Explained with ayahs 16–17
ابلیس کا طریقہ واردات اس کی اپنی زبانی
ابلیس نے جب عہد الٰہی لے لیا تو اب بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے لگا کہ جیسے تو نے میری راہ ماری میں بھی اس کی اولاد کی راہ ماروں گا اور حق و نجات کے سیدھے راستے سے انہیں روکوں گا تیری توحید سے بہکا کر تیری عبادت سے سب کو ہٹا دوں گا۔ بعض نحوی کہتے ہیں کہ فبما میں با قسم کے لئے ہے یعنی مجھے قسم ہے میں اپنی بربادی کے مقابلہ میں اس کی اولاد کو برباد کر کے رہوں گا۔ عون بن عبداللہ کہتے ہیں میں مکہ کے راستے پر بیٹھ جاؤں گا لیکن صحیح یہی ہے کہ نیکی کے ہر راستے پر۔ چناچہ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ شیطان ابن آدم کی تمام راہوں میں بیٹھتا ہے وہ اسلام کی راہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
سورة الْاَعْرَاف 12
یہ وہ چیلنج تھا جو ابلیس نے خدا کو دیا۔ اس کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ یہ مہلت جو آپ نے مجھے قیامت تک کے لیے دی ہے اس سے فائدہ اٹھا کر میں یہ ثابت کرنے کے لیے پورا زور صرف کر دوں گا کہ انسان اس فضیلت کا مستحق نہیں ہے جو آپ نے میرے مقابلہ میں اسے عطا کی ہے۔ میں آپ کو دکھا دوں گا کہ یہ کیسے ناشکرا، کیسا نمک حرام اور کیسا احسان فراموش ہے۔
یہ مہلت جو شیطان نے مانگی اور خدا نے اسے عطا فرمادی، اس سے مراد محض وقت ہی نہیں ہے بلکہ اس کام کا موقع دینا بھی ہے جو وہ کرنا چاہتا تھا۔ یعنی اس کا مطالبہ یہ تھا کہ مجھے انسان کو بہکانے اور اس کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر اس کی نااہلی ثابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
معارف و مسائل
حضرت آدم ؑ اور شیطان کا یہ واقعہ جو یہاں مذکور ہے اس سے پہلے سورة بقرہ کے چوتھے رکوع میں بیان ہوچکا ہے، اس کے متعلقہ بہت سے تحقیق طلب امور کا بیان وہاں ہوا ہے، یہاں مزید چند امور تحقیق طلب کا جواب لکھا جاتا ہے۔
ابلیس کی دعاء قیامت تک زندگی کی قبول ہوئی یا نہیں، بصورت قبول دو آیتوں کے متعارض الفاظ کی تطبیق
ابلیس نے عین اس وقت جب کہ اس پر عتاب و عقاب ہو رہا تھا اللہ تعالیٰ سے ایک دعا مانگی اور وہ بھی عجیب دعا کہ حشر تک کی زندگی کی مہلت عطا فرما دیجئے، اس کے جواب میں جو ارشاد حق تعالیٰ نے فرمایا اس کے الفاظ اس جگہ مذکورہ آیت میں تو صرف یہ ہیں (آیت) انک من المنظرین، ”یعنی تجھ کو…
Read the full tafseer →ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ :
شیطان کے ہمہ جہت حملے کا بیان :۔ یہ بیان ہے شیطان کے حملہ کی قوت، وسعت اور ہمہ گیری کا خود اس کی زبان سے۔ وہ ہر جہت، ہر پہلو سے انسان پر حملہ کرے گا، وہ اس کے مشاہدات، احساسات، جذبات، کو اہشات ہر منفذ سے اس کے اندر گھسنے کی کوشش کرے گا۔ وہ اس کے فکر، فلسفہ، علم ادراک ہر چیز کو مسموم کرے گا۔ وہ اس کی تحقیق، تنقید، تصنیف، تالید، ادب، آرٹ، لٹریچر ہر چیز میں اپنا زہر گھولے گا، وہ اس کے تہذیب، تمدن، معیشت، معاشرت، فیشن، کلچر سیاست اور مذہب ہر چیز کے اندر فساد برپا کرے گا۔ شیطان کا یہی چلینج سورة بنی اسرائیل میں بدیں الفاط نقل ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
17۔ 1 مطلب یہ ہے کہ ہر خیر اور شر کے راستے پر بیٹھوں گا۔ خیر سے روکوں گا اور شر کو ان کی نظروں میں پسندیدہ بنا کر ان کو اختیار کرنے کی ترغیب دوں گا۔
17۔ 2 شاکرین کے دوسرے معنی موحدین کے کیے گئے ہیں۔ یعنی اکثر لوگوں کو میں شرک میں مبتلا کر دوں گا۔ شیطان نے اپنا یہ گمان فی الواقع سچا کر دکھایا، (وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ اِبْلِيْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ) 34۔ سبأ :20) شیطان نے اپنا گمان سچا کر دکھایا، اور مومنوں کے ایک گروہ کو چھوڑ کر سب لوگ اس کے پیچھے لگ گئے۔ اسی لئے حدیث میں شیطان سے پناہ مانگنے اور قرآن میں اس کے مکر و کید سے بچنے کی بڑی تاکید آئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
