آخر کار مومن ہی اللہ کی رحمت کا سزا وار ٹھہرا
کھانے پینے پہننے کی ان بعض چیزوں کو بغیر اللہ کے فرمائے حرام کرلینے والوں کی تردید ہو رہی ہے اور انہیں ان کے فعل سے روکا جا رہا ہے۔ یہ سب چیزیں اللہ پر ایمان رکھنے والوں اور اس کی عبادت کرنے والون کے لئے ہی تیار ہوئی ہیں گو دنیا میں ان کے ساتھ اور لوگ بھی شریک ہیں لیکن پھر قیامت کے دن یہ الگ کردیئے جائیں گے اور صرف مومن ہی اللہ کی نعمتوں سے نوازے جائیں گے۔ ابن عباس راوی ہیں کہ مشرک ننگے ہو کے اللہ کے گھر کا طواف کرتے تھے سیٹیاں اور تالیاں بجاتے جاتے تھے پس آیتیں اتریں۔
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 22
مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تو دنیا کی ساری زینتیں اور پاکیزہ چیزیں بندوں ہی کے لیے پیدا کی ہیں، اس لیے اللہ کا منشاء تو بہر حال یہ نہیں ہوسکتا کہ انہیں بندوں کے لیے حرم کر دے۔ اب اگر کوئی مذہب یا کوئی نظام اخلاق و معاشرت ایسا ہے جو نہیں حرام، یا قابل نفرت، یا ارتقائے روحانی میں سدِّ راہ قرار دیتا ہے تو اس کا یہ فعل خود ہی اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ یہ بھی ان حجتوں میں سے ایک اہم حجت ہے جو قرآن نے مذاہب باطلہ کے رد میں پیش کی ہیں، اور اس کو سمجھ لینا قرآن کے طرز استدلال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔
سورة الْاَعْرَاف 23
یعنی حقیقت کے اعتبار سے تو خدا کی پیدا…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(جو لوگ اللہ کی حلال کی ہوئی چیزیں ملبوسات اور مطعومات و مشروبات کو بےدلیل بلکہ خلاف دلیل حرام سمجھ رہے ہیں ان سے) آپ ﷺ فرما دیجئے کہ (یہ بتلاؤ) اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے کپڑوں کو جو اس نے اپنے بندوں کے (استعمال کے) واسطے بنائے ہیں اور کھانے پینے کی حلال چیزوں کو (جن کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے) کسی شخص نے حرام کیا ہے (یعنی حلال و حرام قرار دینا تو خالق ومالک کائنات کا کام ہے، تم اپنی طرف سے کسی چیز کو حلال یا حرام کہنے والے کون ہو ؟ آیات مذکورہ میں لباس اور کھانے پینے کی چیزوں کو انعام خدا وندی قرار دیا ہے، اس سے کفار کو یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ یہ انعام تو ہمیں خوب مل رہا ہے، اگر…
Read the full tafseer →قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَةَ اللّٰهِ الَّتِيْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَالطَّيِّبٰتِ ، یہ سوال تردید اور انکار کی نوعیت کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے عطا کیے ہوئے لباس اور پاکیزہ رزق کو تم نے کس کے کہنے سے حرام ٹھہرایا ہے ؟ ان چیزوں کا عطا کرنے والا تو خدا ہے تو ان کو حرام ٹھہرانے کا حق کسی دوسرے کو کہاں سے حاصل ہوا۔ التی اخرج لعبادہ، یہاں بطور دلیل وارد ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں تو خود زبان حال سے شہادت دے رہی ہیں کہ عطا کرنے والے نے یہ بندوں کے برتنے کے لیے عطا فرمائی ہیں تو ان پر کوئی ناروا پاندی عاید کرنے کے کیا معنی ؟ ان پر کوئی پابندی تو ان کا عطا کرنے والا ہی عاید کرسکتا ہے اور اس کے لیے…
Read the full tafseer →32۔ 1 مشرکین نے جس طرح طواف کے وقت لباس پہننے کو ناپسندیدہ قرار دے رکھا تھا، اسی طرح حلال چیزیں بھی بطور تقرب الٰہی اپنے اوپر حرام کرلی تھیں نیز بہت سی حلال چیزیں اپنے بتوں کے نام وقف کردینے کی وجہ سے حرام گردانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لوگوں کی زینت کے لئے (مثلاً لباس وغیرہ) اور کھانے کی عمدہ چیزیں بنائی ہیں۔ گو کفار بھی ان سے فیض یاب اور فائدہ اٹھا لیتے ہیں بلکہ بعض دفعہ دینوی چیزوں اور آسائشوں کے حصول میں وہ مسلمانوں سے زیادہ کامیاب نظر آتے ہیں لیکن یہ بالتبع اور عارضی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی تکوینی مشیت اور حکمت ہے تاہم قیامت والے دن یہ نعمتیں صرف اہل ایمان کے لیے ہوں گی کیونکہ…
Read the full tafseer →16: جس طرح ان عرب قبائل نے طواف کے وقت کپڑے پہننے کو حرام سمجھا ہوا تھا، اسی طرح جاہلیت کے لوگوں نہ بہت سی غذاؤں کو بلا وجہ حرام قرار دیا ہوا تھا، جس کا مفصل تذکرہ سورة انعام میں گزرا ہے، نیز حمس کے قبائل نے گوشت کی بعض قسموں کو اپنی امتیازی حیثیت ظاہر کرنے کے لئے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا کوئی حکم نہیں آیا تھا۔
