Al-A'raaf 7:25

Al-A'raaf · from ayah 25

7:25

قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَفِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَمِنْهَا تُخْرَجُوْنَ ۟۠قَالَ فِيۡهَا تَحۡيَوۡنَ وَفِيۡهَا تَمُوۡتُوۡنَ وَمِنۡهَا تُخۡرَجُوۡنَ

(یعنی) فرمایا کہ اسی میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں مرنا اور اسی میں سے (قیامت کو زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "Therein you will live, and therein you will die, and from it you will be brought forth."

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 2 of surah · Ruku 9 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:25

اور فرمایا، "وہیں تم کو جینا اور وہیں مرنا ہے اور اسی میں سے تم کو آخرکار نکالا جائے گا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی) فرمایا کہ اسی میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں مرنا اور اسی میں سے (قیامت کو زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

فرمایا تم کو وہاں ہی زندگی بسر کرنا ہے اور وہاں ہی مرنا ہے اور اسی میں سے پھر نکالے جاؤ گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

فرمایا کہ : اسی (زمین) میں تم جیو گے، اور اسی میں تمہیں موت آئے گی، اور اسی سے تمہیں دوبارہ زندہ کرکے نکالا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرمایا اسی میں جیوگے اور اسی میں مرو گے اور اسی میں اٹھائے جاؤ گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ارشاد فرمایا: تم اسی (زمین) میں زندگی گزارو گے اور اسی میں مَرو گے اور (قیامت کے روز) اسی میں سے نکالے جاؤ گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

فرمایا تم اسی میں زندہ رہو گے اور اسی میں مرو گے اور اسی سے نکالے جاؤ گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز فرمایا : اسی زمین میں تم زندگی بسر کرو گے، اسی میں مرو گے اور اسی سے (دوبارہ) نکالے جاؤ گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

فرمایا، اسی میں تم جیو گے، اسی میں مرو گے اور اسی سے نکالے جاؤ گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

نیز فرمایا کہ وہیں تم نے جینا ہے اور وہیں تم نے مرنا ہے، اور اسی میں سے تمہیں (قیامت کے روز) نکالا جائے گا

— مولانا اسحاق مدنی

(اللہ نے) فرمایا اسی میں تمہیں جینا ہے اور اسی میں تمہیں مرنا ہے اور اسی سے نکلنا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر فرمایا کہ (اب) تم اسی (زمین) میں زندگی گزارو گے اسی میں مرو گے اور اسی میں سے تمہیں نکال لیا جائے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اللہ نے) فرمایا : اسی میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں مرنا اور اسی میں سے قیامت کے دن زندہ کرکے نکالے جاؤ گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He continued: 'You shall live there, and there shall you die, and from it you shall be raised to life.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Further) He said, :There you shall live and there you shall die, and from there you shall be raised again.

— Muhammad Taqi Usmani

(Further) He said, :There you shall live and there you shall die, and from there you shall be raised again.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "Therein you shall live, and therein you shall die, and from it you shall be brought out (resurrected)."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: There shall ye live, and there shall ye die, and thence shall ye be brought forth.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "Therein you will live, and therein you will die, and from it you will be brought forth."

— Saheeh International

He told them that, on earth, they would live, die, and be resurrected.

— Muhammad Sarwar

He (also) said: Therein shall you live, and therein shall you die, and from it shall you be raised.

— Muhammad Habib Shakir

Allah said: therein ye shall live and therein ye shall die, and therefrom ye shall be brought forth.

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "Therein shall ye live, and therein shall ye die; but from it shall ye be taken out (at last)."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 24–25

سفر ارضی کے بارے میں یہودی روایات بعض کہتے ہیں یہ خطاب حضرت آدم، حضرت حوا، شیطان ملعون اور سانپ کو ہے۔ بعض سانپ کا ذکر نہیں کرتے۔ یہ ظاہر ہے کہ اصل مقصد حضرت آدم ہیں اور شیطان ملعون۔ جیسے سورة طہ میں ہے آیت (اھبطا منھا جمیعا) حوا حضرت آدم کے تابع تھیں اور سانپ کا ذکر اگر صحت تک پہنچ جائے تو وہ ابلیس کے حکم میں آگیا۔ مفسرین نے بہت سے اقوال ذکر کئے ہیں کہ آدم کہاں اترے، شیطان کہاں پھینکا گیا وغیرہ۔ لیکن دراصل ان کا مخرج بنی اسرائیل کی روایتیں ہیں اور ان کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس جگہ کے جان لینے سے کوئی فائدہ نہیں اگر ہوتا تو ان کا بیان قرآن میں یا حدیث میں ضرور ہوتا،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 24–26

