Al-A'raaf 7:24

Al-A'raaf · from ayah 24

7:24

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۚ— وَلَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ ۟قَالَ اهۡبِطُوۡا بَعۡضُكُمۡ لِبَـعۡضٍ عَدُوٌّ‌ ۚ وَلَـكُمۡ فِى الۡاَرۡضِ مُسۡتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰى حِيۡنٍ‏

(خدا نے) فرمایا (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ (اب سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک وقت (خاص) تک زمین پر ٹھکانہ اور (زندگی کا) سامان (کر دیا گیا) ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Allah] said, "Descend, being to one another enemies. And for you on the earth is a place of settlement and enjoyment for a time."

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 2 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:24

فرمایا، "اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے ایک خاص مدت تک زمین ہی میں جائے قرار اور سامان زیست ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(خدا نے) فرمایا (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ (اب سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک وقت (خاص) تک زمین پر ٹھکانہ اور (زندگی کا) سامان (کر دیا گیا) ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

حق تعالیٰ نے فرمایا کہ نیچے ایسی حالت میں جاؤ کہ تم باہم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور تمہارے واسطے زمین میں رہنے کی جگہ ہے اور نفع حاصل کرنا ہے ایک وقت تک

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ نے (آدم، ان کی بیوی اور ابلیس سے) فرمایا : اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور تمہارے لیے ایک مدت تک زمین میں ٹھہرنا اور کسی قدر فائدہ اٹھانا (طے کردیا گیا) ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرمایا اُترو تم میں ایک دوسرے کا دشمن ہے اور تمہیں زمین میں ایک وقت تک ٹھہرنا اور برتنا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ارشادِ باری ہوا: تم (سب) نیچے اتر جاؤ تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہیں، اور تمہارے لئے زمین میں معیّن مدت تک جائے سکونت اور متاعِ حیات (مقرر کر دیئے گئے ہیں گویا تمہیں زمین میں قیام و معاش کے دو بنیادی حق دے کر اتارا جا رہا ہے، اس پر اپنا نظامِ زندگی استوار کرنا)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

فرمایا اتر جاؤ، تمہارا بعض بعض کا دشمن ہے اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ایک ٹھکانا اور کچھ (زندگی کا) سامان ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم سب (یہاں سے) نکل جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ اب تمہارے لیے زمین میں جائے قرار اور ایک مدت تک سامان زیست ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

فرمایا، اترو، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت خاص تک ٹھہرنا اور کھانا پینا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

فرمایا اتر جاؤ، تم یہاں سے اس حال میں کہ تم ایک دوسرے کے دشمن رہو گے اور تمہارے لئے زمین میں ٹھکانا ہوگا اور سامان زیست اور ایک مدت (مقررہ) تک،

— مولانا اسحاق مدنی

(اللہ نے) فرمایا اترو تم (سب) کوئی کسی کا دشمن (ہوکر) اور زمین میں تمہارے لئے ٹھکانا (رکھا گیا) ہے اور نفع (حاصل کرنا) ایک وقت معلوم تک۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اللہ نے) فرمایا تم سب اتر جاؤ (اب) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے زمین میں ٹھکانہ ہے اور (ضرورت کا) سازوسامان بھی ایک وقت معین تک

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اللہ نے) فرمایا تم سب بہشت سے اتر جاؤ۔ اب سے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ اور تمہارے لیے ایک خاص وقت تک زمین پر ٹھکانا اور زندگی کا سامان کردیا گیا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah said: 'Go down; you are enemies one of the other. For you there is dwelling and provision on the earth for a while.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :Go down, some of you enemies of some; and for you on the earth there will be a dwelling place and enjoyment for a time.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :Go down, some of you enemies of some; and for you on the earth there will be a dwelling place and enjoyment for a time.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Allah) said: "Get down, one of you an enemy to the other. On earth will be a dwelling place for you and an enjoyment for a time."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Go down (from hence), one of you a foe unto the other. There will be for you on earth a habitation and provision for a while.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Allah] said, "Descend, being to one another enemies. And for you on the earth is a place of settlement and enjoyment for a time."

— Saheeh International

The Lord told them to leave the garden as each other's enemies and go to earth to dwell and benefit from the means therein for an appointed time.

— Muhammad Sarwar

He said: Get forth, some of you, the enemies of others, and there is for you in the earth an abode and a provision for a time.

— Muhammad Habib Shakir

Allah said: get ye down, one of you an enemy unto anot her; and for you on the earth there shall be a habitation and provision for a season.

