Al-A'raaf 7:18

Al-A'raaf · from ayah 18

7:18

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا ؕ— لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ ۟قَالَ اخۡرُجۡ مِنۡهَا مَذۡءُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا ‌ؕ لَمَنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ لَاَمۡلَــٴَــنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ

(خدا نے) فرمایا، نکل جا۔ یہاں سے پاجی۔ مردود جو لوگ ان میں سے تیری پیروی کریں گے میں (ان کو اور تجھ کو جہنم میں ڈال کر) تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Allah] said, "Get out of Paradise, reproached and expelled. Whoever follows you among them - I will surely fill Hell with you, all together."

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 2 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:18

فرمایا، " نکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا یقین رکھ کہ اِن میں سے جو تیری پیروی کریں گے، تجھ سمیت ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(خدا نے) فرمایا، نکل جا۔ یہاں سے پاجی۔ مردود جو لوگ ان میں سے تیری پیروی کریں گے میں (ان کو اور تجھ کو جہنم میں ڈال کر) تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہاں سے ذلیل وخوار ہوکر نکل جا جو شخص ان میں سے تیرا کہنا مانے گا میں ضرور تم سب سے جہنم کو بھردوں گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ نے کہا : نکل جا یہاں سے، ذلیل اور مردار ہوکر، ان میں سے جو تیرے پیچھے چلے گا، (وہ بھی تیرا ساتھی ہوگا) اور میں تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرمایا یہاں سے نکل جا رد کیا گیا راندہ ہوا، ضرور جو اُن میں سے تیرے کہے پر چلا میں تم سب سے جہنم بھردوں گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ارشاد باری ہوا: (اے ابلیس!) تو یہاں سے ذلیل و مردود ہو کر نکل جا، ان میں سے جو کوئی تیری پیروی کرے گا تو میں ضرور تم سب سے دوزخ بھر دوں گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

فرمایا اس سے نکل جا، مذمت کیا ہوا، دھتکارا ہوا، بیشک ان میں سے جو تیرے پیچھے چلے گا میں ضرور ہی جہنم کو تم سب سے بھروں گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہاں سے نکل جا۔ تو میری درگاہ سے ٹھکرایا ہوا اور رسوا شدہ مخلوق ہے۔ (یاد رکھ) انسانوں سے جو بھی تیری پیروی کرے گا۔ تیرے سمیت ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

فرمایا تو یہاں سے نکل خوار اور راندہ، ان میں سے جو تیری پیروی کریں گے تو میں تم سب سے جہنم کو بھردوں گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

فرمایا جا نکل جا تو یہاں سے ذلیل اور خوار ہو کر، (اور یاد رکھ کہ) یہ قطعی بات ہے کہ ان میں سے جو بھی کوئی تیرے کہنے پر چلا، تو میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تم سب سے

— مولانا اسحاق مدنی

(اللہ نے) فرمایا یہاں سے تو نکل ذلیل و خوار ہو کر ان میں سے جو کوئی تیری پیروی کرے گا سو میں تم سب سے جہنم کو بھر کر رہوں گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا نکل جاؤ اس میں سے برے حال میں مردود ہو کر۔ ان میں سے جو تیری پیروی کریں گے تو میں (انہیں اور تم کو اکٹھا کر کے) تم سب سے جہنم کو بھر کر رہوں گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ نے فرمایا نکل جا یہاں سے پاجی مردود جو لوگ ان میں سے تیری پیروی کریں گے میں ان کو اور تجھ کو جہنم میں ڈال کر جہنم کو بھر دوں گا

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah said: 'Go away from here - disgraced and expelled. I shall fill the Hell with all those that follow you.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He (Allah) said, :Get out of here, condemned, rejected. Indeed, whosoever will follow you from among them, I will fill Hell with all of you together.

— Muhammad Taqi Usmani

He (Allah) said, :Get out of here, condemned, rejected. Indeed, whosoever will follow you from among them, I will fill Hell with all of you together.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Allah) said (to Iblis): "Get out from this (Paradise), Madh'uman Madhura. Whoever of them (mankind) will follow you, then surely, I will fill Hell with you all."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Go forth from hence, degraded, banished. As for such of them as follow thee, surely I will fill hell with all of you.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Allah] said, "Get out of Paradise, reproached and expelled. Whoever follows you among them - I will surely fill Hell with you, all together."

— Saheeh International

The Lord told Satan, "Get out of this garden, for you are banished and despised. Hell will be filled with all of those who follow you."

— Muhammad Sarwar

He said: Get out of this (state), despised, driven away; whoever of them will follow you, I will certainly fill hell with you all.

— Muhammad Habib Shakir

Allah said: go thou forth from hence, scorned, driven away. Whosoever of them followeth thee, I will of a surety fill Hell with you all.