سورة الْاَعْرَاف 15 اب قصہ آدم و حوا کے ایک خاص پہلو کی طرف توجہ منعطف کر کے اہل عرب کے سامنے خود ان کی اپنی زندگی کے اندر شیطانی اغوا کے ایک نمایاں ترین اثر کی نشان دہی فرمائی جاتی ہے۔ یہ لوگ لباس کو صرف زینت اور موسمی اثرات سے جسم کی حفاظت کے لیے استعمال کرتے تھے، لیکن اس کی سب سے پہلی بنیادی غرض، یعنی جسم کے قابل شرم حصّوں کی پردہ پوشی آپ کے نزدیک کوئی اہمیت نہ رکھتی تھی۔ انہیں اپنے ستر دوسروں کے سامنے کھول دینے میں کوئی باک نہ تھا۔ برہنہ منظر عام پر نہا لینا، راہ چلتے قضائے حاجت کے لیے بیٹھ جانا، ازار کھل جائے تو ستر کے بےپردہ ہوجانے کی پروا نہ کرنا ان کے شب و روز کے معمولات تھے۔ اس سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–25

خلاصہ تفسیر اور ہم نے (آدم ؑ کو) حکم دیا کہ اے آدم تم اور تمہاری بی بی (حواء) جنت میں رہو پھر جس جگہ سے چاہو (اور جس چیز کو چاہو) دونوں آدمی کھاؤ اور (اتنا خیال رہے کہ) اس (خاص) درخت کے پاس (بھی) مت جاؤ (یعنی اس کا پھل نہ کھاؤ) کبھی ان لوگوں کے شمار میں آجاؤ جن سے نامناسب کام ہوجایا کرتے ہیں، پھر شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ (ان کو وہ ممنوع درخت کھلا کر) ان کا مستور بدن جو ایک دوسرے سے پوشیدہ تھا دونوں کے روبرو بےپردہ کر دے (کیونکہ اس درخت کے کھانے کی یہی تاثیر ہے، خواہ بالذات یا بوجہ ممانعت کے) اور (وہ وسوسہ یہ تھا کہ دونوں سے) کہنے لگا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت (کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ فِيْهَا تَحْيَوْنَ وَفِيْهَا تَمُوْتُوْنَ وَمِنْهَا تُخْرَجُوْنَ : آدم اور اولاد آدم کے لیے امتحان کے مراحل : یہ ان مراحل کا بیان ہے جن سے اس دنیا میں آدم اور اولادِ آدم کو گزرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب ان تمام مراحل سے گزر کر تم ہمارے پاس لوٹو گے اور اس وقت ہم تمہیں بتائیں گے کہ تم نے کیا کھویا ہے، کیا پایا ہے اور اس میدانِ مقابلہ سے تم سرخرو ہو کر لوٹے ہو یا نامراد ہو کر۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 23–25

23۔ 1 توبہ استغفار کے یہ وہی کلمات ہیں جو حضرت آدم ؑ نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے سیکھے، جیسا کہ سورة بقرہ، آیت 37 میں صراحت ہے (دیکھئے آیت مذکورہ کا حاشیہ) گویا شیطان نے اللہ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا تو اس کے بعد وہ اس پر نہ صرف اڑ گیا بلکہ جواز و اثبات میں عقلی قیاسی دلائل دینے لگا، جس کے نتیجہ میں وہ راندہ درگاہ اور ہمیشہ کے لئے ملعون قرار پایا اور حضرت آدم ؑ نے اپنی غلطی پر ندامت و پشیمانی کا اظہار اور بارگاہ الٰہی میں توبہ و استفغار کا اہتمام کیا۔ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کے مستحق قرار پائے۔ یوں گویا دونوں راستوں کی نشان دہی ہوگئی، شیطانی راستے کی بھی اور اللہ والوں کے راستے کی بھی۔…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 23–25

