Explained with ayahs 42–43
اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل انسانی بس میں ہے !
اوپر گنہگاروں کا ذکر ہوا یہاں اب نیک بختوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ جن کے دل میں ایمان ہے اور جو اپنے جسم سے قرآن و حدیث کے مطابق کام کرتے ہیں بخلاف بدکاروں کے کہ وہ دل میں کفر رکھتے ہیں اور عمل سے دور بھاگتے ہیں۔ پھر فرمان ہے کہ ایمان اور نیکیاں انسان کے بس میں ہیں اللہ کے احکام انسانی طاقت سے زیادہ نہیں ہیں۔ ایسے لوگ جنتی ہیں اور ہمیشہ جنت میں ہی رہیں گے۔ ان کے دلوں میں سے آپس کی کدورتیں حد بغض دور کردیئے جائیں گے۔ چناچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ مومن آگ سے چھٹکارا حاصل کر کے جنت و دوزخ کے درمیان ایک ہی پل پر روک دیئے جائیں گے وہاں ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
سورة الْاَعْرَاف 32
یعنی دنیا کی زندگی میں ان نیک لوگوں کے درمیان اگر کچھ رنجشیں، بدمزگیاں اور آپس کی غلط فہمیاں رہی ہوں تو آخرت میں وہ سب دور کردی جائیں گی۔ ان کے دل ایک دوسرے سے صاف ہوجائیں گے۔ وہ مخلص دوستوں کی حیثیت سے جنت میں داخل ہوں گے۔ ان میں سے کسی کو یہ دیکھ کر تکلیف نہ ہوگی کہ فلاں جو میرا مخالف تھا اور فلاں جو مجھ سے لڑا تھا اور فلاں جس نے مجھ پر تنقید کی تھی، آج وہ بھی اس ضیافت میں میرے ساتھ شریک ہے۔ اسی آیت کو پڑھ کر حضرت علی ؓ نے فرمایا تھا کہ مجھے امید ہے کہ اللہ میرے اور عثمان ؓ اور طلحہ ؓ اور زبیر ؓ کے درمیان بھی صفائی کراوے گا۔
اس آیت کو اگر ہم زیادہ وسیع نظر سے دیکھیں تو…
Read the full tafseer →اہل جنت کے دلوں سے باہمی کدورتیں نکال دی جائیں گی
چوتھی آیت میں اہل جنت کے دو خاص حال بیان کئے گئے، ایک یہ کہ (آیت) وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْھٰرُ ”یعنی جنتی لوگوں کے دلوں میں اگر ایک دوسرے کی طرف سے کوئی رنجش یا کدورت ہوگی تو ہم اس کو ان کے دلوں سے نکال دیں گے، یہ لوگ ایک دوسرے سے بالکل خوش بھائی بھائی ہو کر جنت میں جائیں گے، اور بسیں گے“۔
صحیح بخاری میں ہے کہ مومنین جب پل صراط سے گزر کر جہنم سے نجات حاصل کرلیں گے تو ان کو جنت دوزخ کے درمیان ایک پل کے اوپر روک لیا جائے گا، اور ان کے آپس میں اگر کسی سے کسی کو رنجش تھی، یا کسی پر کسی کا حق…
Read the full tafseer →وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْھٰرُ ۚ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ هَدٰىنَا لِھٰذَا ۣ وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَآ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ ۚ لَقَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ ۭ وَنُوْدُوْٓا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ
زبان کا ایک خاص اسلوب : وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ ، اس ٹکڑے میں زبان کا وہ اسلوب ملحوط ہے جس کی ایک سے زیادہ مقامات میں ہم وضاحت کرچکے ہیں کہ بسا اوقات ایک لفظ استعمال ہوتا ہے اور مقصود اس سے اس کا لازم ہوتا ہے۔ مثلاً ارشاد ہوا ہے فالیوم ننسہم کما…
Read the full tafseer →43۔ 1 اللہ تعالیٰ اہل جنت پر انعام فرمائے گا کہ ان کے سینوں میں ایک دوسرے کے خلاف بغض و عداوت کے جذبات ہوں گے، وہ دور کردے گا، پھر ان کے دل ایک دوسرے کے بارے میں آئینے کی طرح صاف ہوجائیں گے، کسی کے بارے میں دل میں کوئی کدورت اور عداوت نہیں رہے گی۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اہل جنت کے درمیان درجات و منازل کا جو تفاوت ہوگا، اس پر وہ ایک دوسرے سے حسد نہیں کریں گے۔ پہلے مفہوم کی تائید ایک حدیث میں ہوتی ہے کہ جنتیوں کو، جنت اور دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا اور ان کے درمیان آپس کی جو زیادتیاں ہونگی، ایک دوسرے کو ان کا بدلہ دلایا جائے گا، حتّی کہ جب وہ بالکل پاک صاف ہوجائیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
24: چونکہ جنت میں ہر قسم کی تکلیف سے خالی ہوگی، اس لیے وہاں باہمی عداوت، کینے اور کدورت کا بھی گذر نہیں ہوگا، اور دنیا میں انسانوں کے درمیان جو رنجشیں رہی ہوں، جنت میں اللہ تعالیٰ وہ بالکل دور فرما دیں گے، اور تمام جنتی محبت، دوستی اور بھائی چارے کے ماحول میں رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
