Al-A'raaf 7:202

Al-A'raaf · from ayah 202

7:202

وَاِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ ۟وَاِخۡوَانُهُمۡ يَمُدُّوۡنَهُمۡ فِى الۡغَىِّ ثُمَّ لَا يُقۡصِرُوۡنَ

اور ان (کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں پھر (اس میں کسی طرح کی) کوتاہی نہیں کرتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But their brothers - the devils increase them in error; then they do not stop short.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 24 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:202

رہے ان کے (یعنی شیاطین کے) بھائی بند، تو وہ انہیں ان کی کج روی میں کھینچے لیے چلے جاتے ہیں اور انہیں بھٹکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان (کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں پھر (اس میں کسی طرح کی) کوتاہی نہیں کرتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو شیاطین کے تابع ہیں وه ان کو گمراہی میں کھینچے لے جاتے ہیں پس وه باز نہیں آتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو ان شیاطین کے بھائی ہیں ان کو یہ شیاطین گمراہی میں گھسیٹے لے جاتے ہیں، نتیجہ یہ کہ وہ (گمراہی سے) باز نہیں آتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ جو شیطانوں کے بھائی ہیں شیطان انہیں گمراہی میں کھینچتے ہیں پھر کمی نہیں کرتے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (جو) ان شیطانوں کے بھائی (ہیں) وہ انہیں (اپنی وسوسہ اندازی کے ذریعہ) گمراہی میں ہی کھینچے رکھتے ہیں پھر اس (فتنہ پروری اور ہلاکت انگیزی) میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جو ان (شیطانوں) کے بھائی ہیں وہ انھیں گمراہی میں بڑھاتے رہتے ہیں، پھر وہ کمی نہیں کرتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ان (شیطانوں) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے چلے جاتے ہیں اور اس میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو ان نا خدا ترسوں کے بھائی ہیں وہ ان کو گمراہی میں بڑھاتے ہیں پھر کوئی کسر نہیں چھوڑتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

رہ گئے شیطانوں کے بھائی بند، تو ان کو یہ کھینچے چلے جاتے ہیں ان کی گمراہی میں، اور وہ اس میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو شیطان کے بھائی ہیں شیطان انہیں گمراہی میں کھنچتے رہتے ہیں سو وہ باز نہیں آتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو ان (شیطانوں) کے بھائی ہیں انہیں وہ گھسیٹ کرلے جاتے ہیں دور تک گمراہی میں پھر وہ کچھ کمی نہیں کرتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان (شیطانوں) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچتے جاتے ہیں پھر اس میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

As for their brethren [the Satans], they draw them deeper into error and do not relax in their efforts.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

As for the brethren of satans, they are dragged by them on into the error, and they do not desist.

— Muhammad Taqi Usmani

As for the brethren of satans, they are dragged by them on into the error, and they do not desist.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But (as for) their brothers (the devils' brothers) they (the devils) plunge them deeper into error, and they never stop short.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Their brethren plunge them further into error and cease not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But their brothers - the devils increase them in error; then they do not stop short.

— Saheeh International

while their brethren ceaselessly try to drag them into error.

— Muhammad Sarwar

And their brethren increase them in error, then they cease not.

— Muhammad Habib Shakir

And their brethren drag them on toward error, so they stop not short.

— Abdul Majid Daryabadi

But their brethren (the evil ones) plunge them deeper into error, and never relax (their efforts).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:202

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 201–202

جو اللہ سے ڈرتا ہے۔ شیطان اس سے ڈرتا ہے طائف کی دوسری قرأت طیف ہے۔ یہ دونوں مشہور قرأتیں ہیں دونوں کے معنی ایک ہیں بعض نے لفظی تعریف بھی کی ہے۔ فرمان ہے کہ وہ لوگ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں جنہیں اللہ کا ڈر ہے جو نیکیوں کے عامل اور برائیوں سے رکنے والے ہیں انہیں جب کبھی غصہ آجائے، شیطان ان پر اپنا کوئی داؤ چلانا چاہے، ان کے دل میں کسی گناہ کی رغبت ڈالے، ان سے کوئی گناہ کرانا چاہے تو یہ اللہ کے عذاب سے بچنے میں جو ثواب ہے اسے بھی یاد کرلیتے ہیں رب کے وعدے وعید کی یاد کرتے ہیں اور فوراً چوکنے ہوجاتے ہیں، توبہ کرلیتے ہیں، اللہ کی طرف جھک جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے شیطانی شر سے پناہ مانگنے لگتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 197–202

سورة الْاَعْرَاف 150 ان آیات میں نبی ﷺ کو دعوت تبلیغ اور ہدایت و اصلاح کی حکمت کے چند اہم نکات بتائے گئے ہیں اور مقصود صرف حضور ہی کو تعلیم دینا نہیں ہے بلکہ حضور کے ذریعہ سے ان سب لوگوں کو بھی حکمت سکھانا ہے جو حضور کے قائم مقام بن کر دنیا کو سیدھی راہ دکھانے کے لیے اٹھیں۔ ان نکات کو سلسلہ وار دیکھنا چاہیے۔ (1) داعی حق کے لیے جو صفات سب سے زیادہ ضروری ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسے نرم خو متحمل اور عالی ظرف ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے ساتھیوں کے لیے شفیق، عامتہ الناس کے لیے رحیم اور اپنے مخالفوں کے لیے حلیم ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے رفقا کی کمزوریوں کو بھی برداشت کرنا چاہیے اور اپنے مخالفین کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 200–202