5: شیطان نے اپنی بدعملی کی ذمہ داری خود قبول کرنے کے بجائے (معاذاللہ) اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر ڈالنے کی کوشش کی، حالانکہ تقدیر کی وجہ سے کسی کا اختیار سلب نہیں ہوتا، تقدیر کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ فلاں شخص اپنے اختیار سے فلاں کام کرے گا، نیز اس کے کہنے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک ایسا حکم ہی کیوں دیا جو اس کے لئے قابل قبول نہیں تھا اس لئے بالواسطہ اس کی گمراہی (معاذاللہ) اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی وجہ سے ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
آیت ” قَالَ أَنظِرْنِیْ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ (14) قَالَ إِنَّکَ مِنَ المُنظَرِیْنَ (15) قَالَ فَبِمَا أَغْوَیْْتَنِیْ لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ (16) ثُمَّ لآتِیَنَّہُم مِّن بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْْمَانِہِمْ وَعَن شَمَآئِلِہِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) “۔ (7 : 14 تا 17)
” بولا : ” مجھے اس دن تک مہلت دے جبکہ یہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے ۔ “ فرمایا : ” تجھے مہلت ہے ۔ “ بولا : ” اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا ‘ آگے اور پیچھے ‘ دائیں اور…
Read the full tafseer →5 یعنی ہر طرف سے ان پر حملہ آور ہونگا۔ جہات اربعہ کا ذکر تعمیم جہات کی طرف اشاہ کرنے کے لئے ہے۔
6 یہ ابلیس لعین کا تخمینہ تھا جو صحیح نکلا۔ (وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ اِبْلِيْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ) 34 ۔ سبأء :22)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
آیت 16 قَالَ فَبِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَٖ
تیری توحید کی شاہراہ پر ڈیرے جما کر ‘ گھات لگا کر ‘ مورچہ بند ہو کر بیٹھوں گا اور تیرے بندوں کو شرک کی پگڈنڈیوں کی طرف موڑتا رہوں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
14 ابلیس کا اللہ تعالیٰ پر الزام :۔ ابلیس نے مزید جرم یہ کیا کہ اپنی اس نافرمانی اور گمراہی کا الزام اللہ تعالیٰ پر لگا دیا اور کہا کہ تو نے مجھے ایسی مخلوق کو سجدہ کرنے کا حکم دیا جو مجھ سے فروتر تھی اس سے میرے نفس کی غیرت اور پندار کو ٹھیس پہنچی اور تو نے مجھے ایسی آزمائش میں ڈال دیا کہ میں تیری نافرمانی پر مجبور ہوگیا اور چونکہ میری گمراہی کا ذریعہ آدم (علیہ السلام) بنا ہے لہذا اب میں جس طرح بھی مجھ سے بن پڑا اسے اور اس کی اولاد کو ہر حیلے بہانے گمراہ کر کے چھوڑوں گا اور تجھے معلوم ہوجائے گا کہ میں آدم اور اس کی اولاد کی اکثریت کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوجاؤں گا تھوڑے ہی بندے ایسے رہ جائیں…
Read the full tafseer →20 ۔ (اس لیے ان اکثر کو میں اپنی راہ پر لگالوں گا) (آیت) ” ثم لاتینھم من بین ایدیھم ومن خلفھم وعن ایمانھم وعن شمآئلھم “۔ یعنی ان پر ہر طرف سے حملہ کروں گا، انہیں ہر سمت سے گھیرلوں گا، کوشش کا کوئی دقیقہ ان کے گمراہ کرنے میں اٹھا نہ رکھوں گا، باقی ان چاروں فقروں کی الگ الگ تفسرین بھی مختلف مفسرین وحکماء اسلام سے منقول ہیں۔ (آیت) ” من بین ایدیھم “۔ سے مراد دنیا لی گئی ہے اور (آیت) ” من خلفھم “ سے دین گویا ابلیس یہ کہہ رہا ہے کہ میں ان پر دنیا کی راہ سے بھی حملہ کروں گا اور دین کے راستے سے بھی، حکماء اسلام نے اول الذکر سے مراد انسان کی قوت خیالی لی ہے۔ اور آخر الذکر سے قوت وہمی۔ (آیت) ” عن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
