Al-A'raaf 7:22

Al-A'raaf · from ayah 22

7:22

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ ۚ— فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ ؕ— وَنَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَاَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ ۟فَدَلّٰٮهُمَا بِغُرُوۡرٍ‌ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتۡ لَهُمَا سَوۡءٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخۡصِفٰنِ عَلَيۡهِمَا مِنۡ وَّرَقِ الۡجَـنَّةِ‌ ؕ وَنَادٰٮهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمۡ اَنۡهَكُمَا عَنۡ تِلۡكُمَا الشَّجَرَةِ وَاَقُلْ لَّـكُمَاۤ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لَـكُمَا عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ

غرض (مردود نے) دھوکہ دے کر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا جب انہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھا لیا تو ان کی ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے) پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے لگے اور (ستر چھپانے لگے) تب ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور جتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So he made them fall, through deception. And when they tasted of the tree, their private parts became apparent to them, and they began to fasten together over themselves from the leaves of Paradise. And their Lord called to them, "Did I not forbid you from that tree and tell you that Satan is to you a clear enemy?"

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 2 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:22

اس طرح دھو کا دے کر وہ ان دونوں کو رفتہ رفتہ اپنے ڈھب پرلے آیا آخرکار جب انہوں نے اس درخت کا مزا چکھا تو ان کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور اپنے جسموں کو جنت کے پتوں سے ڈھانکنے لگے تب ان کے رب نے انہیں پکارا، " کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہ روکا تھا اور نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

غرض (مردود نے) دھوکہ دے کر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا جب انہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھا لیا تو ان کی ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے) پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے لگے اور (ستر چھپانے لگے) تب ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور جتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

سو ان دونوں کو فریب سے نیچے لے آیا پس ان دونوں نے جب درخت کو چکھا دونوں کی شرمگاہیں ایک دوسرے کے روبرو بے پرده ہوگئیں اور دونوں اپنے اوپر جنت کے پتے جوڑ جوڑ کر رکھنے لگے اور ان کے رب نے ان کو پکارا کیا میں تم دونوں کو اس درخت سے منع نہ کرچکا تھا اور یہ نہ کہہ چکا کہ شیطان تمہارا صریح دشمن ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس طرح اس نے دونوں کو دھوکا دے کر نیچے اتار ہی لیا۔ چنانچہ جب دونوں نے اس درخت کا مزہ چکھا تو ان دونوں کی شرم کی جگہیں ایک دوسرے پر کھل گئیں، اور وہ جنت کے کچھ پتے جوڑ جوڑ کر اپنے بدن پر چپکانے لگے۔ اور ان کے پروردگار نے انہیں آواز دی کہ : کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے روکا نہیں تھا، اور تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اُتار لایا انہیں فریب سے پھر جب انہوں نے وہ پیڑ چکھا ان پر اُن کی شرم کی چیزیں کھل گئیں اور اپنے بدن پر جنت کے پتے چپٹانے لگے، اور انہیں ان کے رب نے فرمایا کیا میں نے تمہیں اس پیڑ سے منع نہ کیا اور نہ فرمایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس وہ فریب کے ذریعے دونوں کو (درخت کا پھل کھانے تک) اتار لایا، سو جب دونوں نے درخت (کے پھل) کو چکھ لیا تو دونوں کی شرم گاہیں ان کے لئے ظاہر ہوگئیں اور دونوں اپنے (بدن کے) اوپر جنت کے پتے چپکانے لگے، تو ان کے رب نے انہیں ندا فرمائی کہ کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت (کے قریب جانے) سے روکا نہ تھا اور تم سے یہ (نہ) فرمایا تھا کہ بیشک شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس اس نے دونوں کو دھوکے سے نیچے اتار لیا، پھر جب دونوں نے اس درخت کو چکھا تو ان کے لیے ان کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور دونوں جنت کے پتوں سے (لے لے کر) اپنے آپ پر چپکانے لگے اور ان دونوں کو ان کے رب نے آواز دی کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے منع نہیں کیا اور تم دونوں سے نہیں کہا کہ بیشک شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

چناچہ ان دونوں کو دھوکا دے کر آہستہ آہستہ اپنی بات پر مائل کر ہی لیا۔ پھر جب انہوں نے اس درخت کو چکھ لیا تو ان کی شرمگاہیں ایک دوسرے پر ظاہر ہوگئیں اور وہ جنت کے پتے اپنی شرمگاہوں پر چپکانے لگے۔ اس وقت ان کے پروردگار نے انہیں پکارا کہ : کیا میں نے تمہیں اس درخت سے روکا نہ تھا اور یہ نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس طرح اس نے فریب سے ان کو شیشے میں اتار لیا۔ پس جب انہوں نے درخت کا پھل چکھ لیا اور ان کی شرم کی جگہیں ان کے سامنے بےپردہ ہوگئیں اور وہ اپنے کو باغ کے پتوں سے ڈھانکنے لگے اور ان کے رب نے ان کو آواز دی کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت سے روکا نہیں تھا اور یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آخرکار اس نے نیچے اتار لیا ان دونوں کو دھوکے (اور فریب) سے پھر جب چکھ لیا ان دونوں نے اس درخت کو تو کھل گئے ان کے سامنے ان کے ننگیز، اور وہ چپکانے لگے اپنے اوپر جنت کے پتے، اور ان دونوں کو پکار کر فرمایا ان کے رب نے، کہ کیا میں نے تم کو روکا نہیں تھا اس درخت سے، اور تم سے یہ نہ کہا تھا کہ یقینی طور پر شیطان دشمن ہے تم دونوں کا کھلم کھلا،

— مولانا اسحاق مدنی

غرض دونوں کو فریب سے نیچے لے آیا پھر جب دونوں نے درخت (کا پھل) چکھا بےپردہ ہوگیا دونوں کے روبرو ان کے پردہ کا بدن اور دونوں لگے اپنے اوپر جنت کے (درختوں کے) پتے جوڑنے۔ اور دونوں کو پکار کر ان کے پروردگار نے فرمایا کہ کیا میں نے تمہیں منع نہیں کردیا تھا فلاں درخت سے اور کہہ نہ دیا تھا تم دونوں سے کہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو اس نے دھوکہ دے کر انہیں مائل کر ہی لیا تو جب ان دونوں نے چکھ لیا اس درخت کے پھل کو تو ظاہر ہوگئیں ان پر ان کی شرمگاہیں اور وہ لگے گانٹھنے جنت کے (درختوں کے) پتوں کو اپنے اوپر (لباس بنانے کے لیے) اور اب آواز دی ان دونوں کو ان کے رب نے کہ کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا اس درخت سے اور کیا میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