10: یہ استغفار کے وہی الفاظ ہیں جن کے بارے میں سورة بقرہ (2: 37) میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی یہ الفاظ سکھائے تھے، کیونکہ اس وقت تک انہیں توبہ کا طریقہ بھی معلوم نہیں تھا، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ توبہ کرنے کے لئے یہ الفاظ نہایت مناسب ہیں اور ان کے ذریعے توبہ قبول ہونے کی زیادہ امید ہے، کیونکہ یہ خود اللہ تعالیٰ ہی کے سکھائے ہوئے ہیں، اس طرح اللہ تعالیٰ نے اگر ایک طرف شیطان کو مہلت دے کر اسے انسان کو بہکانے کی صلاحیت دی جو انسان کے لئے زہر جیسی تھی تو دوسری طرف انسان کو توبہ اور استغفار کا تریاق بھی عطا فرمادیا کہ اگر شیطان کے بہکائے میں آکر وہ کبھی کوئی گناہ کر گزرے تو اسے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 74 ایک نظر میں : زیر نظر سبق اس سورة کے وقفوں میں سے ایک وقفہ ہے ۔ پہلے منظر کے بعد یہ ایک طویل وقفہ ہے جس میں تخلیق انسانیت کی ایک عظیم روئیداد بیان کی گئی ہے ۔ اس سورة میں جگہ جگہ ایسے وقفے آتے ہیں گویا سامعین سے کہا جاتا ہے ‘ ذرا رکیں ‘ کہا یہاں تک جو کچھ آپ نے دیکھا اس پر غور کریں اور آگے بڑھنے سے پہلے یہ جان لیں کہ اس منظر میں انسانیت کے لئے کیا کیا نصائح ہیں اور کیا کیا عبرت آموزیاں ہے ۔ یہ وقفہ ان دستوں کی موجودگی میں ہے جو ایک طرف انسانیت کی جانب سے اور دوسری جانب شیطان کی جانب سے باہم معرکہ آرائی کے لئے تیار کھڑے ہیں ۔ اس وقفے میں بتایا جاتا ہے کہ شیطان کس اسلوب سے اور کس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی عموماً تمہارا مسکن اصلی و معتاد یہ ہی زمین ہے۔ اگر خرق عادت کے طور پر کوئی شخص کسی وقت ایک معین مدت کے لئے اس سے اوپر اٹھا لیا جائے مثلاً حضرت مسیح علیہ السلام، تو وہ اس آیت کے منافی نہیں۔ کیا جو شخص چند روز یا چند گھنٹے کے لئے زمین سے جدا ہو کر ہوائی جہاز میں مقیم ہو یا فرض کیجئے وہیں مرجائے وہ (فِيْهَا تَحْيَوْنَ وَفِيْهَا تَمُوْتُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف :52) کے خلاف ہوگا۔ کیونکہ وہ اس وقت زمین پر نہیں ہے۔ دوسری جگہ ارشاد ہے (مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَفِيْهَا نُعِيْدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ ) 20 ۔ طہ :55) جو اموات زمین میں مدفون نہ ہوں ان کو فیھا نعیدکم الخ میں کیسے داخل کیا جائے گا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 24–25

آیت 24 قَالَ اہْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ج۔ ھُبُوط کے بارے میں سورة البقرۃ آیت 36 میں وضاحت ہوچکی ہے کہ یہ لفظ صرف بلندی سے نیچے اترنے کے معنی کے لیے ہی خاص نہیں بلکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا مفہوم بھی اس میں شامل ہے۔ جس دشمنی کا ذکر یہاں کیا گیا وہ حضرت آدم کے ہبوط ارضی کے وقت سے آج تک شیطان کی ذریت اور آدم علیہ السلام کی اولاد کے درمیان مسلسل چلی آرہی ہے اور قیامت تک چلتی رہے گی۔ اس کے علاوہ اس سے بنی نوع انسان کی باہمی دشمنیاں بھی مراد ہیں جو مختلف افراد اوراقوام کے درمیان پائی جاتی ہیں۔ وَلَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ یہ ٹھکانہ اور مال و…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

22 شیطان سیرت اور حق پرست انسانوں کا تقابل :۔ یعنی اس زمین پر ابلیس کی اولاد میں اور آدم کی اولاد میں یہ محاذ آرائی قیامت تک جاری رہے گی جب کہ پہلی بار صور پھونکا جائے گا۔ اس محاذ آرائی یا حق و باطل کے معرکے میں شیطان کے پیروکاروں کی بالکل وہی صفات ہوں گی جن کی ابلیس نے نمائندگی کی تھی یعنی وہ حق سے انحراف کریں گے اللہ کی نافرمانی کریں گے۔ تنبیہ ہونے پر اپنے گناہوں کے اعتراف کی بجائے مزید سرکشی اختیار کریں گے پھر خود ہی سرکشی نہ کریں گے بلکہ اوروں کو مکر و فریب اور جھوٹے وعدوں سے گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے اور ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے کوئی عذاب نازل ہوا تو دوسروں کو مورد الزام ٹھہرائیں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

31 ۔ (قیامت کے دن) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یا کسی دوسرے نبی کے بہ طور خرق عادت آسمان پر جانے کے امکان کو اس آیت کی رو سے جھٹلانا اور یہ دعوی کر بیٹھنا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا زندہ آسمان پر اٹھایا جانا اس آیت قرآنی کے خلاف ہے محض اپنی سطحیت کا مظاہرہ ہے۔ یہاں بیان محض ایک عام حالت اور عمومی دستور کا ہے۔ اور معمولات عام کے خلاف مستثنیات وعجائبات تو ہر روز مشاہدہ میں آتے رہتے ہیں۔ چہ جائیکہ جو خرق عادت بہ طور معجزہ کے ہو !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–25

