Explained with ayahs 16–17
ابلیس کا طریقہ واردات اس کی اپنی زبانی
ابلیس نے جب عہد الٰہی لے لیا تو اب بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے لگا کہ جیسے تو نے میری راہ ماری میں بھی اس کی اولاد کی راہ ماروں گا اور حق و نجات کے سیدھے راستے سے انہیں روکوں گا تیری توحید سے بہکا کر تیری عبادت سے سب کو ہٹا دوں گا۔ بعض نحوی کہتے ہیں کہ فبما میں با قسم کے لئے ہے یعنی مجھے قسم ہے میں اپنی بربادی کے مقابلہ میں اس کی اولاد کو برباد کر کے رہوں گا۔ عون بن عبداللہ کہتے ہیں میں مکہ کے راستے پر بیٹھ جاؤں گا لیکن صحیح یہی ہے کہ نیکی کے ہر راستے پر۔ چناچہ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ شیطان ابن آدم کی تمام راہوں میں بیٹھتا ہے وہ اسلام کی راہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
سورة الْاَعْرَاف 12
یہ وہ چیلنج تھا جو ابلیس نے خدا کو دیا۔ اس کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ یہ مہلت جو آپ نے مجھے قیامت تک کے لیے دی ہے اس سے فائدہ اٹھا کر میں یہ ثابت کرنے کے لیے پورا زور صرف کر دوں گا کہ انسان اس فضیلت کا مستحق نہیں ہے جو آپ نے میرے مقابلہ میں اسے عطا کی ہے۔ میں آپ کو دکھا دوں گا کہ یہ کیسے ناشکرا، کیسا نمک حرام اور کیسا احسان فراموش ہے۔
یہ مہلت جو شیطان نے مانگی اور خدا نے اسے عطا فرمادی، اس سے مراد محض وقت ہی نہیں ہے بلکہ اس کام کا موقع دینا بھی ہے جو وہ کرنا چاہتا تھا۔ یعنی اس کا مطالبہ یہ تھا کہ مجھے انسان کو بہکانے اور اس کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر اس کی نااہلی ثابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
معارف و مسائل
حضرت آدم ؑ اور شیطان کا یہ واقعہ جو یہاں مذکور ہے اس سے پہلے سورة بقرہ کے چوتھے رکوع میں بیان ہوچکا ہے، اس کے متعلقہ بہت سے تحقیق طلب امور کا بیان وہاں ہوا ہے، یہاں مزید چند امور تحقیق طلب کا جواب لکھا جاتا ہے۔
ابلیس کی دعاء قیامت تک زندگی کی قبول ہوئی یا نہیں، بصورت قبول دو آیتوں کے متعارض الفاظ کی تطبیق
ابلیس نے عین اس وقت جب کہ اس پر عتاب و عقاب ہو رہا تھا اللہ تعالیٰ سے ایک دعا مانگی اور وہ بھی عجیب دعا کہ حشر تک کی زندگی کی مہلت عطا فرما دیجئے، اس کے جواب میں جو ارشاد حق تعالیٰ نے فرمایا اس کے الفاظ اس جگہ مذکورہ آیت میں تو صرف یہ ہیں (آیت) انک من المنظرین، ”یعنی تجھ کو…
Read the full tafseer →قَالَ فَبِمَآ اَغْوَيْتَنِيْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيْمَ۔ ابلیس کا چیلنج اللہ تعالیٰ کو :۔ اپنی درخواست منظور کر الینے کے بعد یہ چیلنج بلیس نے اللہ تعالیٰ کو دیا۔ اس نے اپنا اصل حریف اللہ تعالیٰ ہی کو سمجھا اس وجہ سے چیلنج بھی اللہ تعالیٰ ہی کو دیا۔ گویا اس کارزار میں شیطان کے نقطہ نظر سے، اصل مقابلہ شیطان اور انسان کے درمیان نہیں بلکہ خدا اور شیطان کے درمیان ہے۔ فبما اغویتنی، (بوجہ اس کے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا) کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے سجدہ نہ کرنے کے معاملہ میں اپنے رویہ کو بالکل صحیح سمجھا۔ اس کے نزدیک اس کی گمراہی خود کردہ نہیں بلکہ (نعوذ باللہ) خدا کردہ…
Read the full tafseer →16۔ 1 گمراہ تو اللہ کی تکوینی مشیت کے تحت ہوا۔ لیکن اس نے اسے بھی مشرکوں کی طرح الزام بنا لیا، جس طرح وہ کہتے تھے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
