برہنہ ہو کر طواف ممنوع قرار دے دیا گیا
اس آیت میں مشرکین کا رد ہے وہ ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے جیسے کہ پہلے گذرا۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ ننگے مرد دن کو طواف کرتے اور ننگی عورتیں رات کو، اس وقت عورتیں کہا کرتی تھیں کہ آج اس کے خاص جسم کا کل حصہ یا کچھ حصہ گو ظاہر ہو لیکن کسی کو وہ اس کا دیکھنا جائز نہیں کرتیں۔ پس اس کے برخلاف مسلمانوں کو حکم ہوتا ہے کہ اپنا لباس پہن کر مسجدوں میں جاؤ، اللہ تعالیٰ زینت کے لینے کو حکم دیتا ہے اور زینت سے مراد لباس ہے اور لباس وہ ہے جو اعضاء مخصوصہ کو چھپالے اور جو اس کے سوا ہو مثلاً اچھا کپڑا وغیرہ۔ ایک حدیث میں ہے کہ یہ آیت جوتیوں سمیت نماز پڑھنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
سورة الْاَعْرَاف 20
یہاں زینت سے مرد مکمل لباس ہے۔ خدا کی عبادت میں کھڑے ہونے کے لیے صرف اتنا کافی نہیں ہے کہ آدمی محض اپنا ستر چھپا لے، بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حسب استطاعت وہ اپنا پورا لباس پہنے جس میں ستر پوشی بھی ہو اور زینت بھی۔ یہ حکم اس غلط رویہ کی تردید کے لیے ہے جس پر جہلا اپنی عبادتوں میں عمل کرتے رہے ہیں اور آج تک کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ برہنہ یا نیم برہنہ ہو کر اور اپنی ہیئتوں کو بگاڑ کر خدا کی عبادت کرنی چاہیے۔ اس کے برعکس خدا کہتا ہے کہ اپنی زینت سے آراستہ ہو کو ایسی وضع میں عبادت کرنی چاہیے جس کے اندر بر ہنگی تو کیا، ناسائستگی کا بھی شائبہ تک نہ ہو۔
سورة…
Read the full tafseer →چوتھی آیت میں ارشاد فرمایا”اے اولاد آدم ! تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو اور خوب کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ نکلو، بیشک اللہ تعالیٰ حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتے“۔ زمانہ جاہلیت کے عرب جیسا کہ بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرنے کو صحیح عبادت اور بیت اللہ کا احترام سمجھتے تھے اسی طرح ان میں یہ رسم بھی تھی کہ ایام حج میں کھانا پینا چھوڑ دیتے تھے، صرف اتنا کھاتے تھے جس سے سانس چلتا رہے، خصوصاً گھی، دودھ اور پاکیزہ غذاؤں سے بالکل اجتناب کرتے تھے (ابن جریر)
ان کے اس بیہودہ طریقہ کار کے خلاف یہ آیت نازل ہوئی، جس نے بتلایا کہ ننگے ہو کر طواف کرنا بےحیائی اور سخت بےادبی ہے، اس سے…
Read the full tafseer →يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ۔ یبنی آدم کا خطاب قریش اور عربوں ہی سے ہے۔ اس میں آدم کی طرف نسبت میں میں بلاغت وہی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ اس سے آدم و شیطان کی اس سرگزشت کی یاد دہانی ہوتی ہے جو تمام نسل آدم کی مشترک سرگزشت ہے اور جو ہر ابن آدم کو یہ سبق دیتی ہے کہ شیطان ان کا ابدی دشمن ہے جس و دوست بتانا اور جس کے کہے پر چلنا اور اپنے باپ کے دشمن کو دوست بنانا ہے۔
خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ ، میں زینت سے مراد لباس فاخرہ نہیں بلکہ مجرد لباس ہے۔ لباس کو زینت کے لفظ سے تعبیر کرنے کی وجہ یہاں یہ ہے کہ طواف میں عریانی اختیار کرنے کا فلسفہ یہی تراشا گیا تھا کہ…
Read the full tafseer →31۔ 1 آیت میں زینت سے مراد لباس ہے۔ اس کا سبب نزول بھی مشرکین کے ننگے طواف سے متعلق ہے۔ اس لئے انہیں کہا گیا ہے کہ لباس پہن کر اللہ کی عبادت کرو اور طواف کرو۔
31۔ 2 اِسْرَافُ ، (حد سے نکل جانا) کسی چیز میں حتیٰ کے کھانے پینے میں بھی ناپسندیدہ ہے، ایک حدیث میں نبی نے فرمایا ' جو چاہو کھاؤ اور جو چاہے پیو جو چاہے پہنو البتہ دو باتوں سے گریز کرو۔ اسراف اور تکبر سے (صحیح مسلم، صحیح بخاری) ، بعض سلف کا قول ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے (وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا ۚ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ) 7۔ الاعراف :31) اس آدھی آیت میں ساری طب جمع فرما دی ہے (ابن کثیر) بعض کہتے ہیں زینت سے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