آیت ” نمبر 42 تا 43۔
یہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنی استطاعت کے مطابق عمل کیا (کیونکہ اللہ کی جانب سے صرف وہی فرائض عائد کئے جاتے ہیں جن پر عمل ممکن ہوتا ہے) تو یہ لوگ ان باغوں کی طرف لوٹیں گے جو ان کیلئے تیار کیے گئے ہیں ۔ یہ لوگ اللہ کے فضل وکرم کی وجہ سے ان جنتوں کے مالک ہوں گے اور اس نے ان لوگوں کو ان جنتوں کا وارث ومالک بنا دیا ہے ۔ اور یہ اس لئے کہ انہوں نے ایمان کے بعد عمل صالح کو اپنایا اور یہ باغات اس بات کا صلہ ہیں کہ انہوں نے رسولوں کا اتباع کیا اور شیطان کے مخالف چلے ۔ انہوں نے اللہ رحیم وکریم کے احکام مانے اور شیطان رجیم کی معصیت کی لیکن یہ سب کچھ اللہ کی رحمت سے ممکن ہوا ۔ اگر…
Read the full tafseer →3 (وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ ) 7 ۔ الاعراف :43) سے مراد یا تو یہ ہے کہ باہم جنتیوں میں نعمائے جنت کے متعلق کسی طرح کا حسد و رشک نہ ہوگا، ہر ایک اپنے کو اور دوسرے بھائی کو جس مقام میں ہے دیکھ کر خوش ہوگا۔ بخلاف دوزخیوں کے کہ وہ مصیبت کے وقت ایک دوسرے کو لعن طعن کریں گے۔ جیسا کہ پہلے گزرا۔ اور یا یہ مراد ہے کہ صالحین کے درمیان جو دنیا میں کسی بات پر خفگی ہوجاتی ہے اور ایک دوسرے کی طرف سے انقباض پیش آتا ہے وہ سب جنت میں داخل ہونے سے پیشتر دلوں سے نکال دیا جائے گا۔ وہاں سب ایک دوسرے سے سلیم الصدر ہونگے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا۔ " مجھے امید ہے کہ میں اور عثمان طلحہ…
Read the full tafseer →آیت 43 وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِہِمْ مِّنْ غِلٍّ
اہل ایمان بھی آخر انسان ہیں۔ باہمی معاملات میں ان کو بھی ایک دوسرے سے گلے اور شکوے ہوسکتے ہیں اور دلوں میں شکوک و شبہات جنم لے سکتے ہیں۔ دینی جماعتوں کے اندر بھی کسی مامور کو امیر سے ‘ امیر کو مامور سے یا ایک رفیق کو دوسرے رفیق سے شکایت ہوسکتی ہے۔ کچھ ایسے گلے شکوے بھی ہوسکتے ہیں جو دنیا کی زندگی میں ختم نہ ہو سکے ہوں گے۔ ایسے گلے شکو وں کے ضمن میں قرآن حکیم میں کئی مرتبہ فرمایا گیا کہ اہل جنت کو جنت میں داخل کرنے سے پہلے ان کے دلوں کو ایسی تمام آلائشوں سے پاک کردیا جائے گا اور وہ لوگ باہم بھائی بھائی بن کر ایک دوسرے کے رو برو بیٹھیں گے :…
Read the full tafseer →42 جنت میں داخلے سے پہلے باہمی کدورتوں کا خاتمہ :۔ یہاں لفظ غل استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں خفگی میل کدورت کینہ حسد وغیرہ۔ اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ جنت میں داخل ہونے والوں میں سے اگر کسی کے دل میں دوسرے کے متعلق کچھ ملال، خفگی، میل و کدورت اس دنیا میں رہی ہوگی اور کسی ناگوار واقعہ کی یاد کسی کے دل میں موجود ہوگی تو جنت میں داخلے سے پیشتر ایسے ملال کو اللہ تعالیٰ دلوں سے محو کردیں گے انہیں کچھ یاد ہی نہ رہے گا اور وہ ایک دوسرے کے متعلق بالکل صاف دل ہو کر جنت میں داخل ہوں گے اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جنت کے سو درجے ہیں اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق درجہ ملے گا اور یہ ممکن ہے…
Read the full tafseer →57 ۔ (اور اس رفع کدورت کے بعد وہ ایک دوسرے کے ساتھ کامل لطف و انبساط کے ساتھ ہنسی خوشی رہیں گے) ابھی اوپر ذکر تھا اہل جہنم کے باہم بعض ونفرت کا، اب اس کے مقابل اہل جنت کے سلسلہ میں ذکر ہورہا ہے ان کے باہمی رفق والفت کا۔۔۔ خوشدل دوستوں کی یکیجائی ہر شخص دنیا میں تجربہ رکھتا ہے کہ بجائے خود کتنی بڑی نعمت ہے۔ حضرت علی ؓ فرماتے تھے کہ انشاء اللہ میرا اور عثمان وطلحہ وزبیر ؓ کا معاملہ ایسا ہی ہوگا (کبیر، مدارک وغیرہ) آیت سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ دنیا میں اہل حق کے درمیان بھی کدورت ومخالفت کی نوبت پہنچ سکتی ہے خواہ رنجش کی بنیاد محض طبعی ہومرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جو کینہ طبعی غیراختیاری ہو وہ…