5: شیطان نے اپنی بدعملی کی ذمہ داری خود قبول کرنے کے بجائے (معاذاللہ) اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر ڈالنے کی کوشش کی، حالانکہ تقدیر کی وجہ سے کسی کا اختیار سلب نہیں ہوتا، تقدیر کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ فلاں شخص اپنے اختیار سے فلاں کام کرے گا، نیز اس کے کہنے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک ایسا حکم ہی کیوں دیا جو اس کے لئے قابل قبول نہیں تھا اس لئے بالواسطہ اس کی گمراہی (معاذاللہ) اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی وجہ سے ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
آیت ” قَالَ أَنظِرْنِیْ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ (14) قَالَ إِنَّکَ مِنَ المُنظَرِیْنَ (15) قَالَ فَبِمَا أَغْوَیْْتَنِیْ لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ (16) ثُمَّ لآتِیَنَّہُم مِّن بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْْمَانِہِمْ وَعَن شَمَآئِلِہِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) “۔ (7 : 14 تا 17)
” بولا : ” مجھے اس دن تک مہلت دے جبکہ یہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے ۔ “ فرمایا : ” تجھے مہلت ہے ۔ “ بولا : ” اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا ‘ آگے اور پیچھے ‘ دائیں اور…
Read the full tafseer →4 یعنی رہزنوں کی طرح ان کے ایمانوں پر ڈاکہ مارونگا جن کے سبب مجھے یہ روز بد دیکھنا پڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
آیت 16 قَالَ فَبِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَٖ
تیری توحید کی شاہراہ پر ڈیرے جما کر ‘ گھات لگا کر ‘ مورچہ بند ہو کر بیٹھوں گا اور تیرے بندوں کو شرک کی پگڈنڈیوں کی طرف موڑتا رہوں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
14 ابلیس کا اللہ تعالیٰ پر الزام :۔ ابلیس نے مزید جرم یہ کیا کہ اپنی اس نافرمانی اور گمراہی کا الزام اللہ تعالیٰ پر لگا دیا اور کہا کہ تو نے مجھے ایسی مخلوق کو سجدہ کرنے کا حکم دیا جو مجھ سے فروتر تھی اس سے میرے نفس کی غیرت اور پندار کو ٹھیس پہنچی اور تو نے مجھے ایسی آزمائش میں ڈال دیا کہ میں تیری نافرمانی پر مجبور ہوگیا اور چونکہ میری گمراہی کا ذریعہ آدم (علیہ السلام) بنا ہے لہذا اب میں جس طرح بھی مجھ سے بن پڑا اسے اور اس کی اولاد کو ہر حیلے بہانے گمراہ کر کے چھوڑوں گا اور تجھے معلوم ہوجائے گا کہ میں آدم اور اس کی اولاد کی اکثریت کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوجاؤں گا تھوڑے ہی بندے ایسے رہ جائیں…
Read the full tafseer →19 ۔ (آدم (علیہ السلام) وذریت آدم (علیہ السلام) کی رہزنی کرنے کے لیے اور انہیں راہ حق سے بےراہ کرکے رہوں گا) (آیت) ” بمآاغویتنی “۔ ابلیس کے دوسرے باطل اور مغالطہ پروردعو وں کی طرح یہ بھی ایک تمامتر شیطانی مغالطہ ہی ہے۔ تکوینی حیثیت سے خدا جس طرح ہر شے کا آخری سبب اور بیماری، بدکاری، زہر سب کا خالق ہے غوایت ابلیس کا بھی آخری سبب وہی ہے لیکن ابلیس نے اسے یہاں جس معنی میں استعمال کیا ہے یعنی گویا گمراہی کی ترغیب بھی اللہ ہی نے دی یا شیطان کو اس پر مجبور کیا، اس معنی میں یہ تمامتر حقیقت وصداقت سے معری ہے۔ بما میں ب، سببیہ ہے۔ اے بسبب اغوائک ایای (کبیر۔ مدارک) ای لاجل انک اغویتنی (معالم) (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
قال انظرنی الی یوم یبعثون، ای امھلنی الی یوم البعث، یوم بعث تک مہلت طلب کرنے کا مطلب تھا کہ مجھے موت نہ آئے اس لئے کہ یوم بعث کے بعد موت نہیں ہوگی اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی یہ درخواست یہ کہتے ہوئے منظور فرمالی ” اِنَّکَ من المنظرین “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی یہ دعاء بعینہٖ قبول فرمالی، مگر دوسری آیت ” الی یوم الوقت المعلوم “ سے معلوم ہوتا ہے کہ نفخہ اولی تک مہلت قبول فرمائی اس سے معلوم ہوا کہ جسطرح پوری کائنات پر موت طاری ہوگی ابلیس پر بھی موت طاری ہوگی