15: شاید مذکورہ بالا سیاق وسباق میں انصاف کا ذکر اس لیے بھی کیا گیا ہے کہ ”حمس“ کے لوگوں نے اپنی جو امتیازی خصوصیات طے کر رکھی تھیں، ان میں سے بعض انصاف کے تقاضوں کے بھی خلاف تھیں۔ مثلاً یہ بات کہ صرف وہی کپڑے پہن کر طواف کرسکتے ہیں، دوسرے لوگ نہیں، حالانکہ اگر دوسرے لوگ گناہ کرسکتے تھے تو یہ لوگ بھی گناہوں سے پاک تو نہیں تھے ل۔
Read the full tafseer →آیت ” نمبر 31 تا 33۔
یہ اسلامی نظریہ حیات کے اساسی عقائد پر تاکید مزید ہے۔ زور اس بات پر دیا جارہا ہے کہ عرب جاہلیت کے مقابلے میں اسلام کی اساس ان امور پر ہے ۔ یہ نظریہ پوری انسانیت کے لئے تجویز کیا گیا ہے اور اسے اس بحث کے ضمن میں لایا گیا ہے جو اس کرہ ارض پوری انسانیت کی تخلیق کے قصے سے متعلق ہے۔
ان حقائق میں سے اہم ترین حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق ‘ انسان کے لئے جن چیزوں کو پیدا کیا ہے ‘ اس میں سے بعض چیزوں کو خود بعض انسان حرام قرار دیتے ہیں اور کام بھی وہ اذن الہی کے بغیر کرتے ہیں اور اللہ کے قانون میں سے کسی سند کے بغیر جبکہ ان کا یہ فعل یعنی یہ تحریم وتحلیل ایک شرکیہ…
Read the full tafseer →9 یہ آیات ان لوگوں کے رد میں نازل ہوئیں جو کعبہ کا طواف برہنہ ہو کر کرتے تھے اور اسے بڑی قربت اور پرہیزگاری سمجھتے تھے اور بعض اہل جاہلیت ایام حج میں سد رمق سے زائد کھانا اور گھی یا چکنائی وغیرہ کا استعمال چھوڑ دیتے تھے بعضوں نے بکری کے دودھ اور گوشت سے پرہیز کر رکھا تھا۔ ان سب کو بتلا دیا کہ یہ کوئی نیکی اور تقویٰ کی باتیں نہیں۔ خدا کی دی ہوئی پوشاک جس سے تمہارے بدن کا تستّر اور آرائش ہے اس کی عبادت کے وقت دوسرے اوقات سے بڑھ کر قابل استعمال ہے تاکہ بندہ اپنے پروردگار کے دربار میں اس کی نعمتوں کا اثر لے کر حاضر ہو، خدا نے جو کچھ پہننے اور کھانے پینے کو دیا ہے اس سے تمتّع کرو۔ بس شرط یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →آیت 31 یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ
یہاں اچھے لباس کو زینت کہا گیا ہے ‘ جیسا کہ آیت 26 میں لباس کو رِیْشًا فرمایا گیا تھا ‘ یعنی لباس انسان کے لیے زیب وزینت کا ذریعہ ہے۔ یہاں ایک نکتہ یہ بھی قابل غور ہے کہ ابھی جن تین آیات 26 ‘ 27 اور 31 میں لباس کا ذکر ہوا ہے ‘ ان تینوں میں بنی آدم کو مخاطب کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لباس کا معاملہ پوری نوع انسانی سے متعلق ہے۔ بہر حال اس آیت میں جو اہم حکم دیا جا رہا ہے وہ نماز کے وقت بہتر لباس زیب تن کرنے کے بارے میں ہے۔ ہمارے ہاں اس سلسلے میں عام طور پر الٹی روش چلتی ہے۔ دفتر اور عام میل ملاقات کے لیے تو عموماً بہت اچھے…
Read the full tafseer →29 نمازی کے لباس میں کتنے کپڑے ہوں :۔ یہاں زینت سے مراد لباس ہے اور یہ لباس صاف ستھرا اور پاکیزہ ہونا چاہیے تاکہ زینت کا باعث ہو اس لباس میں کون کون سا کپڑا شامل ہونا چاہیے ؟ اس سوال کے جواب میں مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔
1۔ عمر و بن ابی سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے (صرف) ایک کپڑے میں نماز پڑھی۔ آپ نے اس کے دونوں کناروں کو مخالف سمتوں میں کندھوں پر ڈال لیا تھا (بخاری۔ کتاب الصلوٰۃ باب عقد الازار علی القفا فی الصلوۃ)
2۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے پر کچھ نہ ہو۔ (بخاری۔ کتاب الصلوۃ باب اذا صلی فی الثوب الواحد…
Read the full tafseer →42 ۔ (اس لیے اسراف کے قریب بھی نہ جاؤ) اسراف نام ہے صرف کرنے میں حد اعتدال سے تجاوز کرنے کا الاسراف ھو مجاوزۃ الحد فی الانفاق (جصاص) اور اندازۂ معتبر شرعی ہے اور اس کے بعد اندازۂ عقلی نہ کہ اندازۂ نفسانی یا جذباتی، اسی لیے (آیت) ” لاتسرفوا کے معنی یہ لیے گئے ہیں کہ کھانے پینے میں حدود سے تجاوز نہ کرو نہ کیفیت کے لحاظ سے نہ کمیت کے لحاظ سے۔ لا تسرفوا ای بالافراط فی الطعام والشراب کما ذھب الیہ کثیر (روح) (آیت) ” کلواواشربوا “۔ کے مطلق صورت میں آنے سے امام رازی (رح) نے یہ نکتہ خوب پیدا کیا ہے کہ مطعومات ومشروبات میں اصل حلت ہی ہے۔ صرف حرمت کے لیے کسی مستقل دلیل کی ضرورت ہے اور تقاضائے عقل بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
