Explained with ayahs 28–30
جہالت اور طواف کعبہ
مشرکین ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جیسے ہم پیدا ہوئے ہیں اسی حالت میں طواف کریں گے۔ عورتیں بھی آگے کوئی چمڑے کا ٹکڑا یا کوئی چیز رکھ لیتی تھیں اور کہتی تھیں۔
الیوم یبدو بعضہ اوکلہ
وما بدا منہ فلا احلہ
آج اس کا تھوڑا سا حصہ ظاہر ہوجائے گا اور جتنا بھی ظاہر ہو میں اسے اس کے لئے جائز نہیں رکھتی۔ اس پر آیت (واذا فعلوا) الخ، نازل ہوئی ہے۔ یہ دستور تھا کہ قریش کے سوا تمام عرب بیت اللہ شریف کا طواف اپنے پہنے ہوئے کپڑوں میں نہیں کرتے تھے سمجھتے تھے کہ یہ کپڑے جنہیں پہن کر اللہ کی نافرمانیاں کی ہیں اس قابل نہیں رہے کہ انہیں پہنے ہوئے طواف کرسکیں ہاں قریش جو…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 17
اشارہ ہے اہل عرب کے برہنہ طواف کی طرف، جس کا ہم اوپر ذکر کرچکے ہیں۔ وہ لوگ اس کو ایک مذہبی فعل سمجھ کر کرتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ خدا نے یہ حکم دیا ہے۔
سورة الْاَعْرَاف 18
بظاہر یہ ایک بہت ہی مختصر سا جملہ ہے مگر درحقیقت اس میں قرآن مجید نے ان لوگوں کے جاہلانہ عقائد کے خلاف ایک بہت بڑی دلیل پیش کی ہے۔ اس طرز استدلال کو سمجھنے کے لیے دو باتیں بظور مقدمہ کے پہلے سمجھ لینی چاہییں
ایک یہ کہ اہل عرب اگرچہ اپنی بعض مذہبی رسموں میں برہنگی اختیار کرتے تھے اور اسے ایک مقدس مذہبی فعل سمجھتے تھے، لیکن برہنگی کا بجائے خود ایک شرمناک فعل ہونا خود ان کے نزدیک بھی مسلَّم تھا، چناچہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور وہ لوگ جب کوئی فحش کام کرتے ہیں (یعنی ایسا کام جس کی برائی کھلی ہوئی ہو اور انسانی فطرت اس کو برا سمجھتی ہو، جیسے ننگے ہو کر طواف کرنا) تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ داد کو اسی طریق پر پایا ہے اور (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے بھی ہم کو یہی بتلایا ہے (اے رسول اللہ ﷺ ان کے جاہلانہ استدلال کے جواب میں) آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ فحش کام کی کبھی تعلیم نہیں دیتا، کیا (تم ایسا دعویٰ کرکے) خدا کے ذمہ ایسی باتیں لگاتے ہو جس کی تم کوئی سند نہیں رکھتے، آپ ﷺ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ (تم نے جن فحش اور غلط کاموں کا حکم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے وہ تو غلط ہے، اب وہ بات سنو جس کا حکم…
Read the full tafseer →وَاِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَيْهَآ اٰبَاۗءَنَا وَاللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا ۭقُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَاْمُرُ بِالْفَحْشَاۗءِ ۭاَتَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔
قریش پر شیطان کا جال :۔ ان یاد دہانیوں کو سنانے کے بعد جو اولاد آدم کو کی گئی تھیں اب یہ قریش اور عربوں کا حال سنایا جا رہا ہے کہ کس طرح شیطان نے ان کو چکمہ دے کر اپنے جال میں پھنسا لیا ہے اور وہ اس کو اپنا دوست بنائے بیٹھے ہیں حالانکہ اس نے ان کے ساتھ بھی اسی طرح کا معاملہ کیا ہے جس طرح کا معاملہ ان کے باپ ماں۔ آدم و حوا۔ کے ساتھ کیا تھا۔ آدم و حوا کے کپڑے اس نے جنت میں اتوا لیے تھے، آدم کے ان بیٹوں…
Read the full tafseer →28۔ 1 اسلام سے قبل مشرکین بیت اللہ کا ننگا طواف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اس حالت کو اختیار کرکے طواف کرتے ہیں جو اس وقت تھی جب ہماری ماؤں نے جنا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ اس کی یہ تاویل کرتے تھے کہ ہم جو لباس پہنے ہوتے ہیں اس میں ہم اللہ کی نافرمانی کرتے رہتے ہیں، اس لئے اس لباس میں طواف کرنا مناسب نہیں۔ چناچہ وہ لباس اتار کر طواف کرتے اور عورتیں بھی ننگی طواف کرتیں، اس لئے، صرف اپنی شرم گاہ پر کوئی کپڑا یا چمڑے کا ٹکڑا رکھ لیتیں۔ اپنے اس شرم ناک فعل کے لئے دو عذر انہوں نے اور پیش کیے۔ ایک تو یہ کہ اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ اللہ نے اس کی تردید فرمائی کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →14: اس سے اسی رسم کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ عریاں ہو کر طواف کرتے تھے چونکہ یہ رسم برسوں سے چلی آتی تھی اس لئے ان کی دلیل یہ تھی کہ ہمارے باپ دادا ایسا ہی کرتے چلے آئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت ” قُلْ إِنَّ اللّہَ لاَ یَأْمُرُ بِالْفَحْشَاء أَتَقُولُونَ عَلَی اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (28)