غرض شیطان مردود نے ان کو دھوکہ دے کر گناہ کی طرف کھینچ ہی لیا۔ جب انہوں نے اس درخت کے پھل کو کھالیا تو ان کی پردہ کی چیزیں کھل گئیں۔ اور وہ بہشت کے درختوں کے پتوں سے اپنے پوشیدہ جسم کو چھپانے لگے۔ تب ان کے رب نے پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت کے پاس جانے سے منع نہیں کیا تھا اور بتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Thus Satan brought about their fall by deceit. And when they tasted of the tree, their shame became vislible to them, and both began to cover themselves with leaves from the Garden. Then their Lord called out to them: 'Did I not forbid you from that tree, and did I not warn you that Satan 'is your declared enemy?'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Thus, he cast both of them down by deception. When they tasted (the fruit of) the tree, their shame was exposed to them, and they began to patch together some leaves of Paradise upon themselves, and their Lord called them, :Did I not forbid you from that tree? Did I not tell you that Satan is your declared enemy?

— Muhammad Taqi Usmani

Thus, he cast both of them down by deception. When they tasted (the fruit of) the tree, their shame was exposed to them, and they began to patch together some leaves of Paradise upon themselves, and their Lord called them, :Did I not forbid you from that tree? Did I not tell you that Satan is your declared enemy?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So he misled them with deception. Then when they tasted of the tree, that which was hidden from them of their shame (private parts) became manifest to them and they began to cover themselves with the leaves of Paradise. And their Lord called out to them (saying): "Did I not forbid you that tree and tell you: Verily, Shaytan is an open enemy unto you"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thus did he lead them on with guile. And when they tasted of the tree their shame was manifest to them and they began to hide (by heaping) on themselves some of the leaves of the Garden. And their Lord called them, (saying): Did I not forbid you from that tree and tell you: Lo! Satan is an open enemy to you?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So he made them fall, through deception. And when they tasted of the tree, their private parts became apparent to them, and they began to fasten together over themselves from the leaves of Paradise. And their Lord called to them, "Did I not forbid you from that tree and tell you that Satan is to you a clear enemy?"

— Saheeh International

Thus, he deceitfully showed them (the tree). When they had tasted (fruits) from the tree, their private parts became revealed to them and they began to cover their private parts with leaves from the garden. Their Lord then called out to them saying, "Did I not forbid you to eat (fruits) from the tree and tell you that Satan was your sworn enemy?"

— Muhammad Sarwar

Then he caused them to fall by deceit; so when they tasted of the tree, their evil inclinations became manifest to them, and they both began to cover themselves with the leaves of the garden; and their Lord called out to them: Did I not forbid you both from that tree and say to you that the Shaitan is your open enemy?

— Muhammad Habib Shakir

Thus with guile he caused the twain to fall. Then when the twain had tasted of the tree, their shame was discovered to them, and the twain began to cover themselves with leaves from the Garden; and their Lord called out unto the twain: forbade I not ye twain yonder tree, and said I not unto you, verily the Satan is unto you twain a manifest enemy?

— Abdul Majid Daryabadi

So by deceit he brought about their fall: when they tasted of the tree, their shame became manifest to them, and they began to sew together the leaves of the garden over their bodies. And their Lord called unto them: "Did I not forbid you that tree, and tell you that Satan was an avowed enemy unto you?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 22–23

لغزش کے بعد کیا ہوا ؟ ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں " حضرت آدم ؑ کا قد مثل درخت کھجور کے بہت لمبا تھا اور سر پر بہت لمبے لمبے بال تھے، درخت کھانے سے پہلے انہیں اپنی شرمگاہ کا علم بھی نہ تھا نظر ہی نہ پڑی تھی۔ لیکن اس خطا کے ہوتے ہی وہ ظاہر ہوگئی، بھاگنے لگے تو بال ایک درخت میں الجھ گئے، کہنے لگے اے درخت مجھے چھوڑ دے درخت سے جواب ملا کہ ناممکن ہے، اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئی کہ اے آدم مجھ سے بھاگ رہا ہے ؟ کہنے لگے یا اللہ شرمندگی ہے، شرمسار ہوں، گو یہ روایت مرفوع بھی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح موقوف ہونا ہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں، درخت کا پھل کھالیا اور چھپانے کی چیز ظاہر ہوگئی، جنت کے پتوں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 18–23

سورة الْاَعْرَاف 13 اس قصّے سے چند اہم حقیقتوں پر روشنی پڑتی ہے (1) انسان کے اندر شرم و حیا کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے اور اس کا اوّلین مظہر وہ شرم ہے جو اپنے جسم کے مخصوص حصّوں کو دوسروں کے سامنے کھو لنے میں آدمی کو فطرةً محسوس ہوتی ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ شرم انسان کے اندر تہذیب کے ارتقاء سے مصنوعی طور پر پیدا نہیں ہوئی ہے اور نہ یہ اکتسابی چیز ہے، جیسا کہ شیطان کے بعض شاگردوں نے قیاس کیا ہے، بلکہ درحقیقت یہ وہ فطری چیز ہے جو اوّل روز سے انسان میں موجود تھی۔ (2) شیطان کی پہلی چال جو اس نے انسان کو فطرت انسانی کی سیدھی راہ سے ہٹانے کے لیے چلی، یہ تھی کہ اس کے اس جذبہ شرم وحیا پر ضرب لگائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–25

