Explained with ayahs 19–21
پہلا امتحان اور اسی میں لغزش اور اس کا انجام
ابلیس کو نکال کر حضرت آدم و حوا کو جنت میں پہنچا دیا گیا اور بجز ایک درخت کے انہیں ساری جنت کی چیزیں کھانے کی رخصت دے دی گئی۔ اس کا تفصیلی بیان سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکا ہے۔ شیطان کو اس سے بڑا ہی حسد ہوا، ان کی نعمتوں کو دیکھ کر لعین جل گیا اور ٹھان لی کہ جس طرح سے ہو انہیں بہکا کر اللہ کے خلاف کر دوں۔ چناچہ جھوٹ افتراء باندھ کر ان سے کہنے لگا کہ دیکھو یہ درخت وہ ہے جس کے کھانے سے تم فرشتے بن جاؤ گے اور ہمیشہ کی زندگی اسی جنت میں پاؤ گے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ابلیس نے کہا میں تمہیں ایک درخت کا پتہ دیتا ہوں جس سے تمہیں بقاء اور ہمیشگی والا ملک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
سورة الْاَعْرَاف 13
اس قصّے سے چند اہم حقیقتوں پر روشنی پڑتی ہے
(1) انسان کے اندر شرم و حیا کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے اور اس کا اوّلین مظہر وہ شرم ہے جو اپنے جسم کے مخصوص حصّوں کو دوسروں کے سامنے کھو لنے میں آدمی کو فطرةً محسوس ہوتی ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ شرم انسان کے اندر تہذیب کے ارتقاء سے مصنوعی طور پر پیدا نہیں ہوئی ہے اور نہ یہ اکتسابی چیز ہے، جیسا کہ شیطان کے بعض شاگردوں نے قیاس کیا ہے، بلکہ درحقیقت یہ وہ فطری چیز ہے جو اوّل روز سے انسان میں موجود تھی۔
(2) شیطان کی پہلی چال جو اس نے انسان کو فطرت انسانی کی سیدھی راہ سے ہٹانے کے لیے چلی، یہ تھی کہ اس کے اس جذبہ شرم وحیا پر ضرب لگائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے (آدم ؑ کو) حکم دیا کہ اے آدم تم اور تمہاری بی بی (حواء) جنت میں رہو پھر جس جگہ سے چاہو (اور جس چیز کو چاہو) دونوں آدمی کھاؤ اور (اتنا خیال رہے کہ) اس (خاص) درخت کے پاس (بھی) مت جاؤ (یعنی اس کا پھل نہ کھاؤ) کبھی ان لوگوں کے شمار میں آجاؤ جن سے نامناسب کام ہوجایا کرتے ہیں، پھر شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ (ان کو وہ ممنوع درخت کھلا کر) ان کا مستور بدن جو ایک دوسرے سے پوشیدہ تھا دونوں کے روبرو بےپردہ کر دے (کیونکہ اس درخت کے کھانے کی یہی تاثیر ہے، خواہ بالذات یا بوجہ ممانعت کے) اور (وہ وسوسہ یہ تھا کہ دونوں سے) کہنے لگا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت (کے…
Read the full tafseer →وَيٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِـئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِيْنَ۔ 19۔ فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطٰنُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وٗرِيَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَيْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِيْنَ 20۔ وَقَاسَمَهُمَآ اِنِّىْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيْنَ 21ۙ فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ ۭوَنَادٰىهُمَا رَبُّهُمَآ…
Read the full tafseer →19۔ 1 یعنی صرف اس درخت کو چھوڑ کر جہاں سے اور جتنا چاہو کھاؤ۔ ایک درخت کا پھل کھانے کی پابندی آزمائش کے طور عائد کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