دوسری آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ باللّٰهِ ۭاِنَّهٗ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ، یعنی اگر آپ کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آنے لگے تو اللہ سے پناہ مانگ لیں، وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ درحقیقت یہ آیت بھی پہلی آیت کے مضمون کی تکمیل ہے کیونکہ اس میں جو ہدایت دی گئی ہے کہ ظلم کرنے والوں اور جہالت سے پیش آنے والوں کی خطا سے درگزر کریں، ان کی برائی کا جواب برائی سے نہ دیں، یہ بات انسانی طبیعت کے لئے سب سے زیادہ بھاری اور شاق ہے، خصوصا ایسے مواقع میں شیطان اچھے بھلے انسان کو بھی غصہ دلا کر لڑنے جھگڑنے پر آمادہ کر ہی دیتا ہے، اس لئے دوسری آیت میں یہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاِخْوَانُهُمْ يَمُدُّوْنَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُوْنَ۔ ھُم کا مرجع وہ جاہلین ہیں۔ جن کا ذکر اوپر آیت 199 میں گزرا، اخوان سے ان کے وہ ساتھی مراد ہیں جن کے ہاتھوں میں ان کی باگ ہے، عام اس سکے وہ شیاطین انس میں سے ہوں یا شیاطین جن میں سے۔ فرمایا کہ اہل ایمان کو تو خدا کی یاد سنبھال لیتی ہے لیکن جاہلین کو ان کے شیاطین گمراہی کی وادیوں میں بھٹکاتے بھٹکاتے آخری منزل پر پہنچا دیتے ہیں، ذرا بھی کسر نہیں اٹھا رکھتے کہ باز گشت کا کوئی امکان باقی رہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

22۔ 1 یعنی شیطان کافروں کو گمراہی کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں، پھر وہ کافر (گمراہی کی طرف جانے میں) یا شیطان انکو لے جانے میں کوتاہی میں کمی نہیں کرتے۔ یعنی لَا یَقْصِرُوْنَ کا فاعل کافر بھی بن سکتے ہیں اور اِخْوَان الْکُفَّاِرِ شیاطین بھی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 201–202

101: گناہ کی خواہش نفس اور شیطان کے اثرات سے بڑے بڑے پرہیزگاروں کو بھی ہوتی ہے، لیکن وہ اس کا علاج اس طرح کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں، اس سے مدد مانگتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں، اور اس کی بارگاہ میں حاضری کا دھیان کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں، یعنی ان کو گناہ کی حقیقت نظر آجاتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ گناہ سے بچ جاتے ہیں، اور اگر کبھی غلطی ہو بھی جائے تو توبہ کی توفیق ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یعنی شیاطین کے بھائی ان کو ان کی کج روی میں کھینچے لیے چلے جاتے ہیں ، اور بعض اوقات ان کے بھائی شیاطین انس بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ ان کی گمراہی میں ان کو ترقی ہی دیتے ہیں ، نہ تھکتے ہیں ، نہ آرام کرتے ہیں اور نہ خاموش ہوتے ہیں اور یہ لوگ حماقت اور جہالت اور کج روی میں مسلسل آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 201–202

5 پہلے تو تنہا حضور ﷺ کو خطاب تھا گو حکم استعاذہ میں سب شامل تھے اب عام متقین (خدا ترس پرہیزگاروں) کا حال بیان فرماتے ہیں یعنی عام متقین کے حق میں یہ محال نہیں کہ شیطان کا گزر ان کی طرف ہو، اور کوئی چرکہ لگا جائے۔ البتہ متقین کی شان یہ ہوتی ہے کہ شیطان کے اغواء سے ممتد غفلت میں نہیں پڑتے بلکہ ذرا غفلت ہوئی اور خدا کو یاد کر کے چونک پڑے ٹھوکر لگی اور معًا سنبھل گئے، سنبھلتے ہی آنکھیں کھل گئیں، غفلت کا پردہ اٹھ گیا۔ نیکی، بدی کا انجام سامنے نظر آنے لگا اور بہت جلد نازیبا کام سے رک گئے۔ باقی غیر متقین (جن کے دل میں خدا کا ڈر نہ ہو، اور جنہیں شیطان کی برادری کہنا چاہیے) ان کا حال یہ ہے کہ شیاطین…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 202 وَاِخْوَانُہُمْ یَمُدُّوْنَہُمْ فِی الْْغَیِّ ثُمَّ لاَ یُقْصِرُوْنَ ۔ شیطان کا جو دوست بنے گا پھر اس پر شیطان کا حکم تو چلے گا۔ شیاطین اپنے بھائی بندوں کو گمراہی میں گھسیٹتے ہوئے دور تک لے جاتے ہیں اور اس میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ یعنی گمراہی کی آخری حد تک پہنچا کر رہتے ہیں۔ جیسے بلعم بن باعوراء کو شیطان نے اپناشکار بنایا تھا اور اسے گمراہی کی آخری حد تک پہنچا کر دم لیا ‘ لیکن جو اللہ کے مخلص اور متقی بندے ہیں ان پر شیطان کا اختیار نہیں چلتا۔ ان کی کیفیت وہ ہوتی ہے جو اس سے پچھلی آیت میں بیان ہوئی ہے ‘ یعنی جو نہی منفی اثرات کا سایہ ان کو اپنی طرف بڑھتا ہوا محسوس ہوتا ہے وہ یکدم…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