Read the full tafseer →قال فبما اغویتنی لا قعدن لہم صراطک المستقیم وہ کہنے لگا اب چونکہ تو نے مجھے گمراہ کر ہی دیا ہے تو میں بھی قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کو گمراہ کرنے کے لئے تیرے سیدھے راستہ پر بیٹھوں گا۔ فَبِمَا میںتعقیبیہ اور با سببیہ ہے فعل قسم مقدر ہے اور مَا مصدری ہے یعنی اب جب کہ تو نے مجھے مہلت دے دی اور ان انسانوں کے سبب سے کجراہ بنا دیا میں تیری قسم کھاتا ہوں کہ جس طریقہ سے مجھ سے ممکن ہوگا میں ان کو بےراہ کرنے کی کوشش کروں گا چونکہ لا قعدن میں لام تاکیدی موجود ہے اس لئے بما کا تعلق اقعدن سے نہیں ہوسکتا بعض علماء کا قول ہے کہ بما اغویتنی میں ب قسمیہ ہے یعنی تیرے اغواء کرنے کی قسم مراد یہ ہے کہ تیری نافذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
(16۔ 17) شیطان نے کہا جیسا کہ آپ نے میری ہدایت کو گمراہی سے بدل دیا، میں بھی اولاد آدم کو سیدھی راہ پر نہیں چلنے دوں گا۔
اور ان کو قیامت کے متعلق گمراہ کروں گا کہ جنت دوزخ بعث بعد الموت، حساب و کتاب کچھ نہیں اور دنیا کبھی فنا نہیں ہوگی اور مال کے جمع کرنے اور بخل و فساد کرنا سکھاؤں گا اور جو ہدایت پر قائم ہوگا اس پر راہ حق کو مشتبہ کروں گا تاکہ وہ اس سے بےراہ ہوجائے۔
اور جو گمراہی پر ہوگا اس کے لیے گمراہی کو اور سجا کے اور آراستہ کرکے پیش کروں گا تاکہ وہ اس پر قائم رہے اور لذتوں وشہوتوں میں ان کو گرفتار کروں گا اور آپ اکثر کو ایمان کی حالت میں پائیں گے۔
Read the full tafseer →قَالَ فَبِمَآ اَغْوَيْتَنِيْ : ابلیس کی شیطنت دیکھیے کہ گمراہ ہونے میں سارا قصور اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دیا ہے اور اپنے اختیار کی نفی کر رہا ہے، یہی جبریہ کا عقیدہ ہے اور مشرکین نے بھی اللہ تعالیٰ کے ذمے یہی الزام لگایا کہ اگر وہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے۔ [ دیکھیے الأنعام : 148 ]
لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ : یعنی میں تو گمراہ ہوں ہی ان کی بھی راہ ماروں گا۔ (موضح) یہاں شیطان جبری کے بجائے قدری بن گیا کہ میں یہ کروں گا اور وہ کروں گا، پہلے کہتا تھا کہ سب تو نے ہی کیا۔ معلوم ہوا شیطان میں جبری اور قدری (تقدیر کا منکر) ہونے کی دونوں گمراہیاں موجود ہیں، جبکہ ایمان ان دونوں کے درمیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
آیت نمبر : 16۔ 17
اس میں تین مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : آیت : فبما اغویتنی اغواء کا معنی ہے ایقاع الغی فی القلب ( دل میں گمراہی کو واقع کرنا) یعنی اس وجہ سے کہ تو نے میرے دل میں گمراہی، عناد اور تکبر ڈال دیا۔ اور یہ اس لیے ( کہا) کیونکہ ابلیس کا کفر کفر جہالت نہیں، بلکہ وہ کفر عناد وتکبر ہے۔ اور اس کے بارے میں بحث سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کلام کا معنی قسم ہے، یعنی تیرے مجھے گمراہ کرنے کی قسم میں ضرور بضرور ان کے لیے تیرے راستے پر، یا تیرے راستے میں بیٹھوں گا، پس کلام میں حذف ہے فبا غوائک ایای لا قعدن لھم علی صراطک اوفی صراطک اس قول کی دلیل اس کا وہ قول…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور الالکالی نے السنۃ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فبما اغویتنی “ یعنی اس وجہ سے کہ آپ نے مجھے گمراہ کردیا ہے۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم کے طریق سے ارطاۃ سے اور انہوں نے اہل طائف میں سے ایک آدمی سے روایت کی ہے کہ لفظ آیت ” فبما اغویتنی “ یعنی ابلیس نے جان لیا گمراہی اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے۔ تو وہ تقدیر پر ایمان لے آیا۔