— Abdul Majid Daryabadi

(Allah) said: "Get out from this, disgraced and expelled. If any of them follow thee,- Hell will I fill with you all.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

اللہ تعالیٰ کے نافرمان جہنم کا دیندھن ہیں اس پر اللہ کی لعنت نازل ہوئی ہے، رحمت سے دور کردیا جاتا ہے۔ فرشتوں کی جماعت سے الگ کردیا جاتا ہے۔ عیب دار کر کے اتار دیا جاتا ہے، لفظ مذوم ماخوذ ہے ذام اور ذیم سے، یہ لفظ بہ نسبت لفظ ذم کے زیادہ مبالغے والا ہے، پس اس کے معنی عیب دار کے ہوئے اور مدحور کے معنی دور کئے ہوئے کے ہیں مقصد دونوں سے ایک ہی ہے۔ پس یہ ذلیل ہو کر اللہ کے غضب میں مبتلا ہو کر نیچے اتار دیا گیا۔ اللہ کی لعنت اس پر نازل ہوئی اور نکال دیا گیا اور فرمایا گیا کہ تو اور تیرے ماننے والے سب کے سب جہنم کا ایندھن ہیں جیسے اور آیت میں ہے (فان جھنم جزأکم) الخ، تمہاری سب کی سزا جہنم ہے تو جس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 18–23

سورة الْاَعْرَاف 13 اس قصّے سے چند اہم حقیقتوں پر روشنی پڑتی ہے (1) انسان کے اندر شرم و حیا کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے اور اس کا اوّلین مظہر وہ شرم ہے جو اپنے جسم کے مخصوص حصّوں کو دوسروں کے سامنے کھو لنے میں آدمی کو فطرةً محسوس ہوتی ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ شرم انسان کے اندر تہذیب کے ارتقاء سے مصنوعی طور پر پیدا نہیں ہوئی ہے اور نہ یہ اکتسابی چیز ہے، جیسا کہ شیطان کے بعض شاگردوں نے قیاس کیا ہے، بلکہ درحقیقت یہ وہ فطری چیز ہے جو اوّل روز سے انسان میں موجود تھی۔ (2) شیطان کی پہلی چال جو اس نے انسان کو فطرت انسانی کی سیدھی راہ سے ہٹانے کے لیے چلی، یہ تھی کہ اس کے اس جذبہ شرم وحیا پر ضرب لگائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–18

معارف و مسائل حضرت آدم ؑ اور شیطان کا یہ واقعہ جو یہاں مذکور ہے اس سے پہلے سورة بقرہ کے چوتھے رکوع میں بیان ہوچکا ہے، اس کے متعلقہ بہت سے تحقیق طلب امور کا بیان وہاں ہوا ہے، یہاں مزید چند امور تحقیق طلب کا جواب لکھا جاتا ہے۔ ابلیس کی دعاء قیامت تک زندگی کی قبول ہوئی یا نہیں، بصورت قبول دو آیتوں کے متعارض الفاظ کی تطبیق ابلیس نے عین اس وقت جب کہ اس پر عتاب و عقاب ہو رہا تھا اللہ تعالیٰ سے ایک دعا مانگی اور وہ بھی عجیب دعا کہ حشر تک کی زندگی کی مہلت عطا فرما دیجئے، اس کے جواب میں جو ارشاد حق تعالیٰ نے فرمایا اس کے الفاظ اس جگہ مذکورہ آیت میں تو صرف یہ ہیں (آیت) انک من المنظرین، ”یعنی تجھ کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا ۭ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ الایہ :۔ خدا کا دو ٹوک فیصلہ :۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو مہلت تو دے دی جو اس نے مانگی لیکن ساتھی ہی اس نے اس کو ذلیل و خوار کر کے جنت سے نکال بھی دیا اس لیے کہ جنت میں متمردین و مستکبرین کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ علاوہ ازیں ان لوگوں کا انجام بھی واضح فرما دیا جو انسانوں اور جنوں میں سے اس کی پیروی کریں گے۔ فرمایا کہ میں ان سب کو تیرے سمیت جہنم میں بھردوں گا۔ الفاظ پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ جس طنطنہ اور زور کے ساتھ شیطان نے انسان کو گمراہ کرنے اور ان کی اکثریت کو جیت لینے کے عزم کا اظہار کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 17–18

17۔ 1 مطلب یہ ہے کہ ہر خیر اور شر کے راستے پر بیٹھوں گا۔ خیر سے روکوں گا اور شر کو ان کی نظروں میں پسندیدہ بنا کر ان کو اختیار کرنے کی ترغیب دوں گا۔ 17۔ 2 شاکرین کے دوسرے معنی موحدین کے کیے گئے ہیں۔ یعنی اکثر لوگوں کو میں شرک میں مبتلا کر دوں گا۔ شیطان نے اپنا یہ گمان فی الواقع سچا کر دکھایا، (وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ اِبْلِيْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ) 34۔ سبأ :20) شیطان نے اپنا گمان سچا کر دکھایا، اور مومنوں کے ایک گروہ کو چھوڑ کر سب لوگ اس کے پیچھے لگ گئے۔ اسی لئے حدیث میں شیطان سے پناہ مانگنے اور قرآن میں اس کے مکر و کید سے بچنے کی بڑی تاکید آئی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–19