” ان سے کہو اللہ بےحیائی کا حکم کبھی نہیں دیا کرتا ۔ کیا تم اللہ کا نام لے کر وہ باتیں کہتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہیں ؟ “۔
اللہ تعالیٰ مطلقا فحاشی کے خلاف ہیں اور فحاشی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کسی بھی معاملے میں مقررہ حد سے گزر جائے ۔ عریانی بھی اسی کی تعریف میں آتی ہے اس لئے اللہ اس کا حکم کیسے دے سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حدود مقرر کئے ہیں اور وہ یہ حکم نہیں دیتا کہ اس کے مقرر کردہ حدود توڑے جائیں ۔ اس نے شرم ‘ حیاء اور تقوی کا حکم دیا ہے تو پھر عریانی کا…
Read the full tafseer →4 یعنی برے اور بےحیائی کے کاموں مثلاً مرد و عورت کا برہنہ طواف کرنا، جو ان آیات کی شان نزول ہے جن سے عقل سلیم اور فطرت صحیحہ نفرت کرتی ہے۔ خدائے قدوس کی شان نہیں کہ ان کی تعلیم دے وہ تو پاکی اور حیا کا سرچشمہ ہے۔ گندے اور بےحیائی کے کاموں کا حکم کیسے دے سکتا ہے اصل میں بےحیائی اور برائی کی تعلیم دینے والے وہ شیاطین ہیں جن کو انہوں نے اپنا رفیق بنا رکھا ہے۔ دیکھو تمہارے سب سے پہلے ماں باپ کو شیطان نے فریب دیکر برہنہ کرایا۔ مگر وہ شرم و حیاء کے مارے درختوں کے پتے بدن پر لپیٹنے لگے معلوم ہوا کر برہنگی شیطان کی جانب سے اور ستر کی کوشش تمہارے باپ کی طرف سے ہوئی۔ پھر برہنہ طواف کرنے پر باپ دادوں کی…
Read the full tafseer →آیت 28 وَاِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْہَآ اٰبَآءَ نَا وَاللّٰہُ اَمَرَنَا بِہَا ط۔
یہ لوگ جب ننگے ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتے تو اس شرمناک فعل کا جواز پیش کرتے ہوئے کہتے کہ ہم نے اپنے آباء و اَجداد کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے اور یقیناً اللہ ہی نے اس کا حکم دیا ہوگا۔ یہ گویا ان کے نزدیک ایک ٹھوس ‘ قرائنی شہادت circumstantial evidence تھی کہ جب ایک ریت اور رسم چلی آرہی ہے تو یقیناً یہ سب کچھ اللہ کی مرضی اور اس کے حکم کے مطابق ہی ہو رہا ہوگا۔
Read the full tafseer →26 ننگے طواف کرنا برہنگی ہر جاہلی تہذیب کا جزء ہے :۔ دور جاہلیت میں عرب لوگ ننگا ہوجانے کو کوئی معیوب فعل تصور نہیں کرتے تھے۔ بغیر پردہ یا اوٹ کے ننگے نہانا، راستے میں ہی بلا جھجک رفع حاجت کے لیے بیٹھ جانا یا محفل میں کسی کے ستر کھل جانے کو وہ عیب نہیں سمجھتے تھے اور اہل عرب ہی کا کیا ذکر ہر جاہلی معاشرہ میں یہی حالت ہوتی ہے۔ اہل عرب میں جو اس سے بھی زیادہ شرمناک فعل تھا وہ یہ تھا کہ وہ کعبہ کا طواف بھی ننگے ہو کر کرتے تھے اور انہوں نے اپنے اس فعل کو مذہبی تقدس کا درجہ دے رکھا تھا عورتیں اس شرمناک فعل میں مردوں سے بھی دو ہاتھ آگے تھیں جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ…
Read the full tafseer →37 ۔ آج بھی اہل باطل اور فسق پیشہ گروہ کے پاس عموما یہی جواب اپنی ہر بیہودگی کی حمایت میں رہتا ہے۔ پہلے تو خاندانی رواج اور برادری کے دستور اور ملکی رسم کو سند میں پیش کرتے ہیں۔ اور پھر کہتے ہیں کہ ہم کیا کریں۔ خدا نے ہم کو رکھا ہی اسی حال میں اور اسی طریق پر ہے۔ یہ ہم جو کچھ کررہے ہیں۔ اگر اس کی مرضی نہ ہوتی تو ہم کرتے کیسے ؟ (آیت) ” واذا فعلوا فاحشۃ “۔ فاحشۃ کے تحت میں اعتقادی، عملی، ہر قسم کی بیہودگی آگئی۔
38 ۔ یہ کیسا جہل مرکب ہے کہ اللہ نے جو تمہیں آزادی عمل دے رکھی ہے اس سے غلط کام لینے کو خدا کی مرضی قرار دے رہے ہو ؟ اور جو طرز زندگی سرتاسر قانون الہی کے منافی ہے، اسے اس کا منظور شدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