خلاصہ تفسیر اور ہم نے (آدم ؑ کو) حکم دیا کہ اے آدم تم اور تمہاری بی بی (حواء) جنت میں رہو پھر جس جگہ سے چاہو (اور جس چیز کو چاہو) دونوں آدمی کھاؤ اور (اتنا خیال رہے کہ) اس (خاص) درخت کے پاس (بھی) مت جاؤ (یعنی اس کا پھل نہ کھاؤ) کبھی ان لوگوں کے شمار میں آجاؤ جن سے نامناسب کام ہوجایا کرتے ہیں، پھر شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ (ان کو وہ ممنوع درخت کھلا کر) ان کا مستور بدن جو ایک دوسرے سے پوشیدہ تھا دونوں کے روبرو بےپردہ کر دے (کیونکہ اس درخت کے کھانے کی یہی تاثیر ہے، خواہ بالذات یا بوجہ ممانعت کے) اور (وہ وسوسہ یہ تھا کہ دونوں سے) کہنے لگا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت (کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ ۚ۔ یہ دلاء الدلو سے نکلا ہوا محاورہ ہے۔ دلی فلانا بغرور کے معنی اوقعہ فیما اراد من تعزیرہ، اس نے اس کو جس فریب میں مبتلا کرنا چاہا اس میں مبتلا کردیا، اس کو اپنے ڈھب پر لانے میں کامیاب ہوگیا، اس کو شیشہ میں اتار لیا۔ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ : درخت چکھنے کے معنی درخت کا پھل چکھنے کے ہیں۔ عربی میں مضاف کے حذف کردینے کا اسلوب بہت معروف ہے۔ ‘ خصف ’ کے معنی گانٹھنے، گوتھنے، جوڑنے کے ہیں۔ یہ درخت، جیسا کہ اوپر گذرا، آدم ؑ پر حرام ٹھہرایا گیا تھا اس وجہ سے اس کا پھل کھا لینے کی سزا ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

22۔ 1 تدلیۃ اور ادلاء کے معنی ہیں کسی چیز کو اوپر سے نیچے چھوڑ دینا گویا شیطان ان کو مرتبہ علیا سے اتار کر ممنوعہ درخت کا پھل کھانے تک لے آیا 22۔ 2 یہ اس مصیت کا اثر ظاہر ہوا جو آدم ؑ و حوا سے غیر شعوری اور غیر ارادی طور پر ہوئی اور پھر دونوں مارے شرم کے جنت کے پتے جوڑ جوڑ کر اپنی شرم گاہ چھپانے لگے۔ اس سے قبل انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا نورانی لباس ملا ہوا تھا، جو اگرچہ غیر مرئی تھا لیکن ایک دوسرے کی شرم گاہ کے لئے ساتر (پردہ پوش) تھا۔ ابن کثیر 22۔ 3 یعنی اس تنبہ کے باوجود تم شیطان کے وسوسوں کا شکار ہوگئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شیطان کے جال بڑے حسین اور دلفریب ہوتے ہیں اور جن سے بچنے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

8: نیچے اتارنے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ طاعت کے جس بلند مقام پر تھے، اس سے نیچے اتار لیا، اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جنت سے دنیا میں اتار لیا۔ 9: اس سے معلوم ہوا کہ عریانی سے حفاظت انسان کی فطرت میں داخل ہے اسی لیے جونہی دونوں کا لباس اترا انہوں نے ہر ممکن طریقے سے اپنا ستر چھپانے کی کو ششش کی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت ” نمبر 22۔ اب یہ دھوکہ تمام ہوا اور اس کا نتیجہ ہمارے سامنے آگیا ۔ شیطان نے ان کو اللہ کی اطاعت سے پھیر کر اللہ کی معصیت میں مبتلا کردیا اور یہ سب کچھ اس نے گہری سازش اور دھوکے سے کیا ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس جوڑے کو دنیا میں اتار دیا ۔ آیت ” (فدلھما بغرو) (7 : 22) ” اس نے دھوکہ دے کر یہ مقصد حاصل کیا ۔ “ اب انہیں اس بات کا شعور ہوا کہ ان کے جسم میں شرمگائیں بھی ہیں ۔ یہ شرمگاہیں پہلے ان کی نظروں سے اوجھل تھیں ۔ چناچہ انہوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر ان کو اپنی شرمگاہوں پر رکھنا شروع کردیا ۔ ان الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان شرمگاہوں سے مراد وہ جسمانی حصے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 20–22

1 آدم و حوا شیطان کی قسموں سے متاثر ہوئے کہ خدا کا نام لے کر کون جھوٹ بولنے کی جرأت کرسکتا ہے، شاید وہ یہ سمجھے کہ واقعی اس کے کھانے سے ہم فرشتے بن جائیں گے، یا پھر کبھی فنا نہ ہوں گے۔ اور حق تعالیٰ نے جونہی فرمائی تھی اس کی تعلیل یا تاویل کرلی ہوگی، لیکن غالباً (فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِيْنَ ) 7 ۔ الاعراف :19) اور (اِنَّ ھٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰي) 20 ۔ طہ :117) وغیرہ سے نسیان ہوا، اور یہ بھی خیال نہ رہا کہ جب وہ مسجود ملائکہ بنائے جاچکے، پھر ملک بننے کی کیا ضرورت رہی۔ ( فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا) 20 ۔ طہ :115) واضح ہو کہ امر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ بَدَتْ لَہُمَا سَوْاٰتُہُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْہِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ ط اپنی عریانی کا احساس ہونے کے بعد وہ جنت کے درختوں کے پتوں کو آپس میں سی کر یا جوڑ کر اپنے اپنے ستر کو چھپانے کا اہتمام کرنے لگے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

18 یعنی یہ نہیں ہوا کہ ادھر شیطان نے ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا اور سبز باغ دکھائے تو فوراً سیدنا آدم وحوا (علیہا السلام) اس درخت کا پھل کھانے کو تیار ہوگئے بلکہ وہ مدتوں ان باتوں کی یقین دہانی کراتا رہا کہ اگر تم نے یہ پھل کھالیا تو تم فی الواقع انسانیت سے ترقی کر کے فرشتوں کے درجہ پر پہنچ جاؤ گے۔ اس دوران وہ قسمیں بھی کھاتا رہا تاآنکہ وہ انہیں اس نافرمانی پر اکسانے کی کوشش میں کامیاب ہوگیا۔ 19 حیا اور مقامات ستر کو ڈھانپنا انسانی فطرت میں داخل ہے :۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شرم و حیا کا جذبہ اور اپنے مقامات ستر کو ڈھانپ کر رکھنا عورت اور مرد دونوں کی فطرت کے اندر داخل ہے پھل کھانے کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

