حاجتوں کے لیے پکارتے تھے اور ان کی عبادت کیا کرتے تھے وہ کہاں ہیں ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
نداء چہارم
تذکیر عہد قدیم باطاعت خداوند کریم وبیان نعیم وجحیم
قال اللہ تعالیٰ یبنی ادم اما یاتینکم رسل منکم۔۔۔ الی۔۔۔ اور ثتموھا بماکنتم تعملون۔
(ربط) ( گزشتہ آیات میں بنی آدم کے لیے تین نداؤں کا بیان ہوا جن میں عقائد و اعمال میں ابلیس کے اتباع اور موافقت سے اور احکام الہیہ کی مخالفت سے ممانعت فرمائی اب آئندہ آیات میں نداء چہارم کا ذکر ہے جس سے بنی آدم کو اپنا عہد قدیم یاد دلاتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ تم کو اس مضمون کا خطاب کوئی جدید امر نہیں بلکہ عالم ارواح میں تم سے یہ عہد لے لیا گیا تھا کہ دیکھو ہم دنیا میں اپنے رسول بھیجیں گے اور ان کے ذریعہ سے ہم تم کو راہ ہدایت اور صراط مستقیم سے آگاہ…
Read the full tafseer →38: یہ زجر ہے۔ “ اِفْتَرٰي عَلَیْ اللّٰهِ کذبًا ” اللہ پر جھوٹ باندھنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی مخلوق میں سے اس کا شریک بنانا اور کسی کو اس کا ولد یا نائب ٹھہرانا یعنی “ فمن اعظم ظلما ممن یقول علی اللہ ما لم یقله او یجعل له شریکا من خلقه وھو منزه عن الشریک والولد ”(خازن) ۔ “ یَنَالُھُمْ نَصِیْبُھُمْ مِّنَ الْکِتٰبِ ” یعنی لوح محفوظ اور علم الہی میں ان کے لیے جو سزا مقدر ہے وہ ضرور ان کو مل کر رہے گی۔
39 یہ تخویف اخروی ہے۔ “ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَھُمْ ” اس سے معلوم ہوا کہ جان قبض کرنے والا فرشتہ ایک نہیں بلکہ زیادہ ہیں جن کی تعداد کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں۔ لہذا اس سے بھی اہل بدعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
اولاد آدم سے خطاب
اس آیت میں اولاد آدم سے خطاب کے متعلق مفسرین کرام کی دو رائیں ہیں پہلی رائے یہ ہے کہ اگرچہ خطاب تما اولاد آدم کو اکٹھا ہے مگر فی الواقع یہ ہر نبی کے زمانہ میں علیحدہ علیحدہ ہوتا رہا ہے تاہم یہاں پر بیان اکٹھا کردیا گیا ہے اس کی مثال رسولوں سے خطاب میں بھی ملتی ہے جیسے فرمایا یاھا الرسل کلومن الطیبت واعملوا صالحاً (المومنون) اے گروہ رسل ! پاک اور حلال چیزیں کھائو اور نیک اعمال انجام دو یہاں بھی بظاہر خطاب تو تمام رسولوں کو ہے مگر یہ حکم ہر رسول کی بعثت کے ساتھ فرداً فرداً نازل ہوتا رہا ہے بالکل اسی طرح یہاں پر خطاب تو پوری اولاد آدم کو ہے مگر حقیقت میں یہ ہر رسول کے زمانے میں…
Read the full tafseer →قَالَ ادْخُلُوْا فِيْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِي النَّارِ 0 ۭ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَہَا 0 ۭ حَتّٰٓي اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْہَا جَمِيْعًا 0 ۙ قَالَتْ اُخْرٰىہُمْ لِاُوْلٰىہُمْ رَبَّنَا ہٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِہِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ 0ۥۭ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38
دخل
الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58]
( دخ ل ) الدخول
( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
ترکیب : امایاتینکم شرط منکم یقصون الخ رسل کی صفت یا حال فمن اتقٰی شرط فلا خوف جواب جملہ جواب شرط اول۔ والذین الخ مبتداء اولئک جملہ خبر فمن مبتداء ظلم خبر یتوفونہم حال ہے رسلنا سے مابمعنی الذی۔ تدعون میں ضمیر عائد اس کی طرف محذوف تقدیرہ تدعونہ فی النار متعلق ہے ادخلوا سے۔ کلما دخلت شرط لعنت جواب اذا ادارکو اصلہ تدارکو ‘ ت کود سے بدلا اور ساکن کرکے ادغام کردیا پھر ہمزہ وصل اور زیادہ کردیا۔ جمیعا حال ہے فاعل ادارکو سے یہ سب شرط قالت الخ جواب وکذلک مفعول ہے نجزی کا۔
