ابلیس سے بچنے کی تاکید
تمام انسانوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ ہوشیار کر رہا ہے کہ دیکھو ابلیس کی مکاریوں سے بچتے رہنا وہ تمہارا بڑا ہی دشمن ہے دیکھو اسی نے تمہارے باپ آدم کو دار سرور سے نکالا اور اس مصیبت کے قید خانے میں ڈالا ان کی پردہ دری کی۔ پس تمہیں اس کے ہتھکنڈوں سے بچنا چاہئے۔ جیسے فرمان ہے آیت (اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ ۭ بِئْسَ للظّٰلِمِيْنَ بَدَلً 50) 18۔ الكهف) یعنی کیا تم ابلیس اور اس کی قوم کو اپنا دوست بناتے ہو ؟ مجھے چھوڑ کر ؟ حالانکہ وہ تو تمہارا دشمن ہے ظالموں کا بہت ہی برا بدلہ ہے۔
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 16
ان آیات میں جو کچھ ارشاد ہوا ہے اس سے چند اہم حقیقتیں نکھر کر سامنے آجاتی ہیں اوّل یہ کہ لباس انسان کے لیے ایک مصنوعی چیز نہیں ہے بلکہ انسانی فطرت کا ایک اہم مطالبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم پر حیوانات کی طرح کوئی پوشش پیدائشی طور پر نہیں رکھی بلکہ حیا اور شرم کا مادہ اس کی فطرت میں ودیعت کردیا۔ اس نے انسان کے لیے اس کے اعضائے صنفی کو محض اعضائے صنفی ہی نہیں بنایا بلکہ سَوْأة بھی بنایا جس کے معنی عربی زبان میں ایسی چیز کے ہیں جس کے اظہار کو آدمی قبیح سمجھے۔ پھر اس فطری شرم کے تقاضے کو پورا کرنے کے لیے اس نے کوئی بنا بنایا لباس انسان کو نہیں دے دیا بلکہ اس کی فطرت پر…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں پھر تمام اولاد آدم کو خطاب کرکے تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ اپنے ہر حال اور ہر کام میں مکر شیطانی سے بچتے رہو، ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو پھر کسی فتنہ میں مبتلا کر دے، جیسا تمہارے ماں باپ حضرت آدم و حواء کو اس نے جنت سے نکلوایا، اور ان کا لباس اتار کر ان کے ستر کھولنے کا سبب بنا وہ تمہارا قدیم دشمن ہے، اس کی دشمنی کا ہمیشہ ہر وقت خیال رکھو۔
آخر آیت میں فرمایا (آیت) ۭاِنَّهٗ يَرٰىكُمْ هُوَ وَقَبِيْلُهٗ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۭاِنَّا جَعَلْنَا الشَّيٰطِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ لِلَّذِيْنَ لَا يُؤ ْمِنُوْنَ اس میں لفظ قبیل کے معنی جماعت اور جھتے کے ہیں، جو جماعت ایک خاندان کی شریک ہو اس کو…
Read the full tafseer →يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ كَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَيْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ يَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا، یہ بھی، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، انہی یاد دہانیوں میں سے ہے جو ابتدا ہی میں اولاد آدم کو کی گئی تھیں۔ اور اس کے اسلوب بیان سے شیطان کی اس چال کے سمجھنے میں مدد ملتی ہے جو وہ بنی آدم کے تمدن کو برباد کرنے اور بالآخر ان کو خدا کی نعمت سے محروم کر کے ہلاکت کے گڑھے میں گرانے کے لیے اختیار کرتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ اپنی وسوسہ اندازیوں سے پہلے لوگوں کو اس لباس تقوی و خشیت سے محروم کرتا ہے جو اللہ نے بنی آدم کے لیے اس ظاہری لباس کے ساتھ ایک تشریف…
Read the full tafseer →27۔ 1 اس میں اہل ایمان کو شیطان اور اور اس کے قبیلے یعنی چیلے چانٹوں سے ڈرایا گیا ہے کہ کہیں وہ تمہاری غفلت اور سستی سے فائدہ اٹھا کر تمہیں بھی اس طرح فتنے اور گمراہی میں نہ ڈال دے جس طرح تمہارے ماں باپ (آدم حوا) کو اس نے جنت سے نکلوا دیا اور لباس جنت بھی اتروا دیا۔ بالخصوص جب کہ وہ نظر بھی نہیں آتے۔ تو اس سے بچنے کا اہتمام اور فکر بھی زیادہ ہونا چاہئے۔
27۔ 2 یعنی بےایمان قسم کے لوگ ہی اس کے دوست اور اس کے خاص شکار ہیں۔ تاہم اہل ایمان پر بھی وہ ڈورے ڈالتا رہتا ہے۔ کچھ اور نہیں تو شرک خفی (ریاکاری) اور شرک میں ہی ان کو مبتلا کردیتا ہے اور یوں ان کو بھی ایمان کے بعد ایمان صحیح کی پونجی سے محروم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
