Explained with ayahs 34–36
موت کی ساعت طے شدہ ہے۔ اور اٹل ہے
ہر زمانے اور ہر زمانے والوں کے لئے اللہ کی طرف سے انتہائی مدت مقرر ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ ناممکن ہے کہ اس سے ایک منٹ کی تاخیر ہو یا ایک لمحے کی جلدی ہو۔ انسانوں کو ڈراتا ہے کہ جب وہ رسولوں سے ڈرانا اور رغبت دلانا سنیں تو بدکاریوں کو ترک کردیں اور اللہ کی اطاعت کی طرف جھک جائیں۔ جب وہ یہ کریں گے تو وہ ہر کھٹکے، ہر ڈر سے، ہر خوف اور ناامیدی سے محفوظ ہوجائیں گے اور اگر اس کے خلاف کیا نہ دل سے مانا نہ عمل کیا تو وہ دوزخ میں جائیں گے اور وہیں پڑے جھلستے رہیں گے۔
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 27
مہلت کی مدت مقرر کیے جانے کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ہر قوم کے لیے برسوں اور مہینوں اور دنوں کے لحاظ سے ایک عمر مقرر کی جاتی ہو اور اس عمر کے تمام ہوتے ہی اس قوم کو لازماً ختم کردیا جاتا ہو۔ بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہر قوم کو دنیا میں کام کرنے کا موقع دیا جاتا ہے اس کی ایک اخلاقی حد مقرر کردی جاتی ہے، بایں معنی کہ اس کے اعمال میں خیر اور شر کا کم سے کم کتنا تناسب برداشت کیا جاسکتا ہے۔ جب تک ایک قوم کی بری صفات اس کی اچھی صفات کے مقابلہ میں تناسب کی اس آخری حد سے فروتر رہتی ہیں اس وقت تک اسے اس کی تمام برائیوں کے باوجود مہلت دی جاتی رہتی ہے، اور جب وہ اس حد سے گزر جاتی ہیں تو…
Read the full tafseer →پہلی اور دوسری دونوں آیتوں میں مشرکین و مجرمین کے دو غلط کاموں کا ذکر تھا، ایک حلال کو حرام ٹھہرانا دوسرے حرام کو حلال قرار دینا، تیسری آیت میں ان کے انجام بد اور آخرت کی سزا و عذاب کا بیان ہے، ارشاد فرمایا (آیت) وَلِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ لَا يَسْـتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ یعنی یہ مجرمین جو ہر طرح کی سرکشی کے باوجود اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں پل رہے ہیں، اور دنیا میں بظاہر ان پر کوئی عذاب آتا نظر نہیں آتا اس عادة اللہ سے غافل نہ رہیں کہ اللہ تعالیٰ مجرموں کو اپنی رحمت سے ڈھیل دیتے رہتے ہیں، کہ کسی طرح یہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں، لیکن اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →وَلِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ لَا يَسْـتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ الایہ، ہم سورة کے تمہیدی مباحث میں عرض کرچکے ہیں کہ اصلاً یہ سورة انذار کی سورة ہے۔ یہ باتیں جو اوپر بیان ہوئیں محض فرد جرم یا اتمامِ حجت کی نوعیت کی ہیں۔ اس وجہ سے کلام بار بار اپنے اصل مضمون کی طرف لوٹتا ہے۔ اوپر آیت 29 میں کما بداکم تعودون میں جس طرح آخت کی یاد دہانی کی اسی طرح یہ آیت قریش کو اللہ تعالیٰ کی اس سنت کو یاد دلا رہی ہے کہ تمہاری ان تمام شرارتوں کے باوجود اگر تمہاری پکڑ نہیں ہو رہی تو یہ نہ سمجھو کہ پکڑ ہوگی ہی نہیں۔ یہ سنت اللہ جس طرح تمام سرکش و باغی قوموں کے باب میں،…
Read the full tafseer →34۔ 1 میعاد معین سے مراد وہ مہلت عمل ہے جو اللہ و تبارک و تعالیٰ ہر گروہ کو آزمانے کے لئے عطا فرماتا ہے کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے یا اس کی بغاوت و سرکشی میں مزید اضافہ ہوتا ہے یہ مہلت بعض دفعہ ان کی پوری زندگیوں تک محدود ہوتی ہے۔ یعنی دینوی زندگی میں وہ گرفت نہیں فرماتا بلکہ صرف آخرت میں ہی سزا دے گا ان کی اجل مسمی قیامت کا دن ہی ہے اور جن کو دنیا میں وہ عذاب سے دوچار کردیتا ہے، ان کی اجل مسمٰی وہ ہے۔ جب ان کا مواخذہ فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
