Explained with ayahs 28–30
جہالت اور طواف کعبہ
مشرکین ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جیسے ہم پیدا ہوئے ہیں اسی حالت میں طواف کریں گے۔ عورتیں بھی آگے کوئی چمڑے کا ٹکڑا یا کوئی چیز رکھ لیتی تھیں اور کہتی تھیں۔
الیوم یبدو بعضہ اوکلہ
وما بدا منہ فلا احلہ
آج اس کا تھوڑا سا حصہ ظاہر ہوجائے گا اور جتنا بھی ظاہر ہو میں اسے اس کے لئے جائز نہیں رکھتی۔ اس پر آیت (واذا فعلوا) الخ، نازل ہوئی ہے۔ یہ دستور تھا کہ قریش کے سوا تمام عرب بیت اللہ شریف کا طواف اپنے پہنے ہوئے کپڑوں میں نہیں کرتے تھے سمجھتے تھے کہ یہ کپڑے جنہیں پہن کر اللہ کی نافرمانیاں کی ہیں اس قابل نہیں رہے کہ انہیں پہنے ہوئے طواف کرسکیں ہاں قریش جو…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 19
مطلب یہ ہے کہ خدا کے دین کو تمہاری ان بیہودہ رسموں سے کیا تعلق۔ اس نے جس دین کی تعلیم دی ہے اس کے بنیادی اصول تو یہ ہیں کہ
(1) انسان اپنی زندگی کو عدل ور استی کی بنیاد پر قائم کرے،
(2) عبادت میں اپنا رخ ٹھیک رکھے، یعنی خدا کے سوا کسی اور کی بندگی کا شائبہ تک اس کی عبادت میں نہ ہو، معبود حقیقی کے سوا کسی دوسرے کی طرف اطاعت و غلامی اور عجز و نیاز کا رخ ذرا نہ پھرنے پائے،
(3) رہنمائی اور تائید و نصرت اور نگہبانی و حفاظت کے لیے خدا ہی سے دعا مانگے، مگر شرط یہ ہے کہ اس چیز کی دعا مانگنے والا آدمی پہلے اپنے دین کو خدا کے لیے خالص کرچکا ہو۔ یہ نہ ہو کہ زندگی کا سارا نظام تو کفر و…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں رشاد فرمایا (آیت) قُلْ اَمَرَ رَبِّيْ بالْقِسْطِ ، یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف ننگے طواف کے جائز کرنے کی غلط نسبت کرنے والے جاہلوں سے آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ تو ہمیشہ قسط کا حکم دیا کرتے ہیں، قسط کے اصلی معنی انصاف و اعتدال کے ہیں، اور اس جگہ قسط سے مراد وہ عمل ہے جو افراط وتفریط سے خالی ہو یعنی نہ اس میں کوتاہی ہو اور نہ مقررہ حد سے تجاوز ہو، جیسا کہ تمام احکام شرعیہ کا یہی حال ہے، اس لئے لفظ قسط کے مفہوم میں تمام عبادات اور طاعات اور عام احکام شرعیہ داخل ہیں (روح المعانی)
اس آیت میں قسط یعنی انصاف و اعتدال کا حکم بیان کرنے کے بعد ان لوگوں کی گمراہی اور بےراہی کے مناسب احکام…
Read the full tafseer →قُلْ اَمَرَ رَبِّيْ بِالْقِسْطِ ، لفظ ‘ قسط ’ پر پوری تفصیل کے ساتھ، ہم سورة آل عمران کی تفسیر میں بحث کر آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ چونکہ قائم بالقسط ہے اس وجہ سے بندوں کو اس نے جو حکم بھی ہے سراسر قسط پر مبنی ہے۔ ‘ قسط ’ ایک جامع حقیقت ہے جو تمام شریعت الٰہی کی روح ہے۔ یعنی ہر چیز میں ٹھیک ٹھیک نقطہ عدل و اعتدال کا اہتمام۔ اس کا تعلق زندگی کے کسی ایک ہی پہلو سے نہیں ہے بلکہ ہر پہلو سے ہے، عقائد میں، اعمال میں، عبادات میں، اخلاق میں، معیشت میں، معاشرت میں، قانون میں، سیاست میں، غرض ہر شبعہ زندگی میں یہی وہ اصل الاصول ہے جس پر شریعت الٰہی مبنی ہے۔ موقع و محل کی تبدیلی سے اس کی تعبیریں بدل بدل جائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
29۔ 1 انصاف سے مراد یہاں بعض کے نزدیک لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یعنی توحید ہے۔
29۔ 2 امام شوکانی نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ' اپنی نمازوں اپنا رخ قبلے کی طرف کرلو، چاہے تم کسی بھی مسجد میں ہو ' اور امام ابن کثیر نے اس سے استقامت بمعنی متابعت رسول مراد لی ہے اور اگلے جملے سے اخلاص اللہ اور کہا ہے کہ ہر عمل کی مقبولیت کے لئے ضروری ہے کہ وہ شریعت کے مطابق ہو اور دوسرے خالص رضائے الٰہی کے لئے ہو آیت میں ان باتوں کی تاکید کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
15: شاید مذکورہ بالا سیاق وسباق میں انصاف کا ذکر اس لیے بھی کیا گیا ہے کہ ”حمس“ کے لوگوں نے اپنی جو امتیازی خصوصیات طے کر رکھی تھیں، ان میں سے بعض انصاف کے تقاضوں کے بھی خلاف تھیں۔ مثلاً یہ بات کہ صرف وہی کپڑے پہن کر طواف کرسکتے ہیں، دوسرے لوگ نہیں، حالانکہ اگر دوسرے لوگ گناہ کرسکتے تھے تو یہ لوگ بھی گناہوں سے پاک تو نہیں تھے ل۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
