Explained with ayahs 201–202
جو اللہ سے ڈرتا ہے۔ شیطان اس سے ڈرتا ہے
طائف کی دوسری قرأت طیف ہے۔ یہ دونوں مشہور قرأتیں ہیں دونوں کے معنی ایک ہیں بعض نے لفظی تعریف بھی کی ہے۔ فرمان ہے کہ وہ لوگ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں جنہیں اللہ کا ڈر ہے جو نیکیوں کے عامل اور برائیوں سے رکنے والے ہیں انہیں جب کبھی غصہ آجائے، شیطان ان پر اپنا کوئی داؤ چلانا چاہے، ان کے دل میں کسی گناہ کی رغبت ڈالے، ان سے کوئی گناہ کرانا چاہے تو یہ اللہ کے عذاب سے بچنے میں جو ثواب ہے اسے بھی یاد کرلیتے ہیں رب کے وعدے وعید کی یاد کرتے ہیں اور فوراً چوکنے ہوجاتے ہیں، توبہ کرلیتے ہیں، اللہ کی طرف جھک جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے شیطانی شر سے پناہ مانگنے لگتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–202
سورة الْاَعْرَاف 150
ان آیات میں نبی ﷺ کو دعوت تبلیغ اور ہدایت و اصلاح کی حکمت کے چند اہم نکات بتائے گئے ہیں اور مقصود صرف حضور ہی کو تعلیم دینا نہیں ہے بلکہ حضور کے ذریعہ سے ان سب لوگوں کو بھی حکمت سکھانا ہے جو حضور کے قائم مقام بن کر دنیا کو سیدھی راہ دکھانے کے لیے اٹھیں۔ ان نکات کو سلسلہ وار دیکھنا چاہیے۔
(1) داعی حق کے لیے جو صفات سب سے زیادہ ضروری ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسے نرم خو متحمل اور عالی ظرف ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے ساتھیوں کے لیے شفیق، عامتہ الناس کے لیے رحیم اور اپنے مخالفوں کے لیے حلیم ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے رفقا کی کمزوریوں کو بھی برداشت کرنا چاہیے اور اپنے مخالفین کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–202
دوسری آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ باللّٰهِ ۭاِنَّهٗ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ، یعنی اگر آپ کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آنے لگے تو اللہ سے پناہ مانگ لیں، وہ سننے والا جاننے والا ہے۔
درحقیقت یہ آیت بھی پہلی آیت کے مضمون کی تکمیل ہے کیونکہ اس میں جو ہدایت دی گئی ہے کہ ظلم کرنے والوں اور جہالت سے پیش آنے والوں کی خطا سے درگزر کریں، ان کی برائی کا جواب برائی سے نہ دیں، یہ بات انسانی طبیعت کے لئے سب سے زیادہ بھاری اور شاق ہے، خصوصا ایسے مواقع میں شیطان اچھے بھلے انسان کو بھی غصہ دلا کر لڑنے جھگڑنے پر آمادہ کر ہی دیتا ہے، اس لئے دوسری آیت میں یہ…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا هُمْ مُّبْصِرُوْنَ۔
اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا۔ اوپر خذ العفوا میں خطاب اگرچہ واحد سے ہے لیکن یہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، آنحضرت ﷺ واسطے سے تمام مسلمانوں سے چناچہ اس آیت میں جمع کے اسلوب نے اس مخفی حقیقت کو واضح کردیا۔ فرمایا کہ جو لوگ جہالت کے بجائے تقوی کی روش اختیار کرتے ہیں جب کبھی ان کو جاہلوں کی جہالت اور شیاطین کی شیطنت کا کوئی جھٹکا لگتا ہے تو وہ اپنے رب کو یاد کرتے ہیں جس سے فوراً ان کا باطن روشن ہوجاتا ہے اور اشرار و معاندین کی ساری خاکبازی کے باوجود ان کی راہ ان کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونے…
Read the full tafseer →21۔ 1 اس میں اہل تقویٰ کی بابت بتلایا گیا ہے کہ وہ شیطان سے چوکنا رہتے ہیں۔ طائف یا طیف، اس تخیل کو کہتے ہیں جو دل میں آئے یا خواب میں نظر آئے۔ یہاں اسے شیطانی وسوسے کے معنی میں استعمال کیا گیا، کیونکہ وسوسہ شیطانی بھی خیالی تصورات کے مشابہ ہے۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–202
