Explained with ayahs 28–30
جہالت اور طواف کعبہ
مشرکین ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جیسے ہم پیدا ہوئے ہیں اسی حالت میں طواف کریں گے۔ عورتیں بھی آگے کوئی چمڑے کا ٹکڑا یا کوئی چیز رکھ لیتی تھیں اور کہتی تھیں۔
الیوم یبدو بعضہ اوکلہ
وما بدا منہ فلا احلہ
آج اس کا تھوڑا سا حصہ ظاہر ہوجائے گا اور جتنا بھی ظاہر ہو میں اسے اس کے لئے جائز نہیں رکھتی۔ اس پر آیت (واذا فعلوا) الخ، نازل ہوئی ہے۔ یہ دستور تھا کہ قریش کے سوا تمام عرب بیت اللہ شریف کا طواف اپنے پہنے ہوئے کپڑوں میں نہیں کرتے تھے سمجھتے تھے کہ یہ کپڑے جنہیں پہن کر اللہ کی نافرمانیاں کی ہیں اس قابل نہیں رہے کہ انہیں پہنے ہوئے طواف کرسکیں ہاں قریش جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
سورة الْاَعْرَاف 20
یہاں زینت سے مرد مکمل لباس ہے۔ خدا کی عبادت میں کھڑے ہونے کے لیے صرف اتنا کافی نہیں ہے کہ آدمی محض اپنا ستر چھپا لے، بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حسب استطاعت وہ اپنا پورا لباس پہنے جس میں ستر پوشی بھی ہو اور زینت بھی۔ یہ حکم اس غلط رویہ کی تردید کے لیے ہے جس پر جہلا اپنی عبادتوں میں عمل کرتے رہے ہیں اور آج تک کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ برہنہ یا نیم برہنہ ہو کر اور اپنی ہیئتوں کو بگاڑ کر خدا کی عبادت کرنی چاہیے۔ اس کے برعکس خدا کہتا ہے کہ اپنی زینت سے آراستہ ہو کو ایسی وضع میں عبادت کرنی چاہیے جس کے اندر بر ہنگی تو کیا، ناسائستگی کا بھی شائبہ تک نہ ہو۔
سورة…
Read the full tafseer →تیسری آیت میں فرمایا کہ بعض لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہے اور بعض پر گمراہی کا ثبوت ہوچکا ہے، کیونکہ ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا رفیق اور دوست بنا لیا، اور یہ خیال رکھتے ہیں کہ وہ راہ پر ہیں۔
مراد یہ ہے کہ اگرچہ اللہ جل شانہ کی ہدایت عام تھی مگر ان لوگوں نے اس ہدایت سے منہ موڑا اور شیطانوں کا اتباع کرنے لگے، اور ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ یہ اپنی بیماری ہی کو صحت اور گمراہی کو ہدایت خیال کرنے لگے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ احکام شرعیہ سے جہل اور ناواقفیت کوئی عذر نہیں، ایک شخص اگر غلط راستہ کو صحیح سمجھ کر پورے اخلاص کے ساتھ اختیار کرلے تو وہ اللہ کے نزدیک معذور نہیں،…
Read the full tafseer →فَرِيْقًا هَدٰي وَفَرِيْقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلٰلَةُ ۭاِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيٰطِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ الایہ، مطلب یہ ہے کہ اصل حقیقت تو وہ ہے جو اوپر بیان ہوئی اور اللہ نے ایک گروہ کو اس حقیقت پر ایمان لانے کی توفیق بھی دی ہے لیکن ایک گروہ پر گرماہی مسلط ہوگئی۔ اس نے شیاطین کو اپنا دوست بنا رکھا ہے اور یہ شیاطین ان کو انہی گمراہیوں میں پھنسائے ہوئے ہیں جن میں ابلیس نے ان کو پھنسانے کی دھمکی دی تھی لیکن اپنی شامت اعمال سے گمان یہ کیے بیٹھے ہیں کہ وہ راہ ہدایت پر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ اپنی اس جہالت سے باز نہ آئے تو لازماً اسی انجام سے دوچار ہوں گے جو ایسے شامت زدوں کے لیے مقدر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
29۔ 1 انصاف سے مراد یہاں بعض کے نزدیک لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یعنی توحید ہے۔
29۔ 2 امام شوکانی نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ' اپنی نمازوں اپنا رخ قبلے کی طرف کرلو، چاہے تم کسی بھی مسجد میں ہو ' اور امام ابن کثیر نے اس سے استقامت بمعنی متابعت رسول مراد لی ہے اور اگلے جملے سے اخلاص اللہ اور کہا ہے کہ ہر عمل کی مقبولیت کے لئے ضروری ہے کہ وہ شریعت کے مطابق ہو اور دوسرے خالص رضائے الٰہی کے لئے ہو آیت میں ان باتوں کی تاکید کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
