Al-A'raaf 7:21

Al-A'raaf · from ayah 21

7:21

وَقَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَ ۟ۙوَقَاسَمَهُمَاۤ اِنِّىۡ لَـكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيۡنَۙ

اور ان سے قسم کھا کر کہا میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And he swore [by Allah] to them, "Indeed, I am to you from among the sincere advisors."

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 2 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:21

اور اس نے قسم کھا کر ان سے کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان سے قسم کھا کر کہا میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان دونوں کے روبرو قسم کھالی کہ یقین جانیئے میں تم دونوں کا خیر خواه ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان کے سامنے وہ قسمیں کھا گیا کہ یقین جانو میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان سے قسم کھائی کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان دونوں سے قَسم کھا کر کہا کہ بیشک میں تمہارے خیرخواہوں میں سے ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس نے دونوں سے قسم کھا کر کہا کہ بیشک میں تم دونوں کے لیے یقینا خیر خواہوں سے ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر ان دونوں کے سامنے قسم کھائی کہ میں فی الواقع تمہارا خیر خواہ ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان سے قسمیں کھائیں کہ میں تمہارے خیر خواہوں میں ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس نے ان دونوں سے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور دونوں کے روبرو قسم بھی کھالی کہ میں تو تم دونوں کا خیرخواہ ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اس نے قسمیں کھا کھا کر ان کو یقین دلایا کہ میں آپ دونوں کے لیے بہت ہی خیر خواہ ہوں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان سے قسم کھا کر کہا کہ میں تو تمہارا خیرخواہ ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And he swore to them both: 'Surely I am your sincere adviser.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He swore an oath, :I am one of your well-wishers.

— Muhammad Taqi Usmani

He swore an oath, :I am one of your well-wishers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And he Qasamahuma: "Verily, I am one of the sincere well-wishers for you both."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And he swore unto them (saying): Lo! I am a sincere adviser unto you.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And he swore [by Allah] to them, "Indeed, I am to you from among the sincere advisors."

— Saheeh International

Satan swore before them that he was giving them good advice.

— Muhammad Sarwar

And he swore to them both: Most surely I am a sincere adviser to you.

— Muhammad Habib Shakir

And he sware unto them both: verily I am unto you of your good counsellors.

— Abdul Majid Daryabadi

And he swore to them both, that he was their sincere adviser.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–21

پہلا امتحان اور اسی میں لغزش اور اس کا انجام ابلیس کو نکال کر حضرت آدم و حوا کو جنت میں پہنچا دیا گیا اور بجز ایک درخت کے انہیں ساری جنت کی چیزیں کھانے کی رخصت دے دی گئی۔ اس کا تفصیلی بیان سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکا ہے۔ شیطان کو اس سے بڑا ہی حسد ہوا، ان کی نعمتوں کو دیکھ کر لعین جل گیا اور ٹھان لی کہ جس طرح سے ہو انہیں بہکا کر اللہ کے خلاف کر دوں۔ چناچہ جھوٹ افتراء باندھ کر ان سے کہنے لگا کہ دیکھو یہ درخت وہ ہے جس کے کھانے سے تم فرشتے بن جاؤ گے اور ہمیشہ کی زندگی اسی جنت میں پاؤ گے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ابلیس نے کہا میں تمہیں ایک درخت کا پتہ دیتا ہوں جس سے تمہیں بقاء اور ہمیشگی والا ملک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 18–23

سورة الْاَعْرَاف 13 اس قصّے سے چند اہم حقیقتوں پر روشنی پڑتی ہے (1) انسان کے اندر شرم و حیا کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے اور اس کا اوّلین مظہر وہ شرم ہے جو اپنے جسم کے مخصوص حصّوں کو دوسروں کے سامنے کھو لنے میں آدمی کو فطرةً محسوس ہوتی ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ شرم انسان کے اندر تہذیب کے ارتقاء سے مصنوعی طور پر پیدا نہیں ہوئی ہے اور نہ یہ اکتسابی چیز ہے، جیسا کہ شیطان کے بعض شاگردوں نے قیاس کیا ہے، بلکہ درحقیقت یہ وہ فطری چیز ہے جو اوّل روز سے انسان میں موجود تھی۔ (2) شیطان کی پہلی چال جو اس نے انسان کو فطرت انسانی کی سیدھی راہ سے ہٹانے کے لیے چلی، یہ تھی کہ اس کے اس جذبہ شرم وحیا پر ضرب لگائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–25

