Al-A'raaf 7:20

Al-A'raaf · from ayah 20

7:20

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَا وٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ ۟فَوَسۡوَسَ لَهُمَا الشَّيۡطٰنُ لِيُبۡدِىَ لَهُمَا مَا وٗرِىَ عَنۡهُمَا مِنۡ سَوۡاٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهٰٮكُمَا رَبُّكُمَا عَنۡ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَا مَلَـكَيۡنِ اَوۡ تَكُوۡنَا مِنَ الۡخٰلِدِيۡنَ

تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ ان کی ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لیے منع کیا ہے کہ کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

But Satan whispered to them to make apparent to them that which was concealed from them of their private parts. He said, "Your Lord did not forbid you this tree except that you become angels or become of the immortal."

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 2 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:20

پھر شیطان نے اُن کو بہکایا تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں ان کے سامنے کھول دے اس نے ان سے کہا، "تمہارے رب نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ اِس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ، یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہو جائے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ ان کی ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لیے منع کیا ہے کہ کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر شیطان نے ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈاﻻ تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے پوشیده تھیں دونوں کے روبرو بے پرده کردے اور کہنے لگا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت سے اور کسی سبب سے منع نہیں فرمایا، مگر محض اس وجہ سے کہ تم دونوں کہیں فرشتے ہوجاؤ یا کہیں ہمیشہ زنده رہنے والوں میں سے ہوجاؤ

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر ہوا یہ کہ شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا، تاکہ ان کی شرم کی جگہیں جو ان سے چھپائی گئی تھیں، ایک دوسرے کے سامنے کھول دے کہنے لگا کہ : تمہارے پروردگار نے تمہیں اس درخت سے کسی اور وجہ سے نہیں، بلکہ صرف اس وجہ سے روکا تھا کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ، یا تمہیں ہمیشہ کی زندگی نہ حاصل ہوجائے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر شیطان نے ان کے جی میں خطرہ ڈالا کہ ان پر کھول دے ان کی شرم کی چیزیں جو ان سے چھپی تھیں اور بولا تمہیں تمہارے رب نے اس پیڑ سے اسی لیے منع فرمایا ہے کہ کہیں تم دو فرشتے ہوجاؤ یا ہمیشہ جینے والے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر شیطان نے دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان کی شرم گاہیں جو ان (کی نظروں) سے پوشیدہ تھیں ان پر ظاہر کر دے اور کہنے لگا: (اے آدم و حوا!) تمہارے رب نے تمہیں اس درخت (کا پھل کھانے) سے نہیں روکا مگر (صرف اس لئے کہ اسے کھانے سے) تم دونوں فرشتے بن جاؤ گے (یعنی علائقِ بشری سے پاک ہو جاؤ گے) یا تم دونوں (اس میں) ہمیشہ رہنے والے بن جاؤ گے (یعنی اس مقامِ قرب سے کبھی محروم نہیں کئے جاؤ گے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر شیطان نے ان دونوں کے لیے وسوسہ ڈالا، تاکہ ان کے لیے ظاہر کر دے جو کچھ ان کی شرم گاہوں میں سے ان سے چھپایا گیا تھا اور اس نے کہا تم دونوں کے رب نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا مگر اس لیے کہ کہیں تم دونوں فرشتے بن جاؤ، یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہوجاؤ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا۔ تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں، انہیں کے سامنے کھول دے اور کہنے لگا : تمہیں تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لئے روکا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ یا تم ہمیشہ یہاں رہنے والے نہ بن جاؤ

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس شیطان نے ان کے اندر وسوسہ اندازی کی کہ عریاں کردے ان کی وہ شرم کی جگہیں جو ان سے چھپائی گئی تھیں۔ اس نے ان سے کہا کہ تمہارے خداوند نے تو تمہیں اس درخت سے صرف اس وجہ سے روکا کہ تم کہیں فرشتے یا ہمیشہ زندہ رہنے والے بن جاؤ

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر ورغلانے لگا شیطان ان دونوں کو اپنے وسوسوں کے ذریعے، تاکہ وہ ظاہر کر دے ان کے سامنے ان کی ان شرم گاہوں کو جو کہ چھپائی گئی تھیں ان دونوں سے، اور کہا کہ تم کو نہیں روکا تمہارے رب نے اس درخت سے مگر اس بناء پر، کہ کہیں تم فرشتے بن جاؤ یا تم ہوجاؤ ہمیشہ رہنے والوں میں سے،

— مولانا اسحاق مدنی

پھر دونوں (کے دل) میں شیطان نے وسوسہ ڈالا سو اس سے جو کچھ ان کے پردہ کے بدن میں سے ان سے چھپایا گیا تھا وہ دونوں کے روبرو بےپردہ کردیا۔ اور کہنے لگا تمہارے پروردگار نے تم کو اس درخت سے تو صرف اس لئے روکا تھا کہ کہیں تو دونوں فرشتہ (نہ) بن جاؤ یا کہیں ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں نہ ہوجاؤ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو شیطان نے ان دونوں کو وسوسہ میں ڈالا تاکہ ظاہر کر دے ان پر جو ان سے پوشیدہ تھیں ان کی شرمگاہیں اور اس نے کہا (وسوسہ اندازی کی) کہ نہیں روکا ہے آپ دونوں کو آپ کے رب نے اس درخت سے مگر اسی لیے کہ کہیں آپ فرشتے نہ بن جائیں یا کہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے نہ ہوجائیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا۔ تاکہ ان کے پردے والی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے رب نے اس درخت سے صرف اس لیے منع کیا ہے کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But Satan made an evil suggestion to both of them that he might reveal to them their shame that had remained hidden from them. He said: 'Your Lord has forbidden you to approach this tree only to prevent you from becoming angels or immortals.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then Satan whispered to them, so that he might expose to them their shame that was hidden from them; and said, :Your Lord has not prohibited this tree for you, but to avoid your becoming angels or your becoming eternal.