Read the full tafseer →ونزعنا ما فی۔۔۔۔ غل، غِلّ اس کینے اور بغض کو کہا جاتا ہے جو سینوں میں مستور ہو اللہ اہل جنت پر یہ انعام فرمائیگا کہ دنیا کی زندگی میں نیک لوگوں کے درمیان اگر کچھ رنجشیں اور کدورتیں اور غلط فہمیاں رہی ہوں گی تو آخرت میں وہ سب دور کردی جائیں گی ان کے قلوب ایک دوسرے سے صاف اور بےغبار ہوجائیں گے، اور وہ مخلص دوستوں کی طرف جنت میں داخل ہوں گے۔
بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اہل جنت کے درمیان درجات و منازل کا جو تفاوت ہوگا اس پر وہ ایک دوسرے سے حسد نہ کریں گے پہلے مفہوم کی تائید ایک حدیث سے ہوتی ہے کہ جنتیوں کو جنت اور دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائیگا اور ان کے درمیان آپس کی جو…
Read the full tafseer →ونزعنا ما فی صدروہم من غل اور جو خلش ان کے دلوں میں باہم تھی ہم اس کو نکال دیں گے نزعنابصیغۂ ماضی ہم ضرور نکال دیں گے۔ غلَّ وہ حسد اور دشمنی جو ان کے آپس میں دنیا میں تھی۔ یہاں تک کہ ان کے آپس میں دوستی ہی دوستی اور محبت ہی رہ جائے گی اگر اللہ ایک کو کسی خصوصی نعمت سے سرفراز فرمائے گا اور دوسرے کو وہ چیز نہیں عطا کی گئی ہوگی تو اس کو اپنے بھائی سے حسد نہ ہوگا۔ (گویا جذبۂ حسد ہی ختم ہوجائے گا) سعید بن منصور ‘ ابونعیم ‘ ابن ابی شیبہ ‘ طبرانی اور ابن مردویہ نے بیان کیا کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ میں اور عثمان ؓ اور طلحہ ؓ انہی لوگوں میں سے ہوں گے (یعنی وہ خلش جو دنیا میں باہم ہمارے…
Read the full tafseer →(43) دنیا میں جو کچھ ان کے دلوں میں بغض، حسد اور دشمنی تھی، سب کو ہم نکال دیں گے، آخرت میں ان کے محلات اور تختوں کے نیچے سے شہد، دودھ، پانی، شراب کی نہریں جاری ہوں گی۔
جب یہ حضرات اپنے مقامات اور حیات جاودانی کے چشمے پر پہنچیں گے تو کہیں گے اللہ کا بہت احسان ہے جس نے اس مقام اور چشمہ پر پہنچایا اور تفسیر بھی کی گئی ہے کہ جب یہ حضرات ایمان کی بدولت اس اعزاز واکرام کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کا بہت شکر و احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس دین اسلام کی ہدایت عطا فرمائی اور دین اسلام پر ہماری کبھی رسائی نہ ہوتی اگر ہمیں اللہ تعالیٰ ہدایت نہ فرماتے۔
واقعی پیغمبر سچائی اور ثواب کرامت کی خوشخبری…
Read the full tafseer →وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ : ابوہریرہ ؓ سے مروی اہل جنت کے اوصاف میں ایک لمبی حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”ان کے دل ایک آدمی کے دل کی طرح ہوں گے، نہ ان میں کوئی اختلاف ہوگا نہ باہمی بغض۔“ [ بخاری، بدء الخلق، باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ : 3246 ]
دنیا میں اگر ان کے درمیان کوئی بغض تھا تو وہ صاف ہونے کے بعد جنت میں داخلہ ہوں گے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مومن آگ سے بچ کر نکلیں گے تو انھیں جنت اور آگ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا، پھر وہ ایک دوسرے سے ان زیادتیوں کا قصاص لیں گے جو دنیا میں ان سے ہوئیں یہاں تک کہ جب وہ تراش خراش کروا کر بالکل صاف ستھرے ہوجائیں گے تو انھیں…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 43
اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کے بارے میں ذکر فرمایا ہے جن کے ساتھ وہ اہل جنت پر انعام فرمائے گا ( اور وہ) ان کے سینوں سے کینہ کو نکال دینا ہے۔ اور النزع کا معنی الاستخراج ( نکالنا) ہے اور الغل کا معنی وہ کینہ ہے جو سینے میں مخفی اور پوشیدہ ہوتا ہے۔ اور اس کی جمع غلال ہے، یعنی ہم جنت میں اس کینہ وغیرہ کو ختم کردیں گے جو دنیا میں ان کے دلوں میں مخفی تھا۔ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” جنت کے دروازے پر کینہ بٹھائے ہوئے اونٹ کی طرح ہوگا تحقیق اللہ تعالیٰ نے اسے مومنین کے دلوں سے ناکالا ہوگا “۔
اور حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : میں امید کرتا ہوں کہ میں، عثمان، طلحہ اور زبیر ؓ…
Read the full tafseer →(1) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے درمیان اللہ کی قسم اہل بدر تھے کہ یہ آیت ” ونزعنا ما فی صدورھم من غل “ (انہی کے بارے میں) نازل ہوئی۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ونزعنا ما فی صدورھم من غل “ سے مراد ہے دشمنی۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی کہ نبی ﷺ نے فرمایا اہل جنت کو روکا جائے گا پل صراط سے پار ہونے کے بعد یہاں تک کہ بعض سے بعض کے ساتھ دنیا میں کی جانے والی زیادتیوں کا مواخذہ کیا جائے گا۔ پھر وہ جنت میں…
