Explained with ayahs 34–36
موت کی ساعت طے شدہ ہے۔ اور اٹل ہے
ہر زمانے اور ہر زمانے والوں کے لئے اللہ کی طرف سے انتہائی مدت مقرر ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ ناممکن ہے کہ اس سے ایک منٹ کی تاخیر ہو یا ایک لمحے کی جلدی ہو۔ انسانوں کو ڈراتا ہے کہ جب وہ رسولوں سے ڈرانا اور رغبت دلانا سنیں تو بدکاریوں کو ترک کردیں اور اللہ کی اطاعت کی طرف جھک جائیں۔ جب وہ یہ کریں گے تو وہ ہر کھٹکے، ہر ڈر سے، ہر خوف اور ناامیدی سے محفوظ ہوجائیں گے اور اگر اس کے خلاف کیا نہ دل سے مانا نہ عمل کیا تو وہ دوزخ میں جائیں گے اور وہیں پڑے جھلستے رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
سورة الْاَعْرَاف 28
یہ بات قرآن مجید میں ہر جگہ اس موقع پر ارشاد فرمائی گئی ہے جہاں آدم وحوّا (علیہما السلام) کے جنت سے اتارے جانے کا ذکر آیا ہے (ملاحظہ ہو سورة بقرہ، آیات 38۔ 39۔ طٰہٰ۔ آیات 123۔ 124) لہٰذا یہاں بھی اس کو اسی موقع سے متعلق سمجھا جائے گا، یعنی نوع انسانی کی زندگی کا آغاز جب ہو رہا تھا اسی وقت یہ بات صاف طور پر سمجھا دی گئی تھی (ملاحظہ ہو سورة آل عمران، حاشیہ 69)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–39
خلاصہ تفسیر
(ہم نے عالم ارواح ہی میں کہہ دیا تھا) اے اولاد آدم کی اگر تمہارے پاس پیغمبر آویں جو تم ہی میں سے ہوں گے جو میرے احکام تم سے بیان کریں گے سو (ان کے آنے پر) جو شخص (تم میں ان آیات کی تکذیب سے) پرہیز رکھے اور (اعمال کی) درستی کرے (مراد یہ کہ کامل اتباع کرے) سو ان لوگوں پر (آخرت میں) نہ کچھ اندیشہ (کی بات واقع ہونے والی) ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور جو لوگ (تم میں سے) ہمارے ان احکام کو جھوٹا بتادیں گے اور ان (کے قبول کرنے) سے تکبر کریں گے وہ لوگ دوزخ (میں رہنے) والے ہوں گے (اور) وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے (جب تکذیب کرنے والوں کا مستحق وعید شدید ہونا اجمالاً معلوم ہوگیا سو اب تفصیل…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاسْتَكْبَرُوْا عَنْهَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدون۔
وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاسْتَكْبَرُوْا عَنْهَآ، استکبار کے بعد حرف عن اس بات پر دلیل ہے کہ لفظ استکبار یہاں اعراض کے مفہوم پر بھی مشتمل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے رسول آیات الٰہی سناتے آئیں گے تو جو لوگ ان کو جھٹلائیں گے اور متکبرانہ ان سے منہ موڑیں گے وہ دوزخ میں پڑیں گے۔
Read the full tafseer →36۔ 1 اس میں اہل ایمان کے برعکس ان لوگوں کا برا انجام بیان کیا گیا ہے جو اللہ کے احکام کو جھٹلاتے اور ان کے مقابلے میں استکبار کرتے ہیں۔ اہل ایمان اور اہل کفر دونوں کا انجام بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ لوگ اس کردار کو اپنائیں جس کا انجام اچھا ہے اور اس کردار سے بچیں جس کا انجام برا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
18: یوں تو کسی بھی شخص کی طرف کوئی غلط بات منسوب کرنا ہر اعتبار سے ایک ناجائز اور غیر اخلاقی فعل ہے لیکن اگر یہ جرم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا جائے تو اس کی سنگینی انسان کو کفر تک لے جاتی ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرتے وقت انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے اور جب تک انسان کو یقینی علم حاصل نہ ہو، ایسی نسبت کا اقدام ہرگز نہیں کرنا چاہیے، عرب کے بت پرستوں نے اپنی طرف سے باتیں گھڑ گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر رکھی تھیں جن کی بنیاد کسی علم پر نہیں تھی بلکہ اپنے بےبنیاد اندازوں پر تھی جن کی حقیقت کا خود انہیں بھی علم حاصل نہیں تھا۔