5: شیطان نے اپنی بدعملی کی ذمہ داری خود قبول کرنے کے بجائے (معاذاللہ) اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر ڈالنے کی کوشش کی، حالانکہ تقدیر کی وجہ سے کسی کا اختیار سلب نہیں ہوتا، تقدیر کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ فلاں شخص اپنے اختیار سے فلاں کام کرے گا، نیز اس کے کہنے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک ایسا حکم ہی کیوں دیا جو اس کے لئے قابل قبول نہیں تھا اس لئے بالواسطہ اس کی گمراہی (معاذاللہ) اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی وجہ سے ہوئی۔
Read the full tafseer →آیت ” نمبر 19۔
قرآن کریم نے اس درخت کا نام نہیں لیا کیونکہ درخت کا نام لینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اصل بات یہ تھی کہ انہیں صرف منع کرنا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمام حلال چیزوں کے استعمال کی اجازت دے دی تھی اور ممنوعات کے استعمال سے روک دیا تھا ۔ ممنوعات کی حد اس لئے ضروری تھی تاکہ انسان کو معلوم ہوجائے کہ وہ اس سے آگے نہیں جاسکتا اور اس کو رادہ واختیار کی جو آزادی دی گئی ہے اس کو استعمال کرکے وہ اپنی خواہشات اور میلانات پر کنٹرول کرنا سیکھے ۔ اور خواہشات اور میلانات پر برتری حاصل کرے ۔ وہ حیوانات کی طرح خواہشات کا غلام نہ ہو بلکہ خواہشات کا حاکم ہو ۔ کیونکہ ایک انسان اور حیوان میں فرق ہی…
Read the full tafseer →8 آدم و حوا کو اجازت تھی کہ بلا روک ٹوک جو چاہیں کھائیں پئیں۔ بجز ایک معین درخت کے جس کا کھانا ان کی بہشتی زندگی اور استعداد کے مناسب نہ تھا، اسے فرما دیا کہ اس کے پاس نہ جاؤ ورنہ نقصان اٹھاؤ گے میرے نزدیک یہاں فَتَکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ کا ترجمہ اگر یوں کیا جاتا تو زیادہ موزوں ہوتا " پھر ہوجاؤ گے تم نقصان اٹھانے والوں میں سے۔ " ظلم کے معنی نقصان اور کمی و کوتاہی کے آتے ہیں جیسا کہ (وَلَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَـيْــــًٔـا) 18 ۔ الکہف :33) میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
آیت 16 قَالَ فَبِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَٖ
تیری توحید کی شاہراہ پر ڈیرے جما کر ‘ گھات لگا کر ‘ مورچہ بند ہو کر بیٹھوں گا اور تیرے بندوں کو شرک کی پگڈنڈیوں کی طرف موڑتا رہوں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
16 ابلیس کو تو اللہ تعالیٰ نے جنت سے نکال دیا اور آدم (علیہ السلام) کے بعد اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے فرمایا کہ یہ جنت تمہارا مسکن ہے یہاں سے جو چاہو اور جتنا چاہو کھاؤ پیو البتہ اس ایک درخت کے قریب بھی نہ پھٹکنا۔ یہ درخت کون سا تھا ؟ اس کی صراحت نہیں کی گئی اور نہ اس کی ضرورت ہی تھی۔ اس حکم سے مقصود صرف آدم و حوا (علیہما السلام) کی آزمائش تھی کہ وہ کہاں تک اللہ کا یہ حکم بجا لاتے ہیں اور شیطان جو اپنی چھاتی پر ہاتھ مار کر کہتا ہے کہ میں آدم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا کیا یہ اس کی چالوں میں آتے ہیں یا نہیں ؟
Read the full tafseer →22 ۔ ان سب واقعات پر مفصل حاشیہ سورة بقرہ رکوع 4 (پارۂ اول) میں گزر چکے۔ (آیت) ” فکلا من حیث شئتما “۔ کھانے پینے کی یہ عام اجازت مل رہی ہے جہاں سے اور جو کچھ ان کا جی چاہے :۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
