لباس اور داڑھی جمال و جلال
یہاں اللہ تعالیٰ اپنا احسان یاد دلاتا ہے کہ اس نے لباس اتارا اور ریش بھی۔ لباس تو وہ ہے جس سے انسان اپنا ستر چھپائے اور ریش وہ ہے جو بطور زینت رونق اور جمال کے پہنا جائے۔ اول تو ضروریات زندگی سے ہے اور ثانی زیادتی ہے۔ ریش کے معنی مال کے بھی ہیں اور ظاہری پوشاک کے بھی ہیں اور جمال و خوش لباسی کے بھی ہیں۔ حضرت ابو امامہ ؓ نے نیا کرتہ پہنتے ہوئے جبکہ گلے تک وہ پہن لیا فرمایا دعا (الحمد اللہ الذی کسانی ما اواری بہ عورتی و اتجمل بہ فی حیاتی) پھر فرمانے لگے میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے سنا ہے فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے جو شخص نیا کپڑا پہنے اور اس کے گلے تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
سورة الْاَعْرَاف 15
اب قصہ آدم و حوا کے ایک خاص پہلو کی طرف توجہ منعطف کر کے اہل عرب کے سامنے خود ان کی اپنی زندگی کے اندر شیطانی اغوا کے ایک نمایاں ترین اثر کی نشان دہی فرمائی جاتی ہے۔ یہ لوگ لباس کو صرف زینت اور موسمی اثرات سے جسم کی حفاظت کے لیے استعمال کرتے تھے، لیکن اس کی سب سے پہلی بنیادی غرض، یعنی جسم کے قابل شرم حصّوں کی پردہ پوشی آپ کے نزدیک کوئی اہمیت نہ رکھتی تھی۔ انہیں اپنے ستر دوسروں کے سامنے کھول دینے میں کوئی باک نہ تھا۔ برہنہ منظر عام پر نہا لینا، راہ چلتے قضائے حاجت کے لیے بیٹھ جانا، ازار کھل جائے تو ستر کے بےپردہ ہوجانے کی پروا نہ کرنا ان کے شب و روز کے معمولات تھے۔ اس سے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے اولاد آدم (ایک ہمارا انعام یہ ہے کہ) ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہارے ستر (یعنی پردہ والے بدن) کو بھی چھپاتا ہے اور (تمہارے بدن کے لئے) موجب زینت بھی (ہوتا) ہے، اور (ظاہری لباس کے علاوہ ایک معنوی لباس بھی تمہارے لئے تجویز کیا ہے جو) تقویٰ (یعنی دینداری) کا لباس (ہے کہ) یہ اس (لباس ظاہری) سے بڑھ کر (ضروری) ہے (کیونکہ اس ظاہری لباس کا مطلوب شرعی ہونا اسی تقویٰ یعنی دینداری کی ایک فرع ہے، اصل مقصود ہر حالت میں لباس تقویٰ ہی ہے) یہ (لباس پیدا کرنا) اللہ تعالیٰ کے (فضل و کرم) کی نشانیوں میں سے ہوتا ہے، تاکہ یہ لوگ (اس نعمت کو) یاد رکھیں (اور یاد رکھ کر اپنے منعم اور محسن کا…
Read the full tafseer →فصل 4۔ آیات 26 تا 43 کا مضمون :
ان آیات میں پہلے ان باتوں کی یاد دہانی کی گئی ہے جن سے، شیطان کی دشمنی کے پیش نظر، اولادِ آدم کو شروع ہی میں آگاہ کردیا گیا تھا اور جن کا اہتمام پیش آنے والے امتحان میں کامیاب ہونے کے ہر ابن آدم کا فرض تھا تاکہ وہ اس افتاد سے محفوظ رہیں جو ان کے دشمن ازلی کے ہاتھوں ان کے بابپ کو پیش آئی۔ اس کے بعد قریش کی طرف، جو اس سورة میں مخاطب ہیں، اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے ان ہدایات کو نظر انداز کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شیطان نے ان کو بھی ورغلا کر اسی طرح ان کے کپڑے اتروا لیے ہیں جس طرح ان کے ماں باپ، آدم و حوا، کے اتروا لیے تھے لیکن یہ اپنی حماقت سے یہ سمجھتے…
Read the full tafseer →26۔ 1 سَوْآت، ُ ، ُ جسم کے وہ حصے جنہیں چھپانا ضروری ہے جیسے شرم گاہ اور وہ لباس جو حسن و رعنائی کے لئے پہنا جائے۔ گویا لباس کی پہلی قسم ضروریات سے اور دوسری قسم تتمہ اضافہ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں قسموں کے لباس کے لئے سامان اور مواد پیدا فرمایا۔
26۔ 2 اس سے مراد بعض کے نزدیک وہ لباس ہے جو متقین قیامت والے دن پہنیں گے۔ بعض کے نزدیک ایمان، بعض کے نزدیک عمل صالح مشیت الٰہی وغیرہ ہیں۔ مفہوم سب کا تقریبًا ایک ہے کہ ایسالباس، جسے پہن کر انسان تکبر کرنے کی بجائے، اللہ سے ڈرے اور ایمان و عمل صالح کے تقاضوں کا اہتمام کرے۔
26۔ 3 اس سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ زیب وزینت اور آرائش کے لئے بھی اگرچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