قال انظرنی الی یوم یبعثون، ای امھلنی الی یوم البعث، یوم بعث تک مہلت طلب کرنے کا مطلب تھا کہ مجھے موت نہ آئے اس لئے کہ یوم بعث کے بعد موت نہیں ہوگی اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی یہ درخواست یہ کہتے ہوئے منظور فرمالی ” اِنَّکَ من المنظرین “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی یہ دعاء بعینہٖ قبول فرمالی، مگر دوسری آیت ” الی یوم الوقت المعلوم “ سے معلوم ہوتا ہے کہ نفخہ اولی تک مہلت قبول فرمائی اس سے معلوم ہوا کہ جسطرح پوری کائنات پر موت طاری ہوگی ابلیس پر بھی موت طاری ہوگی
Read the full tafseer →ثم لاتینہم من بین ایدیہم ومن خلفہم وعن ایمانہم وعن شمائلہم پھر ان پر حملہ کروں گا ان کے سامنے سے بھی اور پیچھے سے بھی اور ان کے دائیں اور بائیں جانب سے بھی۔ دشمن کے آنے اور حملہ کرنے کی جہات چار ہی ہیں بطور تشبیہ ان ہی چہار جہات کا ذکر کیا۔ مطلب یہ ہے کہ جس طریقہ سے گمراہ کرنا اور بہکانا ممکن ہوگا میں بہکاؤں گا۔ اسی لئے جہت فوق و تحت کا ذکر نہیں کیا (کیونکہ دشمن کا حملہ عموماً مذکورہ چار جہات سے ہی ہوتا ہے) بعض علماء نے کہا کہ جہت فوق کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ اوپر سے رحمت آتی ہے اور جہت تحت کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ نیچے سے آنا باعث توحش ہے۔ آگے پیچھے کے ساتھ لفظ منذکر کیا جو ابتداء غایت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
(16۔ 17) شیطان نے کہا جیسا کہ آپ نے میری ہدایت کو گمراہی سے بدل دیا، میں بھی اولاد آدم کو سیدھی راہ پر نہیں چلنے دوں گا۔
اور ان کو قیامت کے متعلق گمراہ کروں گا کہ جنت دوزخ بعث بعد الموت، حساب و کتاب کچھ نہیں اور دنیا کبھی فنا نہیں ہوگی اور مال کے جمع کرنے اور بخل و فساد کرنا سکھاؤں گا اور جو ہدایت پر قائم ہوگا اس پر راہ حق کو مشتبہ کروں گا تاکہ وہ اس سے بےراہ ہوجائے۔
اور جو گمراہی پر ہوگا اس کے لیے گمراہی کو اور سجا کے اور آراستہ کرکے پیش کروں گا تاکہ وہ اس پر قائم رہے اور لذتوں وشہوتوں میں ان کو گرفتار کروں گا اور آپ اکثر کو ایمان کی حالت میں پائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ۔۔ : اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے شیطان اور دوسری تمام آفات سے تمام اطراف سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے، چناچہ عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ صبح و شام یہ کلمات پڑھا کرتے تھے اور کبھی ان میں ناغہ نہیں کرتے تھے : (اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَسْءَلُکَ الْعَفْوَ وَاْلعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ ، اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَسْءَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِیْ دِیْنِیْ وَ دُنْیَایَ وَأَھْلِیْ وَمَالِیْ ، اَللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِی وَآمِنْ رَّوْعَاتِی، اَللّٰھُمَّ احْفَظْنِیْ مِنْ بَیْنِ یَدَیَّ وَ مِنْ خَلْفِیْ وَعَنْ یَّمِیْنِیْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
آیت نمبر : 16۔ 17
اس میں تین مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : آیت : فبما اغویتنی اغواء کا معنی ہے ایقاع الغی فی القلب ( دل میں گمراہی کو واقع کرنا) یعنی اس وجہ سے کہ تو نے میرے دل میں گمراہی، عناد اور تکبر ڈال دیا۔ اور یہ اس لیے ( کہا) کیونکہ ابلیس کا کفر کفر جہالت نہیں، بلکہ وہ کفر عناد وتکبر ہے۔ اور اس کے بارے میں بحث سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کلام کا معنی قسم ہے، یعنی تیرے مجھے گمراہ کرنے کی قسم میں ضرور بضرور ان کے لیے تیرے راستے پر، یا تیرے راستے میں بیٹھوں گا، پس کلام میں حذف ہے فبا غوائک ایای لا قعدن لھم علی صراطک اوفی صراطک اس قول کی دلیل اس کا وہ قول…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ثم لاتیتھم من بینی ایدیہم “ یعنی اس کو شک میں ڈال دوں گا ان کی آخرت کے بارے میں ” ومن خلفہم “ یعنی ان کو رغبت دلاؤں گا ان کی دنیا میں۔ ” وعن ایمانہم “ یعنی میں اس کو شبہ میں ڈال دوں گا ان کے دین کے کام میں ” وعن شمائلہم “ یعنی میں پسندیدہ بنا دو گا ان کے گناہوں کو اور میں آسان کر دوں گا ان پر باطل کو لفظ آیت ” ولا تجد اکثرھم شکرین “ یعنی تو ان میں سے اکثر کو موحد نہیں پائے گا۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ثم لاتیتھم من بین ایدیہم “ یعنی میں اس کو دنیا کی جانب سے ” ومن…