قال انظرنی الی یوم یبعثون، ای امھلنی الی یوم البعث، یوم بعث تک مہلت طلب کرنے کا مطلب تھا کہ مجھے موت نہ آئے اس لئے کہ یوم بعث کے بعد موت نہیں ہوگی اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی یہ درخواست یہ کہتے ہوئے منظور فرمالی ” اِنَّکَ من المنظرین “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی یہ دعاء بعینہٖ قبول فرمالی، مگر دوسری آیت ” الی یوم الوقت المعلوم “ سے معلوم ہوتا ہے کہ نفخہ اولی تک مہلت قبول فرمائی اس سے معلوم ہوا کہ جسطرح پوری کائنات پر موت طاری ہوگی ابلیس پر بھی موت طاری ہوگی
Read the full tafseer →ویا ادم اسکن انت وزوجک الجنۃ فکلا من حیث شئتما ولا نقربا ہذہ الشجرۃ فتکونا من الظلمین : اور (اے) آدم تم اور تمہاری بی بی جنت میں رہو پھر جس جگہ سے چاہو کھاؤ مگر دونوں اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ ان لوگوں کی شمار میں آجاؤ گے جو بےجا کام کرتے ہیں اس آیت کی تفسیر سورة بقرہ میں گزر چکی ہے وہاں مطالعہ کرنا چاہئے۔
Read the full tafseer →(19) اور فرمایا آدم ؑ وحوا علیھا السلام جنت میں رہو، باقی اس درخت علم سے کچھ نہ کھانا، کبھی تم دونوں نامناسب کام کرنے والوں میں سے نہ ہوجانا۔
Read the full tafseer →وَيٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ۔۔ : اس کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة بقرہ (35)۔
Read the full tafseer →آیت نمبر۔ 19
ابلیس کو آسمان سے نکالنے کے بعد حضرت آدم (علیہ السلام) کو فرمایا : تم اور حواء دونوں جنت میں رہو۔ اور سورة البقرہ میں اسکان ( سکونت اختیار کرنے کے لیے کہنا) کا معنی گزر چکا ہے اور اب اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ اور آیت : ولا تقربا ھذہ الشجرۃ کا معنی وہاں گزر چکا ہے۔ والحمد للہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
(1) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قال اخرج منھا مذء وما مدحورا “ یعنی ملامت کیا ہوا اور (مدحورا) یعنی قابل نفرت۔
(2) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” مذء وما “ یعنی مذمت کیا ہوا اور مدحورا یعنی جلاوطن کیا ہوا۔
(3) امام عبد بن حمید، ابن منذر ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” مذء وما “ یعنی ذلیل اور رسوا اور ” مذء وما مدحورا “ یعنی دھتکارا ہوا۔
(4) امام ابن منذر، عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” مذء وما “ یعنی عیب لگایا ہوا اور ” مدحورا “ یعنی دھتکارا ہوا۔
Read the full tafseer →وَيٰٓاٰدَمُ [ اور اے آدم ] اسْكُنْ [ سکونت اختیار کرو ] اَنْتَ [ تم ] وَزَوْجُكَ [ اور تمہاری بیوی ] الْجَنَّةَ [ اس باغ میں ] فَكُلَا [ پھر تم دونوں کھاؤ] مِنْ حَيْثُ شِـئْتُمَا [ تم دونوں چاہو ] وَلَا تَقْرَبَا [ اور تم دونوں قریب مت جانا ] هٰذِهِ الشَّجَرَةَ [ اس درخت کے ] فَتَكُوْنَا [ ورنہ تم دونوں ہوجاؤ گے ] مِنَ الظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والوں سے ]
وس وس : (رباعی ) وسوسۃ ۔ کسی کے ذہن میں برا خیال ڈالنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 20 ۔ وسواس ۔ اسم ذات ہے ۔ براخیال ۔ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ ڏ الْخَنَّاسِ [ پیچھے ہٹنے والے برے خیال کی برائی سے ] 114:4