11: آیات 26 تا 32 اہل عرب کی ایک عجیب و غریب رسم کے پس منظر میں نازل ہوئی ہیں، جس کی تفصیل یہ ہے کہ مکہ مکرمہ کے قریب رہنے والے کچھ قبیلے مثلاً قریش، حمس کہلاتے تھے، عرب کے دوسرے تمام قبیلے حرم کی پاسبانی کی وجہ سے ان لوگوں کی بڑی عزت کرتے تھے، اسی کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ عربوں کے عقیدے کے مطابق کپڑے پہن کر طواف کرنا صرف انہی کا حق تھا، دوسرے لوگ کہتے تھے کہ جن کپڑوں میں ہم نے گناہ کئے ہیں ان کے ساتھ ہم بیت اللہ کا طواف نہیں کرسکتے، چنانچہ یہ لوگ جب طواف کے لئے آتے تو حمس کے کسی آدمی سے کپڑے نہ ملتے تو وہ بالکل عریاں ہو کر طواف کرتے تھے، یہ آیتیں اس بےہودہ رسم کی تردید کے لئے نازل ہوئی ہیں اور…
Read the full tafseer →آیت ” نمبر 26۔
یہ اللہ کی جانب سے انسانوں کے نام ایک درد انگیز پکار ہے اور یہ پکار تخلیق انسانیت کی کہانی کے منظر کے بعد آئی ہے ۔ خصوصا اس کے اس حصے کے بعد جس میں شیطان کی سازش سے حضرت آدم اور حوا کے جسموں سے جنت کا لباس اتار دیا گیا اور جس میں دونوں اس طرح دکھائی دیتے تھے کہ وہ اپنے جسموں کے اوپر جنت کے پتوں کو چسپاں کر رہے تھے ۔ یہ دن انہیں اللہ کی حکم عدولی کرنے کی وجہ سے دیکھنے پڑے تھے کیونکہ انہیں ایک خاص درخت کا پھل کھانے کی صریح ممانعت کی گئی تھی ۔ یہ ایک لغزش تھی اور اس کی نوعیت ایسی نہ تھی جس کی تفصیلات اہل کتاب کی منحرف کتابوں تورات وانجیل کے اندر موجود ہیں اور جن کا پر تو آج مغرب…
Read the full tafseer →6 اتارنے سے مراد اس کا مادہ وغیرہ پیدا کرنا اور اس کے تیار کرنے کی تدبیر بتلانا ہے گو اتارنے کا لفظ اکثر اس موقع پر بولتے ہیں جہاں ایک چیز کو اوپر سے نیچے لایا جائے مگر بہت دفعہ اس سے مکانی فوق و تحت مراد نہیں ہوتا۔ بلکہ جو مرتبہ کے اعتبار سے اونچا ہو، اس کی طرف سے کوئی چیز نیچے والوں کو عطا کئے جانے پر بھی یہ لفظ اطلاق کیا جاتا ہے۔ جیسے فرمایا (وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ ) 39 ۔ الزمر :6) یا (وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْهِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ) 57 ۔ الحدید :25)
7 یعنی اس ظاہری لباس کے علاوہ جس سے صرف بدن کا تستّر یا تزیّن ہوتا ہے ایک معنوی پوشاک بھی ہے جس سے انسان…
Read the full tafseer →آیت 26 یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِکُمْ وَرِیْشًا ط۔
عربوں کے ہاں زمانۂ جاہلیت کے غلط رسم و رواج اور نظریات میں سے ایک راہبانہ نظریہ یا تصور یہ بھی تھا کہ لباس انسانی جسم کے لیے خواہ مخواہ کا تکلف ہے اور یہ شرم کا احساس جو انسان نے اپنے اوپر اوڑھ رکھا ہے یہ بھی انسان کا خود اپنا پیدا کردہ ہے۔ اس نظریے کے تحت ان کے مرد اور عورتیں مادر زاد ننگے ہو کر کعبۃ اللہ کا طواف کرتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ نفہ ذات self annihiliation کا بہت بڑا مظاہرہ تھا اور یوں اللہ تعالیٰ کے قرب کا ایک خاص ذریعہ بھی۔ اس طرح کے خیالات و نظریات بعض معاشروں میں آج بھی پائے جاتے…
Read the full tafseer →23 لباس کے اخلاقی اور طبعی فوائد اور لباس کا بنیادی مقصد :۔ لباس کو نازل کرنے سے مراد یہ ہے کہ آدم (علیہ السلام) کو فوری طور پر الہام کیا گیا کہ وہ اپنی شرمگاہوں کو ڈھانپیں اور ممکن ہے اس سے مراد شرم و حیا کی وہ فطری جبلت ہو جو انسان کے اندر رکھ دی گئی ہے اور اس سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے زمین پر آجانے کے بعد بارش ہوئی جس سے زمین میں سے روئی یا دوسری ریشہ دار نباتات اگ آئیں جس سے انہوں نے لباس بنا لیا ہو اور لباس سے مراد ہر وہ چیز ہے جس سے بدن کو ڈھانپا جاسکے اور اس لباس کے اللہ تعالیٰ نے دو فائدے بتائے ایک اخلاقی دوسرا طبعی۔ اخلاقی فائدہ یہ ہے کہ اپنے مقامات ستر ڈھانپ…
Read the full tafseer →32 ۔ آیت سے پھر ایک بار یہ حقیقت ظاہر ہورہی ہے کہ لباس و حجاب مقاصد شرعی میں سے ہیں۔ اور برہنگی ونیم برہنگی کا فلسفہ خواہ اس کی تبلیغ یورپ اور امریکہ سے ہورہی ہو یا اس کی ترویج وحشی وغیر مہذب قوموں میں ہو بہرحال ایک شیطانی فلسفہ ہے۔ قال کثیر من العلماء ھذہ الایۃ دلیل علی وجوب ستر العورۃ (قرطبی) یدل علی فرض ستر العورۃ لاخبارہ انہ انزل علینا لباسا یواری سو اتنا (جصاص) وقد اتفقت الامۃ علی معنی ما دلت علیہ الایۃ من لزوم فرض ستر العورۃ (جصاص) (آیت) ” قد انزلنا علیکم لباسا “۔ تمہارے لیے لباس پیدا کیا ہے بہ طور اپنے ایک انعام خاص کے۔ انزلنا کے لفظی معنی تو اتارنے کے ہیں۔ یہاں خلقنا کا مرادف قرار دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