— Muhammad Taqi Usmani

Then Satan whispered to them, so that he might expose to them their shame that was hidden from them; and said, :Your Lord has not prohibited this tree for you, but to avoid your becoming angels or your becoming eternal.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then Shaytan whispered suggestions to them both in order to uncover that which was hidden from them of their private parts (before); he said: "Your Lord did not forbid you this tree save you should become angels or become of the immortals."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then Satan whispered to them that he might manifest unto them that which was hidden from them of their shame, and he said: Your Lord forbade you from this tree only lest ye should become angels or become of the immortals.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But Satan whispered to them to make apparent to them that which was concealed from them of their private parts. He said, "Your Lord did not forbid you this tree except that you become angels or become of the immortal."

— Saheeh International

Satan tempted them to reveal that which was kept private from them and said, "Your Lord has not prohibited you (to eat the fruits of this tree) unless you want to be angels or immortal."

— Muhammad Sarwar

But the Shaitan made an evil suggestion to them that he might make manifest to them what had been hidden from them of their evil inclinations, and he said: Your Lord has not forbidden you this tree except that you may not both become two angels or that you may (not) become of the immortals.

— Muhammad Habib Shakir

Then the Satan whispered unto the twain in order that he might discover unto the twain that which lay hidden from the twain of their shame, and said: your Lord forbade you not vender tree but lest ye twain should become angels or become of the abiders.

— Abdul Majid Daryabadi

Then began Satan to whisper suggestions to them, bringing openly before their minds all their shame that was hidden from them (before): he said: "Your Lord only forbade you this tree, lest ye should become angels or such beings as live for ever."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:20

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–21

پہلا امتحان اور اسی میں لغزش اور اس کا انجام ابلیس کو نکال کر حضرت آدم و حوا کو جنت میں پہنچا دیا گیا اور بجز ایک درخت کے انہیں ساری جنت کی چیزیں کھانے کی رخصت دے دی گئی۔ اس کا تفصیلی بیان سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکا ہے۔ شیطان کو اس سے بڑا ہی حسد ہوا، ان کی نعمتوں کو دیکھ کر لعین جل گیا اور ٹھان لی کہ جس طرح سے ہو انہیں بہکا کر اللہ کے خلاف کر دوں۔ چناچہ جھوٹ افتراء باندھ کر ان سے کہنے لگا کہ دیکھو یہ درخت وہ ہے جس کے کھانے سے تم فرشتے بن جاؤ گے اور ہمیشہ کی زندگی اسی جنت میں پاؤ گے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ابلیس نے کہا میں تمہیں ایک درخت کا پتہ دیتا ہوں جس سے تمہیں بقاء اور ہمیشگی والا ملک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 18–23

سورة الْاَعْرَاف 13 اس قصّے سے چند اہم حقیقتوں پر روشنی پڑتی ہے (1) انسان کے اندر شرم و حیا کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے اور اس کا اوّلین مظہر وہ شرم ہے جو اپنے جسم کے مخصوص حصّوں کو دوسروں کے سامنے کھو لنے میں آدمی کو فطرةً محسوس ہوتی ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ شرم انسان کے اندر تہذیب کے ارتقاء سے مصنوعی طور پر پیدا نہیں ہوئی ہے اور نہ یہ اکتسابی چیز ہے، جیسا کہ شیطان کے بعض شاگردوں نے قیاس کیا ہے، بلکہ درحقیقت یہ وہ فطری چیز ہے جو اوّل روز سے انسان میں موجود تھی۔ (2) شیطان کی پہلی چال جو اس نے انسان کو فطرت انسانی کی سیدھی راہ سے ہٹانے کے لیے چلی، یہ تھی کہ اس کے اس جذبہ شرم وحیا پر ضرب لگائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–25

خلاصہ تفسیر اور ہم نے (آدم ؑ کو) حکم دیا کہ اے آدم تم اور تمہاری بی بی (حواء) جنت میں رہو پھر جس جگہ سے چاہو (اور جس چیز کو چاہو) دونوں آدمی کھاؤ اور (اتنا خیال رہے کہ) اس (خاص) درخت کے پاس (بھی) مت جاؤ (یعنی اس کا پھل نہ کھاؤ) کبھی ان لوگوں کے شمار میں آجاؤ جن سے نامناسب کام ہوجایا کرتے ہیں، پھر شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ (ان کو وہ ممنوع درخت کھلا کر) ان کا مستور بدن جو ایک دوسرے سے پوشیدہ تھا دونوں کے روبرو بےپردہ کر دے (کیونکہ اس درخت کے کھانے کی یہی تاثیر ہے، خواہ بالذات یا بوجہ ممانعت کے) اور (وہ وسوسہ یہ تھا کہ دونوں سے) کہنے لگا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت (کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطٰنُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا الایہ :۔ ہرچند شیطان مردود قرار پا کر جنت سے نکالا جا چکا تھا لیکن اوپر گزر چکا ہے کہ اس نے آدم اور اولاد آدم کو ورغلانے اور بہکانے کے لیے مہلت حاصل کرلی تھی۔ اس مہلت کے سبب سے معلوم ہوتا ہے، اس کو آدم و حوا تک پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی چناچہ اس نے فائدہ اٹھایا اور وسوسہ اندازی کے لیے آدم کے پاس پہنچ گیا۔ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وٗرِيَ عَنْهُمَا میں لام عاقبت کا ہے، شیطان کی کوشش تو جیسا کہ اس نے اپنے چیلنج میں ظاہر کیا ہے آدم کو کفران نعمت اور خدا کی نافرمانی میں مبتلا کرنے کی تھی لیکن اس کا انجام چونکہ اس شکل میں ظاہر ہوا کہ آدم و حوا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

20۔ 1 وسوسہ اور وسو اس زلزلہ اور زلزال کے وزن پر ہے شیطان دل میں جو بری باتیں ڈالتا ہے، اس کو وسوسہ کہا جاتا ہے۔ 20۔ 1 یعنی شیطان کا مقصد اس بہکاوے سے حضرت آدم و حوا کو اس لباس جنت سے محروم کرکے انہیں شرمندہ کرنا تھا، جو انہیں جنت میں پہننے کے لئے دیا گیا تھا شرم گاہ کو سَوْءَۃ، ُ سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ اس کے ظاہر ہونے کو برا سمجھا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 20–21