26 ۔ (اپنا پوشیدہ بدن چھپانے کے لیے) اس سے معلوم ہوا کہ شرم و حجاب وانسان کے لیے بالکل فطری و طبعی ہے، اور بےستری وبے حجابی کی جتنی کوششیں آج مختلف خوشنماناموں سے کی جارہی ہیں۔ سب آدمی کو آدمیت کی بلندی سے ابلیسیت کی پستی ہی کی طرف لے جانے والی ہیں۔ دلت ھذہ الایۃ علی ان کشف العورۃ میں المنکرات وانہ لم یزل مستھجنا فی الطباع مستقبحا فی العقول (کبیر) وفی الایۃ دلیل علی قبح کشف العورۃ وان اللہ وجب علیھما الستر (قرطبی) فیہ دلیل علی ان کشف العور ۃ قبیح میں لدن ادم (کبیر) (آیت) ” طفقا یخصفن علیھما من ورق الجنۃ “۔ بائبل میں اس موقع پر ہے کہ :۔” تب دونوں کی آنکھیں کھل گئیں اور انہیں معلوم ہوا کہ ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–22

قال انظرنی الی یوم یبعثون، ای امھلنی الی یوم البعث، یوم بعث تک مہلت طلب کرنے کا مطلب تھا کہ مجھے موت نہ آئے اس لئے کہ یوم بعث کے بعد موت نہیں ہوگی اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی یہ درخواست یہ کہتے ہوئے منظور فرمالی ” اِنَّکَ من المنظرین “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی یہ دعاء بعینہٖ قبول فرمالی، مگر دوسری آیت ” الی یوم الوقت المعلوم “ سے معلوم ہوتا ہے کہ نفخہ اولی تک مہلت قبول فرمائی اس سے معلوم ہوا کہ جسطرح پوری کائنات پر موت طاری ہوگی ابلیس پر بھی موت طاری ہوگی

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فدلہما بغرور پس ان دونوں کو فریب سے نیچے لے آیا۔ بغوی نے لکھا ہے یعنی ابلیس نے دونوں کو فریب دیا عرب کہتے ہیں مَا زَالَ فَلَانٌ یدَلِّی بفلانٍ بغرور یعنی وہ اس کو برابر فریب دیتا اور اس سے چکنی چپڑی باتیں کرتا رہا۔ غرور سے مراد ہے بےحقیقت (فریب) بعض علماء کا قول ہے کہ دَلّٰہما (کا مصدر تَدْلِیَۃٌہے ‘ تَدْلِیَۃٌاور اِدْلاَءُ کا معنی ہے نیچے اتارنا لٹکانا) اس سے مراد یہ ہے کہ ابلیس نے آدم ( علیہ السلام) و حوا ( علیہ السلام) کو اونچے درجے سے نچلے درجے پر اتار دیا۔ مقام طاعت سے مقام معصیت پر لا گرایا۔ فلما ذاقا الشجرۃ بدت لہما سواتہما وطفقا یخصفان علیہما من ورق الجنۃ : پھر جب ان دونوں نے اس درخت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(22) جب ان دونوں نے اس درخت کا پھل کھایا فورا ان کے پردہ کا بدن ایک دوسرے کے سامنے ہوگیا اور دونوں شرم وحیا سے انجیر کے پتوں سے اپنے جسم کو چھپانے لگے اس وقت آدم وحوا ؑ سے پروردگار نے کہا کیا میں نے اس درخت سے کھانے سے تمہیں نہیں منع کیا تھا اور کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا اور واضح دشمن ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ ۚ : ”دَلّٰی یُدَلِّیْ تَدْلِیَۃً“ (تفعیل) اور ”اَدْلٰی یُدْلِیْ اِدْلَاءً“ (افعال) یہ ”دَلْوٌ“ (ڈول) سے ہے، یعنی جیسے ڈول نیچے گرایا جاتا ہے اس طرح کسی چیز کو اوپر سے نیچے کی طرف چھوڑنا، یعنی شیطان نے دھوکے سے ان کو ان کے بلند مرتبے سے نیچے اتار دیا۔ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ : سورة طٰہٰ (121) میں ہے : (فَاَكَلَا مِنْهَا) کہ انھوں نے اس میں سے کھالیا۔ زیر تفسیر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے میں سے صرف چکھنے کی دیر تھی کہ جنت کی کرامت چھن گئی اور وہ بےلباس ہوگئے۔ وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ ۭ: معلوم ہوا انسان فطرتاً باحیا پیدا ہوا ہے اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 22–24

قولہ تعالیٰ : آیت : فدلھما بغرور یعنی شیطان نے انہیں ہلاکت میں ڈال دیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس نے انہیں قسم کے ساتھ دھوکہ دیا۔ اور حضرت آدم (علیہ السلام) یہ گمان رکھتے تھے کہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا، پس شیطان نے انہیں اپنی وسوسہ اندازی اور قسم کے ساتھ دھوکہ ڈال دیا۔ اور حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : اس نے ان دونوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائی یہاں تک کہ انہیں دھوکے میں ڈال دیا۔ اور مومن اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ دھوکہ کھا جاتا ہے (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 459 ) ۔ بعض علماء کہتے ہیں : جس نے ہمیں اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ دھوکہ دیا ہم وہ دھوکہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–25