101: گناہ کی خواہش نفس اور شیطان کے اثرات سے بڑے بڑے پرہیزگاروں کو بھی ہوتی ہے، لیکن وہ اس کا علاج اس طرح کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں، اس سے مدد مانگتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں، اور اس کی بارگاہ میں حاضری کا دھیان کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں، یعنی ان کو گناہ کی حقیقت نظر آجاتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ گناہ سے بچ جاتے ہیں، اور اگر کبھی غلطی ہو بھی جائے تو توبہ کی توفیق ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →قرآن کریم ایک داعی کی نفسیاتی تسلی کے لیے ایک دوسرا تاثر بھی دیتا ہے کہ داعی کی مشکلات اس کے حق میں اللہ کے نزدیک سامان قبولیت ہیں اور شیطان کے وسوسوں اور اکساہٹؤں کے دفعیے کے لیے اہم ہتھیار تقوی اور ذکر الٰہی ہے۔
۔۔۔۔
اس مختصر آیت میں عجیب تاثرات دئیے گئے ہیں۔ جو گہرے حقائق کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور یہ تاثرات قرآن کریم کے خوبصورت انداز کلام سے معلوم ہوتے ہیں۔ آیت کے آخر کو ذرا ملاحظہ فرمائیں۔ فاذا ھم مبصرون۔ " انہیں اچانک نظر آنے لگتا ہے کہ صحیح طریق کار کیا ہے "
یہ آخری فقرہ پوری آیت کو بیشمار معانی عطا کرتا ہے حالانکہ سابقہ آیات کے الفاظ میں ان معانی کے لیے کوئی لفظ اشارہ تک نہیں کرتا۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–202
5 پہلے تو تنہا حضور ﷺ کو خطاب تھا گو حکم استعاذہ میں سب شامل تھے اب عام متقین (خدا ترس پرہیزگاروں) کا حال بیان فرماتے ہیں یعنی عام متقین کے حق میں یہ محال نہیں کہ شیطان کا گزر ان کی طرف ہو، اور کوئی چرکہ لگا جائے۔ البتہ متقین کی شان یہ ہوتی ہے کہ شیطان کے اغواء سے ممتد غفلت میں نہیں پڑتے بلکہ ذرا غفلت ہوئی اور خدا کو یاد کر کے چونک پڑے ٹھوکر لگی اور معًا سنبھل گئے، سنبھلتے ہی آنکھیں کھل گئیں، غفلت کا پردہ اٹھ گیا۔ نیکی، بدی کا انجام سامنے نظر آنے لگا اور بہت جلد نازیبا کام سے رک گئے۔ باقی غیر متقین (جن کے دل میں خدا کا ڈر نہ ہو، اور جنہیں شیطان کی برادری کہنا چاہیے) ان کا حال یہ ہے کہ شیاطین…
Read the full tafseer →آیت 201 اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّہُمْ طٰٓءِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا
یعنی جن کے دلوں میں اللہ کا تقویٰ جاگزیں ہوتا ہے وہ ہر گھڑی اپنے فکر و عمل کا احتساب کرتے رہتے ہیں اور اگر کبھی عارضی طور پر غفلت یا شیطانی وسوسوں سے کوئی منفی اثرات دل و دماغ میں ظاہر ہوں تو وہ فوراً سنبھل کر اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ جیسے خود نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اِنَّہٗ لَیُغَانُ عَلٰی قَلْبِیْ وَاِنِّیْ لَاَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ فِی الْیَوْمِ ماءَۃَ مَرَّۃٍ 1 میرے دل پر بھی کبھی کبھی حجاب سا آجاتا ہے اور میں روزانہ سو سو مرتبہ اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ لیکن یہ سمجھ لیجیے کہ ہمارے دل پر حجاب اور شے…
Read the full tafseer →199 ربط مضمون کے لحاظ سے یہاں شیطانی انگیخت سے مراد ایسا شر یا شرارت سجھانا ہے جو کسی فتنہ و فساد پر منتج ہوتا ہو اور اس آیت میں روئے سخن آپ سے ہٹ کر تمام داعیان حق کی طرف ہوگیا ہے۔ مثلاً فلاں شخص نے جو تمہاری تردید کر کے یا دشنام طرازی کر کے تم پر جو وار کیا ہے اس کا تمہیں ضرور جواب دینا چاہیے اور شیطان کی طرف سے یہ وسوسہ داعی حق کے دل پر کئی دینی مصلحتوں کے خوبصورت لباس میں لپیٹ کر پیدا کیا جاتا ہے لیکن جب یہ اللہ سے ڈرنے والے داعی ایسے وسوسہ پر غور و فکر کرتے ہیں تو اس کے نتائج دیکھ کر ایک دم چونک پڑتے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے بروقت انہیں غلط کام کا انجام سجھا دیا اور…
Read the full tafseer →294 ۔ یعنی حقیقت امر ان پر منکشف ہوجاتی ہے مکاید شیطانی ان پر واضح ہوجاتے ہیں۔ اور وہ شیطانی خطرہ ان پراثر نہیں کرتا۔ (آیت) ” تذکروا “۔ یاد الہی میں لگ جاتے ہیں۔ یعنی دعاء استعاذہ وغیرہ کے ذریعہ سے اللہ کی عظمت کا استحضار کرکے اپنے ایمان کو تازہ کرلیتے ہیں۔ (آیت) ” طئف من الشیطن “۔ یعنی شیطان کی تحریک پر ان کے دلوں میں غصہ واشتعال یا اور کسی امرناجائز وناپسندیدہ کا جذبہ بھڑکنے لگتا ہے۔ الشیطن سے یہاں مراد جنس شیاطین ہے نہ کہ ذات ابلیس۔ والمراد بالشیطن ولذلک جمع ضمیرہ (بیضاوی) انما جمع الضمیر فی اخوانھم والشیطان مفرد لان المراد بہ جنس (مدارک) محققین نے لکھا ہے کہ وسوسہ شیطانی سے تقوی میں کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–206