— Abdul Majid Daryabadi

(Allah) said: "Get ye down. With enmity between yourselves. On earth will be your dwelling-place and your means of livelihood,- for a time."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 24–25

سفر ارضی کے بارے میں یہودی روایات بعض کہتے ہیں یہ خطاب حضرت آدم، حضرت حوا، شیطان ملعون اور سانپ کو ہے۔ بعض سانپ کا ذکر نہیں کرتے۔ یہ ظاہر ہے کہ اصل مقصد حضرت آدم ہیں اور شیطان ملعون۔ جیسے سورة طہ میں ہے آیت (اھبطا منھا جمیعا) حوا حضرت آدم کے تابع تھیں اور سانپ کا ذکر اگر صحت تک پہنچ جائے تو وہ ابلیس کے حکم میں آگیا۔ مفسرین نے بہت سے اقوال ذکر کئے ہیں کہ آدم کہاں اترے، شیطان کہاں پھینکا گیا وغیرہ۔ لیکن دراصل ان کا مخرج بنی اسرائیل کی روایتیں ہیں اور ان کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس جگہ کے جان لینے سے کوئی فائدہ نہیں اگر ہوتا تو ان کا بیان قرآن میں یا حدیث میں ضرور ہوتا،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 24–26

سورة الْاَعْرَاف 15 اب قصہ آدم و حوا کے ایک خاص پہلو کی طرف توجہ منعطف کر کے اہل عرب کے سامنے خود ان کی اپنی زندگی کے اندر شیطانی اغوا کے ایک نمایاں ترین اثر کی نشان دہی فرمائی جاتی ہے۔ یہ لوگ لباس کو صرف زینت اور موسمی اثرات سے جسم کی حفاظت کے لیے استعمال کرتے تھے، لیکن اس کی سب سے پہلی بنیادی غرض، یعنی جسم کے قابل شرم حصّوں کی پردہ پوشی آپ کے نزدیک کوئی اہمیت نہ رکھتی تھی۔ انہیں اپنے ستر دوسروں کے سامنے کھول دینے میں کوئی باک نہ تھا۔ برہنہ منظر عام پر نہا لینا، راہ چلتے قضائے حاجت کے لیے بیٹھ جانا، ازار کھل جائے تو ستر کے بےپردہ ہوجانے کی پروا نہ کرنا ان کے شب و روز کے معمولات تھے۔ اس سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–25

خلاصہ تفسیر اور ہم نے (آدم ؑ کو) حکم دیا کہ اے آدم تم اور تمہاری بی بی (حواء) جنت میں رہو پھر جس جگہ سے چاہو (اور جس چیز کو چاہو) دونوں آدمی کھاؤ اور (اتنا خیال رہے کہ) اس (خاص) درخت کے پاس (بھی) مت جاؤ (یعنی اس کا پھل نہ کھاؤ) کبھی ان لوگوں کے شمار میں آجاؤ جن سے نامناسب کام ہوجایا کرتے ہیں، پھر شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ (ان کو وہ ممنوع درخت کھلا کر) ان کا مستور بدن جو ایک دوسرے سے پوشیدہ تھا دونوں کے روبرو بےپردہ کر دے (کیونکہ اس درخت کے کھانے کی یہی تاثیر ہے، خواہ بالذات یا بوجہ ممانعت کے) اور (وہ وسوسہ یہ تھا کہ دونوں سے) کہنے لگا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت (کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوّ الایہ، اس آیت کے تمام پہلوؤں پر بقرہ کی تفسیر میں بحث گزر چکی ہے، آدم و حوّا نے اگرچہ توبہ کرلی تھی اور ان کی توبہ اللہ تعالیٰ نے منظور بھی فرما لی تاہم حکمت الٰہی کا تقاضا یہی ہوا کہ آدم و حوا جنت سے نکلیں اور اس دنیا میں رہ کر وہ اور ان کی ذریت شیطان اور اس کی ذریت سے مقابلہ کریں، پھر اس میدان میں جو شیطان سے بازی لے جائیں وہ جنت کے وارث ٹھہریں۔ گویا مقابلہ تو وہی رہا جس کا ابلیس نے چیلنج دیا تھا لیکن میدان مقابلہ جنت کے بجائے یہ دنیا بنا دی گئی اور جنت کو انعام قرار دے دیا گیا۔ اولاد آدم میں سے ان خوش بختوں کے لیے جو شیطان کے مقابل میں سرخ رو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 23–25

23۔ 1 توبہ استغفار کے یہ وہی کلمات ہیں جو حضرت آدم ؑ نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے سیکھے، جیسا کہ سورة بقرہ، آیت 37 میں صراحت ہے (دیکھئے آیت مذکورہ کا حاشیہ) گویا شیطان نے اللہ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا تو اس کے بعد وہ اس پر نہ صرف اڑ گیا بلکہ جواز و اثبات میں عقلی قیاسی دلائل دینے لگا، جس کے نتیجہ میں وہ راندہ درگاہ اور ہمیشہ کے لئے ملعون قرار پایا اور حضرت آدم ؑ نے اپنی غلطی پر ندامت و پشیمانی کا اظہار اور بارگاہ الٰہی میں توبہ و استفغار کا اہتمام کیا۔ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کے مستحق قرار پائے۔ یوں گویا دونوں راستوں کی نشان دہی ہوگئی، شیطانی راستے کی بھی اور اللہ والوں کے راستے کی بھی۔…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 23–25