15: شاید مذکورہ بالا سیاق وسباق میں انصاف کا ذکر اس لیے بھی کیا گیا ہے کہ ”حمس“ کے لوگوں نے اپنی جو امتیازی خصوصیات طے کر رکھی تھیں، ان میں سے بعض انصاف کے تقاضوں کے بھی خلاف تھیں۔ مثلاً یہ بات کہ صرف وہی کپڑے پہن کر طواف کرسکتے ہیں، دوسرے لوگ نہیں، حالانکہ اگر دوسرے لوگ گناہ کرسکتے تھے تو یہ لوگ بھی گناہوں سے پاک تو نہیں تھے ل۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
آیت ” کَمَا بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ (29) فَرِیْقاً ہَدَی وَفَرِیْقاً حَقَّ عَلَیْْہِمُ الضَّلاَلَۃُ إِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیَاطِیْنَ أَوْلِیَاء مِن دُونِ اللّہِ وَیَحْسَبُونَ أَنَّہُم مُّہْتَدُونَ (30)
” جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا اسی طرح تم پھر پیدا کئے جاؤ گے ۔ ایک گروہ کو تو اس نے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ مگر دوسرے گروہ پر گمراہی چسپاں ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ انہوں نے خدا کے بجائے شیاطین کو اپنا سرپرست بنا لیا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں ۔ “
یہ آیت ایک خوشنما خوشے کی طرح ہے جس کے اندر اس عظیم سفر انسانیت کا نقطہ آغاز اور نقطہ اختتام دونوں آگئے ہیں۔
آیت ” کَمَا…
Read the full tafseer →8 یعنی جن پر گمراہی مقرر ہوچکی، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا دوست اور رفیق ٹھہرا لیا ہے۔ اور تماشا یہ ہے کہ اس صریح گمراہی کے باوجود سمجھتے یہ ہیں کہ ہم خوب ٹھیک چل رہے ہیں اور مذہبی حیثیت سے جو روش اور طرز عمل ہم نے اختیار کرلیا ہے وہ ہی درست ہے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ( اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا) 18 ۔ الکہف :104) (تنبیہ) آیت کے عموم سے ظاہر ہوا کہ کافر معاند کی طرح کافر مخطی بھی جو واقعی اپنی غلط فہمی سے باطل کو حق سمجھ رہا ہو (وَفَرِيْقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلٰلَةُ ) 7 ۔ الاعراف :30)…
Read the full tafseer →آیت 30 فَرِیْقًا ہَدٰی وَفَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْہِمُ الضَّلٰلَۃُ ط۔
یعنی جنہوں نے انکار کیا اور پھر اس انکار پر ڈٹ گئے وہ اپنی اس متعصبانہ روش کی وجہ سے ‘ اپنی ضد اور اپنی ہٹ دھرمی کے سبب ‘ اپنے حسد اور تکبر کے باعث گمراہی کے مستحق ہوچکے ہیں۔
Read the full tafseer →28 شیطان کا برے کام کو اچھا بنا کر پیش کرنا :۔ کردار دو ہیں ایک شیطان کی راہ پر چلنے والے، دوسرے سیدنا آدم (علیہ السلام) کی راہ پر چلنے والے، واضح رہے کہ کوئی شخص یہ تسلیم کرنے پر کبھی تیار نہیں ہوتا کہ وہ شیطان کی راہ پر چل رہا ہے بلکہ وہ شیطان کا نام سن کر یا نام لے کردو چار گالیاں بھی اسے سنا دے گا۔ نہ شیطان نے انسان کو گمراہ کرتے وقت کبھی اپنا آپ بتایا ہی ہے بس اس کا کام یہ ہے کہ کسی برے طریقہ کو خوبصورت کر کے پیش کر دے اور ویسے ہی سبز باغ دکھائے جیسے ہمارے باپ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو دکھائے تھے اس میں خواہ وہ کسی دینی مصلحت کی امید دلائے یا کسی دنیوی مفاد کی، اس طرح انسان اس کے بھرے…
Read the full tafseer →41 ۔ جیسا کہ آج بھی تمام اہل باطل اپنے لیے ہی حسن ظن رکھے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” فریقا ھدی “۔ یہ ہدایت یاب گروہ وہ ہے جس نے اپنی قوت اختیار وانتخاب سے صحیح کام لیا ہے۔ (آیت) ” فریقا حق علیھم الضللۃ “۔ یہ گم راہ گروہ وہ ہے جس نے اپنی قوت اختیار وانتخاب سے غلط کام لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