Read the full tafseer →وَنَزَعْنَا [ اور ہم کھینچ نکالیں گے ] مَا [ اس کو جو ] فِيْ صُدُوْرِهِمْ [ ان کے سینوں میں ہے ] مِّنْ غِلٍّ [ کسی قسم کی کوئی کدورت ] تَجْرِيْ [ بہتی ہوں گی ] مِنْ تَحْتِهِمُ [ ان کے نیچے سے ] الْاَنْھٰرُ ۚ [ نہریں ] وَقَالُوا [ اور وہ لوگ کہیں گے ] الْحَمْدُ [ تمام شکر و تعریف ] لِلّٰهِ [ اللہ ہی کے لیے ہے ] الَّذِيْ [ جس نے ] هَدٰىنَا [ پہنچایا ہم کو ] لِھٰذَا ۣ [ یہاں تک ] وَمَا كُنَّا [ اور ہم نہیں تھے ] لِنَهْتَدِيَ [ کہ ہم ہدایت پاتے ] لَوْلَآ [ اگر نہ ہوتا ] اَنْ [ کہ ] هَدٰىنَا [ ہم کو ہدایت دیتا ] اللّٰهُ ۚ [ اللہ ] لَقَدْ جَاۗءَتْ [ آچکے تھے ] رُسُلُ رَبِّنَا [ ہمارے رب کے رسول ]…
Read the full tafseer →اہل جنت کی نعمتوں کا اجمالی تذکرہ فرمانے کے بعد ان کے تشکر کا تذکرہ فرمایا کہ جنت میں جنتی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے یوں کہیں گے کہ (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھَدٰینَا لِھٰذَا وَ مَا کُنَّا لِنَھْتَدِیَ لَوْ لَآ اَنْ ھَدٰینَا اللّٰہُ ) (سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہم کو یہاں تک پہنچا دیا اور ہم راہ پانے والے نہ تھے اگر اللہ ہم کو ہدایت نہ دیتا)
دنیا میں جو اللہ تعالیٰ نے ایمان اور اعمال صالحہ کی ہدایت دی یہ اس کا فعل ہے۔ اگر وہ ہدایت نہ دیتا تو کسی کو بھی ہدایت نہ ملتی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس دنیاوی ہدایت کو دخول جنت کا ذریعہ بنا دیا۔ اللہ کے ذمہ کسی کا کچھ واجب نہیں ہے۔
ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
نداء چہارم
تذکیر عہد قدیم باطاعت خداوند کریم وبیان نعیم وجحیم
قال اللہ تعالیٰ یبنی ادم اما یاتینکم رسل منکم۔۔۔ الی۔۔۔ اور ثتموھا بماکنتم تعملون۔
(ربط) ( گزشتہ آیات میں بنی آدم کے لیے تین نداؤں کا بیان ہوا جن میں عقائد و اعمال میں ابلیس کے اتباع اور موافقت سے اور احکام الہیہ کی مخالفت سے ممانعت فرمائی اب آئندہ آیات میں نداء چہارم کا ذکر ہے جس سے بنی آدم کو اپنا عہد قدیم یاد دلاتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ تم کو اس مضمون کا خطاب کوئی جدید امر نہیں بلکہ عالم ارواح میں تم سے یہ عہد لے لیا گیا تھا کہ دیکھو ہم دنیا میں اپنے رسول بھیجیں گے اور ان کے ذریعہ سے ہم تم کو راہ ہدایت اور صراط مستقیم سے آگاہ…
Read the full tafseer →48 جنت میں داخل ہونے کے بعد اہل جنت اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی حمد و ثنا کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
ربط آیات
عالم ارواح میں جب اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی تمام روحوں سے خطاب کیا تھا تو اس وقت انہیں صاف صاف بتلا دیا تھا کہ اگر تم اپنے جد امجد آدم (علیہ السلام) کے ٹھہرنے والی جنت میں دوبارہ جانے کے خواہشمند ہو تو اس کا طریق کار یہ ہے کہ جب دنیا میں تمہارے پاس اللہ کے رسول آئیں گے تو اس وقت جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا یعنی کفر ، شرک ، نفاق ، بدعقیدگی اور برائیوں سے بچ جائے گا اور نیک اعمال انجام دے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ اپنے باپ کی وراثت جنت کو دوبارہ کرلیں گے اس کے برخلاف جو لوگ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کریں گے اور غرور اور تکبر میں مبتلا ہوں گے وہ…
Read the full tafseer →وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَہَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا 0 ۭ قَالُوْا نَعَمْ 0 ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَہُمْ اَنْ لَّعْنَۃُ اللہِ عَلَي الظّٰلِــمِيْنَ 44 ۙ
صحب
الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40]
( ص ح ب ) الصاحب
۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
