بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ سے زیادہ غیرت والا کوئی نہیں۔ سورة انعام میں چھپی کھلی بےحیائیوں کے متعلق پوری تفسیر گذر چکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر گناہ کو حرام کردیا ہے اور ناحق ظلم وتعدی، سرکشی اور غرور کو بھی اس نے حرام کیا ہے پس اثم سے مراد ہر وہ گناہ ہے جو انسان آپ کرے اور بغی سے مراد وہ گناہ ہے جس میں دوسرے کا نقصان کرے یا اس کی حق تلفی کرے۔ اسی طرح رب کی عبادت میں کسی کو شریک کرنا بھی حرام ہے اور ذات حق پر بہتان باندھنا بھی۔ مثلاً اس کی اولاد بتانا وغیرہ۔ خلاف واقعہ باتیں بھی جہالت کی باتیں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (فاجتنبوا الرجس من الا وثان) الخ، بتوں کی نجاست سے بچو،…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 24
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة انعام، حواشی 127 و 131۔
سورة الْاَعْرَاف 25
اصل میں لفظ اِثْمٌ استعمال ہوا ہے جس کے اصل معنی کوتاہی کے ہیں۔ اٰثِمَہ اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو تیز چل سکتی ہو مگر جان بوجھ کو سست چلے۔ اسی سے اس لفظ میں گناہ کا مفہوم پیدا ہوا ہے، یعنی انسان کا اپنے رب کی اطاعت و فرماں برداری میں قدرت و استطاعت کے باوجود، کوتاہی کرنا اور اس کی رضا کو پہنچنے میں جان بوجھ کر قصور دکھانا۔
سورة الْاَعْرَاف 26
یعنی اپنی حد سے تجاوز کرکے ایسے حدود میں قدم رکھنا جن کے اندر داخل ہونے کا آدمی کو حق نہ ہو۔ اس تعریف کی رو سے وہ لوگ بھی باغی قرار پاتے ہیں جو بندگی کی حد سے نکل…
Read the full tafseer →اس کے بعد دوسری آیت میں کچھ ان چیزوں کا بیان ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ ان کو ترک کرنے ہی سے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے، اور اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ لوگ دوہری جہالت میں مبتلا ہیں، ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی عمدہ اور نفیس چیزوں کو اپنے اوپر بلاوجہ حرام کرکے ان نعمتوں سے محروم ہوگئے، اور دوسری طرف جو چیزیں حقیقةً حرام تھیں، اور جن کے استعمال سے اللہ تعالیٰ کا غضب اور آخرت کا عذاب نتیجہ میں آنے والا ہے، ان کے استعمال میں مبتلا ہو کر آخرت کا وبال خرید لیا، اور اس طرح دنیا و آخرت دونوں جگہ نعمتوں سے محروم ہو کر خسران دنیا و آخرت کا مورد بن…
Read the full tafseer →قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ الایہ، اب یہ بتایا کہ خدا نے حرام کیا چیزیں قرار دی ہیں اور ان کے بتانے کا اسلوب ایسا اختیار فرمایا جس سے یہ بات آپ سے آپ نکلتی ہے کہ جو چیزیں خدا نے حرام ٹھہرائی ہیں وہ تو تم نے نہ صرف جائز بلکہ دین بنا رکھی ہیں اور اچھی بھلی جائز و طیب چیزوں کو حرام کر کے دینداری کا ڈھونگ رچائے ہوئے ہو۔
ان حرام چیزوں میں ‘ فواحش ہیں، عام اس سے کہ وہ ظاہری ہوں یا باطنی، ظاہری اور باطنی کی وضاحت انعام آیت 151 کے تحت ہوچکی ہے۔
اس کے بعد اثم و بغی ہے۔ ان دونوں لفظوں کی تحقیق بھی پیچھے گزر چکی ہے۔ بغی، کے معنی تعدی اور سرکشی کے ہیں یعنی خدا کے حدود و احکام سے تعدی و…
Read the full tafseer →33۔ 1 1 اعلانیہ فحش باتوں سے مراد بعض کے نزدیک طوائفوں کے اڈوں پر جا کر بدکاری اور پوشیدہ سے مراد کسی ' گرل فرینڈ ' سے خصوصی تعلق قائم کرنا ہے، بعض کے نزدیک اول الذکر سے مراد محرموں سے نکاح کرنا ہے جو ممنوع ہے، اس میں ہر قسم کی ظاہری بےحیائی کو شامل ہے، جیسے فلمیں، ڈرامے، ٹیوی، وی سی آر فحش اخبارات و رسائل، رقص و سرور اور مجروں کی محفلیں، عورتوں کی بےپردگی اور مردوں سے ان کا بےباکانہ اختلاط، مہندی اور شادی کی رسموں میں بےحیائی کے کھلے عام مظاہرہ وغیرہ یہ سب فواحش ظاہرہ ہیں
33۔ 2 گناہ اللہ کی نافرمانی کا نام ہے اور ایک حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا گناہ وہ ہے جو تیرے سینے میں کھٹکے اور لوگوں کے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