17:: یہ دراصل کفار مکہ کی ایک بات کا جواب ہے وہ کہا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو ہمارا موجودہ طریقہ پسند نہیں ہے تو وہ ہمیں رزق کیوں دے رہا ہے ؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس دنیا میں تو اللہ تعالیٰ کے رزق کا دستر خوان ہر شخص کے لئے بچھا ہوا ہے چاہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
آیت ” کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ (32)
” اس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو علم رکھنے والے ہیں ۔ “
اور جو لوگ اس دین کی حقیقت کو سمجھتے ہیں وہی اس بیان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔
رہی وہ چیز جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے تو اگر اس کا تعلق لباس سے ہے تو بھی وہ صحت مند لباس نہیں ہے ۔ اگر اس کا تعلق خوراک واسکاک سے ہے تو وہ طیب نہیں ہے ماسوائے اسراف اور کبروغرور کے ۔ حرام تو وہ چیزیں ہیں جن کا ارتکاب وہ رات دن کر رہے ہیں۔
آیت ” قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَالإِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیْْرِ الْحَقِّ وَأَن…
Read the full tafseer →1 عالم کی تمام چیزیں اسی لئے پیدا کی گئی ہیں کہ آدمی ان سے مناسب طریقہ سے منتفع ہو کر خالق جلّ و علیٰ کی عبادت، وفاداری اور شکر گزاری میں مشغول ہو۔ اس اعتبار سے دنیا کی تمام نعمتیں اصل میں مومنین و مطیعین ہی کے لئے پیدا ہوئی ہیں البتہ کافروں کو بھی ان چیزوں سے روکا نہیں گیا وہ بھی اپنے اعمال و تدابیر سے دنیاوی مفاد حاصل کرلیتے ہیں۔ بلکہ جب اہل ایمان قوت ایمان وتقویٰ میں کمزور ہوں، تو یہ غاصبین اپنی عملی تگ و دو میں بظاہر زیادہ کامیاب معلوم ہوتے ہیں جسے کچھ تو کفار کے اعمال فانیہ کا ثمرہ سمجھنا چاہیے اور کچھ مومنین کے حق میں تنبیہ و توبیخ (مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا…
Read the full tafseer →آیت 32 قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِط قُلْ ہِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا خَالِصَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط۔
دُنیا میں رہتے ہوئے تو بیشک اللہ کے منکرین بھی اس کی نعمتوں میں سے کھا پی لیں ‘ استفادہ کرلیں مگر آخرت میں یہ تمام پاکیزہ چیزیں اور نعمتیں اہل ایمان اور اہل جنت کے لیے مختص ہوں گی اور کفار کو ان میں سے کوئی چیز نہیں ملے گی۔
Read the full tafseer →31 ترک دنیا کی مذمت :۔ اللہ تعالیٰ نے تو لباس اور زینت اور کھانے پینے کی سب حلال چیزیں اپنے بندوں کے فائدہ اٹھانے ہی کے لیے پیدا کی ہیں، اب جو لوگ گدڑی پہنتے، کم سے کم خوراک کھاتے، لذائذ دنیا کو ترک کرتے، راتوں کو ریاضتیں کرتے اور نکاح سے اس لیے پرہیز کرتے ہیں کہ یہ ان کے روحانی ارتقاء میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے تو ایسے روحانی ارتقاء کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام میں روحانی ارتقاء کا راستہ ترک دنیا پر قطعاً منحصر نہیں ہے بلکہ یہ راستہ معاملات دنیا کو احسن طریقے پر ادا کرتے ہوئے اسی دنیا سے آگے چلتا ہے جس میں جسم کی بھی پرورش ہو اور روح کی بھی۔ اور جو لوگ ترک دنیا کی راہ اختیار کر کے…
Read the full tafseer →43 ۔ یعنی اللہ کی جائز کی ہوئی نعمتوں کو حرام کردینے کا حق کس مخلوق کو حاصل ہے ؟ ظاہر ہے کہ کسی کو نہیں، اور جو لوگ اس میں مبتلا ہیں وہ گناہ ہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” من حرم “۔ استفہام انکاری ہے اور انکار میں زور وتاکید مقصود ہے۔ المراد منہ تقریر الانکار والمبالغۃ فی تقریر ذلک الانکار (کبیر) (آیت) ” زینۃ اللہ “۔ زینت خدداد سے یہاں مراد کیا ہے ؟ لباس فاخرہ کا مراد ہونا تو سب کے نزدیک مسلم ہے۔ الزینۃ منھا الملبس الحسن اذا قدر علیہ صاحبہ (قرطبی) لیکن اکثر نے اسے وسعت دے کر جملہ سامان آرائش اس میں شامل رکھے ہیں۔ ای من الثیاب وکل الملبس یتجمل بہ (کشاف، بیضاوی) امام المفسرین امام رازی (رح) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