Read the full tafseer →آیت ” وَالَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا وَاسْتَکْبَرُواْ عَنْہَا أُوْلَـَئِکَ أَصْحَابُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خَالِدُونَ (36)
” اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلے میں سرکشی برتیں گے وہی اہل دوزخ ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “
کیونکہ اللہ کے عہد ونصیحت کو فراموش کرنے اور استکبار اور تکذیب کی وجہ سے یہ لوگ اپنے دوست شیطان سے مل چکے ہیں اور ان پر اللہ کا یہ فیصلہ نافذ ہوگیا ہے کہ ” جو لوگ تم میں سے اس کی اطاعت کریں گے تو ان سب سے میں جہنم کو بھر دوں گا ۔ “
اب یہاں سے اللہ کے سامنے پیشی کا منظر شروع ہوتا ہے ۔ جس کی طرف سابقہ سبق کے آخر میں اشارہ کیا گیا تھا ۔
آیت ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
5 ابن جریر نے ابو یسار سلمی سے نقل کیا ہے کہ یہ خطاب (يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ ) 7 ۔ الاعراف :35) کل اولاد آدم کو عالم ارواح میں ہوا تھا۔ جیسا کہ سورة بقرہ کے سیاق سے ظاہر ہوتا ہے۔ (قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا ۚ فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّـنِّىْ ھُدًى) 2 ۔ البقرۃ :38) اور بعض محققین کے نزدیک جو خطاب ہر زمانہ میں ہر قوم کو ہوتا رہا، یہ اس کی حکایت ہے میرے نزدیک دو رکوع پہلے سے جو مضمون چلا آرہا ہے اس کی ترتیب و تنسیق خود ظاہر کرتی ہے کہ جب آدم و حوا اپنے اصلی مسکن (جنت) سے جہاں ان کو آزادی و فراخی کے ساتھ بلا روک ٹوک زندگی بسر کرنے کا حکم دیا جا چکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
آیت 34 وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ج۔
یعنی جب بھی کبھی کسی قوم کی طرف کوئی رسول آتا ‘ تو ایک مقررہ مدت تک اس قوم کو مہلت میسرہوتی کہ وہ اس مدت مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے رسول علیہ السلام کی دعوت پر لبیک کہے اور صحیح راستے پر آجائے۔ اس مقررہ مدت کے دوران اس قوم کی نافرمانیوں کو نظر انداز کیا جاتا اور ان پر عذاب نہیں آتا تھا۔ حضور ﷺ کی بعثت کے بعد مکہ میں بھی یہی معاملہ درپیش تھا۔ اہل مکہ کو مشیت خداوندی کے تحت مہلت دی جا رہی تھی۔ دوسری طرف حق و باطل کی تھکا دینے والی کشمکش میں اہل ایمان کی خواہش تھی کہ کفار کا فیصلہ جلد از جلد چکا دیا جائے۔ اہل ایمان کے ذہنوں میں لازماً یہ سوال بار بار آتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
35 جنت کا دوبارہ حصول کیسے ممکن ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں بھی آدم (علیہ السلام) و ابلیس اور جنت سے آدم کے نکلنے کا قصہ بیان فرمایا تو بنی آدم کی دلجوئی کے لیے بھی آیات نازل فرمائیں۔ ابلیس نے جنت میں آدم و حوا کو بےستر کیا تھا، تو لباس اور اس کے نعمت ہونے اور اچھا لباس پہننے کے لیے کئی آیات نازل فرمائیں۔ جنت میں آدم (علیہ السلام) و حوا جنت کے پھل بافراغت کھاتے تھے صرف ایک درخت کا کھانا حرام کیا تھا تو اس دنیا کے متعلق بھی فرمایا کہ ماسوائے چند حرام کردہ اشیاء کے جو کچھ زمین میں ہے سب تمہارے لیے مباح ہے لہذا حلال اور پاکیزہ اشیاء میں سے جو چاہو کھا سکتے ہو البتہ اسراف نہ کرنا۔ فرق…