ن ص ح : (ف) نصحا ــ: کوئی ایسی بات یا کام…
Read the full tafseer →حضرت آدم اور ان کی بیوی کا جنت میں رہنا اور شیطان کے ورغلانے سے شجرۂ ممنوعہ کو کھانا پھر وہاں سے دنیا میں اتارا جانا
شیطان تو مردود اور ذلیل ہو کر نکالا گیا اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ تم اپنی بیوی کے ساتھ جنت میں رہو اور خوب بلا روک ٹوک اس میں سے کھاؤ بس اتنی پابندی ہے کہ فلاں درخت کے پاس نہ جانا اس میں نہی کو مؤکد فرمایا کہ کھانا تو کیا اس کے پاس بھی نہ جانا اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان دونوں سے پہلے فرمایا تھا کہ (یٰٓاَدَمُ اِنَّ ھٰذَا عَدُوٌّ لَّکَ وَلِزَوْجِکَ فَلاَ یُخْرِجَنَّکُمَا مِنَ الْجَنَّۃِ فَتَشْقیٰ ) شیطان اس فکر میں تھا کہ خود تو جنت سے نکلا ہی ہے ان کو بھی وہاں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
تتمہ : اور ہم نے آدم کو کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی حوا فی الحال جنت میں سکونت اور قیام یعنی سر دست جنت ہی میں رہو پھر اس میں سے جہاں سے چاہو کھاؤ پیو لیکن اس خاص درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤ گے، ظلم کے اصل معنی لغت میں نقصان اور کمی کے آتے ہیں کما قال تعالیٰ ولم تظلم منہ شیئا اس لیے ہم نے ظالم کا ترجمہ گنہگار سے نہیں کیا بلکہ نقصان اٹھانے والے کیا اور یہی زیادہ مناسب ہے ابلیس چونکہ آدم کی وجہ سے ملعون اور مطرود ہوچکا تھا اس لیے اس کے دل میں حسد اور اور انتقام کی اگ سلگ رہی تھی حضرت آدم کی یہ نعمت اور کرام دیکھ کر حسد اور انتقام کی آگ اور بھڑک گئی۔ اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
15:“ مِنْھَا ” کی ضمیر سے جنت یا زمرہ ملائکہ یا آسمان مراد ہے۔ “ مَذْءُوْمًا ” ای مذموماً (برا) “ مَدْحُوْراً ” ای مطروداً (راندہ درگاہ خدا) “ لِمَنْ تَبِعَکَ ” لاخ جواب قسم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
ربط آیات
ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے نزول اور اس کے اتباع کا حکم دیا جزائے عمل کے ضمن میں قرآن کریم کی مخالفت کرنے والوں کو برے انجام سے آگاہ کیا پھر انسان کی تمکین فی الارض اور اس کے لیے سامان معیشت کا ذکر کیا اس کے بعد انسان کی تخلیق اور اس کے اشرف ہونے کا بیان ہوا اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو مسجود ملائکہ بنایا اور دنیا میں اپنا نائب مقرر فرمایا پھر ابلیس کے تذکرے میں فرمایا کہ اس نے اللہ کے حکم سے سرتابی کی اور آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا پھر اس انکار کی توجیہہ یہ بیان کی کہ میں آگ سے پیدا ہوا ہوں اور آدم (علیہ السلام) مٹی سے آگ چونکہ مٹی کی نسبت ارفع ہے…
Read the full tafseer →فَوَسْوَسَ لَہُمَا الشَّيْطٰنُ لِيُبْدِيَ لَہُمَا مَا وٗرِيَ عَنْہُمَا مِنْ سَوْاٰتِہِمَا وَقَالَ مَا نَہٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَيْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِيْنَ 20
وسوس
الوَسْوَسَةُ : الخطرةُ الرّديئة، وأصله من الوَسْوَاسِ ، وهو صوت الحلي، والهمس الخفيّ. قال اللہ تعالی: فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطانُ [ طه/ 120] ، وقال : مِنْ شَرِّ الْوَسْواسِ [ الناس/ 4] ويقال لهمس الصّائد وَسْوَاسٌ.