آیت نمبر 189 تا 206
ترجمہ : وہ یعنی اللہ ہی ہے جس نے تم کو ایک جان یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا حوّاء کو پیدا کیا تاکہ اس سے سکون حاصل کرے اور اس سے الفت کرے، چناچہ جب اس کو ڈھانپ لیا یعنی اس سے مجامعت کی، اگر اس کو ہلکا سا حمل رہ گیا، اور اس بات سے خوفزدہ ہوئے کہ وہ (حمل) کوئی جانور نہ ہو تو انہوں نے اپنے رب اللہ سے دعاء کی، اگر آپ ہمیں نیک صحیح سالم بچہ عطا فرمائیں تو ہم اس پر آپ کے شکر گذار ہوں گے، چناچہ جب ان کو صحیح سالم اولاد دیدی تو دونوں (بیوی) نے (اللہ کے) عطا کردہ بچے کا نام عبدالحارث رکھ کر خدا کا شریک قراردیدیا، اور ایک قراءت میں شین کے کسرہ اور…
Read the full tafseer →ان الذین اتقوا اذا مسہم طئف من الشیطن تذکروا فا ا ہم مبصرون : بیشک جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں جب ان کو شیطانی وسوسہ جاتا ہے تو وہ یاد میں لگ جاتے ہیں سو یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
طائفیہ لفظ یاطافَ یَطُوْفُسے اسم فاعل کا صیغہ ہے اس سے مراد ایک شیطانی وسوسہ ہے گویا یہ وسوسہ اور شیطانی خیال اہل تقویٰ کے چہار سمت گھومتا ہے مگر متقیوں پر اثر انداز ہونے پر اس کا قابو نہیں چلتا۔ یاطاف بہ الخیال سے ماخوذ ہے اس کے اندر ایک تصویر خیالی آگئی (اس وقت طائف کا مادہ طیفٌ ہوگا طوفٌنہیں ہوگا)
من الشیطن اس سے مراد جنس شیطان ہے خواہ ایک ہو یا چند اسی لئے اخوَانُہُمْمیں جمع مذکر کی ضمیر الشیطان کی طرف راجع…
Read the full tafseer →(201) جو خدا سے ڈرتے ہیں جب ان کے دل میں کوئی خیال گزرتا ہے تو وہ اللہ کی یاد میں لگ جاتے ہیں اور گناہوں سے رک جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۗىِٕفٌ۔۔ : ”طٰۗىِٕفٌ“ ”طَافَ یَطُوْفُ“ کا معنی ہے گھومنا چکر لگانا، تو ”طٰۗىِٕفٌ“ وہ خیال جو ذہن میں آتا ہے، رات خواب میں آنے والا کسی کا خیال بھی ”طَیْفٌ“ یا ”طٰۗىِٕفٌ“ کہلاتا ہے۔ قاموس میں اس کا ترجمہ غضب بھی کیا گیا ہے۔ ”مَسَّ یَمَسُّ (ع)“ کا معنی ہے چھونا، یعنی شیطان کی طرف سے آنے والے خیال یا غصے کے چھونے کے ساتھ ہی انھیں اللہ تعالیٰ کا جلال، آخرت کی جوابدہی اور شیطان کی دشمنی یاد آجاتی ہے، جس سے فوراً ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں، ان میں بصیرت اور استقامت پیدا ہوجاتی ہے، وہ اسی وقت اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہوئے اس وسوسے، خیال یا غصے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–202
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : 1
قولہ تعالیٰ : آیت : ان الذین اتقوا (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 492) مراد شرک اور گناہ ہیں ( یعنی وہ لوگ جو شرک اور گناہوں کے ارتکاب سے مجتنب رہے ہیں) آیت : اذا مسھم طئف من الشیطن یہ اہل بصرہ اور اہل مکہ کی قراءت ہے۔ اور اہل مدینہ اور اہل کوفہ کی قراءت طائف ہے۔ اور حضرت سعید بن جبیر سے طیف یاء کی تشدید کے ساتھ مروی ہے۔ نحاس نے کہا ہے : اس کے مثل میں کلام عرب طیف تخفیف کے ساتھ ہے، اس بنا پر کہ یہ طاف یطیف کا مصدر ہے۔ کسائی نے کہا ہے : یہ طیف سے مخفف ہے جیسا کہ میت اور میت ہے۔ نحاس نے کہا ہے : لغت میں طیف کا معنی وہ وہم اور خیال ہے جو دل میں پیدا ہوتا ہے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–203
(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” ان الذین اتقوا “ سے مراد ہیں ایمان والے لوگ۔
(2) امام ابن ابی شیبہ عبد بن حمید، ابن ابی الدنیا نے ذم الغضب میں، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اذ مسھم طئف من الشیطن “ سے مراد ہے غصہ۔
(3) امام عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت ” اذا مستھم طیف من الشیطن من طائف “ الف کے ساتھ پڑھا ہے (پھر فرمایا) ” تذکروا “ یعنی کہ وہ برائی کا ارادہ کرتا ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا۔