5: شیطان نے اپنی بدعملی کی ذمہ داری خود قبول کرنے کے بجائے (معاذاللہ) اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر ڈالنے کی کوشش کی، حالانکہ تقدیر کی وجہ سے کسی کا اختیار سلب نہیں ہوتا، تقدیر کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ فلاں شخص اپنے اختیار سے فلاں کام کرے گا، نیز اس کے کہنے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک ایسا حکم ہی کیوں دیا جو اس کے لئے قابل قبول نہیں تھا اس لئے بالواسطہ اس کی گمراہی (معاذاللہ) اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی وجہ سے ہوئی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت ” قَالَ اخْرُجْ مِنْہَا مَذْؤُوماً مَّدْحُوراً لَّمَن تَبِعَکَ مِنْہُمْ لأَمْلأنَّ جَہَنَّمَ مِنکُمْ أَجْمَعِیْنَ (18) ” فرمایا : ” نکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا ‘ یقین رکھ کہ ان میں سے جو تیری پیروی کریں گے تجھ سمیت ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا ۔ “ انسانوں میں سے بعض لوگ تو اللہ کو جانتے ہوئے شیطان کی پیروی کرتے ہیں اور ان کا یہ عقیدہ بھی ہوتا ہے کہ اللہ ہمارا الہ ہے لیکن اس معرفت اور عقیدے کے ساتھ ساتھ وہ اللہ کی حاکمیت اور اقتدار اعلی اور اللہ کے قوانین کے مطابق فیصلے کرنے سے انکار کرتے ہیں اور یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے احکام پر نظر ثانی کرسکتے ہیں اور اللہ کے احکام کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی اکثر آدمی ناشکرے ہونگے تو ہمارا کیا بگاڑیں گے۔ انجام کار ان ہی تھوڑے وفاداروں کے لئے کامیابی اور فلاح ہوگی اور ناشکروں کی کثرت دوزخ کی نذر ہوجائے گی۔ گویا اس طرح واضح کردیا جائے گا کہ جنود الشیطان کی اس قدر کثرت بھی " خلیفۃ اللہ " کے قلیل التعداد لشکر کو مغلوب و مقہور نہیں کرسکی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 16–19

آیت 16 قَالَ فَبِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَٖ تیری توحید کی شاہراہ پر ڈیرے جما کر ‘ گھات لگا کر ‘ مورچہ بند ہو کر بیٹھوں گا اور تیرے بندوں کو شرک کی پگڈنڈیوں کی طرف موڑتا رہوں گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

15 یہ سب گفتگو شیطان کے سیدنا آدم (علیہ السلام) کو سجدہ نہ کرنے کے موقعہ پر ہوئی۔ ابلیس کی اس گستاخانہ گفتگو کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسے جنت سے نکل جانے کا حکم دے دیا اور فرمایا کہ جنت میں تیرے جیسے متکبر، سرکش اور نافرمان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے جو تیرے بھرے میں آجائیں گے وہ سب جہنم میں تیرے ساتھی ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

21 ۔ (سواے مردود تو یہ ڈراتا دھمکاتا کسے ہے ؟ تیری ان دھمکیوں سے ہوتا کیا ہے ؟ ساری مخلوق میں ایک متنفس بھی اگر ہماری عبادت نہ کرے تو ہمارا کیا ضرر ؟ ) کثرت سے جاہلی اور شرکیہ مذاہب میں خود معبود کو ایک بڑی حد تک بندوں کی عبادت کا محتاج مانا گیا ہے۔ قرآن مجید ضمنا ان عقائد باطل کی بھی اصلاح کرتا جاتا ہے۔ (آیت) ” قال اخرج منھا مذء و ما مدحورا لمن تبعک منھم لاملئن جھنم منکم اجمعین “ مکالمہ کا سارا لب و لہجہ مجوس کی ثنویت کی قطعی تردید میں ہے۔ جنہوں نے شیطان (اہرمن) کو بھی خدائی کا درجہ دے رکھا ہے۔ اور یہی گمراہی ذرا ہلکی صورت میں مسیحیت اور یہودیت میں بھی سرایت کیے ہوئے ہے، قرآن میں شیطان کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–22

قال انظرنی الی یوم یبعثون، ای امھلنی الی یوم البعث، یوم بعث تک مہلت طلب کرنے کا مطلب تھا کہ مجھے موت نہ آئے اس لئے کہ یوم بعث کے بعد موت نہیں ہوگی اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی یہ درخواست یہ کہتے ہوئے منظور فرمالی ” اِنَّکَ من المنظرین “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی یہ دعاء بعینہٖ قبول فرمالی، مگر دوسری آیت ” الی یوم الوقت المعلوم “ سے معلوم ہوتا ہے کہ نفخہ اولی تک مہلت قبول فرمائی اس سے معلوم ہوا کہ جسطرح پوری کائنات پر موت طاری ہوگی ابلیس پر بھی موت طاری ہوگی