ترکیب : والذین مبتداء اولئک الخ خبر لاتکلف جملہ معترضہ ما موصولہ مع صلہ مفعول نزعنا من غل اس کا بیان تجری الخ جملہ حال صدورھم کی ضمیر سے والعامل معنی الاضافۃ۔ وما کنا الخ جملہ حال ہے ان ھدانا بتاویل مصدر محل رفع میں ہے مبتداء ہو کر کس لئے کہ لولا کے بعد جو اسم واقع ہوا ہے وہ ایسا ہی ہوتا ہے ‘ جو اب لولا محذوف دلالت کرتا ہے اس پر لنہتدی ان تلکم ان مفسرہ ہے اور مخففہ بھی ہوسکتا ہے۔ تب اس کا اسم محذوف ہوگا اور اس کے بعد کا جملہ خیر ہوگا تقدیرہ ای نودوا انہ تلکم الجنۃ اول صورت میں بیان ہوگا نداء کا۔
تفسیر : جبکہ اہل شقاوت کا مآل کار بیان فرما چکا تو اس کے بعد اہل سعادت کا حال بیان فرماتا ہے گرچہ…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھِمُ الْاَنْھٰرُ ج وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھَدٰنَا لِھٰذَا قف وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِیْ لَوْ لَآ اَنْ ھَدٰنَا اللہ ُ ج لَقَدْ جَآئَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ ط وَ نُوْدُوْٓا اَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ اُوْرِثْتُمُوْھَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔
(الاعراف : 43)
” اور ان کے سینے کی ہر خلش ہم نکال دیں گے ‘ ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ کہیں گے ! تعریف ہے اس اللہ کے لیے ‘ جس نے ہمیں یہاں تک پہنچایا۔ اگر اللہ نے ہمیں ہدایت نہ بخشی ہوتی تو ہم تو ہدایت پانے والے نہ بنتے۔ ہمارے رب کے رسول واقعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
ان کے دلوں کو پاک اور صاف کردیا جائے گا۔ یہ آپس میں اس طرح شیروشکر اور الفت و محبت سے رہیں گے جیسے دنیا میں ان کے درمیان کوئی رنجش پیدا ہی نہ ہوئی تھی۔ جنتی باہمی محبت اور جنت کے انعام وکرام پا کر اپنے رب کے ممنون اور شکر گزار ہوں گے اور کہیں گے کہ سب تعریفات اس ذات باری کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنی ہدایت سے سرشار اور سرفراز فرمایا۔ اگر ذات کبریا ہم کو ہدایت سے سرفراز نہ کرتی تو ہم کبھی ہدایت یافتہ نہ ہوتے۔ یقیناً یہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی جدوجہد کا صلہ ہے جو انہوں نے حق بتلانے اور سمجھانے کے لیے فرمائیں۔ جنتی ان خیالات کا اظہار کررہے ہوں گے تو انہیں ایک آواز سنائی دے گی جس میں خوشخبری…
Read the full tafseer →آیت 43: وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍّ (اور جو کچھ ان کے دلوں میں غبار تھا ہم اس کو دور کردیں گے) وہ کینہ جو دنیا میں انکے مابین تھا انکے مابین محبت و الفت باقی رہ جائے گی حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ مجھے امید ہے کہ میں عثمان ‘ طلحہ، زبیر ؓ انہیں میں سے ہونگے۔ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھِمُ الْاَنْھٰرُ (ان کے نیچے نہریں جاری ہونگی) یہ ہم ضمیر سے حال ہے جو صدورہم میں ہے اور اس میں اضافت کا معنی عامل ہے۔
وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھَدٰنَا لِھٰذَا (اور وہ لوگ کہیں گے اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان ہے جس نے ہم کو اس مقام تک پہنچایا) اس لئے کہ اس میں عظیم کامیابی کا ذریعہ ہے اور وہ…
Read the full tafseer →(43) (ونزعنا ما فی صدورھم من غل) کھوٹ اور دشمنی تھی ہم ان کو بھائی بنادیں کہ تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے آپس میں کسی سے حسد نہ ہوگا (تجزی من تحتھم الانھر) حسن (رح) نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ آیت کریمہ ” ونزعنا مافی صدورھم من غل اخوانا علی سرر متقابلین “ اللہ کی قسم ہم اہل بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ میں، عثمان، طلحہ، زبیر ؓ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (نکال لیں ہم جو کچھ ان کے دلوں میں خفگی تھی)
پل صراط عبور کرنے کے بعد جنتیوں کے سینوں سے بغض نکال دیا جائے گا۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