18: یوں تو کسی بھی شخص کی طرف کوئی غلط بات منسوب کرنا ہر اعتبار سے ایک ناجائز اور غیر اخلاقی فعل ہے لیکن اگر یہ جرم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا جائے تو اس کی سنگینی انسان کو کفر تک لے جاتی ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرتے وقت انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے اور جب تک انسان کو یقینی علم حاصل نہ ہو، ایسی نسبت کا اقدام ہرگز نہیں کرنا چاہیے، عرب کے بت پرستوں نے اپنی طرف سے باتیں گھڑ گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر رکھی تھیں جن کی بنیاد کسی علم پر نہیں تھی بلکہ اپنے بےبنیاد اندازوں پر تھی جن کی حقیقت کا خود انہیں بھی علم حاصل نہیں تھا۔
Read the full tafseer →آیت ” نمبر 34۔
اسلامی تصورحیات کا یہ ایک اساسی عقیدہ ہے۔ اور قرآن کریم بار بار غافل اور ناشکرے دلووں کے اندر اس کا جگاتا رہتا ہے تاکہ وہ اپنی اس زندگی اور اس کی محدود مہلت کو دائمی نہ سمجھ لیں اور سرکشی اختیار نہ کریں ۔
یہاں اس مہلت سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آج کی نسل انسانی کے لئے طبیعی زندگی کی ایک حد ہے اور اس سے مراد ملت اور تہذیب کی عمر طبیعی بھی ہو سکتی ہے ۔ جس میں اس کے اقتدار اعلی اور دنیا میں اس کی برتری کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔ مراد کسی نسل کی عمر طبیعی ہو یا کسی ملت کی عمر طبیعی ہو ‘ بہرحال جب مہلت ختم ہو تو اس کے بعد ان کا زندہ رہنا مقتدر اعلی رہنا ممکن نہیں ہوتا ۔ ۔
یہاں بحث کے…
Read the full tafseer →4 بظاہر شبہ ہوتا ہے کہ جب وعدہ کا وقت آپہنچا اور بعض کے نزدیک تو تاخیر کا امکان عقلی تھا اس لئے اس کی نفی ضروری ہوئی مگر تقدیم تو عقلاً ممکن ہی نہیں۔ اس کی نفی سے کیا فائدہ ہے ؟ اسی شبہ کی وجہ سے بعض مفسرین نے لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ کا عطف شرطیہ اِذَا جَاءَ اَجَلُھُمْ الخ پر مانا ہے اور بعض نے جاءَ اَجَلُھُمْ سے قرب و دُنوُّ مراد لیا ہے۔ میرے نزدیک ان تکلفات کی حاجت نہیں۔ محاورات میں کسی ایسی چیز کو جس کے مقابل دو طرفیں ہوں زور اور تاکید سے ثابت کرنے کے لئے بسا اوقات ایک طرف کی جو محتمل الثبوت ہو نفی مقصوداً کی جاتی ہے اور دوسری طرف کی جو پہلے سے غیر محتمل ہے نفی کو محض مبالغہ تاکید اور تحسین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
آیت 34 وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ج۔
یعنی جب بھی کبھی کسی قوم کی طرف کوئی رسول آتا ‘ تو ایک مقررہ مدت تک اس قوم کو مہلت میسرہوتی کہ وہ اس مدت مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے رسول علیہ السلام کی دعوت پر لبیک کہے اور صحیح راستے پر آجائے۔ اس مقررہ مدت کے دوران اس قوم کی نافرمانیوں کو نظر انداز کیا جاتا اور ان پر عذاب نہیں آتا تھا۔ حضور ﷺ کی بعثت کے بعد مکہ میں بھی یہی معاملہ درپیش تھا۔ اہل مکہ کو مشیت خداوندی کے تحت مہلت دی جا رہی تھی۔ دوسری طرف حق و باطل کی تھکا دینے والی کشمکش میں اہل ایمان کی خواہش تھی کہ کفار کا فیصلہ جلد از جلد چکا دیا جائے۔ اہل ایمان کے ذہنوں میں لازماً یہ سوال بار بار آتا…
Read the full tafseer →34 عذاب کے وقت میں تقدیم و تاخیر ناممکن ہے :۔ اس آیت میں تقدیم کا لفظ تاخیر ہی کی تاکید کے لیے لایا گیا ہے اجل جب آگئی تو تقدیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے کوئی گاہک دکاندار سے کسی چیز کی قیمت پوچھنے کے بعد کہتا ہے کوئی کمی بیشی ؟ تو دکاندار کہتا ہے قیمت میں نے پہلے ہی ٹھیک بتلائی ہے کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔ حالانکہ اس گفتگو میں گاہک اور دکاندار دونوں کا کمی بیشی کے لفظ سے مراد صرف کمی ہوتا ہے بیشی نہیں ہوتا اسی طرح یہاں بھی یہی مراد ہے کہ جب کسی شخص کی موت یا کسی قوم کے خاتمہ کا وقت آجاتا ہے تو پھر اس میں قطعاً تاخیر نہیں ہوسکتی۔ قوم کی اجل کا وقت آتا کب ہے ؟ اس…