( وس وس ) الوسوسۃ
اس برے خیال کو کہتے ہیں جو دل میں پیدا ہوتا ہے اور اصل میں سے ماخوز ہے جس کے معنی زیور کی چھنکار یا ہلکی سی آہٹ کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
ترکیب : مذئوم بالہمزہ مشتق ہے ذامتہ اذا عتبہ سے اور بعض نے صرف و سے بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے اس لئے ہمزہ کی حرکت ذال کو دے کر ہمزہ کو حذف کردیا اور ممکن ہے کہ اس کی اصل مذیماً کہی جاوے کس لئے کہ فعل اس سے ذام یذیم آتا ہے۔ پس ی کو و سے بدل دیا
جیسا کہ مکیل کو مکول اور مشیب کو مشوب کرلیتے ہیں۔ یہ اور اس کا مابعد حال ہے لمن مبتداء قائم مقام قسم لاملئن خبر قائم مقام جواب قسم۔
تفسیر : اس میں آدم اور ان کی اولاد پر بھی احسان ہے کہ تمہارے ساتھ سرکشی اور حسد کرنے والے کو ہم نے یوں ذلت دی اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ تم وہ ذات شریف ہو کہ پھر اپنے اس قدیمی دشمن کا کہنا مانتے اور اپنے محسن حقیقی کی نافرمانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ صلے ق فَسَجَدُوْٓا اِلَّا اِبْلِیْسَ ط لَمْ یَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ ۔ (الاعراف : 11)
” اور ہم نے تمہارا خاکہ بنایا پھر تمہاری صورت گری کی پھر فرشتوں کو فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا “۔
تخلیقِ انسان کا اسلامی نقطہ نگاہ اور اس کی وضاحت
سب سے پہلے آیت کے بعض الفاظ پر غور فرمایئے۔ سب سے پہلے فرمایا خَلَقْنٰکُمْ اور پھر فرمایا صَوَّرْنٰکُمْ ۔ بات اصل میں یہ ہے کہ جب خَلَقَ کا لفظ اکیلا استعمال ہوتا ہے تو یہ اپنے لوازم سمیت استعمال ہوتا ہے یعنی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : شیطان کو دھتکارنے اور راندۂ درگاہ کرنے کے بعد آدم (علیہ السلام) اور اس کی بیوی کو جنت میں قیام کرنے کا حکم ہوا۔
اے آدم ! تو اور تیری بیوی جنت میں قیام کرو اور اس درخت کے سوا تم جو چاہو کھا پی سکتے ہو۔ ہاں اگر تم اس کے قریب چلے گئے تو ظالموں کی صف میں شامل ہوجاؤ گے۔ 1 جنت میں رکھنے کی یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ جنت کی سہولتوں، بہاروں اور نعمتوں کو اچھی طرح دیکھ لیں اور ان سے لطف اندوز ہولیں۔ تاکہ دنیا کی عارضی نعمتوں کو جنت کے مقابلے میں خاطر میں نہ لائیں اور دوبارہ یہاں آنے کی کوشش کریں۔ 2 شاید اس کی یہ بھی حکمت ہو کہ وہ آسمانی نظام کا…
Read the full tafseer →آدم ( علیہ السلام) کی جنت میں رہائش :
آیت 19: وَیٰٓاٰدَمُ (اور اے آدم) اور ہم نے کہا اے آدم، ابلیس کو جنت سے خارج کردینے کے بعد اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ (تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو) تم دونوں اس کو اپنا مسکن بنائو۔ فَکُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَ بَاھٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوْنَا (پھر جس جگہ سے تم چاہو کھائو مگر دونوں اس درخت کے پاس نہ جانا۔ ورنہ ان لوگوں کے شمار میں آجائو گے) پس تم ہوجائوگے مِنَ الظّٰلِمِیْنَ (جن سے نامناسب کام ہوجایا کرتا ہے)