خلاصہ تفسیر اور ہم نے (آدم ؑ کو) حکم دیا کہ اے آدم تم اور تمہاری بی بی (حواء) جنت میں رہو پھر جس جگہ سے چاہو (اور جس چیز کو چاہو) دونوں آدمی کھاؤ اور (اتنا خیال رہے کہ) اس (خاص) درخت کے پاس (بھی) مت جاؤ (یعنی اس کا پھل نہ کھاؤ) کبھی ان لوگوں کے شمار میں آجاؤ جن سے نامناسب کام ہوجایا کرتے ہیں، پھر شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ (ان کو وہ ممنوع درخت کھلا کر) ان کا مستور بدن جو ایک دوسرے سے پوشیدہ تھا دونوں کے روبرو بےپردہ کر دے (کیونکہ اس درخت کے کھانے کی یہی تاثیر ہے، خواہ بالذات یا بوجہ ممانعت کے) اور (وہ وسوسہ یہ تھا کہ دونوں سے) کہنے لگا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت (کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَقَاسَمَهُمَآ اِنِّىْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيْنَ۔ مقامسۃ باب مفاعلت سے ہے جو عام طور پر تو مشارکت کے مفہوم کے لیے آتا ہے لیکن کبھی کبھی یہ صرف تکثیر اور مبالغہ کے لیے بھی آتا ہے، یہاں اقسم کے بجائے قاسم کا لفظ جو استعمال ہوا ہے اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ شیطان کو اپنا اعتماد جمانے کے لیے بڑی جدوجہد کرنی پڑی، بار بار قسمیں کھا کھا کے اسے یہ یقین دلانا پڑا کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے، محض بربنائے خیر خواہی کہہ رہا ہے، اس میں کسی بدنیتی کو دخل نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

21۔ 1 جنت کی جو نعمتیں اور آسائشیں حضرت آدم ؑ و حوا کو حاصل تھیں، اس کے حوالے سے شیطان نے دونوں کو بہلایا اور یہ جھوٹ بولا کہ اللہ تمہیں ہمیشہ جنت میں رکھنا نہیں چاہتا، اس لئے اس درخت کا پھل کھانے سے منع فرمایا ہے کیونکہ اس کی تاثیر ہی یہ ہے جو اسے کھا لیتا ہے، وہ فرشتہ بن جاتا ہے یا دائمی زندگی اسے حاصل ہوجاتی ہے۔ پھر قسم کھا کر اپنا خیر خواہ ہونا بھی ظاہر کیا، جس سے حضرت آدم ؑ و حوا متاثر ہوگئے اس لئے اللہ والے اللہ کے نام پر آسانی سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 20–21

6: بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس درخت کی خاصیت یہ تھی کہ اس کا پھل کھانے سے جنت کا لباس اتر جاتا تھا اور یہ بات ابلیس کو معلوم تھی، چنانچہ جب حضرت آدم اور حوا (علیہما السلام) نے اسے کھایا تو جنت کا جو لباس انہیں عطا ہوا تھا وہ ان کے جسم سے اتر گیا۔ 7: مطلب یہ تھا کہ چونکہ اس درخت کی خاصیت یہ ہے کہ جو اس میں سے کھا لیتا ہے وہ یا تو فرشتہ بن جاتا ہے، یا اسے ہمیشہ کی زندگی عطا ہوجاتی ہے، اس لیے اسے کھانے کے لیے مخصوص قوت کی ضرورت ہے۔ شروع میں آپ دونوں کو یہ قوت حاصل نہیں تھی۔ اس لیے منع کیا گیا تھا۔ اب آپ کو جنت میں رہتے ہوئے ایک زمانہ گذر گیا ہے اور آپ میں وہ قوت پیدا ہوگئی ہے اس لیے اب کھا لینے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 20–21

آیت ” نمبر 20 تا 21۔ معلوم نہیں کہ شیطانی وسوسہ کس طرح عمل پیرا ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ ہم شیطان کی حقیقت سے واقف نہیں جس سے ہم اس کے اعمال کی نوعیت سے خبردار ہوجائیں یا یہ معلوم کرسکیں کہ وہ انسان تک رسائی کیونکر حاصل کرتا ہے اور اس کو کس طرح گمراہ کرتا ہے ۔ لیکن ہمیں مخبر صادق کے ذریعہ یہ علم حاصل ہے کہ شیطان کسی نہ کسی طرح انسان کو گمراہ کرتا ہے اور ان غیبی حقائق کے بارے میں مخبر صادق حضرت محمد ﷺ ہی سچا اور یقینی ذریعہ علم ہیں ۔ شیطان انسان کو مختلف طریقوں سے گمراہ کرتا ہے اور یہ تمام طریقے انسانی شخصیت میں کمزور مقامات کے ذریعے سے سرانجام دیئے جاتے ہیں ۔ انسانی شخصیت میں فطری کمزوریاں ہیں ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 20–22