وَاذا فعلوا فاحشۃ (الآیۃ) اسلام سے پہلے بیت اللہ کا ننگے ہو کر طواف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اس حالت کو اختیار کرکے طواف کرتے ہیں جس اس وقت تھی جب ہمیں ہماری ماؤں نے جنا تھا اور یہ بھی کہتے تھے کہ جس لباس میں ہم اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں اس میں طواف کرنا مناسب نہیں سمجھتے اور کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسی طرح طواف کرنے کا حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بےحیائی کا حکم دے۔
Read the full tafseer →فریقا ہدی وفریقا حق علیہم الضللۃ بعض لوگوں کو تو اللہ نے ہدایت کردی ہے اور بعض پر گمراہی کا ثبوت ہوچکا ہے یعنی اللہ نے تم سے ایک فریق کو اپنے قدیم علم میں ہدایت یاب کرنے کا ارادہ کرلیا تھا تو اس کو ایمان اور نیک اعمال کی توفیق عطا کردی اور ایک فریق کو گمراہ کردیا جس کے لئے اللہ کے قدیم سابق فیصلہ میں گمراہی طے ہوچکی تھی۔
انہم اتخذوا الشیطین اولیآء من دون اللہ ویحسبون انہم مہتدون ان لوگوں نے شیطانوں کو رفیق بنایا اللہ کو چھوڑ کر اور خیال ان کا یہ ہے کہ وہ راہ راست پر چل رہے ہیں۔
اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ جہالت عذر نہیں ہے اور کافر خواہ قصداً اور عناداً کافر ہو یا بلاقصد دونوں مذمت کے مستحق…
Read the full tafseer →(30) اصحاب یمین کو اللہ تعالیٰ نے معرفت وسعادت کے ساتھ اعزاز بخشا اور اصحاب شمال کو بدبختی کی بنا پر ذلیل و خوار کیا، اللہ تعالیٰ اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ ان لوگوں نے شیاطین کو اپنا دوست بنالیا اور یہ گمراہی والے اپنے کو اللہ تعالیٰ کے دین پر سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →فَرِيْقًا هَدٰي وَفَرِيْقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلٰلَةُ : ایک گروہ، یعنی مومنوں کو اس نے سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق بخشی اور ایک گروہ، یعنی کافروں پر گمراہی ثابت ہوچکی۔
اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيٰطِيْنَ۔۔ : یعنی ان پر ضلالت اس لیے ثابت ہوئی کہ وہ شیاطین کے کہنے پر چلتے رہے اور سمجھتے یہ رہے کہ ہم صحیح راستے پر چل رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
آیت نمبر : 29۔ 30
قولہ تعالیٰ : آیت : قل امر ربی بالقسط حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : لا الہ الا اللہ کہنا ہے (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 464 ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قسط کا معنی عدل ہے (تفسیر طبری، جلد 8، صفحہ 183) ، یعنی اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف کا حکم دیا ہے پس تم اس کی اطاعت کرو اور کلام میں حذف ہے۔ آیت : واقیموا وجوھکم اور ہر نماز میں تم اپنی چہروں کو قبلہ شریف کی طرف متوجہ کرو۔ آیت : عند کل مسجد جس مسجد میں بھی تم ہو۔ آیت : وادعوہ مخلصین لہ الدین یعنی تم اسے وحدہ لا شریک مانو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ آیت : کما بداکم تعودون اس کی مثل یہ آیت ہے جو پہلے گزر چکی ہے۔ آیت :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
انصاف اور اخلاص کا حکم
(1) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قل امر ربی بالقسط “ سے مراد عدل ہے۔ لفظ آیت ” واقیموا وجوھکم عند کل مسجد “ یعنی کعبہ کی طرف رخ کرو ہر نماز کے وقت جہاں بھی تم نماز پڑھو بلکہ (عیسائیوں کی عبادت) میں ہو یا کسی اور جگہ لفظ آیت ” کما بداکم تعودون “ (یعنی جس طرح اس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا بدبخت یا نیک بخت) ۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وادعوہ مخلصین لہ الدین، کما بداکم تعودون “ یعنی اس کی عبادت خالص اللہ ہی کے واسطے کرو۔ جیسا کہ تم کو پیدا کیا…