(1) امام ابن ابی جریر نے محمد بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم اور حوا کو جنت میں ایک درخت کے کھانے سے منع فرمایا شیطان آیا اور سانپ کے پیٹ میں داخل ہوگیا۔ پھر اس نے حوا سے بات کی اور آدم کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہا تمہارے رب نے تم کو اس درخت سے منع نہیں کیا مگر یہ کہ تم دونوں فرشتے بن جاؤ گے یا ہمیشہ رہنے والے ہوجاؤ گے۔ اور اس نے قسمیں کھائیں کہ میں دونوں کو نصیحت کرنے والوں میں سے ہوں (یعنی تمہارا خیرخواہ ہو) حوا نے درخت کو کاٹ ڈالا تو درخت سے خون نکل آیا۔ اور ان دونوں سے ان کا فاخرانہ لباس اتر گیا جو ان پر تھا (اور فرمایا) لفظ آیت ” وطفقا یخصفن علیہما من ورق الجنۃ، ونادھما…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَدَلّٰىهُمَا [ تو اس نے پھسلادیا دونوں کو ] بِغُرُوْرٍ ۚ [ فریبوں سے ] فَلَمَّا [ پھر جب ] ذَاقَا [ دونوں نے چکھا ] الشَّجَرَةَ [ اس درخت کو ] بَدَتْ [ تو ظاہر ہوگئے ] لَهُمَا [ ان کے لیے ] سَوْاٰتُهُمَا [ ان کی ستروں کے حصے ] وَطَفِقَا [ اور وہ دونوں لگے ] يَخْصِفٰنِ [ چپکانے ] عَلَيْهِمَا [ اپنے اوپر ] مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ ۭ [ باغ کے پتوں میں سے ] وَنَادٰىهُمَا [ اور پکار ان دونوں کو ] رَبُّهُمَآ [ ان کے رب نے ] اَلَمْ اَنْهَكُمَا [ کیا میں نے روکا نہیں تھا تم دونوں کو ] عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ [ اس درخت سے ] وَاَقُلْ [ اور میں نے کہا نہیں تھا ] لَّكُمَآ [ تم دونوں سے ] اِنَّ [ کہ ]…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–26

لباس اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اس سے پردہ پوشی بھی ہے اور زینت بھی گزشتہ رکوع میں شیطان کی انسان دشمنی کا ذکر ہوا اس نے بہت جم کر یہ اعلان کیا تھا کہ میں اولاد آدم کو بہکاؤں گا اور ورغلاؤں گا اور ان میں سے بہت تھوڑے ہی بندے خدائے پاک کے شکر گزار ہوں گے اور اس کا بھی ذکر ہے کہ اس نے حضرت آدم و حواء ( علیہ السلام) کو جنت سے نکلوا دیا۔ اب حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد سے خطاب ہو رہا ہے۔ جس میں انعامات خدا وند یہ کا بھی ذکر ہے اور اولاد آدم کو تنبیہ بھی ہے کہ شیطان کی طرف سے چوکنے رہیں۔ اول تو اولاد آدم کو اللہ جل شانہٗ نے اپنی ایک بہت بڑی نعمت یاد دلائی اور وہ نعمت لباس ہے، اس کو لفظ اَنْزَلْنَا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–25

تتمہ : اور ہم نے آدم کو کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی حوا فی الحال جنت میں سکونت اور قیام یعنی سر دست جنت ہی میں رہو پھر اس میں سے جہاں سے چاہو کھاؤ پیو لیکن اس خاص درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤ گے، ظلم کے اصل معنی لغت میں نقصان اور کمی کے آتے ہیں کما قال تعالیٰ ولم تظلم منہ شیئا اس لیے ہم نے ظالم کا ترجمہ گنہگار سے نہیں کیا بلکہ نقصان اٹھانے والے کیا اور یہی زیادہ مناسب ہے ابلیس چونکہ آدم کی وجہ سے ملعون اور مطرود ہوچکا تھا اس لیے اس کے دل میں حسد اور اور انتقام کی اگ سلگ رہی تھی حضرت آدم کی یہ نعمت اور کرام دیکھ کر حسد اور انتقام کی آگ اور بھڑک گئی۔ اس لیے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

18 آخر ابلیس نے دھوکہ اور فریب سے ان کو شجرہ ممنوعہ کھانے پر آمادہ کرلیا اور ان کو ان کے رتبہ اطاعت سے نیچے گرادیا۔ ای حطہما عن درجتہما و انزلھما عن رتبۃ الطاعۃ الی رتبۃ المعصیۃ (روح ج 8 ص 100) ۔ 19 یہ اصل “ تَيْ ” تھا اسم اشارہ برائے تانیث واحد اس کے بعد لام بعد لگایا گیا التقاء ساکنین کی وجہ سے یاء گر گئی اور ک، کما، کم وغیرہ ضمائر خطاب تنبیہ کے لیے آتی ہیں اور مخاطب کی مناسبت سے استعمال ہوتی ہیں۔ یہاں مخاطب چونکہ دو تھے یعنی آدم و حواء (علیہما السلام) اس لیے ضمیر کُمَا استعمال کی گئی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–22

ربط آیات ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے نزول اور اس کے اتباع کا حکم دیا جزائے عمل کے ضمن میں قرآن کریم کی مخالفت کرنے والوں کو برے انجام سے آگاہ کیا پھر انسان کی تمکین فی الارض اور اس کے لیے سامان معیشت کا ذکر کیا اس کے بعد انسان کی تخلیق اور اس کے اشرف ہونے کا بیان ہوا اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو مسجود ملائکہ بنایا اور دنیا میں اپنا نائب مقرر فرمایا پھر ابلیس کے تذکرے میں فرمایا کہ اس نے اللہ کے حکم سے سرتابی کی اور آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا پھر اس انکار کی توجیہہ یہ بیان کی کہ میں آگ سے پیدا ہوا ہوں اور آدم (علیہ السلام) مٹی سے آگ چونکہ مٹی کی نسبت ارفع ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَـنَا۝ 0 ۫ وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۝ 23 رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 22–23

1 ؎ یعنی قسمیں کھا کر فریب دے کر آخرکار اس درخت ممنوع کے کھانے کی طرف مائل ہی کرلیا۔ 12 منہ (1) جنت میں گناہ کرنے سے حضرت آدم و حوا کا لباس عزت اتار لیا گیا تھا جس پر وہ نہایت شرمندہ ہو کر جنت کے درختوں کے پتے اپنے بدن پر ڈھانکتے تھے۔ پھر دنیا میں خدا نے آدم (علیہ السلام) کو کپڑا بنانا سکھایا جس سے ستر ڈھانکنا میسر آیا۔ اس بات کو خدا اپنی بڑی نعمت من آیات اللّٰہ کہتا ہے اور لباس کا نازل کرنا فرما کر ایک اور لباس کی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی پرہیزگاری کا لباس بہتر 1 ؎ ہے۔ اس کے بعد اولاد آدم کو متنبہ کرتا ہے کہ دیکھو اب تم شیطان کے بہکانے میں نہ آنا کہیں لباس تقویٰ تمہارا نہ اتار لے جس سے تم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 11–22

وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ صلے ق فَسَجَدُوْٓا اِلَّا اِبْلِیْسَ ط لَمْ یَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ ۔ (الاعراف : 11) ” اور ہم نے تمہارا خاکہ بنایا پھر تمہاری صورت گری کی پھر فرشتوں کو فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا “۔ تخلیقِ انسان کا اسلامی نقطہ نگاہ اور اس کی وضاحت سب سے پہلے آیت کے بعض الفاظ پر غور فرمایئے۔ سب سے پہلے فرمایا خَلَقْنٰکُمْ اور پھر فرمایا صَوَّرْنٰکُمْ ۔ بات اصل میں یہ ہے کہ جب خَلَقَ کا لفظ اکیلا استعمال ہوتا ہے تو یہ اپنے لوازم سمیت استعمال ہوتا ہے یعنی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–22

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اسی سورة کی آیت 189 میں ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت حواکو آدم (علیہ السلام) سے ہی پیدا فرمایا۔ یہاں اس بات کا ذکر ہے کہ آدم اور اس کی بیوی کو جنت میں رہنے کا حکم ہوا۔ اور ساتھ یہ بات بتلادی گئی کہ صرف اس ایک درخت کے سوا باقی ہر چیز کھا سکتے ہو۔ اس کے قریب گئے تو ظالموں میں شمار کیے جاؤ گے۔ لیکن شیطان نے انتقام لینے اور ان کو برہنہ کرنے کے لیے ان کے دل میں وسوسہ پیدا کرکے انہیں باور کرایا کہ تمہیں اس درخت سے محض اس لیے روکا گیا ہے کہیں تم فرشتے بن کر ہمیشہ کے لیے جنت کے باسی نہ بن جاؤ۔ نامعلوم شیطان لعین ان کو پھسلانے کی کتنی مدت کوشش کرتا رہا جب اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اللہ کا نام لے کر دھوکے سے پھل کھلایا : آیت 22: فَدَلّٰھُمَا (پس وہ ان دونوں کو نیچے لے آیا) درخت سے کھانے کی وجہ ان کو نیچے اتار لایا۔ بِغُرُوْرٍ (دھوکے سے) اس وجہ سے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھاکر دھوکہ دیا۔ اور مومن اللہ تعالیٰ کے نام پر دھوکہ کھا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جو اللہ کے نام سے ہمیں دھوکہ دے گا ہم اس کے دھوکے میں آجائیں گے۔ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ (جب دونوں نے اس درخت کا مزہ چکھ لیا) دونوں نے اس کا ذائقہ پایا جبکہ اس کو کھانا شروع کیا وہ گندم یا انگور کا خوشہ تھا۔ اعضائے مستورہ کا ظہور : بَدَتْ لَھُمَا سَوْ ٰاتُھُمَا (تو دونوں کے پوشیدہ اعضاء ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(22) (قدلھما بغرور) یعنی ان کو دھوکہ دیا۔ کہا گیا ہے کہ ” مازال ابلیس یدل فلانا بالغرور “ یعنی اس کو دھوکہ دیتا رہا اور چکنی چپڑی جھوٹی باتیں کرتا رہا۔ بعض نے کہا کہ ان کو طاعت کے مرتبہ سے معصیت کی طرف اتار دیا اور ” تدلی “ کا معنی اوپر سے نیچے لانا ہی ہوتا ہے۔ اور تدلیہ ڈول کو کنوئیں میں لٹکانا۔ کہا جاتا ہے تد کی بنفسہ و دعا غیرہ اور ازہری (رح) فرماتے ہیں اس کی اصل ” تدلیۃ العطشان البسر “ (پیاسوں کو کنوئیں پر لانا) سے ہے تاکہ وہ پانی سے سیراب ہوں اور پانی نہ ہو تو ” تدلی بالغرور “ یہ ہوا کہ خیر خواہی ظاہر کرے اور اندر دھوکہ اور کھوٹ چھپایا ہوا ہو۔ (فلما ذاقا الشجرۃ بدت لھما سوا تھما) ابن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 22–23

(22 ۔ 23) ۔ شیطان نے آدم و حوا (علیہما السلام) کے سامنے قسم کھائی اور قسم کا دھوکا دے کر اس درخت کا پھل کھانے پر کہ جس سے ان کو منع کیا گیا تھا ان کو آمادہ کردیا اور جنت سے ان کو نکلوا دیا گیہوں کے کھاتے ہی ان کے ستر کھل گئے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان کے بدن پر سے کپڑے جنت کے اتر پڑے جو بدن چھپا ہوا تھا وہ ظاہر ہوگیا ورنہ پہلے دونوں کو اپنا ستر نظر نہ آتا تھا انجیر کے پتے لے کر ستر چھپانے لگے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) جب جنت میں آباد ہوئے تو ان کو ایک کپڑا پہنایا گیا تھا وہ کپڑا چھین لیا گیا کچھ کچھ انگلیوں پر اس کا نشان باقی رہ گیا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 19–23

آیت 19 یعنی اللہ تعالیٰ نے جناب آدم اور ان کی بیوی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو سکون کے لئے عطا فرمائی تھی، حکم دیا کہ وہ جنت میں جہاں سے جو جی میں آئے کھائیں اور جنت سے متمتع ہوں البتہ اللہ تعالیٰ نے ایک معین درخت کا پھل کھانے سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کس چیز کا درخت تھا ؟ اس درخت کے تعین میں ہمارے لئے کوئی فائدہ نہیں۔ اس درخت کا پھل کھانے کی تحریم پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول دلیل ہے (فتکونا من الظلمین) ” تم دونوں گناہ گاروں میں سے ہوجاؤ گے “ آدم اور ان کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پابندی کی، یہاں تک کہ ان کا دشمن ابلیس اپنے مکر و فریب سے ان کے پاس گھس آیا اور اس نے ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–25

ابلیس کے وار انسان پر قول باری ہے ثم لا تینھم من بین ایدیھم ومن خلفھم وعن ایمانھم وعن شمائلھم پھر ان کے آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا) حضرت ابن عباس، ابراہیم، قتادہ، الحکم اور سدی سے منقول ہے کہ من بین ایدیھم ومن خلفھم) سے مراد ہے ” ان کی دنیا اور آخرت کی طرف سے، ان کی نیکیوں اور بدیوں کی جہت ہے “ مجاہد کا قول ہے۔” ان کی نظروں کے سامنے ہو کر اور ان کی نظروں سے چھپ کر “ ایک قول ہے ” ہر اس جہت سے جس میں انہیں اپنے پھندے میں پھانسنا ممکن ہوگا “۔ شیطان نے انسانوں کے خلاف اپنی فتنہ سا مانیوں کے لئے ایک جہت کا ذکر نہیں کیا یعنی ” ومن فوقھم “ (اور ان کے اوپر سے) نہیں کہا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