قالا ربنا ظلمنا انفسنا (الآیۃ) توبہ و استغفار کے یہ وہی کلمات ہیں جو حضرت آدم (علیہ السلام) نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے سیکھے تھے جیسا کہ سورة بقرہ آیت 37 میں صراحت ہے، شیطان نے نافرمانی کا ارتکاب کیا مگر نہ صرف یہ کہ اس پر شرمندہ نہیں ہوا بلکہ اڑ گیا اور اس کے جواز پر عقلی و قیاسی دلائل دینے لگا نتیجتًا وہ راندہ درگاہ اور ہمیشہ کیلئے ملعون قرار پایا، اور حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنی غلطی و پشیمانی کا اظہار کیا اور بارگاہ الہیٰ میں توبہ و استغفار کا اہتمام کیا تو اللہ کی رحمت و مغفرت کے مستحق قرار پائے، گناہ کرکے اس پر اصرار کرنا اور صحیح ثابت کرنے کیلئے دلائل پیش کرنا شیطانی راستہ ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال فیہا تحیون وفیہا تموتون ومنہا تخرجون یہ بھی فرما دیا (کہ) زمین میں ہی تم زندگی بسر کرو گے وہیں مرو گے اور اسی سے (پھر) نکالے جاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(25) تمہیں زمین میں زندگی بسر کرنا ہے اور وہیں مرنا ہے اور قیامت کے دن اسی میں سے پھر پیدا ہونا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ فِيْهَا تَحْيَوْنَ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو بنی آدم کے لیے زندگی میں جائے سکونت قرار دیا ہے، پھر مرنے کے بعد بھی اسی میں دفن ہوں گے اور قیامت کے دن بھی اسی سے زندہ ہو کر نکلیں گے۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (55)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 25 اس میں مذکورہ تمام ضمیریں الارض ( زمین) کے لیے ہیں۔ اور قال میں واو ذکر نہیں کی گئی۔ اور اگر وہ ذکر ہوتی تو بھی جائز ہوتا اور یہ تیرے اس قول کی طرح ہے : قال زید لعمرو کذا قال لہ کذا ( اس میں قال لہ کذا سے پہلے واو ذکر کردی جائے تو وہ درست اور صحیح ہے)

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–25

(1) امام ابن ابی جریر نے محمد بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم اور حوا کو جنت میں ایک درخت کے کھانے سے منع فرمایا شیطان آیا اور سانپ کے پیٹ میں داخل ہوگیا۔ پھر اس نے حوا سے بات کی اور آدم کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہا تمہارے رب نے تم کو اس درخت سے منع نہیں کیا مگر یہ کہ تم دونوں فرشتے بن جاؤ گے یا ہمیشہ رہنے والے ہوجاؤ گے۔ اور اس نے قسمیں کھائیں کہ میں دونوں کو نصیحت کرنے والوں میں سے ہوں (یعنی تمہارا خیرخواہ ہو) حوا نے درخت کو کاٹ ڈالا تو درخت سے خون نکل آیا۔ اور ان دونوں سے ان کا فاخرانہ لباس اتر گیا جو ان پر تھا (اور فرمایا) لفظ آیت ” وطفقا یخصفن علیہما من ورق الجنۃ، ونادھما…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ (اللہ نے ) کہا ] فِيْهَا [ اس میں ] تَحْيَوْنَ [ تم لوگ زندہ رہو گے ] وَفِيْهَا [ اور اس میں ] تَمُوْتُوْنَ [ تم لوگ مروگے ] وَمِنْهَا [ اور اس میں سے ] تُخْرَجُوْنَ [ تم لوگ نکالے جاؤ گے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–26

لباس اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اس سے پردہ پوشی بھی ہے اور زینت بھی گزشتہ رکوع میں شیطان کی انسان دشمنی کا ذکر ہوا اس نے بہت جم کر یہ اعلان کیا تھا کہ میں اولاد آدم کو بہکاؤں گا اور ورغلاؤں گا اور ان میں سے بہت تھوڑے ہی بندے خدائے پاک کے شکر گزار ہوں گے اور اس کا بھی ذکر ہے کہ اس نے حضرت آدم و حواء ( علیہ السلام) کو جنت سے نکلوا دیا۔ اب حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد سے خطاب ہو رہا ہے۔ جس میں انعامات خدا وند یہ کا بھی ذکر ہے اور اولاد آدم کو تنبیہ بھی ہے کہ شیطان کی طرف سے چوکنے رہیں۔ اول تو اولاد آدم کو اللہ جل شانہٗ نے اپنی ایک بہت بڑی نعمت یاد دلائی اور وہ نعمت لباس ہے، اس کو لفظ اَنْزَلْنَا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–25