Read the full tafseer →ثُمَّ [ پھر ] لَاٰتِيَنَّهُمْ [ میں لازما آؤں گا ان کے پاس ] مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ [ ان کے سامنے سے ] وَمِنْ خَلْفِهِمْ [ اور ان کے پیچھے سے ] وَعَنْ اَيْمَانِهِمْ [ اور ان کی داہنی جانبوں سے ] وَعَنْ شَمَاۗىِٕلِهِمْ ۭ [ اور ان کی بائیں جانبوں سے ] وَلَا تَجِدُ [ اور تو نہیں پائے گا ] اَكْثَرَهُمْ [ ان کے اکثر کو ] شٰكِرِيْنَ [ شکر ادا کرنے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(قَالَ اخْرُجْ مِنْھَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو یہاں سے نکل جا ذلیل و خوار ہو کر (یہ حکم دوسری بار ہے اس سے پہلے بھی یہ حکم ہوچکا تھا۔ لیکن وہ سجدہ نہ کرنے اور تکبر کرنے کی بنیاد پر تھا۔ اور یہ دو بارہ اس کی اس بات پر ہے کہ اس نے بنی آدم کو ورغلانے کی قسم کھائی اللہ جل شانہٗ نے یہ بھی فرمایا۔
ابلیس اور اس کا اتباع کرنے والوں کے لیے دوزخ کے داخلہ کا اعلان :
(لَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ لَاَمْلَءَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکُمْ اَجْمَعِیْنَ ) (بنی آدم میں جو تیرا اتباع کریں گے تو سب سے میں دوزخ کو بھر دوں گا) ابلیس نے قسم کھا کر اپنی بات بتادی کہ میں ان سب کا ناس ماروں گا۔ راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
قال اللہ تعالیٰ ۔ المص۔ کتاب انزل الیک۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانو بایاتنا یظلمون
(ربط) گذشتہ سورت کے آخری رکوع میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم اور اس کی ترغیب تھی اور اس سے انحراف اور اعراض پر نزول عذاب کی وعید تھی اور اسی بناء پر گزشتہ سورت کے آخری رکوع کو ان ربک سریع العقاب وانہ لغفور رحیم پر ختم فرمایا اب اس سورت کے آغاز میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم دیتے ہیں اور گزشتہ امتوں کے منکرین حق اور مکذبین حق کی ہلاکت اور بربادی کا ذکر کرتے ہیں تاکہ منکرین قرآن اس سے عبرت پکڑیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ المص سورة بقرہ کے شروع ہی میں اس قسم کے حروف مقطعات کے متعلق مفسرین کے اقوال بسط اور تفصیل کے ساستھ گزر چکے ہیں…
Read the full tafseer →13:“ مِنْ بَیْنِ اَيْدِيْھِمْ ” سے آخرت پر ایمان لانے سے روکنا مراد ہے۔ “ وَ مِنْ خَلْفِھِمْ ” دنیا میں مشغول و منہمک کردینا “ وَ عَنْ اَيْمَانِھِمْ ” نیکیوں سے روکنا۔ “ وَ عَنْ شَمَائِلِھِمْ ” سے برائیوں کی ترغیب دینا مراد ہے۔ یا یہ چاروں ہر طریقہ سے گمراہ کرنے سے کنایہ ہے اور یہی معنی سیاق قرآن کے مطابق ہے۔ الظاھر ان اتیانہ من ھذہ الجھات الاربع کنایۃ عن وسوستہ واغوائہ لہ والجد فی اضلالہ من کل وجہ یمکن (بحر ج 4 ص 276) ۔
14 حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہاں شاکر بمعنی موحد ہے۔ قال ابن عباس معناہ ولا تجد اکثرھم موحدین (خازن ج 2 ص 178) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ربط آیات
سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کا ذکر فرمایا اور اس کے اتباع کا حکم دیا پھر نافرمانی کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا محاسبے کے عمل اور اعمال کے وزن سے آگاہ کیا اس کے بعد انسان پر کیے جانے والے دو انعامات کا ذکر کیا ایک زمین تسلط اور دوسرا ذرائع معیشت ، پھر انسان کی تخلیق کا مسئلہ بھی بیان فرمایا انہیں بہترین شکل و صورت عطا کی اور زمین میں اپنا خلیفہ بنایا نیز آدم (علیہ السلام) کو مسجود ملائکہ بنایا تاکہ اس کی اولاد کی برتری تمام مخلوق پر ثابت ہوجائے۔
