Explained with ayahs 22–23
لغزش کے بعد کیا ہوا ؟
ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں " حضرت آدم ؑ کا قد مثل درخت کھجور کے بہت لمبا تھا اور سر پر بہت لمبے لمبے بال تھے، درخت کھانے سے پہلے انہیں اپنی شرمگاہ کا علم بھی نہ تھا نظر ہی نہ پڑی تھی۔ لیکن اس خطا کے ہوتے ہی وہ ظاہر ہوگئی، بھاگنے لگے تو بال ایک درخت میں الجھ گئے، کہنے لگے اے درخت مجھے چھوڑ دے درخت سے جواب ملا کہ ناممکن ہے، اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئی کہ اے آدم مجھ سے بھاگ رہا ہے ؟ کہنے لگے یا اللہ شرمندگی ہے، شرمسار ہوں، گو یہ روایت مرفوع بھی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح موقوف ہونا ہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں، درخت کا پھل کھالیا اور چھپانے کی چیز ظاہر ہوگئی، جنت کے پتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
سورة الْاَعْرَاف 13
اس قصّے سے چند اہم حقیقتوں پر روشنی پڑتی ہے
(1) انسان کے اندر شرم و حیا کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے اور اس کا اوّلین مظہر وہ شرم ہے جو اپنے جسم کے مخصوص حصّوں کو دوسروں کے سامنے کھو لنے میں آدمی کو فطرةً محسوس ہوتی ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ شرم انسان کے اندر تہذیب کے ارتقاء سے مصنوعی طور پر پیدا نہیں ہوئی ہے اور نہ یہ اکتسابی چیز ہے، جیسا کہ شیطان کے بعض شاگردوں نے قیاس کیا ہے، بلکہ درحقیقت یہ وہ فطری چیز ہے جو اوّل روز سے انسان میں موجود تھی۔
(2) شیطان کی پہلی چال جو اس نے انسان کو فطرت انسانی کی سیدھی راہ سے ہٹانے کے لیے چلی، یہ تھی کہ اس کے اس جذبہ شرم وحیا پر ضرب لگائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے (آدم ؑ کو) حکم دیا کہ اے آدم تم اور تمہاری بی بی (حواء) جنت میں رہو پھر جس جگہ سے چاہو (اور جس چیز کو چاہو) دونوں آدمی کھاؤ اور (اتنا خیال رہے کہ) اس (خاص) درخت کے پاس (بھی) مت جاؤ (یعنی اس کا پھل نہ کھاؤ) کبھی ان لوگوں کے شمار میں آجاؤ جن سے نامناسب کام ہوجایا کرتے ہیں، پھر شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ (ان کو وہ ممنوع درخت کھلا کر) ان کا مستور بدن جو ایک دوسرے سے پوشیدہ تھا دونوں کے روبرو بےپردہ کر دے (کیونکہ اس درخت کے کھانے کی یہی تاثیر ہے، خواہ بالذات یا بوجہ ممانعت کے) اور (وہ وسوسہ یہ تھا کہ دونوں سے) کہنے لگا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت (کے…
Read the full tafseer →قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا، یہ آدم و حوا کی وہ توبہ ہے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی مذکورہ بالا تنبیہ کے بعد کی۔ اس توبہ کا ذکر سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم نے تفصیل سے اس پر بحث کی ہے۔ اس توبہ سے آدم نے ہاری ہوئی بازی پھر جیت لی۔ ابلیس کے متعلق تو اوپر گزر چکا ہے کہ وہ خدا کی نافرمانی کر کے تنبیہ کے باوجود اکڑ گیا، لیکن آد و حوا نے اپنی غلطی پر ندامت کا اظہار کیا، خدا سے معافی مانی اور بقرہ میں تصریح گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی اور ان پر رحم فرمایا اور اس طرح آدم نے اپنے عمل سے اپنی ذریت کے لیے مثال قائم کی کہ اگر شیطان کے ورغلانے سے انسان کوئی ٹھوکر کھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
23۔ 1 توبہ استغفار کے یہ وہی کلمات ہیں جو حضرت آدم ؑ نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے سیکھے، جیسا کہ سورة بقرہ، آیت 37 میں صراحت ہے (دیکھئے آیت مذکورہ کا حاشیہ) گویا شیطان نے اللہ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا تو اس کے بعد وہ اس پر نہ صرف اڑ گیا بلکہ جواز و اثبات میں عقلی قیاسی دلائل دینے لگا، جس کے نتیجہ میں وہ راندہ درگاہ اور ہمیشہ کے لئے ملعون قرار پایا اور حضرت آدم ؑ نے اپنی غلطی پر ندامت و پشیمانی کا اظہار اور بارگاہ الٰہی میں توبہ و استفغار کا اہتمام کیا۔ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کے مستحق قرار پائے۔ یوں گویا دونوں راستوں کی نشان دہی ہوگئی، شیطانی راستے کی بھی اور اللہ والوں کے راستے کی بھی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