18: یوں تو کسی بھی شخص کی طرف کوئی غلط بات منسوب کرنا ہر اعتبار سے ایک ناجائز اور غیر اخلاقی فعل ہے لیکن اگر یہ جرم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا جائے تو اس کی سنگینی انسان کو کفر تک لے جاتی ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرتے وقت انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے اور جب تک انسان کو یقینی علم حاصل نہ ہو، ایسی نسبت کا اقدام ہرگز نہیں کرنا چاہیے، عرب کے بت پرستوں نے اپنی طرف سے باتیں گھڑ گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر رکھی تھیں جن کی بنیاد کسی علم پر نہیں تھی بلکہ اپنے بےبنیاد اندازوں پر تھی جن کی حقیقت کا خود انہیں بھی علم حاصل نہیں تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
آیت ” کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ (32)
” اس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو علم رکھنے والے ہیں ۔ “
اور جو لوگ اس دین کی حقیقت کو سمجھتے ہیں وہی اس بیان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔
رہی وہ چیز جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے تو اگر اس کا تعلق لباس سے ہے تو بھی وہ صحت مند لباس نہیں ہے ۔ اگر اس کا تعلق خوراک واسکاک سے ہے تو وہ طیب نہیں ہے ماسوائے اسراف اور کبروغرور کے ۔ حرام تو وہ چیزیں ہیں جن کا ارتکاب وہ رات دن کر رہے ہیں۔
آیت ” قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَالإِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیْْرِ الْحَقِّ وَأَن…
Read the full tafseer →2 " اثـــم " سے عام گناہ مراد ہیں اور بعض مخصوص گناہوں کو مناسبت مقام یا اہمیت کی وجہ سے بیان فرما دیا۔ " اثم " وہ گناہ ہے جس کا تعلق گناہ کرنے والے کے سوا دوسرے لوگوں سے نہ ہو۔ واللہ اعلم۔
3 جیسا کہ فحشاء کے متعلق کہتے تھے واللّٰہُ اَمَرنَا بِھَا۔
Read the full tafseer →آیت 33 قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ
بے حیائی خواہ چھپی ہوئی بھی ہو ‘ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔
Read the full tafseer →33 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پانچ حرام چیزوں کا ذکر فرمایا جن کا تعلق کھانے کی چیزوں سے نہیں بلکہ اعمال سے ہے سب سے پہلے بےحیائی کا ذکر اس لیے فرمایا کہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کے قصے سے یہ بیان چلا آ رہا ہے کہ کس طرح شیطان نے آدم و حواعلیہا السلام کو بےستر کیا۔ پھر مشرکین مکہ کا ذکر کیا جو طواف تک برہنہ ہو کر کرتے اور اسے مذہبی تقدس کا درجہ دیتے تھے اور گناہ کا لفظ اگرچہ چھوٹے بڑے ہر طرح کے گناہ پر استعمال ہوتا ہے تاہم غالباً یہ لفظ یہاں ایسے گناہ کے لیے آیا ہے جس کا اثر اس کی ذات تک محدود رہے کسی دوسرے کو اس کا نقصان نہ پہنچ رہا ہو اور ناحق زیادتی سے مراد ایسے گناہ ہیں جن سے دوسروں کے حقوق…
Read the full tafseer →45 ۔ یعنی اس کی ذات وصفات سے متعلق مشرکانہ وملحدانہ عقیدے گڑھ گڑھ کر بیان کرتے رہو یا جو احکام وہدایات اس کی طرف سے نہیں انہیں اس کی جانب منسوب کرتے رہو۔ (آیت) ” انما حرم ربی “۔ مطلب یہ ہوا کہ تم اپنے وہم وظن سے یا تقوی کے جوش میں چیزوں کو حرام ٹھہرانے والے کون۔ حقیقۃ حرام چیزیں تو عقائد و اعمال کے دائرہ میں فلاں اور فلاں ہیں۔ مفسر تھانوی (رح) نے کہا ہے کہ جس طرح امر ربی بالقسط الخ میں تمام مامورات داخل ہوگئے۔ اسی طرح اب انما حرم ربی میں تمام منہیات آگئے۔ (آیت) ” الفواحش ما ظھرمنھا وما بطن “۔ کی تصریح وتاکید سے ظاہر ہے کہ اسلام جس چیز کو روکنا چاہتا ہے وہ محض وہ فضیحتے ہی نہیں جو منظر عام پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
آیت نمبر 32 تا 39