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال اخرج منہا مذوما مدحورا اللہ نے فرمایا (جنت یا آسمان سے) نکل جا ذلیل و خوار ہوکر۔ قاموس میں ہے ذَاَمَہٗجیسے مَنَعَہٗاس کو حقیر کردیا برا قرار دے دیا ‘ دھتکار کر نکال دیا رسوا کردیا۔ جوہری نے لکھا ہے ذَاَمَہٗ ذَاْمًا یعنی ہمزہ کے ساتھ اور ذَاَمَہٗ ذَیْمًا یعنی یائ کے ساتھ اور ذَمَّہٗ ذَمًّا یعنی میم کی تشدید کے ساتھ تینوں ہم معنی ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے ذَیْم اور ذَأمسخت ترین مذمت کرنا (یعنی بغوی کے نزدیک ذَمٌّ کے معنی سے ذیم اور ذَأَمکے معنی میں شدت ہے) مدحورکا معنی ہے دور دور دھتکارا ہوا۔ لمن تبعک منہم لاملئن جہنم منکم اجمعین ان میں سے (یعنی آدمیوں میں سے) جو تیرے پیچھے چلیں گے میں تم سب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(18) ارشاد ہوا فرشتوں کے لباس سے ذلیل اور ہر ایک نیکی سے دور ہو کر نکل جا اور جنوں اور انسانوں میں سے جو بھی تیری اتباع کرے گا میں ان سب سے دوزخ کو بھر دوں گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 17–18

ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ۔۔ : اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے شیطان اور دوسری تمام آفات سے تمام اطراف سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے، چناچہ عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ صبح و شام یہ کلمات پڑھا کرتے تھے اور کبھی ان میں ناغہ نہیں کرتے تھے : (اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَسْءَلُکَ الْعَفْوَ وَاْلعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ ، اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَسْءَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِیْ دِیْنِیْ وَ دُنْیَایَ وَأَھْلِیْ وَمَالِیْ ، اَللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِی وَآمِنْ رَّوْعَاتِی، اَللّٰھُمَّ احْفَظْنِیْ مِنْ بَیْنِ یَدَیَّ وَ مِنْ خَلْفِیْ وَعَنْ یَّمِیْنِیْ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قولہ تعالیٰ : آیت : قل اخرج منھا فرمایا : تو جنت سے نکل جا۔ آیت : مذء وما مدحورا، مذء وما بمعنی مذموما ( مذمت کیا ہوا، ذلیل وخورا) ہے اور الذام میم کی تخفیف کے ساتھ ہو تو اس کا معنی عیب ہے۔ ابن زید نے کہے ہے : مذء وما اور مذموما معنی کے اعتبار سے دونوں برابر ہیں۔ کہا جاتا ہے : ذامتہ وذممتہ اور ذمتہ تمام کا معنی ایک ہے۔ اور اعمش نے مذوما پڑھا ہے۔ اور معنی ایک ہے، مگر انہوں نے ہمزہ میں تخفیف کی ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : مذء وم کی نفی کی گئی ہے اور دونوں معنی ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں۔ اور مدحور کا معنی دور کیا ہوا، بھگایا ہوا ہے۔ یہ حضرت مجاہد (رح) وغیرہ سے مروی ہے اور اس کا اصل معنی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 18–19

(1) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قال اخرج منھا مذء وما مدحورا “ یعنی ملامت کیا ہوا اور (مدحورا) یعنی قابل نفرت۔ (2) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” مذء وما “ یعنی مذمت کیا ہوا اور مدحورا یعنی جلاوطن کیا ہوا۔ (3) امام عبد بن حمید، ابن منذر ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” مذء وما “ یعنی ذلیل اور رسوا اور ” مذء وما مدحورا “ یعنی دھتکارا ہوا۔ (4) امام ابن منذر، عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” مذء وما “ یعنی عیب لگایا ہوا اور ” مدحورا “ یعنی دھتکارا ہوا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ (اللہ نے ) کہا ] اخْرُجْ [ تو نکل ] مِنْهَا [ اس سے ] مَذْءُوْمًا [ عیب لگایا ہوا ہوتے ہوئے ] مَّدْحُوْرًا ۭ [ کھدیرا ہوا ہوتے ہوئے ] لَمَنْ [ بیشک جس نے ] تَبِعَكَ [ پیروی کی تیری ] مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ [ تو میں لازما بھر دوں گا ] جَهَنَّمَ [ جہنم کو ] مِنْكُمْ [ تو لوگوں سے ] اَجْمَعِيْنَ [ سب کے سب سے ] (آیت ۔ 18) مذء وما اور مدحورا حال ہیں ۔ اس لیے حالت نصب میں ہیں ۔ لمن پر لام تاکید ہے اور من شرطیہ ہے ۔ منکم میں کم کی ضمیر من تبعک کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–18

(قَالَ اخْرُجْ مِنْھَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو یہاں سے نکل جا ذلیل و خوار ہو کر (یہ حکم دوسری بار ہے اس سے پہلے بھی یہ حکم ہوچکا تھا۔ لیکن وہ سجدہ نہ کرنے اور تکبر کرنے کی بنیاد پر تھا۔ اور یہ دو بارہ اس کی اس بات پر ہے کہ اس نے بنی آدم کو ورغلانے کی قسم کھائی اللہ جل شانہٗ نے یہ بھی فرمایا۔ ابلیس اور اس کا اتباع کرنے والوں کے لیے دوزخ کے داخلہ کا اعلان : (لَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ لَاَمْلَءَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکُمْ اَجْمَعِیْنَ ) (بنی آدم میں جو تیرا اتباع کریں گے تو سب سے میں دوزخ کو بھر دوں گا) ابلیس نے قسم کھا کر اپنی بات بتادی کہ میں ان سب کا ناس ماروں گا۔ راہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–18