6: بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس درخت کی خاصیت یہ تھی کہ اس کا پھل کھانے سے جنت کا لباس اتر جاتا تھا اور یہ بات ابلیس کو معلوم تھی، چنانچہ جب حضرت آدم اور حوا (علیہما السلام) نے اسے کھایا تو جنت کا جو لباس انہیں عطا ہوا تھا وہ ان کے جسم سے اتر گیا۔ 7: مطلب یہ تھا کہ چونکہ اس درخت کی خاصیت یہ ہے کہ جو اس میں سے کھا لیتا ہے وہ یا تو فرشتہ بن جاتا ہے، یا اسے ہمیشہ کی زندگی عطا ہوجاتی ہے، اس لیے اسے کھانے کے لیے مخصوص قوت کی ضرورت ہے۔ شروع میں آپ دونوں کو یہ قوت حاصل نہیں تھی۔ اس لیے منع کیا گیا تھا۔ اب آپ کو جنت میں رہتے ہوئے ایک زمانہ گذر گیا ہے اور آپ میں وہ قوت پیدا ہوگئی ہے اس لیے اب کھا لینے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 20–21

آیت ” نمبر 20 تا 21۔ معلوم نہیں کہ شیطانی وسوسہ کس طرح عمل پیرا ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ ہم شیطان کی حقیقت سے واقف نہیں جس سے ہم اس کے اعمال کی نوعیت سے خبردار ہوجائیں یا یہ معلوم کرسکیں کہ وہ انسان تک رسائی کیونکر حاصل کرتا ہے اور اس کو کس طرح گمراہ کرتا ہے ۔ لیکن ہمیں مخبر صادق کے ذریعہ یہ علم حاصل ہے کہ شیطان کسی نہ کسی طرح انسان کو گمراہ کرتا ہے اور ان غیبی حقائق کے بارے میں مخبر صادق حضرت محمد ﷺ ہی سچا اور یقینی ذریعہ علم ہیں ۔ شیطان انسان کو مختلف طریقوں سے گمراہ کرتا ہے اور یہ تمام طریقے انسانی شخصیت میں کمزور مقامات کے ذریعے سے سرانجام دیئے جاتے ہیں ۔ انسانی شخصیت میں فطری کمزوریاں ہیں ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 20–22

1 آدم و حوا شیطان کی قسموں سے متاثر ہوئے کہ خدا کا نام لے کر کون جھوٹ بولنے کی جرأت کرسکتا ہے، شاید وہ یہ سمجھے کہ واقعی اس کے کھانے سے ہم فرشتے بن جائیں گے، یا پھر کبھی فنا نہ ہوں گے۔ اور حق تعالیٰ نے جونہی فرمائی تھی اس کی تعلیل یا تاویل کرلی ہوگی، لیکن غالباً (فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِيْنَ ) 7 ۔ الاعراف :19) اور (اِنَّ ھٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰي) 20 ۔ طہ :117) وغیرہ سے نسیان ہوا، اور یہ بھی خیال نہ رہا کہ جب وہ مسجود ملائکہ بنائے جاچکے، پھر ملک بننے کی کیا ضرورت رہی۔ ( فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا) 20 ۔ طہ :115) واضح ہو کہ امر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 20–21

آیت 20 فَوَسْوَسَ لَہُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَہُمَا مَا وٗرِیَ عَنْہُمَا مِنْ سَوْاٰتِہِمَا قصۂ آدم علیہ السلام و ابلیس کی تفصیل ہم سورة البقرۃ کے چوتھے رکوع میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ یہاں یہ قصہ دوسری مرتبہ بیان ہوا ہے۔ پورے قرآن مجید میں یہ واقعہ سات مرتبہ آیا ہے ‘ چھ مرتبہ مکی سورتوں میں اور ایک مرتبہ مدنی سورت البقرۃ میں۔ لیکن ہر جگہ مختلف انداز سے بیان ہوا ہے اور ہر بار کسی نہ کسی نئی بات کا اس میں اضافہ ہوا ہے۔ حضور ﷺ کی دعوتی تحریک جیسے جیسے آگے بڑھ رہی تھی ‘ ہر دور کے مخصوص حالات کے سبب اس واقعے میں ہر دفعہ مزید تفصیلات شامل ہوتی گئیں۔ اس رکوع کے شروع میں جب اس قصے کا ذکر آیا ہے تو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 19–20

16 ابلیس کو تو اللہ تعالیٰ نے جنت سے نکال دیا اور آدم (علیہ السلام) کے بعد اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے فرمایا کہ یہ جنت تمہارا مسکن ہے یہاں سے جو چاہو اور جتنا چاہو کھاؤ پیو البتہ اس ایک درخت کے قریب بھی نہ پھٹکنا۔ یہ درخت کون سا تھا ؟ اس کی صراحت نہیں کی گئی اور نہ اس کی ضرورت ہی تھی۔ اس حکم سے مقصود صرف آدم و حوا (علیہما السلام) کی آزمائش تھی کہ وہ کہاں تک اللہ کا یہ حکم بجا لاتے ہیں اور شیطان جو اپنی چھاتی پر ہاتھ مار کر کہتا ہے کہ میں آدم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا کیا یہ اس کی چالوں میں آتے ہیں یا نہیں ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

23 ۔ (اس درخت کا پھل کھلا کر) معلوم ہوتا ہے کہ اس شجر ممنوع کے پھل میں یہ تاثیر بالذات تھی۔ (آیت) ” لیبدی “۔ میں ل عاقبت کا ہے۔ یعنی ایسا عمل جس کا نتیجہ یہ ہونا تھا۔ اللام لام العاقبۃ (قرطبی) (آیت) ” فوسوس لھما الشیطن “۔ اس تصریح نے صاف کردیا کہ معصیت کا خیال آدم (علیہ السلام) کے اندر سے اور طبعی طور پر پیدا نہیں ہوا۔ بلکہ تمامتر باہر سے ڈالا گیا۔ اور ڈالنے والا وہی موذی شیطان تھا وسوسہ چونکہ ایک تصرف نفسانی و خیالی کا نام ہے۔ اس لیے اتصال مادی یاقرب مکانی اس کی شرط نہیں اور یہ بالکل ہی ضروری نہیں کہ شیطان اصالۃ بھی آدم وحوا (علیہما السلام) سے ملا ہو، بہ آسانی ہوسکتا ہے کہ اس نے زمین ہی پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–22