Read the full tafseer →48 ۔ کیسے صاف لفظوں میں دو گروہ الگ الگ بتادیئے ہیں۔ ایک طرف اہل صلاح وتقوی کا گروہ ہے۔ دوسری طرف ان منکرین ان و متکبرین کا۔ ھم۔ آیت میں موقع حصر پر آیا ہے۔ اور اسی سے اہل سنت نے استدلال کیا ہے کہ گنہگار مومن آخر عذاب سے نجات پاجائے گا، عذاب دائمی میں رہنے والے صرف مکذبین ومنکرین ہوں گے۔ وقد تمسک اصحابنا بھذہ الایۃ علی ان الفاسق من اھل الصلوۃ لایبقی مخلدا فی النار لانہ لانہ تعالیٰ بین ان المکذبین بایات اللہ والمستکبرین عن قبولھا ھم الذین یبقون مخلدین فی النار وکلمۃ ” ھم “ تفید الحصر (کبیر) (آیت) ” استکبروا عنھا “۔ یعنی ہمارے آیات و احکام کے قبول کرنے سے تکبر کریں گے، اپنی عقل کو وحی الہی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
وَلِکلّ امۃ اَجَلٌ، ہر قوم کیلئے مہلت کی مدت مقرر ہے، یہ مہلت ہر فرد و قوم کو ملتی ہے اور یہ مہلت آزمائش کے طور پر عطا کی جاتی ہے کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے یا اس کی بغاوت و سرکشی میں مزید اضافہ ہوتا ہے یہ مہلت بعض کو پوری زندگی کیلئے ہوتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ پوری زندگی میں اس کی گرفت نہیں فرماتے، بلکہ آخرت ہی میں مواخذہ فرماتے ہیں اس کی اجل سمیٰ قیامت کا دن ہے اور جس کو وہ دنیا ہی میں عذاب سے دوچار کردیتا ہے ان کو اجل مسمّٰی وہ ہے جب ان کا مؤاخذہ فرماتا ہے۔ قوم کی مدت مہلت مقرر کئے جانے کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ ہر قوم کیلئے برسوں اور مہینوں اور دنوں کے…
Read the full tafseer →والذین کذبوا باتینا واستکبروا عنہا اولئک اصحب البار ہم فیہا خلدون : اور جو لوگ ہمارے احکام کی تکذیب کریں گے اور ان سے تکبر کریں گے وہ دوزخی ہوں گے اور دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ تکبر کریں گے یعنی ایمان لانے سے غرور کریں گے۔ فَلاَ خَوْفٌمیں فاء کو ذکر کرنا اور اولءک کو بغیر فاء کے لانا (باوجودیکہ دونوں جزاء شرط ہیں) وعدۂ ثواب کی قوت اور وعید عذاب کی سبکی کو ظاہر کر رہا ہے۔
Read the full tafseer →(36) اور جو ہماری کتاب اور رسولوں پر ایمان لانے سے تکبر کریں یہی لوگ جہنمی ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں کبھی موت آئے گی اور نہ اس سے کبھی نجات ملے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
وَلِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ ۚ۔۔ : پہلی آیت میں بیان فرمایا کہ ہر ایک کے لیے ایک وقت مقرر ہے جو آگے پیچھے نہیں ہوسکتا، دوسری آیت میں بتایا کہ جو لوگ فرماں بردار ہوں گے مرنے کے بعد ان پر کسی قسم کا خوف اور حزن نہیں ہوگا، مگر جو سرکش ہوں گے وہ سخت عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ اسی قسم کا خطاب سورة بقرہ میں آدم ؑ کے قصے کے آخر میں بھی مذکور ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (36)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
آیت نمبر 35۔ 36
قولہ تعالیٰ : آیت : یٰبنی ٓ ادم اما یاتینکم رسل منکم یہ شرط ہے۔ ما کے دخول کی وجہ سے نون تاکید داخل ہوئی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ما صلہ ہے، یعنی ان یاتکم ( اگر تمہارے پاس رسول آئیں) اس میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ان کی طرف ان میں سے رسول بھیجے گا تاکہ ان کا قبول کرنا ( آسان اور) اقرب ہو۔ اور قصص سے مراد لگاتار اور تسلسل کے ساتھ بات کرنا ہے۔
آیاتی یعنی میرے فرائض اور میرے احکام ( وہ تم پر میرے فرائض اور میرے احکام بیان کریں) ۔