10: یہ استغفار کے وہی الفاظ ہیں جن کے بارے میں سورة بقرہ (2: 37) میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی یہ الفاظ سکھائے تھے، کیونکہ اس وقت تک انہیں توبہ کا طریقہ بھی معلوم نہیں تھا، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ توبہ کرنے کے لئے یہ الفاظ نہایت مناسب ہیں اور ان کے ذریعے توبہ قبول ہونے کی زیادہ امید ہے، کیونکہ یہ خود اللہ تعالیٰ ہی کے سکھائے ہوئے ہیں، اس طرح اللہ تعالیٰ نے اگر ایک طرف شیطان کو مہلت دے کر اسے انسان کو بہکانے کی صلاحیت دی جو انسان کے لئے زہر جیسی تھی تو دوسری طرف انسان کو توبہ اور استغفار کا تریاق بھی عطا فرمادیا کہ اگر شیطان کے بہکائے میں آکر وہ کبھی کوئی گناہ کر گزرے تو اسے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت ” نمبر 24 تا 25۔ سب کے سب اتر جاؤ ‘ اس کرہ ارض پر جابسو ‘ سوال یہ ہے کہ اس وقت یہ لوگ کہاں تھے ؟ جنت کہاں ہے ؟ یہ غیبی امور سے متعلق باتیں ہیں اور اس بارے میں ہم اسی قدر جانتے ہیں جس قدر ہمیں وہ ذات باری بتادے جس کے ہاتھ میں غیب کی کنجیاں ہیں ۔ اب جب کہ وحی کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے تو کسی انسان کی جانب سے ان غیبی امور ومقامات کی تلاش ایک فضول کوشش ہوگی ۔ اسی طرح جو لوگ ان امور کا انکار کرتے ہیں اور اپنی سائنسی اور غیر یقینی معلومات کی اساس پر کرتے ہیں وہ بھی اپنی حدود سے تجازو کررہے ہیں اور ان کا یہ موقف محض خود سری اور مکابرہ ہے ۔ اس لئے کہ وہ اس عالم غیب کی بات کرتے ہیں ، جہاں تک انہیں یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 23–24

4 مفسرین کے نزدیک یہ خطاب آدم و حوا اور ابلیس لعین سب کو ہے کیونکہ اصل عداوت آدم اور ابلیس کی ہے اور اس عداوت کا دنگل ہماری زمین بنائی گئی جس کی خلافت آدم کو سپرد ہوئی تھی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 24–25

آیت 24 قَالَ اہْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ج۔ ھُبُوط کے بارے میں سورة البقرۃ آیت 36 میں وضاحت ہوچکی ہے کہ یہ لفظ صرف بلندی سے نیچے اترنے کے معنی کے لیے ہی خاص نہیں بلکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا مفہوم بھی اس میں شامل ہے۔ جس دشمنی کا ذکر یہاں کیا گیا وہ حضرت آدم کے ہبوط ارضی کے وقت سے آج تک شیطان کی ذریت اور آدم علیہ السلام کی اولاد کے درمیان مسلسل چلی آرہی ہے اور قیامت تک چلتی رہے گی۔ اس کے علاوہ اس سے بنی نوع انسان کی باہمی دشمنیاں بھی مراد ہیں جو مختلف افراد اوراقوام کے درمیان پائی جاتی ہیں۔ وَلَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ یہ ٹھکانہ اور مال و…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

21 ابلیس و آدم (علیہ السلام) کی ایک دوسرے سے دشمنی کی وجہ :۔ ابلیس آدم (علیہ السلام) کا اس لیے دشمن بن گیا کہ اس کی آزمائش کا جس میں وہ سخت ناکام رہا سبب آدم (علیہ السلام) بنے تھے اور آدم (علیہ السلام) اس لیے ابلیس کے دشمن بنے کہ اس نے مکر و فریب سے سبز باغ دکھا کر اور جھوٹی قسمیں کھا کر آدم (علیہ السلام) کو اللہ کی نافرمانی پر آمادہ کر ہی لیا چناچہ ان دونوں کو جنت سے نکال کر زمین میں لا بسایا گیا کیونکہ جنت ایسی محاذ آرائی کی جگہ نہیں ہے ایسی محاذ آرائی کے لیے زمین ہی موزوں تھی مناسب یہی تھا کہ حق و باطل کے سب معرکے زمین ہی پر واقع ہوں اس طرح اللہ کی وہ مشیت خود بخود پوری ہوگئی جس کے لیے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

30 ۔ یعنی وقت موت تک۔ گویا حکم یہ ملا کہ اب بجائے جنتی اور آسمانی زندگی کے، مدت العمر زمینی زندگی پر گزر بسر کرنا ہوگا (آیت) ” اھبطوا “ یعنی جنت سے اترو۔ خطاب اب محض آدم (علیہ السلام) وحوا سے نہیں۔ ذریت آدم (علیہ السلام) وذریت ابلیس سے بھی ہے۔ اسی لیے اب خطاب میں صیغہ تثنیہ کا نہیں جمع کا ہے۔ یہ ہبوط دنیا میں کہاں ہوا تھا ؟ قرآن اس باب میں خاموش ہے۔ اور تفسیروں میں جو روایتیں منقول ہیں ان میں سے کوئی حدیث صحیح کے درجہ کی نہیں، بلکہ سب کا ماخذ اسرائیلیات ہی ہیں۔ اس لیے مسلمان کے لیے سکوت ہی اولی ہے۔ وقد ذکر المفسرون الا ماکن التی ھبط فیھا کل منھم ویرجع حاصل تلک الاخبار الی الاسرائیلیات واللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–25