آیت ” کَمَا بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ (29) فَرِیْقاً ہَدَی وَفَرِیْقاً حَقَّ عَلَیْْہِمُ الضَّلاَلَۃُ إِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیَاطِیْنَ أَوْلِیَاء مِن دُونِ اللّہِ وَیَحْسَبُونَ أَنَّہُم مُّہْتَدُونَ (30)
” جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا اسی طرح تم پھر پیدا کئے جاؤ گے ۔ ایک گروہ کو تو اس نے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ مگر دوسرے گروہ پر گمراہی چسپاں ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ انہوں نے خدا کے بجائے شیاطین کو اپنا سرپرست بنا لیا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں ۔ “
یہ آیت ایک خوشنما خوشے کی طرح ہے جس کے اندر اس عظیم سفر انسانیت کا نقطہ آغاز اور نقطہ اختتام دونوں آگئے ہیں۔
آیت ” کَمَا…
Read the full tafseer →5 روح المعانی میں ہے " اَلْقِسْطُ عَلٰی مَا قَالَ غَیْرُ وَاحِدٍ اَلْعَدْلُ وَ ھُوَ الْوَسْطُ مِنْ کُلِّ شَیءٍ اَلْمُتَجَافِیْ عَنْ طَرَفَیِ الْاِفْرَاطِ وَ التَّفْرِیْطِ " آیت کا حاصل یہ ہوا کہ حق تعالیٰ نے ہر کام میں توسط و اعتدال پر رہنے اور افراط وتفریط سے بچنے کی ہدایت کی ہے پھر بھلا فواحش کا حکم کیسے دے سکتے ہیں۔
6 مترجم محقق نے " مسجد " کو غالباً مصدر میمی بمعنی سجود لیکر تجوزاً نماز کا ترجمہ کیا ہے اور " وجوہ " کو اپنے ظاہر پر رکھا ہے یعنی نماز ادا کرنے کے وقت اپنا منہ سیدھا (کعبہ کی طرف) رکھو۔ مگر دوسرے بعض مفسرین اَقِیْمُوا وُجُوْھَکُمْ سے یہ مراد لیتے ہیں کہ خدا کی عبادت کی طرف…
Read the full tafseer →آیت 29 قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بالْقِسْطِقف وَاَقِیْمُوْا وُجُوْہَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ
مسجد اسم ظرف ہے اور یہ ظرف زمان بھی ہے اور ظرف مکان بھی۔ بطور ظرف مکان سجدے کی جگہ مسجد ہے اور بطور ظرف زمان سجدے کا وقت مسجد ہے۔
وَّادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ ط
یعنی اللہ کو پکارنے ‘ اس سے دعا کرنے کی ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ اس کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم کیا جائے۔ جیسا کہ سورة البقرۃ آیت 186 میں روزے کے احکام اور حکمتوں کو بیان کرنے کے بعد فرمایا : اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ لا فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ کہ میں تو ہر پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں ‘ اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں ‘ لیکن…
Read the full tafseer →27 مشرکوں نے طواف کعبہ کے دوران اللہ کے ساتھ اپنے دوسرے معبودوں کو پکارنے اور ننگا طواف کرنے کی رسوم ایجاد تو خود کرلی تھیں اور ذمے اللہ کے لگا رکھی تھیں اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ اللہ نے جو حکم نہیں دیا وہ تو تم اس کے ذمے لگاتے ہو اور جو حکم دیا ہے وہ کرتے نہیں۔ اس نے حکم یہ دیا ہے کہ جو بات کرو انصاف کی کرو، خواہ مخواہ جرم کسی اور کے ذمے نہ لگاؤ اپنی زندگی عدل اور راستی پر استوار کرو جب بھی عبادت کے لیے کسی مسجد میں جاؤ تو تمہاری توجہ صرف اللہ ہی کی طرف ہونا چاہیے، خالصتاً اسی کی عبادت کرو اس میں دوسروں کو شریک نہ بناؤ اور یہ ملحوظ رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے اعمال کی جزا و سزا…
Read the full tafseer →39 ۔ یعنی ہر امر میں توسط و توازن کا طریقہ جو مغز شریعت ہے۔ اور اصل اصول ہے عبادات، معاملات واخلاق میں اس کو کسی قسم کے الفاحشۃ (بیہودگی) سے نسبت کیا ؟ ای بالعدل وھو الوسط من کل شیء المتجافی عن طرفی الافراط والتفریط (بیضاوی)
40 ۔ (اپنے وقت مقرر پر یعنی حشر میں) (آیت) ” کما بداکم “۔ یعنی جس طرح اول بار تمہیں محض اپنی قدرت سے پیدا کردیا تھا۔ (آیت) ” وادعوہ مخلصین لہ الدین “۔ یعنی اس کی عبادت میں ہرگز کسی اور کی شرکت یا آمیز ش نہ ہونے پائے (آیت) ” واقیموا وجوھکم “۔ یعنی ہر عبادت کے وقت اپنی توجہ اللہ ہی کی طرف رکھو، قال ربیع بن انس تو جھوا بالاخلاص للہ تعالیٰ لالوثن ولا لغیرہ (جصاص) (آیت) ” عند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