آیت نمبر 26 تا 31
ترجمہ : اے آدم کی اولاد ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہاری شرمگاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور سبب زینت بھی ہے، (ریش) وہ کپڑا کہ جس سے زینت حاصل کی جائے اور بہترین لباس تقوے کا لباس ہے یعنی عمل صالح کا، یا اچھی ہیئت، لِبَاسَ ، لباسًا پر عطف کرتے ہوئے نصب کے ساتھ ہے اور مبتداء ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اس کی خبر جملہ ذٰلِکَ خیرٌ ہے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یعنی اللہ کی دلائل قدرت میں سے ایک دلیل ہے تاکہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں اور ایمان لے آئیں اس میں خطاب سے (غیبت کی جانب) التفات ہے اے بنی آدم کہیں تمہیں شیطان گمراہ نہ کر دے جس طرح تمہارے والدین کی اس نے اپنے فتنہ…
Read the full tafseer →یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواتکم وریشآ و لباس التقوی ذلک خیر ذلک من ایت اللہ لعلہم یذکرون اے اولاد آدم ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہارے واجب الستر اعضاء کو چھپاتا بھی ہے اور موجب زینت بھی ہے اور تقویٰ کا لباس سب سے بڑھ کر ہے یہ اللہ کے احکام میں سے ہے تاکہ لوگ یاد رکھیں۔
بغوی نے لکھا ہے جاہلیت کے زمانہ میں لوگ کعبہ کا طواف برہنہ ہو کر کیا کرتے تھے مرد دن میں اور عورتیں رات میں۔ ان کا قول تھا کہ جن کپڑوں میں ہم نے گناہ کئے ہیں ان کو پہنے ہوئے ہم طواف نہیں کریں گے۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی قتادہ نے کہا عورت دوران طواف میں اپنی شرمگاہ پر ہاتھ رکھے ہوئے کہتی تھی آج اس کا کچھ…
Read the full tafseer →(26) روئی، اون اور بالوں وغیرہ کے کپڑے تمہارے لیے پیدا کیے اور تمہیں دیے تاکہ تم اس سے اپنے پردہ دار جسم کو چھپاؤ اور مال اور گھریلو سامان بھی دیا، باقی توحید وعفت کا لباس روئی کے لباس سے بہت زیادہ بہتر ہے اور یہ کپڑے اللہ کے عجائبات میں سے ہیں تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
Read the full tafseer →يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا : یعنی آسمان سے پانی اتارا، جس سے روئی اگتی ہے، ریشم اور پشم کا سامان مہیا ہوتا ہے، پھر تمہیں زراعت، شجرکاری، حیوان پروری، کپڑا بننے اور دوسری چیزیں بنانے کا طریقہ سکھا دیا۔ راغب نے فرمایا کہ یہاں ”اَنْزَلَ“ بمعنی ”خَلَقَ“ ہے، جیسے : (وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ) [ الحدید : 25 ] ”اور ہم نے لوہا اتارا۔“ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یعنی دشمن نے جنت کے کپڑے تم سے اتروائے، پھر ہم نے تم کو دنیا میں لباس کی تدبیر سکھا دی۔“ (موضح)
يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَرِيْشًا ۭ: یعنی لباس کا مقصد ستر پوشی اور زینت ہے۔ اس کے علاوہ وہ سردی، گرمی اور چوٹ وغیرہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 26۔
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 : قولہ تعالیٰ : آیت : یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسایواری سواتکم بہت سے علماء نے کہا ہے : یہ آیت اس پر دلیل ہے کہ شرمگاہ کو ڈھانپنا واجب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : یواری سواتکم اور ایک قوم ( گروہ) نے کہا ہے کہ اس میں اس پر کوئی دلیل نہیں ہے جو انہوں نے بیان کیا ہے، بلکہ اس میں فقط اس کے انعام ہونے پر دلیل ہے۔
میں ( مفسر) کہتا ہوں : پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ اور من جملہ نعمتوں میں سے ایک شرمگاہ کو ڈھانپنا بھی ہے۔ پس یہ بیان کہا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ کی اولاد کے لیے وہ کچھ پیدا فرمایا ہے جس کے ساتھ وہ اپنی شرمگاہوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
بنی آدم کے لباس کے فائدے
(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواتکم “ کے بارے میں فرمایا کہ عرب کے لوگ بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے تھے ان میں سے کوئی کپڑا نہیں پہنتا تھا۔ جس میں وہ طواف کرتا تھا ” وریشا “ یعنی مال۔