آیت : فمن اتقی واصلح یہ شرط ہے اور اس کا مابعد اس کا جواب ہے اور پھر یہ پہلی شرط کا جواب ہے، یعنی جس نے اصلاح کرلی اس کی جو میرے اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(1) امام ابن جریر نے ابو سیار سلمی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم اور اس کی اولاد کو اپنی ہتھیلی میں لیا اور فرمایا لفظ آیت ” یبنی ادم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم ایتی، فمن اتقی واصلح فلا خوف علیہم ولا ھم یحزنون “ پھر رسولوں کی طرف دیکھا اور فرمایا لفظ آیت ” یایھا الرسول کلوا من الطیبت واعملوا صالحا، انی بما تعملون علیم “ (اور فرمایا) ” وان ھذہ منکم امۃ واحدۃ وانا ربکم فاتقون “ پھر ان کو پھیلا دیا۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ [ اور جنہوں نے ] كَذَّبُوْا [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری آیات کو ] وَاسْتَكْبَرُوْا [ اور استکبار کیا ] عَنْهَآ [ ان سے ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ [ آگ والے ہیں ] هُمْ [ وہ لوگ ] فِيْهَا [ اس میں ] خٰلِدُوْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →کافروں، متکبروں کے لیے عذاب :
(وَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَکْبَرُوْا عَنْھَآ اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ) اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے اعراض کیا اور ان کے قبول کرنے میں اپنی ہتک سمجھی اور اپنے کو بڑا سمجھا تو یہ لوگ دوزخ والے ہیں اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔
(وَ اسْتَکْبَرُوْا عَنْھَا) جو فرمایا اس میں ان کافروں کی شرارت نفس کا بیان ہے جو اللہ پر ایمان لانے اور اس کے رسولوں کی تصدیق کرنے اور اس کے احکام ماننے میں اپنی ذلت محسوس کرتے ہیں اور نہ ماننے میں اپنی بڑائی سمجھتے ہیں۔
سورۂ الصافات میں فرمایا (اِنَّھُمْ کَانُوْٓا اِذَا قِیْلَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
نداء چہارم
تذکیر عہد قدیم باطاعت خداوند کریم وبیان نعیم وجحیم
قال اللہ تعالیٰ یبنی ادم اما یاتینکم رسل منکم۔۔۔ الی۔۔۔ اور ثتموھا بماکنتم تعملون۔
(ربط) ( گزشتہ آیات میں بنی آدم کے لیے تین نداؤں کا بیان ہوا جن میں عقائد و اعمال میں ابلیس کے اتباع اور موافقت سے اور احکام الہیہ کی مخالفت سے ممانعت فرمائی اب آئندہ آیات میں نداء چہارم کا ذکر ہے جس سے بنی آدم کو اپنا عہد قدیم یاد دلاتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ تم کو اس مضمون کا خطاب کوئی جدید امر نہیں بلکہ عالم ارواح میں تم سے یہ عہد لے لیا گیا تھا کہ دیکھو ہم دنیا میں اپنے رسول بھیجیں گے اور ان کے ذریعہ سے ہم تم کو راہ ہدایت اور صراط مستقیم سے آگاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
36: اس سے قبل “ قُلْنَا ” محذوف ہے یہ قاعدہ ہے کہ جب بھی کسی گذشتہ واقعہ کو لفظ مضارع سے تعبیر کیا جائے تو وہاں “ قلنا ” محذوف ہوتا ہے تاکہ خلاف مراد کا وہم نہ ہو۔ اس طرح یہ آیت “ قَالَ اھْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ ” کے ساتھ متعلق ہوگی اور مطلب یہ ہوگا کہ قصہ آدم کے بعد ہم نے اسی وقت اولاد آدم کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ تمہارے پاس میرے رسول آئیں گے چناچہ اللہ کے رسول آئے یہاں تک کہ حضرت خاتم النبیین ﷺ پر ان کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ اس لیے اس خطاب کو موجودہ بنی آدم پر چسپاں کر کے حضور ﷺ کے بعد سلسلہ رسالت کے جریان پر استدلال کرنا قطعاً غلط اور قرآن کی تحریف کے مرادف ہے سورة بقرہ ع 4 کی آیت اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
اولاد آدم سے خطاب
اس آیت میں اولاد آدم سے خطاب کے متعلق مفسرین کرام کی دو رائیں ہیں پہلی رائے یہ ہے کہ اگرچہ خطاب تما اولاد آدم کو اکٹھا ہے مگر فی الواقع یہ ہر نبی کے زمانہ میں علیحدہ علیحدہ ہوتا رہا ہے تاہم یہاں پر بیان اکٹھا کردیا گیا ہے اس کی مثال رسولوں سے خطاب میں بھی ملتی ہے جیسے فرمایا یاھا الرسل کلومن الطیبت واعملوا صالحاً (المومنون) اے گروہ رسل ! پاک اور حلال چیزیں کھائو اور نیک اعمال انجام دو یہاں بھی بظاہر خطاب تو تمام رسولوں کو ہے مگر یہ حکم ہر رسول کی بعثت کے ساتھ فرداً فرداً نازل ہوتا رہا ہے بالکل اسی طرح یہاں پر خطاب تو پوری اولاد آدم کو ہے مگر حقیقت میں یہ ہر رسول کے زمانے میں…