قال اللہ تعالیٰ ۔ المص۔ کتاب انزل الیک۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانو بایاتنا یظلمون (ربط) گذشتہ سورت کے آخری رکوع میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم اور اس کی ترغیب تھی اور اس سے انحراف اور اعراض پر نزول عذاب کی وعید تھی اور اسی بناء پر گزشتہ سورت کے آخری رکوع کو ان ربک سریع العقاب وانہ لغفور رحیم پر ختم فرمایا اب اس سورت کے آغاز میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم دیتے ہیں اور گزشتہ امتوں کے منکرین حق اور مکذبین حق کی ہلاکت اور بربادی کا ذکر کرتے ہیں تاکہ منکرین قرآن اس سے عبرت پکڑیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ المص سورة بقرہ کے شروع ہی میں اس قسم کے حروف مقطعات کے متعلق مفسرین کے اقوال بسط اور تفصیل کے ساستھ گزر چکے ہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 18–19

15:“ مِنْھَا ” کی ضمیر سے جنت یا زمرہ ملائکہ یا آسمان مراد ہے۔ “ مَذْءُوْمًا ” ای مذموماً (برا) “ مَدْحُوْراً ” ای مطروداً (راندہ درگاہ خدا) “ لِمَنْ تَبِعَکَ ” لاخ جواب قسم ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 14–18

ربط آیات سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کا ذکر فرمایا اور اس کے اتباع کا حکم دیا پھر نافرمانی کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا محاسبے کے عمل اور اعمال کے وزن سے آگاہ کیا اس کے بعد انسان پر کیے جانے والے دو انعامات کا ذکر کیا ایک زمین تسلط اور دوسرا ذرائع معیشت ، پھر انسان کی تخلیق کا مسئلہ بھی بیان فرمایا انہیں بہترین شکل و صورت عطا کی اور زمین میں اپنا خلیفہ بنایا نیز آدم (علیہ السلام) کو مسجود ملائکہ بنایا تاکہ اس کی اولاد کی برتری تمام مخلوق پر ثابت ہوجائے۔ پھر اسی ضمن میں یہ بھی بیان فرمایا کہ شیطان لعین نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور غرور میں مبتلا ہو کر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّۃَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِـئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِـمِيْنَ۝ 19 آدم آدم أبو البشر، قيل : سمّي بذلک لکون جسده من أديم الأرض، وقیل : لسمرةٍ في لونه . يقال : رجل آدم نحو أسمر، وقیل : سمّي بذلک لکونه من عناصر مختلفة وقوی متفرقة، كما قال تعالی: مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشاجٍ نَبْتَلِيهِ [ الإنسان/ 2] . ويقال : جعلت فلاناً أَدَمَة أهلي، أي : خلطته بهم وقیل : سمّي بذلک لما طيّب به من الروح المنفوخ فيه المذکور في قوله تعالی: وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] ، وجعل له العقل والفهم والرّوية التي فضّل بها علی غيره،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 18–21

ترکیب : مذئوم بالہمزہ مشتق ہے ذامتہ اذا عتبہ سے اور بعض نے صرف و سے بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے اس لئے ہمزہ کی حرکت ذال کو دے کر ہمزہ کو حذف کردیا اور ممکن ہے کہ اس کی اصل مذیماً کہی جاوے کس لئے کہ فعل اس سے ذام یذیم آتا ہے۔ پس ی کو و سے بدل دیا جیسا کہ مکیل کو مکول اور مشیب کو مشوب کرلیتے ہیں۔ یہ اور اس کا مابعد حال ہے لمن مبتداء قائم مقام قسم لاملئن خبر قائم مقام جواب قسم۔ تفسیر : اس میں آدم اور ان کی اولاد پر بھی احسان ہے کہ تمہارے ساتھ سرکشی اور حسد کرنے والے کو ہم نے یوں ذلت دی اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ تم وہ ذات شریف ہو کہ پھر اپنے اس قدیمی دشمن کا کہنا مانتے اور اپنے محسن حقیقی کی نافرمانی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 11–22

وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ صلے ق فَسَجَدُوْٓا اِلَّا اِبْلِیْسَ ط لَمْ یَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ ۔ (الاعراف : 11) ” اور ہم نے تمہارا خاکہ بنایا پھر تمہاری صورت گری کی پھر فرشتوں کو فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا “۔ تخلیقِ انسان کا اسلامی نقطہ نگاہ اور اس کی وضاحت سب سے پہلے آیت کے بعض الفاظ پر غور فرمایئے۔ سب سے پہلے فرمایا خَلَقْنٰکُمْ اور پھر فرمایا صَوَّرْنٰکُمْ ۔ بات اصل میں یہ ہے کہ جب خَلَقَ کا لفظ اکیلا استعمال ہوتا ہے تو یہ اپنے لوازم سمیت استعمال ہوتا ہے یعنی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 14–18