10: یہ استغفار کے وہی الفاظ ہیں جن کے بارے میں سورة بقرہ (2: 37) میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی یہ الفاظ سکھائے تھے، کیونکہ اس وقت تک انہیں توبہ کا طریقہ بھی معلوم نہیں تھا، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ توبہ کرنے کے لئے یہ الفاظ نہایت مناسب ہیں اور ان کے ذریعے توبہ قبول ہونے کی زیادہ امید ہے، کیونکہ یہ خود اللہ تعالیٰ ہی کے سکھائے ہوئے ہیں، اس طرح اللہ تعالیٰ نے اگر ایک طرف شیطان کو مہلت دے کر اسے انسان کو بہکانے کی صلاحیت دی جو انسان کے لئے زہر جیسی تھی تو دوسری طرف انسان کو توبہ اور استغفار کا تریاق بھی عطا فرمادیا کہ اگر شیطان کے بہکائے میں آکر وہ کبھی کوئی گناہ کر گزرے تو اسے…
Read the full tafseer →آیت ” نمبر 23
یہ انسان کی وہ خصوصیت ہے جو اسے اپنے رب سے ملائے رکھتی ہے ‘ اور رب تک رسانی کے دروازے کھلے رکھتی ہے ۔ اعتراف جرم اور ندامت و استغفار ۔ اپنی کمزوری کا شعور اور اللہ سے طلب استعانت اور طلب رحمت اور یہ یقین کہ اللہ کے سوا کوئی اور قوت کا سرچشمہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی معاونت کرسکتا ہے ۔ اگر اللہ کی رحمت ومعاونت نہ ہو تو انسان عظیم خسارے سے دوچار ہوتا ہے ۔
یہاں انسان کا پہلا تجربہ پورا ہوجاتا ہے اور اس کی شخصیت کے بڑے بڑے خدوخال واضح ہوجاتے ہیں ۔ خود انسان اپنی کمزوریوں اور اپنے کمالات وصلاحیتوں سے واقف ہوجاتا ہے ‘ وہ صلاحیتیں جو اسے کرہ ارض پر فریضہ خلافت کی ادائیگی کیلئے دی گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
4 مفسرین کے نزدیک یہ خطاب آدم و حوا اور ابلیس لعین سب کو ہے کیونکہ اصل عداوت آدم اور ابلیس کی ہے اور اس عداوت کا دنگل ہماری زمین بنائی گئی جس کی خلافت آدم کو سپرد ہوئی تھی۔
Read the full tafseer →آیت 23 قَالاَ رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَاسکتۃ وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔
یعنی ہم اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے۔ یہ وہی کلمات ہیں جن کے بارے میں ہم سورة البقرۃ آیت 37 میں پڑھ آئے ہیں : فَتَلَقّٰٓی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ ط یعنی آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھ لیے اور ان کے ذریعے سے معافی مانگی تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کرلی۔ وہاں اس ضمن میں صرف اشارہ کیا گیا تھا ‘ یہاں وہ کلمات بتا دیے گئے ہیں۔ اس سارے واقعے میں ایک اہم بات یہ بھی قابل غور ہے کہ قرآن میں کہیں بھی کوئی…
Read the full tafseer →20 ابلیس وآدم (علیہ السلام) کے خصائل کا فرق :۔ ان آیات سے شیطان اور آدم (علیہ السلام) کی سرشت کا فرق معلوم ہوجاتا ہے جو یہ ہے کہ
(1) ابلیس نے اللہ کی نافرمانی عمداً کی جبکہ آدم (علیہ السلام) سے بھول کر ہوئی۔
(2) ابلیس سے باز پرس ہوئی تو اس نے اعتراف کرنے کی بجائے تکبر کیا اور اکڑ بیٹھا اور آدم (علیہ السلام) سے ہوئی تو انہوں نے اعتراف کیا اور اللہ کے حضور توبہ کی۔
(3) ابلیس نے اپنی نافرمانی اور گمراہی کا الزام اللہ کے ذمے لگا دیا جبکہ آدم (علیہ السلام) نے یہ اعتراف کیا کہ واقعی یہ قصور ہمارا ہی تھا۔
(4) ابلیس انہی جرائم کی وجہ سے بارگاہ الٰہی سے ہمیشہ کے لیے ملعون اور راندہ ہوا قرار دیا گیا…
Read the full tafseer →28 ۔ (کہ بلاتحقیق وتامل شیطان کی بات کو مان گئے) مقبولین وخاصان خدا کی ایک خاص شناخت یہ ہے کہ وہ غلبہ خشیت سے اپنی ہر معمولی لغزش کو بھی سخت ترین قصور سمجھتے رہتے۔ اور اس پر انتہائی ندامت و استغفار کے لیے تیاررہتے ہیں۔