1 آدم و حوا شیطان کی قسموں سے متاثر ہوئے کہ خدا کا نام لے کر کون جھوٹ بولنے کی جرأت کرسکتا ہے، شاید وہ یہ سمجھے کہ واقعی اس کے کھانے سے ہم فرشتے بن جائیں گے، یا پھر کبھی فنا نہ ہوں گے۔ اور حق تعالیٰ نے جونہی فرمائی تھی اس کی تعلیل یا تاویل کرلی ہوگی، لیکن غالباً (فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِيْنَ ) 7 ۔ الاعراف :19) اور (اِنَّ ھٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰي) 20 ۔ طہ :117) وغیرہ سے نسیان ہوا، اور یہ بھی خیال نہ رہا کہ جب وہ مسجود ملائکہ بنائے جاچکے، پھر ملک بننے کی کیا ضرورت رہی۔ ( فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا) 20 ۔ طہ :115) واضح ہو کہ امر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 20–21

آیت 20 فَوَسْوَسَ لَہُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَہُمَا مَا وٗرِیَ عَنْہُمَا مِنْ سَوْاٰتِہِمَا قصۂ آدم علیہ السلام و ابلیس کی تفصیل ہم سورة البقرۃ کے چوتھے رکوع میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ یہاں یہ قصہ دوسری مرتبہ بیان ہوا ہے۔ پورے قرآن مجید میں یہ واقعہ سات مرتبہ آیا ہے ‘ چھ مرتبہ مکی سورتوں میں اور ایک مرتبہ مدنی سورت البقرۃ میں۔ لیکن ہر جگہ مختلف انداز سے بیان ہوا ہے اور ہر بار کسی نہ کسی نئی بات کا اس میں اضافہ ہوا ہے۔ حضور ﷺ کی دعوتی تحریک جیسے جیسے آگے بڑھ رہی تھی ‘ ہر دور کے مخصوص حالات کے سبب اس واقعے میں ہر دفعہ مزید تفصیلات شامل ہوتی گئیں۔ اس رکوع کے شروع میں جب اس قصے کا ذکر آیا ہے تو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

17 شیطان کے انسان کو گمراہ کرنے کے طریقے :۔ ان دو آیات میں شیطان کے انسان کو گمراہ کرنے کے طریق کار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس طریق کا آغاز شیطان کا انسان کے دل میں وسوسہ پیدا کرنے سے ہوتا ہے اور وسوسہ سے مراد ہر وہ خیال ہے جس پر عمل کرنا کسی امر الٰہی کی نافرمانی پر منتج ہوتا ہو یعنی انسان کو گمراہ کرنے کے لیے شیطان کا پہلا حملہ اس کے خیالات پر ہوتا ہے جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ شیطان انسان کی رگوں میں یوں دوڑتا ہے جیسے انسان کا خون دوڑتا ہے (بخاری۔ کتاب بدء الخلق۔ باب صفۃ ابلیس و جنودہ) (2) شیطان انسان کو کبھی کوئی برا راستہ دکھا کر گمراہ نہیں کرتا، نہ کرسکتا ہے بلکہ ہمیشہ اسے سبز باغ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

25 ۔ (دل وجان سے) یعنی قسمیں کھاکھا کر خوب باتیں بنائیں اور اپنے اخلاص و خیرخواہی کا خوب یقین دلایا۔ آدم (علیہ السلام) اور حواعلیہما السلام جنتی بھولے اپنے اوپر قیاس کرکے یہ خیال بھی نہیں کرسکے کہ کوئی اللہ کے نام جھوٹی قسم کے سلسلہ میں لے سکتا ہے، یہ قسما قسمی بھی اسی وسوسۂ شیطانی کا ایک جزء تھی ،

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–22

قال انظرنی الی یوم یبعثون، ای امھلنی الی یوم البعث، یوم بعث تک مہلت طلب کرنے کا مطلب تھا کہ مجھے موت نہ آئے اس لئے کہ یوم بعث کے بعد موت نہیں ہوگی اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی یہ درخواست یہ کہتے ہوئے منظور فرمالی ” اِنَّکَ من المنظرین “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی یہ دعاء بعینہٖ قبول فرمالی، مگر دوسری آیت ” الی یوم الوقت المعلوم “ سے معلوم ہوتا ہے کہ نفخہ اولی تک مہلت قبول فرمائی اس سے معلوم ہوا کہ جسطرح پوری کائنات پر موت طاری ہوگی ابلیس پر بھی موت طاری ہوگی

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقاسمہما انی لکما لمن النصحین اور دونوں کے سامنے قسم کھائی کہ یقین جانئے میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔ الا ان تکونا اور تکونا سے پہلے لامحذوف ہے یا لفظ کراہیۃ مقدر ہے یعنی ابلیس نے آدم و حوا سے کہا تمہارے رب نے جو اس درخت کے پاس جانے کی ممانعت کی ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتے نہ ہوجاؤ یا ہمیشہ کی زندگی تم کو نہ مل جائے یا یہ مطلب ہے کہ اس کو تمہارا فرشتہ ہوجانا یا دوامی زندگی پانا پسند نہ تھا صرف اس لئے درخت کے پاس جانے کی ممانعت کردی ‘ بعض لوگوں نے اس آیت سے انبیاء پر ملائکہ کی فضیلت کو ثابت کیا ہے مگر یہ غلط ہے اس سے انبیاء پر ملائکہ کی بہمہ وجوہ کلی فضیلت ثابت نہیں ہوتی صرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 20–21