ترجمہ : (اے محمد ﷺ بطور انکار ان سے کہو کہ اللہ کی زینت لباس کو جس کو اللہ نے اپنے بندوں کیلئے پیدا فرمایا اور رزق میں سے پاکیزہ لذیذ اشیاء کو کس نے حرام کیا ہے ؟ آپ کہئے یہ اشیاء استحقاقی طور پر تو دنیوی زندگی میں ایمان والوں کے لئے ہیں اگرچہ غیر مومن بھی اس میں شریک ہوجائیں، حال یہ ہے کہ یہ اشیاء قیامت کے دن مومنوں کیلئے خاص ہوں گے (خالصۃً ) رفع کے ساتھ ہے اور حال ہونے کی وجہ سے نصب بھی ہے، ہم اسی طرح آیات کو غور و فکر کرنے والوں کیلئے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں اسلئے کہ یہی لوگ ان سے مستفید ہوتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ میرے رب نے تو صرف فواحش بڑے گناہوں مثلاً زنا کو حرام کیا…
Read the full tafseer →قل انما حرم ربی الفواحش ما ظہرمنہا وما بطن والاثم والبغی بغیر الحق وان تشرکوا باللہ ما لم ینزل بہ سلطنا و ان تقولوا علی اللہ ما لا تعلمون (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ
البتہ میرے رب نے حرام کیا ہے تمام بےحیائی کی باتوں کو ان میں جو اعلانیہ ہیں ان کو بھی اور جو پوشیدہ ہیں ان کو بھی اور ہر گناہ کی بات کو اور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو بھی اور اس بات کو بھی کہ اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بناؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نہیں نازل کی اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ذمہ کوئی ایسی بات لگا دو جس کی کوئی سند نہ ہو۔
الفواحش یعنی وہ باتیں جن کے اندر برائی بہت زیادہ ہے۔ ظاہر فواحش جیسے مردوں کا برہنہ ہو کر دن…
Read the full tafseer →(33) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے زنا اور اجنبیہ کے ساتھ خلوت اور اثم یعنی شراب جیسا کہ شاعر کہتا ہے کہ میں نے شراب اتنی پی کہ میری عقل جاتی رہی، اسی طرح شراب عقل کو ختم کردیتی ہے، میں نے شراب اعلانیہ فنجانوں میں پی اور اے مخاطب تو ہمارے میں ہتک عزت کا مشاہدہ کررہا ہے۔
نیز ناحق کسی پر ظلم کرنے کو اور بغیر سند اور دلیل کے شرک کرنے کو اور خود کھیتیوں جانوروں پاکیزہ چیزوں اور لباسوں کو اپنے اوپر حرام کرنے کو اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے۔
Read the full tafseer →قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ۔۔ : اوپر کی آیت میں یہ بیان فرمایا کہ لوگوں نے اپنی طرف سے بہت سی چیزیں حرام کر رکھی تھیں، اب اس آیت میں اصل حرام چیزوں کو بیان فرما دیا۔ (رازی) ”الْفَوَاحِشَ“ یہ ”فَاحِشَۃٌ“ کی جمع ہے اور انتہائی قبیح فعل کو کہتے ہیں۔ ”َالْاِثْمَ“ سے تمام چھوٹے بڑے گناہ مراد ہیں اور شراب کو بھی ”اِثْمٌ“ کہہ لیتے ہیں اور ”وَالْبَغْيَ“ کے معنی لوگوں پر ظلم اور زیادتی کے ہیں۔ الغرض یہاں محرمات کی پانچ قسمیں بیان فرمائی ہیں اور وہ بھی ”انما“ کلمۂ حصر کے ساتھ۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ ان کے علاوہ اور کوئی چیز حرام نہیں ہے، حالانکہ بہت سی دوسری اشیاء کی حرمت بھی قرآن و حدیث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
آیت نمبر :32
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر۔ 1
قولہ تعالیٰ : آیت : قل من حرم زینۃ اللہ بیان فرمایا کہ انہوں نے اپنی طرف سے ایسی چیزوں کو حرام قرار دیا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام نہیں کیا۔ یہاں زینت کا لفظ خوبصورت اور حسین لباس کے لیے ہے، جب اسے پہننے والا اس پر قادر ہو۔ اور یہ بھی کیا گیا ہے : مراد تمام کپڑے ہیں، جیسے حضرت عمر ؓ سے مروی ہے : اذا سع اللہ علیکم فاوسعوا (صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ، جلد 1، صفحہ 52) ( جب اللہ تعالیٰ تمہیں وسعت اور خوشحالی عطا فرمائے تو تم بھی اپنے نفسوں کو راحت اور وسعت عطا کرو) یہ قول پہلے بھی گزر چکا ہے۔
حضرت علی بن حسین ابن ابی طالب ؓ جو حضرت امام مالک…