قال انظرنی الی یوم یبعثون، ای امھلنی الی یوم البعث، یوم بعث تک مہلت طلب کرنے کا مطلب تھا کہ مجھے موت نہ آئے اس لئے کہ یوم بعث کے بعد موت نہیں ہوگی اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی یہ درخواست یہ کہتے ہوئے منظور فرمالی ” اِنَّکَ من المنظرین “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی یہ دعاء بعینہٖ قبول فرمالی، مگر دوسری آیت ” الی یوم الوقت المعلوم “ سے معلوم ہوتا ہے کہ نفخہ اولی تک مہلت قبول فرمائی اس سے معلوم ہوا کہ جسطرح پوری کائنات پر موت طاری ہوگی ابلیس پر بھی موت طاری ہوگی

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فوسوس لہما الشیطن لیبدی لہما ما وری عنہما من سو اتہما پھر شیطان نے دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان کے پردہ کا بدن جو اب تک دونوں سے پوشیدہ تھا دونوں کے روبرو کر دے۔ قاموس میں ہے دل کے اندر پیدا ہونے والا یا شیطان کا ڈالا ہوا ایسا خیال جو غیر مفید ہو وسوسہ ہے بغوی نے لکھا ہے وسوسہ وہ بات جو شیطان میں دل میں ڈال دیتا ہے۔ وسوسہ کا اصل لغوی معنی ہے زیور کی آواز اور پست آہٹ۔ لَہُمَا میں لام اجلیہ ہے دونوں کے لئے۔ لِیُبْدِی میں لام نتیجہ ہے یا لام غرض کیونکہ کشف ستر کرا کے شیطان کو دونوں سے برائی کرنی مقصود ہی تھی۔ سواتہما یعنی قابل ستر اعضاء جن کو دونوں میں سے کوئی بھی نہیں دیکھتا تھا نہ اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 20–21

(20۔ 21) شیطان نے اس درخت سے کھانے کا وسوسہ ڈالا تاکہ ان کے بدن کے اس حصہ کو ان کے سامنے ظاہر کردے جو نور کے لباس نے پوشیدہ کر رکھا تھا۔ اور شیطان نے ان سے کہا اے آدم وحوا اس درخت کے کھانے سے محض اس لیے روکا گیا ہے کہ کہیں تم جنت میں خیر وشر سے واقف نہ ہوجاؤ اور قسم کھائی کہ یہ درخت ہمیشہ زندہ رہنے کا درخت ہے اور مکر و فریب سے اس درخت ہمیشہ زندہ رہنے کا درخت ہے اور مکروفریب سے اس درخت کے پھل کھانے پر ان کو راضی کرلیا حتی کہ انہوں نے اس کو کھالیا ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لِيُبْدِيَ لَهُمَا : بعض علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ ”ُ لِيُبْدِيَ“ میں ”لام“ عاقبت کا ہے، یعنی شیطان کے دل میں نہیں تھا کہ وہ ننگے ہوجائیں مگر ایسا کرنے کا انجام یہی تھا، لیکن زیادہ صحیح یہی ہے کہ یہ ”لام“ تعلیل کا ہے اور اس کی غرض یہی تھی اور اسے معلوم تھا کہ درخت کھانے کا نتیجہ کیا ہوگا۔ شرم گاہ کو ”سوء ۃ“ اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا ننگا ہونا انسان کو طبعاً برا لگتا ہے اور ”سَاءَ یَسُوْءُ“ کا معنی برا لگنا ہے، گویا ان کو جنت کا جو لباس پہنایا گیا تھا، جس سے ان کی شرم گاہیں چھپی ہوئی تھیں، وہ ممنوعہ درخت کھانے سے اتر جانا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو پہلے ہی جنت کی چار خصوصی سہولتیں بتائی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 20 قولہ تعالیٰ : آیت : فوسوس لھما الشیطن یعنی ان دونوں کی طرف شیطان نے وسوسہ اندازی کی۔ یہ بھی کہا گیا ہے : جنت کے اندر سے کہ اس نے سانپ کی صورت میں اپنے آپ کو جنت میں داخل کرلیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنت کے باہر سے، اس اختیار کے ساتھ جو اسے دیا گیا۔ اس کی وضاحت سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ اور وسوسہ کا معنی ہے : الصوت الخفی (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 137) ( مخفی اور پوشیدہ آواز) اور وسوسۃ کا معنی ہے : حدیث النفس ( اندر کی بات ( دل میں اٹھنے والا خیال) ۔ کہا جاتا ہے : وسوست الیہ نفسہ وسوسۃ ووسواسا ( اس کے نفس نے اس میں یہ بات ڈال دی) اور وسواس ( واؤ کے فتحہ کے ساتھ) اسم ہے، مثلا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–25

(1) امام ابن ابی جریر نے محمد بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم اور حوا کو جنت میں ایک درخت کے کھانے سے منع فرمایا شیطان آیا اور سانپ کے پیٹ میں داخل ہوگیا۔ پھر اس نے حوا سے بات کی اور آدم کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہا تمہارے رب نے تم کو اس درخت سے منع نہیں کیا مگر یہ کہ تم دونوں فرشتے بن جاؤ گے یا ہمیشہ رہنے والے ہوجاؤ گے۔ اور اس نے قسمیں کھائیں کہ میں دونوں کو نصیحت کرنے والوں میں سے ہوں (یعنی تمہارا خیرخواہ ہو) حوا نے درخت کو کاٹ ڈالا تو درخت سے خون نکل آیا۔ اور ان دونوں سے ان کا فاخرانہ لباس اتر گیا جو ان پر تھا (اور فرمایا) لفظ آیت ” وطفقا یخصفن علیہما من ورق الجنۃ، ونادھما…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَوَسْوَسَ [ پھر برا خیال ڈالا ] لَهُمَا [ ان کے لیے ] الشَّيْطٰنُ [ شیطان نے ] لِيُبْدِيَ [ تاکہ وہ ظاہر کرے ] لَهُمَا [ ان کے لیے ] مَا [ اس کو جو ] وٗرِيَ [ چھپایا گیا ] عَنْهُمَا [ ان دونوں سے ] مِنْ سَوْاٰتِهِمَا [ ان کی ستروں میں سے ] وَقَالَ [ اور اس نے کہا ] مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا [ تمہارے رب نے ] عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ [ اس درخت سے ] اِلَّآ [ مگر (اس لیے ) ] اَنْ [ کہ (کہیں ) ] تَكُوْنَا [ تم دونوں ہوجاؤ] مَلَكَيْنِ [ فرشتے ] اَوْ [ یا ] تَكُوْنَا [ تم دونوں ہوجاؤ ] مِنَ الْخٰلِدِيْنَ [ ہمیشہ رہنے والوں میں سے ] نوٹ ۔ 2: جنت سے نیچے اترنے کا خطاب حضرت آدم (علیہ السلام) ، بی بی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–26