وَاذا فعلوا فاحشۃ (الآیۃ) اسلام سے پہلے بیت اللہ کا ننگے ہو کر طواف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اس حالت کو اختیار کرکے طواف کرتے ہیں جس اس وقت تھی جب ہمیں ہماری ماؤں نے جنا تھا اور یہ بھی کہتے تھے کہ جس لباس میں ہم اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں اس میں طواف کرنا مناسب نہیں سمجھتے اور کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسی طرح طواف کرنے کا حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بےحیائی کا حکم دے۔
Read the full tafseer →قل امر ربی بالقسط واقیموا وجوہکم عند کل مسجد وادعوہ مخلصین لہ الدین : آپ کہہ دیجئے کہ میرے رب نے انصاف کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ (بھی کہہ دیجئے) کہ تم ہر سجدہ کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھا کرو اور اللہ کی عبادت اس طور پر کرو کہ اس عبادت (یا اطاعت) کو خالص اللہ ہی کے واسطے رکھا کرو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا القسط سے مراد لا الہ الا اللہ ہے۔ ضحاک نے کہا توحید مراد ہے۔ مجاہد اور سدی کے نزدیک عدل مراد ہے۔ لغت میں قسط کا معنی ہے امر متوسط جس کا جھکاؤ طرفین میں سے کسی ایک کی جانب زیادہ نہ ہو۔ افراط وتفریط کے درمیان امر کا نام قسط ہے۔
اقیموا مفعول ہے فعل محذوف ہے یعنی اللہ نے فرمایا ہے کہ اقامت وجوہ…
Read the full tafseer →(29) اس نے تو توحید اور ہر ایک نماز کے وقت اپنا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف کرنے کا حکم دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو کہ توحید کے ساتھ اس عبادت کو خالص اللہ تعالیٰ ہی کے لیے رکھا کرو۔
میثاق کے دن جس طریقہ پر تمہیں نیک وبد، عارف ومنکر، مصدق ومکذب پیدا کیا ہے، اسی طرح لوٹ جاؤ گے۔
Read the full tafseer →قُلْ اَمَرَ رَبِّيْ بالْقِسْطِ ۣ: لہٰذا تم اس کی پیروی کرو۔ یہاں ”اَلْقِسْطُ“ (انصاف) سے مراد توحید ہے، پھر بےحیائی اور بدکاری سے بچنا ہے، کیونکہ سب سے بڑا ظلم اللہ کے ساتھ شرک ہے، فرمایا : (اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) [ لقمان : 13 ] ”بیشک شرک یقیناً بہت بڑا ظلم ہے۔“ پھر کسی انسان کی جان، مال یا آبرو برباد کرنا بڑا ظلم ہے اور سب سے بڑا انصاف اللہ تعالیٰ کی توحید کی شہادت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے : (شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَاۗىِٕمًۢا بالْقِسْطِ ۭ) [ آل عمران : 18 ] ”اللہ نے گواہی دی کہ بیشک حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
آیت نمبر : 29۔ 30
قولہ تعالیٰ : آیت : قل امر ربی بالقسط حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : لا الہ الا اللہ کہنا ہے (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 464 ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قسط کا معنی عدل ہے (تفسیر طبری، جلد 8، صفحہ 183) ، یعنی اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف کا حکم دیا ہے پس تم اس کی اطاعت کرو اور کلام میں حذف ہے۔ آیت : واقیموا وجوھکم اور ہر نماز میں تم اپنی چہروں کو قبلہ شریف کی طرف متوجہ کرو۔ آیت : عند کل مسجد جس مسجد میں بھی تم ہو۔ آیت : وادعوہ مخلصین لہ الدین یعنی تم اسے وحدہ لا شریک مانو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ آیت : کما بداکم تعودون اس کی مثل یہ آیت ہے جو پہلے گزر چکی ہے۔ آیت :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
انصاف اور اخلاص کا حکم
(1) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قل امر ربی بالقسط “ سے مراد عدل ہے۔ لفظ آیت ” واقیموا وجوھکم عند کل مسجد “ یعنی کعبہ کی طرف رخ کرو ہر نماز کے وقت جہاں بھی تم نماز پڑھو بلکہ (عیسائیوں کی عبادت) میں ہو یا کسی اور جگہ لفظ آیت ” کما بداکم تعودون “ (یعنی جس طرح اس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا بدبخت یا نیک بخت) ۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وادعوہ مخلصین لہ الدین، کما بداکم تعودون “ یعنی اس کی عبادت خالص اللہ ہی کے واسطے کرو۔ جیسا کہ تم کو پیدا کیا…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہئے ] اَمَرَ [ حکم دیا ] رَبِّيْ [ میرے رب نے ] بِالْقِسْطِ ۣ [ انصاف کا ] وَ [ اور (یہ کہ ) ] اَقِيْمُوْا [ تم لوگ سیدھا رکھو ] وُجُوْهَكُمْ [ اپنے چہروں کو ] عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ [ ہر سجدہ کرنے کے وقت پر ] وَّادْعُوْهُ [ اور پکارو اس کو ] مُخْلِصِيْنَ [ خالص کرنے والا ہوتے ہوئے ] لَهُ [ اس کیلئے ] الدِّيْنَ ڛ [ کل دین کو ] كَمَا [ جیسے ] بَدَاَكُمْ [ اس نے ابتدا کی تمہاری ] تَعُوْدُوْنَ [ (ویسے ہی ) تم لوگ لوٹو گے ]