(42 ۔ 43) ۔ اوپر قرآن کی آیتوں کے جھٹلانے والوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں قرآن پر ایمان لانے والوں نیک عمل کرنے والوں کا ذکر فرمایا اور یہ بھی جتلایا کہ ایمان لانا اور نیک عمل کرنا کچھ مشکل نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی طاقت سے باہر تکلیف نہیں دیتا پھر فرمایا جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہی جنت میں ہمیشہ رہیں گے ان کے دلوں میں جو کچھ رنجش ہوگی وہ جنت میں جانے سے پہلے نکال دی جاوے گی صاف دل ہو کر جنت میں جاویں گے قتادہ (رح) کا قول ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ مجھ کو امید ہے کہ ان لوگوں میں میں اور عثمان ؓ اور طلحہ ؓ اور زبیر ؓ ہوں گے حضرت علی ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کی لڑائی جس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
آیت 43
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے نافرمان ظالموں کو دیئے جانے والے عذاب کا ذکر فرمایا، تب اس نے اہل اطاعت بندوں کے ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (والذی امنوا) ” اور جو لوگ ایمان لائے۔ “ یعنی جو دل سے ایمان لائے (وعملوا الصلحت) ” اور عمل نیک کرتے رہے۔ “ یعنی اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے۔ پس اس طرح وہ ایمان و عمل، اعمال ظاہرہ اور اعمال باطنہ کو جمع کرتے ہیں اور بیک وقت فعل واجب اور ترک محرمات پر عمل کرتے ہیں۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد (وعملوا الصلحت) ایک عام لفظ ہے جو واجب اور مستحب تمام نیکیوں کو شامل ہے، اور بسا اوقات بعض نیکیاں بندے کی مقدرت سے باہر ہوتی ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–54
فواحش سے مراد
قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھا وما بطن ولاثم والبغی بغیر الحق۔ اے محمد ﷺ ، ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں، بےشرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی) مجاہد کا قول ہے کہ فواحش سے زنا مراد ہے یہ سری خواحش ہے اور برہنہ حالت میں طواف کرنا جہری فواحش ہے۔ ایک قول ہے کہ بےشرمی کے تمام کام فواحش ہیں۔ شروع میں اجمالاً ان کا ذکر کیا پھر ان کی مختلف صورتوں کی تفصیل بیان کردی اور یہ فرمایا کہ گناہ حق کے خلاف زیادتی اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا فواحش کی صورتیں ہیں۔ یعنی لوگوں پر ناحق اور بزور قوت غلبہ جمانے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
58 اہل جنت کے دلوں کی صفائی کے اہتمام کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد میں تصریح فرما دی گئی کہ اہل جنت کے دلوں سے ہر طرح کی کدورت کو نکال دیا جائے گا۔ یعنی ہر ایسی رنجش و کدورت کو جو دنیا میں ان کے دلوں میں پیدا ہوئی ہوگی۔ سو وہ سب صاف کردی جائے گی تاکہ جنت کی اس آرام و راحت کی زندگی میں ان کے لئے کسی تنگی اور تکلیف کا کوئی شائبہ باقی نہ رہے۔ حضرت علی ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ آپ ؓ نے فرمایا کہ انشاء اللہ میں، عثمان اور طلحہ ۔ ؓ اجمعین ۔ انہی لوگوں میں سے ہوں گے (جامع البیان، مراغی وغیرہ) ۔ بعض روایات میں وارد ہے کہ اہل جنت جب جنت کی طرف جائیں گے تو جنت کے دروازے کے پاس ایک درخت پائیں گے جس کے نیچے دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–43
سزا اور جزا کی خبر
تشریح : پچھلی آیات میں بہترین زندگی گزارنے کے اصول، قوانین اور طریقے بتائے گئے ہیں۔ ان آیات میں دوبارہ صالحین اور مشرکین کے بارے میں وضاحت کی جا رہی ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی شک باقی نہ رہ جائے کیونکہ اکثر لوگ یہی کہتے ہیں کہ جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا۔ اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ بھئی مرنے کے بعد کس طرح ہم زندہ ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو باربار سمجھا رہے ہیں کہ کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔ تم کھائو، پیو اور مزے اڑالو مگر یاد رکھو موت کا وقت مقرر ہے ایک سیکنڈ بھی اس سے آگے پیچھے نہ ہوگا۔ اس وقت تم اپنے برے اعمال پر پچھتائو گے تو کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ عمل کا وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–47
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 40 تا 47 ۔