تفسیر : مسائلِ حلال و حرام بیان کرنے کے بعد کچھ آخرت کا حال بیان کرنا بھی ضرور تھا کہ جہاں اس دنیا کے تمام افعال نیک و بد کا بدلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ط اُولٰٓئِکَ یَنَالُھُمْ نَصِیْبُھُمْ مِّنَ الْکِتٰبِ ط حَتّٰٓی اِذَا جَآئَتْھُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَھُمْ لا قَالُوْآ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ ط قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَھِدُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ اَنَّھُمْ کَانُوْا کٰفِرِیْنَ ۔ قَالَ ادْخُلُوْا فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِی النَّارِ ط کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَھَا ط حَتّٰٓی اِذَا ادَّارَکُوْا فِیْھَا جَمِیْعًا لا قَالَتْ اُخْرٰھُمْ لِاُوْلٰھُمْ رَبَّنَا ھٰٓؤُلَآئِ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والوں کے ساتھ ان لوگوں کا انجام بھی بیان کردیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ پر بالواسطہ یا بلاواسطہ جھوٹ باندھتے ہیں۔ گویا کہ یہ اللہ تعالیٰ کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔
قرآن مجید میں اِفْتَرَیٰ عَلَی اللّٰہِ کے الفاظ مختلف موقعوں پر 9 دفعہ استعمال ہوئے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے۔
1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنا۔
3۔ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے دین کے حوالے سے جھوٹ بولنا۔
4۔ اپنے آپ پر وحی نازل ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرنا۔
5۔ حق بات کو جھٹلانا۔ 6۔ نبی کی نبوت کا انکار کرنا۔
اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے سے مراد یہاں اس کی ذات…
Read the full tafseer →مفتری و مکذب دوزخ کا ایندھن بنے گا :
آیت 37: فَمَنْ اَظْلَمُ (پس ظلم میں اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا) جس نے بہت زیادہ ظلم کیا۔ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْکَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ (جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیات کو جھوٹا بتائے) ان میں سے جو منسوب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے متعلق جو اس نے نہیں کیا یا اس نے اللہ تعالیٰ کی کہی ہوئی بات کو جھٹلادیا۔ اُولٰٓپکَ یَنَا لُھُمْ نَصِیْبُھُمْ مِّنَ الْکِتٰبِ (ان لوگوں کے نصیب کا جو کچھ ہے وہ ان کو مل جائے گا) جو ان کے لیے رزق و عمر لکھے گئے حَتّٰی اِذَا جَآئَ تْھُمْ رُسُلُنَا (یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے فرشتے آئیں گے) موت کا فرشتہ…
Read the full tafseer →(37) (فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذباً ) اس کے لئے شریک بنائے (او کذب بایتہ ط اولئک ینالھم نصیبھم من الکتب) یعنی لوح محفوظ میں جوان کا حصہ لکھا ہوا ہے اس میں اختلاف ہے۔ حسن اور سجدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جو ان کے لئے عذاب لکھا ہوا ہے اور ان کے چہرے سیاہ کرنے اور نیلی آنکھیں کرنے کا جو فیصلہ لکھا ہوا ہے۔ عطیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جو شخص اللہ پر جھوٹ بولے اس کے لئے لکھا ہوا ہے کہ اس کا چہرہ سیاہ ہوگا خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
(ویوم القیامہ نزی الذین کذبوا علی اللہ جو ھھم مسودۃ) اور قیامت کے دن آپ دیکھیں گے کہ جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ بولا ان کے چہرے سیاہ ہیں) سعید بن جبیر ؓ…