وَاذا فعلوا فاحشۃ (الآیۃ) اسلام سے پہلے بیت اللہ کا ننگے ہو کر طواف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اس حالت کو اختیار کرکے طواف کرتے ہیں جس اس وقت تھی جب ہمیں ہماری ماؤں نے جنا تھا اور یہ بھی کہتے تھے کہ جس لباس میں ہم اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں اس میں طواف کرنا مناسب نہیں سمجھتے اور کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسی طرح طواف کرنے کا حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بےحیائی کا حکم دے۔
Read the full tafseer →یبنی ادم خذوا زینتکم عند کل مسجد اور قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الخ بھی نازل ہوئی۔ اے اولاد آدم تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو۔ باجماع اہل تفسیر زینت سے مراد وہ لباس ہے جس سے ستر عورت ہوجائے۔ مجاہد نے کہا جس سے تیرا ستر عورت ہوجائے خواہ چوغہ ہو۔ کلبی کا بھی یہی قول ہے۔ اس آیت کی تشریح میں بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ زینت سے مراد کپڑے ہیں اور مسجد سے مسجد ہی مراد ہے اسی لئے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ طواف یا نماز کے لئے ہر مسجد میں لباس لے لو اسی بنیاد پر ابن الہمام نے کہا ہے کہ آیت کا نزول برہنہ طواف کرنے کی حرمت کے لئے ہوا اعتبار اگرچہ…
Read the full tafseer →(31) ہر نماز کے وقت اور طواف کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو، گوشت، چربی کھاؤ، دودھ پیو اور پاکیزہ رزق کو اپنے اوپر مت حرام کرو، حلال اشیاء کو حرام کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتے۔
شان نزول : (آیت) ”یبنی ادم خذو زینتکم“۔ (الخ)
امام مسلم ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ایام جاہلیت میں عورت بیت اللہ کا ننگے طواف کیا کرتی تھی اور اس کی شرمگاہ پر ایک کپڑا ہوتا تھا اور یہ کہتی تھی کہ آج کے دن خواہ سارا جسم کھل جائے یا بعض اس کا حصہ اور جو اس سے کھل جائے اس کو میں حلال نہیں سمجھتی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ۔۔ : زینت سے مراد لباس ہے، یعنی طواف اور نماز میں پردے کی چیزوں کو چھپانا فرض ہے، مرد کے لیے کمر سے گھٹنوں تک (اور نماز میں اس کے ساتھ کندھے پر کچھ لباس کا ہونا) اور عورت کے لیے چہرہ اور ہاتھوں کے سوا سارا بدن۔ باریک کپڑا جس سے بدن اور بال نظر آئیں معتبر نہیں، یعنی نہ ہونے کے برابر ہے۔ (موضح) البتہ جمعہ کے دن خاص طور پر غسل، خوش بو اور اپنے بہترین لباس پہننے کا حکم دیا۔ جمعہ مسلمانوں کی ہفتہ وار عید ہے۔ عید الفطر اور عید الاضحی سالانہ عیدیں ہیں، ان میں تو بدرجہ اولیٰ اس کا اہتمام ہونا چاہیے۔
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عورت بیت اللہ کا طواف ننگی ہو کر کرتی تھی اور کہتی کہ کون…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 31
اس میں سات مسئلے ہیں
مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : آیت : یبنی ادم یہ خطاب سارے عالم کو ہے، اگرچہ اس سے مقصود عرب کے وہ لوگ ہیں جو ننگے بدن بیت اللہ شریف کا طواف کرتے تھے، کیونکہ یہ حکم ہر مسجد میں نماز کے لیے عام ہے، کیونکہ اعتبار عموم کا ہوتا ہے نہ کہ سبب کا۔ اور بعض علماء نے اس سے طواف مراد ہونے کا انکار کیا ہے، کیونکہ طواف تو صرف اور صرف ایک مسجد میں ہوتا ہے اور وہ جو ہر مسجد کو شامل ہے وہ نماز ہے۔ یہ قول ان کا ہے جن پر مقاصد شریعت مخفی رہے۔ اور صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : ایک عورت بیت اللہ شریف کا طواف کر رہی تھی اس حال میں کہ وہ برہنہ تن تھی…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی شیبہ، مسلم، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عورتیں ننگے ہو کر طواف کرتی تھیں۔ مگر یہ کہ ایک چیتھڑا اپنی شرم گاہ پر رکھ لیتی تھیں اور کہتی تھیں :
الیوم ببدو بعضہ وکلہ وما بدا منہ فلا احد
ترجمہ : آج کے دن ظاہر ہوا ہے اس کا بعض یا اس کا کل اور جو ظاہر ہے اس میں اس کو حلال قرار نہیں دیتی۔