تتمہ : اور ہم نے آدم کو کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی حوا فی الحال جنت میں سکونت اور قیام یعنی سر دست جنت ہی میں رہو پھر اس میں سے جہاں سے چاہو کھاؤ پیو لیکن اس خاص درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤ گے، ظلم کے اصل معنی لغت میں نقصان اور کمی کے آتے ہیں کما قال تعالیٰ ولم تظلم منہ شیئا اس لیے ہم نے ظالم کا ترجمہ گنہگار سے نہیں کیا بلکہ نقصان اٹھانے والے کیا اور یہی زیادہ مناسب ہے ابلیس چونکہ آدم کی وجہ سے ملعون اور مطرود ہوچکا تھا اس لیے اس کے دل میں حسد اور اور انتقام کی اگ سلگ رہی تھی حضرت آدم کی یہ نعمت اور کرام دیکھ کر حسد اور انتقام کی آگ اور بھڑک گئی۔ اس لیے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

22 حیات سے حیات متعارفہ مراد ہے اس لیے یہ اعتراض وارد نہیں ہوگا کہ اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو وہ بھی زمین پر ہی زندگی بسر کرتے۔ زمین حیات متعارفہ کا مرکز ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی آسمان میں زندگی یہاں کی متعارف زندگی نہیں ہے۔ یعنی وہ زندگی جس کے ساتھ خوردو نوش اور دیگر لوازم وابستہ ہوں۔ یہاں تک تمہید ختم ہوئی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–25

ربط آیات پہلے اللہ نے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور جنت میں اقامت اختیار کرنے کا ذکر فرمایا یاٰدم اسکن انت وزوجک الجنۃ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو ، چلو پھر اور جہاں سے جی چاہے کھائو پیو مگر ایک درخت کے قریب نہ جانا ادھر جب شیطان نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تو اس کا حسد اور تکبر ظاہر ہوگیا تھا اس نے اللہ تعالیٰ سے مہلت لے کر چیلنج کردیا تھا کہ میں تیرے سدھے راستے میں بیٹھوں گا اور تیرے بندوں کو چاروں طرف سے گمراہ کروں گا اس وقت آدم (علیہ السلام) اور حوا جنت میں مقیم تھے اور جنت سے مراد وہی جنت الماویٰ ہے جو اللہ کے پاس ہے بعض لوگ مذکورہ جنت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَرِيْشًا۝ 0 ۭ وَلِبَاسُ التَّقْوٰى۝ 0 ۙ ذٰلِكَ خَيْرٌ۝ 0 ۭ ذٰلِكَ مِنْ اٰيٰتِ اللہِ لَعَلَّہُمْ يَذَّكَّرُوْنَ۝ 26 آدم آدم أبو البشر، قيل : سمّي بذلک لکون جسده من أديم الأرض، وقیل : لسمرةٍ في لونه . يقال : رجل آدم نحو أسمر، وقیل : سمّي بذلک لکونه من عناصر مختلفة وقوی متفرقة، كما قال تعالی: مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشاجٍ نَبْتَلِيهِ [ الإنسان/ 2] . ويقال : جعلت فلاناً أَدَمَة أهلي، أي : خلطته بهم وقیل : سمّي بذلک لما طيّب به من الروح المنفوخ فيه المذکور في قوله تعالی: وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] ، وجعل له…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : بعضکم الخ جملہ حال ہے ضمیر فاعل اھبطوا سے لباسا مفعول انزلنا یواری اس کی صفت وریشا لباساً پر معطوف و لباس منصوب ہو تو ریشا پر معطوف ورنہ مبتدا ذالک جملہ خبر۔ تفسیر : کیوں نہیں ہم نے دنیا میں باہم ایک کو دوسرے کا دشمن بنا دیا ہے۔ سو ایک پر دوسرے کو مسلط کرکے کیا ہم نہیں چھنوا سکتے ؟ ) چونکہ آدم کے احسانات اس کی اولاد پر ہیں اس لئے آدم کے پیدا کرنے اور اس کی صورت بنانے کو مخاطبین کے پیدا کرنے اور صورت بنانے کے ساتھ اس رمز کے لئے تعبیر کیا ورنہ مراد بالذات آدم ہیں اس لئے ثم قلنا للملائکۃ اسجدوا سے انہیں کے خاص حال کو شروع کیا گو اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اے بنی آدم ! تمہارے لئے بھی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 24–25

چناچہ ارشاد فرمایا : قَالَ اھْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ج وَ لَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ ۔ قَالَ فِیْھَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْھَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْھَا تُخْرَجُوْنَ ۔ (الاعراف : 24، 25) (فرمایا : اتر جاؤ ! تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک خاص مدت تک زمین ہی میں جائے قرار اور سامان زیست ہے اور فرمایا وہیں تم کو جینا اور وہیں مرنا ہے اور اسی میں سے تم کو آخر نکالا جائے گا) حضرت آدم وابلیس کو دومتحارب فریقوں کے طور پر زمین پر بھیجا زمین پر حضرت آدم اور حضرت حوا کو بھیجتے ہوئے بعض بنیادی حقیقتوں کا شعور بھی بخشا۔ سب سے پہلی یہ حقیقت ان پر منکشف…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–25