قالا ربنا ظلمنا انفسنا (الآیۃ) توبہ و استغفار کے یہ وہی کلمات ہیں جو حضرت آدم (علیہ السلام) نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے سیکھے تھے جیسا کہ سورة بقرہ آیت 37 میں صراحت ہے، شیطان نے نافرمانی کا ارتکاب کیا مگر نہ صرف یہ کہ اس پر شرمندہ نہیں ہوا بلکہ اڑ گیا اور اس کے جواز پر عقلی و قیاسی دلائل دینے لگا نتیجتًا وہ راندہ درگاہ اور ہمیشہ کیلئے ملعون قرار پایا، اور حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنی غلطی و پشیمانی کا اظہار کیا اور بارگاہ الہیٰ میں توبہ و استغفار کا اہتمام کیا تو اللہ کی رحمت و مغفرت کے مستحق قرار پائے، گناہ کرکے اس پر اصرار کرنا اور صحیح ثابت کرنے کیلئے دلائل پیش کرنا شیطانی راستہ ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال اہبطوا بعضکم لبعض عدو ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین اللہ نے فرمایا تم سب باہم دشمن ہونے کی حالت میں ہی اترو۔ تمہیں زمین میں ہی رہنا اور ایک وقت تک نفع اندوز ہونا ہے۔ اِہبطوا اگرچہ جمع کا صیغہ ہے مگر مخاطب صرف آدم ( علیہ السلام) و حوا ( علیہ السلام) ہیں ابلیس کو اس سے پہلے اتارا جا چکا ہے شاید (دو کے لئے) جمع کا صیغہ اس لئے استعمال کیا گیا کہ ان دونوں کا نزول ساری نسل کے نزول کا سبب ہے (یعنی تم دونوں اور آئندہ ہونے والی تمہاری نسل سب اترو) بعض کے نزدیک ابلیس کو بھی ذیلی طور پر اس وقت بھی خطاب میں داخل کرلیا گیا (اور تینوں کو حکم دیا گیا) تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ ہمیشہ (دنیا میں) ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(24) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ سب جنت سے اتر جاؤ تمہارے لیے رہنے اور معیشت کے لیے، موت تک زمین میں جگہ تجویز کی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ اهْبِطُوْا۔۔ : ”َمَتَاعٌ“ یعنی عارضی لذتیں اور فائدے، تنوین تنکیر سے معلوم ہوا کہ وہ بھی چند۔ مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ آیت (36) کے فوائد۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 22–24

قولہ تعالیٰ : آیت : فدلھما بغرور یعنی شیطان نے انہیں ہلاکت میں ڈال دیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس نے انہیں قسم کے ساتھ دھوکہ دیا۔ اور حضرت آدم (علیہ السلام) یہ گمان رکھتے تھے کہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا، پس شیطان نے انہیں اپنی وسوسہ اندازی اور قسم کے ساتھ دھوکہ ڈال دیا۔ اور حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : اس نے ان دونوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائی یہاں تک کہ انہیں دھوکے میں ڈال دیا۔ اور مومن اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ دھوکہ کھا جاتا ہے (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 459 ) ۔ بعض علماء کہتے ہیں : جس نے ہمیں اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ دھوکہ دیا ہم وہ دھوکہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–25

(1) امام ابن ابی جریر نے محمد بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم اور حوا کو جنت میں ایک درخت کے کھانے سے منع فرمایا شیطان آیا اور سانپ کے پیٹ میں داخل ہوگیا۔ پھر اس نے حوا سے بات کی اور آدم کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہا تمہارے رب نے تم کو اس درخت سے منع نہیں کیا مگر یہ کہ تم دونوں فرشتے بن جاؤ گے یا ہمیشہ رہنے والے ہوجاؤ گے۔ اور اس نے قسمیں کھائیں کہ میں دونوں کو نصیحت کرنے والوں میں سے ہوں (یعنی تمہارا خیرخواہ ہو) حوا نے درخت کو کاٹ ڈالا تو درخت سے خون نکل آیا۔ اور ان دونوں سے ان کا فاخرانہ لباس اتر گیا جو ان پر تھا (اور فرمایا) لفظ آیت ” وطفقا یخصفن علیہما من ورق الجنۃ، ونادھما…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ (اللہ نے ) کہا ] اهْبِطُوْا [ تم لوگ نیچے اترو ] بَعْضُكُمْ [ تم میں کا کوئی ] لِبَعْضٍ [ کسی کیلئے ] عَدُوٌّ ۚ [ دشمن ہے ] وَلَكُمْ [ اور تمہارے لیے ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] مُسْتَقَرٌّ [ ایک ٹھکانہ ہے ] وَّمَتَاعٌ [ اور برتنے کا کچھ سامان ہے ] اِلٰي حِيْنٍ [ کچھ عرصہ تک ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–26