(2) امام ابن منذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواتکم “ کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) قریش میں سے حمس قبیلہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور جو اس کا ماخذ عرب کے قبائل کو قرار دیتے ہیں اور وہ انصار ہیں۔ اوس خزرج خزاعہ، ثقیف…
Read the full tafseer →يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ [ اے آدم (علیہ السلام) کے بیٹو ] قَدْ اَنْزَلْنَا [ ہم نے اتارا ہے ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] لِبَاسًا [ ایک ایسا لباس جو ] يُّوَارِيْ [ چھپاتا ہے ] سَوْاٰتِكُمْ [ تمہاری ستر کی حصوں کو ] وَرِيْشًا ۭ [ اور زیبائش ہوتے ہوئے ] وَلِبَاسُ التَّقْوٰى ۙ [ اور تقوی کا لباس !] ذٰلِكَ [ وہ (تو) ] خَيْرٌ ۭ [ سب سے بہت رہے ] ذٰلِكَ [ یہ ] مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ [ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے ] لَعَلَّهُمْ [ شائد وہ لوگ ] يَذَّكَّرُوْنَ [ نصیحت پکڑیں ]
ری ش : (ض) ریشا ۔ کسی کے حال کی اصلاح کرنا ۔ ریش ۔ اسم جنس ہے ۔ واحد ریشۃ جمع ریاش ۔ پرندوں کے پر۔ آرائش وزیبائش کی کوئی بھی چیز ۔ زیرمطالعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
لباس اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اس سے پردہ پوشی بھی ہے اور زینت بھی
گزشتہ رکوع میں شیطان کی انسان دشمنی کا ذکر ہوا اس نے بہت جم کر یہ اعلان کیا تھا کہ میں اولاد آدم کو بہکاؤں گا اور ورغلاؤں گا اور ان میں سے بہت تھوڑے ہی بندے خدائے پاک کے شکر گزار ہوں گے اور اس کا بھی ذکر ہے کہ اس نے حضرت آدم و حواء ( علیہ السلام) کو جنت سے نکلوا دیا۔ اب حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد سے خطاب ہو رہا ہے۔ جس میں انعامات خدا وند یہ کا بھی ذکر ہے اور اولاد آدم کو تنبیہ بھی ہے کہ شیطان کی طرف سے چوکنے رہیں۔
اول تو اولاد آدم کو اللہ جل شانہٗ نے اپنی ایک بہت بڑی نعمت یاد دلائی اور وہ نعمت لباس ہے، اس کو لفظ اَنْزَلْنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
تحذیر از فتنۂ شیطانی دربارۂ بےحیائی وعریانی
قال اللہ تعالیٰ یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسا۔۔۔ الی۔۔۔ لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون
(ربط) گزشتہ قصہ میں شیطان کی عداوت کا ذکر فرمایا اور اسی سلسلہ میں یہ بیان فرمایا کہ شیطان نے حضرت آدم اور حواء کو دھوکہ دیا جس کا اثر یہ ہوا کہ ان کے بدن سے جنت کا لباس اتر پڑا جس سے گھبرا کر اور شرما کر جنت کے درختوں کے پتوں سے ستر کو ڈھانکنے لگے۔ یہ برہنگی شیطان کا پہلا فتنہ تھا اب آئندہ آیات میں اسی فتنہ کے متعلق احکام ارشاد فرماتے ہیں جس میں اہل عرب اور شیطان کے اغواء اور اضلال سے مبتلا تھے کہ برہنہ طواف کرتے تھے اور بعض چیزوں کے کھانے کو زمانۂ حج میں حرام…
Read the full tafseer →23: تمہید کے بعد یہاں سے اصل مقصد یعنی دوسرا دعویٰ شروع ہوتا ہے جسے رکوع 3، 4 میں چار دفعہ “ يٰبَنِیْ آدَمَ ” کے عام خطاب سے بیان کیا گیا ہے۔ “ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا ” یعنی ہم نے لباس اس لیے بنایا ہے تاکہ تم اپنے قابل ستر اعضاء کو ڈھانپ سکو اور لباس سے زینت و آرائش کا کام بھی لو۔ “ رِيْشًا ” ای زینۃ۔
24:“ لِبَاسُ التَّقْويٰ ” سے ایمان، عمل صالح اور دلی حیاء مراد ہے مطلب یہ کہ ظاہری لباس کے ساتھ یہ تقوی کا لباس بھی پہننا چاہئے جو پہلے سے کہیں زیادہ ضرور اور اہم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ربط آیات
پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کتاب ہدایت کے ذکر کے بعد تخلیق آدم کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ شیطان کی عداوت اور دشمنی کا ذکر کیا پھر شیطان کے برے عزائم کا تذکرہ بھی ہوا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی لغزش اور میاں بیوی کے بارگاہ رب العزت میں گڑ گڑا کر دعا کرنے کی بات کی اللہ نے جنت سے اتر جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے تمہارے لیے زمین میں ٹھکانا اور ایک مقررہ مدت تک فائدہ اٹھانا ہے یہ مقررہ مدت کسی انفرادی انسان کی موت کے ساتھ پوری ہوجاتی ہے اور پھر اجتماعی طور پر قیامت کو یہ وقت پورا ہوجائے گا فرمایا اسی زمین میں تم زندہ رہو گے اسی میں مرو گے…