(2) امام عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ یہ لوگ بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرتے تھے۔ اور کہتے تھے ہم ان کپڑوں میں طواف نہیں کریں گے کہ جس میں ہم نے گناہ کئے۔ تو ایک عورت آئی اور اس نے اپنے کپڑوں کو (اتار کر)…
Read the full tafseer →يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ [ اے آدم بیٹو ] خُذُوْا [ تم لوگ پکڑو ] زِيْنَتَكُمْ [ اپنی زینت کو ] عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ [ ہر سجدہ کرنے کے وقت پر ] [ وَّكُلُوْا : اور کھاؤ] [ وَاشْرَبُوْا : اور پیو ] وَلَا تُسْرِفُوْا ۚ [ اور حد سے تجاوز مت کرو ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] لَا يُحِبُّ [ پسند نہیں کرتا ] الْمُسْرِفِيْنَ [ حد سے تجاوز کرنے والوں کو ]
Read the full tafseer →بےحیائی کی مذمت، اور طواف و نماز کے وقت ستر عورت کا خصوصی حکم
مشرکین عرب طرح طرح کے شرکیہ عقائد و افعال اور بےشرمی کے اعمال میں مبتلا تھے ان کی یہ بےشرمی اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ کعبہ شریف کا طواف ننگے ہو کر کرتے تھے۔ مرد بھی ننگے اور عورتیں بھی ننگی۔ البتہ عورتیں یہ کرتی تھیں کہ اپنی شرم کی جگہ پر چھوٹا سا چیتھڑا لپیٹ لیتی تھیں اور طواف کرتے یوں کہتی ہوئی جاتی تھیں۔ الیوم یبدو بعضہ او کلہ وما بدا منہ لا احلہ۔
ان کی اس حرکت سے منع کرنے کے لیے آیت کریمہ (خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ ) اور اس کے بعد والی آیت (قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ ) نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
تحذیر از فتنۂ شیطانی دربارۂ بےحیائی وعریانی
قال اللہ تعالیٰ یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسا۔۔۔ الی۔۔۔ لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون
(ربط) گزشتہ قصہ میں شیطان کی عداوت کا ذکر فرمایا اور اسی سلسلہ میں یہ بیان فرمایا کہ شیطان نے حضرت آدم اور حواء کو دھوکہ دیا جس کا اثر یہ ہوا کہ ان کے بدن سے جنت کا لباس اتر پڑا جس سے گھبرا کر اور شرما کر جنت کے درختوں کے پتوں سے ستر کو ڈھانکنے لگے۔ یہ برہنگی شیطان کا پہلا فتنہ تھا اب آئندہ آیات میں اسی فتنہ کے متعلق احکام ارشاد فرماتے ہیں جس میں اہل عرب اور شیطان کے اغواء اور اضلال سے مبتلا تھے کہ برہنہ طواف کرتے تھے اور بعض چیزوں کے کھانے کو زمانۂ حج میں حرام…
Read the full tafseer →31:“ زینة ” سے لباس مراد ہے۔ “ مسجد ” سے مراد وقت سجدہ ہے یعنی ہر نماز کے وقت لباس ساتر عورت پہنو یا “ مسجد ” سے جائے سجدہ مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہر مسجد میں ہر قسم کی عبادت طواف، نماز وغیرہ کے وقت لباس زیب تن کرو اور اپنی طرف سے تحری میں نہ کرو کیونکہ یہ شرک ہے ایسی خود ساختہ تحریمات کو ختم کردو۔ “ وَلَا تُسْرِفُوْا اي لا تشرکوا ”۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
ربط آیات
وحی الٰہی کے اتباع کا حکم دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نافرمانی کرنے والوں کا انجام بیان کیا اس کے بعد حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش اور زمین میں ان کی خلافت و نیابت اور شیطان کے اغوا اور عداوت کی ساری کارگزاری اللہ نے بیان فرمائی جو شیطان نے آدم (علیہ السلام) کے ساتھ کی تھی اللہ تعالیٰ نے آدم اور حوا (علیہما السلام) کی لغزش اور اس پر تنبیہ کا حال بیان فرمایا پھر ان کو معاف کیا اور زمین پر اترنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ ایک مقررہ مدت تک اس زمین پر تمہارا ٹھکانہ ہوگا یہیں مرو گے اور قیامت کو اسی زمین سے اٹھائے جائو گے شیطان کی عداوت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نے جنت میں آدم اور…
Read the full tafseer →قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَۃَ اللہِ الَّتِيْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ 0 ۭ قُلْ ہِىَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا خَالِصَۃً يَّوْمَ الْقِيٰمَۃِ 0 ۭ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ 32