Read the full tafseer →46 ۔ (بلکہ علم الہی میں جو وقت بہ تقاضائے حکمت اس سزا کے لیے معین ہے۔ مجرد اس کے آتے ہی وہ سزا جاری ہوجائے گی) (آیت) ” لکل امۃ اجل “۔ یعنی ہر قوم کے لیے، عذاب وہلاکت کا ایک وقت علم الہی میں مقرر ہے۔ (آیت) ” ساعۃ “۔ ساعت کا لفظ اس لیے لایا گیا ہے کہ عرف عام میں وقت کے چھوٹے سے چھوٹے حصہ کے اظہار کے لیے مستعمل ہے۔ ساعت اصطلاحی وفل کی مراد نہیں۔ لانھا اقل الاوقات فی استعمال الناس یقول المستعجل لصاحبہ فی ساعۃ یرید اقصر وقت واقربہ (کشاف) ذکر الساعۃ لان ھذا اللفظ اقل اسماء الاوقات (کبیر) قطعۃ من الزمان فی غایۃ القلۃ ولیس المراد بھا الساعۃ فی مصطلح المنجمین (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
وَلِکلّ امۃ اَجَلٌ، ہر قوم کیلئے مہلت کی مدت مقرر ہے، یہ مہلت ہر فرد و قوم کو ملتی ہے اور یہ مہلت آزمائش کے طور پر عطا کی جاتی ہے کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے یا اس کی بغاوت و سرکشی میں مزید اضافہ ہوتا ہے یہ مہلت بعض کو پوری زندگی کیلئے ہوتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ پوری زندگی میں اس کی گرفت نہیں فرماتے، بلکہ آخرت ہی میں مواخذہ فرماتے ہیں اس کی اجل سمیٰ قیامت کا دن ہے اور جس کو وہ دنیا ہی میں عذاب سے دوچار کردیتا ہے ان کو اجل مسمّٰی وہ ہے جب ان کا مؤاخذہ فرماتا ہے۔ قوم کی مدت مہلت مقرر کئے جانے کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ ہر قوم کیلئے برسوں اور مہینوں اور دنوں کے…
Read the full tafseer →ولکل امۃ اجل اور ہر گروہ کے لئے ایک میعاد معین ہے۔ یعنی کافروں کے ہر گروہ پر عذاب نازل ہونے کا اللہ کے علم میں ایک مقررہ وقت اور معین مدت ہے یہ اہل مکہ کو عذاب کی دھمکی ہے۔
فاذا جآء اجلہم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون سو جس وقت ان کی میعاد معین آجائے گی تو ذرا سی دیر نہ پیچھے ہٹ سکیں گے نہ آگے بڑھ سکیں گے۔
یعنی قلیل ترین وقت کی بھی ان کو مہلت نہیں دی جائے گی خواہ وہ مہلت کے طالب ہوں اور نہ وقت سے پہلے ان پر عذاب آئے گا خواہ وہ نزول عذاب کے خواستگار ہوں جیسے کافروں نے کہا اے اللہ اگر یہ تیری جانب سے ہی حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دکھ کا عذاب ہم پر نازل کر دے۔ (1) [ سعید بن…
Read the full tafseer →(34) ہر ایک اہل دین کی ہلاکت وتباہی کا ایک وقت آنے پر نہ آنکھ جھپکنے کے بقدر ان کو چھوڑا جائے گا اور نہ وقت آنے سے پہلے بقدر آنکھ جھپکنے کے ان کو ہلاک کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
وَلِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ ۚ۔۔ : پہلی آیت میں بیان فرمایا کہ ہر ایک کے لیے ایک وقت مقرر ہے جو آگے پیچھے نہیں ہوسکتا، دوسری آیت میں بتایا کہ جو لوگ فرماں بردار ہوں گے مرنے کے بعد ان پر کسی قسم کا خوف اور حزن نہیں ہوگا، مگر جو سرکش ہوں گے وہ سخت عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ اسی قسم کا خطاب سورة بقرہ میں آدم ؑ کے قصے کے آخر میں بھی مذکور ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (36)۔
Read the full tafseer →اس میں ایک مسئلہ ہے :
مسئلہ نمبر 1۔
قولہ تعالیٰ : آیت : ولکل امۃ اجل یعنی ہر امت کے لیے ایک وقت ہے جو مقرر کردیا گیا ہے۔ آیت : فاذا جآء اجلھم یعنی جب ان کا وقت آجائے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں معلوم اور معین ہے۔
ابن سیرین نے صیغہ جمع کے ساتھ جآء اجالھم پڑھا ہے۔ آیت : لا یستاخرون تو نہ وہ اس سے ایک لمحہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ ایک لمحہ سے کم، مگر یہ خاص طور پر ساعت کا ذکر کیا گیا ہے، کیونکہ اوقات کے اسماء میں سے اقل اور کم یہی ہے اور یہ ظرف زمان ہے۔