(5) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” اذا مسھم…
Read the full tafseer →[ اِنَّ : یقینا ] [ الَّذِيْنَ : جو لوگ ] [ اتَّقَوْا : تقوی کرتے ہیں ] [ اِذَا : جب کبھی ] [ مَسَّهُمْ : چھوتا ہے ان کو ] [ طٰۗىِٕفٌ: کوئی وسوسہ ] [ مِّنَ الشَّيْطٰنِ : شیطان سے ] [ تَذَكَّرُوْا : تو وہ خود کو یاد کراتے ہیں ] [ فَاِذَا : پھر جب فورا ہی ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ مُّبْصِرُوْنَ : بینا ہونے والے ہوتے ہیں ]
Read the full tafseer →شیطان سے بچنے والوں اور شیطان کے دوستوں کا طریقہ
آیت بالا (وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ) میں فرمایا کہ جب شیطان کا وسوسہ آئے تو اللہ کی پناہ مانگئے، ان دو آیتوں میں شیطان سے بچنے والوں اور شیطان سے دوستی کرنے والوں کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ان کا طریقہ یہ ہے کہ جب شیطان ان کے دل میں کوئی وسوسہ ڈالے اور بہکانے کی کوشش کرے تو فوراً اللہ کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ ان کے عموم میں مطلقاً اللہ کا ذکر کرنا بھی شامل ہے اور اللہ کے عقاب وثواب کو ذہن میں لا کر شیطان کے وسوسوں سے بچنا اور ان پر عمل نہ کرنا بھی شامل ہے۔ اللہ کا ذکر شیطان کو دور کرنے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–202
اثبات توحید وابطال شرک
قال اللہ تعالیٰ ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ثم لا یقصرون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور کمال علم و حکمت کا ذکر تھا کہ وہی ہر نفع اور ضرر کا مالک ہے اور وہی عالم الغیب ہے اور شروع سورت میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہا السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اب سورت قریب الختم ہے اس لیے حضرت آدم اور حوا کا قصہ اجمالی طور پر دوبارہ ذکر فرماتے ہیں جس سے مقصود توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال ہے اگرچہ گزشتہ آیات میں بھی توحید خداوندی کا مختصر سا ذکر ہوا ہے لیکن ان آیات میں اس مضمون کو قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہی اللہ ہے جس…
Read the full tafseer →191: طائف سے وسسہ مراد ہے۔ اللہ سے پناہ مانگنا متقی اور نیک لوگوں کا دستور ہے۔ جب ان کے دل میں کوئی شیطانی وسوسہ آتا ہے تو فوراً ہوشیار ہوجاتے ہیں اور غلط اور صحیح کو فوراً پہچان لیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–203
ربط آیات
پہلے اللہ تعالیٰ نے شرک کرنے والوں کا رد کیا اور پھر اسی سلسلے میں مکارم اخلاق کی تعلیم دی ظاہر ہے کہ جب مشرکین کے کمزور دلائل کو رد کیا جائے گا تو وہ لاجواب ہو کر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئیں گے اور بےہودہ باتیں کرنے لگیں گے جاہلوں کا ہمیشہ یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب وہ دلائل کا سامنا کرنے سے عاجز آجاتے ہیں تو دنگا فساد اور گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں ایسی حرکات کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو فرمایا خذالعفو کہ آپ درگزر کرنے اور معاف کرنے کی عادت ڈالیں البتہ وامربالمعروف نیکی کی تلقین کرتے رہیں اور توحید کے دلائل دیتے رہیں گویا اللہ تعالیٰ نے مکارم اخلاق کی تعلیم دی حدیث شریف میں…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّہُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا ہُمْ مُّبْصِرُوْنَ 201 ۚ
تقوي
والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35]
التقویٰ
اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 198–201
ترکیب : وان شرطیہ تدعو شرط لا یسمعوا جواب ینظرون الیک مفعول ثانی وھم لایبصرون جملہ حال ہے فاعل ینظرون سے
واما شرط فاستعذباللّٰہ جواب از الخ جملہ محل علت میں ہے فاستعذ سے الذین موصول اتقوا صلہ مجموعہ اسم ان اذا مَسَّہُمْ شرط تذکروا جواب مجموعہ خبران النزغ الوسوسۃ وکذا النغز والنخس والنسغ۔