(20۔ 21) شیطان نے اس درخت سے کھانے کا وسوسہ ڈالا تاکہ ان کے بدن کے اس حصہ کو ان کے سامنے ظاہر کردے جو نور کے لباس نے پوشیدہ کر رکھا تھا۔ اور شیطان نے ان سے کہا اے آدم وحوا اس درخت کے کھانے سے محض اس لیے روکا گیا ہے کہ کہیں تم جنت میں خیر وشر سے واقف نہ ہوجاؤ اور قسم کھائی کہ یہ درخت ہمیشہ زندہ رہنے کا درخت ہے اور مکر و فریب سے اس درخت ہمیشہ زندہ رہنے کا درخت ہے اور مکروفریب سے اس درخت کے پھل کھانے پر ان کو راضی کرلیا حتی کہ انہوں نے اس کو کھالیا ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَاسَمَهُمَآ : باب مفاعلہ (مقاسمہ) دو طرف سے مقابلہ کے لیے ہوتا ہے۔ یہاں صرف شیطان نے قسم کھائی تھی، آدم ؑ نے مقابلے میں کوئی قسم نہیں کھائی، اس لیے یہاں مبالغہ کے لیے ہے، لہٰذا ترجمہ ”بار بار قسم کھائی“ کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 21 قولہ تعالیٰ : آیت : وقاسمھما یعنی ان دونوں کے لیے قسم اٹھائی، کیا جاتا ہے : اقسم اقساما ! بمعنی حلف ( اس نے قسم اٹھائی) شاعر نے کہا ہے : وقاسمھا باللہ جھدا لانتم الذ من السلوی اذا مانشورھا (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 385) اور اس میں ایک کی جانب سے باب مفاعلہ ذکر کیا ہے۔ اور اس سے اس کا رد ہوتا ہے جس نے کہا ہے کہ باب مفاعلہ دونوں ( فاعل اور مفعول) کی جانب سے استعمال ہوتا ہے۔ اور یہ سورة المائدہ میں گزر چکا ہے۔ آیت : انی لکما لمن النصحین، لکما صلہ میں داخل نہیں ہے۔ اور تقدیر عبارت ہے : انی ناصح لکما لمن الناصحین ( بلا شبہ میں تم دونوں کو نصیحت کر رہا ہوں، کیونکہ میں تمہارا خیر خواہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–25

(1) امام ابن ابی جریر نے محمد بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم اور حوا کو جنت میں ایک درخت کے کھانے سے منع فرمایا شیطان آیا اور سانپ کے پیٹ میں داخل ہوگیا۔ پھر اس نے حوا سے بات کی اور آدم کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہا تمہارے رب نے تم کو اس درخت سے منع نہیں کیا مگر یہ کہ تم دونوں فرشتے بن جاؤ گے یا ہمیشہ رہنے والے ہوجاؤ گے۔ اور اس نے قسمیں کھائیں کہ میں دونوں کو نصیحت کرنے والوں میں سے ہوں (یعنی تمہارا خیرخواہ ہو) حوا نے درخت کو کاٹ ڈالا تو درخت سے خون نکل آیا۔ اور ان دونوں سے ان کا فاخرانہ لباس اتر گیا جو ان پر تھا (اور فرمایا) لفظ آیت ” وطفقا یخصفن علیہما من ورق الجنۃ، ونادھما…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَاسَمَهُمَآ [ اور اس نے دونوں کو قسم دی ] اِنِّىْ [ بیشک میں ] لَكُمَا [ تم دونوں کے لئے ] لَمِنَ النّٰصِحِيْنَ [ یقینا خیر خواہی کرنے والوں میں سے ہوں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–26

لباس اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اس سے پردہ پوشی بھی ہے اور زینت بھی گزشتہ رکوع میں شیطان کی انسان دشمنی کا ذکر ہوا اس نے بہت جم کر یہ اعلان کیا تھا کہ میں اولاد آدم کو بہکاؤں گا اور ورغلاؤں گا اور ان میں سے بہت تھوڑے ہی بندے خدائے پاک کے شکر گزار ہوں گے اور اس کا بھی ذکر ہے کہ اس نے حضرت آدم و حواء ( علیہ السلام) کو جنت سے نکلوا دیا۔ اب حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد سے خطاب ہو رہا ہے۔ جس میں انعامات خدا وند یہ کا بھی ذکر ہے اور اولاد آدم کو تنبیہ بھی ہے کہ شیطان کی طرف سے چوکنے رہیں۔ اول تو اولاد آدم کو اللہ جل شانہٗ نے اپنی ایک بہت بڑی نعمت یاد دلائی اور وہ نعمت لباس ہے، اس کو لفظ اَنْزَلْنَا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–25