Read the full tafseer →فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللہِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِہٖ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ يَنَالُہُمْ نَصِيْبُہُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ 0 ۭ حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءَتْہُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَہُمْ 0 ۙ قَالُوْٓا اَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ 0 ۭ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَشَہِدُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ اَنَّہُمْ كَانُوْا كٰفِرِيْنَ 37
ظلم
وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه،
قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ:
الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی،
وأعظمه : الکفر والشّرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
ترکیب : امایاتینکم شرط منکم یقصون الخ رسل کی صفت یا حال فمن اتقٰی شرط فلا خوف جواب جملہ جواب شرط اول۔ والذین الخ مبتداء اولئک جملہ خبر فمن مبتداء ظلم خبر یتوفونہم حال ہے رسلنا سے مابمعنی الذی۔ تدعون میں ضمیر عائد اس کی طرف محذوف تقدیرہ تدعونہ فی النار متعلق ہے ادخلوا سے۔ کلما دخلت شرط لعنت جواب اذا ادارکو اصلہ تدارکو ‘ ت کود سے بدلا اور ساکن کرکے ادغام کردیا پھر ہمزہ وصل اور زیادہ کردیا۔ جمیعا حال ہے فاعل ادارکو سے یہ سب شرط قالت الخ جواب وکذلک مفعول ہے نجزی کا۔
تفسیر : مسائلِ حلال و حرام بیان کرنے کے بعد کچھ آخرت کا حال بیان کرنا بھی ضرور تھا کہ جہاں اس دنیا کے تمام افعال نیک و بد کا بدلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
چناچہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے : یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ لا فَمَنِ اتَّقٰی و اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌج عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْٓا بِاٰیٰتِنَا وَاسْتَکَْبَرُوْا عَنْھَآ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (الاعراف : 35، 36)
” اے بنی آدم ! اگر تمہارے پاس تم ہی میں سے ایسے رسول آئیں ‘ جو تمہیں میری آیات سنائیں تو جو کوئی نافرمانی سے بچا اور اس نے اپنی اصلاح کرلی تو ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور تکبر کر کے ان سے اعراض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
فہم القرآن
ربط کلام : قوم کی اجتماعی تباہی کا اشارہ دینے کے بعد بنی آدم کو اجتماعی خطاب اور نصیحت کرتے ہوئے نیک وبد کا انجام بیان کیا ہے یہی قرآن مجید کا اسلوب ہے کہ وہ انتباہ اور نصیحت کو برابر چلاتے ہوئے لوگوں کو اچھے اور برے انجام سے آگاہ کرتا ہے تاکہ سننے والا ایک لمحہ میں فیصلہ کرسکے۔
اللہ تعالیٰ نے جب آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ مکرمہ کو زمین پر اترنے کا حکم صادر فرمایا تو اس وقت نصیحت فرمائی کہ تم سب کے سب زمین پر اتر جاؤ۔ بس جب تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو اس کی پیروی کرو اور جو اس ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں کوئی خوف وخطر اور رنج وملال نہیں ہوگا۔ جنہوں نے انکار…
Read the full tafseer →مکذب و متکبر کا انجام :