29 ۔ بائبل، آدم (علیہ السلام) اور زوج آدم کی اس مؤثر مناجات سے یکسر خالی ہے۔ ابوالبشر (علیہ السلام) اور ام البشر کی اس مناجات میں ادب اور استغفار کی تعلیم سارے آدم زادوں کے لیے قیامت تک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
قالا ربنا ظلمنا انفسنا (الآیۃ) توبہ و استغفار کے یہ وہی کلمات ہیں جو حضرت آدم (علیہ السلام) نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے سیکھے تھے جیسا کہ سورة بقرہ آیت 37 میں صراحت ہے، شیطان نے نافرمانی کا ارتکاب کیا مگر نہ صرف یہ کہ اس پر شرمندہ نہیں ہوا بلکہ اڑ گیا اور اس کے جواز پر عقلی و قیاسی دلائل دینے لگا نتیجتًا وہ راندہ درگاہ اور ہمیشہ کیلئے ملعون قرار پایا، اور حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنی غلطی و پشیمانی کا اظہار کیا اور بارگاہ الہیٰ میں توبہ و استغفار کا اہتمام کیا تو اللہ کی رحمت و مغفرت کے مستحق قرار پائے، گناہ کرکے اس پر اصرار کرنا اور صحیح ثابت کرنے کیلئے دلائل پیش کرنا شیطانی راستہ ہے اور…
Read the full tafseer →قالا ربنا ظلما انفسنا آدم ( علیہ السلام) و حوّ اء نے عرض کیا پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔
گناہ کر کے اور جنت سے نکالے جانے کا سامان کر کے خود اپنا نقصان کیا اپنے کو خود تباہ کیا۔
وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخاسرین اگر تو ہماری خطا معاف نہیں کرے گا اور ہم پر رحم نہیں فرمائے گا تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔
اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ اگر صغیرہ گناہ معاف نہ کئے تو ان کی سزا ہوسکتی ہے۔ معتزلہ کے نزدیک صغیرہ گناہوں کی سزا نہیں دی جائے گی (خواہ ان کو معاف نہ کیا گیا ہو) بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے آدمی اجتناب رکھتا ہو (کبیرہ کا مرتکب نہ ہو)
Read the full tafseer →(23) وہ عرض کرنے لگے ہم نے غلطی سے اپنا نقصان کیا، اگر آپ ہم سے درگزر نہ فرمائیں گے تو اس جرم کی وجہ سے ہمارا بڑا نقصان ہوگا۔
Read the full tafseer →قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا ۫۔۔ : سورة بقرہ میں ہے کہ آدم ؑ نے یہ کلمات رب تعالیٰ سے سیکھے تھے اور انھی کلمات سے ان کی توبہ قبول ہوئی تھی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ آیت (37) کے فوائد۔ آدم ؑ کی اس دعا سے ان کا اور ابلیس کا فرق واضح ہوتا ہے، یہاں عجز ہے، اعتراف گناہ ہے، اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی محتاجی کا اظہار اور بخشش کی درخواست ہے، وہاں تکبر ہے، اپنے گناہ پر اصرار ہے، آئندہ مزید نافرمانی کے ارادے کا اظہار ہے اور مہلت کی درخواست ہے۔ اسی طرح یہاں پاک فطرت ہونے کی بنا پر قسم کی وجہ سے دشمن پر بھی اعتبار ہے، وہاں حسد کی وجہ سے بےگناہوں سے بھی دشمنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بےنیازی دیکھیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
قولہ تعالیٰ : آیت : فدلھما بغرور یعنی شیطان نے انہیں ہلاکت میں ڈال دیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس نے انہیں قسم کے ساتھ دھوکہ دیا۔ اور حضرت آدم (علیہ السلام) یہ گمان رکھتے تھے کہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا، پس شیطان نے انہیں اپنی وسوسہ اندازی اور قسم کے ساتھ دھوکہ ڈال دیا۔ اور حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : اس نے ان دونوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائی یہاں تک کہ انہیں دھوکے میں ڈال دیا۔ اور مومن اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ دھوکہ کھا جاتا ہے (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 459 ) ۔ بعض علماء کہتے ہیں : جس نے ہمیں اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ دھوکہ دیا ہم وہ دھوکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