200 لیکن ایسا ہی وسوسہ اگر شیطان کسی کے نافرمان یا باغی کے دل میں ڈال دے اور ایسے لوگ فوراً اس وسوسہ میں پھنس کر معصیت کی رو میں بہہ جاتے ہیں اس کے بعد بھی شیطان انہیں معاف نہیں کرتا بلکہ ان کا حوصلہ بڑھاتا رہتا ہے اور اسے جب بھی موقع ملے اپنے ان بھائیوں کو گمراہی میں کھینچتا چلا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

295 ۔ (گمراہیوں سے) اور باز آئیں بھی تو کیسے ؟ نہ اس کا ارادہ کرتے ہیں اور نہ شیطان کے شر سے پناہ مانگتے ہیں۔ ولا یکفون عن الغی ولا یقصرون کالمتقین “ (بیضاوی) لایتوبون ولا یرجعون (قرطبی) (آیت) ” اخوانھم “۔ یعنی مشرکین واہل جاہلیت جو اہل طاعت وتقوی نہیں بلکہ اپنی حرکتوں کے باعث گویا شیطانی برادری کے لوگ ہیں۔ ضمیر۔ ھم، الشیطن (اسم جنس) کی جانب ہے۔ المعنی اخوان الشیاطین وھم الفجار من ضلال الانس (قرطبی) قال الحسن وقتادہ والسدی اخوان الشیاطین فی الضلال یمدھم الشیاطین (جصاص) ای اخوان الشیاطین من شیاطین الانس (مدارک) (آیت) ” یمدونھم فی الغی “۔ ضمیر ھم انہی اخوان کی طرف ہے۔ وھم الفجار من ضلال الانس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 189–206

آیت نمبر 189 تا 206 ترجمہ : وہ یعنی اللہ ہی ہے جس نے تم کو ایک جان یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا حوّاء کو پیدا کیا تاکہ اس سے سکون حاصل کرے اور اس سے الفت کرے، چناچہ جب اس کو ڈھانپ لیا یعنی اس سے مجامعت کی، اگر اس کو ہلکا سا حمل رہ گیا، اور اس بات سے خوفزدہ ہوئے کہ وہ (حمل) کوئی جانور نہ ہو تو انہوں نے اپنے رب اللہ سے دعاء کی، اگر آپ ہمیں نیک صحیح سالم بچہ عطا فرمائیں تو ہم اس پر آپ کے شکر گذار ہوں گے، چناچہ جب ان کو صحیح سالم اولاد دیدی تو دونوں (بیوی) نے (اللہ کے) عطا کردہ بچے کا نام عبدالحارث رکھ کر خدا کا شریک قراردیدیا، اور ایک قراءت میں شین کے کسرہ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واخوانہم یمدونہم فی الغی ثم لا یقصرون : اور جو شیطان کے بھائی ہیں وہ ان کو گمراہی میں کھینچتے ہیں پھر وہ باز نہیں آتے۔ واخوانہم یعنی شیطانوں کے بھائی۔ مراد فاسق بدکار لوگ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اخوان سے مراد شیاطین ہوں اور اخوانہم کی ضمیر الجاہلین کی طرف راجع کی جائے جاہلوں کے بھائی یعنی شیطان۔ یمدونہم یعنی شیاطین ان کی مدد کرتے ہیں ابھارتے ہیں۔ برانگیختہ کرتے ہیں۔ سہولت پیدا کرتے ہیں یا وہ شیطانوں کو مدد دیتے ہیں شیاطین کے کہنے پر چلتے ہیں ان کے احکام کا اتباع کرتے ہیں۔ ثم لا یقصرون پھر اہل فسق گمراہی سے باز نہیں آتے ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں ‘ برخلاف اہل تقویٰ کے کہ شیطانی خیال آتے ہی وہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(202) جو شیاطین اور مشرکوں کے بھائی بند ہیں تو وہ ان کو کفر وگمراہی اور گناہ میں گھسیٹ کرلے جاتا ہے پھر وہ اس سے باز نہیں آتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِخْوَانُهُمْ يَمُدُّوْنَهُمْ فِي الْغَيِّ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے مقابلے میں ان کفار و منافقین کا جو اپنی شرارت اور خباثت نفس میں شیاطین کے بھائی ہیں، یہ حال ہے کہ ان کے بھائی شیاطین انھیں گمراہی میں بڑھاتے اور گھسیٹتے ہی لیے جاتے ہیں اور انھیں بھٹکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 201–202

اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : 1 قولہ تعالیٰ : آیت : ان الذین اتقوا (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 492) مراد شرک اور گناہ ہیں ( یعنی وہ لوگ جو شرک اور گناہوں کے ارتکاب سے مجتنب رہے ہیں) آیت : اذا مسھم طئف من الشیطن یہ اہل بصرہ اور اہل مکہ کی قراءت ہے۔ اور اہل مدینہ اور اہل کوفہ کی قراءت طائف ہے۔ اور حضرت سعید بن جبیر سے طیف یاء کی تشدید کے ساتھ مروی ہے۔ نحاس نے کہا ہے : اس کے مثل میں کلام عرب طیف تخفیف کے ساتھ ہے، اس بنا پر کہ یہ طاف یطیف کا مصدر ہے۔ کسائی نے کہا ہے : یہ طیف سے مخفف ہے جیسا کہ میت اور میت ہے۔ نحاس نے کہا ہے : لغت میں طیف کا معنی وہ وہم اور خیال ہے جو دل میں پیدا ہوتا ہے یا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 201–203

(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” ان الذین اتقوا “ سے مراد ہیں ایمان والے لوگ۔ (2) امام ابن ابی شیبہ عبد بن حمید، ابن ابی الدنیا نے ذم الغضب میں، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اذ مسھم طئف من الشیطن “ سے مراد ہے غصہ۔ (3) امام عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت ” اذا مستھم طیف من الشیطن من طائف “ الف کے ساتھ پڑھا ہے (پھر فرمایا) ” تذکروا “ یعنی کہ وہ برائی کا ارادہ کرتا ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا۔ (5) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” اذا مسھم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِخْوَانُهُمْ : اور ان کے بھائی ] [ يَمُدُّوْنَهُمْ : کھینچتے ہیں ان کو ] [ فِي الْغَيِّ : گمراہی میں ] [ ثُمَّ : پھر ] [ لَا يُقْصِرُوْنَ : وہ لوگ کمی نہیں کرتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 202–203

فرمائشی معجزات طلب کرنے والوں کا جواب آنحضرت سرور عالم ﷺ دلائل واضحہ کے ساتھ دعوت حق دیتے تھے حق پہچاننے کے لیے سب سے بڑی چیز دلائل عقلیہ ہی ہیں اس کے باو جود اللہ جل شانہٗ کی طرف سے معجزات کا ظہور بھی ہوتا رہتا تھا لیکن معاندین کہتے تھے کہ جو معجزہ ہم چاہیں ایسا معجزہ ظاہر ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ چاہتا تو لوگوں کے فرمائشی معجزے بھی ظاہر فرما دیتا لیکن اللہ تعالیٰ کسی کا پابند نہیں کہ لوگوں کے کہنے کے مطابق معجزہ ظاہر فرمائے پھر ان لوگوں کا فرمائشی معجزہ طلب کرنا بھی عناد اور تعنت کے طور پر تھا۔ حق قبول کرنا مقصود نہ تھا اسی لیے معجزات کو جادو بتا دیتے تھے۔ بعض مرتبہ ایسا ہوا کہ معجزہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 189–202

اثبات توحید وابطال شرک قال اللہ تعالیٰ ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ثم لا یقصرون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور کمال علم و حکمت کا ذکر تھا کہ وہی ہر نفع اور ضرر کا مالک ہے اور وہی عالم الغیب ہے اور شروع سورت میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہا السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اب سورت قریب الختم ہے اس لیے حضرت آدم اور حوا کا قصہ اجمالی طور پر دوبارہ ذکر فرماتے ہیں جس سے مقصود توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال ہے اگرچہ گزشتہ آیات میں بھی توحید خداوندی کا مختصر سا ذکر ہوا ہے لیکن ان آیات میں اس مضمون کو قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہی اللہ ہے جس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

192: یہ زجر ہے۔ “ اِخْوَانُھُمْ ” کی ضمیر مجرور شیاطین کی طرف راجع ہے۔ “ یَمُدُّوْنَھُمْ ” میں ضمیر مرفوع سے شیاطین اور منصوب سے “ اِخْوَانُ الشَّیَاطِیْن ” مراد ہیں۔ پرہیز گار لوگوں کے ذکر کے بعد پرواز شیاطین کا ذکر فرمایا کہ شیاطین ان کو گمراہ کرنے میں لگے رہتے ہیں اور اس میں کبھی کوتاہی نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 200–203