Read the full tafseer →فَرِيْقًا [ ایک فریق کو ] هَدٰي [ اس نے ہدایت دی ] وَفَرِيْقًا [ اور ایک فریق کو ( اس نے گمراہی دی ) ] حَقَّ [ (کیونکہ ) ثابت ہوئی ] عَلَيْهِمُ [ ان پر ] الضَّلٰلَةُ ۭ [ گمراہی ] اِنَّهُمُ [ بیشک انہوں نے ] اتَّخَذُوا [ بنایا ] الشَّيٰطِيْنَ [ شیطانوں کو ] اَوْلِيَاۗءَ [ دوست ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] وَ [ اس حال میں کہ ] يَحْسَبُوْنَ سمجھتے ہوئے ] اَنَّهُمْ [ کہ وہ ] مُّهْتَدُوْنَ [ ہدایت یافتہ ہیں ]
(آیت ۔ 30) پہلا فریقا مفعول ہے ھدی کا ۔ دوسرا فریقا بھی مفعول ہے اور اس کا فعل اضل محذوف ہے ۔ ویحسبون کا واو حالیہ ہے۔
Read the full tafseer →پھر فرمایا (فَرِیْقًا ھَدٰی وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْھِمُ الضَّلٰلَۃُ ) (کہ اللہ نے ایک جماعت کو ہدایت دی اور ایک جماعت ایسی ہے جس پر گمراہی مقرر ہوچکی ہے)
پھر فرمایا (اِنَّھُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ مُّھْتَدُوْنَ ) بلاشبہ ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیاطین کو دوست بنا لیا اور یہ گمان کررہے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں) اول تو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے پھر شیاطین کو دوست بنایا جن کا کام ہی گمراہ کرنے کا ہے پھر اپنے بارے میں یہ خیال کہ ہم ہدایت پر ہیں یہ سب گمراہی در گمراہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
تحذیر از فتنۂ شیطانی دربارۂ بےحیائی وعریانی
قال اللہ تعالیٰ یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسا۔۔۔ الی۔۔۔ لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون
(ربط) گزشتہ قصہ میں شیطان کی عداوت کا ذکر فرمایا اور اسی سلسلہ میں یہ بیان فرمایا کہ شیطان نے حضرت آدم اور حواء کو دھوکہ دیا جس کا اثر یہ ہوا کہ ان کے بدن سے جنت کا لباس اتر پڑا جس سے گھبرا کر اور شرما کر جنت کے درختوں کے پتوں سے ستر کو ڈھانکنے لگے۔ یہ برہنگی شیطان کا پہلا فتنہ تھا اب آئندہ آیات میں اسی فتنہ کے متعلق احکام ارشاد فرماتے ہیں جس میں اہل عرب اور شیطان کے اغواء اور اضلال سے مبتلا تھے کہ برہنہ طواف کرتے تھے اور بعض چیزوں کے کھانے کو زمانۂ حج میں حرام…
Read the full tafseer →30 شیطان کے اغواء اور وسوسہ میں آکر شرک اور فواحش میں مبتلا ہوگئے اور اللہ کے احکام کو چھوڑ کر شیطان کی پیروی شروع کردی اور بدقسمتی سے اسی کو راہ ہدایت سمجھ بیٹھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
ربط آیات
وحی الٰہی کے اتباع کا حکم دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نافرمانی کرنے والوں کا انجام بیان کیا اس کے بعد حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش اور زمین میں ان کی خلافت و نیابت اور شیطان کے اغوا اور عداوت کی ساری کارگزاری اللہ نے بیان فرمائی جو شیطان نے آدم (علیہ السلام) کے ساتھ کی تھی اللہ تعالیٰ نے آدم اور حوا (علیہما السلام) کی لغزش اور اس پر تنبیہ کا حال بیان فرمایا پھر ان کو معاف کیا اور زمین پر اترنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ ایک مقررہ مدت تک اس زمین پر تمہارا ٹھکانہ ہوگا یہیں مرو گے اور قیامت کو اسی زمین سے اٹھائے جائو گے شیطان کی عداوت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نے جنت میں آدم اور…