(1) امام ابن ابی جریر نے محمد بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم اور حوا کو جنت میں ایک درخت کے کھانے سے منع فرمایا شیطان آیا اور سانپ کے پیٹ میں داخل ہوگیا۔ پھر اس نے حوا سے بات کی اور آدم کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہا تمہارے رب نے تم کو اس درخت سے منع نہیں کیا مگر یہ کہ تم دونوں فرشتے بن جاؤ گے یا ہمیشہ رہنے والے ہوجاؤ گے۔ اور اس نے قسمیں کھائیں کہ میں دونوں کو نصیحت کرنے والوں میں سے ہوں (یعنی تمہارا خیرخواہ ہو) حوا نے درخت کو کاٹ ڈالا تو درخت سے خون نکل آیا۔ اور ان دونوں سے ان کا فاخرانہ لباس اتر گیا جو ان پر تھا (اور فرمایا) لفظ آیت ” وطفقا یخصفن علیہما من ورق الجنۃ، ونادھما…
Read the full tafseer →قَالَا [ ان دونوں نے کہا ] رَبَّنَا [ اے ہمارے رب ] ظَلَمْنَآ [ ہم نے ظلم کیا ] اَنْفُسَنَا ۫ [ اپنی جانوں پر ] وَاِنْ [ اور اگر ] لَّمْ تَغْفِرْ [ تو نے معاف نہ کیا ] لَنَا [ ہم کو ] وَتَرْحَمْنَا [ اور تو نے رحم نہ کیا ہم پر ] لَنَكُوْنَنَّ [ تو ہم لازما ہوجائیں گے ] مِنَ الْخٰسِرِيْنَ [ گھاٹا پانے والوں میں سے ]
ترکیب : (آیت ۔ 23) زینۃ اللہ اور الطیبت ، دونوں حرم کے مفعول ہیں ۔ اس لیے دونوں حالت نصب میں ہیں ۔ خالصتا حال ہے۔ یوم ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ لقوم نکرہ مخصوصہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
لباس اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اس سے پردہ پوشی بھی ہے اور زینت بھی
گزشتہ رکوع میں شیطان کی انسان دشمنی کا ذکر ہوا اس نے بہت جم کر یہ اعلان کیا تھا کہ میں اولاد آدم کو بہکاؤں گا اور ورغلاؤں گا اور ان میں سے بہت تھوڑے ہی بندے خدائے پاک کے شکر گزار ہوں گے اور اس کا بھی ذکر ہے کہ اس نے حضرت آدم و حواء ( علیہ السلام) کو جنت سے نکلوا دیا۔ اب حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد سے خطاب ہو رہا ہے۔ جس میں انعامات خدا وند یہ کا بھی ذکر ہے اور اولاد آدم کو تنبیہ بھی ہے کہ شیطان کی طرف سے چوکنے رہیں۔
اول تو اولاد آدم کو اللہ جل شانہٗ نے اپنی ایک بہت بڑی نعمت یاد دلائی اور وہ نعمت لباس ہے، اس کو لفظ اَنْزَلْنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
تتمہ : اور ہم نے آدم کو کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی حوا فی الحال جنت میں سکونت اور قیام یعنی سر دست جنت ہی میں رہو پھر اس میں سے جہاں سے چاہو کھاؤ پیو لیکن اس خاص درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤ گے، ظلم کے اصل معنی لغت میں نقصان اور کمی کے آتے ہیں کما قال تعالیٰ ولم تظلم منہ شیئا اس لیے ہم نے ظالم کا ترجمہ گنہگار سے نہیں کیا بلکہ نقصان اٹھانے والے کیا اور یہی زیادہ مناسب ہے ابلیس چونکہ آدم کی وجہ سے ملعون اور مطرود ہوچکا تھا اس لیے اس کے دل میں حسد اور اور انتقام کی اگ سلگ رہی تھی حضرت آدم کی یہ نعمت اور کرام دیکھ کر حسد اور انتقام کی آگ اور بھڑک گئی۔ اس لیے…
Read the full tafseer →20: شجرہ ممنوعہ کھالینے کی لغزش پر نادم ہو کر حضرت آدم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے یہی دعائیہ کلمات ان کے دل میں ڈال دئیے چناچہ دونوں نے انہی کلمات سے گڑ گڑا کر اللہ سے معافی مانگی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی لغزش معاف فرمادی جیسا کہ سورة بقرہ رکوع 4 میں ارشاد ہے۔ “ فَتَلَقّٰی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ کَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ ” تمام محققین اہل تفسیر کی رائے یہی ہے کہ اس آیت میں “ کَلِمَاتٍ ” سے یہی دعاء مراد ہے۔ ای استقبلہما بالاخذ والقبول والعمل بھا وھن قولہ تعالیٰ ربنا ظلمنا انفسنا الخ (مدارک ج 1 ص 35) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
ربط آیات