(3) امام ابن شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لاقعدن لہم صراطک المستقیم “ سے مراد راہ حق ہے۔
(4) امام عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ…
Read the full tafseer →قَالَ [ (ابلیس نے ) کہا ] فَبِمَآ [ پس بسبب اس چیز کے جس سے ] اَغْوَيْتَنِيْ [ تو نے گمراہ کیا مجھے ] لَاَقْعُدَنَّ [ میں لازما بیٹھوں گا ] لَهُمْ [ ان کے لیے ] صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيْمَ [ تیرے سیدھے راستے پر ]
(آیت ۔ 16، 17) لا قعدن کا مفعول صراطک ہے ۔ لا تجد کا مفعول اول اکثرھم ہے اور شکرین اس کا مفعول ثانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ابلیس کا قسم کھانا کہ بنی آدم کو گمراہ کرتا رہوں گا :
جب اللہ تعالیٰ شانہٗ نے لمبی عمر دینے کا وعدہ فرما لیا تو ابلیس نے اپنے کینہ اور دشمنی کا اظہار کیا۔ بنی آدم سے اپنی ملعونیت کا بدلہ لینے کا اعلان کردیا اور اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں عرض کیا کہ میں آپ کی عزت کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان کو ضرور ضرور گمراہ کروں گا۔ (یہ الفاظ سورة ص میں ہیں) اور یہاں سورة اعراف میں اس کا قول ان الفاظ میں نقل فرمایا ہے۔ (فَبِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَھُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ ) کہ اس سبب سے کہ آپ نے مجھے گمراہ کیا میں آپ کے سیدھے راستے پر بیٹھوں گا اور ان کی راہ ماروں گا، اس نے مزید کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
قال اللہ تعالیٰ ۔ المص۔ کتاب انزل الیک۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانو بایاتنا یظلمون
(ربط) گذشتہ سورت کے آخری رکوع میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم اور اس کی ترغیب تھی اور اس سے انحراف اور اعراض پر نزول عذاب کی وعید تھی اور اسی بناء پر گزشتہ سورت کے آخری رکوع کو ان ربک سریع العقاب وانہ لغفور رحیم پر ختم فرمایا اب اس سورت کے آغاز میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم دیتے ہیں اور گزشتہ امتوں کے منکرین حق اور مکذبین حق کی ہلاکت اور بربادی کا ذکر کرتے ہیں تاکہ منکرین قرآن اس سے عبرت پکڑیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ المص سورة بقرہ کے شروع ہی میں اس قسم کے حروف مقطعات کے متعلق مفسرین کے اقوال بسط اور تفصیل کے ساستھ گزر چکے ہیں…
Read the full tafseer →12“ مَا ” مصدریہ اور باء سببیہ ہے۔ اَغْوَیْتَنِیْ ای بما اضللتنی وھو المروی عن ابن عباس ؓ (روح ج 8 ص 94) ۔ یعنی مجھ کو تیرے گمراہ اور بدراہ کردینے کی وجہ سے میں آدم اور اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے تیری سیدھی راہ پر بیٹھوں گا اور مختلف حیلوں سے ان کو صراط مستقیم سے بھٹکانے کی کوشش کروں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ربط آیات
سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کا ذکر فرمایا اور اس کے اتباع کا حکم دیا پھر نافرمانی کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا محاسبے کے عمل اور اعمال کے وزن سے آگاہ کیا اس کے بعد انسان پر کیے جانے والے دو انعامات کا ذکر کیا ایک زمین تسلط اور دوسرا ذرائع معیشت ، پھر انسان کی تخلیق کا مسئلہ بھی بیان فرمایا انہیں بہترین شکل و صورت عطا کی اور زمین میں اپنا خلیفہ بنایا نیز آدم (علیہ السلام) کو مسجود ملائکہ بنایا تاکہ اس کی اولاد کی برتری تمام مخلوق پر ثابت ہوجائے۔
پھر اسی ضمن میں یہ بھی بیان فرمایا کہ شیطان لعین نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور غرور میں مبتلا ہو کر…