(قَالَ اَرَءَ یْتَکَ ھٰذَا الَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیّ لَءِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَاَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہ ‘ ٓ اِلَّا قَلِیْلاً ) [ الاسراء : 62] ” شیطان نے کہا دیکھ لے اسے تو نے مجھ پر بزرگی دی ہے لیکن اگر مجھے قیامت تک تو نے ڈھیل دی تو میں اس کی اولاد پر غلبہ حاصل کرلوں گا تھوڑے لوگ ہی بچیں گے۔ “ ( قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَأُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ ) [ ص : 82] ” کہنے لگا تیری عزت کی قسم ! میں ان سب کو بہکا دوں گا۔ “ ( قَالَ لَمْ اَکُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہ ‘ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ) [ الحجر : 33] ” شیطان نے کہا میں ایسا نہیں کہ انسان کو سجدہ کروں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 18: قَالَ فَاخْرُجْ مِنْھَا (اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو یہاں سے نکل جا) جنت سے یا آسمان سے مَذْئُ وْ مًا (عیب دار قرار دیا ہوا) عیب دار اور برا قرار دیا ہوا۔ یہ ذام سے ہے جو مذمت کے معنی میں ہے حقیر قرار دینا۔ مَّدْحُوْرًا (دھتکارا ہوا) اللہ تعالیٰ کی رحمت سیلَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ (جو شخص ان میں سے تیرا کہنا مانے گا) اس میں لام تمہید قسم کے لیے لائی گئی اور اس کا جواب لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ (میں ضرور تم سے جہنم کو بھر دوں گا) یہ جواب قسم ہے اور جواب شرط کے قائم مقام ہے مِنْکُمْ یعنی منک ومنھم تجھ سے اور ان سے ضمیر مخاطب کو تغلیبًا ذکر کردیا۔ اَجْمَعِیْنَ (یہ تاکید ہے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (18) قال اخرج منھا مذء وما مدحوراً ) یعنی عیب دار ہو کر ذام شدید عیب کو کہتے ہیں کہا جاتا ہے ” ذاء یذامہ ذاما فھو مذئوم و ذامہ یذیمہ ذاما فھو مذیم سار یسیر سیراً “ کی طرح۔ اور مدحور دور کیا ہوا دھتکارا ہوا۔ کہا جاتا ہے ”’ حرہ یدحرہ دحراً “ جب اس کو دور کر دے اور دھتکار دے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” مذء وما “ یعنی مبغوض۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ” مذء و ما مدحور “ یعنی لعنتی بدبخت اور کلبی (رح) فرماتے ہیں جنت اور ہر خیر سے دور۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” مذء وما “ ناامید (لمن تبعک منھم) بنی آدم میں سے (لا ملئن جھنم) ۔ لام قسم کا لام ہے (منکم اجمعین) تمہاری اور تیری اولاد اور کفار کی اولاد جو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

اس آیت میں پھر اللہ پاک نے شیطان سے تاکید کر کے فرمایا کہ نکل بہشت سے مردود قسم ہے مجھ کو بھی کہ جو کوئی تیری تابعداری کریگا میں جہنم کو سب سے بھر دونگا اس جواب خداوندی میں جس قدر خوف ہے ‘ اس کا اندازہ کچھ نہیں ہوسکتا کیوں کہ ابلیس کے ساتھ اس کے تابعداروں کو بھی جو کہ اس وقت حاضر نہ تھے دوزخ کے اندر ڈالنے کے حکم میں شامل کرلیا خدا اس سے اپنی پناہ میں رکھے مسند امام احمد اور مسندرک حاکم کے حوالہ سے ابوسعید خدری ؓ کی صحیح حدیث اوپر گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب جنت سے نکالے جانے کے وقت شیطان کے ساتھ جہنم میں وہی گنہگار جاویں گے جو ہمیشہ گناہ کرتے ہیں اور خالص دل سے توبہ نہیں کرتے :۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 18 یعنی ابلیس نے جو کچھ کہا اس کے جواب میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (اخرج منھا) ” نکل یہاں سے “ یعنی ذلت و خواری کے ساتھ نکلنا۔ اس سے عزت و اکرام کے ساتھ نکلنا مراد نہیں (مذء وماً ) بلکہ مذمت کے ساتھ نکلنا مراد ہے (مدحوراً ) ” مردود ہو کر “ یعنی اللہ تعالیٰ ، اس کی رحمت اور ہر بھلائی سے دور (لاملئن جھنم منکم) ” میں تم سے جہنم کو بھر دوں گا۔ “ یعنی میں جہنم کو تجھ سے اور تیرے پیروکاروں سے بھر دوں گا (اجمعین) ” تم سب سے “ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قسم ہے کہ جہنم نافرمانوں کا ٹھکانا ہے، وہ لازمی طور پر جہنم کو ابلیس اور اس کے جن اور انسان پیروکاروں سے بھر دے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–25