Read the full tafseer →حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ ایسے لوگوں کو ان کے نصیب کا لکھایوں ملے گا کہ نیکی کرنیوالے کو اس کی نیکی اور اور بد ی کرنے والے کو اس کی بدی کا بدلا ملے گا حاصل مطلب یہ ہے کہ علم ازلی کے موافق لوح محفوظ اور نامہ ( علیہ السلام) اعمال میں جو نیکی بدی لکھی گئی ہے اس کے موافق جزا سزا کا فیصلہ ہوگا یہاں اس تفسیر کے موافق رسولوں سے مقصود وہ فرشتے ٹھہریں گے جو روحوں کو دوزخ میں ڈالنے پر تعینات ہیں یا رسولوں سے مقصود ملک الموت اور ان کے مددگار ہیں کیونکہ مرنے کے وقت فرشتے مشرکوں کو عذاب سے ڈراتے ہیں جس سے مرتے وقت ان مشرکوں کو بڑی گھبراہٹ ہوتی ہے فرشتے جھڑک کر ان سے دریافت کرتے ہیں کہ جن کو تم…
Read the full tafseer →آیت 37
یعنی اس شخص سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں جس نے بہتان طرازی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف شریک اور اس کی ذات وصفات کی طرف نقص کی نسبت کی اور اس کی طرف کسی ایسی بات کو منسوب کیا جو اس نے نہیں کہی۔ (اوکذب بایتہ) ” یا اس کی آیات کو جھٹلایا۔ “ یعنی جس نے حق مبین کو بیان کرنے والی واضح آیات کو جھٹلایا، جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتی ہیں پس یہ لوگ اگرچہ اس دنیا سے فائدہ اٹھا رہے ہیں تاہم انہیں وہ عذاب ضرور مل کر رہے گا جو لوح محفوظ میں ان کے لئے لکھ دیا گیا ہے۔ کوئی چیز ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔ وہ اس دنیا سے تھوڑی سی مدت کے لئے فائدہ اٹھائیں گے اور ابد الآباد تک عذاب بھگتیں گے۔ (حتی اذا جآء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–54
فواحش سے مراد
قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھا وما بطن ولاثم والبغی بغیر الحق۔ اے محمد ﷺ ، ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں، بےشرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی) مجاہد کا قول ہے کہ فواحش سے زنا مراد ہے یہ سری خواحش ہے اور برہنہ حالت میں طواف کرنا جہری فواحش ہے۔ ایک قول ہے کہ بےشرمی کے تمام کام فواحش ہیں۔ شروع میں اجمالاً ان کا ذکر کیا پھر ان کی مختلف صورتوں کی تفصیل بیان کردی اور یہ فرمایا کہ گناہ حق کے خلاف زیادتی اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا فواحش کی صورتیں ہیں۔ یعنی لوگوں پر ناحق اور بزور قوت غلبہ جمانے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
46 دنیا میں اہل باطل کو بھی ان کا حصہ ملتا رہے گا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ظالموں کو نوشتہ تقدیر کے مطابق ان کا ملتا رہے گا۔ عمر اور رزق وغیرہ کا جو بھی حصہ ان کے مقدر میں لکھا ہے وہ ان کو ملتا رہے گا۔ ( صفوۃ، المراغی وغیرہ) ۔ کہ دنیا کے اس " دارالامتحان " کا متقضٰی یہی ہے۔ سو ایسے لوگ انہی مشاغل میں الجھے اور انہی بھول بھلیوں میں پھنسے رہیں گے۔ یہاں تک کہ فرصت عمر ختم ہوجائے گی اور فرشتے آکر ان کا رشتہ حیات کاٹ ڈالیں گے اور انکو انکے اپنے کفر و انکار اور تکذیب و افتراء کی بناء پر ہمیشہ کیلئے عذاب میں دھر لیا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ پاک کسی کے کفر و انکار کی بناء پر اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–43
سزا اور جزا کی خبر