اسرار و معارف :
دعا پر عدم اعتماد کی وجہ :
جو لوگ ہمارے ارشدات کو قبول نہیں کرتے اور اکڑ دکھاتے ہیں ان کا سارا کروفر مھض دکھاوا ہی رہ جاتا ہے کہ ان کے سارے کمالات زیر آسمان ہی رہتے ہیں اور ان پر آسمانوں کے دروازے نہیں کھلتے۔ اور نہ ہی وہ جنت میں داخل ہوسکیں حتی کہ اونٹ سوئی کے ن کے سے گزر جائے یعنی جس طرح یہ امر محال ہے کفار کے لیے دخول جنت بھی محال ہے۔ مفسرین کرام نے آسمانوں کے دروازے نہ کھلنے سے متعدد امور مراد لیے ہیں اول دعا کہ ان کی دعا کو بارگاہ الوہیت تک رسائی کی اجازت نہیں ملتی اور یہ بھی بہت بڑی محرومی ہے غالباً یہ بھی ایک وجہ ہے کہ دعا پر بہت کم لوگ…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی ان کے دل ایک دوسرے کی طرف سے بالکل صاف اور پاک کردیئے گائیں گے اور ان میں سے کوئی شخص دوسرے کو خلاف نفرت یا حسد کر جذبات نہیں رکھے گا حضرت علی ؓ فرماتے ہیں مجھے امید ہے کہ میں عثمان طلحہ اور زبیران لوگوں میں سے ہوں گے جن کا اس آیت میں ذکر ہے ّکذافی المو ضح)6 حضرت ابوہریر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر جہنمی جنت میں اپنا ٹھکا نہ یکھے گا اوحسرت کرے گا کہ کاش اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت دیتا اور ہر جنتی جب جہنم میں اپنا ٹھکانہ دیکھے گا شکر کرے گا کہ اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت نہ دیتا تو میرا یہ ٹھکاناہو تا۔ ( ابن جریر۔ نسائی)7 یہ بات اہل جنت کہیں گے کہ وقعی ان کی بات سچی تھی کہ…
Read the full tafseer →(7:43) نزعنا۔ ماضی معروف۔ جمع متکلم۔ نزع۔ مصدر۔ (باب فتح) ہم نکال دیں گے ۔ چھین لیں گے۔ ملاحظہ ہو آیت 7:27
غل۔ اسم فعل۔ دلی کدورت۔ قلبی عداوت۔ غل یغل (باب ضرب) کینہ سے سینہ کا پر ہونا۔ غلا و غلیلا مصدر غل یغل غلولا۔ دھوکہ دینا۔
تحتم۔ ان کے نیچے۔ تحت قصورھم۔ ان کے محلوں کے نیچے ۔ یا ان کے حکم پر۔ یعنی نہریں ان کے حکم پر چلیں گئ۔ فرعون نے کہا تھا۔ وھذہ الانھر تجری من تحتی (43:52) بیضاوی نے اس کے معنی لکھے ہیں۔ تحت قصری۔ تحت امری۔ اوبین یدی۔ نوروا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ نداء مصدر۔ باب مفاعلہ۔ ان کو پکارا جائیگا (ماضی بمعنی مستقبل)
اور ثتموھا۔ تم اس کے وارث بنائے گئے۔ تمہیں وہ میراث میں دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
لغات القرآن آیت نمبر (40 تا 43 ) ۔
لا تفتح (کھولے نہیں جائیں گے) ۔ ابواب السمآء (آسمان کے دروازے ) ۔ لا یدخلون ( داخل نہ ہوں گے ) ۔ حتی یلج (جب تک داخل نہ ہوجائے) ۔ الجمل (اونٹ ) ۔ فی سم الخیاط (سوئی کے ناکے میں ) ۔ مھاد (آرام کی جگہ۔ بچھونا ) ۔ غواش (اوڑھنے کی چیز) ۔ نزعنا ( ہم نے کھینچ لیا۔ ہم کھینچ لیں گے) ۔ غل (کینہ ۔ بغض ) ۔ نودوا (آواز دی (جائے گی) ۔ اور ثتمو ھا (جس کے تم مالک بنائے گئے) ۔
تشریح : آیت نمبر (40 تا 43 ) ۔ ” ان آیتوں میں اہل جنت اور اہل دوزخ کے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اللہ کی آیتوں کو قول اور عمل سے جھٹلانا اور آیات کو پیش کرنے والے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مقابلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
مطلب یہ ہے جس وقت جنتی اور دوزخی داخل ہوچکیں گے اور اپنی اپنی جگہ ٹھہر جاویں گے تو جنتی لوگ دوزاخیوں کو حسرت دلانے کی غرض سے پکاریں گے اور کہیں گے کہ ہم نے تو اپنے رب کا وعدہ سچا پایا جو اس نے اپنے رسولوں کی معرفت کیا تھا۔ تم نے بھی اپنے رب کا وعدہ سچا پایا کہ تم اپنے اعمال سزا کو پہنچے یا نہیں۔ اس وقت دوزخی سخت نادم وقائل ہو کر کہیں گے کہ ہاں ہم نے بھی اللہ کا وعدہ سچا پایا۔ غرضیکہ اس گفتگو کے بعد ایک پکارنے والا پکارے گا کہ لعنت خدا کی ان ظالموں پر جو خدا کی راہ سے لوگوں کو روکتے اور سیدھے راستے پر لوگوں کو چلنے نہیں دیتے تھے اور اس میں کجی چاہتے تھے اور آخرت کا انکار کرتے اور حساب وکتاب کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
[22] یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور بدیاں دونوں تول میں برابر ہوں گی۔ اس وجہ سے ان کا فیصلہ ابھی
معلق ہوگا کہ دوزخ میں بھیجے جائیں یا جنت میں۔