وَاذا فعلوا فاحشۃ (الآیۃ) اسلام سے پہلے بیت اللہ کا ننگے ہو کر طواف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اس حالت کو اختیار کرکے طواف کرتے ہیں جس اس وقت تھی جب ہمیں ہماری ماؤں نے جنا تھا اور یہ بھی کہتے تھے کہ جس لباس میں ہم اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں اس میں طواف کرنا مناسب نہیں سمجھتے اور کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسی طرح طواف کرنے کا حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بےحیائی کا حکم دے۔
Read the full tafseer →واذا فعلوا فاحشۃ قالوا وجدنا علیہا آباء نا واللہ امرنا بہا اور وہ لوگ جب کوئی بےحیائی کا کام (شرک یا برہنہ طواف وغیرہ) کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی پر پایا ہے اور اللہ نے ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ فاحشۃ حد سے زیادہ بری بات۔ اس سے مراد ہے شرک ‘ لیکن حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد کے نزدیک برہنہ ہو کر کعبہ کا طواف کرنا مراد ہے۔ بظاہر لفظ فاحشہ کے اندر ہر کبیرہ گناہ داخل ہے۔ یعنی جب وہ حد سے زیادہ کوئی بری حرکت کرتے ہیں اور ان کو منع کیا جاتا ہے تو اس کے جواز کی دو دلیلیں بیان کرتے ہیں کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو یونہی کرتے پایا (لہٰذا یہ عمل صحیح ہے) اور اللہ نے بھی ہم کو اس کا…
Read the full tafseer →(28) اور جب وہ لوگ اپنے اپنے اوپر بحیرہ، سائبہ، حام وصیلہ کو حرام کرلیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ العیاذ باللہ اللہ تعالیٰ نے بھی ہمیں ان چیزوں کا حکم دیا ہے، اے نبی کریم ! آپ فرما دیجیے کہ معاصی اور کھیتیوں اور جانوروں کو حرام کرلینے کا اللہ تعالیٰ حکم نہیں دیتا۔
Read the full tafseer →وَاِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً۔۔ : یہاں ”فَاحِشَۃٌ“ اور ”فَحْشَاءُ“ سے مراد وہ عبادات ہیں جو انھوں نے از خود ایجاد کرلی تھیں، مثلاً ان کے مرد اور عورتیں ننگے ہو کر طواف کرتے کہ جن کپڑوں میں ہم گناہ کرتے ہیں ان میں طواف کیسے کریں ؟ اس کے علاوہ اس آیت میں مشرکین کے اپنی بےحیائی اور بدکاری پر قائم رہنے کے دو عذر بیان کیے گئے ہیں، ایک یہ کہ ہم نے بڑوں کو ایسا کرتے پایا ہے اور دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے۔ پہلی بات یعنی اپنے بڑوں کو ایسا کرتے ہوئے پانے کی چونکہ درست تھی اس لیے یہاں اس کی نفی نہیں کی گئی۔ ہاں دوسری کئی آیات میں بتایا گیا ہے کہ باپ دادا کے نقش قدم پر چلتے رہنا کوئی دلیل…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 28
اکثر مفسرین کے قول کے مطابق یہاں فاحشۃ سے مراد ان کے ننگے بدن بیت اللہ شریف کا طواف کرنا ہے (تفسیر کشاف، جلد 2، صفحہ 99) ۔ اور حسن نے کہا ہے : اس سے مراد شرک اور کفر ہے (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 216) ۔ اور اس پر انہوں نے ان کی اپنے اسلاف کی تقلید کرنے سے استدلال کیا ہے اور اس سے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کے بارے حکم دیا ہے۔
اور حسن نے کہا ہے : آیت : واللہ امرنا بھا (اور اللہ نے بھی ہمیں اس کا حکم دیا ہے) یہ انہوں نے ان کی اپنے اسلاف کی تقلید کرنے سے استدلال کیا ہے اور اس سے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کے بارے حکم دیا ہے۔
اور حسن نے کہا ہے : آیت : واللہ امرنا بھا ( اور اللہ نے…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذا فعلوا فاحشۃ قالوا وجدنا علیہا اباء نا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرتے تھے تو اس سے ان کو روک دیا گیا۔
(2) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذا فعلوا فاحشۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ یعنی ان کی بےحیائی یہ تھی کہ وہ بیت اللہ کے گرد ننگے ہو کر طواف کرتے تھے۔
(3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذا فعلوا فاحشۃ “ کے بارے میں فرمایا یمن والوں میں سے عرب کا ایک قبیلہ ننگے ہو…