Read the full tafseer →(1) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” قل انما حرم ربی الفواحش ما ظھر منھا وما بطن “ کے بارے میں فرمایا کہ ” ما ظھر “ سے مراد ہے ننگا ہونا ” وما بطن “ سے مراد ہے زما کہ وہ لوگ ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، بخاری، مسلم، احمد ترمذی، نسائی، ابن منذر، ابن مردویہ، اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیرت مند نہیں ہے اس لئے بےحیائی کے کاموں کو حرام فرمایا جو اس میں سے علانیہ طور پر ہیں یا چھپے ہوئے ہیں۔
(3) امام ابن ابی شیبہ، مسلم اور ابن مردویہ نے مغیرہ بن شعبہ (رح)…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] حَرَّمَ [ حرام کیا ] رَبِّيَ [ میرے رب نے ] الْفَوَاحِشَ [ بےحیائیوں کو ] مَا ظَهَرَ [ جو نمایاں ہوا ] مِنْهَا [ اس سے ] وَمَا بَطَنَ [ اور جو پوشیدہ رہا ] وَالْاِثْمَ [ اور گناہ کو ] وَالْبَغْيَ [ اور زیادتی کرنے کو ] بِغَيْرِ الْحَقِّ [ حق کے بغیر ] وَاَنْ [ اور (اس نے حرام کیا ) کہ ] تُشْرِكُوْا [ تم لوگ شریک کرو ] بِاللّٰهِ [ اللہ کے ساتھ ] مَا [ اس کو ] لَمْ يُنَزِّلْ [ اس نے اتار ہی نہیں ] بِهٖ [ جس کی ] سُلْطٰنًا [ کوئی سند ] وَّاَنْ [ اور (اس نے حرام کیا ) کہ ] تَقُوْلُوْا [ تم لوگ کہو ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] مَا [ وہ جس…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے فحش کاموں اور ظاہری و باطنی گناہوں کو حرام قرار دیا ہے
اوپر ارشاد فرمایا کہ اللہ فحش کاموں کا حکم نہیں دیتا پھر فرمایا کہ میرے رب نے انصاف کا حکم فرمایا ہے اس نے فواحش سے بچنے اور حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے کا حکم فرمایا ہے۔
یہاں بطور تاکید پھر اس مضمون کا اعادہ فرمایا جس میں قدرے تفصیل بھی آرہی ہے ارشاد فرمایا ہے۔ (قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَ مَا بَطَنَ ) آپ فرما دیجیے کہ میرے رب نے فحش چیزوں کو حرام قرار دیا ہے تمام فحش باتیں اور فحش کام حرام ہیں خواہ ظاہری طور پر ہوں خواہ پوشیدہ طور پر۔ ننگے ہو کر طواف کرنا، لوگوں کے سامنے ستر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
تحذیر از فتنۂ شیطانی دربارۂ بےحیائی وعریانی
قال اللہ تعالیٰ یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسا۔۔۔ الی۔۔۔ لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون
(ربط) گزشتہ قصہ میں شیطان کی عداوت کا ذکر فرمایا اور اسی سلسلہ میں یہ بیان فرمایا کہ شیطان نے حضرت آدم اور حواء کو دھوکہ دیا جس کا اثر یہ ہوا کہ ان کے بدن سے جنت کا لباس اتر پڑا جس سے گھبرا کر اور شرما کر جنت کے درختوں کے پتوں سے ستر کو ڈھانکنے لگے۔ یہ برہنگی شیطان کا پہلا فتنہ تھا اب آئندہ آیات میں اسی فتنہ کے متعلق احکام ارشاد فرماتے ہیں جس میں اہل عرب اور شیطان کے اغواء اور اضلال سے مبتلا تھے کہ برہنہ طواف کرتے تھے اور بعض چیزوں کے کھانے کو زمانۂ حج میں حرام…
Read the full tafseer →34: یہ تحریمات الٰہیہ کا بیان ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو حرام نہیں کیا جو تم نے از خود حرام کرلی ہیں اور جو چیزیں اللہ نے حرام کی ہیں ان کو تم حرام نہیں سمجھتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تمام فواحش ظاہرہ اور خفیہ کو حرام کیا ہے، ہر قسم کے گناہ، ظلم ناحق، تمام انواع شرک اور اپنی ذات پر افتراء کو حرام ٹھہرایا ہے مگر ان محرمات سے تم باز نہیں آتے ہو۔ “ مَا لَمْ يُنَزِّلْ ” میں “ مَا ” سے معبودان باطلہ مراد ہیں اور بہ ای بمعبودیتہ یعنی ان معبودان باطلہ کو خدا کا شریک بنانا بھی حرام ہے جن کے معبود ہونے پر اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے نماز کے وقت زینت اختیار کرنے کا حکم دیا تھا اس ضمن میں ستر پوشی کو اولیت حاصل ہے سترپوشی انسان کے لیے ہر وقت ضروری ہے مگر نماز کے لیے تو اس کا خاص طور پ اہتمام ہونا چاہیے اس کے برخلاف برہنہ طواف کرنے والوں کی مذمت بیان کی گئی اور واضح کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا بلکہ یہ بات شیطان نے مشرکین کے ذہنوں میں ڈال رکھی ہے کہ جس لباس میں ہم روزمرہ کے کام انجام دیتے ہیں اور گناہوں کا ارتکاب بھی کرتے ہیں وہ لباس اللہ کے پاک گھر کے طواف کے لیے مناسب نہیں چناچہ اس کے لیے وہ مکہ کے پیرزادوں سے عاریتاً حاصل کرتے تھے یا پھر برہنہ طواف کو ترجیح دیتے…