آیت نمبر 32 تا 39
ترجمہ : (اے محمد ﷺ بطور انکار ان سے کہو کہ اللہ کی زینت لباس کو جس کو اللہ نے اپنے بندوں کیلئے پیدا فرمایا اور رزق میں سے پاکیزہ لذیذ اشیاء کو کس نے حرام کیا ہے ؟ آپ کہئے یہ اشیاء استحقاقی طور پر تو دنیوی زندگی میں ایمان والوں کے لئے ہیں اگرچہ غیر مومن بھی اس میں شریک ہوجائیں، حال یہ ہے کہ یہ اشیاء قیامت کے دن مومنوں کیلئے خاص ہوں گے (خالصۃً ) رفع کے ساتھ ہے اور حال ہونے کی وجہ سے نصب بھی ہے، ہم اسی طرح آیات کو غور و فکر کرنے والوں کیلئے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں اسلئے کہ یہی لوگ ان سے مستفید ہوتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ میرے رب نے تو صرف فواحش بڑے گناہوں مثلاً زنا کو حرام کیا…
Read the full tafseer →قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ (اے محمد ﷺ آپ کہئے کہ جو زینت اللہ نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہے اس کو حرام کرنے والا کون۔ یہ استفہام انکاری ہے یعنی اللہ نے لباس کا میٹر پیدا کیا۔ روئی پوست ایسی (یعنی نقلی ریشم) زمین سے پیدا کی اون ‘ بھیڑ ‘ بکری کی کھال سے اور ریشم کیڑے سے پیدا کی۔ بندوں کے لئے پیدا کرنے سے مراد ہے۔ بندوں کے فائدے اور آرائش کے لئے پیدا کرنا۔
والطیبت من الرزق اور لذیذ چیزیں کھانے پینے کی پیدا کیں۔
یعنی اللہ جو ان سب کا خالق اور مالک ہے اس نے تو ان چیزوں کو حرام نہیں قرار دیا پھر اور کون ان کو حرام و حلال بنا سکتا ہے پس کیا وجہ ہے کہ کافر مشرک دوران طواف میں کپڑے پہنے…
Read the full tafseer →(32) کفار مکہ ایام جاہلیت میں ایام حج میں اپنے اوپر گوشت اور چربی کو حرام کرلیتے تھے اور حرم شریف میں مرد اور عورتیں رات کے وقت ننگے داخل ہوتے تھے اور بیت اللہ شریف کا ننگے طواف کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کو منع کردیا کہ اس کی پیدا کردہ چیزوں کو کس لیے حرام کیا ہے۔
اور آپ یہ بھی فرما دیجیے کہ یہ پاکیز چیزیں دنیاوی زندگی میں خالص اہل ایمان کے لیے ہیں، اس طرح ہم ایسے لوگوں کے لیے جو منجانب اللہ ہونے کی تصدیق کرتے ہیں، بذریعہ قرآن کریم حلال و حرام کو بیان کرتے ہیں ،
Read the full tafseer →قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَةَ اللّٰهِ۔۔ : اس آیت میں ”َ زِيْنَةَ اللّٰهِ“ سے عمدہ لباس اور وہ تمام چیزیں مراد ہیں جن سے انسان کو حسن و جمال حاصل ہوتا ہے اور ”َالطَّيِّبٰتِ“ سے عمدہ قسم کے لذیذ کھانے مراد ہیں۔ اس آیت میں ان لوگوں کی سخت تردید ہے جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کے ترک استعمال کو درویشی سمجھتے ہیں اور گھٹیا قسم کا کھانا کھانے اور لباس پہننے ہی کو بڑی نیکی سمجھتے ہیں اور ان صوفیوں کی بھی تردید ہے جو خود ساختہ وظیفے بتانے کے ساتھ ہی ہر جان دار کا اور جان دار سے حاصل ہونے والی چیز، مثلاً دودھ، گھی اور شہد کا کھانا منع کردیتے ہیں اور اسے ترک حیوانات جلالی و جمالی کا نام دے رکھا ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
آیت نمبر :32
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر۔ 1
قولہ تعالیٰ : آیت : قل من حرم زینۃ اللہ بیان فرمایا کہ انہوں نے اپنی طرف سے ایسی چیزوں کو حرام قرار دیا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام نہیں کیا۔ یہاں زینت کا لفظ خوبصورت اور حسین لباس کے لیے ہے، جب اسے پہننے والا اس پر قادر ہو۔ اور یہ بھی کیا گیا ہے : مراد تمام کپڑے ہیں، جیسے حضرت عمر ؓ سے مروی ہے : اذا سع اللہ علیکم فاوسعوا (صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ، جلد 1، صفحہ 52) ( جب اللہ تعالیٰ تمہیں وسعت اور خوشحالی عطا فرمائے تو تم بھی اپنے نفسوں کو راحت اور وسعت عطا کرو) یہ قول پہلے بھی گزر چکا ہے۔
حضرت علی بن حسین ابن ابی طالب ؓ جو حضرت امام مالک…
Read the full tafseer →(1) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم، طبرانی اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ننگے طواف کرتے تھے سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” قل من حرم زینۃ اللہ “ تو ان کو حکم فرمایا کہ کپڑے پہنو لفظ آیت ” قل ہی للذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا خالصۃ یوم القیمۃ “ فرمایا اہل ایمان میں دنیا میں اس کے ساتھ نفع اٹھاتے ہیں اور ان پر ان کے سبب قیامت کے دن کوئی گناہ نہ ہوگا۔