تفسیر : بت پرستی کرنے سے مشرکینِ کا حسن باطن جاتا رہا ہے اور اسی لئے سچی بات ان کے دل تک نہیں پہنچتی۔ یہاں اس کی تصویر کھینچی جاتی ہے کہ اگر تم ان کو ہدایت کی طرف بلاؤ تو وہ تمہاری بات ہی نہیں سنتے یعنی سماعت باطنی جاتی رہی باوجودیکہ اے نبی ! تجھ کو وہ ظاہر دیکھتے ہیں حالانکہ نہیں دیکھتے بصارت باطنی جاتی رہی…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْااِذَا مَسَّھُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا فَاِذَا ھُمْ مُّبْصِرُوْنَ ج
(الاعراف : 201)
بیشک جو لوگ متقی ہیں جب ان کو کوئی شیطانی چھوت لاحق ہونے لگتی ہے وہ اللہ کا دھیان کرتے ہیں اور دفعۃً ان کے دل روشن ہوجاتے ہیں۔
گزشتہ آیات میں خطاب واحد کے صیغہ سے براہ راست آنحضرت ﷺ سے تھا لیکن اس آیت میں جمع کے اسلوب نے یہ حقیقت منکشف کردی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے واسطہ سے تمام مسلمانوں کو سمجھانا مقصود ہے۔ لیکن جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں آنحضرت ﷺ کو چونکہ ایک نمونہ کے طور پر پیش کرنا تھا اس لیے سب سے پہلے ان سے خطاب فرمایا۔ اب اس آیت میں تمام امت مسلمہ کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–202
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی توحید بتلانے اور سمجھانے پر مشرک اور کافر اشتعال میں آکر بد کلامی کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں درگزر کرنے کا حکم۔
یہاں مبلغ کو چار ہدایات دی گئی ہیں۔
1۔ اختلاف اور اشتعال کے مقابلہ میں حوصلہ رکھنا اور درگزر کرنا۔
2۔ عرف کے مطابق تبلیغ کرنا۔
3۔ جہلا سے اعراض برتنا۔
4۔ انسان ہونے کے ناتے سے طبیعت میں غصہ اور اشتعال پیدا ہو تو شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنا۔
تبلیغ کے میدان میں ایک مبلغ کو ہر قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس لیے اسے سمجھ داری اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اگر دین کا کارکن اور مبلغ مشتعل ہوجائے تو کام آگے بڑھنے کے بجائے نہ صرف رک جاتا ہے…
Read the full tafseer →متقین کا وسوسہ میں طریق :
آیت 201: اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّھُمْ طٰٓپفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ (یقینا جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں جب ان کو کوئی شیطانی وسوسہ آجاتا ہے) قراءت : طَیْف مکی بصری، علی نے پڑھا۔ طائف کا معنی لمّہ، وسوسہ، اثر۔ یہ طاف بہ الخیال یطیف طیفا سے اس میں ایک تصویر خیالی آگئی۔ بقول ابو عمرو یہ دونوں ایک ہیں اور یہ وسوسہ ہے یہ دراصل اس کی تاکید ہے۔ جو اس سے قبل شیطان سے استعاذہ کو لازم قرار دیا گیا۔ جبکہ وہ کچو کا لگائے۔ متقین کی عادت ہے کہ جب ان کو معمولی سا شیطانی وسوسہ آتا ہے۔ یا آنے لگتا ہے۔ تَذَکَّرُوْا (وہ یاد میں لگ جاتے ہیں) اس کو یاد کرلیتے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →201 (ان الذین اتقوا اذا مسھم) یعنی مئومنین (طئف من الشیطن تذکروا فاذاھم مبصرون) ابن کثیر، اہل بصرہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” طیف “ پڑھا ہے ار دیگر حضرات نے (طائف) مد اور ہمزہ کے ساتھ اور یہ دو لغتیں ہیں جیسے میت اور مائت اور ان دونوں کا معنی وہ چیز جو تھے تکلیف پہنچائے اور ایک قوم نے ان دونوں کے درمیان فرق کیا ہے۔ ابو عمر و (رح) فرماتے ہیں (الطائف) جو کسی چیز کے اردگرد چکر لگائے اور ” الطیف “ وسوسہ اور بعض نے کہا ہے الطائف جو شیطان کی طرف سے وسوسہ آئے اور ” الطیف “ مس کرنا اور چونکا لگانا۔” تذکروا “ انہوں نے پہچانا۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں وہ شخص جو غصہ میں ہو پھر اللہ تعالیٰ کی یاد آئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–202