Read the full tafseer →(ف 1) غل کے معنی باہمی عداوت ودشمنی رکھنے کے ہیں ، مقصد یہ ہے کہ جنت کی زندگی میں دلوں میں غبار نہیں رہے گا دل صاف ہوں گے اور ہر شخص سچی اور معصوم زندگی بسر کرے گا ۔
(آیت) ” نزعنا ما فی صدورھم “۔ سے غرض یہ ہے ، کہ دنیا میں بھی دل آپس میں صاف رہنے چاہئیں اگر یہاں کدورت سے عداوت وبغض کی آگ سینے میں بھڑک رہی ہے ، تو پھر ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ خدا کے قرب کی استعداد ہم میں موجود نہیں ۔
Read the full tafseer →43 اور ہم ان اصحاب جنت کے دلوں میں سے باہمی دنیوی رنجش اور خفگی سلب کرلیں گے ان اہل جنت کی حالت یہ ہوگی کہ ان کے پائیں نہریں بہ رہی ہوں گی اور وہ یوں کہیں گے اس خدا کا شکر ہے اور سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہم کو اس مقام تک پہنچانے میں ہماری رہنمائی فرمائی ہم کو ایمان اور نیک اعمال کی تعلیم اور توفیق دے کر ہمیں یہاں تک پہنچایا اور اگر اللہ تعالیٰ ہماری رہنمائی نہ فرماتا تو ہم کبھی بھی راہ یافتہ نہ ہوتے اور ہم کو اس مقام تک پہنچنا نصیب نہ ہوتا بیشک ہمارے پروردگار کے فرستادے ہمارے پاس سچی اور حق باتیں لے کر آئے تھے اور جو کچھ وہ پیغمبر فرماتے تھے وہ سب سچ ثابت ہوا اور ان اہل جنت کو آواز…
Read the full tafseer →ف 1۔ اس میں یہ بھی آگیا یہاں تک پہنچنے کا جو طریقہ تھا ایمان و اعمال وہ ہم کو بتلایا اور اس پرچلنے کی توفیق دی۔
2۔ یہ نداء کرنے والا ایک فرشتہ ہوگا جیسا درمنثور میں بروایت ابن ابی حاتم کے ابی معاذ بصری سے مرفوعا منقول ہے۔
3۔ بماکنتم تعملون سے ظاہرا اعمال کا سبب دخول جت ہونا معلوم ہوتا ہے اور حدیث میں آیا ہے کہ اعمال کے سبب کوئی جنت میں نہ جائے گا بلکہ رحمت الہی کے سبب جائیں گے اصل یہ ہے کہ آیت میں سبب ظاہری مراد ہے اور حدیث میں سبب حقیقی پس ظاہری کے اثبات سے اور حقیقی کی نفی میں کوئی تعارض نہیں۔
Read the full tafseer →ایمان والوں کے سینہ میں اگر کوئی ” ہیک “ ہوگی تو وہ ہم نکال دیں گے :
54: اہل ایمان جنت میں ایک دوسرے سے پرتپاک ملیں گے اور ایک دوسرے سے محبت ، پیار اور الفت کا اظہار کریں گے اور خوش آمدید کہیں گے۔ دنیا میں بعض غلط فہمیوں کے باعث بعض اوقات نیک اور پارسا لوگوں کے درمیان بھی تعلقات کشیدہ ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کے متعلق کدورت وملال پیدا ہوجاتا ہے کیونکہ ان کی یہ مخالفت اور باہمی رنجشیں نیک نیتی پر مبی ہوتی ہیں یا غلط فہمی پر اور اس طرح کی کمزوریاں خاصہ انسانیت ہیں جس طرح دنیا میں ان کا رہنا لازم ہے اس طرح آخرت میں ان کا نکل جانا ضروری ہے فرمایا اس طرح کی کوئی کدورت ان کے سینوں میں باقی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
The third verse (42) mentions those who dutifully follow Divine injunctions as they are the people of Paradise and there they shall live forever.
Injunctions of the Shari'ah : Consideration of Convenience
But, along with the condition set forth for such people; that they believe and do good deeds - said there, in all mercy, was: لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (Allah does not obligate anyone beyond his capacity). The purpose is to emphasize that good deeds - which is a condition for entry into Paradise - is really not something so difficult as would be beyond the ability of a man or…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
32. If there develops any rancour or ill-will among good people during the course of their worldly lives, such rancour and will be removed in the Hereafter. Their hearts will be purged of all hostile feelings and they will enter Paradise as cordial friends. They will not feel envious towards those who had formerly been opposed or hostile to them that they share with them the bounties of Paradise. Significantly, 'Ali once recited this very verse and remarked: 'I wish that I and 'Uthman and Talhah and al-Zubayr will be among those about whom God has said: "And We shall take away all rancour…
Read the full tafseer →