25 اللہ کے حکم سے سرتابی باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار ابلیس لعین نے اپنی دھوکہ دہی اور فریب کاری سے ان دونوں کو اتار دیاعزت و عظمت کے اس مقام سے جس پر وہ اس سے پہلے فائز تھے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ تعالیٰ کے حکم و ارشاد کی تعمیل و پابندی باعث عزت و سرفرازی ہے اور اس سے سرتابی باعث ذلت و محرومی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ بندے کا کام ہی بندگی کرنا ہے اپنے اس خالق ومالک کی جس نے اس کو وجود بخشا اور طرح طرح کی بےحد و حساب نعمتوں سے نوازا۔ اور اس سے اعراض و روگردانی اپنی اصل ذمہ داری سے منہ موڑنا اور خود اپنے آپ کو اور اپنے مرتبہ و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–28

سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ تشریح : سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا واقعہ بیان ہوچکا ہے۔ اس کی چند مثالیں ان آیات میں بیان کی گئی ہیں۔ انسان کی آزمائش، ضمیر، روح اور جسم سے ہر وقت ہوتی رہتی ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کا پتلا مٹی سے بنایا ور اس میں اپنی روح پھونک دی۔ یعنی جسم ان تمام ذرات کا مجموعہ ہے جو مٹی میں پائے جاتے ہیں۔ جدید سائنس کی تحقیق کے مطابق انسان 126 عناصر کا مرکب ہے اور یہ سب مٹی میں موجود ہیں۔ انسان مٹی سے بنا مٹی کے اوپر پرورش پاتا ہے اور پھر مٹی میں ہی چلا جاتا ہے۔ مگر اس میں نفس اور روح کی جنگ جاری رہتی ہے۔ موت کے وقت انسان کا نفس اپنی روح کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–25

رکوع نمبر 2 ۔ آیات نمبر 11 تا 25: اسرار و معارف : انسانی زندگی محض ایک حادثہ نہیں اور نہ نیک و بد کی آویزش محض کھیل ہے اس کا ایک پس منظر ہے جو تمہاری بھلائی کے لیے بیان کردیا جاتا ہے مقصد سامنے آجائے گا تو کامیابی اور ناکامی کا اندازہ کرنا تمہیں آسان ہوگا اب تو صرف مادی ترقی کو کمال سمجھ رہے ہو پھر جان سکو گے کہ اول ضرورت روحانی ترقی کی ہے مادی کمالات اس کے تابع ہیں اگر روحانی ارتقا سے آدمی محروم ہوجائے تو مادی انکشافات دکھوں میں اضافہ ہی کرتے ہیں ان میں سے بھی بھلائی اور بہتری کا پہلو رخصت ہوجاتا ہے۔ اصل بات یوں ہے۔ انانیت : کہ ہم نے تمہیں یعنی تمہارے جد آدم (علیہ السلام) کو اس طرح پیدا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی انہیں اطاعت کے مرتبہ سے گراکر معصیت کے مربہ پر لے آیا۔ یاد رہے کہ آدم اور ان کی زوجہ شیطان کی بات پر یقین نہیں لیے آئے تھے بلکہ جذبات سے مغلوب ہو کر انہوں نے معصیت کا ارتکاب کیا،8 یعنی طبعی شرم وحیا کی جے سے اپنے بدن کی درخت کے پتو سے چھپانے لگے۔ اس آیت سے یہ بھی مفہوم نکلا کہ ستر چھپانا اور شرم کرنا انسان کی خلقی عادت ہے اور یہ تقوی ٰ میں داخل ہے اور جو کوئی سترنہ چھپائے وہ جانو و ہے۔ ( وحیدی)9 اس آیت اور اس کے علاوہ بہت سے ی دوسری آیات اور احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں صوت (آواز) ہے اور فرشتے اور آدمی اس کی آواز سن کر سن سکتے ہیں اہل حدیث کا یہی مذہب ہے۔ (…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 22–23

(7:22) فدلہما یغرور۔ ان دونوں کو ڈہلالیا۔ ان دونوں کو نیچے ڈال دیا۔ ان دونوں کو کھینچ لیا۔ ان دونوں کو نیچے گرا دیا۔ دلی تدلیۃ (تفعیل) سے جس کے معنی کسی کو حیلہ سے کام میں لگا دینے کے ہیں۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ تذلیۃ ادلاء الدلو سے لیا گیا ہے۔ جس کے معنی ڈول ڈالنے کے ہیں اسی مناسبت سے نیچے ڈال دینے اور کھینچ لینے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ بغرور۔ غرور۔ دھوکہ۔ فریب۔ جھوٹی امید۔ لالچ۔ بدت۔ ظاہر ہوگئی۔ بدو اور بداء سے ماضی واحد مؤنث غائب۔ طفقا۔ وہ دونوں لگے (اس کام کو جو آگے مذکور ہے) طفق (سمع) کاد کی طرح افعال مقاربہ میں سے ہے۔ جس طرح کاد کی خبر مضارع بغیر ان کے ہوتی ہے اسی طرح طفق کی خبر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–25

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 25: اسکن (تو آباد ہوجا۔ تو سکونت اختیار کر) ۔ کلا (تم دونوں کھاؤ) حیث شئتما (جیسے تم چاہو) لاتقربا (تم دونوں قریب نہ جانا) ۔ الشجرۃ (درخت) وسوس (خیال ڈالا، وسوسہ ڈالا) لیبدی (تاکہ وہ کھول دے وری (چھپایا گیا) سواۃ (شرم گاہیں۔ (بدن کا وہ حصہ جس کو چھپانا چاہیے) ۔ مانھکما (تم دونوں کو منع نہیں کیا تھا ) ۔ ملکین (دو فرشتے ) ۔ قاسم (اس نے قسم کھائی) ۔ دل (مائل کیا۔ جھکایا ) ۔ ذاقا (دونوں نے چکھا ) ۔ بدت (ظاہر ہوگئی ) ۔ طفقا یخصفان (دونوں جوڑنے لگے ) ۔ ورق (پتہ۔ پتے ) ۔ نادی (اس نے پکارا ) ۔ الم انھکما (کیا میں نے تم دونوں کو منع نہیں کیا تھا ) ۔ ظلمنا (ہم نے زیادتی کی۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–24