Read the full tafseer →وَلِكُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ 0 ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُہُمْ لَا يَسْـتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ 34
الأُمّة :
كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38] أي : كل نوع منها علی طریقة قد سخرها اللہ عليها بالطبع، فهي من بين ناسجة کالعنکبوت، وبانية کالسّرفة «4» ، ومدّخرة کالنمل ومعتمدة علی قوت وقته کالعصفور والحمام، إلى غير ذلک من الطبائع التي تخصص بها كل نوع . وقوله تعالی: كانَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
2 ؎ یعنی یہ نعماء ایمانداروں کے لئے دنیا میں حرام نہیں بلکہ مباح ہیں۔ مقصود بالذات ان کے لئے پیدا کی ہیں۔ تبعاً کفار بھی فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ قیامت میں تو ایمانداروں کا ہی حصہ ہے 12 منہ
ترکیب : والطیبات معطوف ہے زینۃ اللّٰہ پر ھی مبتداء اس کی خبر میں تین احتمال ہیں۔ اقوٰی یہ ہے کہ للذین ہے فی الحیوۃ متعلق ہے امنوا سے یا فی الحیوۃ خبر اور للذین خالصۃ سے متعلق اور خالصۃ حال ہے اور عامل اس میں للذین ہے یا فی الحیوۃ الدنیا اور خالصۃ کو مرفوع بھی پڑھا ہے خبر ثانی بنا کر۔ ماظہر وما بطن بدل ہیں الفواحش سے۔
تفسیر : پھر فرماتا ہے کہ یہ چیزیں تو اللہ نے حرام نہیں کیں۔ ہاں بےحیائی کی باتیں خواہ ظاہر ہوں…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے :
قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِکُوْا بِ اللہ ِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَی اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ (الاعراف : 33)
”(اے پیغمبر ! ) کہہ دیجئے کہ میرے رب نے تو حرام کی ہیں ‘ بےحیائیاں خواہ کھلی ہوں ‘ خواہ پوشیدہ اور حق تلفی اور ناحق زیادتی اور اس بات کو حرام ٹھہرایا ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرو ‘ جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ تم اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو ‘ جس کا تم علم نہیں رکھتے “۔
اللہ کی حرام ٹھہرائی ہوئی اصل…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : پہلے منکرین حق سے سوال کیا تھا کہ جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے حلال قرار دیا ہے بتاؤ ان کو کس نے حرام کیا ہے ؟ اب ایک خاص انداز میں جواب دیتے ہوئے یہ بتلایا گیا ہے کہ جو چیزیں تم نے از خود اپنے آپ حرام کی ہیں اللہ تعالیٰ نے وہ چیزیں حرام نہیں کیں بلکہ یہ چیزیں حرام قرار دی ہیں۔
1۔ بےحیائی خفیہ ہو یا اعلانیہ۔
2۔ گناہ چھوٹا ہو یا بڑا۔
3۔ ہر قسم کی تعدّی اور سرکشی۔
4۔ اللہ کی ذات اور اس کی صفات میں کسی کو شریک کرنا۔
5۔ اللہ تعالیٰ کے ذمے وہ بات لگانا جس کا قرآن وسنت میں ثبوت نہ ہو۔
فواحش، فاحشۃ کی جمع ہے جسے کلی طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حرام اور…
Read the full tafseer →تمام محرمات کی جڑ شرک و فواحش :
آیت 33: قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ (آپ فرما دیں کہ میرے رب نے صرف فحش باتوں کو حرام کیا ہے) حمزہ نے رَبِّی پڑھا ہے۔ الفواحش جس کی قباحت بہت زیادہ ہو۔ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ (جو ان میں علانیہ ہیں اور وہ بھی جو پوشیدہ ہیں) ان میں جو پوشیدہ وعلانیہ ہیں۔ وَالْاِثْمَ یعنی شرب خمر یا ہر گناہ وَالْبَغْیَ ظلم وتکبر بِغَیْرِ الْحَقِّّ یہ بَغْیِ سے متعلق ہے۔ اور وَاَنْ تُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بہٖ سُلْطٰنًا نصب کی دلیل ہے گویا اس طرح فرمایا حرم الفواحش و حرم الشرک کہ اس نے حرام کیا فواحش اور حرام کیا شرک کو۔ یُنْزِل کو تخفیف کے…