11: آیات 26 تا 32 اہل عرب کی ایک عجیب و غریب رسم کے پس منظر میں نازل ہوئی ہیں، جس کی تفصیل یہ ہے کہ مکہ مکرمہ کے قریب رہنے والے کچھ قبیلے مثلاً قریش، حمس کہلاتے تھے، عرب کے دوسرے تمام قبیلے حرم کی پاسبانی کی وجہ سے ان لوگوں کی بڑی عزت کرتے تھے، اسی کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ عربوں کے عقیدے کے مطابق کپڑے پہن کر طواف کرنا صرف انہی کا حق تھا، دوسرے لوگ کہتے تھے کہ جن کپڑوں میں ہم نے گناہ کئے ہیں ان کے ساتھ ہم بیت اللہ کا طواف نہیں کرسکتے، چنانچہ یہ لوگ جب طواف کے لئے آتے تو حمس کے کسی آدمی سے کپڑے نہ ملتے تو وہ بالکل عریاں ہو کر طواف کرتے تھے، یہ آیتیں اس بےہودہ رسم کی تردید کے لئے نازل ہوئی ہیں اور…
Read the full tafseer →آیت ” نمبر 27 تا 30۔
یہ اللہ کی جانب سے انسان کے نام دوسری پکار ہے ۔ یہ غور وفکر کے اس وقفے میں ہے جو ان کے والدین حضرت آدم وحوا کے قصے کے دوران کیا گیا ہے ۔ اور خصوصا اس منظر پر بطور تبصرہ کیا گیا ہے جس میں شیطان نے اپنی گہری سازش کے ذریعے انہیں بےلباس کردیا کہ انہوں نے اس سازش کا شکار ہو کر اللہ کے صریح حکم کو بھلا دیا اور شیطان کی وسوسہ اندازی کے نتیجے میں ان سے لغزش سرزد ہوگئی ۔ نیز ہم نے جاہلیت عربیہ کے دور میں برہنہ طواف کے بارے میں جو کچھ کہا اس کی روشنی میں بھی یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ نے کیوں اس انداز میں بنی نوع انسان کو پکارا کیونکہ وہ اس عریانی کو منجانب اللہ…
Read the full tafseer →1 اخراج و نزاع کی اضافت ان کے سبب کی طرف کی گئی یعنی آدم و حوا کو جنت سے علیحدہ کرنے اور کپڑے اتارے جانے کا سبب وہ ہوا۔ اب تم اس کے فریب میں مت آؤ اور اس کی مکاریوں سے ہوشیار رہو۔
2 یعنی جو دشمن ہم کو اس طرح دیکھ رہا ہو کہ ہماری نظر اس پر نہ پڑے اس کا حملہ سخت خطرناک اور مدافعت سخت دشوار ہوتی ہے۔ اس لئے تم کو بہت مستعد و بیدار رہنا چاہئے۔ ایسے دشمن کا علاج یہ ہی ہے کہ ہم کسی ایسی ہستی کی پناہ میں آجائیں جو اسے دیکھتی ہے پر وہ اسے نہیں دیکھتا۔ (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ ) 6 ۔ الانعام :103) (ۭاِنَّهٗ يَرٰىكُمْ هُوَ وَقَبِيْلُهٗ…
Read the full tafseer →آیت 27 یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ لاَ یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ کَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنْزِعُ عَنْہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوْاٰتِہِمَا ط
اِنَّہٗ یَرٰٹکُمْ ہُوَ وَقَبِیْلُہٗ مِنْ حَیْثُ لاَ تَرَوْنَہُمْ ط
چونکہ ابلیس کو اللہ کی طرف سے قیامت تک چھوٹ ملی ہوئی ہے لہٰذا وہ نہ صرف مسلسل زندہ ہے ‘ بلکہ اس نے اپنی اولاد اور اپنے نمائندوں کو اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے انسانوں کے درمیان پھیلا رکھا ہے۔ یہ جن شیاطین چونکہ غیر مرئی invisible مخلوق ہیں اس لیے وہ ایسی ایسی جگہوں پر ہماری گھات میں بیٹھے ہوتے ہیں اور ایسے ایسے طور طریقوں سے حملہ آور ہوتے ہیں جس کا ہلکا سا اندازہ بھی…
Read the full tafseer →25 شیطانی حملہ اور اس سے بچاؤ کے لئے ہدایات :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو چند حقائق سے آگاہ فرمایا۔ ایک یہ کہ شیطان کے مکر و فریب سے ہوشیار رہیں وہ اگر تمہارے باپ کو مکر و فریب سے اور سبز باغ دکھا کر جنت سے نکلوا سکتا ہے تو تمہارے ساتھ وہ کیا کچھ نہیں کرسکتا اور دوسرے یہ کہ شیطان کا سب سے پہلا وار یہ ہوتا ہے کہ انسانوں کو فحاشی میں مبتلا کر دے بےحجابی کو عام کر دے اور تمہارے پردہ شرم و حیا کو تار تار کر دے تیسرے یہ کہ تمہارا دشمن تو تمہیں دیکھ رہا ہوتا ہے جبکہ تم اسے نہیں دیکھ سکتے اور ظاہر ہے کہ ایسا دشمن اپنے مد مقابل (انسان) پر وار اس وقت کرے گا جب وہ غفلت میں پڑا ہو اور اس کا یہ…