Read the full tafseer →يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا 0 ۚ اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ 31 ۧ
أخذ
الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255]
( اخ ذ) الاخذ
۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ }…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
1 ؎ مجاہدو حسن کہتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح تم لاشے تھے تم کو دنیا میں پیدا اپنی قدرت سے کردیا۔ اسی طرح پھر موت کے بعد تم کو زندہ کر دے گا۔
2 ؎ اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ جس طرح صحیح وسالم دنیا میں پیدا ہوئے تھے اسی طرح قیامت کے دن دوسری بار اٹھو گے۔ حدیث میں آیا ہے جس حال میں جو کوئی مرا ہے اس میں اٹھے گا شرابی مست و مخمور ‘ خدا پرست شاد و مسرور۔ 12 منہ
Read the full tafseer →فَرِیْقًا ہَدٰی وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْھِمُ الضَّلٰلَۃُ ط اِنَّھُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِ اللہِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ مُّھْتَدُوْنَ ۔ (الاعراف : 30)
” ایک گروہ کو اس نے ہدایت عطا فرمائی اور ایک گروہ پر گمراہی مسلط ہوچکی انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیاطین کو اپنا رفیق بنایا اور سمجھتے یہ ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں “۔
شیطان سے اثر قبول کرنے والے پیغمبر کی دعوت سے بھی اثر قبول نہیں کرتے
بجائے اس کے کہ مشرکین مکہ جنھیں براہ راست آنحضرت ﷺ اللہ کی طرف سے ہدایت پہنچا رہے ہیں اور اپنی پوری شخصی توانائیوں سے کام لے کر انھیں راہ راست پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ آگے بڑھ کر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو خالص اپنی عبادت کا حکم دیا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں جو سراسر گمراہی ہے۔
سورۃ البقرۃ آیت 256، 257 میں واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کو گمراہی سے الگ اور ممتاز کردیا ہے جو شخص طاغوت کا انکار کرے اور اللہ تعالیٰ پرسچا ایمان لائے۔ درحقیقت اس نے ایسی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لیا ہے جس کا ٹوٹنا ناممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان وایقان اور علم کی روشنی کی طرف لاتا ہے۔ کافر اپنے ساتھیوں کو ایمان کی روشنی سے نکال کر کفرو شرک کی تاریکیوں میں دھکیلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →ہدایت واضلال اللہ کے پاس ہے :
آیت 30: فَرِیْقًا ھَدٰی (بعض لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہے) وہ مسلمان ہیں وَفَرِیْقًا (اور بعض پر) یعنی ایک فریق کو گمراہ کیا حَقَّ عَلَیِْھمُ الضَّلٰلَۃُ (گمراہی کا ثبوت ہوچکا ہے) وہ کافر ہیں اِنَّھُمُ (ان لوگوں نے) وہ گروہ جس کے متعلق گمراہی ثابت ہوگئی۔ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآ ئَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (شیطانوں کو دوست بنایا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر) یعنی مددگار وََیحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ مُّھْتَدُوْنَ (اور خیال رکھتے ہیں کہ وہ راہ پر ہیں) یہ آیت بھی ہدایت واضلال کے سلسلہ میں معتزلہ کے رد میں ہماری دلیل ہے۔
Read the full tafseer →(30) فریقا ھدی) یعنی ان کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی (وفریقاً حق علیھم الضللۃ ط انھم اتخذوا الشیطن اولیآء من دون اللہ ویحسبون انھم مھتدون اس میں دلیل ہے کافر خواہ ضد کی وجہ سے ہو یا انکار کی وجہ سے وہ اپنے کو دین میں حق گمان کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