201۔ 202۔ اللہ پاک نے جب آنحضرت ﷺ کو یہ بتلا دیا کہ اگر تمہارے دل میں شیطان کوئی وسوسہ ڈالے تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنی چاہیے اس کے بعد اب عام لوگوں کے واسطے یہ بیان فرمایا کہ آدمی دو ہی قسم کے ہیں بعضے تو وہ ہیں جن کے دل میں خدا کا خوف ہے اور متقی ہیں گناہوں سے بچتے رہتے ہیں اور بعضے وہ جو کافر فاجر ہیں نہ ان کے دل میں خدا کا خوف ہے نہ وہ گناہوں سے بچتے ہیں تو اللہ پاک نے ان دونوں طرح کے آدمیوں کے حال کو یوں بیان فرمایا کہ جو لوگ متقی ہیں جب وہ شیطان کے وسوسہ میں پڑجاتے ہیں اور اس کے ورغلانے سے کوئی لغزش ان سے ہوجاتی ہے تو فورا وہ خدا کے عذاب کو یاد کر کے توبہ و استغفار کرلیتے ہیں ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–201
آیت 200
(ینزغنک من الشیطن نزع) ” ابھارے آپ کو شیطان کی چھیڑ “ یعنی کسی وقت اور کسی حال میں بھی اگر آپ شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ، بھلائی کے راستے میں رکاوٹ، برائی کی ترغیب اور اکتاہٹ محسوس کریں (فاستعذ باللہ) ” تو اللہ تعالیٰ کی پناہ لیجیے “ اور اس کی حفاظت میں آ کر محفوظ ہوجایئے (انہ سمیع) ” بیشک وہ سننے والا ہے۔ “ آپ جو کچھ کہتے ہیں اللہ اسے سنتا ہے۔ (علیم) ” جاننے والا ہے۔ “ آپ کی نیت، آپ کی کمزوری اور آپ کی پناہ لینے کی قوت کو خوب جانتا ہے، وہ آپ کو اس کے فتنے سے محفوظ رکھے گا اور آپ کو اس کے وسوسوں سے بچائے گا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے (آیت):” کہو میں پناہ مانگتا ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–203
نزغ شیطان کی حقیقت
قول باری ہے واما ینزغنک من الشیطان نزغ فاستعذباللہ انہ سمیع علیم۔ اور اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو وہ سننے اور جاننے والا ہے) نزع شیطان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ دل میں وسوسہ پیدا کر کے راہ راست سے بھٹکانے کی صورت میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ یہ زیادہ تر اس وقت ہوتا ہے جب انسان پر غصے اور غضب کا غلبہ ہوتا ہے۔ ایک قول ہے کہ اس لفظ کے اصل معنی برائی کی طرف اکسانے کے ہیں ۔ شر اور برائی کی طرف دعوت دینے والی خصلت کو کہا جاتا ہے کہ یہ نزغہ شیطانی ہے جب اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ شیطان ہمیں برائی پر اکسائے گا تو اس نے ہمیں اس کے مکروہ فریب اور اس کے شر سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–204
280 تقویٰ حفاظت و بچاؤ کا ذریعہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ سے ڈرنے اور اس کی نافرمانی و ناراضی سے بچنے والوں کو جب شیطان کی طرف سے کوئی خیال چھو جاتا ہے تو وہ فورا چونک جاتے ہیں۔ اور چونک کر وہ اس " عُدوِّ مُبِیْن " کے وار سے محفوظ ہوجاتے ہیں پس تقویٰ حفاظت کا ذریعہ اور عظیم بچاؤ ہے شیطان کے وار سے ۔ اللہ نصیب فرمائے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اس دولت تقویٰ سے سرشار رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری حفاظت و بچاؤ کا اہم ذریعہ و وسیلہ ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ جہالت کی بجائے تقویٰ و پرہیزگاری کی روش کو اپناتے ہیں، ان کو شیطان کی طرف سے جب کوئی اُکساہٹ پیش آتی ہے تو وہ فورًا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–203
انسان کی حقیقت اور مشرکوں کے طریقے
تشریح : یوں تو پورا قرآن پاک ہی ہدایت اور رہنمائی سے بھرا پڑا ہے۔ مگر ان آیات میں خاص طور سے پھر انسان کو اپنی پیدائش کا طریقہ بتایا گیا ہے اور پھر گھریلو زندگی اور پرسکون خاندان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) بغیر باپ اور ماں کے اللہ کی قدرت سے پیدا ہوئے سیدہ سیدنا حوا (علیہا السلام) ان سے پیدا ہوئیں مگر بغیر ماں کے، سیدنا عیسیٰ بغیر باپ کے اور پھر اس کے بعد نسل انسانی ماں اور باپ دونوں کے میاں بیوی بن کر آپس کے ملاپ سے مگر اللہ کی قدرت سے بڑھنی شروع ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ جب میاں اور بیوی میں شادی کا رشتہ بن جاتا ہے تو پھر دونوں ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–206
رکوع نمبر 24 ۔ آیات 189 ۔ تا۔ 206