آیت : ولال یستقدمون ( اور نہ ہو آگے بڑھ سکتے ہیں) تو یہ اس پر دلیل ہے کہ مقتول اپنا مقرر وقت آنے پر ہی قتل کیا جاتا ہے۔ اور اجل الموت سے مراد موت کا…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی حاتم، طرابی، ابو الشیخ، ابن مردویہ، خطیب نے تالی التلخیص میں اور ابن النجار نے تاریخ میں ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے آپس میں ذکر کیا عمر کے زیادہ ہونے کا رسول اللہ ﷺ کے پاس ہم نے کہا جس نے صلہ رحمی کی تو اس کی عمر میں زیادتی کردی جاتی ہے۔ آپ نے فرمایا اس کی عمر میں زیادتی نہیں ہوتی (کیونکہ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” فاذا جاء اجلہم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون “ لیکن کوئی آدمی جس کی نیک اولاد ہو اور وہ اللہ تعالیٰ سے اس کے بعد دعا کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس تک پہنچا دیتے ہیں یہ وہ چیز ہے جو اس کی مدت میں تاخیر کردیتی ہے۔ اور دوسرے لفظ میں یوں ہے تو ان کی دعا اس…
Read the full tafseer →وَلِكُلِّ اُمَّةٍ [ اور ہر ایک امت کیلئے ] اَجَلٌ ۚ [ ایک وقت ہے ] فَاِذَا [ پھر جب ] جَاۗءَ [ آجائے ] اَجَلُهُمْ [ ان کا وقت ] لَا يَسْـتَاْخِرُوْنَ [ تو وہ لوگ پیچھے نہیں ہوں گے ] سَاعَةً [ ایک گھڑی (یعنی لمحہ بھر بھی )] وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ [ اور نہ ہی آگے ہوں گے ]
نوٹ ۔ 3: یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ افراد اور اقوام کے معاملہ میں اللہ نے ” اجل “ کے پیمانے الگ الگ رکھے ہیں ۔ افراد کے پیمانے تو سالوں ، مہینوں ، دنوں ، گھنٹوں ، اور منٹوں کے حساب سے پورے ہوتے ہیں ۔ جب وہ پورے ہوجاتے ہیں ، تو فرد ختم ہوجاتا ہے ۔ جبکہ قوموں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ ان کا حساب ان کے اخلاقی زوال سے ہوتا ہے ۔…
Read the full tafseer →ہر امت کے لیے ایک اجل مقرر ہے :
پھر فرمایا (وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ) (کہ ہر امت کے لیے ایک اجل مقرر ہے) سب ایک مدت مقررہ تک کھاتے پیتے رہیں گے اور جس امت پر عذاب آتا ہے اس کا بھی وقت مقرر ہے۔ قال فی معالم التنزیل ج 2 ص 185 مدۃ اکل و شرب و قال ابن عباس وعطاء و الحسن یعنی وقتا لنزول العذاب بھم فاذا جاء اجلھم و انقطع اکلھم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون ای لا یتقدمون۔
جب ان کی اجل آپہنچے گی تو ذرا بھی دیر موخر نہ ہونگے اور مقدم ہونے کا تو موقع رہا ہی نہیں صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی جب لوگوں نے عذاب کا سوال کیا یعنی یوں کہا کہ اگر آپ اللہ کے سچے رسول ہیں تو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
تحذیر از فتنۂ شیطانی دربارۂ بےحیائی وعریانی
قال اللہ تعالیٰ یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسا۔۔۔ الی۔۔۔ لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون
(ربط) گزشتہ قصہ میں شیطان کی عداوت کا ذکر فرمایا اور اسی سلسلہ میں یہ بیان فرمایا کہ شیطان نے حضرت آدم اور حواء کو دھوکہ دیا جس کا اثر یہ ہوا کہ ان کے بدن سے جنت کا لباس اتر پڑا جس سے گھبرا کر اور شرما کر جنت کے درختوں کے پتوں سے ستر کو ڈھانکنے لگے۔ یہ برہنگی شیطان کا پہلا فتنہ تھا اب آئندہ آیات میں اسی فتنہ کے متعلق احکام ارشاد فرماتے ہیں جس میں اہل عرب اور شیطان کے اغواء اور اضلال سے مبتلا تھے کہ برہنہ طواف کرتے تھے اور بعض چیزوں کے کھانے کو زمانۂ حج میں حرام…
Read the full tafseer →35: تمام ہلاک شدہ امتوں کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا۔ ولکل امۃ من الامم المھلکۃ اجل ای وقت معین مضروب لاستئصالھم کما قال الحسن الخ (روح ج 8 ص 112) ۔ جب ان کی ہلاکت کا وقت آپہنچا انہیں فوراً مبتلائے عذاب کردیا گیا اور ان کی ہلاکت میں مقررہ اجل سے ایک ساعت کی بھی تقدیم و تاخیر نہیں ہوئ۔ “ فَاِذَا جَاءَ اَجَلُھُمْ ” کے بعد “ اِذَا ” کی جزاء محذوف ہے۔ “ اَيْ عُذِّبُوْا لَا یَسْتَاخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا يَسْتَقْدِمُوْنَ ” ما قبل کی توضیح اور تاکید ہے۔ یا “ وَ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ ” کا عطف “ فَاِذَا جَاءَ ” پر ہے اور “ وَلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ ”“ فَاِذَا ” کی جزا نہیں بلکہ “ جَاءَ اَجَلُھُمْ ” کے مقابل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے نماز کے وقت زینت اختیار کرنے کا حکم دیا تھا اس ضمن میں ستر پوشی کو اولیت حاصل ہے سترپوشی انسان کے لیے ہر وقت ضروری ہے مگر نماز کے لیے تو اس کا خاص طور پ اہتمام ہونا چاہیے اس کے برخلاف برہنہ طواف کرنے والوں کی مذمت بیان کی گئی اور واضح کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا بلکہ یہ بات شیطان نے مشرکین کے ذہنوں میں ڈال رکھی ہے کہ جس لباس میں ہم روزمرہ کے کام انجام دیتے ہیں اور گناہوں کا ارتکاب بھی کرتے ہیں وہ لباس اللہ کے پاک گھر کے طواف کے لیے مناسب نہیں چناچہ اس کے لیے وہ مکہ کے پیرزادوں سے عاریتاً حاصل کرتے تھے یا پھر برہنہ طواف کو ترجیح دیتے…
Read the full tafseer →يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَـقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ 0 ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ہُمْ يَحْزَنُوْنَ 35
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40]
( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
2 ؎ یعنی یہ نعماء ایمانداروں کے لئے دنیا میں حرام نہیں بلکہ مباح ہیں۔ مقصود بالذات ان کے لئے پیدا کی ہیں۔ تبعاً کفار بھی فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ قیامت میں تو ایمانداروں کا ہی حصہ ہے 12 منہ
ترکیب : والطیبات معطوف ہے زینۃ اللّٰہ پر ھی مبتداء اس کی خبر میں تین احتمال ہیں۔ اقوٰی یہ ہے کہ للذین ہے فی الحیوۃ متعلق ہے امنوا سے یا فی الحیوۃ خبر اور للذین خالصۃ سے متعلق اور خالصۃ حال ہے اور عامل اس میں للذین ہے یا فی الحیوۃ الدنیا اور خالصۃ کو مرفوع بھی پڑھا ہے خبر ثانی بنا کر۔ ماظہر وما بطن بدل ہیں الفواحش سے۔
تفسیر : پھر فرماتا ہے کہ یہ چیزیں تو اللہ نے حرام نہیں کیں۔ ہاں بےحیائی کی باتیں خواہ ظاہر ہوں…
Read the full tafseer →وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ج فَاِذَا جَآئَ اَجَلُھُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ ۔
(الاعراف : 24)
” ہر قوم کے لیے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے۔ پھر جب کسی قوم کی مدت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تاخیر و تقدیم نہیں ہوتی “۔
اس رکوع کا آغاز مشرکینِ مکہ پر عتاب سے ہوا ہے ان سے برہمی کے انداز میں ایک سوال کیا گیا ہے کہ اس سوال کے جواب پر تمہاری پوری زندگی کا مدار ہے اور پھر ان کی کوتاہیوں اور بداعمالیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے صحیح راستہ ان پر واضح کیا گیا ہے اب انھیں آخری وارننگ دی جا رہی ہے کہ تم یہ مت سمجھو کہ جس طرح تم اب تک اللہ کی گرفت سے بچے ہوئے ہو اسی طرح بچے رہو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بےحیائی کا ارتکاب، جان بوجھ کر گناہ کرنا، اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور شریعت کے نام پر اللہ تعالیٰ کے ذمہ جھوٹ لگانے والوں کو انتباہ۔
جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہر ذی روح اور چیز کی موت اور فنا کا وقت مقرر کر رکھا ہے جب وقت آئے گا تو اس میں لمحہ بھر تقدیم و تاخیر نہیں ہوگی۔ یہی اصول قوموں اور امتوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے جب کسی قوم کے زوال اور تباہی کا وقت آتا ہے تو پھر اس کے اڑوس پڑوس کی اقوام اور خیر خواہ اسے ہرگز نہیں بچا سکتے۔ افراد اوراقوام کی اجل یعنی موت میں فرق یہ ہے کہ افراد کی عمر اور مدت کے لیے سال، مہینے، ایام اور لمحے مقرر کیے گئے ہیں اور…
Read the full tafseer →کفارِ مکہ کو وعید :