ربط آیات پہلے اللہ تعالیٰ نے شرک کرنے والوں کا رد کیا اور پھر اسی سلسلے میں مکارم اخلاق کی تعلیم دی ظاہر ہے کہ جب مشرکین کے کمزور دلائل کو رد کیا جائے گا تو وہ لاجواب ہو کر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئیں گے اور بےہودہ باتیں کرنے لگیں گے جاہلوں کا ہمیشہ یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب وہ دلائل کا سامنا کرنے سے عاجز آجاتے ہیں تو دنگا فساد اور گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں ایسی حرکات کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو فرمایا خذالعفو کہ آپ درگزر کرنے اور معاف کرنے کی عادت ڈالیں البتہ وامربالمعروف نیکی کی تلقین کرتے رہیں اور توحید کے دلائل دیتے رہیں گویا اللہ تعالیٰ نے مکارم اخلاق کی تعلیم دی حدیث شریف میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِخْوَانُہُمْ يَمُدُّوْنَہُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِــرُوْنَ۝ 202 أخ أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی إشفاقه عليهم شفقة الأخ علی أخيه، وعلی هذا قوله تعالی: وَإِلى ثَمُودَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 73] وَإِلى عادٍ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 65] ، وَإِلى مَدْيَنَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 202–203

1 ؎ شیاطین ترکیب : اخوانہم مبتداء یمدونہم جملہ خبر واذ الم الخ شرط قالو الخ جواب لولا ہلا اجتبیتہا انشاء تہامن قبل نفسک ذلک مقولتھم ماموصولہ یوحی الی جملہ صلہ مجموعہ مفعول ہے اتبع کا۔ من ربی یوحی سے متعلق ھذا مبتداء بصائر موصوف من ربکم صفت مجموعہ خبر وھدی ورحمۃ خبر پر معطوف لقوم رحمۃ سے متعلق البصائر جمع بصیرۃ وہی لحجوالبراہین۔ تفسیر : غضب کی حالت میں پرہیزگاروں کی یہ حالت بیان کی تھی کہ جب وہ خدا تعالیٰ کو یا اس کے صفات قاہرہ کو یاد کرتے ہیں تو اس کی تاریکی جسمانیت سے باہر آکر دفعۃً بینا ہوجاتے ہیں یعنی یکایک آنکھیں سی کھل جاتی ہیں۔ خلاف شیاطین کے بھائیوں کے یعنی غیر خدا پرست لوگوں کے کہ غصہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

چناچہ اسی حوالے سے ارشاد فرمایا جارہا ہے : وَاِخْوَانُھُمْ یَمُدُّوْنَھُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ (الاعراف : 202) اور جو ان ناخدا ترسوں کے بھائی ہیں وہ ان کو گمراہی میں بڑھاتے ہیں پھر کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ اس آیت کریمہ میں اخوانھم کی ضمیر کا مرجع شیطان بھی ہوسکتے ہیں اور وہ جاہلین بھی جن کا گزشتہ آیت میں ذکر ہے۔ مراد یہ ہے کہ جنوں میں سے شیاطین ہوں یا انسانوں میں سے جو لوگ ان کے ساتھ بھائی چارے کا تعلق رکھتے ہیں وہ جن سے فکری اکتساب کرتے ہیں یا ان کی مجالس میں اٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے تہذیبی اثرات قبول کرتے ہیں یا ان کے ہم خیال ہونے کے باعث ژولیدہ فکری پیدا کرنے میں ان کی ہم نوائی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 199–202

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی توحید بتلانے اور سمجھانے پر مشرک اور کافر اشتعال میں آکر بد کلامی کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں درگزر کرنے کا حکم۔ یہاں مبلغ کو چار ہدایات دی گئی ہیں۔ 1۔ اختلاف اور اشتعال کے مقابلہ میں حوصلہ رکھنا اور درگزر کرنا۔ 2۔ عرف کے مطابق تبلیغ کرنا۔ 3۔ جہلا سے اعراض برتنا۔ 4۔ انسان ہونے کے ناتے سے طبیعت میں غصہ اور اشتعال پیدا ہو تو شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنا۔ تبلیغ کے میدان میں ایک مبلغ کو ہر قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس لیے اسے سمجھ داری اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اگر دین کا کارکن اور مبلغ مشتعل ہوجائے تو کام آگے بڑھنے کے بجائے نہ صرف رک جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اخوانِ شیاطین گمراہی کا شکار رہتے ہیں : آیت 202: وَاِخْوَانُھُمْ (اور جو شیاطین کے تابع ہیں) باقی شیطان انس میں سے جو شیاطین کے بھائی ہیں۔ تو شیاطین یَمُدُّوْنَھُمْ فِی الْغَیِّ (وہ ان کو گمراہی میں کھینچتے ہیں) ان کو گمراہی میں مدد دیتے ہیں اور ان کے دست وبازو بنتے ہیں۔ قراءت : یُمِدُّوْنَھُمْ امداد سے مدنی نے پڑھا ہے۔ ثُمَّ لَایُقْصِرُوْنَ (پھر وہ باز نہیں آتے) پھر وہ اپنے اغوا سے باز نہیں رہتے بلکہ اس پر اصرار کرتے ہیں۔ اور اس سے رجوع نہیں کرتے اور یہ بھی درست ہے کہ اخوان سے مراد شیاطین لیے جائیں اور متعلق بِہٖ کی ضمیر جاہلوں کی طرف راجع ہو مگر پہلی تفسیر زیادہ بہتر ہے۔ کیونکہ اخوانھم کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 202 (اخوانھم یمدونھم) یعنی شیطانوں کے بھائی مشرکین میں سے ان کو شیطان کھینچتا ہے۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ ہر کافر کا ایک شیطان بھائی ہے (فی الغی) یعنی ان کے لئے گمراہ کرنے کو طلب کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اس پر جاری رہتے ہیں اور بعض نے کہا ہے ان کو گمراہی میں زیادہ کرتے ہیں اور اہل مدینہ نے ” یمدونھم “ یاء کے پیش اور میم کے زیر ہے۔ (ثم لایقصرون) یعنی رکتے نہیں ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نہ انسان اپنے برے اعمال سے رکتے ہیں اور نہ شیاطین ان کو گمراہ کرنے سے رستے ہیں۔ اس صورت میں ” ثم لایقصرون “ مشرکین اور شیاطن سب کا فعل ہوگا۔ ضحاک اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ مشرکین گمراہی سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 201–202