(28 ۔ 30) ۔ مجاہد کا قول ہے کہ مکہ کے مشرک ننگے ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتے اور کہتے کہ جس طرح ہم کو ہماری ماں نے جنا ہے اسی طرح ہم طواف کرتے ہیں اور اس کو باپ دادا کی رسم اور خدا کا حکم بتاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں کو نازل کر کے فرمایا کہ پیشتر تم ابھی جان چکے ہو کہ آدم (علیہ السلام) نے جو سب کے باپ ہیں شیطان کا دھوکا کھایا تو پھر اسکی بےحیائی کے کام پر باپ دادا کا حوالہ دینا اور خدا کا حکم سمجھنا بڑی نادانی ہے باپ دادا کا کسی برے کام کو کرنا اس کام کے جائز ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتی دنیا کے کاموں میں تو اس طرح تم باپ دادا کی پیروی نہیں کرتے یہ کبھی نہ سنا کہ کسی نے باپ دادا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
آیت 28
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کا حال بیان کرتا ہے جو گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ (واذا فعلوا فاحشۃ) ” جب وہ کوئی فحش کام کرتے ہیں۔ “ فحش سے مراد ہر وہ کام ہے جو برا اور انتہائی قبیح ہو۔ عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ (قالوا وجدنا علیھا ابآء نا) ” کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے “ اور وہ اس بارے میں سچے ہیں (واللہ امرنا بھا) ” اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے “ وہ اس فحش کام کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے میں جھوٹ بولتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
نماز با جماعت
قول باری ہے واقیمواوجوھکم عند کل مسجد۔ اور ہر عبادت میں اپنا رخ ٹھیک رکھو) مجاہد اور سدی سے مروی ہے کہ ” نماز میں مسجد کے قبلے کی طرف اپنا رخ ٹھیک رکھو “۔ ربیع بن انس کا قول ہے کہ اخلاص کے ساتھ اللہ کی طرف اپنا رخ کرلو، نہ کسی بت کی طرف اور نہ کسی اور چیز کی طرف “۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں آیت میں دو باتیں بیان کی گئی ہیں اول یہ کہ قبلے کی طرف اس طرح رخ ٹھیک رکھنا کہ اس کی سمت رخ ہٹا ہوا نہ ہو۔ دوم یہ کہ مسجد میں جا کر نماز ادا کرنا۔ یہ بات مسجد میں جماعت کے ساتھ فرض نمازوں کی ادائیگی کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ اس لئے کہ مساجد جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی کے لئے تعمیر کی جاتی ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
36 عبادت کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنا رخ سیدھا رکھا کرو ہر عبادت کے وقت اور اپنے اس معبود حقیقی اور اس کی رضا ہی کو اپنی عبادت و بندگی اور اپنی تمام ترتوجہات کا مرکز بناکر۔ اس کے ساتھ کسی اور کو کسی بھی طور پر اور کسی بھی درجے میں اس کا شریک وسہیم مت ٹھہراؤ۔ نہ کسی خودساختہ بت کو اور نہ کسی فرشتہ اور نبی ولی کو۔ (المراغی وغیرہ) ۔ کہ وہ ایسے ہر شرک اور اس کے ہر شائبہ سے پاک ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس اس کے سوا عبادت و بندگی اور اس کی کوئی بھی شکل اور قسم کسی بھی اور کے لئے بجا لانا جائز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–43
سزا اور جزا کی خبر
تشریح : پچھلی آیات میں بہترین زندگی گزارنے کے اصول، قوانین اور طریقے بتائے گئے ہیں۔ ان آیات میں دوبارہ صالحین اور مشرکین کے بارے میں وضاحت کی جا رہی ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی شک باقی نہ رہ جائے کیونکہ اکثر لوگ یہی کہتے ہیں کہ جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا۔ اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ بھئی مرنے کے بعد کس طرح ہم زندہ ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو باربار سمجھا رہے ہیں کہ کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔ تم کھائو، پیو اور مزے اڑالو مگر یاد رکھو موت کا وقت مقرر ہے ایک سیکنڈ بھی اس سے آگے پیچھے نہ ہوگا۔ اس وقت تم اپنے برے اعمال پر پچھتائو گے تو کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ عمل کا وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 26 تا 31:
اسرار و معارف :
گناہ اور خطا کی نسبت اپنی طرف کرکے اللہ سے توبہ کی جائے :
اے اولاد آدم (علیہ السلام) ہم تمہیں لباس عطا فرمایا ہے جو تمہارے لیے ستر عورت کا کام بھی کرتا ہے اور زینت کا باعث بھی ہے یعنی ایسی اشیا پیدا فرمائیں جن سے لباس تیار ہوسکتا ہے اور تمہیں یہ شعور عطا فرمایا کہ طرح طرح کے لباس بناتے ہو جس سے تمہارے جسم کے پردے کا اہتمام بھی ہوتا ہے اور تمہیں سجتا بھی ہے باعث زینت بھی ہے۔
اگر انسانیت فنا نہ ہوچکی ہو اور انسان محض ایک حیوان کی سطح پر نہ گر جائے تو جسم کے پوشیدہ حصوں کو کھولنا گوارا نہیں کرتا جانوروں اور پرندوں میں تو اعضا ہی ایسے طریقے سے پیدا…
Read the full tafseer →ف 2 یا تم آخرت میں دو گروہ بن کر پلٹو گے ایک مومنوں کا گروہ اور دوسرا کافروں کا گروہ3 یعنی ان پر ضلالت اس لے ثابت ہوئی ہے کہ وہ شیطان کے کہنے پر چلتے رہے اور یہ سمجھتے رہے کہ ہم صحیح راستے پر چل رہے ہیں۔ ( کبیر)
Read the full tafseer →(7:30) کما بداکم تعودون۔ فریقا ھدی وفریقا حق علیہم الضللۃ۔ (جس طرح اس نے تم کو پہلے پیدا کیا تھا ویسے ہی تم اس کی طرف لوٹو گے ایک گروہ کو تو اللہ نے ہدایت دیدی اور ایک گروہ ہے کہ جس پر گمراہی واجب ہوگئی) اس کے معانی میں مفسرین کے اختلافات ہیں۔ کیا ننگے پیدا ہوئے تھے تو ننگے ہی اٹھائے جائیں گے۔ یا جس بنا پر کسی کی خلقت ہوئی تھی اسی پر اس کی واپسی ہوگی۔ یا جیسا قرآن میں ہے : ھو الذی کلقکم فمنکم کافر و منکم مومن (64:2) کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو مومن پیدا کیا اور کسی کو کافر۔ اور پھر ایسا ہی اٹھائے گا جیسا کہ پیدا کیا۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
لغات القرآن آیت نمبر (28 تا 30 ) ۔
فاحشتہ (بےحیائی کا کام ) ۔ امرنا (اس نے ہمیں حکم دیا ہے ) ۔ لا یا مر (وہ حکم نہیں دیتا ) ۔ اقیموا (قائم رکھو ) ۔ وجوھکم (وجہ) اپنے چہروں کو) ۔ ادعوا (پکارو) ۔ مخلصین (خالص کرنے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر (28 تا 30 ) ۔ ” ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کی ان من گھڑت رسموں اور ننگے ہو کر عبادت کرنے کی فضول رسموں پر گرفت کی ہے۔ جن کو انہوں نے مذہب کا رنگ دے دیا تھا۔
1) ان کا یہ خیال تھا کہ جن کپڑوں میں ہم گناہ کرتے ہیں ان کو پہن کر بیت اللہ کا طواف کرنا گناہ ہے قریش کے علاوہ سارے کفار برہنہ ہو کر طورف کرتے تھے۔ ان کی اسی رسم کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ اگر قریش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
حلال چیزوں کو حرام ٹھہرانے کی تنبیہ کا حکم
شان نزول : زمانہ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ مرد اور عورتیں رات کو سب ننگے طواف کرتے تھے اور بعضے قبیلہ کے لوگ بعضے چیزوں کا کھانا بھی حج کے موسم میں اپنے اوپر حرام کرلیتے تھے۔ اس رسم کے مٹانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں، اور فرمایا کہ حرام وہی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے اپنے رسول کی معرفت حرام فرمائی ہے۔ جن لوگوں نے طواف کے وقت کپڑوں کا پہننا، موسم حج میں چکنائی یا گوشت کا کھانا چھوڑ رکھا ہے، ان لوگوں کی ایک رسم ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی حکم سے ابن چیزوں کو ان لوگوں کی ملت ابراہیمی میں حرام نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