34: وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ (ہر گروہ کیلئے ایک میعاد معین ہے) وقت معین ہے جس میں ان پر استیصال والا عذاب آئے گا۔ اگر وہ ایمان نہ لائے اس میں اہل مکہ کیلئے مقرر وقت میں عذاب کے اترنے کی وعید ہے۔ جیسا کہ پہلی امتوں پر اترا۔ فَاِذَا جَآء اَجَلُھُمْ لَایَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ (جب ان کی میعاد معین پہنچے گی۔ اس وقت ایک ساعت نہ پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے) اس کو ساعت سے مقید کیا گیا۔ مہلت میں سب سے قلیل وقت یہی استعمال کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر (34) (ولکل امۃ اجل) یعنی مدت اور کھانا، پینا۔ ابن عباس ؓ، عطاء اور حسن رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یعنی ان پر عذاب اترنے کا وقت مقرر ہے۔ (فاذا جآء اجلھم ) اور ان کا کھانا ختم ہ جائے گا (لایستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون) جب انہوں نے عذاب مانگا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
(34 ۔ 36) ۔ اہل مکہ عذاب کی جو جلدی کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا ہر کام کا وقت اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقرر ہے وقت مقررہ پر اگر اللہ کو منظور ہوگا تو عذاب آوے گا غرض عذاب کے وقت ایسا ہی مقرر ہے جس طرح سب کی آنکھوں کے سامنے ہر ایک شخص کے لئے ہر زمانہ میں موت کا ایک وقت مقرر ہے اس سے ایک ساعت کوئی آگے پیچھے نہیں ہوتا وعدہ کم نہ زیادہ جمہور کا یہی مذہب ہے کہ انسان کی عمر گھٹتی بڑھتی نہیں خواہ قتل کر ڈالنے سے مرا ہو یا ڈوبنے جلنے وغیرہ سے ہر ایک اپنی موت سے مرتا ہے عمر کی کمی بیشی کے باب میں سلف کے مابین ایک بڑی بحث ہے۔ حاصل یہ ہے کہ صحیح حبان اور مستدرک حاکم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
آیت 34
یعنی اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو جنت سے نکال کر زمین پر آباد کردیا اور ان کے لئے ایک مدت مقرر کردی۔ قوموں میں سے کوئی قوم اپنی مدت مقررہ سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے، تمام قومیں اکٹھی ہو کر اس مدت مقررہ سے آگے ہوسکتی ہیں نہ ان کے افراد۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–54
فواحش سے مراد
قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھا وما بطن ولاثم والبغی بغیر الحق۔ اے محمد ﷺ ، ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں، بےشرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی) مجاہد کا قول ہے کہ فواحش سے زنا مراد ہے یہ سری خواحش ہے اور برہنہ حالت میں طواف کرنا جہری فواحش ہے۔ ایک قول ہے کہ بےشرمی کے تمام کام فواحش ہیں۔ شروع میں اجمالاً ان کا ذکر کیا پھر ان کی مختلف صورتوں کی تفصیل بیان کردی اور یہ فرمایا کہ گناہ حق کے خلاف زیادتی اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا فواحش کی صورتیں ہیں۔ یعنی لوگوں پر ناحق اور بزور قوت غلبہ جمانے اور…
Read the full tafseer →43 ہر امت کیلئے ایک مدت مقرر ہے : سو اس ارشاد سے تصریح فرما دی گئی کہ ہر امت کے لیے ایک مدت مقرر ہے۔ یعنی عذاب کی اور موت کی مدت۔ پس کفار و مشرکین اور معاندین و منکرین پر اگر فوری عذاب نہیں آتا تو اس سے ان کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ وہ اپنے وقت پر بہرحال آ کر رہے گا۔ اور ایسوں کی سلامتی کی راہ یہ ہے کہ اس عذاب کیلئے جلدی مچانے یا اس سے نڈر اور بےفکر ہونے کی بجائے اس سے بچنے کی فکر و کوشش کریں۔ ورنہ ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس ضمن میں یہ بنیادی اور اصولی بات یاد رکھنی چاہئے کہ افراد اوراقوام کے معاملے میں خداوند قدوس نے اجل کے پیمانے الگ الگ رکھے ہیں۔ اَفراد کے پیمانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–43
سزا اور جزا کی خبر