Read the full tafseer →يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ كَـمَآ اَخْرَجَ اَبَوَيْكُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ يَنْزِعُ عَنْہُمَا لِبَاسَہُمَا لِيُرِيَہُمَا سَوْاٰتِہِمَا 0 ۭ اِنَّہٗ يَرٰىكُمْ ہُوَوَقَبِيْلُہٗ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَہُمْ 0 ۭ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّيٰطِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ لِلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 27
فتن
أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13]
(ت ن ) الفتن
دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے…
Read the full tafseer →1 ؎ اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جس لباس میں پرہیزگاری ہو یا جس میں گرمی جاڑے سے بچ سکے وہی عمدہ لباس ہے۔ 12 منہ
: لباس التقویٰ ۔ بقول سیدنا عثمان ؓ حسن خلق مراد ہے اور بقول عروہ بن زبیر اللہ سے ڈرنا مراد ہے۔ بعضوں نے پاکدامنی کہا ہے زید علی نے وہ چیزیں مراد لی ہیں جن کو لڑائی میں اپنے بچاؤ کے لئے پہنتے ہیں۔ خواجہ حسن بصری حیا مراد لیتے ہیں چونکہ حیا ہی سے پرہیزگاری کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔ حقانی
Read the full tafseer →یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِکُمْ وَ رِیْشًا ط وَ لِبَاسُ التَّقْوٰی لا ذٰلِکَ خَیْرٌ ط ذٰلِکَ مِنْ اٰیٰتِ اللہِ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ ۔ (الاعراف : 26)
” اے اولاد آدم ! ہم نے تم پر لباس اتارا ‘ جو ڈھانپتا ہے تمہاری شرم کی جگہوں کو اور زینت بھی۔ مزید برآں تقویٰ کا لباس ہے ‘ جو سب سے بہتر ہے۔ یہ اللہ کی آیات میں سے ہے ‘ تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں “۔
بنی آدم اپنے باپ سے ابلیس کی دشمنی کو مت بھولنا
اس آیت کریمہ میں ایک ایک لفظ ہمیں غور اور تدبر کی دعوت دیتا ہے سب سے پہلے اس میں یہ دیکھئے کہ خطاب بنی آدم کو ہو رہا ہے کسی خاص انسانی گروہ کو نہیں اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ شجرِممنوعہ کو چکھنے کی وجہ سے آدم (علیہ السلام) اور ان کی رفیقہ حیات کا لباس اتر گیا جس کی وجہ سے شرم کے مارے جنت کے پتوں سے اپنے آپ کو ڈھانپ رہے تھے۔ اس لیے مناسب سمجھا کہ لباس کی افادیت کا بیان کردیا جائے۔
حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا [ سے خطا سرزد ہونے کی وجہ سے ان کا لباس اتر گیا جس کی بناء پر اولاد آدم کو لباس پہننے اور گناہوں سے بچنے کا حکم دے کر فرمایا ہے کہ لباس پہننے اور گناہوں سے پرہیزگاری اختیار کرنے میں تمہاری خیر ہے یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس سے نصیحت حاصل کرو۔ خیر سے مراد ظاہری کثافت، یا موسم کی حدّت وبرودت سے بچاؤ اور بےحیائی سے…
Read the full tafseer →سبب لباس پانی آسمان سے اتارا :
آیت 26: یٰبَنِیْٓٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا (اے اولاد آدم ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا) زمین میں جو کچھ بھی ہے تمام کو منزل من السماء فرمایا کیونکہ ہر چیز کی اصل پانی ہے اور پانی آسمان سے اترتا ہے۔ یُّوَارِیْ سَوْٰاتِکُمْ (جو کہ تمہارے پردہ دار بدن کو بھی چھپاتا ہے) وہ تمہارے ستروں کو چھپاتا ہے۔ وَرِیْشًا (اور زینت کا سبب بھی ہے) لباس زینت۔ یہ ریش الطائر سے بطور استعارہ لیا گیا۔ کیونکہ پر ندے کے پر اس کے لئے زینت اور لباس ہوتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہم نے تم پر دو لباس اتارے ایک وہ لباس جو تمہارے ستروں کو چھپاتے ہیں دوسرا وہ جو زینت دیتے ہیں۔…
Read the full tafseer →(26) بینی ادم قد انزلنا علیکم) یعنی تمہارے لئے پیدا کی (لباساً ) یہاں لباس کے لئے ” انزلنا “ کہا ہے حالانکہ لباس تو زمین کی نباتات سے بنتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ نباتات آسمان کے پانی سے ہوتے ہیں۔ اب معنی یہ ہوگا کہ ہم نے اتارے لباس کے اسباب۔ بعض نے کہا زمین کی تمام برکات آسمان کی طرف منسوب ہیں جیسا کہ فرمایا ” وانزلنا الحدی ” ذ حالانکہ لوہا تو زمین سے نکلتا ہے۔