لباس اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اس سے پردہ پوشی بھی ہے اور زینت بھی گزشتہ رکوع میں شیطان کی انسان دشمنی کا ذکر ہوا اس نے بہت جم کر یہ اعلان کیا تھا کہ میں اولاد آدم کو بہکاؤں گا اور ورغلاؤں گا اور ان میں سے بہت تھوڑے ہی بندے خدائے پاک کے شکر گزار ہوں گے اور اس کا بھی ذکر ہے کہ اس نے حضرت آدم و حواء ( علیہ السلام) کو جنت سے نکلوا دیا۔ اب حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد سے خطاب ہو رہا ہے۔ جس میں انعامات خدا وند یہ کا بھی ذکر ہے اور اولاد آدم کو تنبیہ بھی ہے کہ شیطان کی طرف سے چوکنے رہیں۔ اول تو اولاد آدم کو اللہ جل شانہٗ نے اپنی ایک بہت بڑی نعمت یاد دلائی اور وہ نعمت لباس ہے، اس کو لفظ اَنْزَلْنَا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–25

تتمہ : اور ہم نے آدم کو کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی حوا فی الحال جنت میں سکونت اور قیام یعنی سر دست جنت ہی میں رہو پھر اس میں سے جہاں سے چاہو کھاؤ پیو لیکن اس خاص درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤ گے، ظلم کے اصل معنی لغت میں نقصان اور کمی کے آتے ہیں کما قال تعالیٰ ولم تظلم منہ شیئا اس لیے ہم نے ظالم کا ترجمہ گنہگار سے نہیں کیا بلکہ نقصان اٹھانے والے کیا اور یہی زیادہ مناسب ہے ابلیس چونکہ آدم کی وجہ سے ملعون اور مطرود ہوچکا تھا اس لیے اس کے دل میں حسد اور اور انتقام کی اگ سلگ رہی تھی حضرت آدم کی یہ نعمت اور کرام دیکھ کر حسد اور انتقام کی آگ اور بھڑک گئی۔ اس لیے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

16:“ لِیُبْدِيئَ ” لام “ وَسْوَسَ ” کے متعلق ہے اور عاقبت کے لیے ہے کیونکہ ابلیس کا مقصد خاص یہ ذلت پہنچانا نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد تو ان سے خدا کی نافرمانی صادر کرانا تھا لیکن آخر الامر یہ بات بھی ہوگئی۔ واللام فی قولہ “ لِیُبْدِيَ لَھُمَا ” لام العاقبۃ و ذلک لان ابلیس لم یقصد بالوسوسۃ ظھور عوراتھما وانما کان حملھما علی لمعصیۃ فقط فکان عاقبۃ امرھما ان بدت عوراتھما (خازن ج 2 ص 179) “ مِنْ سَوْ اٰتھِمَا ” یہ “ مَا وُوْرِيَ ” کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–22

ربط آیات ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے نزول اور اس کے اتباع کا حکم دیا جزائے عمل کے ضمن میں قرآن کریم کی مخالفت کرنے والوں کو برے انجام سے آگاہ کیا پھر انسان کی تمکین فی الارض اور اس کے لیے سامان معیشت کا ذکر کیا اس کے بعد انسان کی تخلیق اور اس کے اشرف ہونے کا بیان ہوا اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو مسجود ملائکہ بنایا اور دنیا میں اپنا نائب مقرر فرمایا پھر ابلیس کے تذکرے میں فرمایا کہ اس نے اللہ کے حکم سے سرتابی کی اور آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا پھر اس انکار کی توجیہہ یہ بیان کی کہ میں آگ سے پیدا ہوا ہوں اور آدم (علیہ السلام) مٹی سے آگ چونکہ مٹی کی نسبت ارفع ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَاسَمَہُمَآ اِنِّىْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيْنَ۝ 21 ۙ قْسَمَ ( حلف) حلف، وأصله من الْقَسَامَةُ ، وهي أيمان تُقْسَمُ علی أولیاء المقتول، ثم صار اسما لكلّ حلف . قال : وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ الأنعام/ 109] ، أَهؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ [ الأعراف/ 49] ، وقال : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ [ القیامة/ 1- 2] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] ، إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّها مُصْبِحِينَ [ القلم/ 17] ، فَيُقْسِمانِ بِاللَّهِ [ المائدة/ 106] اقسم ( افعال کے معنی حلف اٹھانے کے ہیں یہ دروصل قسامۃ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 18–21

ترکیب : مذئوم بالہمزہ مشتق ہے ذامتہ اذا عتبہ سے اور بعض نے صرف و سے بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے اس لئے ہمزہ کی حرکت ذال کو دے کر ہمزہ کو حذف کردیا اور ممکن ہے کہ اس کی اصل مذیماً کہی جاوے کس لئے کہ فعل اس سے ذام یذیم آتا ہے۔ پس ی کو و سے بدل دیا جیسا کہ مکیل کو مکول اور مشیب کو مشوب کرلیتے ہیں۔ یہ اور اس کا مابعد حال ہے لمن مبتداء قائم مقام قسم لاملئن خبر قائم مقام جواب قسم۔ تفسیر : اس میں آدم اور ان کی اولاد پر بھی احسان ہے کہ تمہارے ساتھ سرکشی اور حسد کرنے والے کو ہم نے یوں ذلت دی اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ تم وہ ذات شریف ہو کہ پھر اپنے اس قدیمی دشمن کا کہنا مانتے اور اپنے محسن حقیقی کی نافرمانی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 11–22

وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ صلے ق فَسَجَدُوْٓا اِلَّا اِبْلِیْسَ ط لَمْ یَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ ۔ (الاعراف : 11) ” اور ہم نے تمہارا خاکہ بنایا پھر تمہاری صورت گری کی پھر فرشتوں کو فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا “۔ تخلیقِ انسان کا اسلامی نقطہ نگاہ اور اس کی وضاحت سب سے پہلے آیت کے بعض الفاظ پر غور فرمایئے۔ سب سے پہلے فرمایا خَلَقْنٰکُمْ اور پھر فرمایا صَوَّرْنٰکُمْ ۔ بات اصل میں یہ ہے کہ جب خَلَقَ کا لفظ اکیلا استعمال ہوتا ہے تو یہ اپنے لوازم سمیت استعمال ہوتا ہے یعنی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–22

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اسی سورة کی آیت 189 میں ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت حواکو آدم (علیہ السلام) سے ہی پیدا فرمایا۔ یہاں اس بات کا ذکر ہے کہ آدم اور اس کی بیوی کو جنت میں رہنے کا حکم ہوا۔ اور ساتھ یہ بات بتلادی گئی کہ صرف اس ایک درخت کے سوا باقی ہر چیز کھا سکتے ہو۔ اس کے قریب گئے تو ظالموں میں شمار کیے جاؤ گے۔ لیکن شیطان نے انتقام لینے اور ان کو برہنہ کرنے کے لیے ان کے دل میں وسوسہ پیدا کرکے انہیں باور کرایا کہ تمہیں اس درخت سے محض اس لیے روکا گیا ہے کہیں تم فرشتے بن کر ہمیشہ کے لیے جنت کے باسی نہ بن جاؤ۔ نامعلوم شیطان لعین ان کو پھسلانے کی کتنی مدت کوشش کرتا رہا جب اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

شیطان کی وسوسہ اندازی : آیت 20: فَوَسْوَسَ لَھُمَا الشَّیْطٰنُ (پھر شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈ الا) وسوسہ خفیہ کلام کو کہتے ہیں۔ اس کو دھرانا۔ یہ وسوس کا لفظ لازم ہے کہتے ہیں رجل موسوس اس کا مفعول موسوس نہیں آتا۔ البتہ لام یا الیٰ کے صلہ کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ موسوس لہ موسوس الیہ اس شخص کو کہا جاتا ہے۔ جس کی طرف وسوسہ ڈالا جائے۔ وسوس لہ کا مطلب یہ ہوا فعل الوسوسۃ لاجلہٖ ان کی خاطر خفیہ کلام کیا۔ اور وسوس الیہ کا مطلب وہ کلام ان کی طرف ڈالا۔ لِیُبْدِیَ لَھُمَامَا وٗرِیَ عَنْھُمَا مِنْ سَوْٰاتِھِمَا (تاکہ ان کے پردہ کا بدن جو ان دونوں سے اب تک پوشیدہ تھا دونوں کے سامنے ظاہر کر دے)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(20) (فوسوس لھما الشیطن) وسوسہ وہ بات جو شیطان انسان کے دل میں ڈال دے (لیبدی لھما ماوری عنھما من سوا بھما) یعنی تاکہ ان دونوں کو ظاہر کر دے جو پوشیدہ تھی ان کی شرمگاہ کہا گیا ہے کہ اس میں لام لام عاقبیت ہے ابلیس نے اس لئے وسوسہ نہیں ڈالا تھا لیکن اس کے وسوسہ کا انجام یہ ہوا کہ ان کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ” فالتقطہ آل فرعون لیکون لھم عدواً وحزنا “ ہے۔ آگے اس کا وسوسہ بیان کیا ہے (وقال) ابلیس نے آدم و حوا اعلیہما السلام سے کہا (مانھکما ربکما عن ھذہ الشجرۃ الا ان تکونا ملیکن ) یعنی تمہارے فرشتے بننے کو ناپسند کیا کہ تم کو خیر اور شر معلوم ہوجائے گا (او تکونا من الخلدین)…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 19–21

(19 ۔ 21) ۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم وحوا پر سوائے ایک درخت کے کل میوے اور پھل جنت کے مباح کردیے تھے کہ جہاں سے چاہو بےروک ٹوک کھاؤ اس کا حسد شیطان کو ہوا چاہا کہ کسی طرح یہ نعمتیں ان سے چھینی جاویں اس لئے قریب کی راہ سے کہا کہ اس درخت کے پھل سے جو تم کو منع کیا گیا ہے اس میں یہ بھی ‘ ہے کہ کہیں تم فرشتے یا ہمیشہ کے لئے جنت میں رہنے والے نہ ہوجاؤ اور قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں اس موقعہ پر حافظ ابن کثیر (رح) نے لکھا ہے کہ مومن خدا کا نام سن کر دشمن کے دھو کے میں آجاتا ہے سورة بقرہ میں عبد اللہ بن عباس ؓ اور عبداللہ بن مسعود ؓ کا یہ قول گذر جنت میں رہتے تھے مگر تنہائی کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 19–23

آیت 19 یعنی اللہ تعالیٰ نے جناب آدم اور ان کی بیوی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو سکون کے لئے عطا فرمائی تھی، حکم دیا کہ وہ جنت میں جہاں سے جو جی میں آئے کھائیں اور جنت سے متمتع ہوں البتہ اللہ تعالیٰ نے ایک معین درخت کا پھل کھانے سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کس چیز کا درخت تھا ؟ اس درخت کے تعین میں ہمارے لئے کوئی فائدہ نہیں۔ اس درخت کا پھل کھانے کی تحریم پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول دلیل ہے (فتکونا من الظلمین) ” تم دونوں گناہ گاروں میں سے ہوجاؤ گے “ آدم اور ان کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پابندی کی، یہاں تک کہ ان کا دشمن ابلیس اپنے مکر و فریب سے ان کے پاس گھس آیا اور اس نے ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–25