پھر اسی ضمن میں یہ بھی بیان فرمایا کہ شیطان لعین نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور غرور میں مبتلا ہو کر…
Read the full tafseer →قَالَ اخْرُجْ مِنْہَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا 0 ۭ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْہُمْ لَاَمْلَــــَٔـنَّ جَہَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِيْنَ 18
ذأم
قال تعالی: اخْرُجْ مِنْها مَذْؤُماً [ الأعراف/ 18] أي : مذموما . يقال : ذمته أذيمه ذيما، وذممته أذمّه ذمّا، وذَأَمْتُهُ ذَأْماً.
( ذ ء م ) ذآ مہ یذء مہ ذاما اور ذمہ ( ن ) زما اور ذامہ کے ایک ہی معنی ہیں یعنی کسی کو حقیر اور مذموم گرد اننا ۔ قرآن میں ہے : ۔ اخْرُجْ مِنْها مَذْؤُماً [ الأعراف/ 18] یہاں سے ذلیل و خوار ہو کر نکل جا جو شخص ان میں تیرا کہنا مانے گا میں ضرور تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔
دحر
الدَّحْر : الطّرد والإبعاد، يقال : دَحَرَهُ دُحُوراً ، قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
1 ؎ ابلیس نے جی اٹھنے تک زندہ رہنے کی دعا مانگی اس نے یہ بات سوچی تھی کہ میں موت سے محفوظ رہوں گا مگر خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا بلکہ ایک وقت خاص تک زندہ رہنے کی دعا قبول کی جو کہ خاص اللہ ہی کو معلوم ہے۔ ابلیس کی دعا قبول کرنا گویا اس کی تمام عبادت کا معاوضہ اس کی خواہش کے مطابق دینا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ صلے ق فَسَجَدُوْٓا اِلَّا اِبْلِیْسَ ط لَمْ یَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ ۔ (الاعراف : 11)
” اور ہم نے تمہارا خاکہ بنایا پھر تمہاری صورت گری کی پھر فرشتوں کو فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا “۔
تخلیقِ انسان کا اسلامی نقطہ نگاہ اور اس کی وضاحت
سب سے پہلے آیت کے بعض الفاظ پر غور فرمایئے۔ سب سے پہلے فرمایا خَلَقْنٰکُمْ اور پھر فرمایا صَوَّرْنٰکُمْ ۔ بات اصل میں یہ ہے کہ جب خَلَقَ کا لفظ اکیلا استعمال ہوتا ہے تو یہ اپنے لوازم سمیت استعمال ہوتا ہے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
(قَالَ اَرَءَ یْتَکَ ھٰذَا الَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیّ لَءِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَاَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہ ‘ ٓ اِلَّا قَلِیْلاً )
[ الاسراء : 62]
” شیطان نے کہا دیکھ لے اسے تو نے مجھ پر بزرگی دی ہے لیکن اگر مجھے قیامت تک تو نے ڈھیل دی تو میں اس کی اولاد پر غلبہ حاصل کرلوں گا تھوڑے لوگ ہی بچیں گے۔ “
( قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَأُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ ) [ ص : 82]
” کہنے لگا تیری عزت کی قسم ! میں ان سب کو بہکا دوں گا۔ “
( قَالَ لَمْ اَکُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہ ‘ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ) [ الحجر : 33]
” شیطان نے کہا میں ایسا نہیں کہ انسان کو سجدہ کروں…
Read the full tafseer →آیت 17: ثُمَّ لَاٰ تِیَنَّھُمْ مِّنْ بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ (پھر ان پر حملہ کروں گا ان کے سامنے سے بھی) آخرت کے متعلق ان کو شک میں مبتلا کروں گاوَمِنْ خَلْفِھِمْ (اور ان کے پیچھے سے بھی) میں ان کو دنیا کی رغبت دلائوں گا۔ وَعَنْ اَیْمَانِھِمْ (اور ان کے داہنی جانب سے بھی) نیکیوں کی جانب سے وَعَنْ شَمَآپلِھِمْ (اور ان کے بائیں جانب سے بھی) برائیوں کی طرف سے شمائل جمع شمال ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں ان پر چاروں طرف سے حملہ کروں گا۔ جن سے عموماً دشمن حملہ آور ہوتے ہیں۔ شقیق (رح) کہتے ہیں کہ ہر صبح شیطان چاروں رستوں پر گھات لگا کر بیٹھ جاتا ہے سامنے سے کہتا ہے کہ تو ڈر نہیں اللہ تعالیٰ بخشنے والے ہیں۔ پس…