لباس اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اس سے پردہ پوشی بھی ہے اور زینت بھی گزشتہ رکوع میں شیطان کی انسان دشمنی کا ذکر ہوا اس نے بہت جم کر یہ اعلان کیا تھا کہ میں اولاد آدم کو بہکاؤں گا اور ورغلاؤں گا اور ان میں سے بہت تھوڑے ہی بندے خدائے پاک کے شکر گزار ہوں گے اور اس کا بھی ذکر ہے کہ اس نے حضرت آدم و حواء ( علیہ السلام) کو جنت سے نکلوا دیا۔ اب حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد سے خطاب ہو رہا ہے۔ جس میں انعامات خدا وند یہ کا بھی ذکر ہے اور اولاد آدم کو تنبیہ بھی ہے کہ شیطان کی طرف سے چوکنے رہیں۔ اول تو اولاد آدم کو اللہ جل شانہٗ نے اپنی ایک بہت بڑی نعمت یاد دلائی اور وہ نعمت لباس ہے، اس کو لفظ اَنْزَلْنَا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–25

تتمہ : اور ہم نے آدم کو کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی حوا فی الحال جنت میں سکونت اور قیام یعنی سر دست جنت ہی میں رہو پھر اس میں سے جہاں سے چاہو کھاؤ پیو لیکن اس خاص درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤ گے، ظلم کے اصل معنی لغت میں نقصان اور کمی کے آتے ہیں کما قال تعالیٰ ولم تظلم منہ شیئا اس لیے ہم نے ظالم کا ترجمہ گنہگار سے نہیں کیا بلکہ نقصان اٹھانے والے کیا اور یہی زیادہ مناسب ہے ابلیس چونکہ آدم کی وجہ سے ملعون اور مطرود ہوچکا تھا اس لیے اس کے دل میں حسد اور اور انتقام کی اگ سلگ رہی تھی حضرت آدم کی یہ نعمت اور کرام دیکھ کر حسد اور انتقام کی آگ اور بھڑک گئی۔ اس لیے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

21: اِھْبِطُوْا بصیغہ جمع میں خطاب حضرت آدم و حواء (علیہما السلام) اور ابلیس سے ہے۔ امام فراء کہتے ہیں۔ خطاب حضرت آدم اور حواء سے ہے جیسا کہ دوسری جگہ وارد ہے :“ قَالَ اھْبِطَا مِنْھَا جَمِیْعًا ”(طٰہٰ رکوع 7) چونکہ وہ دونوں نوع بشر کی اصل ہیں اس لحاظ سے گویا کہ وہی جمیع بشر ہیں۔ وضمیر الجمع لکونھما اصل البشر فکانہم ھم (روح ج 8 ص 102) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–25

ربط آیات پہلے اللہ نے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور جنت میں اقامت اختیار کرنے کا ذکر فرمایا یاٰدم اسکن انت وزوجک الجنۃ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو ، چلو پھر اور جہاں سے جی چاہے کھائو پیو مگر ایک درخت کے قریب نہ جانا ادھر جب شیطان نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تو اس کا حسد اور تکبر ظاہر ہوگیا تھا اس نے اللہ تعالیٰ سے مہلت لے کر چیلنج کردیا تھا کہ میں تیرے سدھے راستے میں بیٹھوں گا اور تیرے بندوں کو چاروں طرف سے گمراہ کروں گا اس وقت آدم (علیہ السلام) اور حوا جنت میں مقیم تھے اور جنت سے مراد وہی جنت الماویٰ ہے جو اللہ کے پاس ہے بعض لوگ مذکورہ جنت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ فِيْہَا تَحْيَوْنَ وَفِيْہَا تَمُوْتُوْنَ وَمِنْہَا تُخْرَجُوْنَ۝ 25 ۧ حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : بعضکم الخ جملہ حال ہے ضمیر فاعل اھبطوا سے لباسا مفعول انزلنا یواری اس کی صفت وریشا لباساً پر معطوف و لباس منصوب ہو تو ریشا پر معطوف ورنہ مبتدا ذالک جملہ خبر۔ تفسیر : کیوں نہیں ہم نے دنیا میں باہم ایک کو دوسرے کا دشمن بنا دیا ہے۔ سو ایک پر دوسرے کو مسلط کرکے کیا ہم نہیں چھنوا سکتے ؟ ) چونکہ آدم کے احسانات اس کی اولاد پر ہیں اس لئے آدم کے پیدا کرنے اور اس کی صورت بنانے کو مخاطبین کے پیدا کرنے اور صورت بنانے کے ساتھ اس رمز کے لئے تعبیر کیا ورنہ مراد بالذات آدم ہیں اس لئے ثم قلنا للملائکۃ اسجدوا سے انہیں کے خاص حال کو شروع کیا گو اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اے بنی آدم ! تمہارے لئے بھی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 24–25