تتمہ : اور ہم نے آدم کو کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی حوا فی الحال جنت میں سکونت اور قیام یعنی سر دست جنت ہی میں رہو پھر اس میں سے جہاں سے چاہو کھاؤ پیو لیکن اس خاص درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤ گے، ظلم کے اصل معنی لغت میں نقصان اور کمی کے آتے ہیں کما قال تعالیٰ ولم تظلم منہ شیئا اس لیے ہم نے ظالم کا ترجمہ گنہگار سے نہیں کیا بلکہ نقصان اٹھانے والے کیا اور یہی زیادہ مناسب ہے ابلیس چونکہ آدم کی وجہ سے ملعون اور مطرود ہوچکا تھا اس لیے اس کے دل میں حسد اور اور انتقام کی اگ سلگ رہی تھی حضرت آدم کی یہ نعمت اور کرام دیکھ کر حسد اور انتقام کی آگ اور بھڑک گئی۔ اس لیے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

17 ابلیس نے ان کو قسم دی کہ وہ ان کی خیر خواہی کر رہا ہے یہاں مزید بمعنی مجرد ہے کیونکہ قسم صرف ابلیس نے کھائی تھی لیکن آدم و حواء (علیہما السلام) نے چونکہ اس کی قسم کو مان لیا تھا تو گویا ان کی طرف سے بھی قسم ہوگئی اس لیے باب مفاعلہ استعمال کیا گیا۔ واخرج قسم ابلیس علی زنۃ المفاعلۃ لانہ لما کان منہ القسم و منھما التصدیق فکانہما من اثنین (مدارک ج 2 ص 30) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–22

ربط آیات ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے نزول اور اس کے اتباع کا حکم دیا جزائے عمل کے ضمن میں قرآن کریم کی مخالفت کرنے والوں کو برے انجام سے آگاہ کیا پھر انسان کی تمکین فی الارض اور اس کے لیے سامان معیشت کا ذکر کیا اس کے بعد انسان کی تخلیق اور اس کے اشرف ہونے کا بیان ہوا اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو مسجود ملائکہ بنایا اور دنیا میں اپنا نائب مقرر فرمایا پھر ابلیس کے تذکرے میں فرمایا کہ اس نے اللہ کے حکم سے سرتابی کی اور آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا پھر اس انکار کی توجیہہ یہ بیان کی کہ میں آگ سے پیدا ہوا ہوں اور آدم (علیہ السلام) مٹی سے آگ چونکہ مٹی کی نسبت ارفع ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَدَلّٰىہُمَا بِغُرُوْرٍ۝ 0 ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ بَدَتْ لَہُمَا سَوْاٰتُہُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْہِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ۝ 0 ۭ وَنَادٰىہُمَا رَبُّہُمَآ اَلَمْ اَنْہَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَۃِ وَاَقُلْ لَّكُمَآ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۝ 22 دلَ الدّلالة : ما يتوصّل به إلى معرفة الشیء، کدلالة الألفاظ علی المعنی، ودلالة الإشارات، والرموز، والکتابة، والعقود في الحساب، وسواء کان ذلک بقصد ممن يجعله دلالة، أو لم يكن بقصد، كمن يرى حركة إنسان فيعلم أنه حيّ ، قال تعالی: ما دَلَّهُمْ عَلى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ [ سبأ/ 14] . أصل الدّلالة مصدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 18–21

ترکیب : مذئوم بالہمزہ مشتق ہے ذامتہ اذا عتبہ سے اور بعض نے صرف و سے بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے اس لئے ہمزہ کی حرکت ذال کو دے کر ہمزہ کو حذف کردیا اور ممکن ہے کہ اس کی اصل مذیماً کہی جاوے کس لئے کہ فعل اس سے ذام یذیم آتا ہے۔ پس ی کو و سے بدل دیا جیسا کہ مکیل کو مکول اور مشیب کو مشوب کرلیتے ہیں۔ یہ اور اس کا مابعد حال ہے لمن مبتداء قائم مقام قسم لاملئن خبر قائم مقام جواب قسم۔ تفسیر : اس میں آدم اور ان کی اولاد پر بھی احسان ہے کہ تمہارے ساتھ سرکشی اور حسد کرنے والے کو ہم نے یوں ذلت دی اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ تم وہ ذات شریف ہو کہ پھر اپنے اس قدیمی دشمن کا کہنا مانتے اور اپنے محسن حقیقی کی نافرمانی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 11–22

وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ صلے ق فَسَجَدُوْٓا اِلَّا اِبْلِیْسَ ط لَمْ یَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ ۔ (الاعراف : 11) ” اور ہم نے تمہارا خاکہ بنایا پھر تمہاری صورت گری کی پھر فرشتوں کو فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا “۔ تخلیقِ انسان کا اسلامی نقطہ نگاہ اور اس کی وضاحت سب سے پہلے آیت کے بعض الفاظ پر غور فرمایئے۔ سب سے پہلے فرمایا خَلَقْنٰکُمْ اور پھر فرمایا صَوَّرْنٰکُمْ ۔ بات اصل میں یہ ہے کہ جب خَلَقَ کا لفظ اکیلا استعمال ہوتا ہے تو یہ اپنے لوازم سمیت استعمال ہوتا ہے یعنی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–22

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اسی سورة کی آیت 189 میں ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت حواکو آدم (علیہ السلام) سے ہی پیدا فرمایا۔ یہاں اس بات کا ذکر ہے کہ آدم اور اس کی بیوی کو جنت میں رہنے کا حکم ہوا۔ اور ساتھ یہ بات بتلادی گئی کہ صرف اس ایک درخت کے سوا باقی ہر چیز کھا سکتے ہو۔ اس کے قریب گئے تو ظالموں میں شمار کیے جاؤ گے۔ لیکن شیطان نے انتقام لینے اور ان کو برہنہ کرنے کے لیے ان کے دل میں وسوسہ پیدا کرکے انہیں باور کرایا کہ تمہیں اس درخت سے محض اس لیے روکا گیا ہے کہیں تم فرشتے بن کر ہمیشہ کے لیے جنت کے باسی نہ بن جاؤ۔ نامعلوم شیطان لعین ان کو پھسلانے کی کتنی مدت کوشش کرتا رہا جب اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

طریق وسوسہ : آیت 21: وَقَاسَمَھُمَآ اِنِّیْ لَکُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَ (اور ان دونوں کے سامنے قسم کھائی کہ یقین جانئے میں آپ دونوں کا خیر خواہ ہوں) وقاسمہما۔ یعنی ان دونوں کے سامنے قسم کھائی۔ اور کہنے لگا اِنِّی لکما (الایۃ) کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ یہاں ابلیس کی قسم کو باب مفاعلہ سے ذکر کیا کیونکر اگر وہ قسم اٹھانے والا تھا تو وہ اس کی تصدیق کرنے والے تھے۔ گویا قسم دو طرفہ ہوئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (21) (وقاسمھمآ انی لکما لمن النصحین) یعنی قسم کھائی یہ اس مفاعلہ باب سے ہے جو ایک کے ساتھ خاص ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے لئے اللہ کی قسم کھا کر ان کو دھوکہ دیا اور کبھی مومن کو اللہ کا نام لے کر دھوکہ دیا جاتا ہے اور کہا میں تم سے پہلے پیدا ہوا ہوں اور تم سے زیادہ علم رکھتا ہوں تم میری اتباع کرو، میں تمہیں صحیح رہنمائی کروں گا۔ ابلیس پہلا شخص ہے جس نے اللہ کے نام کی جھوٹی قسم کھائی اور آدم (علیہ السلام) یہ سمجھتے تھے کہ اللہ کے نام کی جو بھی قسم کھائے گا وہ سچ ہی بولے گا تو اس کے دھوکہ میں آگئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 19–21

(19 ۔ 21) ۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم وحوا پر سوائے ایک درخت کے کل میوے اور پھل جنت کے مباح کردیے تھے کہ جہاں سے چاہو بےروک ٹوک کھاؤ اس کا حسد شیطان کو ہوا چاہا کہ کسی طرح یہ نعمتیں ان سے چھینی جاویں اس لئے قریب کی راہ سے کہا کہ اس درخت کے پھل سے جو تم کو منع کیا گیا ہے اس میں یہ بھی ‘ ہے کہ کہیں تم فرشتے یا ہمیشہ کے لئے جنت میں رہنے والے نہ ہوجاؤ اور قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں اس موقعہ پر حافظ ابن کثیر (رح) نے لکھا ہے کہ مومن خدا کا نام سن کر دشمن کے دھو کے میں آجاتا ہے سورة بقرہ میں عبد اللہ بن عباس ؓ اور عبداللہ بن مسعود ؓ کا یہ قول گذر جنت میں رہتے تھے مگر تنہائی کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 19–23

آیت 19 یعنی اللہ تعالیٰ نے جناب آدم اور ان کی بیوی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو سکون کے لئے عطا فرمائی تھی، حکم دیا کہ وہ جنت میں جہاں سے جو جی میں آئے کھائیں اور جنت سے متمتع ہوں البتہ اللہ تعالیٰ نے ایک معین درخت کا پھل کھانے سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کس چیز کا درخت تھا ؟ اس درخت کے تعین میں ہمارے لئے کوئی فائدہ نہیں۔ اس درخت کا پھل کھانے کی تحریم پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول دلیل ہے (فتکونا من الظلمین) ” تم دونوں گناہ گاروں میں سے ہوجاؤ گے “ آدم اور ان کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پابندی کی، یہاں تک کہ ان کا دشمن ابلیس اپنے مکر و فریب سے ان کے پاس گھس آیا اور اس نے ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–25