آیت 36: وََالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا (اور جو لوگ جھوٹا بتلاویں گے) تم میں سے بِاٰیٰتِنَا وَاسْتَکْبَرُوْا عَنْھَآ (ہمارے ان احکام کو اور ان سے تکبر کریں گے) ان پر ایمان لانے سے بڑے بنے اُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ (وہ لوگ دوزخ والے ہونگے وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے)
Read the full tafseer →(36) (والذین کذبوا بایتنا واستکبروا عنھآ) یعنی آیات پر ایمان لانے سے تکبر کیا، تکبر کو ذکر کیا کیونکہ ہر کافر اور تکذیب کرنے والا متکبر ہے (اولئک اصحب النارھم فیھا خلدون)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
(34 ۔ 36) ۔ اہل مکہ عذاب کی جو جلدی کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا ہر کام کا وقت اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقرر ہے وقت مقررہ پر اگر اللہ کو منظور ہوگا تو عذاب آوے گا غرض عذاب کے وقت ایسا ہی مقرر ہے جس طرح سب کی آنکھوں کے سامنے ہر ایک شخص کے لئے ہر زمانہ میں موت کا ایک وقت مقرر ہے اس سے ایک ساعت کوئی آگے پیچھے نہیں ہوتا وعدہ کم نہ زیادہ جمہور کا یہی مذہب ہے کہ انسان کی عمر گھٹتی بڑھتی نہیں خواہ قتل کر ڈالنے سے مرا ہو یا ڈوبنے جلنے وغیرہ سے ہر ایک اپنی موت سے مرتا ہے عمر کی کمی بیشی کے باب میں سلف کے مابین ایک بڑی بحث ہے۔ حاصل یہ ہے کہ صحیح حبان اور مستدرک حاکم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
آیت 34
یعنی اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو جنت سے نکال کر زمین پر آباد کردیا اور ان کے لئے ایک مدت مقرر کردی۔ قوموں میں سے کوئی قوم اپنی مدت مقررہ سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے، تمام قومیں اکٹھی ہو کر اس مدت مقررہ سے آگے ہوسکتی ہیں نہ ان کے افراد۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–54
فواحش سے مراد
قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھا وما بطن ولاثم والبغی بغیر الحق۔ اے محمد ﷺ ، ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں، بےشرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی) مجاہد کا قول ہے کہ فواحش سے زنا مراد ہے یہ سری خواحش ہے اور برہنہ حالت میں طواف کرنا جہری فواحش ہے۔ ایک قول ہے کہ بےشرمی کے تمام کام فواحش ہیں۔ شروع میں اجمالاً ان کا ذکر کیا پھر ان کی مختلف صورتوں کی تفصیل بیان کردی اور یہ فرمایا کہ گناہ حق کے خلاف زیادتی اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا فواحش کی صورتیں ہیں۔ یعنی لوگوں پر ناحق اور بزور قوت غلبہ جمانے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
44 اللہ کے رسولوں کی بعثت جنس بشر ہی سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اے آدم کی اولاد اگر تمہارے پاس ایسے رسول آئیں جو خود تم ہی میں سے ہوں۔ یعنی وہ جنس بشر میں سے اور بشر ہوں۔ تاکہ تم لوگ زندگی کے ہر دائرے میں انکی اتباع اور پیروی کرسکو۔ اور ان کے اسوئہ اور نمونہ کو اپنا سکو۔ سو رسول کا بشر اور جنس بشر میں سے ہونا عقل و فطرت کا تقاضا اور حکمت و عنایتِ الٰہی کا مظہر ہے کہ اسی سے انسانوں پر حجت قائم ہوسکتی ہے اور ان کو اسوئہ حسنہ اور قدوئہ مُثلیٰ میسر آسکتا ہے۔ اور ایسی ہی صورت میں وہ اللہ کے رسولوں کی اتباع اور پیروی کے شرف سے مشرف ہوسکتے ہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ مگر اہل بدعت ہیں کہ بشریت رسول کی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–43
سزا اور جزا کی خبر