Read the full tafseer →(33) (قل انما حرم ربی الفواحش ماظھر منھا وما بطن) یعنی ننگے طواف کرنا۔” ماظھر “ مردں کا دن کو ننگے طواف کرنا اور ” مابطن “ عورتوں کا رات میں ننگے طواف کرنا۔ بعض نے کہا اعلانیہ اور چھپ کر زنا کرنا مراد ہے۔ عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ سے زیادہ کوئی غیرت والا نہیں اسی لئے تو کھلے اور پوشیدہ برے کاموں کو حرام کیا اور اللہ سے زیادہ کسی کو تعریف پسند نہیں اس لئے اپنی تعریف خود کی (والاثم ) یعنی چھوٹے اور بڑے گناہ کو اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ وہ گناہ مراد ہے جس میں حد جاری نہ ہو۔ حسن (رح) فرماتے ہیں اثم سے شراب مراد ہے۔ جیسا کہ اشعر کہتا ہے میں نے اثم یعنی شراب کو پیا تو…
Read the full tafseer →مسند امام احمد صحیح بخاری اور مسلم میں عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ہے جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیرت دار نہیں ہے اس واسطے خدا تعالیٰ نے اس آیت شریف میں چھپی کھلی بےحیائی اور گناہ ناحق کی زیادتی اور شرک اور خدا پر جھوٹ بولنے کو حرام فرمایا ہے ظاہر و باطن بےحیائی اور گناہ حق کی زیادتی اور شرک اور خدا پر جھوٹ بولنے کو حرام فرمایا ہے ظاہر و باطن بےحیائی کے متعلق سورة انعام میں بیان ہوچکا ہے کہ مکہ کے مشرک لوگ چھپے ہوئے زنا کو عیب نہیں سمجھتے تھے مجاہد نے کہا کہ لفظ اثم سے تمام گناہ چھوٹے بڑے مراد ہیں اور باغی کو بغاوت کا وبال اسی کی جان پر ہے سدی کا قول ہے کہ ہر معصیت اثم…
Read the full tafseer →آیت 33
اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص پر نکیر کرتا ہے جو تکلیف میں پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حلال ٹھہرائ ہوئی پاک چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے۔ چناچہ فرماتا ہے : (قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ) ” کہہ دیجیے کہ زینت و آرائش کی چیزیں جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئی پیدا کی ہیں، ان کو کس نے حرام کیا ہے ؟ “ انواع و اصناف کے لباس، طیبات رزق یعنی ماکولات و مشروبات کی تمام اقسام کو کس نے حرام قرار دیا ہے ؟ یعنی وہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو حرام کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عطا کی ہیں ؟ کون ان کو اس بارے میں تنگی میں مبتلا کرتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے وسعت رکھی ہے ؟ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–54
فواحش سے مراد
قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھا وما بطن ولاثم والبغی بغیر الحق۔ اے محمد ﷺ ، ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں، بےشرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی) مجاہد کا قول ہے کہ فواحش سے زنا مراد ہے یہ سری خواحش ہے اور برہنہ حالت میں طواف کرنا جہری فواحش ہے۔ ایک قول ہے کہ بےشرمی کے تمام کام فواحش ہیں۔ شروع میں اجمالاً ان کا ذکر کیا پھر ان کی مختلف صورتوں کی تفصیل بیان کردی اور یہ فرمایا کہ گناہ حق کے خلاف زیادتی اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا فواحش کی صورتیں ہیں۔ یعنی لوگوں پر ناحق اور بزور قوت غلبہ جمانے اور…
Read the full tafseer →42 شرک کیلئے کوئی سند ہو ہی نہیں سکتی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ میرے رب نے اس بات کو بھی حرام ٹھہرایا کہ تم لوگ اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کے لیے اللہ نے کوئی سند نہیں اتاری۔ اور ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں جس کے لئے اس کا شریک بننے کی کوئی سند ممکن ہو سکے ۔ { وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہاً اٰخَرَ لَا بُرْہَانَ لَہٗ بِہ } ۔ پس اللہ پاک کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک کرنا کسی بھی طرح جائز نہیں ہوسکتا۔ اور اس کیلئے جو لوگ کچھ حجت بازیاں کرتے ہیں وہ محض ان کے اوہام و ظنون اور خواہشات کے پلندے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–43