حرم
الحرام : الممنوع منه إمّا بتسخیر إلهي وإمّا بشريّ ، وإما بمنع قهريّ ، وإمّا بمنع من جهة العقل أو من جهة الشرع، أو من جهة من يرتسم أمره، فقوله تعالی: وَحَرَّمْنا عَلَيْهِ الْمَراضِعَ [ القصص/ 12] ، فذلک تحریم بتسخیر، وقد حمل علی ذلك : وَحَرامٌ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها [ الأنبیاء/ 95] ، وقوله تعالی: فَإِنَّها مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ…
Read the full tafseer →3 ؎ یعنی نماز کے وقت پاک اور ستھرا لباس پہنا کرو۔ 12 منہ
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا
یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَّ کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا ج اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ ۔ (الاعراف : 31)
” اے اولاد آدم ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ رہو اور کھائو اور پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو بےشیک اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا “۔
لباس کے حوالے سے ایک خاص ہدایت
اس آیت کریمہ میں براہ راست حکم دیا گیا ہے کہ تم ہر نماز کے وقت اپنے آپ کو لباس سے آراستہ رکھو یعنی تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اللہ کی عبادت کا تقاضہ یہ ہے کہ جس طرح انسان کو برہنہ پیدا کیا گیا ہے اسی برہنگی کے ساتھ وہ اللہ کی عبادت کرے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مکہ کے مشرک بیت اللہ کا برہنہ طواف کرتے تھے اس سے منع کرتے ہوئے تمام انسانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ بیت اللہ اور مساجد میں ننگا آنے کی بجائے لباس پہنا کریں۔
مشرک اور بےدین لوگوں کی زمانہ قدیم سے عادت رہی ہے کہ وہ ننگے ہو کر عبادت کرنے کو ترک دنیا اور لِلّھیت تصور کرتے ہیں۔ ان میں کچھ لوگ تو سراپا برہنہ ہوتے اور کچھ صرف لنگوٹی کا ستعمال کرتے ہیں جس طرح کہ ہندوستان کے سب سے بڑے لیڈر مہاتما گاندھی اکثر لنگوٹی پہنا کرتے تھے اور آج بھی کئی پنڈت اور گوتم بدھ کے ماننے والے اپنی شرم گاہ کو ڈھانپنے کے سوا ننگا رہنا رہبانیت کا حصہ تصور کرتے ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی مسلمانوں میں…
Read the full tafseer →زینت میں اسراف وتکبر سے بچو :
آیت 31: یٰبَنِیْٓ ٰادَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ (اے اولاد آدم تم اپنا لباس پہن لیا کرو) اپنی زینت کا لباس عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ (مسجد کی ہر حاضری کے وقت) جب بھی تم نماز ادا کرو۔ دوسرا قول زینت سے مراد کنگھی، خوشبو ہے مسنون یہ ہے کہ آدمی نماز کے لیے بہت اچھی حالت بنائے۔ کیونکہ نماز رب سے مناجات کا نام ہے پس زینت مستحب ہے اور عطر لگانا بھی جیسا کہ ستر و طہارت فرض ہے۔ وَّ کُلُوْا (اور خوب کھائو) گوشت اور چکناہٹ وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا (اور پیو۔ اور حد سے مت نکلو) حرام میں شروع ہو کر یا پیٹ بھرنے سے تجاوز نہ کرو۔ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ (بیشک اللہ…
Read the full tafseer →تفسیر (31) (یبنی ادم خذوا زینتکم عند کل مسجد) مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ بنو عامر بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ زینت سے مراد کپڑے ہیں اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ جو چیز شرمگاہ کو ڈھانپ لے اگرچہ ایک عباء ہی کیوں نہ ہو اور کلبی (رح) فرماتے ہیں زینت ہر وہ چیز جو طواف اور نماز کے لئے شرم گاہ کو ڈھانپ لے۔ (وکلوا واشربوا) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ بنو عامر حج کے ایام میں پیٹ بھر کر کھانا کھاتے تھے اور چکنائی بھی نہ ھکاتے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ ان کاموں کے ہم زیادہ حق دار ہیں تو اللہ تعالیٰ نے حکم نازل کیا کہ کھائو گوشت اور چربی اور پیو (ولاتسرفوا) اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