Read the full tafseer →-19 (ویادم اسکن انت و زوجک الجنۃ فکلا من حیث شتما ولا تقربا ھذہ الشجرۃ فتکونامن الظلمین)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(19 ۔ 21) ۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم وحوا پر سوائے ایک درخت کے کل میوے اور پھل جنت کے مباح کردیے تھے کہ جہاں سے چاہو بےروک ٹوک کھاؤ اس کا حسد شیطان کو ہوا چاہا کہ کسی طرح یہ نعمتیں ان سے چھینی جاویں اس لئے قریب کی راہ سے کہا کہ اس درخت کے پھل سے جو تم کو منع کیا گیا ہے اس میں یہ بھی ‘ ہے کہ کہیں تم فرشتے یا ہمیشہ کے لئے جنت میں رہنے والے نہ ہوجاؤ اور قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں اس موقعہ پر حافظ ابن کثیر (رح) نے لکھا ہے کہ مومن خدا کا نام سن کر دشمن کے دھو کے میں آجاتا ہے سورة بقرہ میں عبد اللہ بن عباس ؓ اور عبداللہ بن مسعود ؓ کا یہ قول گذر جنت میں رہتے تھے مگر تنہائی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
آیت 19
یعنی اللہ تعالیٰ نے جناب آدم اور ان کی بیوی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو سکون کے لئے عطا فرمائی تھی، حکم دیا کہ وہ جنت میں جہاں سے جو جی میں آئے کھائیں اور جنت سے متمتع ہوں البتہ اللہ تعالیٰ نے ایک معین درخت کا پھل کھانے سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کس چیز کا درخت تھا ؟ اس درخت کے تعین میں ہمارے لئے کوئی فائدہ نہیں۔ اس درخت کا پھل کھانے کی تحریم پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول دلیل ہے (فتکونا من الظلمین) ” تم دونوں گناہ گاروں میں سے ہوجاؤ گے “ آدم اور ان کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پابندی کی، یہاں تک کہ ان کا دشمن ابلیس اپنے مکر و فریب سے ان کے پاس گھس آیا اور اس نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–25
ابلیس کے وار انسان پر
قول باری ہے ثم لا تینھم من بین ایدیھم ومن خلفھم وعن ایمانھم وعن شمائلھم پھر ان کے آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا) حضرت ابن عباس، ابراہیم، قتادہ، الحکم اور سدی سے منقول ہے کہ من بین ایدیھم ومن خلفھم) سے مراد ہے ” ان کی دنیا اور آخرت کی طرف سے، ان کی نیکیوں اور بدیوں کی جہت ہے “ مجاہد کا قول ہے۔” ان کی نظروں کے سامنے ہو کر اور ان کی نظروں سے چھپ کر “ ایک قول ہے ” ہر اس جہت سے جس میں انہیں اپنے پھندے میں پھانسنا ممکن ہوگا “۔ شیطان نے انسانوں کے خلاف اپنی فتنہ سا مانیوں کے لئے ایک جہت کا ذکر نہیں کیا یعنی ” ومن فوقھم “ (اور ان کے اوپر سے) نہیں کہا۔…
Read the full tafseer →21 اللہ تعالیٰ کے حکم و ارشاد سے سرتابی ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو حضرت آدم اور حوا کو حق تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ فرمائی گئی کہ تم دونوں جنت کی نعمتوں میں سے جہاں سے چاہو کھاؤ پیو۔ پر فلاں خاص درخت کے قریب بھی مت پھٹکنا ورنہ تم ظالموں میں ہوجاؤ گے۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے سرتابی ظلم ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کے حکم کو توڑنا ظلم ہے۔ حق تعالیٰ کے حق میں بھی، اس پوری کائنات کے حق میں بھی اور خود اپنی جان کے حق میں بھی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس کے حکم و ارشاد کی بجاآوری اور پابندی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف شیطان کو جنت سے نکالنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ
تشریح : سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا واقعہ بیان ہوچکا ہے۔ اس کی چند مثالیں ان آیات میں بیان کی گئی ہیں۔ انسان کی آزمائش، ضمیر، روح اور جسم سے ہر وقت ہوتی رہتی ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کا پتلا مٹی سے بنایا ور اس میں اپنی روح پھونک دی۔ یعنی جسم ان تمام ذرات کا مجموعہ ہے جو مٹی میں پائے جاتے ہیں۔ جدید سائنس کی تحقیق کے مطابق انسان 126 عناصر کا مرکب ہے اور یہ سب مٹی میں موجود ہیں۔ انسان مٹی سے بنا مٹی کے اوپر پرورش پاتا ہے اور پھر مٹی میں ہی چلا جاتا ہے۔ مگر اس میں نفس اور روح کی جنگ جاری رہتی ہے۔ موت کے وقت انسان کا نفس اپنی روح کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–25
رکوع نمبر 2 ۔ آیات نمبر 11 تا 25:
اسرار و معارف :
انسانی زندگی محض ایک حادثہ نہیں اور نہ نیک و بد کی آویزش محض کھیل ہے اس کا ایک پس منظر ہے جو تمہاری بھلائی کے لیے بیان کردیا جاتا ہے مقصد سامنے آجائے گا تو کامیابی اور ناکامی کا اندازہ کرنا تمہیں آسان ہوگا اب تو صرف مادی ترقی کو کمال سمجھ رہے ہو پھر جان سکو گے کہ اول ضرورت روحانی ترقی کی ہے مادی کمالات اس کے تابع ہیں اگر روحانی ارتقا سے آدمی محروم ہوجائے تو مادی انکشافات دکھوں میں اضافہ ہی کرتے ہیں ان میں سے بھی بھلائی اور بہتری کا پہلو رخصت ہوجاتا ہے۔ اصل بات یوں ہے۔
انانیت : کہ ہم نے تمہیں یعنی تمہارے جد آدم (علیہ السلام) کو اس طرح پیدا…
Read the full tafseer →ف 3 تشریح کے لے ملاحظہ ہو۔ سورت بقرہ آیت 35)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
(7:18) مذء وما۔ حقارت کیا ہوا۔ ذلیل۔ ذاء مہ (باب تفعیل) ای عابد وحقرہوطررہ۔ عیب لگانا۔ ذلیل کرنا۔ دھتکارنا۔ ذامہ۔ ذیما وذاما (ضرب) عیب لاگان۔ مذمت کرنا۔
مدحورا۔ دحر یدحر دحرا ودحورا (فتح) دھتکارنا۔ دور کرنا۔ ہٹانا۔ مدحورا۔ مردود۔ دھتکارا ہوا۔ رزندہ ہوا۔ قرآن میں آیا ہے ویقذفون من کل جانب دحورا (37:98) اور وہ ہر طرف سے دھتکار کر نکال دئیے جاتے ہیں۔
لاملئن۔ مضارع بلام تاکید و نون ثقیلہ میں ضرور بھر دوں گا۔ ملا سے (باب فتح) جس کے معنی بھرنے اور پر کرنے کے ہیں۔ الملا وہ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہو تو نظروں کو ظاہری حسن اور جمال اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھر دے۔ قرآن میں ہے الم ترالی الملأ من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 25:
اسکن (تو آباد ہوجا۔ تو سکونت اختیار کر) ۔ کلا (تم دونوں کھاؤ) حیث شئتما (جیسے تم چاہو) لاتقربا (تم دونوں قریب نہ جانا) ۔ الشجرۃ (درخت) وسوس (خیال ڈالا، وسوسہ ڈالا) لیبدی (تاکہ وہ کھول دے وری (چھپایا گیا)
سواۃ (شرم گاہیں۔ (بدن کا وہ حصہ جس کو چھپانا چاہیے) ۔ مانھکما (تم دونوں کو منع نہیں کیا تھا ) ۔ ملکین (دو فرشتے ) ۔ قاسم (اس نے قسم کھائی) ۔ دل (مائل کیا۔ جھکایا ) ۔ ذاقا (دونوں نے چکھا ) ۔ بدت (ظاہر ہوگئی ) ۔ طفقا یخصفان (دونوں جوڑنے لگے ) ۔ ورق (پتہ۔ پتے ) ۔ نادی (اس نے پکارا ) ۔ الم انھکما (کیا میں نے تم دونوں کو منع نہیں کیا تھا ) ۔ ظلمنا (ہم نے زیادتی کی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ان آیتوں میں پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم وحوا (علیہ السلام) پر سوائے ایک درخت کے کل میوے اور پھل جنت کے مباح کردیئے تھے کہ جہاں سے چاہو بےروک ٹوک کھاؤ۔ اس کا حسد شیطان کو ہوا چاہا کہ کسی طرح یہ نعمتیں ان سے چھینی جاویں۔ اس لئے فریب کی راہ سے کہا کہ : اس درخت کے پھل سے جو تم کو منع کیا گیا ہے اس میں بھید ہے کہ کہیں تم فرشتے یا ہمیشہ کے لئے جنت میں رہنے والے نہ ہوجاؤ، اور قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ خدا کا نام سن کر دشمن کے دھوکے میں آگئے۔ پہلے حضرت حوا کو بہکا کر گیہوں کے دانے کھلائے، اور پھر حضرت حوا کی رغبت دلانے سے آخر حضرت آدم (علیہ السلام) نے بھی گیہوں کے دانے کھالئے جس کے نتیجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
