Explained with ayahs 199–200
اچھے اعمال کی نشاندہی
ابن عباس فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ان سے وہ مال لے جو ان کی ضرورت سے زیادہ ہوں اور جسے یہ بخوشی اللہ کی راہ میں پیش کریں۔ پہلے چونکہ زکوٰۃ کے احکام بہ تفصیل نہیں اترے تھے اس لئے یہی حکم تھا۔ یہ بھی معنی کئے گئے ہیں کہ ضرورت سے زائد چیز اللہ کی راہ میں خرچ کردیا کرو۔ یہ بھی مطلب ہے کہ مشرکین سے بدلہ نہ لے دس سال تک تو یہی حکم رہا کہ درگذر کرتے ہو پھر جہاد کے احکام اترے۔ یہ بھی مطلب ہے کہ لوگوں کے اچھے اخلاق اور عمدہ عادات جو ظاہر ہوں انہی پر نظریں رکھ ان کے باطن نہ ٹٹول، تجسس نہ کرو۔ حضرت عبداللہ بن زبیر وغیرہ سے بھی یہی تفسیر مروی ہے یہی قول زیادہ مشہور ہے حدیث میں ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–202
سورة الْاَعْرَاف 150
ان آیات میں نبی ﷺ کو دعوت تبلیغ اور ہدایت و اصلاح کی حکمت کے چند اہم نکات بتائے گئے ہیں اور مقصود صرف حضور ہی کو تعلیم دینا نہیں ہے بلکہ حضور کے ذریعہ سے ان سب لوگوں کو بھی حکمت سکھانا ہے جو حضور کے قائم مقام بن کر دنیا کو سیدھی راہ دکھانے کے لیے اٹھیں۔ ان نکات کو سلسلہ وار دیکھنا چاہیے۔
(1) داعی حق کے لیے جو صفات سب سے زیادہ ضروری ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسے نرم خو متحمل اور عالی ظرف ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے ساتھیوں کے لیے شفیق، عامتہ الناس کے لیے رحیم اور اپنے مخالفوں کے لیے حلیم ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے رفقا کی کمزوریوں کو بھی برداشت کرنا چاہیے اور اپنے مخالفین کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–202
دوسری آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ باللّٰهِ ۭاِنَّهٗ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ، یعنی اگر آپ کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آنے لگے تو اللہ سے پناہ مانگ لیں، وہ سننے والا جاننے والا ہے۔
درحقیقت یہ آیت بھی پہلی آیت کے مضمون کی تکمیل ہے کیونکہ اس میں جو ہدایت دی گئی ہے کہ ظلم کرنے والوں اور جہالت سے پیش آنے والوں کی خطا سے درگزر کریں، ان کی برائی کا جواب برائی سے نہ دیں، یہ بات انسانی طبیعت کے لئے سب سے زیادہ بھاری اور شاق ہے، خصوصا ایسے مواقع میں شیطان اچھے بھلے انسان کو بھی غصہ دلا کر لڑنے جھگڑنے پر آمادہ کر ہی دیتا ہے، اس لئے دوسری آیت میں یہ…
Read the full tafseer →وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ ۭاِنَّهٗ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ نزغ کے معنی چرکا لگانا، کچوکا لگانا، زخم پہنچانا۔ یہ تدبیر بیان ہوئی ہے۔ روش عفو پر قائم رہنے اور جاہلوں کی روش سے اعراض اور ان کے کچوکوں اور طعنوں کے صدمات سے اپنے دل کو محفوظ رکھنے کی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان شیاطین جن و انس کی ہرزہ سرائیوں اور خاکبازیوں سے دل کو کوئی صدمہ پہنچے تو اپنے رب کی پناہ ڈھونڈو، تمہار رب سمیع وعلیم ہے، تم جب بھی اس کی طرف رجوع کرتے ہو وہ تمہاری دعائیں اور فریادیں سنتا، تمہارے حالات اور پریشانیوں کو جانتا ہے اور شیاطین کی فتنہ انگیزیوں اور چیرہ دستیوں سے بھی وہ اچھی طرح…
Read the full tafseer →20۔ 1 اور اس موقع پر اگر آپ کو شیطان اشتعال میں لانے کی کوشش کرے تو آپ اللہ کی پناہ طلب فرمائیں۔
Read the full tafseer →100: کچوکے سے مراد وسوسہ ہے اور اس آیت نے ہر مسلمان کو یہ تعلیم دی ہے کہ جب کبھی شیطان دل میں کوئی برے خیال کا وسوسہ ڈالے تو فوراً اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے اس بات کا ذکر خاص طور پر در گذر کا رویہ اپنانے کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں در گذر کرنے کی فضیلت ہے وہاں بھی اگر شیطانی اثر سے کبھی کسی کو غصہ آجائے تو اس کا علاج بھی اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا ہے۔