پہلے اللہ نے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور جنت میں اقامت اختیار کرنے کا ذکر فرمایا یاٰدم اسکن انت وزوجک الجنۃ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو ، چلو پھر اور جہاں سے جی چاہے کھائو پیو مگر ایک درخت کے قریب نہ جانا ادھر جب شیطان نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تو اس کا حسد اور تکبر ظاہر ہوگیا تھا اس نے اللہ تعالیٰ سے مہلت لے کر چیلنج کردیا تھا کہ میں تیرے سدھے راستے میں بیٹھوں گا اور تیرے بندوں کو چاروں طرف سے گمراہ کروں گا اس وقت آدم (علیہ السلام) اور حوا جنت میں مقیم تھے اور جنت سے مراد وہی جنت الماویٰ ہے جو اللہ کے پاس ہے بعض لوگ مذکورہ جنت…
Read the full tafseer →قَالَ اہْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ 0 ۚ وَلَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰي حِيْنٍ 24
هبط
الهُبُوط : الانحدار علی سبیل القهر كهبوط الحجر، والهَبُوط بالفتح : المنحدر . يقال :
هَبَطْتُ أنا، وهَبَطْتُ غيري، يكون اللازم والمتعدّي علی لفظ واحد . قال تعالی: وَإِنَّ مِنْها لَما يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ [ البقرة/ 74] يقال : هَبَطْتُ وهَبَطْتُهُ هَبْطاً ، وإذا استعمل في الإنسان الهُبُوط فعلی سبیل الاستخفاف بخلاف الإنزال، فإنّ الإنزال ذكره تعالیٰ في الأشياء التي نبّه علی شرفها، كإنزال الملائكة والقرآن والمطر وغیر ذلك . والهَبُوطُ ذکر حيث نبّه علی الغضّ نحو : وَقُلْنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
1 ؎ یعنی قسمیں کھا کر فریب دے کر آخرکار اس درخت ممنوع کے کھانے کی طرف مائل ہی کرلیا۔ 12 منہ
(1) جنت میں گناہ کرنے سے حضرت آدم و حوا کا لباس عزت اتار لیا گیا تھا جس پر وہ نہایت شرمندہ ہو کر جنت کے درختوں کے پتے اپنے بدن پر ڈھانکتے تھے۔ پھر دنیا میں خدا نے آدم (علیہ السلام) کو کپڑا بنانا سکھایا جس سے ستر ڈھانکنا میسر آیا۔ اس بات کو خدا اپنی بڑی نعمت من آیات اللّٰہ کہتا ہے اور لباس کا نازل کرنا فرما کر ایک اور لباس کی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی پرہیزگاری کا لباس بہتر 1 ؎ ہے۔ اس کے بعد اولاد آدم کو متنبہ کرتا ہے کہ دیکھو اب تم شیطان کے بہکانے میں نہ آنا کہیں لباس تقویٰ تمہارا نہ اتار لے جس سے تم…
Read the full tafseer →قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا سکتہ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ (الاعراف : 23)
” وہ دونوں بولے : اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اب اگر آپ نے ہم سے درگزر نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم یقینا نامرادوں میں سے ہوجائیں گے “۔
یعنی جیسے ہی انھیں تنبہ ہوا اور پروردگار نے انھیں ان کی غلطی پر ٹوکتے ہوئے پکارا تو بےساختہ ان پر وہ کیفیت طاری ہوئی جو گناہ کے شدید احساس کے بعد طاری ہوتی ہے اور فوراً انھوں نے اپنے رب کے دروازے پر دستک دی اور جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے انھوں نے سب سے پہلے نجانے کتنی گریہ وزاری کے بعد اپنے رب سے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کا آدم (علیہ السلام) کو ان کی غلطی پر توجہ دلانا اور آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوّا کا اللہ کے حضور معذرت کرنا۔
اللہ تعالیٰ نے جونہی آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی سے فرمایا کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت کے قریب نہ جانے اور شیطان کی دشمنی سے آگاہ نہیں کیا تھا ؟ یہ فرمان سنتے ہی دونوں نہایت عاجزی اور شرمساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور ان الفاظ میں معافی مانگنے لگے اے ہمارے رب ! اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا ہے۔ اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم نقصان پانے والوں میں ہوں گے۔ آخرت کا خسارہ واضح ہے…
Read the full tafseer →دُعائے آدم۔ :
آیت 23: قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (دونوں کہنے لگے اے ہمارے رب ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا۔ اور اگر آپ ہماری مغفرت نہ کریں گے اور ہم پر رحم نہ کریں گے۔ تو واقعی ہمارا بڑا نقصان ہوجائے گا) ۔