(2) امام وکیع نے غرر میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ پوچھا گیا کہ وہ مقانع القز کیا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد زینت کی وہ تمام چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دی ہیں۔
(3) امام عبد بن حمید اور ابو…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہئے ] مَنْ [ کس نے ] حَرَّمَ [ حرام کیا ] زِيْنَةَ اللّٰهِ الَّتِيْٓ [ اللہ کی اس زینت کو جو ] اَخْرَجَ [ اس نے نکالی ] لِعِبَادِهٖ [ اپنے بندوں کے لیے ] وَالطَّيِّبٰتِ [ اور پاکیزہ چیزوں کو ] مِنَ الرِّزْقِ ۭ [ رزق میں سے ] قُلْ [ آپ کہہ دیجیے ] هِىَ [ یہ ] لِلَّذِيْنَ [ ان لوگوں کیلئے ہے جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی میں ] خَالِصَةً [ (لیکن ) خالص ہوتے ہوئے ] يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ [ قیامت کے دن ] كَذٰلِكَ [ اس طرح ] نُفَصِّلُ [ ہم کھول کھول کر بتاتے ہیں ] الْاٰيٰتِ [ آیتوں کو ] لِقَوْمٍ [ ایسے لوگوں کے لئے جو ] يَّعْلَمُوْنَ [ علم رکھتے ہیں…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اہل ایمان کے لیے ہیں :
پھر فرمایا (قُلْ ھِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا خَالِصَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ ) آپ فرما دیجیے کہ یہ طیبات اور پاکیزہ چیزیں جو اللہ پاک نے پیدا فرمائی ہیں دنیاوی زندگی میں اصالۃً مومنین کے لیے ہیں گو کافر بھی ان کو استعمال کرلیتے ہیں اور قیامت کے دن خالص مومنین کے لیے ہوں گی۔ آخرت میں کافروں کے لیے ان کا ذرا سا حصہ بھی نہیں ہے دنیا میں بھی نعمتوں کے استعمال کے اہل ایمان والے ہی ہیں ان کے طفیل میں کافر بھی استعمال کرلیتے ہیں۔
قال صاحب الروح ایھی لھم بالاصالۃ کر امتھم علی اللہ تعالیٰ و الکفرۃ و ان شارکوھم فیھا فبالتبع فلا اشکال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
تحذیر از فتنۂ شیطانی دربارۂ بےحیائی وعریانی
قال اللہ تعالیٰ یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسا۔۔۔ الی۔۔۔ لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون
(ربط) گزشتہ قصہ میں شیطان کی عداوت کا ذکر فرمایا اور اسی سلسلہ میں یہ بیان فرمایا کہ شیطان نے حضرت آدم اور حواء کو دھوکہ دیا جس کا اثر یہ ہوا کہ ان کے بدن سے جنت کا لباس اتر پڑا جس سے گھبرا کر اور شرما کر جنت کے درختوں کے پتوں سے ستر کو ڈھانکنے لگے۔ یہ برہنگی شیطان کا پہلا فتنہ تھا اب آئندہ آیات میں اسی فتنہ کے متعلق احکام ارشاد فرماتے ہیں جس میں اہل عرب اور شیطان کے اغواء اور اضلال سے مبتلا تھے کہ برہنہ طواف کرتے تھے اور بعض چیزوں کے کھانے کو زمانۂ حج میں حرام…
Read the full tafseer →32: یہ تحریمات غیر اللہ کا بیان ہے یعنی زینت و آرائش کا جو سامان اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کیا ہے اور رزق کے لیے اس نے جو پاکیزہ چیزیں پیدا فرمائی ہیں یہ کس نے حرام کی ہیں۔ ظاہر ہے اللہ نے تو ان کو حرام نہیں ٹھہرایا کیونکہ اس نے یہ چیزیں بندوں کے استعمال کے لیے پیدا کی ہیں لہذا اپنی طرف سے ان حلال چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ۔
33: یعنی یہ سامان آرائش وزینت اور طیبات رزق دنیا میں بھی مؤمنین کے فائدہ اٹھانے میں کفار و مشرکین بھی ان کے ساتھ شریک ہیں۔ “ خَالِصَةً يَّوْمَ الْقِیٰمَة ” لیکن قیامت کے دن یہ اشیاء مومنین کے ساتھ مختص ہونگی اور کفار ان سے محروم ہونگے۔ کذالک نفصل الایت ای نمیز الحلال من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے نماز کے وقت زینت اختیار کرنے کا حکم دیا تھا اس ضمن میں ستر پوشی کو اولیت حاصل ہے سترپوشی انسان کے لیے ہر وقت ضروری ہے مگر نماز کے لیے تو اس کا خاص طور پ اہتمام ہونا چاہیے اس کے برخلاف برہنہ طواف کرنے والوں کی مذمت بیان کی گئی اور واضح کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا بلکہ یہ بات شیطان نے مشرکین کے ذہنوں میں ڈال رکھی ہے کہ جس لباس میں ہم روزمرہ کے کام انجام دیتے ہیں اور گناہوں کا ارتکاب بھی کرتے ہیں وہ لباس اللہ کے پاک گھر کے طواف کے لیے مناسب نہیں چناچہ اس کے لیے وہ مکہ کے پیرزادوں سے عاریتاً حاصل کرتے تھے یا پھر برہنہ طواف کو ترجیح دیتے…