Read the full tafseer →34 ۔ حجاب وستر پوشی کی جو اہمیت اسلام میں ہے اس سے ظاہر ہے کہ قصہ آدم (علیہ السلام) کے ضمن میں یہ ذکر کس تکرار وتاکید کے ساتھ آرہا ہے۔ ویف ھذا ایضا دلیل علی وجوب ستر العورۃ (قرطبی) (آیت) ” لایفتننکم “۔ یعنی اب جبکہ تمہیں شیطان کی موروثی عداوت کا حال بخوبی معلوم ہوچکا۔ ہرگز اس کے پھندے میں نہ آجانا۔ انما معناہ التحذیر من فتنۃ الشیطان والزام التحرزمنہ (جصاص) (آیت) ” اخرج ابویکم من الجنۃ “۔ یعنی اس سے ایسا عمل صادر کرا دیا، جس سے انہیں جنت چھوڑنا پڑی۔ ای اغواھما حتی فعلا ما استحقابہ الاخراج منھا (جصاص)
35 ۔ (عموما وعادۃ) اور چونکہ وہ مخلوق تمہارے لیے غیر مرئی ہے، اس لیے اس کے مخفی کید سے بچنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
آیت نمبر 26 تا 31
ترجمہ : اے آدم کی اولاد ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہاری شرمگاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور سبب زینت بھی ہے، (ریش) وہ کپڑا کہ جس سے زینت حاصل کی جائے اور بہترین لباس تقوے کا لباس ہے یعنی عمل صالح کا، یا اچھی ہیئت، لِبَاسَ ، لباسًا پر عطف کرتے ہوئے نصب کے ساتھ ہے اور مبتداء ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اس کی خبر جملہ ذٰلِکَ خیرٌ ہے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یعنی اللہ کی دلائل قدرت میں سے ایک دلیل ہے تاکہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں اور ایمان لے آئیں اس میں خطاب سے (غیبت کی جانب) التفات ہے اے بنی آدم کہیں تمہیں شیطان گمراہ نہ کر دے جس طرح تمہارے والدین کی اس نے اپنے فتنہ…
Read the full tafseer →یبنی ادم لا یفتننکم کما اخرج ابویکم من الجنۃ ینزع عنہما لباسہما لیریہما سواتہما : اے اولاد آدم شیطان تم کو دھوکہ نہ دینے پائے (اور گمراہ کر کے جنت سے محروم نہ کر دے) جیسے تمہارے ماں باپ کو (یعنی آدم ( علیہ السلام) و حواء ( علیہ السلام) کو دھوکہ دے کر) جنت سے نکلوانے کا سبب بنا ایسی حالت میں کہ ان کا لباس بھی ان سے اتروا دیا تاکہ ان کو ان کا پردہ کا بدن دکھائی دینے لگے۔ بظاہر شیطان کو ممانعت ہے لیکن حقیقت میں اولاد آدم ( علیہ السلام) کو گمراہ ہونے سے نہی ہے یعنی تم دھوکہ نہ کھاؤ اور شیطان کے پیچھے چل کر راستہ سے نہ بھٹکو۔ شیطان چونکہ آدم ( علیہ السلام) و حواء ( علیہ السلام) کے بدن سے جنت کا…
Read the full tafseer →(27) تمہیں شیطان ہرگز میری اطاعت سے کسی خرابی میں نہ مبتلا کردے جیسا کہ اس نے آدم وحوا ؑ کو مبتلا کیا اس نے ان سے نور کا لباس اتروا دیا تاکہ ایک دوسرے کے سامنے پردہ دار بدن ظاہر ہوجائے۔
اور شیطان اور اس کے لشکر کو تم نہیں دیکھ سکتے کیوں کہ تمہارے سینے میں ان کا مرکز ہیں، ہم شیطانوں کو ان لوگوں کا رفیق بنادیتے ہیں جو حضور ﷺ کی رسالت کا انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ۔۔ : شیطان کی کوشش یہ ہے کہ تم جنت میں نہ جانے پاؤ، جیسا کہ اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکال دیا، اس کے لیے وہ بےپردگی کو اور بےلباس ہونے کو عام کرتا ہے، تاکہ بےحیائی اور بدکاری پھیل جائے۔ دیکھنا کہیں اس فتنے میں مبتلا ہو کر جنت سے محروم نہ ہوجانا۔
ۭاِنَّهٗ يَرٰىكُمْ هُوَ وَقَبِيْلُهٗ۔۔ : یعنی ایسے دشمن سے تو بہت زیادہ محتاط اور چوکنا رہنا چاہیے جو ہمیں دیکھے مگر ہم اسے دیکھ نہ پائیں۔ اس آیت سے بعض اہل علم نے یہ استدلال کیا ہے کہ جنوں کو دیکھنا ممکن نہیں ہے، مگر یہ استدلال صحیح نہیں ہے، کیونکہ اگرچہ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ وہ اور اس کا قبیلہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 27
اس میں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : لا یفتننکم یعنی شیطان تمہیں دین سے پھیر نہ دے، جیسے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکال کر فتنہ میں مبتلا کیا۔ اب مذکر کے لیے اور ابۃ مونث کے لیے آتا ہے۔ پس اسی بنا پر ابوان کہا گیا ہے۔ آیت : ینزع عنھما لباسھما یہ حال ہونے کی بنا پر محل نصب میں ہے ور جملہ مستانفہ بھی ہو سکتا ہے اور آیت : من الجنۃ پر وقف کیا جائے گا۔ لیریھما یہ لام کی کے سبب منصوب ہے۔ آیت : انہ یرکم ھو وقبیلہ، یراکم اصل میں یرء اکم تھا پھر ہمزہ کو تخفیفا حذف کردیا گیا۔ اور وقبیلہ اس کا عطف ضمیر پر ہے اور ھو برائے تاکید ہے تاکہ عطف احسن ہوجائے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