مسئلہ : اس میں دلیل ہے کہ اگر صغیرہ گناہ معاف نہ کئے گئے تو سزا ان کی ہوسکتی ہے اور معتزلہ کی تردید ہے کہ ان کے ہاں صغیرہ گناہ معاف نہ بھی ہوں تب بھی ان پر سزا نہیں دی جاسکتی۔
Read the full tafseer →تفسیر (23) (قالا ربنا ظلمنآ انفسنا) وہ تمہیں مصیت کے ذریعے سے ضرر پہنچائے گا۔ (وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخسرین) ہلاک ہونے والے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(22 ۔ 23) ۔ شیطان نے آدم و حوا (علیہما السلام) کے سامنے قسم کھائی اور قسم کا دھوکا دے کر اس درخت کا پھل کھانے پر کہ جس سے ان کو منع کیا گیا تھا ان کو آمادہ کردیا اور جنت سے ان کو نکلوا دیا گیہوں کے کھاتے ہی ان کے ستر کھل گئے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان کے بدن پر سے کپڑے جنت کے اتر پڑے جو بدن چھپا ہوا تھا وہ ظاہر ہوگیا ورنہ پہلے دونوں کو اپنا ستر نظر نہ آتا تھا انجیر کے پتے لے کر ستر چھپانے لگے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) جب جنت میں آباد ہوئے تو ان کو ایک کپڑا پہنایا گیا تھا وہ کپڑا چھین لیا گیا کچھ کچھ انگلیوں پر اس کا نشان باقی رہ گیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
آیت 19
یعنی اللہ تعالیٰ نے جناب آدم اور ان کی بیوی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو سکون کے لئے عطا فرمائی تھی، حکم دیا کہ وہ جنت میں جہاں سے جو جی میں آئے کھائیں اور جنت سے متمتع ہوں البتہ اللہ تعالیٰ نے ایک معین درخت کا پھل کھانے سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کس چیز کا درخت تھا ؟ اس درخت کے تعین میں ہمارے لئے کوئی فائدہ نہیں۔ اس درخت کا پھل کھانے کی تحریم پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول دلیل ہے (فتکونا من الظلمین) ” تم دونوں گناہ گاروں میں سے ہوجاؤ گے “ آدم اور ان کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پابندی کی، یہاں تک کہ ان کا دشمن ابلیس اپنے مکر و فریب سے ان کے پاس گھس آیا اور اس نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–25
ابلیس کے وار انسان پر
قول باری ہے ثم لا تینھم من بین ایدیھم ومن خلفھم وعن ایمانھم وعن شمائلھم پھر ان کے آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا) حضرت ابن عباس، ابراہیم، قتادہ، الحکم اور سدی سے منقول ہے کہ من بین ایدیھم ومن خلفھم) سے مراد ہے ” ان کی دنیا اور آخرت کی طرف سے، ان کی نیکیوں اور بدیوں کی جہت ہے “ مجاہد کا قول ہے۔” ان کی نظروں کے سامنے ہو کر اور ان کی نظروں سے چھپ کر “ ایک قول ہے ” ہر اس جہت سے جس میں انہیں اپنے پھندے میں پھانسنا ممکن ہوگا “۔ شیطان نے انسانوں کے خلاف اپنی فتنہ سا مانیوں کے لئے ایک جہت کا ذکر نہیں کیا یعنی ” ومن فوقھم “ (اور ان کے اوپر سے) نہیں کہا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
28 اللہ تعالیٰ کے احکام سے سرتابی سراسر خسارہ ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر ان دونوں نے عرض کیا کہ اے ہمارے رب ہم نے ظلم کیا اپنی جانوں پر۔ پس اگر تو نے ہماری بخشش نہ فرمائی اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو یقینا ہم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک کے احکام کی نافرمانی سراسر خسارے کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ان دونوں نے اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور اس طرح بخشش و رحمت کی دعاء و درخواست کی، جس پر ان کے قصور کو معاف فرما دیا گیا۔ بخلاف شیطان کے کہ وہ اپنے قصور پر اڑ گیا جس سے وہ ہمیشہ کے لئے مردود ہوگیا ۔ والعیاذ باللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ
تشریح : سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا واقعہ بیان ہوچکا ہے۔ اس کی چند مثالیں ان آیات میں بیان کی گئی ہیں۔ انسان کی آزمائش، ضمیر، روح اور جسم سے ہر وقت ہوتی رہتی ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کا پتلا مٹی سے بنایا ور اس میں اپنی روح پھونک دی۔ یعنی جسم ان تمام ذرات کا مجموعہ ہے جو مٹی میں پائے جاتے ہیں۔ جدید سائنس کی تحقیق کے مطابق انسان 126 عناصر کا مرکب ہے اور یہ سب مٹی میں موجود ہیں۔ انسان مٹی سے بنا مٹی کے اوپر پرورش پاتا ہے اور پھر مٹی میں ہی چلا جاتا ہے۔ مگر اس میں نفس اور روح کی جنگ جاری رہتی ہے۔ موت کے وقت انسان کا نفس اپنی روح کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–25
رکوع نمبر 2 ۔ آیات نمبر 11 تا 25:
اسرار و معارف :
انسانی زندگی محض ایک حادثہ نہیں اور نہ نیک و بد کی آویزش محض کھیل ہے اس کا ایک پس منظر ہے جو تمہاری بھلائی کے لیے بیان کردیا جاتا ہے مقصد سامنے آجائے گا تو کامیابی اور ناکامی کا اندازہ کرنا تمہیں آسان ہوگا اب تو صرف مادی ترقی کو کمال سمجھ رہے ہو پھر جان سکو گے کہ اول ضرورت روحانی ترقی کی ہے مادی کمالات اس کے تابع ہیں اگر روحانی ارتقا سے آدمی محروم ہوجائے تو مادی انکشافات دکھوں میں اضافہ ہی کرتے ہیں ان میں سے بھی بھلائی اور بہتری کا پہلو رخصت ہوجاتا ہے۔ اصل بات یوں ہے۔
انانیت : کہ ہم نے تمہیں یعنی تمہارے جد آدم (علیہ السلام) کو اس طرح پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ف 1 یعنی کھانا پینا اور دینوی زندگی کے دوسرے سامان سے متمتع ہونا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(7:22) فدلہما یغرور۔ ان دونوں کو ڈہلالیا۔ ان دونوں کو نیچے ڈال دیا۔ ان دونوں کو کھینچ لیا۔ ان دونوں کو نیچے گرا دیا۔ دلی تدلیۃ (تفعیل) سے جس کے معنی کسی کو حیلہ سے کام میں لگا دینے کے ہیں۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ تذلیۃ ادلاء الدلو سے لیا گیا ہے۔ جس کے معنی ڈول ڈالنے کے ہیں اسی مناسبت سے نیچے ڈال دینے اور کھینچ لینے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ بغرور۔ غرور۔ دھوکہ۔ فریب۔ جھوٹی امید۔ لالچ۔
بدت۔ ظاہر ہوگئی۔ بدو اور بداء سے ماضی واحد مؤنث غائب۔
طفقا۔ وہ دونوں لگے (اس کام کو جو آگے مذکور ہے) طفق (سمع) کاد کی طرح افعال مقاربہ میں سے ہے۔ جس طرح کاد کی خبر مضارع بغیر ان کے ہوتی ہے اسی طرح طفق کی خبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 25:
اسکن (تو آباد ہوجا۔ تو سکونت اختیار کر) ۔ کلا (تم دونوں کھاؤ) حیث شئتما (جیسے تم چاہو) لاتقربا (تم دونوں قریب نہ جانا) ۔ الشجرۃ (درخت) وسوس (خیال ڈالا، وسوسہ ڈالا) لیبدی (تاکہ وہ کھول دے وری (چھپایا گیا)
سواۃ (شرم گاہیں۔ (بدن کا وہ حصہ جس کو چھپانا چاہیے) ۔ مانھکما (تم دونوں کو منع نہیں کیا تھا ) ۔ ملکین (دو فرشتے ) ۔ قاسم (اس نے قسم کھائی) ۔ دل (مائل کیا۔ جھکایا ) ۔ ذاقا (دونوں نے چکھا ) ۔ بدت (ظاہر ہوگئی ) ۔ طفقا یخصفان (دونوں جوڑنے لگے ) ۔ ورق (پتہ۔ پتے ) ۔ نادی (اس نے پکارا ) ۔ الم انھکما (کیا میں نے تم دونوں کو منع نہیں کیا تھا ) ۔ ظلمنا (ہم نے زیادتی کی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
شیطان کی حقیقت
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم وحوا (علیہما السلام) ابلیس و سانپ سب کو فرمایا کہ آسمان سے زمین پر اترو اور وہاں تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان آدمی کے بہکانے کی دشمنی، اور سانپ آدمی کے کاٹنے کی دشمنی سے کبھی باز نہ آویں گے۔ آدمی کو چاہیے کہ ان سے بچتا رہے۔ پھر فرمایا کہ ایک مدت تک زمین تمہارے رہنے اور ٹھہرنے کا مقام ہے۔ اسی میں تمہارا جینا مرنا ہے اور اسی سے تم نکالے جاؤ گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چند روزہ زندگی کے بعد مرنا اور پھر دوبارہ جینا ہے، اور دوبارہ جینے کے بعد اگلے پچھلے سب کو اکٹھا کر کے خدا تعالیٰ ہر ایک کو اس کے عملوں کی سزا دے گا۔