Read the full tafseer →[ وَاِذَا : اور جب کبھی ] فَعَلُوْا [ وہ لوگ کرتے ہیں ] فَاحِشَةً [ کوئی بےحیائی ] قَالُوْا [ تو کہتے ہیں ] وَجَدْنَا [ ہم نے پایا ] [ عَلَيْهَآ : اس پر ] اٰبَاۗءَنَا [ اپنے اجداد کو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ نے ] اَمَرَنَا [ حکم دیا ہم کو ] بِهَا ۭ [ اس کا ] قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] لَا يَاْمُرُ [ حکم نہیں دیتا ] بِالْفَحْشَاۗءِ ۭ [ بےحیائیوں کا ] اَ [ کیا ] تَقُوْلُوْنَ [ تم لوگ کہتے ہو ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] مَا [ وہ جو ] لَا تَعْلَمُوْنَ [ تم لوگ نہیں جانتے ]
Read the full tafseer →جاہلوں کی جہالت جو فحش کام کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں ان کا حکم دیا ہے
شیطان کی تعلیم وتلبیس کی وجہ سے زمانہ جاہلیت میں لوگوں کا یہ حال تھا جو اوپر بیان فرمایا اور جو لوگ نبی اکرم ﷺ کے پیرو نہیں ہیں ان کا اب بھی یہی حال ہے کہ فواحش کے مرتکب ہوتے ہیں اور بےحیائی کے کام کرتے ہیں، جب انہیں سمجھایا جاتا ہے کہ یہ کام برا ہے تو وہ اپنی بد عملی اور بےحیائی کے جواز کے لیے یوں کہے دیتے ہیں کہ اجی ! ہمارے باپ دادے ایسا ہی کرتے آئے ہیں کیا ہمارے باپ دادوں کو اچھے برے کی تمیز نہ تھی۔ (اس کا جواب سورة مائدہ میں دیدیا گیا اور وہ یہ کہ (اَوَلَوْ کَانَ اٰبَآؤُھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْءًا وَّ لَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
تحذیر از فتنۂ شیطانی دربارۂ بےحیائی وعریانی
قال اللہ تعالیٰ یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسا۔۔۔ الی۔۔۔ لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون
(ربط) گزشتہ قصہ میں شیطان کی عداوت کا ذکر فرمایا اور اسی سلسلہ میں یہ بیان فرمایا کہ شیطان نے حضرت آدم اور حواء کو دھوکہ دیا جس کا اثر یہ ہوا کہ ان کے بدن سے جنت کا لباس اتر پڑا جس سے گھبرا کر اور شرما کر جنت کے درختوں کے پتوں سے ستر کو ڈھانکنے لگے۔ یہ برہنگی شیطان کا پہلا فتنہ تھا اب آئندہ آیات میں اسی فتنہ کے متعلق احکام ارشاد فرماتے ہیں جس میں اہل عرب اور شیطان کے اغواء اور اضلال سے مبتلا تھے کہ برہنہ طواف کرتے تھے اور بعض چیزوں کے کھانے کو زمانۂ حج میں حرام…
Read the full tafseer →27: یہ شکوی ہے اور “ فَاحِشَةً ” سے یہاں برہنہ طواف اور دیگر مشرکانہ افعال مراد ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس زہری، مجاہد زید بن اسم، ابن عطیہ اور سدی سے منقول ہے وھو طوافھم بالبیت عراۃ وشرکھم (مدارک) قال ابن عطیۃ والفاحشۃ وان کان عاماھی کشف العورۃ فی الطواف فقد روی عن الزھری انہ قال فی ذلک نزلت ھذہ الایت وقالہ ابن عباس و مجاھد انتھی و بہ قال زید بن اسلم والسدی۔ مشرکین کو جب اپنے افعال قبیحہ سے روکا جاتا تو کہتے کہ ہمارے باپ دادا یہ کام کرتے چلے آئے ہیں اور اللہ نے ہمیں ان کاموں کا حکم دیا ہے۔
28: یہ جواب شکوی ہے۔ یعنی یہ اللہ تعالیٰ پر سراسر افتراء ہے کہ اس نے ان کو ان کاموں کا حکم دیا ہے کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
ربط آیات
وحی الٰہی کے اتباع کا حکم دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نافرمانی کرنے والوں کا انجام بیان کیا اس کے بعد حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش اور زمین میں ان کی خلافت و نیابت اور شیطان کے اغوا اور عداوت کی ساری کارگزاری اللہ نے بیان فرمائی جو شیطان نے آدم (علیہ السلام) کے ساتھ کی تھی اللہ تعالیٰ نے آدم اور حوا (علیہما السلام) کی لغزش اور اس پر تنبیہ کا حال بیان فرمایا پھر ان کو معاف کیا اور زمین پر اترنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ ایک مقررہ مدت تک اس زمین پر تمہارا ٹھکانہ ہوگا یہیں مرو گے اور قیامت کو اسی زمین سے اٹھائے جائو گے شیطان کی عداوت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نے جنت میں آدم اور…