ابلیس کے وار انسان پر قول باری ہے ثم لا تینھم من بین ایدیھم ومن خلفھم وعن ایمانھم وعن شمائلھم پھر ان کے آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا) حضرت ابن عباس، ابراہیم، قتادہ، الحکم اور سدی سے منقول ہے کہ من بین ایدیھم ومن خلفھم) سے مراد ہے ” ان کی دنیا اور آخرت کی طرف سے، ان کی نیکیوں اور بدیوں کی جہت ہے “ مجاہد کا قول ہے۔” ان کی نظروں کے سامنے ہو کر اور ان کی نظروں سے چھپ کر “ ایک قول ہے ” ہر اس جہت سے جس میں انہیں اپنے پھندے میں پھانسنا ممکن ہوگا “۔ شیطان نے انسانوں کے خلاف اپنی فتنہ سا مانیوں کے لئے ایک جہت کا ذکر نہیں کیا یعنی ” ومن فوقھم “ (اور ان کے اوپر سے) نہیں کہا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–18

20 شیطان کا اکثریت کو گمراہ کرنے کا دعویٰ و چیلنج : سو شیطان نے دعویٰ اور چیلنج کیا کہ تو ان کی اکثریت کو شکر گزار نہیں پائیگا۔ اور اس نے ایسا کر دکھایا کہ اولاد آدم کی اکثریت کفر و شرک کی غلاظتوں میں ملوث ہو کر شیطان کی پیرو بن گئی، جیسا کہ قرآن حکیم میں دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے { وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْہِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّہٗ ، فَاتَّبَعُوْہُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ } (سبا :20) ۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ایمان و یقین کی قوت ہی انسان کو ابلیس کے وار سے بچا سکتی ہے اور شیطان کے اس اعلان و چیلنج کا صاف اور سیدھا مطلب یہی ہے کہ تو ان کی اکثریت کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–18

تخلیق آدم پر ابلیس کا مکالمہ تشریح : ان آیات کا ذکر پہلے بھی گزر چکا ہے اور ان کی عبارت بڑی عام فہم اور آسان ہے، لہٰذا صرف وہ نکات بیان کئے جائیں گے جو خاص خاص ہیں۔ -1 انسان کے رہنے، کھانے اور پینے کا بندوبست جو اللہ رب العزت نے کیا ہے لاجواب ہے۔ مگر انسان ناشکرا ہے۔ -2 انسان کی پیدائش کا معجزہ جو تمام موجودہ تحقیقات کو غلط ثابت کرتا ہے خاص طور سے ڈارون کی تھیوری کہ انسان بندر سے موجودہ شکل میں آیا ہے۔ اللہ کی قدرت کاملہ اور بےمثال طاقت کا مظاہرہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش ہے۔ -3 انسان کا بلند درجہ کہ جس کی وجہ سے وہ زمین میں اللہ کا خلیفہ اور تمام مخلوقات سے افضل مخلوق بنائی گئی۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–25

رکوع نمبر 2 ۔ آیات نمبر 11 تا 25: اسرار و معارف : انسانی زندگی محض ایک حادثہ نہیں اور نہ نیک و بد کی آویزش محض کھیل ہے اس کا ایک پس منظر ہے جو تمہاری بھلائی کے لیے بیان کردیا جاتا ہے مقصد سامنے آجائے گا تو کامیابی اور ناکامی کا اندازہ کرنا تمہیں آسان ہوگا اب تو صرف مادی ترقی کو کمال سمجھ رہے ہو پھر جان سکو گے کہ اول ضرورت روحانی ترقی کی ہے مادی کمالات اس کے تابع ہیں اگر روحانی ارتقا سے آدمی محروم ہوجائے تو مادی انکشافات دکھوں میں اضافہ ہی کرتے ہیں ان میں سے بھی بھلائی اور بہتری کا پہلو رخصت ہوجاتا ہے۔ اصل بات یوں ہے۔ انانیت : کہ ہم نے تمہیں یعنی تمہارے جد آدم (علیہ السلام) کو اس طرح پیدا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 18–19

(7:18) مذء وما۔ حقارت کیا ہوا۔ ذلیل۔ ذاء مہ (باب تفعیل) ای عابد وحقرہوطررہ۔ عیب لگانا۔ ذلیل کرنا۔ دھتکارنا۔ ذامہ۔ ذیما وذاما (ضرب) عیب لاگان۔ مذمت کرنا۔ مدحورا۔ دحر یدحر دحرا ودحورا (فتح) دھتکارنا۔ دور کرنا۔ ہٹانا۔ مدحورا۔ مردود۔ دھتکارا ہوا۔ رزندہ ہوا۔ قرآن میں آیا ہے ویقذفون من کل جانب دحورا (37:98) اور وہ ہر طرف سے دھتکار کر نکال دئیے جاتے ہیں۔ لاملئن۔ مضارع بلام تاکید و نون ثقیلہ میں ضرور بھر دوں گا۔ ملا سے (باب فتح) جس کے معنی بھرنے اور پر کرنے کے ہیں۔ الملا وہ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہو تو نظروں کو ظاہری حسن اور جمال اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھر دے۔ قرآن میں ہے الم ترالی الملأ من…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–18