شیطان کی حقیقت اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم وحوا (علیہما السلام) ابلیس و سانپ سب کو فرمایا کہ آسمان سے زمین پر اترو اور وہاں تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان آدمی کے بہکانے کی دشمنی، اور سانپ آدمی کے کاٹنے کی دشمنی سے کبھی باز نہ آویں گے۔ آدمی کو چاہیے کہ ان سے بچتا رہے۔ پھر فرمایا کہ ایک مدت تک زمین تمہارے رہنے اور ٹھہرنے کا مقام ہے۔ اسی میں تمہارا جینا مرنا ہے اور اسی سے تم نکالے جاؤ گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چند روزہ زندگی کے بعد مرنا اور پھر دوبارہ جینا ہے، اور دوبارہ جینے کے بعد اگلے پچھلے سب کو اکٹھا کر کے خدا تعالیٰ ہر ایک کو اس کے عملوں کی سزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[7] نافرمانی کا صدور ہوتے ہی وہ آسائشیں ان سے چھین لی گئیں جو انہیں مہیا کی گئی تھیں اور اس کا اولین ظہور بہشتی لباس اتر جانے کی صورت میں ہوا۔ بھوک، پیاس اور مسکن سے محرومی کی نوبت تو بعد کو آنی تھی۔ [8] اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے اندر شرم و حیا کا جذبہ ایک فطری چیز ہے جو اول روز سے انسان میں موجود تھا۔ یہ جذبہ فحاشی و بدکاری کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ چناچہ شیطان نے پہلی چال یہ چلی کہ انسان کے اس جذبہ شرم و حیا پر ضرب لگائے اور برہنگی کے راستے اس پر فحاشی و بدکاری کا دروازہ کھولے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–24

احساس عریانی : (ف 2) معلوم ہوتا ہے جنت میں آدم اور حوا کی زندگی نہایت پاکیزہ اور معصومانہ تھی ، وہ جنسی جذبات سے ناآشنا تھے ، حجاب و ستر کے مفہوم سے بالا تھے ، جب شیطان نے دھوکہ دیا ، اور انہوں نے خلود و ملکیت کے فریب میں آکر شجرہ ممنوعہ کو استعمال کرلیا ، تو ننگے ہوگئے ، عریانی کا احساس ہونے لگا اور جنت کے پتوں سے ستر ڈھانکنے لگے ۔ بات یہ ہے کہ انسانی نفسیات میں یہ ہمہ گیر کمزوری ہے کہ جس بات سے روکا جائے اس کے متعلق خواہ مخواہ دل میں تحریص پیدا ہوتی ہے اور دل میں یہ سوال چٹکیاں لیتا ہے کہ آخر اس میں کیا حکمت ہے ، شیطان نے انسان کی کمزوری سے فائدہ اٹھایا اور یہ کہہ کر بہکایا کہ ہو نہ ہو اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

22 چنانچہ ان دونوں میاں بیوی کو فریب آمیز باتوں سے دھوکہ دے کر مائل کر ہی لیا اور نیچے جھکا لیا پھر جب ان دونوں نے اس درخت کے پھل کو چکھا تو اسی وقت ان دونوں کی شرم گاہیں اور ستر کے مقامات ایک دوسرے کے لئے کھل گئے اور آشکارا ہوگئے اور یہ دونوں اپنے اوپر جنت کے درختوں کے پتے ملاملاکر رکھنے لگے۔ یعنی برہنہ ہوگئے اور سترکو شجرہائے جنت کے پتوں سے چھپانے لگے اور ان دونوں کے پروردگار نے ان کو پکارا کیوں کیا میں تم کو اس خاص درخت کے پھل کھانے اور اس کے قریب جانے سے منع نہیں کرچکا تھا اور کیا میں نے تم کو یہ نہیں بتادیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 22–23

ف 1۔ نیچے لے آیا باعتبار حالت اور رائے کے بھی اور باعتبار مکان کے بھی حتی کہ اپنی رائے عالی سے اس کی رائے سافل کی طرف مائل ہوگئے جس سے جنت سے اسفل کی طرف اتارے گئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انجام کار آدم وحوا (علیہما السلام) جس چیز سے منع کئے گئے تھے اس کو کر بیٹھے : 23: ” فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ 1ۚ“ ان دونوں کو شیطان نے دھوکا میں مبتلا کرلیا یا وہ دونوں شیطان کے دھوکے میں آگئے۔ گویا شیطان نے ان دونوں کو اس مرتبہ رفعیہ سے نیچے گرا دیا ایسا کیونکر ہوا ؟ یعنی وہ چیز جس سے آدم (علیہ السلام) کو منع کیا گیا تھا اس کا صدور ہوگیا جس کو قرآن کریم نے ” ذَاقَا الشَّجَرَةَ “ سے تعبیر کیا ہے گویا یہ اس فطرت انسانی کا بیان ہے جب قوت ملکیہ قوت بہیمیہ سے شکست کھا جاتی ہے یعنی انسان کے اندر ودیعت کی گئی نافرمانی کی قوت فرمانبرداری کی قوت کو شکست دے جاتی ہے اس طرح انہوں نے جس درخت کا بھی پھل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–25

Commentary The story of Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) and Iblis mentioned in the present verses has appeared in the fourth section of Surah Al-Baqarah. Detailed comments have been given in the Tafsir of that Surah. If needed, please see Ma‘ariful-Quran, English Translation, Volume I, Pages 170-187.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–23

13. The narrative sheds light on the following significant points: (i) Modesty and bashfulness are inherent in human nature. The primary manifestation of this instinct is seen in the sense of shame that one feels when one is required to expose the private parts of one's body in the presence of others. According to the Qur'an, this bashfulness is not artificial, nor an outcome of advancement in human culture and civilization. Nor is it something acquired as some misguided thinkers contend. On the contrary, modesty has been an integral part of human nature from the very beginning. (ii) The very…

Read the full tafseer →