تشریح : پچھلی آیات میں بہترین زندگی گزارنے کے اصول، قوانین اور طریقے بتائے گئے ہیں۔ ان آیات میں دوبارہ صالحین اور مشرکین کے بارے میں وضاحت کی جا رہی ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی شک باقی نہ رہ جائے کیونکہ اکثر لوگ یہی کہتے ہیں کہ جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا۔ اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ بھئی مرنے کے بعد کس طرح ہم زندہ ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو باربار سمجھا رہے ہیں کہ کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔ تم کھائو، پیو اور مزے اڑالو مگر یاد رکھو موت کا وقت مقرر ہے ایک سیکنڈ بھی اس سے آگے پیچھے نہ ہوگا۔ اس وقت تم اپنے برے اعمال پر پچھتائو گے تو کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ عمل کا وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 32 تا 39:
اسرار و معارف :
اچھا کھانا اور لباس :
چونکہ انسانی شرف کا مدار ہی اللہ کریم کی رضا ہے لہذا اصل کام خلوص دل سے اطاعتِ الہی کرکے اس کی رضا حاصل کرنا ہے اسلام نے باطل مذاہب کی طرح فضول اور خود ساختہ مشقت اٹھانے سے منع فرما دیا ہے اور لذیذ کھانوں سے اجتناب یا اچھا لباس پہننا کوئی عبادت نہیں نہ رب جلیل نے اس کا حکم دیا ہے جب مالک اللہ ہے اور اس نے بہتر رزق اچھے پھل مزیدار کھانے جو حلال اور جائز ذرائع سے حاصل کئے گئے ہوں ایسے ہی خوبصورت اور آرام دہ لباس یا بہتر سواری اور خوبصورت گھر سے منع نہیں فرمایا پھر دوسرا کون ایسا ہوسکتا ہے جو اس کے بندوں کو ان چیزوں سے روک دے…
Read the full tafseer →ف 2 اس کا تعلق اوپر کی آیت والذین کذبو وبایتنا سے ہے یعنی دو قسم کے لوگ تو بہت ہے بڑے ظالم ہیں۔ پہلی قسم کے جو ٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والی یا اللہ تعالیٰ کی طرف کسی حکم کی چھوٹی نسبت کرنے والے آجاتے ہیں اور دوسری قسم میں تمام وہ لوگ شامل ہیں جو قرآن کے کتاب الہی ٰ ہونے سے انکار کرتے ہیں یا آنحضرت ﷺ کی نبوت کر منکر ہیں۔ ( کبیر )
Read the full tafseer →(7:37) ینالہم۔ مضارع واحد مذکر غائب ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ نیل مصدر۔ (باب سمع) پہنچ جائے گا ۔ پہنچتا رہے گا۔
نصیبھم۔ ان کا حصہ۔ یعنی خوراک۔ عمر۔ صحت۔ بیماری۔ اچھا یا برا کام کرنے کے مواقع گناہ کرنے یا توبہ کرنے کے مواقع ۔ وغیرہ وغیرہ۔ من الکتاب۔ (جو ان کی قسمت میں) لکھا ہوا ہے ۔ الکتاب۔ نوشتہ تقدیر۔
حتی اذا۔ یہاں تک کہ جب۔ یتوفونھم۔ مضارع جمع مذکر غائب ہم ضمیر مفعول ۔ جمع مذکر غائب۔
یہ ان اشخاص کی طرف راجع ہے جو زندگی میں اللہ تعالیٰ کے خلاف جھوٹی بہتان بازی کرتے تھے اور اس کی آیات کو جھٹلاتے تھے۔ یتوفون حال ہے رسلنا سے بمعنی درآنحالیکہ وہ (یعنی اللہ کے فرستارہ فرشتے) ان کی روحیں قبض کر رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–39
لغات الا قرآن آیت نمبر (35 تا 39 ) ۔
یاتینکم (تمہارے پاس آئیں) ۔ ینال (پہنچے گا۔ ملے گا) ۔ نصیب (حصہ) ۔ یتوفون (موت دیں گے۔ جان نکالیں گے) ۔ تدعون (تم پکارتے ہو) ۔ ضلواعنا (ہم سے غائب ہوگئے۔ گم ہوگئے) ۔ شیدوا (وہ گواہ بن گئے) ۔ امم (امتیں۔ جماعتیں) ۔ خلت (گزر گئی۔ (گزر گئیں) ۔ لعنت (لعنت کی۔ (لعنت کریں گے) ۔ اختھا (اپنے ساتھی کو) ۔ ادرکوا (مل جائیں گے) ۔ ضعف (دو گناہ ) ۔ فضل (بڑائی ) ۔ تکسبون (تم کماتے ہو ) ۔
تشریح ـ آیت نمبر (35 تا 39 ) ۔”
کفار اور مشرکین کو آگاہ کرنے کے لئے ان آیات میں چار بڑی حقیقتوں کو پیش کیا جا رہا ہے ان حقیقتوں کا تعلق اس دنیا کی زندگی سے بھی ہے اور اس کے بعد آنے والی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
دوزخ اور عذاب موت کا ذکر
حاصل مطلب یہ ہے کہ ملک الموت اور ان کے مددگار فرشتے مشرکوں کو مرتے وقت عذاب سے ڈراتے ہیں جس سے ان کو بڑی گھبراہٹ ہوتی ہے۔ فرشتے جھڑک کر ان سے دریافت کرتے ہیں کہ جن کو تم خدا کے سوا دنیا میں پکارتے اور پوجتے تھے وہ اب کہاں ہیں، ان کو بلاؤ کہ تم کو اس عذاب سے بچاویں۔ وہ لوگ جواب دیں گے کہ ہم کو معلوم نہیں کہ وہ کدھر گم ہوگئے، وقت پر ہمارے کچھ کام نہ آئے۔ ہم کو ان سے کچھ توقع اور امید نہیں ہے۔ یہ ان کا موت کے وقت اپنی جانوں پر کفر کا اقرار ہوگا۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے دوزخ کا داروغہ کہے گا کہ داخل ہو آگ میں ہمراہ اور امتوں کے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں۔ پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