آیت لباساً یواری سواتکم کا شان نزول
اس آیت کے نزول کا سبب یعنی شان نزول یہ ہے کہ جاہلیت میں لوگ بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے تھے اور کہتے ہیں جن کپڑوں میں اللہ کی نافرمانی کی اس میں طواف کیسے کریں تو مرد دن کو اور عورتیں رات کو طواف کرتیں…
Read the full tafseer →اس آیت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جب شیطان تمہارے دشمن نے تم سے لباس بہشتی چھنوادیا تو پھر ہم نے تمہارے لئے دنیا میں لباس اتارا کہ مینہ کے ذریعہ سے زمین میں روئی پیدا کی جس سے طرح طرح کے کپڑے بنانے کی تدبیر تم کو سکھلا دی سو تم اب پرہیزگاری کا لباس پہنو مرد ریشمی اور ٹخنوں سے نیچا کپڑا اور عورت بہت باریک کپڑا کہ جس میں بدن دکھائی دے نہ پہنے یہ تمہارے حق میں بہتر ہے خدا کی اس نعمت کا شکر کرو معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی و ابن ماجہ میں حضرت عمر ؓ سے آیا ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس نے نئے کپڑے پہن کہ اللہ کا شکر کیا اور پر نے کپڑے صدقہ دے دے تو وہ شخص زندہ مردہ اللہ کی ہمسائیگی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
آیت 25
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم ان کی بیوی اور ان کی اولاد کو زمین پر اتار دیا تو ان کو زمین کے اندر ان کے قیام کے احوال کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ زمین کے اندران کے لئے ایک ایسی زندگی مقرر کردی ہے جس کے تعاقب میں موت ہے جو ابتلاء و امتحان سے لبریز ہے۔ وہ اسی دنیا میں رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی طرف اپنے رسول بھیجے گا، ان پر کتاب نازل کرے گا۔ حتی کہ ان پر موت آئے گی اور وہ اسی زمین میں دفن کردیئے جائیں گے۔ پھر جب وہ اپنی مدت پوری کرلیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ زندہ کرے گا اور اس دنیا سے نکال کر حقیقی گھر میں، جو دائمی قیام کا گھر ہے، داخل رے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس احسان…
Read the full tafseer →لباس کی حقیقت
قول باری ہے یا بنی ادم قدانزلنا علیکم لباساً یواری سواتکم وریشاً ولباس التقوی ذلک خیر۔ اے اولاد آدم ! ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لئے جسم کی حفاظت اور نیت کا ذریعہ بھی ہو اور بہترین لباس تقوی ٰ کا لباس ہے) یہ انسانوں میں سے تمام مکلفین کے لئے خطاب عام ہے جس طرح یہ قول باری یایھا الناس اتقواربکم۔ اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو) ان تمام مکلفین کے لئے خطاب ہے جو حضور ﷺ کے زمانے میں موجود تھے اور جو اس زمانے کے بعد کے زمانوں میں آنے والے تھے۔ البتہ جو لوگ اس وقت موجود نہیں تھے ان کے لئے یہ خطاب وجود میں آجانے اور کمال عقل کو پہنچنے کی…
Read the full tafseer →30 لباس ذریعہ زینت و عزت : سو بنی آدم کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے تم لوگوں پر ایسا لباس اتارا جو چھپائے تمہارے شرم [ اور پردے ] کے حصوں کو اور تاکہ وہ تم لوگوں کے لیے آزمائش وزینت کا ذریعہ بھی ہو۔ پس نفس لباس پہننا انسان کے لئے آرائش و زیبائش ہے اور ننگا ہونا اس کے لئے معیوب اور بدزیبی۔ نہ یہ کہ کوئی خاص ماڈل یا ڈیزائن، جیسا کہ آرائش کے لفظ سے عموماً سمجھ لیا جاتا ہے۔ سو جس طرح پر پرندے کیلئے آرام و راحت اور زیب وزینت کا ذریعہ ہوتے ہیں اسی طرح لباس انسان کیلئے آرام و راحت اور عزت و احترام کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو لباس اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان نعمتوں میں سے ایک ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ
تشریح : سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا واقعہ بیان ہوچکا ہے۔ اس کی چند مثالیں ان آیات میں بیان کی گئی ہیں۔ انسان کی آزمائش، ضمیر، روح اور جسم سے ہر وقت ہوتی رہتی ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کا پتلا مٹی سے بنایا ور اس میں اپنی روح پھونک دی۔ یعنی جسم ان تمام ذرات کا مجموعہ ہے جو مٹی میں پائے جاتے ہیں۔ جدید سائنس کی تحقیق کے مطابق انسان 126 عناصر کا مرکب ہے اور یہ سب مٹی میں موجود ہیں۔ انسان مٹی سے بنا مٹی کے اوپر پرورش پاتا ہے اور پھر مٹی میں ہی چلا جاتا ہے۔ مگر اس میں نفس اور روح کی جنگ جاری رہتی ہے۔ موت کے وقت انسان کا نفس اپنی روح کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 26 تا 31:
اسرار و معارف :
گناہ اور خطا کی نسبت اپنی طرف کرکے اللہ سے توبہ کی جائے :
اے اولاد آدم (علیہ السلام) ہم تمہیں لباس عطا فرمایا ہے جو تمہارے لیے ستر عورت کا کام بھی کرتا ہے اور زینت کا باعث بھی ہے یعنی ایسی اشیا پیدا فرمائیں جن سے لباس تیار ہوسکتا ہے اور تمہیں یہ شعور عطا فرمایا کہ طرح طرح کے لباس بناتے ہو جس سے تمہارے جسم کے پردے کا اہتمام بھی ہوتا ہے اور تمہیں سجتا بھی ہے باعث زینت بھی ہے۔
اگر انسانیت فنا نہ ہوچکی ہو اور انسان محض ایک حیوان کی سطح پر نہ گر جائے تو جسم کے پوشیدہ حصوں کو کھولنا گوارا نہیں کرتا جانوروں اور پرندوں میں تو اعضا ہی ایسے طریقے سے پیدا…
Read the full tafseer →ف 3 آسمان سے پانی اتارا جس سے روئی اگتی ہے اور تم اس سے کپڑ بنتے ہو ( قر طبی) یہاں انزل بمعنی خلق ہے یعنی پیدا کیا۔ ( مفر دات حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ یعنی دشمن نے جنت کے کپڑے تم سے اتروائے پھر ہم نے تم کو دنیا میں لباس کی تدبیر سکھا دی۔ ( مو ضح)4 یعنی اس ظاہر لباس کے علاوہ جس سے تم صرف بد ن ڈھانکتے ہو یا زینت کا کام لیتے ہو ایک اور معنی لباس بھی ہے جو ہر لبا س بہتر ہے لہذا تمہیں اس کا اہتمام کرنا چاہیے اور وہ ہے پرہیز گاری یعنی خوف خدا، ایمان اور عمل صالح، کا لباس بعض نے کہا ہے کہ لباس صوفی لوگ پہنتے ہیں مگر یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ بہت سے سلف صالح جن کی پرہیز گاری ضرب المثل تھی عمدہ قسم کے…
Read the full tafseer →(7:26) انزلنا۔ کا لغوی معنی ہے اوپر سے نیچے آنا۔ جیسے انزلنا الماء ہم نے پانی (بارش کی صورت میں ) نازل کیا۔ انسانی ضرورت زندگی کو بہم پہنچانے کے لئے بھی یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے کیونکہ اکثر و بیشتر ارضی چیزیں تدبیرات سماویہ سے ظہور میں آتی ہیں۔ مثلاً یہی لباس کہ کپاس سے تیار ہوتا ہے جو اپنی نشونما کے لئے پانی کی محتاج ہے جو اوپر سے برستا ہے۔ اسی طرح آیا ہے وانزل لہم من الانعام (39:6) اور اس نے تمہارے لئے چوپائے (مویشی) بھیجے یا نازل کئے۔ پیدا کئے۔
ریشا۔ باعث زینت۔ ریش۔ رونق۔ لباس زینت۔ ریش اصل میں پرندوں کے پروں کو کہتے ہیں ۔ اور اس کا واحد ریشہ ہے۔ اور چونکہ پرندوں کی پروں سے رونق ہے اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
لغات القرآن آیت نمبر (26 تا 27 ) ۔
انزلنا (ہم نے اتارا ) ۔ ریش (پرندوں کے پر) ۔ زیب وزینت کا سامان) ۔ لا یفتنن (ہرگز نہ بہکانے پائے) ۔ ینزع (وہ کھینچتا ہے۔ اترواتا ہے) ۔ یری کم (وہ تمہیں دیکھتا ہے ) ۔ لا ترون (تم نہیں دیکھتے ہو ) ۔
تشریح : آیت نمبر (26 تا 27 ) ۔ ” گذشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا جنت میں بھی لباس کی ضرورت رکھتے تھے، جب ان سے لغزش ہوگئی تو جنت کا یہ لباس ان کے جسموں سے اتر گیا اور وہ جنت کے پتوں سے اپنا جسم ڈھانپنے لگے۔۔۔۔ اس سے یہ بات بالکل واضح طور سے سامنے آتی ہے کہ جہاں اپنے جسم کے قابل شرم حصوں کو ایک دوسرے سے چھپانا انسانی فطرت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
عورت مرد کے لباس کا حکم
اس آیت میں فرمایا کہ جب شیطان تمہارے دشمن نے تم سے لباس بہشتی چھنوادیا تو پھر ہم نے تمہارے لئے دنیا کا لباس اتارا کہ مینہ کے ذریعے زمین میں روئی پیدا کی۔ جس سے طرح طرح کے کپڑے بننے کی تدبیر تم کو سکھائی۔ سو تم اب پرہیزگاری کا لباس پہنو۔ مرد ریشمی اور ٹخنوں سے نیچا کپڑا اور عورت بہت باریک کپڑا کہ جس میں بدن دکھائی دے، نہ پہنے۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے خدا کی نعمت کا شکر ادا کرو۔
حضرت آدم (علیہ السلام) کا لباس
مطلب یہ ہے کہ جنت سے علیحدہ ہونے سے پہلے حضرت آدم (علیہما السلام) کالباس ایسا تھا جس طرح ناخن ہیں۔ گیہوں کھانے سے تمام بدن کا لباس اتر کر فقط انگلیوں پر اس لباس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
[11] یعنی اس پر لباس کا الہام کیا تاکہ اللہ کی پیدا کی ہوئی اشیاء سے کام لے کر اپنے لباس فراہم کرے۔