Read the full tafseer →قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا بِاللہِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ 33
إثم
الإثم والأثام : اسم للأفعال المبطئة عن الثواب وجمعه آثام، ولتضمنه لمعنی البطء قال الشاعرجماليّةٍ تغتلي بالرّادفإذا کذّب الآثمات الهجير وقوله تعالی: فِيهِما إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنافِعُ لِلنَّاسِ [ البقرة/ 219] أي : في تناولهما إبطاء عن الخیرات .
( ا ث م ) الاثم والاثام ۔ وہ اعمال وافعال جو ثواب سے روکتے اور پیچھے رکھنے والے ہوں اس کی جمع آثام آتی ہے چونکہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
2 ؎ یعنی یہ نعماء ایمانداروں کے لئے دنیا میں حرام نہیں بلکہ مباح ہیں۔ مقصود بالذات ان کے لئے پیدا کی ہیں۔ تبعاً کفار بھی فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ قیامت میں تو ایمانداروں کا ہی حصہ ہے 12 منہ
ترکیب : والطیبات معطوف ہے زینۃ اللّٰہ پر ھی مبتداء اس کی خبر میں تین احتمال ہیں۔ اقوٰی یہ ہے کہ للذین ہے فی الحیوۃ متعلق ہے امنوا سے یا فی الحیوۃ خبر اور للذین خالصۃ سے متعلق اور خالصۃ حال ہے اور عامل اس میں للذین ہے یا فی الحیوۃ الدنیا اور خالصۃ کو مرفوع بھی پڑھا ہے خبر ثانی بنا کر۔ ماظہر وما بطن بدل ہیں الفواحش سے۔
تفسیر : پھر فرماتا ہے کہ یہ چیزیں تو اللہ نے حرام نہیں کیں۔ ہاں بےحیائی کی باتیں خواہ ظاہر ہوں…
Read the full tafseer →مشرکینِ عرب نے بالعموم اور مشرکینِ مکہ نے بالخصوص عبادت کے تصور اور عبادت کی ادائیگی کے حوالے سے جو خلط مبحث پیدا کر رکھا تھا اور جو انھوں نے اپنی طرف سے عجیب و غریب قسم کی بدعات ایجاد کرلی تھیں اور جسے وہ منسوب بھی اللہ کی طرف کرتے تھے۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس پر سخت گرفت فرماتے ہوئے نہایت محکم تنقید فرمائی ہے لیکن اگلی آنے والی آیات میں ایک دوسرے پہلو سے عتاب کے انداز میں اسی بحث کی تکمیل فرمائی گئی ہے۔ گویا کے ان آیات کی حیثیت تتمہ اور استدراک کی ہے اور پھر عتاب کے ساتھ ساتھ ایک محکم دلیل ارشاد فرمائی گئی ہے اور انہی کے رویے کو ان کے سامنے اس طرح واضح کیا گیا ہے جس سے ہر اس آدمی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بنی نوع انسان کو لباس پہننے کا حکم دینے کے ساتھ فرمایا تھا کہ کھاؤ اور پیو مگر اعتدال کے ساتھ۔ اس حکم کے باوجود جو لوگ شریعت کی جائز کردہ زیب وزینت اور حلال چیزوں کو حرام کرتے ہیں انہیں انتباہ کے انداز میں ایک سوال کیا ہے۔
ذرا بتاؤ تو سہی کہ جن چیزوں کو تم مذہب کے نام پر حرام کہتے ہو وہ کس نے تمہارے لیے حرام کی ہیں ؟ جبکہ حرام و حلال کا اختیار اللہ تعالیٰ نے کسی کو بھی نہیں دیا پھر کون ہے جو اللہ کی نعمتوں کو اسکے بندوں پر حرام کرے ؟
سورۃ التحریم کی پہلی آیت میں نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے نبی آپ کو حق نہیں ہے کہ آپ اپنی ازواج کو خوش کرنے کے لیے اللہ…
Read the full tafseer →تمام حلال زینت مسلمان کے لئے ہے کافر کو تبعاً ملتی ہے :
آیت 32: پھر استفہام انکاری کے طور پر حلال کو حرام قرار دینے پر فرمایا قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ (کہہ دیجئے۔ کس شخص نے حرام کیا ہے اللہ تعالیٰ کی اس زینت کو) یعنی کپڑے اور وہ تمام چیزیں جن سے آدمی خوبصورتی حاصل کرتا ہے۔ الَّتِیْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادہٖ (جو اس نے اپنے بندوں کیلئے پیدا کی ہے) یعنی اس کی اصل جیسے روئی زمین سے اور ریشم کیڑوں سے وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ (اور کھانے پینے کی حلال چیزیں) لذیذ کھانے اور پینے کی اشیاء ایک قول یہ بھی ہے کہ جب وہ احرام باندھتے تو بکری اور جو بھی اس کے گوشت سے چربی اور دودھ نکلتا اس کو حرام…