بنی آدم کے لباس کے فائدے
(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواتکم “ کے بارے میں فرمایا کہ عرب کے لوگ بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے تھے ان میں سے کوئی کپڑا نہیں پہنتا تھا۔ جس میں وہ طواف کرتا تھا ” وریشا “ یعنی مال۔
(2) امام ابن منذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواتکم “ کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) قریش میں سے حمس قبیلہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور جو اس کا ماخذ عرب کے قبائل کو قرار دیتے ہیں اور وہ انصار ہیں۔ اوس خزرج خزاعہ، ثقیف…
Read the full tafseer →يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ [ اے آدم کے بیٹو ] لَا يَفْتِنَنَّكُمُ [ ہرگز لغزش نہ دے تم کو ] الشَّيْطٰنُ [ شیطان ] كَمَآ [ جیسے کہ ] اَخْرَجَ [ اس نے نکالا ] اَبَوَيْكُمْ [ تمہارے والدین کو ] مِّنَ الْجَنَّةِ [ جنت سے ] يَنْزِعُ [ اس حال میں کہ اس نے کھینچ اتارا ] عَنْهُمَا [ ان دونوں سے ] لِبَاسَهُمَا [ دونوں کا لباس ] لِيُرِيَهُمَا [ تاکہ وہ دکھائے دونوں کو ] سَوْاٰتِهِمَا ۭ [ ان کی ستروں کے حصے ] اِنَّهٗ [ حقیقت یہ ہے کہ ] يَرٰىكُمْ [ دیکھتا ہے تم لوگوں کو ] هُوَ [ وہ ] وَقَبِيْلُهٗ [ اور اس کا قبیلہ ] مِنْ حَيْثُ [ وہاں سے جہاں ] لَا تَرَوْنَهُمْ ۭ [ تم نہیں دیکھتے ان کو ] اِنَّا [ بیشک ] جَعَلْنَا…
Read the full tafseer →بنی آدم کو تنبیہ کہ شیطان فتنہ میں نہ ڈال دے :
(یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ ) (اے بنی آدم ! ہرگز شیطان تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دے) (کَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ ) (جیسا کہ اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکالا) یعنی ان سے ایسا کام کروا دیا جو ان کے جنت سے نکالے جانے کا سبب بن گیا۔ (یَنْزِعُ عَنْھُمَا لِبَاسَھُمَا لِیُرِیَھُمَا سَوْاٰتِھِمَا) (وہ اتروا رہا تھا ان کا لباس تاکہ انہیں دکھا دے ان کی شرم کی جگہیں) اس میں بنی آدم (اولاد آدم) کو نصیحت فرمائی ہے اور وہ ہوشیار رہیں شیطان کے بہکاوے میں نہ آئیں۔
شیاطین کی حرکتیں :
پھر فرمایا (یَرٰیکُمْ ھُوَ وَ قَبِیْلُہٗ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
تحذیر از فتنۂ شیطانی دربارۂ بےحیائی وعریانی
قال اللہ تعالیٰ یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسا۔۔۔ الی۔۔۔ لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون
(ربط) گزشتہ قصہ میں شیطان کی عداوت کا ذکر فرمایا اور اسی سلسلہ میں یہ بیان فرمایا کہ شیطان نے حضرت آدم اور حواء کو دھوکہ دیا جس کا اثر یہ ہوا کہ ان کے بدن سے جنت کا لباس اتر پڑا جس سے گھبرا کر اور شرما کر جنت کے درختوں کے پتوں سے ستر کو ڈھانکنے لگے۔ یہ برہنگی شیطان کا پہلا فتنہ تھا اب آئندہ آیات میں اسی فتنہ کے متعلق احکام ارشاد فرماتے ہیں جس میں اہل عرب اور شیطان کے اغواء اور اضلال سے مبتلا تھے کہ برہنہ طواف کرتے تھے اور بعض چیزوں کے کھانے کو زمانۂ حج میں حرام…
Read the full tafseer →25: یہاں اولاد آدم کو شیطان کے فریب سے خبردار کیا گیا کہ یہ وہی تمہارا پرانا دشمن ہے جس نے تمہارے ماں باپ (حواء و آدم) کو فریب دے کر جنت سے نکالا تھا تم اس کے فریب میں نہ آجانا۔ خطاب بلا واسطہ مشرکین عرب سے ہے جو برہنہ ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا کرتے تھے اور اس فعل شنیع کو عبادت سمجھتے تھے یہ سب شیطان کے اغواء سے تھا۔ حاصل یہ کہ یہ بےحیائی تم سے شیطان کرا رہا ہے۔ شیطان کے اغواء سے تم نے بحالط طواف لباس پہننا حرام کردیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایسا کوئی حکم نہیں دیا۔ جیسا کہ سورة کہف رکوع 7 میں ہے۔ “ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّيَّتَهٗ اَوْلِیَاءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ ھُمْ لَکُمْ عَدُوٌّ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ربط آیات
پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کتاب ہدایت کے ذکر کے بعد تخلیق آدم کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ شیطان کی عداوت اور دشمنی کا ذکر کیا پھر شیطان کے برے عزائم کا تذکرہ بھی ہوا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی لغزش اور میاں بیوی کے بارگاہ رب العزت میں گڑ گڑا کر دعا کرنے کی بات کی اللہ نے جنت سے اتر جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے تمہارے لیے زمین میں ٹھکانا اور ایک مقررہ مدت تک فائدہ اٹھانا ہے یہ مقررہ مدت کسی انفرادی انسان کی موت کے ساتھ پوری ہوجاتی ہے اور پھر اجتماعی طور پر قیامت کو یہ وقت پورا ہوجائے گا فرمایا اسی زمین میں تم زندہ رہو گے اسی میں مرو گے…
Read the full tafseer →وَاِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَيْہَآ اٰبَاۗءَنَا وَاللہُ اَمَرَنَا بِہَا 0 ۭ قُلْ اِنَّ اللہَ لَا يَاْمُرُ بِالْفَحْشَاۗءِ 0 ۭ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَي اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ 28
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما…
Read the full tafseer →1 ؎ آدم و حوا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ کَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنْزِعُ عَنْھُمَا لَبَاسَھُمَا لِیُرِیَھُمَا سَوْاٰتِہِمَا ط اِنَّہٗ یَرٰکُمْ ھُوَ وَ قَبِیْلُہٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَھُمْ ط اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآئَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُِْونَ ۔ (الاعراف : 27)
” اے آدم کی اولاد ! شیطان تمہیں فتنہ میں نہ ڈالنے پائے ‘ جیسا کہ اس نے نکال دیا تھا تمہارے ماں باپ کو بہشت سے ‘ اتروائے ان سے ان کے کپڑے ‘ تاکہ دکھلا دے انھیں ان کی شرم گاہیں۔ وہ اور ان کا جتھہ تم کو وہاں سے تاڑتا ہے ‘ جہاں سے تم ان کو نہیں تاڑتے۔ ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا رفیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
فہم القرآن
ربط کلام : لباس کا حکم دینے کے بعد بنی آدم کو شیطان سے بچنے کا حکم تاکہ جسمانی حفاظت کے ساتھ اس کا کردار بھی سلامت رہے۔
بنی نوع انسان کو لباس پہننے کا حکم دے کر لباس کو پرہیزگاری اور ہر قسم کی خیر قرار دیا ہے۔ آدمی شریعت کے مطابق لباس کا اہتمام کرکے ظاہری و باطنی گناہوں سے تبھی بچ سکتا ہے جب شیطان کو اپنا دشمن جان کر اس کی شرارت، سازش اور فتنہ انگیز یوں سے بچنے کی کوشش کرے۔ اس احساس کو بیدار کرنے اور انسان کی غیرت کو ابھارنے کے لیے یہ کہہ کر غیرت دلائی گئی ہے کہ تمہیں شیطان سے بچنے کا اس لیے بھی حکم دیا جاتا ہے کہ یہ تمہارا ایسا دشمن ہے کہ جس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے برہنہ کرکے…
Read the full tafseer →شیطان تمہارا لباس نہ چھین لے :
آیت 27: یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ کَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ (اے اولاد آدم، شیطان تم کو کسی خرابی میں نہ ڈال دے۔ جیسا اس نے تمہارے دادا دادی کو جنت سے باہر کرادیا) ہرگز تم کو دھوکا میں مبتلا نہ کرے اور تمہیں گمراہ نہ کردے۔ تاکہ تم پھر جنت میں نہ جاسکو۔ جیسا کہ تمہارے باپ کو فتنہ میں ڈال کر وہاں سے نکالا تھا۔ یَنْزِعُ عَنْھُمَا لِبَاسَھُمَا (ایسی حالت سے کہ ان کا لباس بھی ان سے اتروا دیا) یہ حال ہے یعنی ان دونوں کو نکلوایا اس حال میں کہ ان کا لباس چھیننے والا تھا۔ وہ اس طرح کہ لباس اتارنے کا یہ سبب بنا۔ اس میں بظاہر نہی…
Read the full tafseer →تفسیر (27) (یبنی ادم لا یفتنکم الشیطن اے اولاد آدم نہ گمراہ کرے تم کو شیطان۔ (کما اخرج ابویکم) یعنی تمہارے آباء آدم و حوا (علیہما السلام) کو فتنہ میں مبتلا کیا، پھر ان دونوں کو اس سے نکال دیا۔ (من الجنۃ ینزع عنھما لباسھما لبریھما سوا نھما) یعنی اے نبی آدم شیطان تم کو دیکھتا ہے (انہ یرکم ھو و قبیلہ) اس کا لشکر۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وہ اور اس کی اولاد اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں جن اور شیاطین کا قبیلہ مراد ہے (من حیث لاترونھم) مالک بن دینار (رح) فرماتے ہیں کہ دشمن تجھے دیکھے اور تو اس کو نہ دیکھے تو یہ سخت نقصان دہ ہے مگر جن کو اللہ بچا لے۔ (انا جعلنا الشیطین اولیآء للذین لایومنون) زجاج (رح)…