ابلیس کے وار انسان پر قول باری ہے ثم لا تینھم من بین ایدیھم ومن خلفھم وعن ایمانھم وعن شمائلھم پھر ان کے آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا) حضرت ابن عباس، ابراہیم، قتادہ، الحکم اور سدی سے منقول ہے کہ من بین ایدیھم ومن خلفھم) سے مراد ہے ” ان کی دنیا اور آخرت کی طرف سے، ان کی نیکیوں اور بدیوں کی جہت ہے “ مجاہد کا قول ہے۔” ان کی نظروں کے سامنے ہو کر اور ان کی نظروں سے چھپ کر “ ایک قول ہے ” ہر اس جہت سے جس میں انہیں اپنے پھندے میں پھانسنا ممکن ہوگا “۔ شیطان نے انسانوں کے خلاف اپنی فتنہ سا مانیوں کے لئے ایک جہت کا ذکر نہیں کیا یعنی ” ومن فوقھم “ (اور ان کے اوپر سے) نہیں کہا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

22 ننگا کرنا شیطان کا قدیم ہتھکنڈا ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر شیطان نے ان دونوں کو ورغلایا اپنے وسوسوں کے ذریعے تاکہ وہ ظاہر کر دے ان کے سامنے ان کی ان شرمگاہوں کو جن کو چھپایا گیا تھا ان دونوں سے۔ سو ننگا کرنے کا یہ حربہ شیطان کا قدیمی وہ حربہ اور معروف ہتھکنڈا ہے جس سے اس نے اس موقع پر کام لیا اور جس سے وہ ہمیشہ کام لیتا آیا ہے۔ اور آج بھی وہ لوگوں کو ننگا کرنے کے لئے نت نئے طریقے ایجاد کروا رہا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ چناچہ آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں کو ننگا کرنے اور ان سے شرم و حیا کے جوہر کو چھیننے اور سلب کرنے کیلئے شیطان اور اس کی ذریت نئے نئے ہتھکنڈے اپناتی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–28

سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ تشریح : سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا واقعہ بیان ہوچکا ہے۔ اس کی چند مثالیں ان آیات میں بیان کی گئی ہیں۔ انسان کی آزمائش، ضمیر، روح اور جسم سے ہر وقت ہوتی رہتی ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کا پتلا مٹی سے بنایا ور اس میں اپنی روح پھونک دی۔ یعنی جسم ان تمام ذرات کا مجموعہ ہے جو مٹی میں پائے جاتے ہیں۔ جدید سائنس کی تحقیق کے مطابق انسان 126 عناصر کا مرکب ہے اور یہ سب مٹی میں موجود ہیں۔ انسان مٹی سے بنا مٹی کے اوپر پرورش پاتا ہے اور پھر مٹی میں ہی چلا جاتا ہے۔ مگر اس میں نفس اور روح کی جنگ جاری رہتی ہے۔ موت کے وقت انسان کا نفس اپنی روح کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–25

رکوع نمبر 2 ۔ آیات نمبر 11 تا 25: اسرار و معارف : انسانی زندگی محض ایک حادثہ نہیں اور نہ نیک و بد کی آویزش محض کھیل ہے اس کا ایک پس منظر ہے جو تمہاری بھلائی کے لیے بیان کردیا جاتا ہے مقصد سامنے آجائے گا تو کامیابی اور ناکامی کا اندازہ کرنا تمہیں آسان ہوگا اب تو صرف مادی ترقی کو کمال سمجھ رہے ہو پھر جان سکو گے کہ اول ضرورت روحانی ترقی کی ہے مادی کمالات اس کے تابع ہیں اگر روحانی ارتقا سے آدمی محروم ہوجائے تو مادی انکشافات دکھوں میں اضافہ ہی کرتے ہیں ان میں سے بھی بھلائی اور بہتری کا پہلو رخصت ہوجاتا ہے۔ اصل بات یوں ہے۔ انانیت : کہ ہم نے تمہیں یعنی تمہارے جد آدم (علیہ السلام) کو اس طرح پیدا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 علما تفسیر نے لکھا ہے کہ لیبدی میں لام عاقبت کا ہے کیونکہ شیطان کے دل میں یہ نہیں تھا کہ وہ ننگے ہوجائیں گے اور ہوسکتا ہے کہ لام تعلیل کا ہو اور اس کی غرض ہی یہی ہو، ستر کو سوۃ اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا ننگا ہونا انسان کو طبعا برا لگتا ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں، گویا ان کو جنت کا لباس پہنایا گیا تھا جس سے ان کے ستر مستور تھے۔ شجرۃ ممنو عتہ کا پھل کھانے وہ وہ کپڑا اتر گیا وہ ہب بن منبہ کہتے ہیں کہ وہ لباس نورانی تھا جس کی وجہ سے ایک دوسرے کو انکے ستر نظر نہیں آتے تھے درخت کا پھل کھانے سے وہ نور سلب ہوگا ی اور ان کو ایک دوسرے کے ستر نظر آنے لگے ( ابن کثیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ عیب…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:20) لیبدی لہما۔ لام عاقبت کے لئے ہے۔ یعنی شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ اندازی کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنتی لباس اتار دیا گیا۔ اور وہ اپنے آپ کو برہنہ دیکھنے لگے۔ یبدی مضارع واحد مذکر غائب۔ ابداء (افعال) مصدر کہ ظاہر کر دے۔ کھول دے۔ نمایاں کردے۔ بدء مادہ۔ ووری۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب واری یواری مواراۃ (مفاعلۃ) روی مادہ۔ وہ چھپایا گیا۔ وہ پوشیدہ رکھا گیا۔ سواتھما۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان دونوں کی شرمگاہیں۔ سوء ۃ کی جمع ہے۔ لیبدی لہما ما ووری عنھما من سواتھما۔ یہ بھی شیطان کے وسوسہ ڈالنے کی غرض و غائیت ہے۔ یعنی ان دونوں کی شرمگاہوں کے وہ حصے جو ڈھانپ کر ان سے چھپائے گئے تھے ان پر بےپردہ کر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–25