تشریح : پچھلی آیات میں بہترین زندگی گزارنے کے اصول، قوانین اور طریقے بتائے گئے ہیں۔ ان آیات میں دوبارہ صالحین اور مشرکین کے بارے میں وضاحت کی جا رہی ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی شک باقی نہ رہ جائے کیونکہ اکثر لوگ یہی کہتے ہیں کہ جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا۔ اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ بھئی مرنے کے بعد کس طرح ہم زندہ ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو باربار سمجھا رہے ہیں کہ کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔ تم کھائو، پیو اور مزے اڑالو مگر یاد رکھو موت کا وقت مقرر ہے ایک سیکنڈ بھی اس سے آگے پیچھے نہ ہوگا۔ اس وقت تم اپنے برے اعمال پر پچھتائو گے تو کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ عمل کا وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 32 تا 39:
اسرار و معارف :
اچھا کھانا اور لباس :
چونکہ انسانی شرف کا مدار ہی اللہ کریم کی رضا ہے لہذا اصل کام خلوص دل سے اطاعتِ الہی کرکے اس کی رضا حاصل کرنا ہے اسلام نے باطل مذاہب کی طرح فضول اور خود ساختہ مشقت اٹھانے سے منع فرما دیا ہے اور لذیذ کھانوں سے اجتناب یا اچھا لباس پہننا کوئی عبادت نہیں نہ رب جلیل نے اس کا حکم دیا ہے جب مالک اللہ ہے اور اس نے بہتر رزق اچھے پھل مزیدار کھانے جو حلال اور جائز ذرائع سے حاصل کئے گئے ہوں ایسے ہی خوبصورت اور آرام دہ لباس یا بہتر سواری اور خوبصورت گھر سے منع نہیں فرمایا پھر دوسرا کون ایسا ہوسکتا ہے جو اس کے بندوں کو ان چیزوں سے روک دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
ف 1 اور پر بیان فرمایا کہ ہر ایک کے لیے ایک وقت مقرر ہے جس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی اب یہاں بتایا گیا جو لوگ فرماں بردار ہوں گے مرنے کے بعد ان پر کسی قسم کا خوف وحزن نہ ہوگا مگر جو سرکش ہوں گے وہ سخت عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ اسی قسم کا خطاب سورة بقرہ میں حضرت آدم ( علیہ السلام) کے قصہ کے آخر میں بھی مذکو رہے، ( دیکھئے بقرہ آیت 36)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(7:35) اما۔ اگر ۔ یا ۔ خواہ۔ جیسے اما ان تعذب واما ان تتخذ فیہم حسنا (18:86) خواہ ان کو عذاب دے خواہ ان سے حسن سلوک کر۔ آیۃ ہذا میں بمعنی اگر استعمال ہوا ہے ۔ نیز ملاحظہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–39
لغات الا قرآن آیت نمبر (35 تا 39 ) ۔
یاتینکم (تمہارے پاس آئیں) ۔ ینال (پہنچے گا۔ ملے گا) ۔ نصیب (حصہ) ۔ یتوفون (موت دیں گے۔ جان نکالیں گے) ۔ تدعون (تم پکارتے ہو) ۔ ضلواعنا (ہم سے غائب ہوگئے۔ گم ہوگئے) ۔ شیدوا (وہ گواہ بن گئے) ۔ امم (امتیں۔ جماعتیں) ۔ خلت (گزر گئی۔ (گزر گئیں) ۔ لعنت (لعنت کی۔ (لعنت کریں گے) ۔ اختھا (اپنے ساتھی کو) ۔ ادرکوا (مل جائیں گے) ۔ ضعف (دو گناہ ) ۔ فضل (بڑائی ) ۔ تکسبون (تم کماتے ہو ) ۔
تشریح ـ آیت نمبر (35 تا 39 ) ۔”
کفار اور مشرکین کو آگاہ کرنے کے لئے ان آیات میں چار بڑی حقیقتوں کو پیش کیا جا رہا ہے ان حقیقتوں کا تعلق اس دنیا کی زندگی سے بھی ہے اور اس کے بعد آنے والی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
دوزخ اور عذاب موت کا ذکر
حاصل مطلب یہ ہے کہ ملک الموت اور ان کے مددگار فرشتے مشرکوں کو مرتے وقت عذاب سے ڈراتے ہیں جس سے ان کو بڑی گھبراہٹ ہوتی ہے۔ فرشتے جھڑک کر ان سے دریافت کرتے ہیں کہ جن کو تم خدا کے سوا دنیا میں پکارتے اور پوجتے تھے وہ اب کہاں ہیں، ان کو بلاؤ کہ تم کو اس عذاب سے بچاویں۔ وہ لوگ جواب دیں گے کہ ہم کو معلوم نہیں کہ وہ کدھر گم ہوگئے، وقت پر ہمارے کچھ کام نہ آئے۔ ہم کو ان سے کچھ توقع اور امید نہیں ہے۔ یہ ان کا موت کے وقت اپنی جانوں پر کفر کا اقرار ہوگا۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے دوزخ کا داروغہ کہے گا کہ داخل ہو آگ میں ہمراہ اور امتوں کے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں۔ پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