Read the full tafseer →صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک ؓ سے اور مستدرک حاکم تفسیر ابن جوزی اور واحدی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت نے فرمایا کہ شیطان آدمی کے جسم میں خون کی طرح پھرتا ہے اور خاص آدمی کا دل اس کے ٹھکانے کی جگہ ہے جس کو خدا بچاوے اسی کا دل شیطان کے غلبہ سے محفوظ رہتا ہے مسند سعید بن منصور میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ نے ایک روز اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ مجھ کو شیطان کا ٹھکانا انسان کے بہکانے کے وقت کا دکھلا دے اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک آدمی کا دل حضرت عیسیٰ کو دکھلایا کہ سانپ کے پھن کی صورت میں شیطان اس کے دل پر چھایا ہوا تھا لیکن جب وہ شخص کچھ…
Read the full tafseer →آیت 27
اللہ تبارک و تعالیٰ اولاد آدم کو ڈراتا ہے کہ شیطان کہیں تمہارے ساتھ بھی وہی کچھ نہ کرے جو اس نے تمہارے جد امجد آدم کے ساتھ کیا تھا، چناچہ فرماتا ہے : (یبنی ادم لایفتنکم الشیطن) ” اے آدم کی اولاد ! نہ بہکائے تم کو شیطان “ یعنی ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے سامنے گناہ اور معاصی کو آرساتہ کر کے تمہیں ان کی طرف بلائے اور ترغیب دے اور تم اس کی اطاعت کرلو (کما اخرج ابویکم من الجنۃ) ” جیسے اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا “ اور انہیں بنلد ترین مقام سے اتار کر فرو ترین مقام پر پہنچا دیا۔ پس اس سے بچو وہ تمہارے ساتھ بھی وہ کچھ کرنا چاہتا ہے، وہ تمہیں گمراہ کرنے کی کوشش میں ذرہ بھر کوتاہی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
قول باری ہے یا بنی ادم لایفتنتکم الشیطان کما اخرج ابویکم من الجنۃ۔ اے بنی آدم ! ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اسی طرح فتنے میں مبتلا کر دے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوایا تھا) فتنہ کے متعلق ایک قول ہے کہ اس سے مراد وہ ابتلا ہے جس میں شہوت یا شبہ کی جہت سے معصیت کی طرف دعوت کی بنا پر کوئی پھنس جائے۔ خطاب میں انسان کو شیطان کے فتنے میں مبتلا ہونے سے روکا گیا ہے لیکن اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کو شیطان کے فتنے میں پڑنے سے ڈرایا گیا ہے اور اس پر اس سے اپنا پہلو بچانا لازم کردیا گیا ہے۔ قول باری کما اخرج ابویکم من الجنۃ) میں جنت سے آدم (علیہ السلام) و حوا کے اخراج کی نسبت شیطان کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
33 شیطان تمہارا جدی پشتی دشمن : سو بنی آدم کو خطاب کر کے اور ان کو تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ خبردار کہیں شیطان تم لوگوں کو بہکا نہ دے جس طرح کہ وہ نکلوا چکا ہے تمہارے ماں باپ کو جنت سے اور وہ ان اتروا چکا ہے ان کے لباس تاکہ وہ دکھا دے ان کو ایک دوسرے کی شرمگاہیں۔ سو جب وہ تمہارا جدی پشتی اور تمہارے بڑوں کا ایسا دشمن رہا اور اس نے تمہارے ماں باپ کے ساتھ ایسی عداوت و دشمنی کا سلوک کیا اے انسانو ! تو پھر تمہیں بھی اس سے ایسی ہی بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر عداوت و دشمنی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے کہ غیرت مند اور حلالی اولاد کی غیرت و حمیت کا مقتضیٰ یہی ہوتا ہے۔ سو شیطان تمہارا دشمن اور کھلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ
تشریح : سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا واقعہ بیان ہوچکا ہے۔ اس کی چند مثالیں ان آیات میں بیان کی گئی ہیں۔ انسان کی آزمائش، ضمیر، روح اور جسم سے ہر وقت ہوتی رہتی ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کا پتلا مٹی سے بنایا ور اس میں اپنی روح پھونک دی۔ یعنی جسم ان تمام ذرات کا مجموعہ ہے جو مٹی میں پائے جاتے ہیں۔ جدید سائنس کی تحقیق کے مطابق انسان 126 عناصر کا مرکب ہے اور یہ سب مٹی میں موجود ہیں۔ انسان مٹی سے بنا مٹی کے اوپر پرورش پاتا ہے اور پھر مٹی میں ہی چلا جاتا ہے۔ مگر اس میں نفس اور روح کی جنگ جاری رہتی ہے۔ موت کے وقت انسان کا نفس اپنی روح کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 26 تا 31:
اسرار و معارف :
گناہ اور خطا کی نسبت اپنی طرف کرکے اللہ سے توبہ کی جائے :
اے اولاد آدم (علیہ السلام) ہم تمہیں لباس عطا فرمایا ہے جو تمہارے لیے ستر عورت کا کام بھی کرتا ہے اور زینت کا باعث بھی ہے یعنی ایسی اشیا پیدا فرمائیں جن سے لباس تیار ہوسکتا ہے اور تمہیں یہ شعور عطا فرمایا کہ طرح طرح کے لباس بناتے ہو جس سے تمہارے جسم کے پردے کا اہتمام بھی ہوتا ہے اور تمہیں سجتا بھی ہے باعث زینت بھی ہے۔
اگر انسانیت فنا نہ ہوچکی ہو اور انسان محض ایک حیوان کی سطح پر نہ گر جائے تو جسم کے پوشیدہ حصوں کو کھولنا گوارا نہیں کرتا جانوروں اور پرندوں میں تو اعضا ہی ایسے طریقے سے پیدا…
Read the full tafseer →ف 6 اور ایسے دشمن سے تو بہت زیادہ محتاط اور چو کنا رہنا چاہیے جو ہم کو دیکھے مگر ہم اس کو نہ دیکھ پائیں اس آیت سے بعض اہل علم نے یہ استدلال کیا ہے کہ جنوں کے دیکھنا ممکن نہیں ہے مگر یہ استدلال کصحیح نہیں ؛ ہے کہ کیونکہ اگر کسی وقت ہمیں دیکھ رہے ہوں اور ہم انہیں نہ دیکھ رہے ہوں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کا دکھائی دینا کسی وقت بھی ممکن نہیں ہے، یہ قضیتہ مطلقتہ لا دائمتہ لہذا صحیح یہی ہے کہ جنوں کی رؤیت ممکن ہے احادیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جنوں کو دیکھا ہے۔ ، ( فتح القدیر) اور زکو ٰۃ رمضان کی نگرانی کے قصہ میں مذکور ہے کہ حضرت ابور ہریرہ ؓ نے ایک جن کو پکڑ لیا اور صحیح مسلم میں ہے کہ…
Read the full tafseer →(7:27) لایفتننکم۔ مضارع منفی بانون ثقیلہ۔ فتن یفتن (ضرب) سے صیغہ واحد مذکر غائب۔ تمہیں فتنہ میں مبتلا نہ کر دے۔ تمہیں گمراہ نہ کر دے۔ ینزع۔ مضارع واحد مذکر غائب نزع مصدر (باب ضرب) اتروا دیا۔ بمعنی ماضی۔
لیریہما۔ مضارع منصوب ۔ اراء ۃ سے ۔ ہما ضمیر مفعول تثنیہ۔ تاکہ وہ ان دونوں کو دکھائے۔
ینزع عنھما سھما لیریہما سواتھما۔ حال ہے ابویکم سے۔
انہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب شیطن کی طرف راجع ہے۔ قبیلہ۔ اس کا کنبہ۔ اس کی جماعت ۔ اس کا گروہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
لغات القرآن آیت نمبر (26 تا 27 ) ۔
انزلنا (ہم نے اتارا ) ۔ ریش (پرندوں کے پر) ۔ زیب وزینت کا سامان) ۔ لا یفتنن (ہرگز نہ بہکانے پائے) ۔ ینزع (وہ کھینچتا ہے۔ اترواتا ہے) ۔ یری کم (وہ تمہیں دیکھتا ہے ) ۔ لا ترون (تم نہیں دیکھتے ہو ) ۔
تشریح : آیت نمبر (26 تا 27 ) ۔ ” گذشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا جنت میں بھی لباس کی ضرورت رکھتے تھے، جب ان سے لغزش ہوگئی تو جنت کا یہ لباس ان کے جسموں سے اتر گیا اور وہ جنت کے پتوں سے اپنا جسم ڈھانپنے لگے۔۔۔۔ اس سے یہ بات بالکل واضح طور سے سامنے آتی ہے کہ جہاں اپنے جسم کے قابل شرم حصوں کو ایک دوسرے سے چھپانا انسانی فطرت میں…
Read the full tafseer →مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ شیطان آدمی کے جسم میں خون کی طرح پھرتا ہے۔ دل آدمی کا خاص شیطان کی جگہ ہے مگر جس کو خدا بچاوے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ایک روز اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ مجھ کو انسان کے بہکانے کے وقت شیطان کا ٹھکانا دکھلادے اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک آدمی کا دل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دکھلایا کہ سانپ کے پھن کی صورت میں شیطان اس پر چھایا ہوا تھا، لیکن جب وہ شخص کچھ اللہ کا ذکر کرتا تھا وہ سانپ کا پھن اس کے دل پر سے ہٹ جاتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
[13] زمانہ جاہلیت میں مرد و عورت ننگے ہو کر کعبہ کا طواف کیا کرتے اور اس کو مذہبی اور نیک کام سمجھتے تھے۔ اس آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