( آیت ۔ 29) مسجد ظرف مکان اور ظرف زمان ، دونوں معنی دیتا ہے ۔ ہم ظرف زمان سے ترجمہ کریں گے اسم الفاعل مخلصین حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ اس نے فاعل کا کام…
Read the full tafseer →پھر فرمایا (قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بالْقِسْطِ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْھَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ ) (آپ فرما دیجیے کہ میرے رب نے مجھے انصاف کا حکم دیا ہے اور یہ کہ تم ہر سجدہ کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھو) اس میں ان لوگوں کی تردید ہے جنہوں نے اپنی جہالت سے یوں کہا کہ اللہ نے ہمیں فحش کاموں کا حکم دیا پہلے تو سلبی طور پر ان کی تردید فرمائی کہ اللہ فحش کاموں کا حکم نہیں دیتا، پھر ایجابی طور پر ان کی تردید کی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کا حکم دیا ہے ان کو تو نہیں کرتے اور جن کاموں سے منع فرمایا ہے ان کو کرتے ہو اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب بھی کرتے ہو یہ سراپا گمراہی ہے۔ اب تم سن لو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
تحذیر از فتنۂ شیطانی دربارۂ بےحیائی وعریانی
قال اللہ تعالیٰ یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسا۔۔۔ الی۔۔۔ لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون
(ربط) گزشتہ قصہ میں شیطان کی عداوت کا ذکر فرمایا اور اسی سلسلہ میں یہ بیان فرمایا کہ شیطان نے حضرت آدم اور حواء کو دھوکہ دیا جس کا اثر یہ ہوا کہ ان کے بدن سے جنت کا لباس اتر پڑا جس سے گھبرا کر اور شرما کر جنت کے درختوں کے پتوں سے ستر کو ڈھانکنے لگے۔ یہ برہنگی شیطان کا پہلا فتنہ تھا اب آئندہ آیات میں اسی فتنہ کے متعلق احکام ارشاد فرماتے ہیں جس میں اہل عرب اور شیطان کے اغواء اور اضلال سے مبتلا تھے کہ برہنہ طواف کرتے تھے اور بعض چیزوں کے کھانے کو زمانۂ حج میں حرام…
Read the full tafseer →29:“ القسط ” سے اللہ تعالیٰ توحید مراد ہے۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں۔ قال ابن عباس ؓ بلا الہ الا اللہ (خازن ج 2 ص 183) ۔ واقیموا وجوھکم ای قال واقیموا، اقیموا سے پہلے قال مقدر ہے تاکہ امر کا خبر پر عطف لازم نہ آئے کیونکہ وہ جائز نہیں۔ یعنی اپنی توجہات صرف اللہ کی جانب رکھو اور اس کے ساتھ شریک نہ کرو اور خالصۃً صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
ربط آیات
وحی الٰہی کے اتباع کا حکم دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نافرمانی کرنے والوں کا انجام بیان کیا اس کے بعد حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش اور زمین میں ان کی خلافت و نیابت اور شیطان کے اغوا اور عداوت کی ساری کارگزاری اللہ نے بیان فرمائی جو شیطان نے آدم (علیہ السلام) کے ساتھ کی تھی اللہ تعالیٰ نے آدم اور حوا (علیہما السلام) کی لغزش اور اس پر تنبیہ کا حال بیان فرمایا پھر ان کو معاف کیا اور زمین پر اترنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ ایک مقررہ مدت تک اس زمین پر تمہارا ٹھکانہ ہوگا یہیں مرو گے اور قیامت کو اسی زمین سے اٹھائے جائو گے شیطان کی عداوت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نے جنت میں آدم اور…
Read the full tafseer →فَرِيْقًا ہَدٰي وَفَرِيْقًا حَقَّ عَلَيْہِمُ الضَّلٰلَۃُ 0 ۭ اِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّيٰطِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ اللہِ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ مُّہْتَدُوْنَ 30
فریق
والفَرِيقُ : الجماعة المتفرّقة عن آخرین،