Read the full tafseer →ثُمَّ لَاٰتِيَنَّہُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ اَيْمَانِہِمْ وَعَنْ شَمَاۗىِٕلِہِمْ 0 ۭ وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَہُمْ شٰكِرِيْنَ 17
إِيتاء
: الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247]
الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
1 ؎ ابلیس نے جی اٹھنے تک زندہ رہنے کی دعا مانگی اس نے یہ بات سوچی تھی کہ میں موت سے محفوظ رہوں گا مگر خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا بلکہ ایک وقت خاص تک زندہ رہنے کی دعا قبول کی جو کہ خاص اللہ ہی کو معلوم ہے۔ ابلیس کی دعا قبول کرنا گویا اس کی تمام عبادت کا معاوضہ اس کی خواہش کے مطابق دینا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ صلے ق فَسَجَدُوْٓا اِلَّا اِبْلِیْسَ ط لَمْ یَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ ۔ (الاعراف : 11)
” اور ہم نے تمہارا خاکہ بنایا پھر تمہاری صورت گری کی پھر فرشتوں کو فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا “۔
تخلیقِ انسان کا اسلامی نقطہ نگاہ اور اس کی وضاحت
سب سے پہلے آیت کے بعض الفاظ پر غور فرمایئے۔ سب سے پہلے فرمایا خَلَقْنٰکُمْ اور پھر فرمایا صَوَّرْنٰکُمْ ۔ بات اصل میں یہ ہے کہ جب خَلَقَ کا لفظ اکیلا استعمال ہوتا ہے تو یہ اپنے لوازم سمیت استعمال ہوتا ہے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
(قَالَ اَرَءَ یْتَکَ ھٰذَا الَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیّ لَءِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَاَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہ ‘ ٓ اِلَّا قَلِیْلاً )
[ الاسراء : 62]
” شیطان نے کہا دیکھ لے اسے تو نے مجھ پر بزرگی دی ہے لیکن اگر مجھے قیامت تک تو نے ڈھیل دی تو میں اس کی اولاد پر غلبہ حاصل کرلوں گا تھوڑے لوگ ہی بچیں گے۔ “
( قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَأُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ ) [ ص : 82]
” کہنے لگا تیری عزت کی قسم ! میں ان سب کو بہکا دوں گا۔ “
( قَالَ لَمْ اَکُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہ ‘ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ) [ الحجر : 33]
” شیطان نے کہا میں ایسا نہیں کہ انسان کو سجدہ کروں…
Read the full tafseer →مہلت کے بعد بڑا بول :
آیت 16: قَالَ فَبِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ (وہ کہنے لگا اب چونکہ تو نے مجھے گمراہ کر ہی دیا ہے) تو نے مجھے گمراہ کر ہی دیا یعنی تیرے مجھے اغواء کرنے کے سبب سے۔ بِمَا کی باء قسم کے محذوف فعل سے متعلق ہے یا باقسم کے لیے ہے تقدیر عبارت یہ ہے فاقسم باغوائک۔ لَاَ قْعُدَنَّ لَھُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیمَ (تو میں بھی قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کو گمراہ کرنے کیلئے تیرے سیدھے راستہ پر بیٹھوں گا) پس اسلام کے راستہ پر گھات لگا کر واپس لوٹانے کے لیے اور رکاوٹ ڈالنے کیلئے سامنے آئوں گا۔ جیسا کہ دشمن راستہ پر اس لئے بیٹھ جاتے ہیں تاکہ چلنے کے لئے اس کو بند کردیا جائے۔
نحو : صِرَاطَکَ ظرف کی…
Read the full tafseer →(16) (قال فبمآ اغویتنی)” ما “ میں اختلاف ہے بعض نے کہا ہے یہ استفہام ہے یعنی کس چیز کے ساتھ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے ؟ پھر نئی کلام شروع کی اور کہا ” لاقعدن لھم “ اور بعض نے کہا ہے کہ ” ماجزاء ہے یعنی اس وجہ سے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں ان کے لئے بیٹھوں گا اور بعض نے کہا ہے ” ما “ مصدر کی ہے قسم کی جگہ ہے۔ اصل عبارت تیرے مجھے گمراہ کرنے کی وجہ سے میں ان کے لئے بیٹھوں گا۔ جیسے اس کا قول ہے ” بما غفرلی ربی “ یعنی میرے رب کے مجھے معاف کرنے کی وجہ سے اور معنی یہ ہے تیری مجھ پر قدرت اور میری سلطان کو نافذ کرنے کی وجہ سے اور ابن انباری (رح) فرماتے ہیں اس کی وجہ سے جو آپ نے میرے دل میں گمرایہ ڈلای…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