فروگذاشت :
(ف 1) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم (علیہ السلام) نے فورا غلطی کا احساس کرلیا ، اور اللہ سے معافی مانگی ، یہی امتیاز ہے انبیاء (علیہم السلام) میں اور عام انسانوں میں کہ انبیاء (علیہم السلام) فورا اپنی فروگذاشتوں کو محسوس کرلیتے ہیں اور پیشگاہ جلالت میں عفو خواہ ہوتے ہیں ، اور عام انسان یا تو گناہوں پر متنبہ نہیں ہوتے اور یا تنبیہ کے بعد خدا کے آگے جھکتے نہیں ۔
یہ فروگذاشت محض اجتہادی ہے ، اور نیک نیتی سے ہے آدم (علیہ السلام) کا خیال تھا کہ ممانعت شاید تحریص کے لئے ہے یعنی اس لئے کہ میرے دل میں اس کے استعمال کی شدید خواہش پیدا ہو ، ملکیت یا خلود کی خواہش دراصل اللہ کے تقرب کی خواہش…
Read the full tafseer →27 اے اولادِ آدم (علیہ السلام) دیکھو شیطان تم کو اسی طرح کسی فتنہ میں مبتلا نہ کردے اور تم کو بہکانہ دے جس طرح اس نے تمہاری ماں اور باپ کو فتنہ میں مبتلا کردیا تھا اور ان دونوں کو جنت سے اس حال سے نکلوادیا تھا کہ ان دونوں کے جسم سے ان کے کپڑے بھی اتروادیئے تاکہ ان کی شرمگاہیں اور شرم کے مقامات ان پر ظاہرکردے اور ایک کو دوسرے کے سامنے آشکارا کردے یعنی ایک کے روبرو دوسرے کو برہنہ کردے۔ بلاشبہ وہ شیطان اور اس کی قوم اور اس کا لشکر تم کو ایسی جگہ سے دیکھتا ہے جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے بیشک ہم نے شیاطین کو انہی لوگوں کا رفیق بنادیا ہے اور انہی کا دوست مقرر کررکھا ہے جو ایمان نہیں لاتے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ف 5۔ کیونکہ اس ظاہری لباس کا مطلوب شرعی ہونا اسی تقوی کے وجوب کی فرع ہے پس اصلی مقصود جو ہر حالت میں ضروری ہے وہ یہ لباس ہے۔
Read the full tafseer →اے اولاد آدم ! شیطان کے بہکاوے میں نہ آنا جیسا کہ تمہارے ماں باپ کو اس نے بہکا دیا :
32: زیر نظر آیت میں اس قصہ آدم کے بیان کرنے کا اصل مدعا واضح کردیا کہ اس قصہ کے بیان کرنے کا مقصد و مدعا یہ ہے کہ اے اولاد آدم ! تم اس کے مکرو فریب سے بچتے رہنا اس لئے کہ یہ تمہارا ازلی وابدی دشمن ہے جس طرح اس نے تمہارے ماں باپ کو بہکانے کی کوشش کی اس کی ذریت تم کو بھی ضرور بہکانے کی کوشش کرے گی اور ہر کام میں مکر شیطانی سے بچتے رہنا ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو بھی کسی فتنہ میں مبتلا کر دے اور تم اس کے فتنہ سے نکل ہی نہ سکو۔ دیکھو آدم (علیہ السلام) سے ہم نے وعدہ کیا تھا کہ تم یہاں سے اپنے اس مقام کی طرف اتر جائو…
Read the full tafseer →In the second verse (27), the address reverts to all children of Adam (علیہ السلام) and the admonition given is that they should keep guarding against the deception of Shaytan in everything they do under whatever circumstance they are - lest, Shaytan puts them on another trial as he did with their parents, 'Adam and Eve. He made them leave Paradise, caused them to shed their dress and render their essential cover to be uncovered. He was their eternal enemy. His enmity was something, they were never to lose sight of.
At the end of the verse, it was said:
إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ…
Read the full tafseer →16. These verses bring into focus several important points.
First, that the need to cover oneself is not an artificial urge in man; rather it is an important dictate of human nature. Unlike animals, God did not provide man with the protective covering that He provided to animals. God rather endowed man with the natural instincts of modesty and bashfulness. Moreover, the private parts of the body are not only, related to sex, but also constitute 'sawat' that is, something the exposure of which is felt to be shameful. Also, God did not provide man with a natural covering in response to man's…
Read the full tafseer →