سزا اور جزا کی خبر
تشریح : پچھلی آیات میں بہترین زندگی گزارنے کے اصول، قوانین اور طریقے بتائے گئے ہیں۔ ان آیات میں دوبارہ صالحین اور مشرکین کے بارے میں وضاحت کی جا رہی ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی شک باقی نہ رہ جائے کیونکہ اکثر لوگ یہی کہتے ہیں کہ جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا۔ اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ بھئی مرنے کے بعد کس طرح ہم زندہ ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو باربار سمجھا رہے ہیں کہ کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔ تم کھائو، پیو اور مزے اڑالو مگر یاد رکھو موت کا وقت مقرر ہے ایک سیکنڈ بھی اس سے آگے پیچھے نہ ہوگا۔ اس وقت تم اپنے برے اعمال پر پچھتائو گے تو کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ عمل کا وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 32 تا 39:
اسرار و معارف :
اچھا کھانا اور لباس :
چونکہ انسانی شرف کا مدار ہی اللہ کریم کی رضا ہے لہذا اصل کام خلوص دل سے اطاعتِ الہی کرکے اس کی رضا حاصل کرنا ہے اسلام نے باطل مذاہب کی طرح فضول اور خود ساختہ مشقت اٹھانے سے منع فرما دیا ہے اور لذیذ کھانوں سے اجتناب یا اچھا لباس پہننا کوئی عبادت نہیں نہ رب جلیل نے اس کا حکم دیا ہے جب مالک اللہ ہے اور اس نے بہتر رزق اچھے پھل مزیدار کھانے جو حلال اور جائز ذرائع سے حاصل کئے گئے ہوں ایسے ہی خوبصورت اور آرام دہ لباس یا بہتر سواری اور خوبصورت گھر سے منع نہیں فرمایا پھر دوسرا کون ایسا ہوسکتا ہے جو اس کے بندوں کو ان چیزوں سے روک دے…
Read the full tafseer →ف 7 اوپر کی آیت میں یہ فرمایا کہ لوگوں نے اپنی طرف بہت سی چیزیں چرا کر رکھی تھیں اب اس آیت محرمات کو بیان فرمادیا، (رازی) جب مسلمانوں نے کپڑے پہن کر طواف کرنا شروع کیا تو کفار نے ان پر عیب لگایا اس پر یہ آیت ناز ل ہوئی ( قر طبی) الفواحش، یہ فاحشتہ کی جمع ہے اور انہتائی قبیح فعل کو کہتے ہیں الا ثم سے تمام چھوٹے بڑے گناہ مراد ہیں اور شراب کو بھی اثم کہہ لیتے ہیں اور البغو کے معنی لوگوں پر ظلم اور زیادتی کے ہیں الغرض یہاں محرمات کی پانچ قسمیں بیان فرمائی ہیں وہ بھی انما اور کوئی چیز حرام نہیں ہے حالانکہ بہت سے دوسری شیا کو حر مت بھی قرآن و حدیث میں مذکور ہے امام رازی فراتے ہیں کہ کہ دراصل جنایات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
(7:33) من کس نے۔ اخرج۔ یہاں بمعنی اس نے پیدا کی۔ خالصۃ۔ خاص کر۔ صرف (انہی کے لئے ۔ روز قیامت کو)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
لغات القرآن آیت نمبر (31 تا 34 ) ۔
کلوا (کھائو) ۔ اشربوا (پیو ) ۔ لا تسرفوا (فضول خرچی نہ کرو) ۔ نفصل (ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں) ۔ الفواحش (بےحیائی و بےشرمی کے کام) ۔ ظھر منھا (جوان میں سے کھلی ہوئی ہیں ) ۔ بطن (جو چھپی ہوئی ہیں) ۔ الاثم (گناہ) ۔ البغی (زیادتی ) ۔ لم ینزل (نہیں اتارا) ۔ سلطان (دلیل۔ سند) ۔ اجل (مقرر وقت۔ موت) ۔ لا یستاخرون (پیچھے نہ ہٹ سکیں گے ) ۔ ساعتہ (ایک گھڑی) ۔ لایستقدمون (آگے نہ بڑھ سکیں گے) ۔
تشریح : آیت نمبر (31 تا 34 ) ۔ ” ان آیات میں چھ بنیادی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
1) عبادت اور زیب وزینت، عبادت اور اچھا کھانا پینا ۔۔۔۔ ان کا اجتماع۔۔۔۔ ۔ یہ دین اسلام کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیرت دار نہیں ہے، اس واسطے خدا تعالیٰ نے اس آیت میں چھپی، کھلی بےحیائی اور گناہ اور ناحق کی زیادتی اور شرک اور خدا پر جھوٹ بولنے کو حرام فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
[17] یہ خطاب انسان سے اس وقت ہوا تھا جب وہ عالم ارواح ہی میں تھا۔
Read the full tafseer →(ف 1) مقصد یہ ہے ، کہ فواحش ہر نوع کی حرام ہیں ، چاہے وہ ہوں ، جن کا تعلق ظاہر سے ہے ، اور چاہے وہ ہوں جو بظاہر برائیاں نہیں ہیں ، مگر بباطن برائیاں ہیں ،