تشریح : پچھلی آیات میں بہترین زندگی گزارنے کے اصول، قوانین اور طریقے بتائے گئے ہیں۔ ان آیات میں دوبارہ صالحین اور مشرکین کے بارے میں وضاحت کی جا رہی ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی شک باقی نہ رہ جائے کیونکہ اکثر لوگ یہی کہتے ہیں کہ جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا۔ اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ بھئی مرنے کے بعد کس طرح ہم زندہ ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو باربار سمجھا رہے ہیں کہ کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔ تم کھائو، پیو اور مزے اڑالو مگر یاد رکھو موت کا وقت مقرر ہے ایک سیکنڈ بھی اس سے آگے پیچھے نہ ہوگا۔ اس وقت تم اپنے برے اعمال پر پچھتائو گے تو کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ عمل کا وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 32 تا 39:
اسرار و معارف :
اچھا کھانا اور لباس :
چونکہ انسانی شرف کا مدار ہی اللہ کریم کی رضا ہے لہذا اصل کام خلوص دل سے اطاعتِ الہی کرکے اس کی رضا حاصل کرنا ہے اسلام نے باطل مذاہب کی طرح فضول اور خود ساختہ مشقت اٹھانے سے منع فرما دیا ہے اور لذیذ کھانوں سے اجتناب یا اچھا لباس پہننا کوئی عبادت نہیں نہ رب جلیل نے اس کا حکم دیا ہے جب مالک اللہ ہے اور اس نے بہتر رزق اچھے پھل مزیدار کھانے جو حلال اور جائز ذرائع سے حاصل کئے گئے ہوں ایسے ہی خوبصورت اور آرام دہ لباس یا بہتر سواری اور خوبصورت گھر سے منع نہیں فرمایا پھر دوسرا کون ایسا ہوسکتا ہے جو اس کے بندوں کو ان چیزوں سے روک دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
ف 1 اور پر بیان فرمایا کہ ہر ایک کے لیے ایک وقت مقرر ہے جس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی اب یہاں بتایا گیا جو لوگ فرماں بردار ہوں گے مرنے کے بعد ان پر کسی قسم کا خوف وحزن نہ ہوگا مگر جو سرکش ہوں گے وہ سخت عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ اسی قسم کا خطاب سورة بقرہ میں حضرت آدم ( علیہ السلام) کے قصہ کے آخر میں بھی مذکو رہے، ( دیکھئے بقرہ آیت 36)
Read the full tafseer →(7:34) اجل۔ مدت مقررہ۔ مقررہ وقت۔ (عذاب کے نازل ہونے کا) ۔ موت کو اجل کہتے ہیں ۔ کیونکہ اس کا وقت بھی مقرر ہے۔
لایستاخرون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب (باب استفعال) وہ دیر نہیں کرسکتے۔ وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔
لا یستقدمون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب وہ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ وہ پہلے نہیں ہوسکتے (باب استفعال)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
لغات القرآن آیت نمبر (31 تا 34 ) ۔
کلوا (کھائو) ۔ اشربوا (پیو ) ۔ لا تسرفوا (فضول خرچی نہ کرو) ۔ نفصل (ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں) ۔ الفواحش (بےحیائی و بےشرمی کے کام) ۔ ظھر منھا (جوان میں سے کھلی ہوئی ہیں ) ۔ بطن (جو چھپی ہوئی ہیں) ۔ الاثم (گناہ) ۔ البغی (زیادتی ) ۔ لم ینزل (نہیں اتارا) ۔ سلطان (دلیل۔ سند) ۔ اجل (مقرر وقت۔ موت) ۔ لا یستاخرون (پیچھے نہ ہٹ سکیں گے ) ۔ ساعتہ (ایک گھڑی) ۔ لایستقدمون (آگے نہ بڑھ سکیں گے) ۔
تشریح : آیت نمبر (31 تا 34 ) ۔ ” ان آیات میں چھ بنیادی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
1) عبادت اور زیب وزینت، عبادت اور اچھا کھانا پینا ۔۔۔۔ ان کا اجتماع۔۔۔۔ ۔ یہ دین اسلام کی…