(13 ۔ 16) ۔ جب شیطان نے بموجب حکم خدا کے حضرت آدم کو سجدہ نہ کیا اور اپنے آپ کو بہتر اور بڑا جانا تو خدا تعالیٰ نے اس کو ذلیل و خوار کر کے جنت سے نکال دیا اور فرمایا کہ جنت میں رہ کر تجھ کو تکبر کرنا نہیں پہنچتا کیونکہ جنت فرمانبرداروں کی جگہ ہے نافرمانوں کی جگہ نہیں ہے اس لئے تو اس سے نکل اور زمین پر اتر جا کہ تیرے تکبر کی یہی سزا ہے اس وقت شیطان نے سوچ کر اپنے لئے قیامت تک جیتے رہنے کی مہلت مانگی خدا تعالیٰ نے اس کو پہلے صورت کی مہلت دی تاکہ شیطان کے بہکانے کے بعد فرمانبردار اور نافرمان بندے پہچانے جاویں مہلت مل جانے کے بعد شیطان نے سرکشی سے کہا کہ جس طرح میں گمراہ ہوا اسی طرح میں تیرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
آیت 11
اللہ تبارک و تعالیٰ بنی آدم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے : (ولقد خلقنکم) ” اور ہم نے تمہیں پیدا کیا “ یعنی تمہارے جد امجد آدم کی اصل اور اس کے مادے کی تخلیق کی، جس سے تم سب پیدا کئے گئے (ثم صورنکم) ” پھر تمہاری صورت شکل بنائی۔ “ پھر ہم نے تمہیں بہترین صورت اور بہترین قامت عطا کی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھائے جس سے اس کی باطنی صورت کی تکمیل ہوئی، پھر باعزت فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کے اکرام و احترام اور اس کی فضیلت کے اعتراف کے طور پر اسے سجدہ کریں۔ چناچہ انہوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی (فسجدوآ) ” پس انہوں نے سجدہ کیا۔ “ یعنی تمام فرشتوں نے سجدہ کیا (الا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–16
پیروی قرآن
قول باری ہے اتبعواماانزل الیکم من ربکم۔ لوگوں جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو) اس کا مفہوم یہ ہے کہ بندوں کے تمام تصرفات کا دائرہ اللہ کے حکم کی مراد تک محدود ہو یعنی اس کے حکم کی جو مراد ہو اس کے بندے اس کے مطابق عمل کریں۔ یہ اہتمام یعنی اقتداء کی نظیر ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکم کی مراد کی اتباع اور اس پر عمل میں اس کی اس طرح اقتداء کی جائے کہ وہ اس کے دائرہ تدبیر سے خارج نہ ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیا مباح پر عمل کرنے والا اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے ؟ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ایسا شخص اس وقت اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے جب وہ اللہ…
Read the full tafseer →19 شیطان کے چیلنج کا ذکر وبیان : یعنی شیطان کا یہ چیلنج کہ میں اولاد آدم کیلئے راہ حق پر گھات لگا کر بیٹھوں گا جو کہ حق و ہدایت کی سیدھی راہ ہے اور جو انسان کو دائمی اور حقیقی کامیابی اور فوز و فلاح سے ہمکنار کرنے والی ہے۔ سو اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ اس لئے ابلیس نے کہا کہ میں ان کو اسی سے محروم کرنے کے لئے ان پر ہر طرف سے حملہ کروں گا تاکہ ان کو جنت کی اس راہ سے محروم کر کے دوزخ کی راہ پر ڈال دوں اور اس طرح یہ ثابت کردوں کہ آدم اور اس کی اولاد خلافت ارضی کی اہل نہیں تھی۔ اور یہ کہ میں نے جو اس کو سجدہ نہیں کیا تو ٹھیک کیا۔ بہرکیف شیطان نے حضرت حق ۔ جل مجدہٗ ۔ کے سامنے صاف اور صریح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