چناچہ ارشاد فرمایا : قَالَ اھْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ج وَ لَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ ۔ قَالَ فِیْھَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْھَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْھَا تُخْرَجُوْنَ ۔ (الاعراف : 24، 25) (فرمایا : اتر جاؤ ! تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک خاص مدت تک زمین ہی میں جائے قرار اور سامان زیست ہے اور فرمایا وہیں تم کو جینا اور وہیں مرنا ہے اور اسی میں سے تم کو آخر نکالا جائے گا) حضرت آدم وابلیس کو دومتحارب فریقوں کے طور پر زمین پر بھیجا زمین پر حضرت آدم اور حضرت حوا کو بھیجتے ہوئے بعض بنیادی حقیقتوں کا شعور بھی بخشا۔ سب سے پہلی یہ حقیقت ان پر منکشف…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–25

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کا آدم (علیہ السلام) کو ان کی غلطی پر توجہ دلانا اور آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوّا کا اللہ کے حضور معذرت کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے جونہی آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی سے فرمایا کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت کے قریب نہ جانے اور شیطان کی دشمنی سے آگاہ نہیں کیا تھا ؟ یہ فرمان سنتے ہی دونوں نہایت عاجزی اور شرمساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور ان الفاظ میں معافی مانگنے لگے اے ہمارے رب ! اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا ہے۔ اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم نقصان پانے والوں میں ہوں گے۔ آخرت کا خسارہ واضح ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 24: قَالَ اھْبِطُوْا (اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم نیچے جائو) یہ جمع کے لفظ سے آدم و حواء کو خطاب ہے کیونکہ ابلیس اتارا گیا اور یہ بھی احتمال ہے کہ وہ آسمان میں اتارا گیا ہو پھر زمین میں تمام اکٹھے اتارے گئے ہوں۔ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ (ایسی حالت میں کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے) یہ موضع حال ہے یعنی تم دونوں ایک دوسرے سے دشمنی کرنے والے ہوگے اور دونوں سے ابلیس دشمنی کرے گا اور وہ دونوں اس سے دشمنی کریں گے۔ وَلَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ (اور تمہارے لئے زمین میں رہنے کی جگہ ہے) ٹھہرنا یا ٹھہرنے کی جگہ وَّمَتَا عٌ زندگی سے نفع اٹھانااِلٰی حِیْنٍ (ایک وقت تک) وقت مقررہ کے اختتام تک۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 24–25

(24 ۔ 25) ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آدم ( علیہ السلام) وحوا (علیہ السلام) ابلیس اور سانپ سب کو فرمایا کہ آسمان سے زمین پر اترو اور وہاں تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے مطلب یہ ہے کہ شیطان آدمی کے بہکانے کی دشمنی سے اور سانپ آدمی کے کاٹنے کی دشمنی سے کبھی باز نہ آویں گے آدمی کو چاہئے کہ ان سے بچتا رہے جو لوگ شیطان کو دشمن نہ سمجھیں گے اور اس کے بہکاوے میں آجاویں گے وہ ایسا ہی نقصان اٹھائیں گے جس طرح کا نقصان آدم ( علیہ السلام) اور حوا نے اٹھایا پھر فرمایا ایک مدت تک زمین تمہارے رہنے اور ٹھہرنے کا مقام ہے اسی میں تمہارا جینا اور مرنا ہے اور اسی سے تم نکالے جاؤگے مطلب یہ ہے کہ چند روز زندگی کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 24 یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم اور حوا کو جمع کے صیغے کے ساتھ مخاطب کر کے نیچے اترنے کا حکم دیا، کیونکہ ابلیس تو اس سے قبل اتارا جا چکا تھا، پھر سب زمین کی طرف اتارے گئے۔ آدم و حوا کے ساتھ ابلیس کو بھی بتکرار حکم دیا گیا تاکہ معلوم ہو کہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ہوں گے، کیونکہ ابلیس انسان سے کبھی جدا نہیں ہوتا بلکہ ہر وقت ساتھ رہتا ہے اور اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ (بعضکم لبعض) کا جملہ (اھبطوا) کی ضمیر سے حال ہونے کی بنا پر نصب کے مقام پر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم و حوا اور شیطان سے کہا کہ سب جنت سے نکل کر زمین پر اتر جاؤ درآنحالیکہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–25