Read the full tafseer →(17) (ثم لاتینھم من بین ایدیھم ومن خلفھم) علی بن طلحہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” من بن ایدیھم “ سے مراد آخرت ہے کہ ان کو آخرت کے بارے میں شک میں مبتلا کروں گا۔ ” من خلفھم “ سے مراد ان کو دنیا میں رغبت دلائوں گا۔ (وعن ایمانھم) ان کو دین میں شبہ ڈالوں گا (وعن شمآئلھم) ان کو معاصی کی شہوت دلائوں گا۔
من بین ایدیھم ومن خلفھم وعن ایمانھم کی مختلف تفاسیر
عطیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” من بین ایدیھم “ ان کی دنیا کی طرف سے یعنی دنیا کو ان کے بلوں میں مزین کر دوں گا ” ومن خلفھم “ آخرت کی جانب سے۔ میں کہوں گا کہ نہ دوبارہ اٹھنا ہے نہ کوئی جنت اور جہنم ہے۔ ” وعن ایمانھم “ ان کی نیکیوں کی…
Read the full tafseer →مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کے زمانہ میں شیطان نے اللہ تعالیٰ سے یہ ایک ظنی بات کہی تھی کہ ہر طرح سے میں بنی آدم کو بہکاؤں گا جب اس نے اپنا گمان سچا کر دکھایا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت کے زمانہ میں اس کے ظن کی تصدیق آیت (لقد صدق علیہم ابلیس ظنہ (34: 2) سے فرمائی علی بن ابی طلحہ کی صحیح روایت میں امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے شاکرین کی تفسیر موحدین فرمائی ہے جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اگرچہ انسان کو انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور پیدا کرنے کے بعد انسان کو نجات عقبے کے راستہ پر لانے کے لئے آسمانی کتابیں نازل فرمائی ‘ رسول بھیجے مگر شیطان کے…
Read the full tafseer →آیت 17
جب ابلیس اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوگیا تو کہنے لگا : (قال فبما اغویتنی لاقعدن لھم) ” جیسا تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ضرور بیٹھوں گا ان کے لئے “ یعنی مخلوق کے لئے (صراطک المستقیم) ” تیرے سیدھے راستے پر “ اور لوگوں کو اس راستے سے روکنے اور اس پر چلنے سے منع کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ (آیت) ’ د پھر میں ان پر آؤں گا ان کے آگے سے اور پیچھے سے اور دائیں سے اور بائیں سے “ یعنی میں تمام جہات اور تمام اطرفا سے ان پر حملہ آور ہوں گا اور ہر طریقے سے جہاں کہیں سے بھی مجھے ان سے اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوگی۔ جب شیطان خبیث کو معلوم ہوگیا کہ اولاد آدم بہت کمزور ہے، ان میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–25
ابلیس کے وار انسان پر
قول باری ہے ثم لا تینھم من بین ایدیھم ومن خلفھم وعن ایمانھم وعن شمائلھم پھر ان کے آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا) حضرت ابن عباس، ابراہیم، قتادہ، الحکم اور سدی سے منقول ہے کہ من بین ایدیھم ومن خلفھم) سے مراد ہے ” ان کی دنیا اور آخرت کی طرف سے، ان کی نیکیوں اور بدیوں کی جہت ہے “ مجاہد کا قول ہے۔” ان کی نظروں کے سامنے ہو کر اور ان کی نظروں سے چھپ کر “ ایک قول ہے ” ہر اس جہت سے جس میں انہیں اپنے پھندے میں پھانسنا ممکن ہوگا “۔ شیطان نے انسانوں کے خلاف اپنی فتنہ سا مانیوں کے لئے ایک جہت کا ذکر نہیں کیا یعنی ” ومن فوقھم “ (اور ان کے اوپر سے) نہیں کہا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
20 شیطان کا اکثریت کو گمراہ کرنے کا دعویٰ و چیلنج : سو شیطان نے دعویٰ اور چیلنج کیا کہ تو ان کی اکثریت کو شکر گزار نہیں پائیگا۔ اور اس نے ایسا کر دکھایا کہ اولاد آدم کی اکثریت کفر و شرک کی غلاظتوں میں ملوث ہو کر شیطان کی پیرو بن گئی، جیسا کہ قرآن حکیم میں دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے { وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْہِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّہٗ ، فَاتَّبَعُوْہُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ } (سبا :20) ۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ایمان و یقین کی قوت ہی انسان کو ابلیس کے وار سے بچا سکتی ہے اور شیطان کے اس اعلان و چیلنج کا صاف اور سیدھا مطلب یہی ہے کہ تو ان کی اکثریت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