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کا آدم (علیہ السلام) کو ان کی غلطی پر توجہ دلانا اور آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوّا کا اللہ کے حضور معذرت کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے جونہی آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی سے فرمایا کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت کے قریب نہ جانے اور شیطان کی دشمنی سے آگاہ نہیں کیا تھا ؟ یہ فرمان سنتے ہی دونوں نہایت عاجزی اور شرمساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور ان الفاظ میں معافی مانگنے لگے اے ہمارے رب ! اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا ہے۔ اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم نقصان پانے والوں میں ہوں گے۔ آخرت کا خسارہ واضح ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 25: قَالَ فِیْھَا تَحْیَوْنَ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم کو وہاں ہی زندگی بسر کرنی ہے) زمین میں وَ فِیْھَا تَمُوْتُوْنَ وَمِنْھَا تُخْرَجُوْنَ ۔ (اور وہاں ہی مرنا ہے اور اسی میں سے پھر پیدا ہونا ہے) ثو اب و عقاب کے لیے۔ قراءت : حمزہ و علی نے تَخْرُجون معروف پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(25) (قال فیھا تحیون) یعنی زمین میں زندگی گزارو گے (وفیھا تموتون ومنھا تخرجون) یعنی زمین میں اپنی قبروں سے نکالے جائو گے۔ ابن عامر، حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” تخرجون “ تاء کے زبر کے ساتھ یہاں اور زخرف میں پڑھا ہے۔ یعقوب (رح) نے یہاں موافقت کی ہے اور حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے زیادہ کیا ہے ” وکذلک تخرجون “ الروم کی ابتداء میں اور باقی حضرات نے تاء کے پیش اور راء کے زبر کے ساتھ ان میں پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 24–25

(24 ۔ 25) ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آدم ( علیہ السلام) وحوا (علیہ السلام) ابلیس اور سانپ سب کو فرمایا کہ آسمان سے زمین پر اترو اور وہاں تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے مطلب یہ ہے کہ شیطان آدمی کے بہکانے کی دشمنی سے اور سانپ آدمی کے کاٹنے کی دشمنی سے کبھی باز نہ آویں گے آدمی کو چاہئے کہ ان سے بچتا رہے جو لوگ شیطان کو دشمن نہ سمجھیں گے اور اس کے بہکاوے میں آجاویں گے وہ ایسا ہی نقصان اٹھائیں گے جس طرح کا نقصان آدم ( علیہ السلام) اور حوا نے اٹھایا پھر فرمایا ایک مدت تک زمین تمہارے رہنے اور ٹھہرنے کا مقام ہے اسی میں تمہارا جینا اور مرنا ہے اور اسی سے تم نکالے جاؤگے مطلب یہ ہے کہ چند روز زندگی کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 25–26

آیت 25 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم ان کی بیوی اور ان کی اولاد کو زمین پر اتار دیا تو ان کو زمین کے اندر ان کے قیام کے احوال کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ زمین کے اندران کے لئے ایک ایسی زندگی مقرر کردی ہے جس کے تعاقب میں موت ہے جو ابتلاء و امتحان سے لبریز ہے۔ وہ اسی دنیا میں رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی طرف اپنے رسول بھیجے گا، ان پر کتاب نازل کرے گا۔ حتی کہ ان پر موت آئے گی اور وہ اسی زمین میں دفن کردیئے جائیں گے۔ پھر جب وہ اپنی مدت پوری کرلیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ زندہ کرے گا اور اس دنیا سے نکال کر حقیقی گھر میں، جو دائمی قیام کا گھر ہے، داخل رے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس احسان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–25

ابلیس کے وار انسان پر قول باری ہے ثم لا تینھم من بین ایدیھم ومن خلفھم وعن ایمانھم وعن شمائلھم پھر ان کے آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا) حضرت ابن عباس، ابراہیم، قتادہ، الحکم اور سدی سے منقول ہے کہ من بین ایدیھم ومن خلفھم) سے مراد ہے ” ان کی دنیا اور آخرت کی طرف سے، ان کی نیکیوں اور بدیوں کی جہت ہے “ مجاہد کا قول ہے۔” ان کی نظروں کے سامنے ہو کر اور ان کی نظروں سے چھپ کر “ ایک قول ہے ” ہر اس جہت سے جس میں انہیں اپنے پھندے میں پھانسنا ممکن ہوگا “۔ شیطان نے انسانوں کے خلاف اپنی فتنہ سا مانیوں کے لئے ایک جہت کا ذکر نہیں کیا یعنی ” ومن فوقھم “ (اور ان کے اوپر سے) نہیں کہا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