ابلیس کے وار انسان پر قول باری ہے ثم لا تینھم من بین ایدیھم ومن خلفھم وعن ایمانھم وعن شمائلھم پھر ان کے آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا) حضرت ابن عباس، ابراہیم، قتادہ، الحکم اور سدی سے منقول ہے کہ من بین ایدیھم ومن خلفھم) سے مراد ہے ” ان کی دنیا اور آخرت کی طرف سے، ان کی نیکیوں اور بدیوں کی جہت ہے “ مجاہد کا قول ہے۔” ان کی نظروں کے سامنے ہو کر اور ان کی نظروں سے چھپ کر “ ایک قول ہے ” ہر اس جہت سے جس میں انہیں اپنے پھندے میں پھانسنا ممکن ہوگا “۔ شیطان نے انسانوں کے خلاف اپنی فتنہ سا مانیوں کے لئے ایک جہت کا ذکر نہیں کیا یعنی ” ومن فوقھم “ (اور ان کے اوپر سے) نہیں کہا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 23–24

28 اللہ تعالیٰ کے احکام سے سرتابی سراسر خسارہ ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر ان دونوں نے عرض کیا کہ اے ہمارے رب ہم نے ظلم کیا اپنی جانوں پر۔ پس اگر تو نے ہماری بخشش نہ فرمائی اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو یقینا ہم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک کے احکام کی نافرمانی سراسر خسارے کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ان دونوں نے اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور اس طرح بخشش و رحمت کی دعاء و درخواست کی، جس پر ان کے قصور کو معاف فرما دیا گیا۔ بخلاف شیطان کے کہ وہ اپنے قصور پر اڑ گیا جس سے وہ ہمیشہ کے لئے مردود ہوگیا ۔ والعیاذ باللہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–28

سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ تشریح : سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا واقعہ بیان ہوچکا ہے۔ اس کی چند مثالیں ان آیات میں بیان کی گئی ہیں۔ انسان کی آزمائش، ضمیر، روح اور جسم سے ہر وقت ہوتی رہتی ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کا پتلا مٹی سے بنایا ور اس میں اپنی روح پھونک دی۔ یعنی جسم ان تمام ذرات کا مجموعہ ہے جو مٹی میں پائے جاتے ہیں۔ جدید سائنس کی تحقیق کے مطابق انسان 126 عناصر کا مرکب ہے اور یہ سب مٹی میں موجود ہیں۔ انسان مٹی سے بنا مٹی کے اوپر پرورش پاتا ہے اور پھر مٹی میں ہی چلا جاتا ہے۔ مگر اس میں نفس اور روح کی جنگ جاری رہتی ہے۔ موت کے وقت انسان کا نفس اپنی روح کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–25

رکوع نمبر 2 ۔ آیات نمبر 11 تا 25: اسرار و معارف : انسانی زندگی محض ایک حادثہ نہیں اور نہ نیک و بد کی آویزش محض کھیل ہے اس کا ایک پس منظر ہے جو تمہاری بھلائی کے لیے بیان کردیا جاتا ہے مقصد سامنے آجائے گا تو کامیابی اور ناکامی کا اندازہ کرنا تمہیں آسان ہوگا اب تو صرف مادی ترقی کو کمال سمجھ رہے ہو پھر جان سکو گے کہ اول ضرورت روحانی ترقی کی ہے مادی کمالات اس کے تابع ہیں اگر روحانی ارتقا سے آدمی محروم ہوجائے تو مادی انکشافات دکھوں میں اضافہ ہی کرتے ہیں ان میں سے بھی بھلائی اور بہتری کا پہلو رخصت ہوجاتا ہے۔ اصل بات یوں ہے۔ انانیت : کہ ہم نے تمہیں یعنی تمہارے جد آدم (علیہ السلام) کو اس طرح پیدا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 24–25

(7:24) اھبطوا۔ تم سب اترو۔ ھبوط سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ نیچے اترنا۔ ہبوط آدم۔ حضرت آدم کا جنت سے زمین پر اترنا۔ مستقر۔ ظرف مکان۔۔ استقرار (استفعال) مصدر۔ قرار گاہ۔ ٹھہرنے کی جگہ۔ متاع۔ اسم مفرد۔ امتعۃ جمع۔ معین وقت تک فائدہ اٹھانا۔ سامان جو کام میں آتا ہے جس سے کسی طرح فائدہ حاصل کیا جاتا ہے الی حین۔ ایک وقت تک۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–25

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 25: اسکن (تو آباد ہوجا۔ تو سکونت اختیار کر) ۔ کلا (تم دونوں کھاؤ) حیث شئتما (جیسے تم چاہو) لاتقربا (تم دونوں قریب نہ جانا) ۔ الشجرۃ (درخت) وسوس (خیال ڈالا، وسوسہ ڈالا) لیبدی (تاکہ وہ کھول دے وری (چھپایا گیا) سواۃ (شرم گاہیں۔ (بدن کا وہ حصہ جس کو چھپانا چاہیے) ۔ مانھکما (تم دونوں کو منع نہیں کیا تھا ) ۔ ملکین (دو فرشتے ) ۔ قاسم (اس نے قسم کھائی) ۔ دل (مائل کیا۔ جھکایا ) ۔ ذاقا (دونوں نے چکھا ) ۔ بدت (ظاہر ہوگئی ) ۔ طفقا یخصفان (دونوں جوڑنے لگے ) ۔ ورق (پتہ۔ پتے ) ۔ نادی (اس نے پکارا ) ۔ الم انھکما (کیا میں نے تم دونوں کو منع نہیں کیا تھا ) ۔ ظلمنا (ہم نے زیادتی کی۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–24