201۔ 202۔ اللہ پاک نے جب آنحضرت ﷺ کو یہ بتلا دیا کہ اگر تمہارے دل میں شیطان کوئی وسوسہ ڈالے تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنی چاہیے اس کے بعد اب عام لوگوں کے واسطے یہ بیان فرمایا کہ آدمی دو ہی قسم کے ہیں بعضے تو وہ ہیں جن کے دل میں خدا کا خوف ہے اور متقی ہیں گناہوں سے بچتے رہتے ہیں اور بعضے وہ جو کافر فاجر ہیں نہ ان کے دل میں خدا کا خوف ہے نہ وہ گناہوں سے بچتے ہیں تو اللہ پاک نے ان دونوں طرح کے آدمیوں کے حال کو یوں بیان فرمایا کہ جو لوگ متقی ہیں جب وہ شیطان کے وسوسہ میں پڑجاتے ہیں اور اس کے ورغلانے سے کوئی لغزش ان سے ہوجاتی ہے تو فورا وہ خدا کے عذاب کو یاد کر کے توبہ و استغفار کرلیتے ہیں ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 202–203

آیت 202 یہ جھٹلانے والے آپ کے ساتھ عناد رکھتے ہی رہیں گے خواہ ان کے پاس رشد و ہدایت پر کتنے ہی دلائل کیوں نہ آجائیں۔ پس جب آپ ان کو کوئی ایسی دلیل دیتے ہیں جو آپ کی صداقت پر دلالت کرتی ہے، تو یہ اسے تسلیم نہیں کرتے۔ (واذالم تاتھم بایۃ) ” اور جب تم ان کے پاس کوئی آیت نہیں لاتے۔ “ یعنی جب ان کے حسب خواہش آیات و معجزات نہیں لاتے (قالوا لولا اجتبیتھا) ” تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں بنا لی۔ “ یعنی کہتے ہیں کہ تم فلاں آیت اور فلاں معجزہ کیوں نہیں لاتے گویا کہ آیات اور معجزات آپ نازل کرتے ہیں اور تمام مخلوقات کی تدبیر آپ کرتے ہیں۔ حالانکہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ آپ تو کسی چیز کا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 200–203

نزغ شیطان کی حقیقت قول باری ہے واما ینزغنک من الشیطان نزغ فاستعذباللہ انہ سمیع علیم۔ اور اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو وہ سننے اور جاننے والا ہے) نزع شیطان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ دل میں وسوسہ پیدا کر کے راہ راست سے بھٹکانے کی صورت میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ یہ زیادہ تر اس وقت ہوتا ہے جب انسان پر غصے اور غضب کا غلبہ ہوتا ہے۔ ایک قول ہے کہ اس لفظ کے اصل معنی برائی کی طرف اکسانے کے ہیں ۔ شر اور برائی کی طرف دعوت دینے والی خصلت کو کہا جاتا ہے کہ یہ نزغہ شیطانی ہے جب اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ شیطان ہمیں برائی پر اکسائے گا تو اس نے ہمیں اس کے مکروہ فریب اور اس کے شر سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 201–204

280 تقویٰ حفاظت و بچاؤ کا ذریعہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ سے ڈرنے اور اس کی نافرمانی و ناراضی سے بچنے والوں کو جب شیطان کی طرف سے کوئی خیال چھو جاتا ہے تو وہ فورا چونک جاتے ہیں۔ اور چونک کر وہ اس " عُدوِّ مُبِیْن " کے وار سے محفوظ ہوجاتے ہیں پس تقویٰ حفاظت کا ذریعہ اور عظیم بچاؤ ہے شیطان کے وار سے ۔ اللہ نصیب فرمائے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اس دولت تقویٰ سے سرشار رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری حفاظت و بچاؤ کا اہم ذریعہ و وسیلہ ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ جہالت کی بجائے تقویٰ و پرہیزگاری کی روش کو اپناتے ہیں، ان کو شیطان کی طرف سے جب کوئی اُکساہٹ پیش آتی ہے تو وہ فورًا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 189–203