Read the full tafseer →(32) (قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ) یعنی طواف کے وقت کپڑے پہننا (والطیبت من الرزق) یعنی گوشت اور چکنائی حج کے ایام میں۔ ابن عباس رضی ال لہ عنہ اور قتادہ (رح) سے مروی ہے کہ مراد وہ چیزیں ہیں جن کو اہل جاہلیت حرام قرار دیتے تھے جیسے بحیرۃ ، سائبتہ وغیرہ ۔ (قل ھی للذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا خالصۃ یوم القیمۃ) آپ کہہ دیں یہ نعت میں اصل میں ایمان والوں کے واسطے ہیں دنیا کی زنگدی میں خالص انہی کے واسطے ہیں قیامت کے دن) عبارت محذوف ہے۔ اصل یہ یہ کہ یہ نعمتیں دنیا میں مئومنین اور مشرکین سب کے لئے ہیں کیونکہ مشرکین بھی مئومنین کے ساتھ صاف ستھری چیزوں کے استعمال کرنے میں شریک ہیں اور آخرت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
(31 ۔ 32) ۔ صحیح مسلم نسائی تفسیر ابن جریر اور تفسیر کلبی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول ان آیات کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں یہ ایک دستور تھا کہ سوا قریش کے اور اہل عرب کے عورتیں مرد سب ننگے طواف کیا کرتے اور یہ کہتے تھے کہ جن کپڑوں سے ہم نے گناہ کئے ہیں ان کپڑوں کو پھینک کر طواف نہیں کرنا چاہئے اور بعضے قبیلہ کے لوگ بعضی چیزوں کا کھانا بھی حج کے موسم میں اپنے اوپر حرام کرلیتے تھے اس رسم کے مٹانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ حرام وہی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے اپنے رسول کی معرفت حرام فرمائی ہے جن لوگوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
آیت 31
اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم پر لباس نازل کرنے کے بعد جس سے وہ اپنا ستر ڈھانپتے ہیں اور زینت اختیار کرتے ہیں، فرمایا : (یبنی ادم خذوا زینتکم عند کل مسجد) ” اے نبی آدم ! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزین کیا کرو۔ “ یعنی ہر نماز کے وقت، خواہ نماز فرض ہو یا نفل، اپنے ستر کو ڈھانپو، کیونکہ ستر ڈھانپنا ہی بدن کی زینت ہے جیسے ستر کو کھولنا بدن کو قبیح اور بدنما بنا دیتا ہے۔
اس آیت میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس زینت سے مراد لباس کی نظافت ہو۔ پس اس صورت میں آیت کریمہ میں نماز کے اندر ستر ڈھانپنے، زینت اختیار کرنے اور لباس کو میل کچیل اور نجاست سے پاک رکھنے کا حکم ہے۔
پھر فرمایا : (وکلوا واشربوا) ” اور…
Read the full tafseer →زینت اور طیبات کا حکم
قول باری ہے قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ و الطیبات من الرزق۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام کردیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لئے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کردیں ؟ ) حسن اور قتادہ سے مروی ہے کہ عرب کے لوگ بحیرہ اور سائبہ (ان جانوروں کی تفصیل سورة انعام میں گزر چکی ہے) وغیرہ جانوروں کو اپنے اوپر حرا م کرلیتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی سدی کا قول ہے کہ عرب کے لوگ حالت احرام میں گھی اور دوسرے روغنیات کے استعمال کو حرام سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ نے ا ن کے اس قول کی تردید میں یہ آیت نازل فرمائی۔ اس آیت میں…
Read the full tafseer →39 تحلیل و تحریم اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کی پیدا کردہ پاکیزہ چیزوں کو حرام قرار دینے کا حق کسی کو نہیں۔ سو استفہام انکاری کے طور پر ارشاد فرمایا کہ کس نے حرام کیا اللہ کی پیدا کردہ زینت اور پاکیزہ چیزوں کو۔ یعنی کسی کو اس کا حق نہیں پہنچتا، کہ وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی پاکیزہ چیزوں کو ازخود اپنی طرف سے حرام قرار دے۔ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پیدا کوئی کرے اور تحریم و تحلیل کا فیصلہ کوئی اور کرے ؟ پس از خود اللہ پاک کی پیدا کردہ ان پاکیزہ چیزوں کو حرام قرار دینا سخت جرم اور اللہ پاک پر افتراء باندھنا اور جھوٹ گھڑنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بلکہ عقل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–43
سزا اور جزا کی خبر