شیطان کی حقیقت اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم وحوا (علیہما السلام) ابلیس و سانپ سب کو فرمایا کہ آسمان سے زمین پر اترو اور وہاں تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان آدمی کے بہکانے کی دشمنی، اور سانپ آدمی کے کاٹنے کی دشمنی سے کبھی باز نہ آویں گے۔ آدمی کو چاہیے کہ ان سے بچتا رہے۔ پھر فرمایا کہ ایک مدت تک زمین تمہارے رہنے اور ٹھہرنے کا مقام ہے۔ اسی میں تمہارا جینا مرنا ہے اور اسی سے تم نکالے جاؤ گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چند روزہ زندگی کے بعد مرنا اور پھر دوبارہ جینا ہے، اور دوبارہ جینے کے بعد اگلے پچھلے سب کو اکٹھا کر کے خدا تعالیٰ ہر ایک کو اس کے عملوں کی سزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–24

احساس عریانی : (ف 2) معلوم ہوتا ہے جنت میں آدم اور حوا کی زندگی نہایت پاکیزہ اور معصومانہ تھی ، وہ جنسی جذبات سے ناآشنا تھے ، حجاب و ستر کے مفہوم سے بالا تھے ، جب شیطان نے دھوکہ دیا ، اور انہوں نے خلود و ملکیت کے فریب میں آکر شجرہ ممنوعہ کو استعمال کرلیا ، تو ننگے ہوگئے ، عریانی کا احساس ہونے لگا اور جنت کے پتوں سے ستر ڈھانکنے لگے ۔ بات یہ ہے کہ انسانی نفسیات میں یہ ہمہ گیر کمزوری ہے کہ جس بات سے روکا جائے اس کے متعلق خواہ مخواہ دل میں تحریص پیدا ہوتی ہے اور دل میں یہ سوال چٹکیاں لیتا ہے کہ آخر اس میں کیا حکمت ہے ، شیطان نے انسان کی کمزوری سے فائدہ اٹھایا اور یہ کہہ کر بہکایا کہ ہو نہ ہو اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

24 اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تم یہاں سے یعنی جنت سے زمین پر اترو اور اس حالت میں اترو کہ تم ایک دوسرے کے یعنی تمہارے بعض بعض کے دشمن ہوں گے اور تمہارے لئے ایک وقت متعین تک زمین میں ٹھہرنا اور زمین کے اسبابِ معیشت سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔ یعنی تم زمین میں جائو وہاں تمہاری اولاد آپس میں ایک دوسرے کی دشمن اور مخالف ہوگی اور تم وہاں موت کے وقت تک ٹھہرو گے اور تمہارے رہنے سہنے اور کھانے پینے کا انتظام زمین کی پیداوار سے ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ یعنی جنت سے نیچے زمین پر جاو۔ 3۔ مطلب فیھا تحیون۔ کا یہ ہے کہ مسکن اصلی اور مصتادا تمہارا یہ ہوگا اور اگر کسی عارض کی وجہ سے خرق عادت ہوجائے تو اس کی نفی نہیں ہے پس اس سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان پر زندہ جانے اور رہنے کی نفی پر استدلال کرنا محض باطل ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ارشاد الٰہی کہ اب تم یہاں سے اتر جائو زمین میں ایک وقت تک تم کو رہنا ہوگا : 27: سورة البقرہ کی آیت 37 ، 38 میں آپ پڑھ آئے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) کی پیدائش اللہ تعالیٰ نے نیابت و خلافت ارضی کے لئے فرمائی تھی اس لئے آدم اور نسل آدم کو اس دارالعمل ہی میں رکھا جانا ضروری تھا اور اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے ہی اس بات کا اعلان فرما دیا تھا جبکہ فرشتوں سے فرمایا کہ انی جاعلک فی الارض خلیفۃً ” میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں “ پیدائش کے بعد جو ان کو جنت میں رکھا گیا جو زمین ہی کا کوئی مخصوص حصہ تھا وہ محض انسانیت کی اس فطرت کو اجاگر کرنے کے لئے تھا جو ایک خاص طریقہ سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–25

Commentary The story of Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) and Iblis mentioned in the present verses has appeared in the fourth section of Surah Al-Baqarah. Detailed comments have been given in the Tafsir of that Surah. If needed, please see Ma‘ariful-Quran, English Translation, Volume I, Pages 170-187.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

14. God's command that Adam and Eve 'go down' should not be misunderstood to mean that their departure from Paradise was by way of punishment. The Qur'an has made it clear many a time that God accepted Adam and Eve's repentance and pardoned them. Thus the order does not imply punishment. It rather signifies the fulfilment of the purpose for which man was created. (For elaboration see Towards Understanding the Qur'an, vol. 1, al-Baqarh 2: nn. 48 and 53, pp. 63-4 and 66 - Ed.)

Read the full tafseer →