[14] نماز کے لئے صرف اتنا کافی نہیں کہ آدمی اپنا ستر چھپائے بلکہ ضروری ہے کہ حسب استطاعت اپنا پورا لباس پہنے جس میں ستر پوشی بھی ہو اور زینت بھی۔
[15] یعنی آدمی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدوں سے تجاوز نہ کرے، خواہ یہ تجاوز حلال کو حرام کرلینے کی شکل میں ہو یا حرام کو حلال کرلینے کی شکل میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(ف 1)
مقصد یہ ہے کہ اللہ انصاف وعدل کے سوا اور کسی بات کا حکم نہیں دیتا ، وہ کہتا ہے تزکیہ باطل کے لئے کوشش کرو ، اور اخلاص کے ساتھ کیونکہ تمہیں اس کے حضور میں پیش ہونا ہے اور جواب دینا ہے اپنے اعمال کا ۔
Read the full tafseer →30 اللہ تعالیٰ نے ایک فرقہ کو ہدایت سے بہرہ مند فرمایا اور ایک فرقہ پر گمراہی اور ضلالت متحقق ہوچکی کیونکہ اس گمراہ فرقہ نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیاطین کو اپنا رفیق بنالیا اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کرنے کی بجائے شیاطین کی اطاعت کی اور بدبختی یہ کہ یوں سمجھتے رہے کہ ہم سیدھی راہ چل رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ف 4۔ یعنی اللہ کی اطاعت نہ کی اور شیاطین کی اطاعت کی۔
Read the full tafseer →ایک گروہ کو راہ دکھائی دوسرے پر گمراہی ثابت ہوگئی :
40: جب صحیح اور غلط ، حق اور ناحق کی وضاحت ہوگئی اور اصل حقیقت واضح ہوگئی تو بتوفیق الٰہی ایک گروہ اس حقیقت پر ایمان بھی لایا اور ایک گروہ پر گمراہی مسلط ہوگئی اور انہوں نے حقیقت کو سمجھ کر اس سے منہ پھیرلیا۔
گمراہ کون ہوئے ؟ وہی جنہوں نے شیطان کو اپنا رفیق بنا لیا :
41: جن لوگوں نے اپنی قوت اختیار وانتخاب سے غلط کام لیا وہ گمراہ ہوگئے اور ان لوگوں نے اللہ کی دی ہوئی ہدایت کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا رفیق بنا لیا لیکن اس کے باوجود وہ بھی سمجھتے رہے کہ راہ راست پر وہی ہیں گمراہی سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں۔ اس لئے کہ شیطان کے دوستوں نے ان کو یہی…
Read the full tafseer →In the third verse (30), it was said that there are people Allah has guided right while there are others who have provided the proof of their erroneous conduct, because they have, bypassing Allah, made satans their comrades, and they presume that they are on the right path.
The sense is that the guidance of Allah Subhanahu wa Ta` ala was open to all, but they turned away from it and started following satans, then, on top of it, they were led to think that their sickness was health, and their error, guidance.
This verse tells us that not knowing the injunctions of the Shari` ah is no valid…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
20. The word zina which occurs in this verse refers to full and proper dress. While performing Prayer people are required not only to cover the private parts of their body, but also to wear a dress that serves the two-fold purpose of covering and giving one a decent appearance.
The directive to pray in a proper and decent dress is aimed at refuting the misconception entertained by ignorant people down the ages that man should worship God either in a nude or semi-naked state, or at least have a shabby and unkempt appearance while worshipping. In this verse people are being told the opposite of…
Read the full tafseer →