29 بعث بعد الموت کی تذکیر و یاددہانی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کو مرنے کے بعد پھر اسی زمین سے اٹھایا جائے گا۔ سو بعث بعد الموت کی تذکیر و یاددہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اسی سے تم لوگوں کو نکالا جائے گا یعنی قیامت کے روز تاکہ تم زندگی بھر کے اپنے اپنے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ پا سکو۔ پس دنیا کی اس عارضی منزل کو تم کہیں اپنی حقیقی منزل اور اصل اور آخری ٹھکانہ نہ سمجھ لینا کہ یہ اساس و بنیاد ہے دائمی خسارے اور ناکامی کی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بلکہ اس کو کسب آخرت کی فرصت اور اس کا موقع سمجھتے ہوئے آخرت کی اپنی اصل اور حقیقی زندگی کیلئے کمائی کرنا ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–28

سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ تشریح : سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا واقعہ بیان ہوچکا ہے۔ اس کی چند مثالیں ان آیات میں بیان کی گئی ہیں۔ انسان کی آزمائش، ضمیر، روح اور جسم سے ہر وقت ہوتی رہتی ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کا پتلا مٹی سے بنایا ور اس میں اپنی روح پھونک دی۔ یعنی جسم ان تمام ذرات کا مجموعہ ہے جو مٹی میں پائے جاتے ہیں۔ جدید سائنس کی تحقیق کے مطابق انسان 126 عناصر کا مرکب ہے اور یہ سب مٹی میں موجود ہیں۔ انسان مٹی سے بنا مٹی کے اوپر پرورش پاتا ہے اور پھر مٹی میں ہی چلا جاتا ہے۔ مگر اس میں نفس اور روح کی جنگ جاری رہتی ہے۔ موت کے وقت انسان کا نفس اپنی روح کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–25

رکوع نمبر 2 ۔ آیات نمبر 11 تا 25: اسرار و معارف : انسانی زندگی محض ایک حادثہ نہیں اور نہ نیک و بد کی آویزش محض کھیل ہے اس کا ایک پس منظر ہے جو تمہاری بھلائی کے لیے بیان کردیا جاتا ہے مقصد سامنے آجائے گا تو کامیابی اور ناکامی کا اندازہ کرنا تمہیں آسان ہوگا اب تو صرف مادی ترقی کو کمال سمجھ رہے ہو پھر جان سکو گے کہ اول ضرورت روحانی ترقی کی ہے مادی کمالات اس کے تابع ہیں اگر روحانی ارتقا سے آدمی محروم ہوجائے تو مادی انکشافات دکھوں میں اضافہ ہی کرتے ہیں ان میں سے بھی بھلائی اور بہتری کا پہلو رخصت ہوجاتا ہے۔ اصل بات یوں ہے۔ انانیت : کہ ہم نے تمہیں یعنی تمہارے جد آدم (علیہ السلام) کو اس طرح پیدا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو بنی آدم کے لیے جائے سکونت قرار دیا ہے کہ مر نے کے بعد اس زمین میں مد فون ہوں اور قیامت کے دن سے زندہ ہو کر نکلیں جیسا کہ سورت طحہٰ میں فرمایا : منھاخلقنا وفیھا نعید کم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔ اسی مٹی سے ہم نے تم کو پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ تمہیں نکالیں گے ( آیت 55)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 24–25

(7:24) اھبطوا۔ تم سب اترو۔ ھبوط سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ نیچے اترنا۔ ہبوط آدم۔ حضرت آدم کا جنت سے زمین پر اترنا۔ مستقر۔ ظرف مکان۔۔ استقرار (استفعال) مصدر۔ قرار گاہ۔ ٹھہرنے کی جگہ۔ متاع۔ اسم مفرد۔ امتعۃ جمع۔ معین وقت تک فائدہ اٹھانا۔ سامان جو کام میں آتا ہے جس سے کسی طرح فائدہ حاصل کیا جاتا ہے الی حین۔ ایک وقت تک۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–25

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 25: اسکن (تو آباد ہوجا۔ تو سکونت اختیار کر) ۔ کلا (تم دونوں کھاؤ) حیث شئتما (جیسے تم چاہو) لاتقربا (تم دونوں قریب نہ جانا) ۔ الشجرۃ (درخت) وسوس (خیال ڈالا، وسوسہ ڈالا) لیبدی (تاکہ وہ کھول دے وری (چھپایا گیا) سواۃ (شرم گاہیں۔ (بدن کا وہ حصہ جس کو چھپانا چاہیے) ۔ مانھکما (تم دونوں کو منع نہیں کیا تھا ) ۔ ملکین (دو فرشتے ) ۔ قاسم (اس نے قسم کھائی) ۔ دل (مائل کیا۔ جھکایا ) ۔ ذاقا (دونوں نے چکھا ) ۔ بدت (ظاہر ہوگئی ) ۔ طفقا یخصفان (دونوں جوڑنے لگے ) ۔ ورق (پتہ۔ پتے ) ۔ نادی (اس نے پکارا ) ۔ الم انھکما (کیا میں نے تم دونوں کو منع نہیں کیا تھا ) ۔ ظلمنا (ہم نے زیادتی کی۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 25–26