[18] یعنی کوئی کام نہ آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
رسولوں کی آمد :
(ف 1) بنی آدم سے مراد آدم (علیہ السلام) کی اولین اولاد ہے ، انہیں ابتدائی تعلیمات کے بعد کہا گیا ہے ، کہ تمہارے پاس اگر رسول اور پیغمبر آئیں تو ماننے میں تامل نہ کرنا اس لئے کہ اللہ کے نزدیک تقوی واصلاح کا معیار یہی ہے کہ ہر صداقت کو قبول کیا جائے ۔
حضور ﷺ کے بعد یہ سلسلہ ختم ہے ، آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضور ﷺ تک نبوت جاری رہی ، اب بسوائے خاتم النبین ، نبوت کے تمام دروازے مسدود ہیں ، کیونکہ دین کامل ہوگیا ، اللہ کی نعمتیں پوری ہو چکیں ، اور اب کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں رہی ۔
اس آیت سے بقائے نبوت کا ثبوت بوجوہ غلط ہے ۔
1۔ بنی آدم سے تعبیر آدم (علیہ السلام) کی اولین اولاد…
Read the full tafseer →36 اور جو لوگ ہمارے احکام کی تکذیب کریں گے اور ہماری آیات کے مقابلہ میں تکبر اور سرکشی کا اظہار کریں گے تو یہی لوگ اصحابِ جہنم ہوں گے۔ وہ اس جہنم کے عذاب میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ف 10۔ اوپر عقائد و اعمال میں ابلیس کے اتباع وموافقت سے ممانعت فرمائی گئی تھی اب یہ بتلاتے ہیں کہ اس مضمون کا خطاب تم کو جدید نہیں بلکہ عالم ارواح میں یہ عہد لے لیا گیا تھا اور وہ وعدہ وعید سنا دیا گیا تھا اب اسی کا عادہ ہے اور اس میں مسئلہ رسالت اور معاد کا اثبات بھی ہوگیا جو کہ اعظم مقاصد سورت ہذا سے ہے۔
1۔ مراد یہ کہ کامل اتباع کرے۔
Read the full tafseer →سرکشوں کے لئے دوزخ کا عذاب تیار کھڑا ہے :
47: فرمایا اولاد آدم کو ہدایت وحی کے وقتاً فوقتاً ظہور کی خبر دی گئی تھی۔ اس قانون کے مطابق اب نبی اعظم وآخر ﷺ کا ظہور ہوا ہے اور وہ اپنے دعویٰ میں سچا ہے یا نہیں ؟ اس کا فیصلہ آنے والے نتائج خود کردیں گے کیونکہ صورت حال نے دو فریق پیدا کر دئیے ہیں ایک داعی قرآن جو کہتا ہے میں اللہ کی طرف سے مامور ہوں ، دوسرا فریق منکروں کا ہے جو اسے جھٹلاتا ہے اور اس کی لائی ہوئی ہدایت کو قبول کرنے سے انکاری ہے اور تکبر کرتے ہوئے اس سے منہ موڑے ہوئے ہے اور ہمارا اعلان واضح ہے کہ جو منہ موڑیں گے اور ہدایت الٰہی قبول کرنے کی بجائے شیطانی راہ اختیار کریں گے وہ دوزخ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
The first and the second verse both mentioned two crimes committed by disbelievers. They took Halal as Haram and made the Haram become Halal for themselves by themselves. The third verse (34) describes their sad end and the punishment they would have in the Hereafter. It was said:
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ
(And for every people there is an appointed time. So, when their appointed time comes, they will not be late for a moment, nor will they go before).
In other words, what is being said here is that those…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
28. Reference to the continuous unremitting punishment of the unbelievers occurs invariably on occasions where the Qur'an narrates the coming down of Adam and Eve from Paradise. (See al-Baqarah 2: 38-9 ; Ta Ha 20: 123-4.) What has been said here should be considered in relation to the fact that at the very start of man's earthly life he was informed of the evil results of unbelief. (See Towards Understanding the Qur'an, vol. 1, AI 'Imran 3: n.69, pp.268-9 - Ed.)
Read the full tafseer →