قال : وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقاً يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتابِ [ آل عمران/ 78]
(ر ق ) الفریق
اور فریق اس جماعت کو کہتے ہیں جو دوسروں سے الگ ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقاً يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتابِ [ آل عمران/ 78] اور اہل کتاب میں بعض ایسے ہیں کہ کتاب تو راہ کو زبان مروڑ مروڑ کر پڑھتے ہیں ۔
هدى
الهداية دلالة بلطف،
وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
1 ؎ مجاہدو حسن کہتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح تم لاشے تھے تم کو دنیا میں پیدا اپنی قدرت سے کردیا۔ اسی طرح پھر موت کے بعد تم کو زندہ کر دے گا۔
2 ؎ اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ جس طرح صحیح وسالم دنیا میں پیدا ہوئے تھے اسی طرح قیامت کے دن دوسری بار اٹھو گے۔ حدیث میں آیا ہے جس حال میں جو کوئی مرا ہے اس میں اٹھے گا شرابی مست و مخمور ‘ خدا پرست شاد و مسرور۔ 12 منہ
Read the full tafseer →قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ قف وَاَقِیْمُوْا وُجُوْھَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَّادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہٗ الدِّیْنَ 5 ط کَمَا بَدَاَکُمْ تَعُوْدُوْنَ ۔ (الاعراف : 29)
” کہہ دیجئے (اے پیغمبر) میرے رب نے تو راستی اور انصاف کا حکم دیا ہے اور یہ کہ ہر عبادت میں اپنا رخ اسی کی طرف کرو اور اسی کو پکارو ‘ اسی کے لیے اطاعت کو خاص کرتے ہوئے ‘ جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا ہے ‘ اسی طرح تم پھر پیدا کیے جاؤ گے “۔
اللہ ” قسط “ کا حکم دیتا ہے ‘ اس کی وضاحت
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ مشرکین مکہ سے کہیئے کہ تم نے جن بیہودہ باتوں کو دین بنا کر عمل کرنا شروع کر رکھا ہے اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بعض مشرکین بیت اللہ میں برہنہ طواف کرتے تھے انہیں اس حرکت سے روکا جاتا تو وہ کہتے اس طرح کرنے کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے۔ یہ پرلے درجے کی بےانصافی کی بات ہے۔ اس کی نفی کرنے کے ساتھ یہ وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ بےحیائی کا حکم دینے کی بجائے حیاداری کا حکم دیتا ہے۔
مشرکین نے برہنہ طواف کرنے کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر رکھا تھا اس کے جواب میں انہیں یہ کہا گیا کہ تم اللہ تعالیٰ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کا علم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ باطل مذاہب کی شروع سے یہ روش رہی ہے کہ وہ اپنے فرسودہ نظریات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے انہیں دین کا لبادہ پہناتے ہیں تاکہ عوام…
Read the full tafseer →مخلصانہ عبادت کرو وہ اعادہ کر کے بدلہ دے گا :
آیت 29: قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ (آپ کہہ دیجئے کہ میرے رب نے مجھے انصاف کا حکم دیا ہے) قسط کا معنی انصاف ہے۔ انصاف کا اور ہر اس چیز کا جو صحیح عقل والے کے ہاں مستحسن ہے۔ پس وہ کیونکر فحشاء کا حکم دے سکتے ہیں۔ وَاَقِیْمُوْا وُجُوْھَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ (اور یہ کہ تم ہر سجدہ کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھا کرو) کہہ دو اقیموا وجوھکم یعنی استقامت کے ساتھ اس کی عبادت کا قصد کرو۔ اور ہر وقت سجود میں اس کے علاوہ کسی اور کی طرف مائل ہونے والے مت بنو۔ یا مسجد سے مکان سجود مراد ہے۔ وَّ ادْعُوْہُ (اور اللہ تعالیٰ ہی کو پکارو) اور اسی ہی کی عبادت کرو۔…
Read the full tafseer →تفسیر (29) (قل امر ربی بالقسط) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” لا الہ الا اللہ ‘ کہنے کا اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں توحید کا اور مجاہد اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ انصاف کا (واقیموا وجوھکم عندکل مسجد)
واقیموا وجوھکم عند کل مسجد کی تفسیر