انسان کی حقیقت اور مشرکوں کے طریقے تشریح : یوں تو پورا قرآن پاک ہی ہدایت اور رہنمائی سے بھرا پڑا ہے۔ مگر ان آیات میں خاص طور سے پھر انسان کو اپنی پیدائش کا طریقہ بتایا گیا ہے اور پھر گھریلو زندگی اور پرسکون خاندان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) بغیر باپ اور ماں کے اللہ کی قدرت سے پیدا ہوئے سیدہ سیدنا حوا (علیہا السلام) ان سے پیدا ہوئیں مگر بغیر ماں کے، سیدنا عیسیٰ بغیر باپ کے اور پھر اس کے بعد نسل انسانی ماں اور باپ دونوں کے میاں بیوی بن کر آپس کے ملاپ سے مگر اللہ کی قدرت سے بڑھنی شروع ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ جب میاں اور بیوی میں شادی کا رشتہ بن جاتا ہے تو پھر دونوں ایک دوسرے کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 189–206

رکوع نمبر 24 ۔ آیات 189 ۔ تا۔ 206 جہاں تک علوم غیبیہ اور نفع و نقصان کا تعلق ہے تو یہ اوصاف تو اس ذات حمید کے ہیں جس نے تمہیں ایک وجود یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا اور ایسا کریم ہے کہ انسان کی نسل بقا کے لیے اسی وجود میں سے اس کا جوڑا یعنی حوا کو پیدا فرما کر ان میں باہمی محبت و الفت اور ایک لذت وصال رکھ دی کہ انسان نہ صرف بقائے نسل کا کام کرے بلکہ ایک دوسرے سے انس اور روحت بھی حاصل کریں۔ یہ اس کے احسانات ہیں۔ مگر انسانوں کا یہ حال ہے کہ مرد و عورت جمع ہوئے اور حمل قرار پا گیا اب خالق کو اس کا علم ہے جس کی پشت میں تھا وہ بیخبر رہا جس کے پیٹ میں پہنچا اسے پتہ نہیں بغیر کسی پرواہ کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی خدا سے ڈرنے والے لوگوں کے مقابلہ میں ان کافرو کا جو اپنی شرارت اور خیاثت نفس میں شیطان کے بھائی ہیں۔ حال یہ ہے کہ ان کو شیاطین گمراہی میں گھسیٹ کرلے جاتے ہیں اور ان کو بھٹکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ ( ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:202) اخوانھم۔ میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ الشیاطین کی طرف راجع ہے۔ ما قبل میں اگرچہ الشیطان (مفرد) استعمال ہوا ہے۔ لیکن یہاں اس سے مراد جنس شیطان ہے اس لئے یہاں ضمیر جمع لائی گئی ہے۔ یعنی اخوان الشیاطین ۔ وہ گروہ جو متقین کے متضاد ہے۔ یمدونھم۔ یمدون کا فاعل الشیاطین ہے اور ھم ضمیر کا مرجع اخوانھم (اخوان الشیاطین ہے) ۔ الغی۔ اسم فعل۔ گمراہی۔ بدراہی۔ غ و ی مادہ۔ ثم لا یقصرون۔ (انہیں پھر گمراہ کرنے میں وہ کوتاہی نہیں کرتے) مضارع منفی جمع مذکر غائب (باب افعال) اقصار سے وہ باز نہیں رہتے۔ وہ کمی نہیں کرتے ۔ وہ کوتاہی نہیں کرتے۔ اقصر عن الشیء کے معنی ہیں وہ اس چیز سے رک گیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 199–202

لغات القرآن۔ خذ۔ اختیار کر۔ العفو۔ درگزر کرنا۔ وامر بالعرف۔ اور نیک کا حکم کر۔ اعرض۔ منہ پھیر لے۔ پرواہ نہ کر۔ ینزغن۔ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے۔ نزغ۔ وسوسہ ۔ کوئی خیال۔ یمدون۔ وہ کھینچتے ہیں۔ الغی۔ گمراہی۔ لا یقصرون۔ وہ کمی نہیں کرتے ہیں۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو اخلاق کریمانہ کے مقا پر فائز فرمایا ہے۔ آپ کی شان یہ ہے کہ خلق عظیم آپ کی سیرت کا اعلیٰ ترین پہلو ہے، ۔ آپ نے دشمنوں کے ساتھ بھی کرم کے وہ اندازہ اختیار فرمائے ہیں جس کی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ آپ ساری کائنات کے لئے رحمت ہی رحمت ہیں لیکن زندگی میں بعض ایسے مواقع بھی آجایا کرتے ہیں جہاں انسانی جذباتی طور پر ہل کر رہ جاتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 202–203