[18] یعنی کوئی کام نہ آیا۔
Read the full tafseer →اعتراف ندامت :
(ف 1) وہ لوگ جو دنیا میں ظالم رہے جنہوں نے اللہ کے رسول کو نہ مانا ، اور ضدا اختیار کی ، وہ جو ہر آن تکذیب پر آمادہ رہے ، وہ جنہوں نے سرکشی اور غرور سے منہ نہ موڑا ، دنیا میں بھی ذلیل رہیں گے اور موت کے وقت بھی فرشتے آئیں گے اور روح قبض کریں گے ، اس وقت وہ پوچھیں گے وہ بت کہاں ہیں اور وہ خدا کہاں ہیں ، جن کی تم پوجا کرتے تھے ، اس وقت انہیں ندامت گھیرے گی انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگا اور کہیں گے کہ بیشک ہم کافر رہے ۔
Read the full tafseer →37 پھر اب اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر کذب اور افترا کرے اور بہتان باندھے یا اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی آیات کو جھٹلائیں یعنی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے یا کسی سچے پیغمبر کی تکذیب کرے اور اس کو جھوٹا بتائے ایسے لوگوں کو وہ حصہ ملتا رہے گا جو کتاب میں لکھا ہوا ہے یعنی عمر اور رزق اور ذلت و رسوائی وغیرہ ج مقدر میں لکھا ہوا ہے وہ ان کو ملتا رہے گا یہاں تک کہ جب ہمارے فرشتے ان کی جان نکالنے کو ان کے پاس پہنچیں گے تو ان ظالموں سے دریافت کریں گے وہ غیر اللہ کہاں ہیں جن کو تم اللہ تعایلٰ کے سوا پکارا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کیا کرتے تھے یعنی وہ کہاں…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی جو بات خدا کی کہی ہوئی ہو اس کے بےکہی بتلادے۔
3۔ یعنی واقعی کوئی کام نہ آیا۔
4۔ لیکن اس وقت کا اقرار محض بےکار ہوگا۔
Read the full tafseer →ظالموں کی شناخت اور ان کا انجام جس کو وہ پہنچنے والے ہیں :
48: جو بات ظاہر اور سب کو اچھی طرح جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ جو شخص بھی خدا پر بہتان باندھے اس سے بڑھ کر کوئی گنہگار نہیں اور جو سچے کو جھٹلائے اس کی بدبختی میں بھی کلام نہیں۔ اب نتائج فیصلہ کردیں گے کہ کون فریق مستحق عذاب ہے اور کون مستحق کامیابی وارجمندی۔ اس دنیا میں زندگی کے جو دن نوشتہ تقدیر میں لکھے ہوئے ہیں وہ تو بہرحال پورے کرنے ہیں وہ بھی یقیناً پورے کریں گے یہاں تک کہ وہ وقت آجائے گا جب ہمارے بھیجے ہوئے ان کو موت دیں گے اور ان سے پوچھیں گے کہ اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے رہے ہو اب وہ کہاں ہیں ؟ اس سے زیادہ مشکل وقت کون سا ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
The first and the second verse both mentioned two crimes committed by disbelievers. They took Halal as Haram and made the Haram become Halal for themselves by themselves. The third verse (34) describes their sad end and the punishment they would have in the Hereafter. It was said:
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ
(And for every people there is an appointed time. So, when their appointed time comes, they will not be late for a moment, nor will they go before).
In other words, what is being said here is that those…
Read the full tafseer →29, All men, whether good or bad, have been granted a definite term in this world which they will spend and obtain their share of worldly happiness and misery.
Read the full tafseer →