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 25: اسکن (تو آباد ہوجا۔ تو سکونت اختیار کر) ۔ کلا (تم دونوں کھاؤ) حیث شئتما (جیسے تم چاہو) لاتقربا (تم دونوں قریب نہ جانا) ۔ الشجرۃ (درخت) وسوس (خیال ڈالا، وسوسہ ڈالا) لیبدی (تاکہ وہ کھول دے وری (چھپایا گیا) سواۃ (شرم گاہیں۔ (بدن کا وہ حصہ جس کو چھپانا چاہیے) ۔ مانھکما (تم دونوں کو منع نہیں کیا تھا ) ۔ ملکین (دو فرشتے ) ۔ قاسم (اس نے قسم کھائی) ۔ دل (مائل کیا۔ جھکایا ) ۔ ذاقا (دونوں نے چکھا ) ۔ بدت (ظاہر ہوگئی ) ۔ طفقا یخصفان (دونوں جوڑنے لگے ) ۔ ورق (پتہ۔ پتے ) ۔ نادی (اس نے پکارا ) ۔ الم انھکما (کیا میں نے تم دونوں کو منع نہیں کیا تھا ) ۔ ظلمنا (ہم نے زیادتی کی۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 20–21

جنت میں آدم وحوا کا لباس شیطان نے قسم کا دھوکا دے کر اس درخت یعنی گہیوں کے دانے کھانے پر کہ جس کو منع کیا گیا تھا ان کو آمادہ کر کے جنت سے نکلوادیا۔ گیہوں کے کا ھاتے ہی ان کے ستر کھل گئے، جنت کے کپڑے بدن پر سے اتر گئے، جو بدن چھپا ہوا تھا وہ ظاہر ہوگیا۔ انجیر کے پتے لے کر ستر چھپانے لگے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جب جنت میں آباد ہوئے تو ان کو ایک کپڑا پہنایا گیا تھا وہ چھین لیا گیا۔ کچھ کچھ انگلیوں پر اس کا نشان باقی رہ گیا جس نشان کو ناخن کہتے ہیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا قد ساٹھ گز کا تھا۔ جب گیہوں کے کھانے سے حضرت آدم (علیہ السلام) کا جنتی لباس اتر گیا تو وہ شرما کر بھاگے، مگر قد لمبا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 17–21

[6] یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ برائی کی کھلی دعوت کو کم ہی قبول کرتا ہے، اس لئے شیطان کو آدم کے سامنے خیرخواہ کے بھیس میں آنا پڑا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 20–21

(ف 1) آدم اور اس کی بیوی کو اولا جنت میں جگہ دی گئی ، تاکہ ان کو معلوم ہو کہ ان کا اصلی مقام جنت ہے ، شرط یہ قرار دی کہ مشار الیہ درخت کا استعمال نہ کری ، یہ درخت کون تھا ؟ صحیح طور پر معلوم نہیں ۔ مقصد یہ تھا کہ جب تک اطاعت شعار رہیں گے خدا کے حضور میں رہیں گے اور جب نافرمانی کریں گے اس کی رحمتوں سے دور ہوجائیں گے ۔ شجرۃ کے معنی بعض لوگوں نے جھگڑے اور اختلاف کے کیے ہیں مگر یہ صحیح نہیں اور پھر اس کے بعد جو ذوق شجرۃ کی تاثیر بتاتی ہے اسے تنازع اور جنگ سے کوئی تعلق نہیں ، لغۃ شجرۃ بالتاء کا اطلاق منازعت و مخالفت پر نہیں ہوتا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

20 پھر شیطان نے آدم (علیہ السلام) اور آدم (علیہ السلام) کی بیوی دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا اور دونوں کو بہکایا تاکہ ان کو شجر ممنوعہ کا پھل کھلا دے اور ان دونوں کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے جنت کے لباس کی وجہ سے پوشیدہ تھیں اور ایک دوسرے سے چھپی ہوئی تھیں ان شرمگاہوں کو دونوں کے سامنے آشکارا کردے یعنی ان کے ستر جو ایک دوسرے سے پوشیدہ اور چھپے ہوئے تھے ان کی خطا کے باعث ایک دوسرے کے سامنے ہوجائیں اور جنت کا لباس ان سے چھین لیا جائے اور وہ دونوں ایک دوسرے کے روبرو برہنہ ہوجائیں اور ابلیس نے ان دونوں سے یہ کہا کہ تمہارے پروردگار نے تم کو اس درخت سے نہیں روکا مگر محض اس غرض سے روکا ہے کہ کہیں ایسا…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

شیطان کی وسوسہ اندازی کا بیان جو اس نے ہمارے ابوین کے دل میں انگیخت کی : 20: شیطان کے اس وسوسہ ڈالنے کا بیان تفاسیر میں مختلف طریقوں سے کیا گیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) جنت کے دروازے پر آئے اور شیطان نے چپکے سے ان کو یہ بات کہہ دی اور بعض نے کہا کہ وہ سانپ کے منہ میں داخل ہو کر جنت میں گیا اور آدم (علیہ السلام) کو بہکایا اور اسی طرح کے اور بھی بہت سے بیان دئیے گئے ہیں اور یہ بھی نقل ہے کہ شیطان کو یہ قوت دی گئی تھی کہ وہ زمین پر رہنے ہوئے آدم وحوا (علیہما السلام) کے قلوب میں وسوسہ ڈال سکے اور پھر اس سے کتنے مسائل استنباط کئے گئے ہیں اور اسی طرح بات نکالتے ہوئے جنوں کا انسانی اجسام میں داخل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–25

Commentary The story of Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) and Iblis mentioned in the present verses has appeared in the fourth section of Surah Al-Baqarah. Detailed comments have been given in the Tafsir of that Surah. If needed, please see Ma‘ariful-Quran, English Translation, Volume I, Pages 170-187.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–23

13. The narrative sheds light on the following significant points: (i) Modesty and bashfulness are inherent in human nature. The primary manifestation of this instinct is seen in the sense of shame that one feels when one is required to expose the private parts of one's body in the presence of others. According to the Qur'an, this bashfulness is not artificial, nor an outcome of advancement in human culture and civilization. Nor is it something acquired as some misguided thinkers contend. On the contrary, modesty has been an integral part of human nature from the very beginning. (ii) The very…

Read the full tafseer →