تخلیق آدم پر ابلیس کا مکالمہ
تشریح : ان آیات کا ذکر پہلے بھی گزر چکا ہے اور ان کی عبارت بڑی عام فہم اور آسان ہے، لہٰذا صرف وہ نکات بیان کئے جائیں گے جو خاص خاص ہیں۔
-1 انسان کے رہنے، کھانے اور پینے کا بندوبست جو اللہ رب العزت نے کیا ہے لاجواب ہے۔ مگر انسان ناشکرا ہے۔
-2 انسان کی پیدائش کا معجزہ جو تمام موجودہ تحقیقات کو غلط ثابت کرتا ہے خاص طور سے ڈارون کی تھیوری کہ انسان بندر سے موجودہ شکل میں آیا ہے۔ اللہ کی قدرت کاملہ اور بےمثال طاقت کا مظاہرہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش ہے۔
-3 انسان کا بلند درجہ کہ جس کی وجہ سے وہ زمین میں اللہ کا خلیفہ اور تمام مخلوقات سے افضل مخلوق بنائی گئی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–25
رکوع نمبر 2 ۔ آیات نمبر 11 تا 25:
اسرار و معارف :
انسانی زندگی محض ایک حادثہ نہیں اور نہ نیک و بد کی آویزش محض کھیل ہے اس کا ایک پس منظر ہے جو تمہاری بھلائی کے لیے بیان کردیا جاتا ہے مقصد سامنے آجائے گا تو کامیابی اور ناکامی کا اندازہ کرنا تمہیں آسان ہوگا اب تو صرف مادی ترقی کو کمال سمجھ رہے ہو پھر جان سکو گے کہ اول ضرورت روحانی ترقی کی ہے مادی کمالات اس کے تابع ہیں اگر روحانی ارتقا سے آدمی محروم ہوجائے تو مادی انکشافات دکھوں میں اضافہ ہی کرتے ہیں ان میں سے بھی بھلائی اور بہتری کا پہلو رخصت ہوجاتا ہے۔ اصل بات یوں ہے۔
انانیت : کہ ہم نے تمہیں یعنی تمہارے جد آدم (علیہ السلام) کو اس طرح پیدا…
Read the full tafseer →ف 9 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آگے سے مراد ہے کہ انہیں آخرت کے آنے یا نہ آنے سے متعلق شک میں ڈال دو گا پیچھے سے مراد یہ ہے کہ انہیں دنیا پر فریفتہ کروں گا۔ دارئیں سے مراد یہ ہے کہ دین کا معاملہ ان پر مشتبہ کردو گا اور بائیں سے مراد یہ ہے کہ گنا ہوں کو مرغوب بنا کر ان کے سامنے پیش کرونگا ( ابن کثیر )
1 ابلیس نے یہ بات اپنے گمان کی بنا پر کہی جو واقع سچ ہو کر رہی جیسا کہ دوسری آیت میں ہے کہ ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہ فاتبعوہ الا فریقامن المومنین اور ابلیس نے ان پر اپنا گمان سچ کر دکھا یا چانچہ انہوں نے اس کی پیروی کی سوائے تھوڑے سے ایمانداروں کے۔ ( صبا 30)
Read the full tafseer →(7:17) لاتینھم۔ مضارع بلام تاکید و نون ثقیلہ۔ صیغہ واحد متکلم ۔ میں ضرور آؤں گا ان کے پاس (ان کو بہکانے کے لئے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 18 :
صورنا ( ہم نے صورت شکل بنائی) اسجدوا (تم سجدہ کرو) ابلیس (شیطان) الا تسجد ( یہ کہ تو نے سجدہ نہیں کیا) امرت ( میں نے حکم دیا تھا) ‘ اناخیر ( میں زیادہ بہتر ہوں) خلقتنی ( تو نے مجھے پیدا کیا) نار (آگ) طین (مٹی) اھبط ( اترجا) ان تتکبر ( یہ کہ تو بڑائی کرے۔ تکبر کرے) اخرج ( تو نکل جا) الصغرین ( صاغر) ذلیل۔ رسوائی والے) انظرنی ( تو مجھے مہلت دے دے) یبعثون ( وہ اٹھائے جائیں گے) المنظرین ( مہلت دیئے گئے) ‘ اغویتنی ( تو نے مجھے گمراہ کیا) اقعدن ( میں ضرور بیٹھوں گا) ‘ اتین ( میں ضرور آؤں گا) بین ایدی (سامنے) خلف ( پیچھے) ایمان (داہنی جانب) شمائل ( بائیں جانب) لاتجدو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ شیطان چاروں طرف سے انہیں گھیر کر راہ راست سے روکے گا، نجات کا راستہ ایک ہے، شیطانی راستے بہت سے ہیں۔