(31 ۔ 32) ۔ صحیح مسلم نسائی تفسیر ابن جریر اور تفسیر کلبی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول ان آیات کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں یہ ایک دستور تھا کہ سوا قریش کے اور اہل عرب کے عورتیں مرد سب ننگے طواف کیا کرتے اور یہ کہتے تھے کہ جن کپڑوں سے ہم نے گناہ کئے ہیں ان کپڑوں کو پھینک کر طواف نہیں کرنا چاہئے اور بعضے قبیلہ کے لوگ بعضی چیزوں کا کھانا بھی حج کے موسم میں اپنے اوپر حرام کرلیتے تھے اس رسم کے مٹانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ حرام وہی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے اپنے رسول کی معرفت حرام فرمائی ہے جن لوگوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
آیت 31
اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم پر لباس نازل کرنے کے بعد جس سے وہ اپنا ستر ڈھانپتے ہیں اور زینت اختیار کرتے ہیں، فرمایا : (یبنی ادم خذوا زینتکم عند کل مسجد) ” اے نبی آدم ! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزین کیا کرو۔ “ یعنی ہر نماز کے وقت، خواہ نماز فرض ہو یا نفل، اپنے ستر کو ڈھانپو، کیونکہ ستر ڈھانپنا ہی بدن کی زینت ہے جیسے ستر کو کھولنا بدن کو قبیح اور بدنما بنا دیتا ہے۔
اس آیت میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس زینت سے مراد لباس کی نظافت ہو۔ پس اس صورت میں آیت کریمہ میں نماز کے اندر ستر ڈھانپنے، زینت اختیار کرنے اور لباس کو میل کچیل اور نجاست سے پاک رکھنے کا حکم ہے۔
پھر فرمایا : (وکلوا واشربوا) ” اور…
Read the full tafseer →قول باری ہے خذوازینتکم عند کل مسجد) اس پر دلالت کرتا ہے کہ مسجد میں جانے کے لئے صاف ستھرا کپڑا پہن لینا جو زینت کا باعث بن جائے مستجب ہے حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے جمعہ اور عیدین میں صاف ستھرے کپڑے پہننے کی ترغیت دی ہے جس طرح آپ نے جمعہ اور عیدین میں غسل کرنے اور خوشبو لگانے کا حکم دیا ہے۔
کھانے پینے میں اسراف کی ممانعت
قول باری ہے وکلواواشربوا ولاتسرفوا۔ اور کھائو پیو اور حد سے سے تجاوز نہ کرو) ظاہر آیت اسراف یعنی فضول خرچی کے بغیر کھانے پینے کے ایجاب کا مقتضی ہے لیکن بعض احوال میں اس حکم سے اباحت مراد ہوتی ہے اور بعض میں ایجاب۔ اگر کھانا پینا چھوڑ دینے کی بنا پر ایک شخص کو بایں معنی ضررلاحق…
Read the full tafseer →38 لباس پہننے کی ہدایت و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنی زینت لے لیا کرو ہر مسجد کے پاس۔ یعنی لباس پہن لیا کرو ہر عبادت کے وقت۔ خواہ وہ نماز ہو یا طواف وغیرہ کہ لباس پہننا زینت و آرائش ہے اور ننگا ہونا اس کے برعکس۔ جیسا کہ مشرکین عرب ننگے ہو کر طواف کرتے تھے۔ (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو لباس کو زیب تن کرنا فطرت کا تقاضا اور انسان کیلئے زیب وزینت اور عزت و عظمت کا ذریعہ و سبب ہے۔ سو اس ارشاد سے اس رہبانی اور جوگیانہ تصور کی جڑ کاٹ دی گئی جس کے مطابق عریانیت اور ننگے پن کو تقرب الٰہی اور وصول الیٰ اللہ کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا اور سمجھا جاتا ہے۔ جس طرح کہ جو گی اور راہب لوگوں نے کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–43
سزا اور جزا کی خبر
تشریح : پچھلی آیات میں بہترین زندگی گزارنے کے اصول، قوانین اور طریقے بتائے گئے ہیں۔ ان آیات میں دوبارہ صالحین اور مشرکین کے بارے میں وضاحت کی جا رہی ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی شک باقی نہ رہ جائے کیونکہ اکثر لوگ یہی کہتے ہیں کہ جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا۔ اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ بھئی مرنے کے بعد کس طرح ہم زندہ ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو باربار سمجھا رہے ہیں کہ کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔ تم کھائو، پیو اور مزے اڑالو مگر یاد رکھو موت کا وقت مقرر ہے ایک سیکنڈ بھی اس سے آگے پیچھے نہ ہوگا۔ اس وقت تم اپنے برے اعمال پر پچھتائو گے تو کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ عمل کا وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 26 تا 31:
اسرار و معارف :
گناہ اور خطا کی نسبت اپنی طرف کرکے اللہ سے توبہ کی جائے :
اے اولاد آدم (علیہ السلام) ہم تمہیں لباس عطا فرمایا ہے جو تمہارے لیے ستر عورت کا کام بھی کرتا ہے اور زینت کا باعث بھی ہے یعنی ایسی اشیا پیدا فرمائیں جن سے لباس تیار ہوسکتا ہے اور تمہیں یہ شعور عطا فرمایا کہ طرح طرح کے لباس بناتے ہو جس سے تمہارے جسم کے پردے کا اہتمام بھی ہوتا ہے اور تمہیں سجتا بھی ہے باعث زینت بھی ہے۔
اگر انسانیت فنا نہ ہوچکی ہو اور انسان محض ایک حیوان کی سطح پر نہ گر جائے تو جسم کے پوشیدہ حصوں کو کھولنا گوارا نہیں کرتا جانوروں اور پرندوں میں تو اعضا ہی ایسے طریقے سے پیدا…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی طواف اور نمازیں ستر عورت فرض ہے مرد کے لیے کمر تازانو تک اور عورت کے لے چہرہ اور ہاتھوں کے سوا سارا بدن اور کپڑے باریک جس سے بدن یا بال نظر آویں معتبر ہیں، (کذافی المو ضح) جب اوپر آیت میں قسط (عدل و انصاف) کا حکم دیا اور لباس اور اکل شرب بھی فی الجملہ قسط میں داخل تھے اس لیے ان میں اسراف سے منع فرمادیا۔ (کبیر) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں عورتیں اور مرد ننگے ہو کر طواف کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ( فتح القدیر)5 اسراف یہ ہے کہ آدمی حلال کو حرام ٹھہرالے یا حلال سے تجاوز کر کے حرام میں جا پڑے حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں اور فرمایا مت اڑاؤ یعنی منع کام میں خرچ نہ کرو۔ (…
Read the full tafseer →(7:31) زینتکم۔ مضاف مجاف الیہ۔ تمہاری زینت۔ یہاں زینت سے مراد لباس ہے۔
لاتسرفوا۔ تم اسراف نہ کرو۔ حد سے نہ بڑ ھ جاؤ۔ تم بیجا خرچ نہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
لغات القرآن آیت نمبر (31 تا 34 ) ۔
کلوا (کھائو) ۔ اشربوا (پیو ) ۔ لا تسرفوا (فضول خرچی نہ کرو) ۔ نفصل (ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں) ۔ الفواحش (بےحیائی و بےشرمی کے کام) ۔ ظھر منھا (جوان میں سے کھلی ہوئی ہیں ) ۔ بطن (جو چھپی ہوئی ہیں) ۔ الاثم (گناہ) ۔ البغی (زیادتی ) ۔ لم ینزل (نہیں اتارا) ۔ سلطان (دلیل۔ سند) ۔ اجل (مقرر وقت۔ موت) ۔ لا یستاخرون (پیچھے نہ ہٹ سکیں گے ) ۔ ساعتہ (ایک گھڑی) ۔ لایستقدمون (آگے نہ بڑھ سکیں گے) ۔
تشریح : آیت نمبر (31 تا 34 ) ۔ ” ان آیات میں چھ بنیادی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
1) عبادت اور زیب وزینت، عبادت اور اچھا کھانا پینا ۔۔۔۔ ان کا اجتماع۔۔۔۔ ۔ یہ دین اسلام کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
حلال چیزوں کو حرام ٹھہرانے کی تنبیہ کا حکم
شان نزول : زمانہ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ مرد اور عورتیں رات کو سب ننگے طواف کرتے تھے اور بعضے قبیلہ کے لوگ بعضے چیزوں کا کھانا بھی حج کے موسم میں اپنے اوپر حرام کرلیتے تھے۔ اس رسم کے مٹانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں، اور فرمایا کہ حرام وہی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے اپنے رسول کی معرفت حرام فرمائی ہے۔ جن لوگوں نے طواف کے وقت کپڑوں کا پہننا، موسم حج میں چکنائی یا گوشت کا کھانا چھوڑ رکھا ہے، ان لوگوں کی ایک رسم ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی حکم سے ابن چیزوں کو ان لوگوں کی ملت ابراہیمی میں حرام نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
[14] نماز کے لئے صرف اتنا کافی نہیں کہ آدمی اپنا ستر چھپائے بلکہ ضروری ہے کہ حسب استطاعت اپنا پورا لباس پہنے جس میں ستر پوشی بھی ہو اور زینت بھی۔
[15] یعنی آدمی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدوں سے تجاوز نہ کرے، خواہ یہ تجاوز حلال کو حرام کرلینے کی شکل میں ہو یا حرام کو حلال کرلینے کی شکل میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
اسراف ممنوع ہے !