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 18 : صورنا ( ہم نے صورت شکل بنائی) اسجدوا (تم سجدہ کرو) ابلیس (شیطان) الا تسجد ( یہ کہ تو نے سجدہ نہیں کیا) امرت ( میں نے حکم دیا تھا) ‘ اناخیر ( میں زیادہ بہتر ہوں) خلقتنی ( تو نے مجھے پیدا کیا) نار (آگ) طین (مٹی) اھبط ( اترجا) ان تتکبر ( یہ کہ تو بڑائی کرے۔ تکبر کرے) اخرج ( تو نکل جا) الصغرین ( صاغر) ذلیل۔ رسوائی والے) انظرنی ( تو مجھے مہلت دے دے) یبعثون ( وہ اٹھائے جائیں گے) المنظرین ( مہلت دیئے گئے) ‘ اغویتنی ( تو نے مجھے گمراہ کیا) اقعدن ( میں ضرور بیٹھوں گا) ‘ اتین ( میں ضرور آؤں گا) بین ایدی (سامنے) خلف ( پیچھے) ایمان (داہنی جانب) شمائل ( بائیں جانب) لاتجدو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–19

ان آیتوں میں پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم وحوا (علیہ السلام) پر سوائے ایک درخت کے کل میوے اور پھل جنت کے مباح کردیئے تھے کہ جہاں سے چاہو بےروک ٹوک کھاؤ۔ اس کا حسد شیطان کو ہوا چاہا کہ کسی طرح یہ نعمتیں ان سے چھینی جاویں۔ اس لئے فریب کی راہ سے کہا کہ : اس درخت کے پھل سے جو تم کو منع کیا گیا ہے اس میں بھید ہے کہ کہیں تم فرشتے یا ہمیشہ کے لئے جنت میں رہنے والے نہ ہوجاؤ، اور قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ خدا کا نام سن کر دشمن کے دھوکے میں آگئے۔ پہلے حضرت حوا کو بہکا کر گیہوں کے دانے کھلائے، اور پھر حضرت حوا کی رغبت دلانے سے آخر حضرت آدم (علیہ السلام) نے بھی گیہوں کے دانے کھالئے جس کے نتیجہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 17–21

[6] یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ برائی کی کھلی دعوت کو کم ہی قبول کرتا ہے، اس لئے شیطان کو آدم کے سامنے خیرخواہ کے بھیس میں آنا پڑا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–19

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ شیطان ہر طریق سے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ دائیں بائیں اور آگے پیچھے ہر جانب سے حملہ آور ہوتا ہے نیک اور شاکر وہ ہے جو اس کے دام تزدیر میں نہیں پھنستا ۔ حل لغات : ایمان : جمع یمین دائیں جانب ، شمآئلھم : جمع شمال ، بائیں طرف ، مذء وما مدحورا : ذام : انتہائی عیب ، دحر : بمعنی ذلیل کرکے نکال دینا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

18 اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو یہاں سے ذلیل و مردود ہوکر نکل بنی آدم میں سے جو تیری پیروی کرے گا اور تیرا کہنا مانے گا تو میں یقیناً تم سب سے دوزخ کو بھردوں گا یعنی تجھ سے اور تیرے نقش قدم پر چلنے والوں سے سب سے جہنم کو پُر کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرمایا اس حالت میں نکل جا اور ہمارا اعلان بھی سن لے کہ جو تیرا ہوگا اس کے لئے جہنم ہے : 18: انسانوں کو اور ان کے قوائے ملکوتی کو مزید انتباہ کردیا کہ تمہارے اندر ہی کی نافرمانی کی قوتیں تمہیں کچلنے کے لئے ہر وقت چوکنا اور چوکس ہیں وہ کہیں باہر سے نہیں آئیں گی تم خبردار ہوجائو تم جس حال میں بھی ہو اور جہاں بھی ہو وہ طاقتیں بھی تمہارے ساتھ ہیں جن کو تم سے الگ نہیں کیا جاسکتا اگر ان کو الگ کردیا جائے تو انسان انسان نہیں رہتا اگر کوئی اللہ کا رسول ہے تو وہ بھی بہرحال انسان ہے اگر نیک اور صالح ہے تو وہ بھی انسان ہے۔ اگر کوئی حکمران ہے تو وہ بھی انسان ہے کوئی عالم ہے تو وہ بھی انسان ہے اور پھر جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–18

Commentary The event relating to Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) and the Shaytan has appeared earlier in Section four of Surah Al-Baqarah (Ma` ariful-Qur'an, English Translation, under verse 34). Some aspects of the subject have been covered in comments given there. Answers to some others are being given here. How Long was the Respite given to Iblis? It was exactly at the time Iblis was under the wrath of Allah, he made a prayer, a strange prayer indeed. He asked for a lease of life until the day of Resurrection. The words in which Allah Ta` ala answered the prayer, as they appear in this…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–23

13. The narrative sheds light on the following significant points: (i) Modesty and bashfulness are inherent in human nature. The primary manifestation of this instinct is seen in the sense of shame that one feels when one is required to expose the private parts of one's body in the presence of others. According to the Qur'an, this bashfulness is not artificial, nor an outcome of advancement in human culture and civilization. Nor is it something acquired as some misguided thinkers contend. On the contrary, modesty has been an integral part of human nature from the very beginning. (ii) The very…

Read the full tafseer →