کفار مکہ کو تنبیہ کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے طرح طرح کے معجزوں کی خواہش کرتے ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل فرمائی کہ اے رسول اللہ ﷺ کے ! جب تم ان کو ایسی نشانی دکھاتے ہو جو ان کی مرضی کے موافق ہو تو کہتے ہیں کہ تم نے اپنے جی سے یہ معجزہ گھڑلیا ہے مثلا شق القمر جیسے معجزہ کو جادو کا اثر بتلایا۔ اس لئے تم ان لوگوں سے کہ دو کہ میں اپنے جی سے کوئی کام نہیں کرسکتا میں خدا کا فرمانبردار ہوں۔ خدا جو وحی کے ذریعہ سے مجھ کو بتلادیتا ہے میں وہی کرتا ہوں۔ اور قرآن سے بڑھ کر کیا معجزہ ہوسکتا ہے اگر تم ایمان لانا چاہو تو یہی کا فی ہے، اور یہ قرآن پاک مومنوں کے واسطے بصیرت و ہدایت اور رحمت ہے اہل ایمان کے تین درجے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 195–203

[79] نشانی سے مراد ہے معجزہ۔ [80] یعنی جب تم نبی ٹھہرے تو سب کچھ تمہارے اختیار میں ہونا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 200–202

کشاکش نفس اور پیغمبر : (ف 1) نزع سے مراد وسوسہ اندازی ہے یعنی جب آپ کے دل میں ان لوگوں کی کجروی اور مخالفت کی وجہ سے شیطان غم وغصہ کی آگ بھڑکانا چاہئے ، تو آپ اللہ کی پناہ میں آجائیں وہ آپ کی دعاؤں کو سنتا اور آپ کے حالات کو جانتا ہے ۔ عصمت انبیاء کا مفہوم یہ نہیں کہ انبیاء کے دل میں خیالات کی کشاکش نہیں ہوتی یا نفس بشری بیکار ہوجاتا ہے ۔ عصمت کا مفہوم یہ ہے کہ انبیاء باوجود زبردست کشاکش نفسی کے پیغمبرانہ وظائف سے محروم نہیں ہوتے ، اور وہ ہر ترغیب وتحریص کو پوری قوت سے وہ کردیتے ہیں جس میں برائی کو ذرا بھی دخل ہو ، بھی ان کے دل میں بتقاضائے بشری وسوسہ اندازی ہوتی ہے ، مگر وہ باطنی قوت سے اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

202 اور وہ جو شیاطین کے بھائی یعنی شیاطین کے تابع اور فرمانبردار ہیں۔ ان کو شیاطین گمراہی میں کھینچے لئے چلے جاتے ہیں اور کوئی کوتاہی اور کمی نہیں کرتے۔ یعنی شیاطین ان کو گمراہی کی طرف گھسیٹنے اور لے جانے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے اور وہ تابع شیاطین کی فرمانبرداری میں کوئی کمی نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 200–202

ف 4۔ اما ینزغنک۔ کا مضمون مسئلہ عصمت انبیاء کے منافی نہیں کیونکہ عصمت کا حاصل یہ کہ شیطان گناہ نہیں کراسکتا یہ نہیں کہ گناہ کی رائے نہیں دے سکتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

شیطانوں کے بھائی بند گمراہی کی طرف دوڑے چلے جاتے ہیں : 231: فرمایا کچھ لوگ ایسے ہیں جو نہ اللہ سے ڈرتے ہیں اور نہ بدی سے بچنا چاہتے ہیں وہ وہی ہیں جن کو شیطان کی لاگ لگی ہوئی ہے ۔ ان کے نفس میں برے خیالات ، برے ارادے ، برے مقاصد پکتے رہتے ہیں اور وہ ان گندی چیزوں سے نفرت کی بجائے محبت کرنے لگتے ہیں اور وہ ان گندی چیزوں سے ذرا اکتاہٹ اپنے اندر محسوس نہیں کرتے ۔ ان کو کھانے کے لئے کوئی چٹ پٹی اور مزے دار چیز درکار ہوتی ہے اور حلال و حرام سے ان کو کوئی غرض نہیں ہوتی ۔ ان کو نفسانی خواہشات پورا کرنے کی غرض ہے ۔ جائز و ناجائز کی بحث ان کے ہاں کوئی شے نہیں ۔ بلا شبہ ان کے ڈھانچے انسانوں کے ہی ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 200–202

In the second verse, it was said: وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ ۚ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (And if you are stricken with a strike from the Shaitan, seek refuge with Allah - 200). This verse too is really a complement of the subject taken up in the first verse which instructs that the error made by the unjust and the ignorant should be forgiven and the evil done by them should not be answered by counter evil. This is heavy duty. In fact, doing something like this is most irksome and hard on human temperament. Particularly on occasions such as this, the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 197–202

150. Here some important directives are addressed to the Prophet (peace be on him) regarding how he should preach the Message of Islam and how he should guide and reform people. The object of these directives is not merely to instruct the Prophet (peace be on him), but also to instruct all those who would shoulder the same responsibility after the Prophet (peace be on him) was no longer amidst them. The major directives are as follows: (1) The most important qualities that must be cultivated by anyone who calls others to the truth are tenderness, magnanimity, and forbearing. Such a person…

Read the full tafseer →