مجاہد اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جہاں بھی ہو نماز میں کعبہ کی طرف متوجہ ہو اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ جب نماز کا وقت آجائے اور تم کسی مسجد کے پاس ہو تو اسی میں نماز پڑھ لو یہ نہ کہو کہ میں اپنی مسجد میں جا کر نماز پڑھوں گا اور بعض نے کہا کہ اپنے سجدوں کو خالص اللہ کے لئے بنائو (وادعوہ مخلصین لہ الدین اور پکارو اس کو اس کی عبادت کرو خلاص اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
(28 ۔ 30) ۔ مجاہد کا قول ہے کہ مکہ کے مشرک ننگے ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتے اور کہتے کہ جس طرح ہم کو ہماری ماں نے جنا ہے اسی طرح ہم طواف کرتے ہیں اور اس کو باپ دادا کی رسم اور خدا کا حکم بتاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں کو نازل کر کے فرمایا کہ پیشتر تم ابھی جان چکے ہو کہ آدم (علیہ السلام) نے جو سب کے باپ ہیں شیطان کا دھوکا کھایا تو پھر اسکی بےحیائی کے کام پر باپ دادا کا حوالہ دینا اور خدا کا حکم سمجھنا بڑی نادانی ہے باپ دادا کا کسی برے کام کو کرنا اس کام کے جائز ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتی دنیا کے کاموں میں تو اس طرح تم باپ دادا کی پیروی نہیں کرتے یہ کبھی نہ سنا کہ کسی نے باپ دادا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
آیت 28
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کا حال بیان کرتا ہے جو گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ (واذا فعلوا فاحشۃ) ” جب وہ کوئی فحش کام کرتے ہیں۔ “ فحش سے مراد ہر وہ کام ہے جو برا اور انتہائی قبیح ہو۔ عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ (قالوا وجدنا علیھا ابآء نا) ” کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے “ اور وہ اس بارے میں سچے ہیں (واللہ امرنا بھا) ” اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے “ وہ اس فحش کام کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے میں جھوٹ بولتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
نماز با جماعت
قول باری ہے واقیمواوجوھکم عند کل مسجد۔ اور ہر عبادت میں اپنا رخ ٹھیک رکھو) مجاہد اور سدی سے مروی ہے کہ ” نماز میں مسجد کے قبلے کی طرف اپنا رخ ٹھیک رکھو “۔ ربیع بن انس کا قول ہے کہ اخلاص کے ساتھ اللہ کی طرف اپنا رخ کرلو، نہ کسی بت کی طرف اور نہ کسی اور چیز کی طرف “۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں آیت میں دو باتیں بیان کی گئی ہیں اول یہ کہ قبلے کی طرف اس طرح رخ ٹھیک رکھنا کہ اس کی سمت رخ ہٹا ہوا نہ ہو۔ دوم یہ کہ مسجد میں جا کر نماز ادا کرنا۔ یہ بات مسجد میں جماعت کے ساتھ فرض نمازوں کی ادائیگی کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ اس لئے کہ مساجد جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی کے لئے تعمیر کی جاتی ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
36 عبادت کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنا رخ سیدھا رکھا کرو ہر عبادت کے وقت اور اپنے اس معبود حقیقی اور اس کی رضا ہی کو اپنی عبادت و بندگی اور اپنی تمام ترتوجہات کا مرکز بناکر۔ اس کے ساتھ کسی اور کو کسی بھی طور پر اور کسی بھی درجے میں اس کا شریک وسہیم مت ٹھہراؤ۔ نہ کسی خودساختہ بت کو اور نہ کسی فرشتہ اور نبی ولی کو۔ (المراغی وغیرہ) ۔ کہ وہ ایسے ہر شرک اور اس کے ہر شائبہ سے پاک ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس اس کے سوا عبادت و بندگی اور اس کی کوئی بھی شکل اور قسم کسی بھی اور کے لئے بجا لانا جائز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–43
سزا اور جزا کی خبر
تشریح : پچھلی آیات میں بہترین زندگی گزارنے کے اصول، قوانین اور طریقے بتائے گئے ہیں۔ ان آیات میں دوبارہ صالحین اور مشرکین کے بارے میں وضاحت کی جا رہی ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی شک باقی نہ رہ جائے کیونکہ اکثر لوگ یہی کہتے ہیں کہ جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا۔ اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ بھئی مرنے کے بعد کس طرح ہم زندہ ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو باربار سمجھا رہے ہیں کہ کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔ تم کھائو، پیو اور مزے اڑالو مگر یاد رکھو موت کا وقت مقرر ہے ایک سیکنڈ بھی اس سے آگے پیچھے نہ ہوگا۔ اس وقت تم اپنے برے اعمال پر پچھتائو گے تو کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ عمل کا وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 26 تا 31:
اسرار و معارف :
گناہ اور خطا کی نسبت اپنی طرف کرکے اللہ سے توبہ کی جائے :
اے اولاد آدم (علیہ السلام) ہم تمہیں لباس عطا فرمایا ہے جو تمہارے لیے ستر عورت کا کام بھی کرتا ہے اور زینت کا باعث بھی ہے یعنی ایسی اشیا پیدا فرمائیں جن سے لباس تیار ہوسکتا ہے اور تمہیں یہ شعور عطا فرمایا کہ طرح طرح کے لباس بناتے ہو جس سے تمہارے جسم کے پردے کا اہتمام بھی ہوتا ہے اور تمہیں سجتا بھی ہے باعث زینت بھی ہے۔
اگر انسانیت فنا نہ ہوچکی ہو اور انسان محض ایک حیوان کی سطح پر نہ گر جائے تو جسم کے پوشیدہ حصوں کو کھولنا گوارا نہیں کرتا جانوروں اور پرندوں میں تو اعضا ہی ایسے طریقے سے پیدا…
Read the full tafseer →ف 9 لہذا تم اس کی پیروی اور اپنی بےحیائی اور بدکاری سے باز آجاؤ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ انصاف سے مراد لا الہ الا اللہ یعنی خالص توحید ہے جیسا کہ سورة آل عمران کی آیت، شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو۔۔۔ قائما بالقسط سے معلوم ہوتا ہے۔ رازی)10 یعنی قبلہ کی طرف سیدھی کرلو ہر نماز میں یا ہر جگہ جہاں تم نماز پڑھو۔ (کبیر)11 یعنی خالصتہ اسی کی عبادت کرو اور اس کو پکار نے اور اس کی عبادت کرنے میں دوسرے کو شریک نہ کرو الٖغرض اس آیت میں تین باتوں کا حکم دیا ہے جس کے معنی یہ ہی کہ عبادت شرک اور ممنوع چیزوں پر مشتمل ہو وہ فواحش میں داخل ہے۔ ( کذافی الکبیر )
1 یعنی جس طرح پہلے کچھ نہ تھے اور اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →(7:29) بالقسط۔ بالعدل وھو الوسط من کل امر۔ قسط سے مراد عدل یعنی ہر کام میں درمیانی راستہ اختیار کرنا نہ اس میں افراط ہو نہ تفریط۔
فاقیموا اوجوہکم عند کل مسجد کی تقدیر یوں ہے قل امر ربی بالقسط وقال اقیموا وجوہکم عند کل مسجد (الخازن) تو کہہ (اے محمد ﷺ ) میرے رب نے عدل و انصاف کا حکم دیا ہے ۔ اور فرمایا ہے اپنے چہرے سیدھے کرو (قبلہ کی طرف) ہر نماز کے وقت۔
اقیموا۔ اقامۃ الشیٔ اعطاء الشیٔ حقہ وتوفیتہ شروطہ۔ یعنی کسی چیز کو کما حقہ اس کی تمام شرائط کو پورا کرتے ہوئے ادا کرنا۔ اقیموا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاض رہے۔ تم قائم کرو۔ تم درست کرو۔ اقامۃ (باب افعال) سے بمعنی قائم کرنا۔ درست رکھنا۔
وجوہکم۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
لغات القرآن آیت نمبر (28 تا 30 ) ۔
فاحشتہ (بےحیائی کا کام ) ۔ امرنا (اس نے ہمیں حکم دیا ہے ) ۔ لا یا مر (وہ حکم نہیں دیتا ) ۔ اقیموا (قائم رکھو ) ۔ وجوھکم (وجہ) اپنے چہروں کو) ۔ ادعوا (پکارو) ۔ مخلصین (خالص کرنے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر (28 تا 30 ) ۔ ” ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کی ان من گھڑت رسموں اور ننگے ہو کر عبادت کرنے کی فضول رسموں پر گرفت کی ہے۔ جن کو انہوں نے مذہب کا رنگ دے دیا تھا۔
1) ان کا یہ خیال تھا کہ جن کپڑوں میں ہم گناہ کرتے ہیں ان کو پہن کر بیت اللہ کا طواف کرنا گناہ ہے قریش کے علاوہ سارے کفار برہنہ ہو کر طورف کرتے تھے۔ ان کی اسی رسم کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ اگر قریش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
حلال چیزوں کو حرام ٹھہرانے کی تنبیہ کا حکم
شان نزول : زمانہ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ مرد اور عورتیں رات کو سب ننگے طواف کرتے تھے اور بعضے قبیلہ کے لوگ بعضے چیزوں کا کھانا بھی حج کے موسم میں اپنے اوپر حرام کرلیتے تھے۔ اس رسم کے مٹانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں، اور فرمایا کہ حرام وہی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے اپنے رسول کی معرفت حرام فرمائی ہے۔ جن لوگوں نے طواف کے وقت کپڑوں کا پہننا، موسم حج میں چکنائی یا گوشت کا کھانا چھوڑ رکھا ہے، ان لوگوں کی ایک رسم ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی حکم سے ابن چیزوں کو ان لوگوں کی ملت ابراہیمی میں حرام نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