اس آیت میں پھر اللہ پاک نے شیطان سے تاکیدا فرمایا کہ نکل بہشت سے مردود۔ قسم ہے مجھ کو بھی کہ جو کوئی تیری تابعداری کرے گا میں بھی جہنم کو سب سے بھر دوں گا۔ اس جواب خداوندی میں جس قدر خوف ہے اس کا اندازہ کچھ نہیں ہوسکتا۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان کے جہنم میں وہی گنہگار جاویں گے جو ہمیشہ گناہ کرتے ہیں اور خالص دل سے توبہ نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
[6] یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ برائی کی کھلی دعوت کو کم ہی قبول کرتا ہے، اس لئے شیطان کو آدم کے سامنے خیرخواہ کے بھیس میں آنا پڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
(ف 1) مقصد یہ ہے کہ شیطان ہر طریق سے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ دائیں بائیں اور آگے پیچھے ہر جانب سے حملہ آور ہوتا ہے نیک اور شاکر وہ ہے جو اس کے دام تزدیر میں نہیں پھنستا ۔
حل لغات :
ایمان : جمع یمین دائیں جانب ، شمآئلھم : جمع شمال ، بائیں طرف ، مذء وما مدحورا : ذام : انتہائی عیب ، دحر : بمعنی ذلیل کرکے نکال دینا ۔
Read the full tafseer →17 پھر ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے پاس بہکانے کے لئے آئوں گا اور ان پر حملہ آور ہوں گا اور تو اولادِ آدم (علیہ السلام) میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا یعنی عبادت کرنے والا اور حق ماننے والا نہ پائے گا اور اکثریت نافرمانوں کی ہوگی۔
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی ان کے بہانے میں خوب کوشش کروں گا جس سے آپ کی عبادت نہ کرنے پائیں۔
Read the full tafseer →ابلیس کا اپنے مقابل کی طاقت پر ” شش پا “ کی طرح قبضہ کرلینے کا اعلان :
17: اپنے مد مقابل قوتوں پر چاروں طرف سے حملہ آور ہونے کا اعلان کیوں اور کیسے ؟ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ابلیس ایک بزدل دشمن نہیں بلکہ ایک نہایت ہی طاقتور دشمن ہے جو اپنے مقابل کی قوتوں کو پوری طرح للکار رہا ہے کہ میں آگے ، پیچھے ، دائیں اور بائیں سے حملہ کروں گا اور اس کا یہ اعلان اور پھر فی الواقعہ ” شش پا “ کی طرح پوری طاقت سے حملہ کرنا کیا ہے ؟ یہ وہی وسوسہ اندازی ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر اور خصوصاً سورة ” الناس “ میں بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ ” وسوس “ کے معنی بار بار وسوسہ ڈالنے والے کے ہیں اور وسوسے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
Commentary
The event relating to Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) and the Shaytan has appeared earlier in Section four of Surah Al-Baqarah (Ma` ariful-Qur'an, English Translation, under verse 34). Some aspects of the subject have been covered in comments given there. Answers to some others are being given here.
How Long was the Respite given to Iblis?
It was exactly at the time Iblis was under the wrath of Allah, he made a prayer, a strange prayer indeed. He asked for a lease of life until the day of Resurrection. The words in which Allah Ta` ala answered the prayer, as they appear in this…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
12. This was the challenge thrown down by Satan to God. What it meant is that Satan would make use of the respite granted to him until the Last Day, and he would do so in order to prove that nian did not deserve a position superior to his and this had after all been bestowed upon him by God. So doing, he would expose how ungrateful, thankless and disloyal a creature man is.
The respite asked for by Satan and granted to him by God includes not only the time but also the opportunity to mislead Man and to prove his point by appealing to man's weaknesses. The Qur'an makes a pointed statement…
Read the full tafseer →