Read the full tafseer →اہل مکہ مکرمہ عذاب کی جلدی جو کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ہر کام کا وقت اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے، جب اللہ کو منظور ہوگا تو عذاب آوے گا۔ غرض عذاب کا وقت ایسا ہی مقرر ہے جس طرح سب کی آنکھوں کے سامنے ہر ایک شخص کے لئے ہر زمانہ میں موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ اس سے ایک ساعت کوئی آگے پیچھے نہیں ہوتا۔ وعدہ کم نہ زیادہ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہمارے رسول تم میں سے تمہارے پاس ہماری آیتیں لا کر بیان کریں گے تو جو کوئی پرہیزگاری اختیار کرے گا اور رسولوں کی فرمانبرداری کر کے اپنے حال کو سنوارے گا اور مناہی کی چیزوں سے بچا رہے گا اس کو قیامت کے روز کچھ خوف نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
[17] یہ خطاب انسان سے اس وقت ہوا تھا جب وہ عالم ارواح ہی میں تھا۔
Read the full tafseer →(ف 2) یعنی ہر گروہ کے لئے اللہ نے مہلت کے کچھ دن مقرر کر رکھے ہیں جب لوگ اس ڈھیل سے فائدہ نہ اٹھائیں ، اور برابر گمراہی میں بڑھتے جائیں ، تو پھر اللہ کا عذاب آجاتا ہے ، جس میں ایک لمحے کا آگا پیچھا نہیں ہوتا ۔
حل لغات :
الفواحش : جمع فاحشۃ بمعنی ہر بدی جو حد سے گذر جائے فحش کہتے ہیں ، بدی کے حد سے گزر جانے کو ۔
سلطنا : دلیل غالب ۔
Read the full tafseer →34 رہی یہ بات کہ باوجود اور ان کے اس کفر وعناد اور ابتلائے فواحش اور ارتکاب معاصی کے ان منکرین کی گرفت کیوں نہیں آتی اور ان پر عذاب کیوں نہیں نازل ہوتا تو فرمایا ہر گروہ ہر جماعت اور ہر امت اور اس کے افراد کا ایک وقت متعین ہے اور جب وہ میعاد متعین اور وقت مقرر ان کا آجائے گا تو اس وقت نہ گھڑی بھر پیچھے رہ سکیں گے اور نہ گھڑی بھر آگے بڑھ سکیں گے یعنی جو تباہی بربادی یا مرنے کا وقت مقرر ہوچکا ہے اسی وقت یہ ہوگا اس سے پہلے نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →ف 9۔ اس میعاد کے قبل سزانہ ہونا اس کی دلیل نہیں کہ ان محرمات پر سزا نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →افراد کی طرح ہر قوم کے لئے بھی اجل مقرر ہے اگرچہ ان کے پیمانے الگ الگ ہیں :
45: اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ افراد کی طرح جماعتوں کی موت وحیات کے لئے بھی مقررہ قوانین ہیں اور ان کے احکام اٹل ہیں جب ایک جماعت کا شر و فساد اس حد تک پہنچ جاتا ہے جو جماعتوں کی ہلاکت کے لئے ٹھہرا دی گئی ہے تو پھر ظہور نتائج میں ایک لمحہ کی تاخیر بھی نہیں ہوتی اور اس مقررہ مدت کے لئے ” اجل “ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ افراد اور اقوام کے معاملے میں اللہ نے ” اجل “ کے پیمانے الگ الگ رکھے ہیں۔ افراد کے پیمانے تو سالوں ، مہینوں ، دنوں اور گھنٹوں منٹوں کے حساب سے پورے ہوتے ہیں اور جب وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
The first and the second verse both mentioned two crimes committed by disbelievers. They took Halal as Haram and made the Haram become Halal for themselves by themselves. The third verse (34) describes their sad end and the punishment they would have in the Hereafter. It was said:
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ
(And for every people there is an appointed time. So, when their appointed time comes, they will not be late for a moment, nor will they go before).
In other words, what is being said here is that those…
Read the full tafseer →27. The expression 'fixed term' used in the verse should not give rise to the misconception that the term of a nation expires on a definite day, month or year. What the statement really means is that God has laid down a minimum proportion between the good and evil deeds of a nation. As long as that nation is able to maintain that minimum proportion, its existence is tolerated in order that it might be able to show its performance. Once a nation crosses that minimum limit, it is denied any further respite. (For further explication of this point see Nuh 71: 4-10 and 12.)
Read the full tafseer →