عورت مرد کے لباس کا حکم اس آیت میں فرمایا کہ جب شیطان تمہارے دشمن نے تم سے لباس بہشتی چھنوادیا تو پھر ہم نے تمہارے لئے دنیا کا لباس اتارا کہ مینہ کے ذریعے زمین میں روئی پیدا کی۔ جس سے طرح طرح کے کپڑے بننے کی تدبیر تم کو سکھائی۔ سو تم اب پرہیزگاری کا لباس پہنو۔ مرد ریشمی اور ٹخنوں سے نیچا کپڑا اور عورت بہت باریک کپڑا کہ جس میں بدن دکھائی دے، نہ پہنے۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے خدا کی نعمت کا شکر ادا کرو۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا لباس مطلب یہ ہے کہ جنت سے علیحدہ ہونے سے پہلے حضرت آدم (علیہما السلام) کالباس ایسا تھا جس طرح ناخن ہیں۔ گیہوں کھانے سے تمام بدن کا لباس اتر کر فقط انگلیوں پر اس لباس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 25–26

[11] یعنی اس پر لباس کا الہام کیا تاکہ اللہ کی پیدا کی ہوئی اشیاء سے کام لے کر اپنے لباس فراہم کرے۔ [21] تقویٰ کا لباس ایمان، حیا، نیک خصلتیں اور نیک عمل ہیں اور یہ بیشک ظاہری لباس سے افضل و بہتر ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–27

فروگذاشت : (ف 1) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم (علیہ السلام) نے فورا غلطی کا احساس کرلیا ، اور اللہ سے معافی مانگی ، یہی امتیاز ہے انبیاء (علیہم السلام) میں اور عام انسانوں میں کہ انبیاء (علیہم السلام) فورا اپنی فروگذاشتوں کو محسوس کرلیتے ہیں اور پیشگاہ جلالت میں عفو خواہ ہوتے ہیں ، اور عام انسان یا تو گناہوں پر متنبہ نہیں ہوتے اور یا تنبیہ کے بعد خدا کے آگے جھکتے نہیں ۔ یہ فروگذاشت محض اجتہادی ہے ، اور نیک نیتی سے ہے آدم (علیہ السلام) کا خیال تھا کہ ممانعت شاید تحریص کے لئے ہے یعنی اس لئے کہ میرے دل میں اس کے استعمال کی شدید خواہش پیدا ہو ، ملکیت یا خلود کی خواہش دراصل اللہ کے تقرب کی خواہش…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

25 اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمادیا کہ تم کو زمین ہی میں زندہ رہنا اور اسی زمین میں مرنا اور اس ہی زمین سے نکلنا ہے یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوکر زمین ہی سے نکالے جائو گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ اوپر کے قصہ میں ابلیس کی ضلالت اور بنی آدم سے اس کی عداوت مذکور تھی آگے اس کے اضلال اور اس سے حذر اور احتیاط کی تاکید کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس ارض الٰہی میں تمہارا جینا اور مرنا ہے اور وہیں سے تم کو نکالا جائے گا : 28: یعنی تمہارا وطن اصل یہی زمین ہے اور اسی کے لئے تم کو پیدا کیا گیا ہے ہاں ! اس کائنات کے بعد نیا نظام قائم ہوگا اور پھر تم کو اس زمین سے نکال لیا جائے گا اور جب تک یہ نظام قائم ہے اس وقت تک آدم وابلیس دو متحارب فریقوں ہی کی حیثیت سے رہو گے اور اس طرح دو مخالف طاقتوں کے اس مجموعہ کو جو زندگی دی گئی اور جو نظام ان کی ذریت کے لیے طے کیا گیا اس کے مطابق ان کی ہار جیت ہوتی رہے گی ” اس میں زندہ رہو گے اور اس میں مرو گے “ یہ ان مراحل کا بیان ہے جن سے اس دنیا میں آدم اور اولاد آدم کو گزرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب ان تمام مراحل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–25

Commentary The story of Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) and Iblis mentioned in the present verses has appeared in the fourth section of Surah Al-Baqarah. Detailed comments have been given in the Tafsir of that Surah. If needed, please see Ma‘ariful-Quran, English Translation, Volume I, Pages 170-187.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–26

15. By referring to an important aspect of Adam and Eve's story, the attention of the people of Arabia of those days was drawn to the evil influence of Satan upon their lives. Under Satan's influence they had begun to see dress merely as a shield of protection against the inclemencies of the weather and as a means of adornment. The basic purpose of dress to cover the private parts of the body - had receded into the background. People had no inhibition about the immodest exposure of the private parts of their body in public. To publicly take a bath absolutely naked, to attend to the call of…

Read the full tafseer →