جہاں تک علوم غیبیہ اور نفع و نقصان کا تعلق ہے تو یہ اوصاف تو اس ذات حمید کے ہیں جس نے تمہیں ایک وجود یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا اور ایسا کریم ہے کہ انسان کی نسل بقا کے لیے اسی وجود میں سے اس کا جوڑا یعنی حوا کو پیدا فرما
کر ان میں باہمی محبت و الفت اور ایک لذت وصال رکھ دی کہ انسان نہ صرف بقائے نسل کا کام کرے بلکہ ایک دوسرے سے انس اور روحت بھی حاصل کریں۔ یہ اس کے احسانات ہیں۔
مگر انسانوں کا یہ حال ہے کہ مرد و عورت جمع ہوئے اور حمل قرار پا گیا اب خالق کو اس کا علم ہے جس کی پشت میں تھا وہ بیخبر رہا جس کے پیٹ میں پہنچا اسے پتہ نہیں بغیر کسی پرواہ کے…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی اسی وقت شیطان سے تعوذ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس وسوسہ اور خیالک کی اتباع کو چھوڑ دیتے ہیں۔ واضح رہ کہ نزغہ وسوسہ کی ابتدائی حالت کو کہتے ہیں اور اس سے متاثر ہونا ضروری نہیں ہے مگر طائف اس سوسہ کو کہتے ہیں جو انسان کے دل پر اثر انداز بھی ہوجائے کبیر)3 یعی ان میں بصیرت اور استقا مت کی حالت پیدا ہوجاتی ہے اور اس اقدام سے باز رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →(7:201) مسھم۔ من یمس (باب نصر) ماضی واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وہ ان کو چھوجائے۔ وہ ان کو پہنچائے۔ وہ ان کو الگ جائے۔ کبھی اس سے مراد قربت صنفی (جماع) بھی ہوتی ہے۔ مثلاً وان طلقتموھن من قبل ان تمسوہن (2:237) اور اگر تم عورتوں کو ان سے مجامعت سے پہلے طلاق دیدو۔ لازم اور متعدی دونوں صورتوں میں استعمال ہوتا ہے۔
طئف۔ وسوسہ۔ خطرہ ۔ پھرجانے والا۔ پھیرے جانے والا۔ پہلے معنی مجازی ہیں۔ اور دوسرے حقیقی طئف طوف سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ طوف کے معنی کسی چیز کے گرد چکر کاٹنا۔ قرآن میں ہے ۔ فلا جناھ علیہ ان یطوف بھما (2:158) اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے (اسی طرح خانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–202
لغات القرآن۔
خذ۔ اختیار کر۔ العفو۔ درگزر کرنا۔ وامر بالعرف۔ اور نیک کا حکم کر۔ اعرض۔ منہ پھیر لے۔ پرواہ نہ کر۔ ینزغن۔ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے۔ نزغ۔ وسوسہ ۔ کوئی خیال۔ یمدون۔ وہ کھینچتے ہیں۔ الغی۔ گمراہی۔ لا یقصرون۔ وہ کمی نہیں کرتے ہیں۔
تشریح :
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو اخلاق کریمانہ کے مقا پر فائز فرمایا ہے۔ آپ کی شان یہ ہے کہ خلق عظیم آپ کی سیرت کا اعلیٰ ترین پہلو ہے، ۔ آپ نے دشمنوں کے ساتھ بھی کرم کے وہ اندازہ اختیار فرمائے ہیں جس کی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ آپ ساری کائنات کے لئے رحمت ہی رحمت ہیں لیکن زندگی میں بعض ایسے مواقع بھی آجایا کرتے ہیں جہاں انسانی جذباتی طور پر ہل کر رہ جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–201
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ متقی ہیں، جب وہ شیطان کے وسوسہ میں پڑجاتے ہیں اور اس کے ورغلانے سے کوئی لغزش ان سے ہوجاتی ہے، تو وہ فورا خدا کے عذاب کو یاد کر کے توبہ و استغفار کرلیتے ہیں۔ یہ لوگ صاحب بصیرت ہیں، ان کے دلوں کے اندر آنکھیں ہیں جن سے یہ خدا کو دیکھتے ہیں اور پہچانتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس دوسری قسم کے آدمیوں کا حال بیان فرمایا کہ جو لوگ کافر فاجر ہیں وہ اخوان الشیاطین ہیں۔ شیطان ان کو ہمیشہ گمراہی کی طرف کھینچتا چلا جاتا ہے اور یہ بھی اس کے ساتھ کھنچے جاتے ہیں۔ نہ شیطان ان کے بہکانے میں کمی کرتا ہے نہ یہ لوگ اس کی پیروی میں کمی کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–203
[79] نشانی سے مراد ہے معجزہ۔
[80] یعنی جب تم نبی ٹھہرے تو سب کچھ تمہارے اختیار میں ہونا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–202
کشاکش نفس اور پیغمبر :
(ف 1) نزع سے مراد وسوسہ اندازی ہے یعنی جب آپ کے دل میں ان لوگوں کی کجروی اور مخالفت کی وجہ سے شیطان غم وغصہ کی آگ بھڑکانا چاہئے ، تو آپ اللہ کی پناہ میں آجائیں وہ آپ کی دعاؤں کو سنتا اور آپ کے حالات کو جانتا ہے ۔