[14] نماز کے لئے صرف اتنا کافی نہیں کہ آدمی اپنا ستر چھپائے بلکہ ضروری ہے کہ حسب استطاعت اپنا پورا لباس پہنے جس میں ستر پوشی بھی ہو اور زینت بھی۔
[15] یعنی آدمی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدوں سے تجاوز نہ کرے، خواہ یہ تجاوز حلال کو حرام کرلینے کی شکل میں ہو یا حرام کو حلال کرلینے کی شکل میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(ف 1)
مقصد یہ ہے کہ اللہ انصاف وعدل کے سوا اور کسی بات کا حکم نہیں دیتا ، وہ کہتا ہے تزکیہ باطل کے لئے کوشش کرو ، اور اخلاص کے ساتھ کیونکہ تمہیں اس کے حضور میں پیش ہونا ہے اور جواب دینا ہے اپنے اعمال کا ۔
Read the full tafseer →29 جو باتیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ تو غلط ثابت ہوئیں اب جن باتوں کا وہ حکم دیتا ہے ان میں سے کچھ باتیں ان کو بتائیے۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میرا پروردگار تو انصاف کا حکم دیتا ہے اور اس نے تو افراط وتفریط سے بچ کر معتدل راہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ بھی حکم دیا ہے کہ تم ہر نماز کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھا کرو یعنی منہ کعبہ کی طرف اور دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رکھا کرو یا یہ کہ ہر عبادت میں سیدھے رہو اور شریعت کی راہ سے ادھر ادھر نہ ہوا کرو
شارع (علیہ السلام) نے جو طریقہ بتایا ہے اسی کے موافق تمام عبادات بلالایا کرو۔ اور اس کی عبادت خالص اسی کے لئے کرنے والے ہو اور اس کے…
Read the full tafseer →ف 3۔ ان مامورات میں سب اصول شریعت آگئے قسط میں حقوق العباد اقیموا میں اعمال و طاعات مخلصین میں عقائد۔ مطلب یہ کہ اللہ کے تو یہ احکام ہیں ان کو مانو کیونکہ صرف تم کو حکم دے کر نہیں چھوڑ دیا جائے گا بلکہ ایک وقت حساب و کتاب کے لیے بھی آنے والا ہے یعنی قیامت۔
Read the full tafseer →اعلان فرما دیجئے کہ میرے رب کا تو ہر حکم اعتدال و انصاف کا ہے :
37: قسط کیا ہے ؟ قسط انصاف و اعتدال کا دوسرا نام ہے۔ اس جگہ قسط سے مراد وہ عمل ہے جو افراط وتفریط سے خالی ہو یعنی نہ تو اس میں کسی قسم کی کوتاہی ہو اور نہ ہی مقررہ حد سے تجاوز ہو اور شریعت اسلامی کے ایک ایک حکم کو اس کسوٹی پر رکھ کر دیکھتے جائو یقیناً ایک حکم بھی اس کے خلاف نہیں ہوگا۔ اس لئے لفظ ” قسط “ ایک جامع حقیقت ہے جو تمام شریعت الٰہی کی روح ہے یعنی ہرچیز میں ٹھیک ٹھیک نقطہ عدل و اعتدال کا اہتمام۔ اس کا تعلق زندگی کے کسی ایک پہلو سے نہیں بلکہ ہر پہلو سے ہے۔ عقائد سے ، اعمال سے ، عبادات سے ، اخلاق سے ، معشتی سے ، معاشرت سے ،…
Read the full tafseer →Said in the second verse was: قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ (Say, "My Lord has bid-den me to do justice). Here, the Holy Prophet ﷺ has been asked to tell those ignorant people, who were falsely attributing the justification of their naked Tawaf towards Allah, that Allah always commands justice. The word used here is: اَقِسط (al-qist) which essentially means justice, balance and moderation. At this place, ` al-qist' refers to a conduct which is free of excess or deficiency, that is, which neither falls short, nor exceeds the appointed limits - as is the case with all injunctions of the…
Read the full tafseer →19. The verse seeks to suggest that God has nothing to do with their foolish rituals. So far as the religion truly prescribed by Him is concerned, its fundamental principles are the following:
(1) That man should base his life on justice and righteousness.
(2) That man's worship should have the right orientation, i.e. that it should he directed to God alone and should be free of every trace of devotion to others than God, that man should reserve his absolute enthralment and bondage for the One True God alone. All these should have only one direction - the One that is truly worthy of…
Read the full tafseer →