ابلیس کے وار انسان پر قول باری ہے ثم لا تینھم من بین ایدیھم ومن خلفھم وعن ایمانھم وعن شمائلھم پھر ان کے آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا) حضرت ابن عباس، ابراہیم، قتادہ، الحکم اور سدی سے منقول ہے کہ من بین ایدیھم ومن خلفھم) سے مراد ہے ” ان کی دنیا اور آخرت کی طرف سے، ان کی نیکیوں اور بدیوں کی جہت ہے “ مجاہد کا قول ہے۔” ان کی نظروں کے سامنے ہو کر اور ان کی نظروں سے چھپ کر “ ایک قول ہے ” ہر اس جہت سے جس میں انہیں اپنے پھندے میں پھانسنا ممکن ہوگا “۔ شیطان نے انسانوں کے خلاف اپنی فتنہ سا مانیوں کے لئے ایک جہت کا ذکر نہیں کیا یعنی ” ومن فوقھم “ (اور ان کے اوپر سے) نہیں کہا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

24 ابلیس کا قسمیں کھا کھاکر آدم کو دھوکہ دینا : یعنی " قَاسَمَ " بابِ " مفاعلہ " یہاں پر تکثیر و تکرار کے لئے ہے۔ (روح، مدارک وغیرہ) ۔ جیسا کہ اس باب کے خواص میں سے ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ جب اس میں مقابلہ نہ پایا جاتا ہو تو یہ تکثیر اور مبالغہ کیلئے ہوتا ہے۔ جیسے " عاقب " وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ اسی لیے حضرت آدم نے اس لعین کی بات پر اعتبار کرلیا اور آپ اللہ کے نام کی اتنی قسمیں سن کر پگھل گئے۔ اسی لیے کہا گیا کہ مومن اللہ کے نام سے دھوکہ کھا جاتا ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ جب اپنے غلاموں میں سے کسی کو نماز وغیرہ میں مشغول دیکھتے تو اس کو آزاد کردیتے۔ یہ دیکھ کر کئی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–28

سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ تشریح : سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا واقعہ بیان ہوچکا ہے۔ اس کی چند مثالیں ان آیات میں بیان کی گئی ہیں۔ انسان کی آزمائش، ضمیر، روح اور جسم سے ہر وقت ہوتی رہتی ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کا پتلا مٹی سے بنایا ور اس میں اپنی روح پھونک دی۔ یعنی جسم ان تمام ذرات کا مجموعہ ہے جو مٹی میں پائے جاتے ہیں۔ جدید سائنس کی تحقیق کے مطابق انسان 126 عناصر کا مرکب ہے اور یہ سب مٹی میں موجود ہیں۔ انسان مٹی سے بنا مٹی کے اوپر پرورش پاتا ہے اور پھر مٹی میں ہی چلا جاتا ہے۔ مگر اس میں نفس اور روح کی جنگ جاری رہتی ہے۔ موت کے وقت انسان کا نفس اپنی روح کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–25

رکوع نمبر 2 ۔ آیات نمبر 11 تا 25: اسرار و معارف : انسانی زندگی محض ایک حادثہ نہیں اور نہ نیک و بد کی آویزش محض کھیل ہے اس کا ایک پس منظر ہے جو تمہاری بھلائی کے لیے بیان کردیا جاتا ہے مقصد سامنے آجائے گا تو کامیابی اور ناکامی کا اندازہ کرنا تمہیں آسان ہوگا اب تو صرف مادی ترقی کو کمال سمجھ رہے ہو پھر جان سکو گے کہ اول ضرورت روحانی ترقی کی ہے مادی کمالات اس کے تابع ہیں اگر روحانی ارتقا سے آدمی محروم ہوجائے تو مادی انکشافات دکھوں میں اضافہ ہی کرتے ہیں ان میں سے بھی بھلائی اور بہتری کا پہلو رخصت ہوجاتا ہے۔ اصل بات یوں ہے۔ انانیت : کہ ہم نے تمہیں یعنی تمہارے جد آدم (علیہ السلام) کو اس طرح پیدا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–25

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 25: اسکن (تو آباد ہوجا۔ تو سکونت اختیار کر) ۔ کلا (تم دونوں کھاؤ) حیث شئتما (جیسے تم چاہو) لاتقربا (تم دونوں قریب نہ جانا) ۔ الشجرۃ (درخت) وسوس (خیال ڈالا، وسوسہ ڈالا) لیبدی (تاکہ وہ کھول دے وری (چھپایا گیا) سواۃ (شرم گاہیں۔ (بدن کا وہ حصہ جس کو چھپانا چاہیے) ۔ مانھکما (تم دونوں کو منع نہیں کیا تھا ) ۔ ملکین (دو فرشتے ) ۔ قاسم (اس نے قسم کھائی) ۔ دل (مائل کیا۔ جھکایا ) ۔ ذاقا (دونوں نے چکھا ) ۔ بدت (ظاہر ہوگئی ) ۔ طفقا یخصفان (دونوں جوڑنے لگے ) ۔ ورق (پتہ۔ پتے ) ۔ نادی (اس نے پکارا ) ۔ الم انھکما (کیا میں نے تم دونوں کو منع نہیں کیا تھا ) ۔ ظلمنا (ہم نے زیادتی کی۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 20–21