عصمت انبیاء کا مفہوم یہ نہیں کہ انبیاء کے دل میں خیالات کی کشاکش نہیں ہوتی یا نفس بشری بیکار ہوجاتا ہے ۔
عصمت کا مفہوم یہ ہے کہ انبیاء باوجود زبردست کشاکش نفسی کے پیغمبرانہ وظائف سے محروم نہیں ہوتے ، اور وہ ہر ترغیب وتحریص کو پوری قوت سے وہ کردیتے ہیں جس میں برائی کو ذرا بھی دخل ہو ، بھی ان کے دل میں بتقاضائے بشری وسوسہ اندازی ہوتی ہے ، مگر وہ باطنی قوت سے اس…
Read the full tafseer →201 بلاشبہ جو لوگ صاحب تقویٰ اور خدا ترس ہوتے ہیں جب کبھی ان کو کوئی خطرہ اور وسوسہ شیطان کی طرف سے محسوس ہوتا ہے اور شیطانی خیال ان کے قلب کو چھوتا ہے تو وہ چونک جاتے ہیں اور ہوشیار ہوجاتے ہیں اور خدا کو یاد کرنے لگتے ہیں اور یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان کی آنکھوں سے غفلت کا پردہ ہٹ جاتا ہے۔ یعنی عام طور سے لوگ شیطانی وسوسوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں لیکن اہل تقویٰ پر جب اس قسم کا کوئی وسوسہ گزرتا ہے تو وہ خدا کو یاد کرنے لگتے ہیں یا گناہ کے انجام کو یاد کرکے چونک جاتے ہیں اور ان کو صحیح راہ نظر آنے لگتی ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) سمیع علیم پر فرماتے ہیں یعنی نیک کام کو کہئے اور جاہلوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–202
ف 4۔ اما ینزغنک۔ کا مضمون مسئلہ عصمت انبیاء کے منافی نہیں کیونکہ عصمت کا حاصل یہ کہ شیطان گناہ نہیں کراسکتا یہ نہیں کہ گناہ کی رائے نہیں دے سکتا۔
Read the full tafseer →متقی لوگ شیطان کی وسوسہ اندازی سے فورا چونک اٹھتے ہیں :
230: خطاب اگرچہ نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن آپ ﷺ کے واسطہ سے تمام انسانیت کے لئے یہ حکم ہے کہ جو لوگ جہالت کی بجائے تقویٰ کی روش اختیار کرتے ہیں جب کبھی ان کو جاہلوں اور شیاطین کی شیطنت کو کوئی جھٹکا لگتا ہے تو وہ اپنے رب کو یاد کرتے ہیں جس سے فورا ان کا باطن روشن ہوجاتا ہے اور سارے خبیثوں کی خباثت کے باوجود ان کی راہ ان کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونے پاتی اور اس طرح وہ شیطان کی وسوسہ اندازی سے فورا چونک جاتے ہیں اور ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان کو صاف دکھائی دینے لگتا ہے کہ ان کے لئے صحیح طریق کار کیا ہے ، انسان کی زندگی میں بعض اوقات نہایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–202
In the second verse, it was said: وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ ۚ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (And if you are stricken with a strike from the Shaitan, seek refuge with Allah - 200).
This verse too is really a complement of the subject taken up in the first verse which instructs that the error made by the unjust and the ignorant should be forgiven and the evil done by them should not be answered by counter evil. This is heavy duty. In fact, doing something like this is most irksome and hard on human temperament. Particularly on occasions such as this, the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–202
150. Here some important directives are addressed to the Prophet (peace be on him) regarding how he should preach the Message of Islam and how he should guide and reform people. The object of these directives is not merely to instruct the Prophet (peace be on him), but also to instruct all those who would shoulder the same responsibility after the Prophet (peace be on him) was no longer amidst them. The major directives are as follows:
(1) The most important qualities that must be cultivated by anyone who calls others to the truth are tenderness, magnanimity, and forbearing. Such a person…
Read the full tafseer →