Read the full tafseer →قُلْ اَمَرَ رَبِّيْ بِالْقِسْطِ 0 ۣ وَاَقِيْمُوْا وُجُوْہَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّادْعُوْہُ مُخْلِصِيْنَ لَہُ الدِّيْنَ 0ۥۭ كَـمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَ 29 ۭ
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] . وعلی هذا قوله تعالی: وَلا يَأْمُرَكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلائِكَةَ وَالنَّبِيِّينَ أَرْباباً [ آل…
Read the full tafseer →ترکیب : واذا شرط قالوا جواب واقیموا معطوف ہے محل القسط پر معنی ً ای امر ربی فقال اقسطوا واقیمو الدین منصوب ہے مخلصین سے۔ فریقاً منصوب ہے ھدیً اور فریقاً ثانی منصوب ہے فعل محذوف سے ای اصل یدل علیہ مابعدہ اور یہ جملہ حال ہے تعودون سے جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے۔ انہم جملہ قائم مقام دو مفعولوں کے۔
تفسیر : اب ان شیاطین کے مریدوں اور دوستوں کے خصائلِ بد ذکر کرتا ہے۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ جب وہ کوئی فحش بات کرتے ہیں زنا یا مغلظات گالیاں یا اور سینکڑوں بےحیائی کے کام تو عقل کے اندھے اس کو اللہ کا حکم اور باپ دادا کی عمدہ رسم بتاتے ہیں جس کے رد میں فرماتا ہے کہ کہہ دے خدا بری باتوں کا حکم نہیں دیا…
Read the full tafseer →وَاِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْھَآ اٰبَآئَنَا وَ اللہ ُ اَمَرَنَا بِھَا ط قُلْ اِنَّ اللہ َ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآئِ ط اَتَقُوْلُوْنَ عَلَی اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ (الاعراف : 28)
” اور جب یہ لوگ کوئی شرمناک کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریق پر پایا ہے اور اللہ نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔ ان سے کہو ! اللہ بےحیائی کا کبھی حکم نہیں دیا کرتا۔ کیا تم اللہ پر وہ تہمت جوڑتے ہو ‘ جس کے باب میں تم کو کوئی علم نہیں ؟ “
شیطان کی چال
اولاد آدم کے ذکر کے ضمن میں یہاں قریش اور عربوں کا حال بطور خاص بیان کیا جا رہا ہے کہ ذرا اندازہ کیجیے کہ کس طرح شیطان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
فہم القرآن
ربط کلام : لباس کا حکم دینے کے بعد بنی آدم کو شیطان سے بچنے کا حکم تاکہ جسمانی حفاظت کے ساتھ اس کا کردار بھی سلامت رہے۔
بنی نوع انسان کو لباس پہننے کا حکم دے کر لباس کو پرہیزگاری اور ہر قسم کی خیر قرار دیا ہے۔ آدمی شریعت کے مطابق لباس کا اہتمام کرکے ظاہری و باطنی گناہوں سے تبھی بچ سکتا ہے جب شیطان کو اپنا دشمن جان کر اس کی شرارت، سازش اور فتنہ انگیز یوں سے بچنے کی کوشش کرے۔ اس احساس کو بیدار کرنے اور انسان کی غیرت کو ابھارنے کے لیے یہ کہہ کر غیرت دلائی گئی ہے کہ تمہیں شیطان سے بچنے کا اس لیے بھی حکم دیا جاتا ہے کہ یہ تمہارا ایسا دشمن ہے کہ جس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے برہنہ کرکے…
Read the full tafseer →بےحیائی کے کام اشارئہ شیطانی سے ہیں :
آیت 28: وَاِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً (اور وہ لوگ جب کوئی فحش کام کرتے ہیں) فاحشہ سے مراد انتہائی سخت گناہ ہے اور وہ انکا شرک کرنا اور بیت اللہ کا ننگا طواف کرنا ہے۔ قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْھَآ ٰابَآ ئَ نَا وَ اللّٰہُ اَمَرَنَا بِھَا (تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی راستہ پر پایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی ہم کو یہی بتلایا ہے) یعنی جب وہ کرتے ہیں تو اس کا یہ عذر لنگ پیش کرتے ہیں کہ ان کے آبائواجداد ایسا کرتے چلے آئے۔ اور وہ ان کی اقتداء میں کر رہے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دے رکھا ہے۔ ہمیں اس پر برقرار رکھا ہوا ہے اگر وہ ان کو ناپسند…