تشریح : پچھلی آیات میں بہترین زندگی گزارنے کے اصول، قوانین اور طریقے بتائے گئے ہیں۔ ان آیات میں دوبارہ صالحین اور مشرکین کے بارے میں وضاحت کی جا رہی ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی شک باقی نہ رہ جائے کیونکہ اکثر لوگ یہی کہتے ہیں کہ جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا۔ اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ بھئی مرنے کے بعد کس طرح ہم زندہ ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو باربار سمجھا رہے ہیں کہ کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔ تم کھائو، پیو اور مزے اڑالو مگر یاد رکھو موت کا وقت مقرر ہے ایک سیکنڈ بھی اس سے آگے پیچھے نہ ہوگا۔ اس وقت تم اپنے برے اعمال پر پچھتائو گے تو کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ عمل کا وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 32 تا 39:
اسرار و معارف :
اچھا کھانا اور لباس :
چونکہ انسانی شرف کا مدار ہی اللہ کریم کی رضا ہے لہذا اصل کام خلوص دل سے اطاعتِ الہی کرکے اس کی رضا حاصل کرنا ہے اسلام نے باطل مذاہب کی طرح فضول اور خود ساختہ مشقت اٹھانے سے منع فرما دیا ہے اور لذیذ کھانوں سے اجتناب یا اچھا لباس پہننا کوئی عبادت نہیں نہ رب جلیل نے اس کا حکم دیا ہے جب مالک اللہ ہے اور اس نے بہتر رزق اچھے پھل مزیدار کھانے جو حلال اور جائز ذرائع سے حاصل کئے گئے ہوں ایسے ہی خوبصورت اور آرام دہ لباس یا بہتر سواری اور خوبصورت گھر سے منع نہیں فرمایا پھر دوسرا کون ایسا ہوسکتا ہے جو اس کے بندوں کو ان چیزوں سے روک دے…
Read the full tafseer →ف 6 اس آیت میں زبتہ اللہ سے عمدہ لباس اور تمام وہ چیزیں مراد ہیں جن سے انسان کو تجمل حاصل ہوسکتا ہے اور الطیبات سے عمدہ قسم کے لذیذکھانے مراد ہیں جن کو شریعت نے حرام قرارنہ دیاہو مطلب یہ ہے کہ خوش پوشی اور عمدہ قسم کے صحت بخش کھانے اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرائے ہو اس آیت میں ان لوگوں کی سخت تر دید ہے جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کے ترک استعمال کو درویشی سمجھتے ہیں اور گھٹیا قسم کا کھانا کھانے ارولباس پہننے ہی کو بڑ ی نیکی خیال کرتے ہیں حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ جب اپنے بندے کو کوئی نعمت عطا فرماتا ہے تو چاہتا ہے کہ اس کا اثر اس پر ظاہرہو۔ ( نسائی، ابن ماجہ) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں یعنی جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
(7:33) من کس نے۔ اخرج۔ یہاں بمعنی اس نے پیدا کی۔ خالصۃ۔ خاص کر۔ صرف (انہی کے لئے ۔ روز قیامت کو)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
لغات القرآن آیت نمبر (31 تا 34 ) ۔
کلوا (کھائو) ۔ اشربوا (پیو ) ۔ لا تسرفوا (فضول خرچی نہ کرو) ۔ نفصل (ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں) ۔ الفواحش (بےحیائی و بےشرمی کے کام) ۔ ظھر منھا (جوان میں سے کھلی ہوئی ہیں ) ۔ بطن (جو چھپی ہوئی ہیں) ۔ الاثم (گناہ) ۔ البغی (زیادتی ) ۔ لم ینزل (نہیں اتارا) ۔ سلطان (دلیل۔ سند) ۔ اجل (مقرر وقت۔ موت) ۔ لا یستاخرون (پیچھے نہ ہٹ سکیں گے ) ۔ ساعتہ (ایک گھڑی) ۔ لایستقدمون (آگے نہ بڑھ سکیں گے) ۔
تشریح : آیت نمبر (31 تا 34 ) ۔ ” ان آیات میں چھ بنیادی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
1) عبادت اور زیب وزینت، عبادت اور اچھا کھانا پینا ۔۔۔۔ ان کا اجتماع۔۔۔۔ ۔ یہ دین اسلام کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیرت دار نہیں ہے، اس واسطے خدا تعالیٰ نے اس آیت میں چھپی، کھلی بےحیائی اور گناہ اور ناحق کی زیادتی اور شرک اور خدا پر جھوٹ بولنے کو حرام فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →[16] یعنی حقیقت کے اعتبار سے تو اللہ کی پیدا کردہ تمام چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی اہل ایمان ہی کے لئے ہیں کیونکہ وہی اللہ کی وفادار رعایا ہیں لیکن دنیا کا موجودہ نظام کیونکہ آزمائش اور مہلت کے اصول پر قائم کیا گیا ہے اس لئے یہاں اکثر اللہ کی نعمتیں نمک حراموں پر بھی تقسیم ہوتی رہتی ہیں اور بسا اوقات نمک حلالوں سے بڑھ کر انہیں نعمتوں سے نواز دیا جاتا ہے۔ البتہ آخرت میں یہ نعمتیں صرف نمک حلالوں کے لئے مخصوص ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
اسراف ممنوع ہے !