شرک کے متعلق ارشاد ہے ، کہ یہ بےدلیل وبے برہان ہے یعنی بت پرستی کے لئے عقلی وسمعی کوئی دلیل موجود نہیں محض تقلید وجڑ کا اثر ہے عقل مند اور دانا لوگ توحید کے سوا اور کسی بات پر مطمئن نہیں ہوتے ۔
Read the full tafseer →33 آپ فرما دیجئے کہ میرے پروردگار نے تو بس تمام فحش اور بےحیائی کے کاموں کو خواہ وہ علانیہ ہوں یا پوشیدہ ہوں ان کو حرام فرمایا ہے اور ہر گناہ کی بات کو حرام کیا ہے اور کسی پر ناحق زیادتی کرنے کو حرام قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا جس کی سند اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں فرمائی ہو اس شرک کو حرام فرمایا ہے اور اس بات کو حرام کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذمے کوئی ایسی بات منسوب کرو جس کا تم کو علم نہ ہو یعنی ماکولات وغیرہ کی اباحت کا ذکر کرنے کے بعد ان باتوں کا ذکر فرمایا جو واقعی اللہ تعالیٰ کے نزدیک قبیح اور بری ہیں اور جن میں تم عام طور سے مبتلا ہو مثلاً بےحیائی کے کام وہ…
Read the full tafseer →ف 6۔ جیسے برہنہ طواف کرنا۔
7۔ جیسے بدکاری۔
8۔ یعنی جو واقع میں حلال ہیں ان کو تو تم نے حرام سمجھا اور جو واقع میں حرام ہیں ان کو حلال سمجھا۔ عجب جہل میں گرفتار ہو اور جس طرح قل امرربی بالقسط میں تمام امور داخل ہوگئے تھے اسی طرح یہاں۔ انما حرم، میں تمام منہیات داخل ہیں۔ بغی میں تو سب معاملات آگئے۔ اور ان تشرکون اوان تقولو میں تمام عقائد فاسدہ آگئے اور اثم میں تمام اعمال و معاصی آگئے جن میں سے فحش معاصی کی تخصیص ذکر کے ساتھ اہتمام کے لیے کی گئی۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی حرام ٹھہرائی ہوئی چیزیں درج ذیل ہیں جن کا اعلان پہلے بھی کیا جا چکا ہے :
44: اس آیت میں ان چیزوں کا بیان ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ان کے ترک کرنے ہی سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے لیکن اکثر لوگ دوہری جہالت میں مبتلا ہیں ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی عمدہ اور نفیس چیزوں کو اپنے اوپر بلا وجہ حرام کر کے ان نعمتوں سے محروم ہوگئے اور دوسری طرف جو چیزیں حقیقتاً حرام تھیں اور جن کے استعمال سے اللہ کا غضب اور آخرت کا عذاب پلے پڑنے والا ہے ان کا استعمال کر کے آخرت کا وبال خرید رہے ہیں اور اس طرح خسر الدنیا والاخرۃ کا مدار بن چکے ہیں۔ ان…
Read the full tafseer →After that, the second verse takes up the description of some of the things declared unlawful by Allah Ta` ala forsaking which really brings His pleasure. The hint given here is that these people were suffering from a twofold ignorance. On the one hand, they deprived themselves of the good things of life Allah had made lawful for them by denying to use them as if they were unlawful - and did so for no reason. Then, on the other hand, there were things genuinely and really unlawful, things the use of which was to result in the wrath of Allah and the punishment of the Hereafter, these they…
Read the full tafseer →24. For an elaboration of hidden and overt indecencies see Towards Understanding the Qur'an, vol. 11, al-An'am, 6: nn. 128 and 131, pp. 290-2.
25. The word ithm denotes negligence, dereliction of duty. Athimah signifies the she-camel which, though capable of running at a fast pace, deliberately moves slowly. The meaning of the word, therefore, carries the idea of sin. Viewed in the context of man, the word convey's the sense of man's deliberate neglect of his duty to God, his failure to pursue God's good pleasure despite his having the capacity to obey and follow Him.
26. To exceed the limits…
Read the full tafseer →