Read the full tafseer →(28) (واذا فعلوا فاحشۃ) ابن عباس ؓ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ان کا ننگے طواف کرنا مراد ہے۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں شرک مراد ہے اور ” فاحشۃ “ ہر اس برے فعل کو کہتے ہیں جو قباحت کی انتہاء تک پہنچ چکا ہو۔ (قالوا وجدنا علیھآ ابآء نا) یہاں کچھ عبارت مقدر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ برا کام کرتے ہیں اور ان کو روکا جائے تو کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے آباء کو پایا تھا اور جب کہا جائے کہ تمہارے آباء نے یہ کام کہاں سے لیا تو کہتے ہیں (واللہ امرنا بھا ط قل ان اللہ لا یامربا لفحشآء اتقولون علی اللہ مالا تعلمون)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
(28 ۔ 30) ۔ مجاہد کا قول ہے کہ مکہ کے مشرک ننگے ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتے اور کہتے کہ جس طرح ہم کو ہماری ماں نے جنا ہے اسی طرح ہم طواف کرتے ہیں اور اس کو باپ دادا کی رسم اور خدا کا حکم بتاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں کو نازل کر کے فرمایا کہ پیشتر تم ابھی جان چکے ہو کہ آدم (علیہ السلام) نے جو سب کے باپ ہیں شیطان کا دھوکا کھایا تو پھر اسکی بےحیائی کے کام پر باپ دادا کا حوالہ دینا اور خدا کا حکم سمجھنا بڑی نادانی ہے باپ دادا کا کسی برے کام کو کرنا اس کام کے جائز ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتی دنیا کے کاموں میں تو اس طرح تم باپ دادا کی پیروی نہیں کرتے یہ کبھی نہ سنا کہ کسی نے باپ دادا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
آیت 28
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کا حال بیان کرتا ہے جو گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ (واذا فعلوا فاحشۃ) ” جب وہ کوئی فحش کام کرتے ہیں۔ “ فحش سے مراد ہر وہ کام ہے جو برا اور انتہائی قبیح ہو۔ عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ (قالوا وجدنا علیھا ابآء نا) ” کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے “ اور وہ اس بارے میں سچے ہیں (واللہ امرنا بھا) ” اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے “ وہ اس فحش کام کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے میں جھوٹ بولتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
قول باری ہے یا بنی ادم لایفتنتکم الشیطان کما اخرج ابویکم من الجنۃ۔ اے بنی آدم ! ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اسی طرح فتنے میں مبتلا کر دے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوایا تھا) فتنہ کے متعلق ایک قول ہے کہ اس سے مراد وہ ابتلا ہے جس میں شہوت یا شبہ کی جہت سے معصیت کی طرف دعوت کی بنا پر کوئی پھنس جائے۔ خطاب میں انسان کو شیطان کے فتنے میں مبتلا ہونے سے روکا گیا ہے لیکن اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کو شیطان کے فتنے میں پڑنے سے ڈرایا گیا ہے اور اس پر اس سے اپنا پہلو بچانا لازم کردیا گیا ہے۔ قول باری کما اخرج ابویکم من الجنۃ) میں جنت سے آدم (علیہ السلام) و حوا کے اخراج کی نسبت شیطان کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
33 شیطان تمہارا جدی پشتی دشمن : سو بنی آدم کو خطاب کر کے اور ان کو تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ خبردار کہیں شیطان تم لوگوں کو بہکا نہ دے جس طرح کہ وہ نکلوا چکا ہے تمہارے ماں باپ کو جنت سے اور وہ ان اتروا چکا ہے ان کے لباس تاکہ وہ دکھا دے ان کو ایک دوسرے کی شرمگاہیں۔ سو جب وہ تمہارا جدی پشتی اور تمہارے بڑوں کا ایسا دشمن رہا اور اس نے تمہارے ماں باپ کے ساتھ ایسی عداوت و دشمنی کا سلوک کیا اے انسانو ! تو پھر تمہیں بھی اس سے ایسی ہی بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر عداوت و دشمنی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے کہ غیرت مند اور حلالی اولاد کی غیرت و حمیت کا مقتضیٰ یہی ہوتا ہے۔ سو شیطان تمہارا دشمن اور کھلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ
تشریح : سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا واقعہ بیان ہوچکا ہے۔ اس کی چند مثالیں ان آیات میں بیان کی گئی ہیں۔ انسان کی آزمائش، ضمیر، روح اور جسم سے ہر وقت ہوتی رہتی ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کا پتلا مٹی سے بنایا ور اس میں اپنی روح پھونک دی۔ یعنی جسم ان تمام ذرات کا مجموعہ ہے جو مٹی میں پائے جاتے ہیں۔ جدید سائنس کی تحقیق کے مطابق انسان 126 عناصر کا مرکب ہے اور یہ سب مٹی میں موجود ہیں۔ انسان مٹی سے بنا مٹی کے اوپر پرورش پاتا ہے اور پھر مٹی میں ہی چلا جاتا ہے۔ مگر اس میں نفس اور روح کی جنگ جاری رہتی ہے۔ موت کے وقت انسان کا نفس اپنی روح کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 26 تا 31:
اسرار و معارف :
گناہ اور خطا کی نسبت اپنی طرف کرکے اللہ سے توبہ کی جائے :
اے اولاد آدم (علیہ السلام) ہم تمہیں لباس عطا فرمایا ہے جو تمہارے لیے ستر عورت کا کام بھی کرتا ہے اور زینت کا باعث بھی ہے یعنی ایسی اشیا پیدا فرمائیں جن سے لباس تیار ہوسکتا ہے اور تمہیں یہ شعور عطا فرمایا کہ طرح طرح کے لباس بناتے ہو جس سے تمہارے جسم کے پردے کا اہتمام بھی ہوتا ہے اور تمہیں سجتا بھی ہے باعث زینت بھی ہے۔
اگر انسانیت فنا نہ ہوچکی ہو اور انسان محض ایک حیوان کی سطح پر نہ گر جائے تو جسم کے پوشیدہ حصوں کو کھولنا گوارا نہیں کرتا جانوروں اور پرندوں میں تو اعضا ہی ایسے طریقے سے پیدا…
Read the full tafseer →ف 7 یہاں فواحش سے راد وہ عبادات ہیں جو انہوں نے از خود ایجاد میں مشرکین کے انپی بےحیائی اور بدکاری پر قائم رہنے کے دو عذر پیان کئے گئے ہیں ایک یہ کہ ہم نے اپنے بڑوں کو ایسا کرتے پایا ہے اور دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے کا حکم دیا ہے کہ پہلا عذر چونکہ بطور واقعہ صحیح تھا اس لیے اس کی بطور تر دید نہیں فرمائی گئی یوں متعدد آیات میں بتایا ہے کہ باپ دادا کے نقش قدم پر چلتے رہنا کوئی دلیل نہیں ہے۔ ( دیکھئے سورة بقرہ آیت 170، مائدہ آیت 104) شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی سن چکے کہ پہلے باپ ن شیطان کا فریب کھایا پھر باپ کی سند کیوں لاتے ہو، ( موضح) رہا دوسرا عذر تو چونکہ بطور واقعہ مطلب یہ کہ جب انبیا کی…
Read the full tafseer →(7:28) فاحشۃ۔ اسم۔ حد سے بڑھی ہوئی بدی۔ ایسی بےحیائی جس کا اثر دوسروں پر پڑے ہر وہ چیز جس کی ممانعت اللہ نے کردی ہے۔ مثلاً برہنہ ہوکر کعبہ کا طواف کرنا۔ جس کی یہاں ان آیات میں مذمت کی گئی ہے۔ زنا وغیرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
لغات القرآن آیت نمبر (28 تا 30 ) ۔
فاحشتہ (بےحیائی کا کام ) ۔ امرنا (اس نے ہمیں حکم دیا ہے ) ۔ لا یا مر (وہ حکم نہیں دیتا ) ۔ اقیموا (قائم رکھو ) ۔ وجوھکم (وجہ) اپنے چہروں کو) ۔ ادعوا (پکارو) ۔ مخلصین (خالص کرنے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر (28 تا 30 ) ۔ ” ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کی ان من گھڑت رسموں اور ننگے ہو کر عبادت کرنے کی فضول رسموں پر گرفت کی ہے۔ جن کو انہوں نے مذہب کا رنگ دے دیا تھا۔
1) ان کا یہ خیال تھا کہ جن کپڑوں میں ہم گناہ کرتے ہیں ان کو پہن کر بیت اللہ کا طواف کرنا گناہ ہے قریش کے علاوہ سارے کفار برہنہ ہو کر طورف کرتے تھے۔ ان کی اسی رسم کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ اگر قریش…
Read the full tafseer →مطلب یہ ہے کہ مکہ کے مشرک ننگے ہوکر خانہ کعبہ کا طواف کرتے اور کہتے کہ یہ رسم باپ دادا کی اور خدا کا حکم ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں کو نازل کر کے فرمایا کہ پیشتر تم ابھی جان چکے ہو کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے جو سب کے باپ ہیں شیطان کا دھوکا کھایا، تو پھر کسی بےحیائی کے کام پر باپ دادا کا حوالہ دینا اور اس کو خدا کا حکم سمجھنا بڑی نادانی ہے۔ خدائے پاک نے ایسے ناپاد اور بےحیائی کے فعل کا حکم دیا ہے۔ یہ یہ کیونکہ ہوسکتا ہے بغیر جانے بوجھے کیوں خدا پر جھوٹ باندھتے ہو۔ بلکہ خدا نے تو عدل اور انصاف اور مسجد میں خالص اسی کی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے اور مرنے کے بعد زندہ کرے گا اس حال پر جس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