تخلیق آدم پر ابلیس کا مکالمہ
تشریح : ان آیات کا ذکر پہلے بھی گزر چکا ہے اور ان کی عبارت بڑی عام فہم اور آسان ہے، لہٰذا صرف وہ نکات بیان کئے جائیں گے جو خاص خاص ہیں۔
-1 انسان کے رہنے، کھانے اور پینے کا بندوبست جو اللہ رب العزت نے کیا ہے لاجواب ہے۔ مگر انسان ناشکرا ہے۔
-2 انسان کی پیدائش کا معجزہ جو تمام موجودہ تحقیقات کو غلط ثابت کرتا ہے خاص طور سے ڈارون کی تھیوری کہ انسان بندر سے موجودہ شکل میں آیا ہے۔ اللہ کی قدرت کاملہ اور بےمثال طاقت کا مظاہرہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش ہے۔
-3 انسان کا بلند درجہ کہ جس کی وجہ سے وہ زمین میں اللہ کا خلیفہ اور تمام مخلوقات سے افضل مخلوق بنائی گئی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–25
رکوع نمبر 2 ۔ آیات نمبر 11 تا 25:
اسرار و معارف :
انسانی زندگی محض ایک حادثہ نہیں اور نہ نیک و بد کی آویزش محض کھیل ہے اس کا ایک پس منظر ہے جو تمہاری بھلائی کے لیے بیان کردیا جاتا ہے مقصد سامنے آجائے گا تو کامیابی اور ناکامی کا اندازہ کرنا تمہیں آسان ہوگا اب تو صرف مادی ترقی کو کمال سمجھ رہے ہو پھر جان سکو گے کہ اول ضرورت روحانی ترقی کی ہے مادی کمالات اس کے تابع ہیں اگر روحانی ارتقا سے آدمی محروم ہوجائے تو مادی انکشافات دکھوں میں اضافہ ہی کرتے ہیں ان میں سے بھی بھلائی اور بہتری کا پہلو رخصت ہوجاتا ہے۔ اصل بات یوں ہے۔
انانیت : کہ ہم نے تمہیں یعنی تمہارے جد آدم (علیہ السلام) کو اس طرح پیدا…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی میں توگمراہوں ہی ان کی بھی راہ ماروں گا۔ (مو ضح)
Read the full tafseer →(7:16) فبما۔ ب اس میں سببیہ ہے۔
اغویتنی۔ اغواء (افعال) سے۔ اغوی یغوی اغواء ۔ غی اور غوی کے معنی ہیں بہک جانا۔ گمراہ ہونا۔ لعنتی ہونا۔ برباد ہونا۔ ناکام و نامراد ہونا۔ خائب و خاسر ہونا ۔ زندگی خراب ہونا۔ باب افعال سے۔ بہکانا ، گمراہ کرنا، برباد کرنا، خائب و حاسر کرنا۔ زندگی خراب کرنا، یا گمراہی کی سزا دینا۔ یعنی سزاء گمراہ کرنا۔ جیسے ان کان اللہ یرید ان یغویکم (11:34) اگر خدا یہ چاہے کہ تمہیں تمہاری گمراہی کی سزا دے۔
اغواء کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی کو ایسا حکم دینا کہ جس کی نافرمانی اس کی گمراہی کا باعث بن جائے اس آیت میں یہ آخری دو معنی مراد ہوسکتے ہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے حکم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 18 :
صورنا ( ہم نے صورت شکل بنائی) اسجدوا (تم سجدہ کرو) ابلیس (شیطان) الا تسجد ( یہ کہ تو نے سجدہ نہیں کیا) امرت ( میں نے حکم دیا تھا) ‘ اناخیر ( میں زیادہ بہتر ہوں) خلقتنی ( تو نے مجھے پیدا کیا) نار (آگ) طین (مٹی) اھبط ( اترجا) ان تتکبر ( یہ کہ تو بڑائی کرے۔ تکبر کرے) اخرج ( تو نکل جا) الصغرین ( صاغر) ذلیل۔ رسوائی والے) انظرنی ( تو مجھے مہلت دے دے) یبعثون ( وہ اٹھائے جائیں گے) المنظرین ( مہلت دیئے گئے) ‘ اغویتنی ( تو نے مجھے گمراہ کیا) اقعدن ( میں ضرور بیٹھوں گا) ‘ اتین ( میں ضرور آؤں گا) بین ایدی (سامنے) خلف ( پیچھے) ایمان (داہنی جانب) شمائل ( بائیں جانب) لاتجدو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ شیطان چاروں طرف سے انہیں گھیر کر راہ راست سے روکے گا، نجات کا راستہ ایک ہے، شیطانی راستے بہت سے ہیں۔
اس آیت میں پھر اللہ پاک نے شیطان سے تاکیدا فرمایا کہ نکل بہشت سے مردود۔ قسم ہے مجھ کو بھی کہ جو کوئی تیری تابعداری کرے گا میں بھی جہنم کو سب سے بھر دوں گا۔ اس جواب خداوندی میں جس قدر خوف ہے اس کا اندازہ کچھ نہیں ہوسکتا۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان کے جہنم میں وہی گنہگار جاویں گے جو ہمیشہ گناہ کرتے ہیں اور خالص دل سے توبہ نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