جنت میں آدم وحوا کا لباس شیطان نے قسم کا دھوکا دے کر اس درخت یعنی گہیوں کے دانے کھانے پر کہ جس کو منع کیا گیا تھا ان کو آمادہ کر کے جنت سے نکلوادیا۔ گیہوں کے کا ھاتے ہی ان کے ستر کھل گئے، جنت کے کپڑے بدن پر سے اتر گئے، جو بدن چھپا ہوا تھا وہ ظاہر ہوگیا۔ انجیر کے پتے لے کر ستر چھپانے لگے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جب جنت میں آباد ہوئے تو ان کو ایک کپڑا پہنایا گیا تھا وہ چھین لیا گیا۔ کچھ کچھ انگلیوں پر اس کا نشان باقی رہ گیا جس نشان کو ناخن کہتے ہیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا قد ساٹھ گز کا تھا۔ جب گیہوں کے کھانے سے حضرت آدم (علیہ السلام) کا جنتی لباس اتر گیا تو وہ شرما کر بھاگے، مگر قد لمبا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 17–21

[6] یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ برائی کی کھلی دعوت کو کم ہی قبول کرتا ہے، اس لئے شیطان کو آدم کے سامنے خیرخواہ کے بھیس میں آنا پڑا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 20–21

(ف 1) آدم اور اس کی بیوی کو اولا جنت میں جگہ دی گئی ، تاکہ ان کو معلوم ہو کہ ان کا اصلی مقام جنت ہے ، شرط یہ قرار دی کہ مشار الیہ درخت کا استعمال نہ کری ، یہ درخت کون تھا ؟ صحیح طور پر معلوم نہیں ۔ مقصد یہ تھا کہ جب تک اطاعت شعار رہیں گے خدا کے حضور میں رہیں گے اور جب نافرمانی کریں گے اس کی رحمتوں سے دور ہوجائیں گے ۔ شجرۃ کے معنی بعض لوگوں نے جھگڑے اور اختلاف کے کیے ہیں مگر یہ صحیح نہیں اور پھر اس کے بعد جو ذوق شجرۃ کی تاثیر بتاتی ہے اسے تنازع اور جنگ سے کوئی تعلق نہیں ، لغۃ شجرۃ بالتاء کا اطلاق منازعت و مخالفت پر نہیں ہوتا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

21 اور ابلیس نے ان دونوں سے قسم کھا کر یہ بھی کہا کہ میں تم دونوں کا خیرخواہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فریبی کا کیا کام ہے ؟ یہی کہ وہ فریب دینے کے لئے ہر حربہ اختیار کرتا ہے : 22: کیا آدم (علیہ السلام) نے وسوسہ ڈالنے والے کی وسوسہ اندازی کا یقین نہیں کیا تھا ؟ یہ بات پہلے عرض کی گئی ہے کہ کوئی وسوسہ یکبارگی عمل تک نہیں لے جاتا بلکہ وسوسہ ڈالنے والا خود اس وسوسہ میں مبتلا ہوتا ہے کہ اس کو میری بات پر یقین آیا یا ابھی نہیں آیا اس لئے جب تک وسوسہ اندازی کرنے والا یہ دیکھ نہ لے کہ جس کو وسوسہ ڈالا گیا اس نے اس کی وسوسہ اندازی کے مطابق عمل کرلیا اس کا اپنا شک رفع نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے اندر کی وسوسہ اندازی بھی ایک مدت تک جاری رہتی ہے تب جا کر انسان عمل پر آمادہ ہوتا ہے۔ اس فطرت کو اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–25

Commentary The story of Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) and Iblis mentioned in the present verses has appeared in the fourth section of Surah Al-Baqarah. Detailed comments have been given in the Tafsir of that Surah. If needed, please see Ma‘ariful-Quran, English Translation, Volume I, Pages 170-187.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–23

13. The narrative sheds light on the following significant points: (i) Modesty and bashfulness are inherent in human nature. The primary manifestation of this instinct is seen in the sense of shame that one feels when one is required to expose the private parts of one's body in the presence of others. According to the Qur'an, this bashfulness is not artificial, nor an outcome of advancement in human culture and civilization. Nor is it something acquired as some misguided thinkers contend. On the contrary, modesty has been an integral part of human nature from the very beginning. (ii) The very…

Read the full tafseer →