[21] تقویٰ کا لباس ایمان، حیا، نیک خصلتیں اور نیک عمل ہیں اور یہ بیشک ظاہری لباس سے افضل و بہتر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
فروگذاشت :
(ف 1) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم (علیہ السلام) نے فورا غلطی کا احساس کرلیا ، اور اللہ سے معافی مانگی ، یہی امتیاز ہے انبیاء (علیہم السلام) میں اور عام انسانوں میں کہ انبیاء (علیہم السلام) فورا اپنی فروگذاشتوں کو محسوس کرلیتے ہیں اور پیشگاہ جلالت میں عفو خواہ ہوتے ہیں ، اور عام انسان یا تو گناہوں پر متنبہ نہیں ہوتے اور یا تنبیہ کے بعد خدا کے آگے جھکتے نہیں ۔
یہ فروگذاشت محض اجتہادی ہے ، اور نیک نیتی سے ہے آدم (علیہ السلام) کا خیال تھا کہ ممانعت شاید تحریص کے لئے ہے یعنی اس لئے کہ میرے دل میں اس کے استعمال کی شدید خواہش پیدا ہو ، ملکیت یا خلود کی خواہش دراصل اللہ کے تقرب کی خواہش…
Read the full tafseer →26 اے اولادِ آدم (علیہ السلام) ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہارے جسم کے قابل شرم مقامات کو ڈھانکتا اور چھپاتا ہے اور وہ لباس تمہارے لئے موجبِ زینت و آرائش بھی ہے یعنی اس لباس سے جو ہم نے پیدا کیا ہے اور اس کے اسباب کو آسمان سے اتارا ہے دونوں باتیں حاصل ہوتی ہیں ستر بھی اور تزین بھی اسباب کا اتارنا یہ کہ اگر آسمان سے پانی نہ برسے تو روئی پیدا نہ ہو اور لوگوں کو لباس میسر نہ آئے اور دینداری اور پرہیزگاری کا لباس سب لباسوں سے بہتر ہے یعنی تقویٰ اصل مقصود ہے اور سب چیزوں کا مدار تقویٰ ہی پر ہے۔
یہ لباس کا پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور اس کے فضل کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ یہ لوگ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ف 5۔ کیونکہ اس ظاہری لباس کا مطلوب شرعی ہونا اسی تقوی کے وجوب کی فرع ہے پس اصلی مقصود جو ہر حالت میں ضروری ہے وہ یہ لباس ہے۔
Read the full tafseer →اے اولاد آدم ! ہم نے تمہارا لباس نازل کردیا جو ستر پوشی کے ساتھ زیب وزینت بھی ہے :
29: آدم وحوا (علیہما السلام) کا ذکر جو کہ دراصل فطرت انسانی کا بیان تھا اس سے مضمون کو نسل انسانی کی طرف منتقل کردیا اور فرمایا کہ اے اولاد آدم ! ہم نے تمہارے لئے ایسا لباس مہیا کردیا ہے جو جسم کی ستر پوشی کرتا ہے اور زیب وزینت کا کام بھی دیتا ہے۔ “ اس طرح اہل عرب کے سامنے خود ان کی اپنی زندگی کے اندر شیطانی اغوا کے ایک نمایاں ترین اثر کی نشان دہی فرما دی کہ بعض قبائل طواف کعبہ کے وقت اپنا لباس اتار دیتے۔ مرد اور عورتیں مادر زاد برہنہ ہو کر طواف بیت اللہ کرتے اور اس کو کمال تقویٰ خیال کرتے تھے۔ یہ تو قرآن کریم…
Read the full tafseer →Commentary
Mentioned in almost a section preceding the verses cited above was the event relating to Sayyidna 'Adam and Satan, the accursed. The first outcome of the satanic instigation was that the heavenly apparel of 'Adam and Hawwa came off leaving them coverless as a re-suit of which they began hiding their coverable body with leaves.
In the first of the present verses (26), Allah Ta` ala has addressed all children of 'Adam and told them that the dress they wear is a great blessing the worth and value of which must be recognized by them. The address here is not to Muslims alone. It is to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
15. By referring to an important aspect of Adam and Eve's story, the attention of the people of Arabia of those days was drawn to the evil influence of Satan upon their lives. Under Satan's influence they had begun to see dress merely as a shield of protection against the inclemencies of the weather and as a means of adornment. The basic purpose of dress to cover the private parts of the body - had receded into the background. People had no inhibition about the immodest exposure of the private parts of their body in public. To publicly take a bath absolutely naked, to attend to the call of…
Read the full tafseer →