[5] جس طرح اللہ ہر شے کا آخری سبب اور بیماری، بدکاری اور زہر کا خالق ہے ابلیس کی گمراہی کا بھی آخری سبب وہی ہے۔ ابلیس نے یہاں یہی معنی لئے ہیں اور اپنی گمراہی کا ذمہ دار اللہ کو ٹھہرایا ہے جو حقیقت و صداقت کے صریحاً خلاف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
(ف 2) شیطان کا یہ استدلال اس لئے صحیح نہیں کہ عزت وشرف خدا کی اطاعت وفرمانبرداری میں ہے اصل ومبنی کے لحاظ سے نہیں ،
آدم (علیہ السلام) کہ اس نے عہد الست کا جواب لبیک و بلےٰ سے دیا ، اور شیطان اس لئے راندہ درگاہ رب جلیل ہے کہ اس نے اللہ کی اطاعت سے منہ موڑا ۔
Read the full tafseer →16 ابلیس نے کہا جیسا تو نے مجھ کو راہ سے کھویا ہے اور اس سبب سے کہ تو نے مجھ کو گمراہ کیا ہے میں بھی قسم کھاتا ہوں کہ میں تیری سیدھی راہ پر ان کی تاک میں بیٹھ جائوں گا یعنی وہ سیدھی راہ جو تجھ تک پہنچتی ہے اس راہ پر ان کے گمراہ کرنے کو بیٹھ جائوں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ف 4۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافر کی دعا بھی گاہے قبول ہوجاتی ہے اور یہ مستلزم اکرام و محبت نہیں۔
Read the full tafseer →ابلیس کا کہنا کہ تو نے مجھ پر راہ بند کردی ہے تو میں بھی تیری راہ سے بھٹکاتا رہوں گا :
16: خیر و شر کا خالق ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ اور ایسا ہونا لازم تھا کیونکہ ہرچیز اضداد سے پہچانی جاتی ہے بغیر ضد کے کوئی ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے کہ ” لا ضدلہ وندلہ “ نہ اس کی ضد ہے اور نہ کوئی شریک ہے۔ ذات الٰہ کے سوا کوئی چیز ایسی نہیں جس کی ضد موجود نہ ہو۔ خیر جب ہی خیر ہے کہ اس کے ساتھ شر بھی موجود ہو اگر شر موجود نہ ہوتا تو خیر نام کی شے دنیا میں موجود ہی نہ ہوتی کیونکہ دنیا کا نظام اضداد پر قائم ہے۔ نافرمان قوت ضد ہے فرمانبردار قوت کی پھر یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ کوئی فرمانبردار قوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
Commentary
The event relating to Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) and the Shaytan has appeared earlier in Section four of Surah Al-Baqarah (Ma` ariful-Qur'an, English Translation, under verse 34). Some aspects of the subject have been covered in comments given there. Answers to some others are being given here.
How Long was the Respite given to Iblis?
It was exactly at the time Iblis was under the wrath of Allah, he made a prayer, a strange prayer indeed. He asked for a lease of life until the day of Resurrection. The words in which Allah Ta` ala answered the prayer, as they appear in this…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
12. This was the challenge thrown down by Satan to God. What it meant is that Satan would make use of the respite granted to him until the Last Day, and he would do so in order to prove that nian did not deserve a position superior to his and this had after all been bestowed upon him by God. So doing, he would expose how ungrateful, thankless and disloyal a creature man is.
The respite asked for by Satan and granted to him by God includes not only the time but also the opportunity to mislead Man and to prove his point by appealing to man's weaknesses. The Qur'an makes a pointed statement…
Read the full tafseer →