Read the full tafseer →[9] یہ آیت بتاتی ہے کہ انسان کی اصل خوبی جو اسے شیطان سے بہتر بناتی ہے یہ ہے کہ جب اس سے کوئی قصور ہوجائے تو وہ نادم ہو کر اللہ سے معافی مانگے بخلاف اس کے شیطان کو جس چیز نے ذلیل و خوار کیا وہ یہ تھی کہ وہ قصور کر کے اللہ کے مقابلے میں اکڑ گیا اور بغاوت پر اتر آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
احساس عریانی :
(ف 2) معلوم ہوتا ہے جنت میں آدم اور حوا کی زندگی نہایت پاکیزہ اور معصومانہ تھی ، وہ جنسی جذبات سے ناآشنا تھے ، حجاب و ستر کے مفہوم سے بالا تھے ، جب شیطان نے دھوکہ دیا ، اور انہوں نے خلود و ملکیت کے فریب میں آکر شجرہ ممنوعہ کو استعمال کرلیا ، تو ننگے ہوگئے ، عریانی کا احساس ہونے لگا اور جنت کے پتوں سے ستر ڈھانکنے لگے ۔
بات یہ ہے کہ انسانی نفسیات میں یہ ہمہ گیر کمزوری ہے کہ جس بات سے روکا جائے اس کے متعلق خواہ مخواہ دل میں تحریص پیدا ہوتی ہے اور دل میں یہ سوال چٹکیاں لیتا ہے کہ آخر اس میں کیا حکمت ہے ، شیطان نے انسان کی کمزوری سے فائدہ اٹھایا اور یہ کہہ کر بہکایا کہ ہو نہ ہو اس…
Read the full tafseer →23 اور ان دونوں میاں بیوی نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور ہم نے اپنے اوپر زیادتی کی اور اگر تم ہم کو معاف نہ کرے گا اور ہماری بخشش نہ فرمائے گا اور ہم پر آپ رحم نہ فرمائیں گے تو ہم یقیناً خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے اور ہم تباہ و برباد ہوں گے یعنی دونوں نے اپنی خطا کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے بخشش اور رحم کی درخواست کردی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 1۔ نیچے لے آیا باعتبار حالت اور رائے کے بھی اور باعتبار مکان کے بھی حتی کہ اپنی رائے عالی سے اس کی رائے سافل کی طرف مائل ہوگئے جس سے جنت سے اسفل کی طرف اتارے گئے۔
Read the full tafseer →توبہ کر کے آدم وحوا (علیہما السلام) نے ہاری ہوئی بازی دوبارہ جیت لی :
26: آدم و حوا (علیہما السلام) کو جب اپنے قصور کا احساس ہوا اور انہوں نے اس حالت سے نکلنا چاہا تو اپنے گمراہ کرنے والے کو مطعون کرنے کی بجائے بالکل صاف لفظوں میں اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کردی کہ ” پروردگار ہم نے اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کیا اور اگر تو نے ہمارا قصور نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہمارے لئے بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ “ تو بہ کیا ہے ؟ ہار مان لینا اور واپس پلٹ آنا۔ بندہ کی طرف سے توبہ کے یہ معنی ہیں کہ جو کچھ اس سے ہوگیا وہ اس پر نادم ہو کر باز آگیا اور اللہ کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے شرمسار بندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
Commentary
The story of Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) and Iblis mentioned in the present verses has appeared in the fourth section of Surah Al-Baqarah.
Detailed comments have been given in the Tafsir of that Surah. If needed, please see Ma‘ariful-Quran, English Translation, Volume I, Pages 170-187.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
13. The narrative sheds light on the following significant points:
(i) Modesty and bashfulness are inherent in human nature. The primary manifestation of this instinct is seen in the sense of shame that one feels when one is required to expose the private parts of one's body in the presence of others. According to the Qur'an, this bashfulness is not artificial, nor an outcome of advancement in human culture and civilization. Nor is it something acquired as some misguided thinkers contend. On the contrary, modesty has been an integral part of human nature from the very beginning.
(ii) The very…
Read the full tafseer →