(ف 2) یعنی زینت و آرائش ممنوع نہیں ، اسراف ممنوع ہے ، اسلام کھانے پینے اور لباس میں کوئی قید عائد نہیں کرتا ، بہتر سے بہتر کھاؤ اور اچھے سے اچھا پہنو ، خدا ناراض نہیں ہوتا ، میں تمہاری طاقت ووسعت کے مطابق ہونا چاہئے یہ خوب سوچ لو کہ کہیں فیشن کا شوق تمہیں تباہ تو نہیں کر دے گا ، (آیت) ” خذوا زینتکم سے مراد یہ ہے کہ نماز کے وقت ماتیسر لباس ضرور پہنو ۔
لباس کو زینت سے اس لئے تعبیر کیا ہے کہ زینت بھی لباس کا ایک مقصد ہے ، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بدزیبی تقشف ہو تو ہو ، اسلام پسند نہیں کرتا ، اسلام خوش وضعی کو طبعا پسند کرتا ہے ۔
حل لغات :
المسرفین : اسراف کے معنی حاجت سے زیادہ…
Read the full tafseer →32 اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان سے دریافت کیجئے آخر یہ تو بتائو کہ اللہ تعالیٰ نے جو زینت کا لباس اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے اور پاکیزہ اور ستھری روزی اور کھانے پینے کی چیزیں پیدا کی ہیں ان چیزوں کو حرام کس نے کردیا ہے اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان سے فرما دیجئے کہ یہ سب نعمتیں اس دنیوی زندگی میں انہی لوگوں کے لئے خاص ہیں جو صاحب ایمان و یقین ہیں یعنی جو ان نعمتوں کو استعمال کرنے کے بعد خالق کا حق مانتے اور شکر ادا کرتے ہیں اور قیامت کے دن تو ہر قسم کی نعمتیں صرف اہل ایمان ہی کے لئے مخصوص ہوں گی۔
ہم نے جس طرح یہ بات بیان کی ہے ہم اسی طرح اپنی تمام آیات و احکام کو سمجھ دار لوگوں کے لئے تفصیل کے ساتھ بیان کرتے…
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی تحریم کے لیے تو محرم کی ضرورت ہے وہ محرم خدا کے سواکون ہے۔
Read the full tafseer →اللہ کی نعمتوں پر پابندی اللہ ہی عائد کرسکتا ہے کسی دوسرے کو حق نہیں :
43: دنیا میں کتنے نن ، منک ، پروہت ، سادھو ، درویش اور ملنگ جنہوں نے رہبانیت اختیار کی ان سب کا رد کرتے ہوئے اس اصل عظیم کا اعلان فرمایا کہ دنیوی زندگی کی آرائشیں اور زینتیں خدا پرستی کے خلاف نہیں ہیں بلکہ ان کو عدل و اعتدال کے ساتھ کام میں لانا عین منشاء خداوندی ہے۔ چناچہ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا کہ اولاد آدم (علیہ السلام) کو جو تعلیم دی گئی تھی وہ یہ تھی کہ اپنی زیب وزینت سے آراستہ ہو کر اللہ کی عبادت کرو لیکن دنیا کے پیروان مذاہب کی عالمگیر گمراہی یہ رہی کہ وہ سمجھتے تھے کہ روحانی سعادت جبھی مل سکتی ہے کہ دنیا ترک…
Read the full tafseer →Commentary
Warned in the first verse are those who practice excess in acts of worship and introduce self-invented restrictions into it. They would abstain from things made Halal by Allah Ta` ala and go on to make them Haram on them and call it an act of obedience to and worship of Allah - as was the case of the disbelievers of Makkah who just did not consider wearing clothes in Tawaf during the days of Hajj as permissible and who used to think of abstinence from good food made lawful by Allah Ta` ala to be an act of worship.
Such people have been sternly reprimanded in a chastising mode by…
Read the full tafseer →22. Since it is God Himself Who has created all good and pure things for man, it obviously could not have been His intent to make them unlawful. Now, if there is any religion, or any ethical or social system which forbids those things, or considers them an insurmountable barrier to man's spiritual growth, it has an intellectual orientation which itself is evident proof of its not having been prescribed by God.
This is an important argument which the Qur'an advances in refutation of false creeds. An appreciation of this argument would help one understand the Qur'anic line of argumentation as…
Read the full tafseer →