[6] یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ برائی کی کھلی دعوت کو کم ہی قبول کرتا ہے، اس لئے شیطان کو آدم کے سامنے خیرخواہ کے بھیس میں آنا پڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
(ف 1) مقصد یہ ہے کہ شیطان ہر طریق سے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ دائیں بائیں اور آگے پیچھے ہر جانب سے حملہ آور ہوتا ہے نیک اور شاکر وہ ہے جو اس کے دام تزدیر میں نہیں پھنستا ۔
حل لغات :
ایمان : جمع یمین دائیں جانب ، شمآئلھم : جمع شمال ، بائیں طرف ، مذء وما مدحورا : ذام : انتہائی عیب ، دحر : بمعنی ذلیل کرکے نکال دینا ۔
Read the full tafseer →19 اور اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اے آدم (علیہ السلام) تم اور تمہاری زوجہ اس جنت میں سکونت اختیار کروا ور اس میں رہو سہو پھر جس جگہ سے چاہو تم دونوں کھائو لیکن دیکھو اس مخصوص درخت کے قریب نہ جانا اور نہ تم ظالم اور نامناسب کام کرنے والوں میں شمار کئے جائو گے اور تم نافرمان قرار دیئے جائوگے۔ یعنی گیہوں یا انگور کے درخت میں سے کچھ نہ کھانا ورنہ خطا کاروں میں تمہارا شمار ہوجائے گا اور نامناسب کام کرنے والے قرار دے دیئے جائوگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
ف 6۔ یعنی تجھ سے اور ان سے۔
Read the full tafseer →آدم (علیہ السلام) اور آپ (علیہ السلام) کی زوجہ محترمہ کو جنت ارضی کے کسی خاص مقام میں رہنے کا ذکر :
19: جیسا کہ پیچھے آپ پڑھ آئے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ معلوم کتنے انسان تخلیق اول میں پیدا کئے۔ اس جگہ جمع کا صیغہ بیان کر کے اسے زیادہ کی طرف اشارہ کردیا جو اس بیان کے لئے کافی تھا اس میں آدم (علیہ السلام) کو خلافت ارضی کے لئے چن لیا گیا اور اس طرح اب اس وقت کی پوری انسانیت کا بیان آدم (علیہ السلام) ہی کے نام سے کیا گیا اور یہ بیان بھی فطرت انسانی کے مطابق ہے کہ سربراہ قوم کے تخاطب سے جو کچھ ہوتا ہے وہ پوری قوم کے نام ہوتا ہے اور اس طرح آدم وحوا (علیہما السلام) جو ایک ہی جنس کی دو اصناف ہیں ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
Commentary
The story of Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) and Iblis mentioned in the present verses has appeared in the fourth section of Surah Al-Baqarah.
Detailed comments have been given in the Tafsir of that Surah. If needed, please see Ma‘ariful-Quran, English Translation, Volume I, Pages 170-187.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
13. The narrative sheds light on the following significant points:
(i) Modesty and bashfulness are inherent in human nature. The primary manifestation of this instinct is seen in the sense of shame that one feels when one is required to expose the private parts of one's body in the presence of others. According to the Qur'an, this bashfulness is not artificial, nor an outcome of advancement in human culture and civilization. Nor is it something acquired as some misguided thinkers contend. On the contrary, modesty has been an integral part of human nature from the very beginning.
(ii) The very…
Read the full tafseer →