(ف 2) یعنی زینت و آرائش ممنوع نہیں ، اسراف ممنوع ہے ، اسلام کھانے پینے اور لباس میں کوئی قید عائد نہیں کرتا ، بہتر سے بہتر کھاؤ اور اچھے سے اچھا پہنو ، خدا ناراض نہیں ہوتا ، میں تمہاری طاقت ووسعت کے مطابق ہونا چاہئے یہ خوب سوچ لو کہ کہیں فیشن کا شوق تمہیں تباہ تو نہیں کر دے گا ، (آیت) ” خذوا زینتکم سے مراد یہ ہے کہ نماز کے وقت ماتیسر لباس ضرور پہنو ۔
لباس کو زینت سے اس لئے تعبیر کیا ہے کہ زینت بھی لباس کا ایک مقصد ہے ، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بدزیبی تقشف ہو تو ہو ، اسلام پسند نہیں کرتا ، اسلام خوش وضعی کو طبعا پسند کرتا ہے ۔
حل لغات :
المسرفین : اسراف کے معنی حاجت سے زیادہ…
Read the full tafseer →31 اے آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہر مسجد کی حاضری کے وقت خواہ وہ عام مساجد ہوں یا کعبۂ مقدس ہو اپنی زینت کا لباس پہن لیا کرو اور برہنہ ہوکر کعبہ کا طواف نہ کیا کرو اور کھانا پینا ترک نہ کیا کرو جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں کرتے رہے ہو بلکہ کھائو اور پیو اور خدا کی نعمتوں سے فادئہ اٹھائو البتہ اسراف نہ کرو اور حد سے تجاوز نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مقررہ حدود سے بڑھ جانے والوں کو پسند نہیں فرماتا یعنی ایام حج میں برہنہ رہنا یا کھانے پینے میں کمی کردینا یہ سب امور جاہلیت ہیں جس طرح ہمیشہ کھاتے پیتے ہو اسی طرح کھایا کرو اور لباس پہنا کرو اور جو سامان زینت و آرائش حق تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ف 4۔ یعنی اللہ کی اطاعت نہ کی اور شیاطین کی اطاعت کی۔
Read the full tafseer →عبادت الٰہی کے لئے زیب وزینت اختیار کرنا اولاد آدم (علیہ السلام) کے لئے ضروری ہے :
42: عربوں نے خاص مسجد یعنی مسجد الحرام میں لباس کو اتار کر طواف کرنے کو اللہ کا حکم اور اپنے بزرگوں کا طریقہ بتا یا تھا جس کی کوئی اصل ان کے پاس موجود نہیں تھی اس لئے کہ جب ان سے ان کے اس نظریہ کا ثبوت طلب کیا گیا تو وہ شرمندہ ہونے کی بجائے الٹا چور کو توال کو ڈانٹے والا کام کرنے لگے لیکن ان کو بھی اولاد آدم ہونے سے انکار نہ تھا بلکہ وہ اپنے آپ کو اولاد آدم کے ساتھ ساتھ دین ابراہیمی (علیہ السلام) کو ماننے والے بھی ثابت کرتے تھے اس لئے ان کو اولاد آدم ! ہی کہہ کر بتایا جارہا ہے کہ اولاد آدم (علیہ السلام) کے لئے…
Read the full tafseer →In the fourth verse (31), it was said: ` 0 children of 'Adam, take along what looks good on you to every mosque. And eat and drink and do not be extravagant. Surely, He does not like the extravagant'. In the way the ` Arabs of Jahiliyyah used to take the making of the Tawaf of the Ka'bah naked as the correct method of worship and an act of reverence for the House of Allah, they also had a custom that they would skip eating and drinking during the days of Hajj. They would eat no more than what would keep them alive. They particularly abstained from butter oil, milk and other pure eatables.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
20. The word zina which occurs in this verse refers to full and proper dress. While performing Prayer people are required not only to cover the private parts of their body, but also to wear a dress that serves the two-fold purpose of covering and giving one a decent appearance.
The directive to pray in a proper and decent dress is aimed at refuting the misconception entertained by ignorant people down the ages that man should worship God either in a nude or semi-naked state, or at least have a shabby and unkempt appearance while worshipping. In this verse people are being told the opposite of…
Read the full tafseer →