[13] زمانہ جاہلیت میں مرد و عورت ننگے ہو کر کعبہ کا طواف کیا کرتے اور اس کو مذہبی اور نیک کام سمجھتے تھے۔ اس آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) اس آیت میں منکرین کا ذکر ہے کہ وہ گناہوں پر اصرار کرتے ہیں اور جب برائی کا ارتکاب کرتے ہیں تو شرماتے نہیں بلکہ وہ دلائل ڈھونڈتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے علماء اور راہنماؤں نے ہمیں ایسا ہی بتایا ہے اور یہ کہ خدا نے بھی یہی تلقین کی ہے یعنی بدعات و رسوم کی پیروی میں اللہ کو بطور سند و حجت کے پیش کرتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ کہیں اللہ بھی فواحش کی تعلیم دے سکتا ہے ۔
Read the full tafseer →28 اور جب یہ ایمان کے منکر کوئی فحش اور بےحیائی کا کام کرتے ہیں اور کسی بےہودگی کے مرتکب ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے پایا ہے اور اللہ نے بھی ہم کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے آپ فرمادیجئے اللہ تعالیٰ کبھی کسی فحش اور بےحیائی کے کام کا حکم نہیں دیا کرتا تم اللہ کے ذمہ کیوں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں علم نہیں اور جن کو تم نہیں جانتے یعنی تم سن چکے کہ تمہارے پہلے باپ نے شیطان سے فریب کھایا پھر باپ دادوں کی سند کیوں پکڑتے ہو اور یہ کس قدر بےحیائی ہے کہ جو کام شیطان کے حکم سے ہورہا ہو اس کو خدا کے حکم سے بتاتے ہو۔ آگے وہ کام مذکور ہیں جن کا امر اللہ تعالیٰ کرتا ہے…
Read the full tafseer →ف 1۔ خواہ عقائد میں سے جیسے شرک کہ اعلی درجہ کی بیجائی ہے خواہ اعمال میں سے جیسے طواف کے وقت برہنہ ہوجاتا۔
2۔ تقلید اس مسئلہ میں جائز ہے جس میں تقلید کرنے کے لیے اذان وسند شرعی ہو جو موقوف ہے اس کے شرائط کے اجتماع پر۔ اور یہاں خو نص قطعی کی مخالفت سے شرائط مفقود ہی پس ایسی تقلید سے احتجاج خود باطل ہوگیا۔
Read the full tafseer →بری رسومات کا فلسفہ اور ان کے مہلک اثرات کا مختصر بیان :
35: ” فَاحِشَةً “ اس کھلی بےحیائی کو کہتے ہیں جو حددرجہ قبیح اور معیوب ہو جس کو اندھوں اور احمقوں کے سوا سب لوگ بےحیائی قرار دیں۔ اس سے مراد قوموں کے سارے عقائد باطلہ اور اعمال قبیحہ ہیں جو نزول قرآن کے وقت قریش مکہ اور دوسری قوموں میں پائے جاتے تھے اور اس کے بعد آج تک پائے گئے اور اس وقت موجود ہیں اور رہتی دنیا تک موجود رہیں گے یا نئے نئے پیدا ہوتے رہیں گے۔ اس جگہ سرفہرست قریش کے بعض قبائل کی یہ رسم بد ہے جو ننگے طواف کرنے کی ان میں پائی جاتی تھی جس کی طرف پیچھے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے اس لئے کہ عرب جاہلیت کی بےحیائیوں میں سے یہ بھی…
Read the full tafseer →Commentary
Before Islam, one of the many shameful and absurd customs Shaytan had made the people of ` Arab Jahiliyyah follow was that no one, other than the Quraysh, could make the Tawaf of Ka'bah in one's own clothes. Instead of that, the requirement was to borrow a dress from a Qurayshi, otherwise, make the Tawaf naked.
Mmmm50
As obvious, the Quraysh could not provide clothes to the whole people of Arabia, therefore, the consequence was that these people would make Tawaf mostly naked, men and women, both, with women usually doing their Tawaf in the darkness of the night. Then, they would…
Read the full tafseer →17. This refers to the pre-islamic Arabian practice of circumambulating around the Ka'bah in stark nakedness. The people of those day's thought that nakedness during circumambulation had been enjoined by God.
18. The simple and succinct Qur'anic statement that 'Allah never enjoins any, indecency' (verse 29) stands as the overwhelming argument against many false beliefs that were entertained by the people of Arabia. For a fuller appreciation of this argument the following points should be kept in mind:
First, that the people of Arabia totally stripped themselves while performing certain…
Read the full tafseer →