Read the full tafseer →لیکن رسول اللہ ﷺ بہرحال بشر تھے۔ بارہا ایسا ہوتا تھا کہ جاہلوں کی جہالت کی وجہ سے آپ غصہ ہوجاتے تھے۔ بعض احمق اور سفیہ اس قسم کے افعال کا ارتکاب کرتے تھے کہ وہ آپ کے لیے ناقابل برداشت ہوتے تھے ، اور اگرچہ آپ ان کو برداشت ہی کرلیتے لیکن آپ کے بعد آنے والے اصحاب دعوت ہوسکتا ہے کہ اس قدر برداشت کا مادہ نہ رکھتے ہوں ، ایسے حالات میں شیطان اکساتا اور ورغلاتا ہے۔ اور نفس انسانی جوش میں آکر بےقابو ہوجاتا ہے لہذا اللہ تعالیٰ پیغمبر ﷺ اور آپ کے بعد تمام داعیوں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ اعوذ باللہ کے ذریعے اپنے غضب اور جوش پر قابو پانے کی سعی کریں تاکہ شیطان اپنی راہ لے۔
وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–200
4 خُذِ الْعَفْوَ ، کے معنی کئے گئے ہیں۔ اکثر کا حاصل یہ ہے کہ سخت گیری اور تندخوئی سے پرہیز کیا جائے اسی کو مترجم محقق نے " درگزر کی عادت " سے تعبیر فرمایا ہے۔ گزشتہ آیات میں بت پرستوں کی جو تحمیق و تجہیل کی گئی تھی بہت ممکن تھا کہ جاہل مشرکین اس پر برہم ہو کر ناشائستہ حرکت کرتے یا برا لفظ زبان سے نکالتے، اس لیے ہدایت فرما دی کہ عفو و درگزر کی عادت رکھو، نصیحت کرنے سے مت رکو، معقول بات کہتے رہو اور جاہلوں سے کنارہ کرو یعنی ان کی جہالت آمیز حرکتوں پر روز روز سے الجھنے کی ضرورت نہیں۔ جب وقت آئے گا ذرا سی دیر میں ان کا سب حساب بےباق ہوجائے گا۔ اور اگر کسی وقت بمقتضائے بشریت ان کی کسی نالائق حرکت…
Read the full tafseer →آیت 200 وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ باللّٰہِطاِنَّہٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ۔
نزع اور نزغ ملتے جلتے حروف والے دو مادے ہیں ‘ ان میں صرف ع اور غ کا فرق ہے۔ نزع کھینچنے کے معنی دیتا ہے جبکہ نزغ کے معنی ہیں کچوکا لگانا ‘ اکسانا ‘ وسوسہ اندازی کرنا۔ یعنی اگر بر بنائے طبع بشری کبھی جذبات میں اشتعال اور غصہ آہی جائے تو فوراً بھانپ لیں کہ یہ شیطان کی جانب سے ایک چوک ہے ‘ چناچہ فوراً اللہ کی پناہ مانگیں۔ جیسا کہ غزوۂ احد میں حضور ﷺ کو غصہ آگیا تھا اور آپ ﷺ کی زبان مبارک سے ایسے الفاظ نکل گئے تھے : کَیْفَ یُفْلِحُ قَوْمٌ خَضَبُوْا وَجْہَ نَبِیِّھِمْ بالدَّمِ وَھُوَ…
Read the full tafseer →198 یہ دراصل چوتھی ہدایت ہے کہ اگر کسی وقت معترضین کے اعتراضات یا مخالفین کی شرارتوں پر اشتعال آ بھی جائے تو سمجھ لو کہ یہ شیطان کی انگیخت ہے کیونکہ شیطان تو چاہتا ہی یہ ہے کہ دعوت حق کے راستے میں مختلف طریقوں سے رکاوٹیں کھڑی کر دے تو اسی وقت اللہ سے شیطان مردود سے پناہ مانگنا چاہیے کہ وہ اسے جوش میں بےقابو ہونے سے بچا لے اور اللہ چونکہ سمیع علیم ہے لہذا وہ آپ کے دل سے ایسے خیال کو دور کر دے گا۔
Read the full tafseer →293 ۔ اس لیے آپ کے استعاذہ کو خوب سنے گا اور آپ کے مقصود کو خوب سمجھے گا۔ (آیت 9” من الشیطن نزغ “۔ نزغہ شیطانی سے یہاں مراد طبیعت میں اس غصہ واشتعال کا پیدا ہونا اور اس کے مقتضا پر عمل کرنا ہے، جو مشرکوں اور جاہلوں کی پیہم اشتعال انگیزیوں سے پیدا ہونا تقریبا ایک امر طبعی تھا لیکن اس پر عمل کرنے سے مصالح انتظامی میں فرق پڑنے کا بھی احتمال تھا۔ نزغ الشیطان وساوسہ (قرطبی) الا غواء بالوسوسۃ و اکثر ما یکون عند الغضب (جصاص) (آیت) ” اما ینزغنک من الشیطن نزغ “۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ آیا پیغمبر کے لیے نزع شیطانی ممکن بھی ہے ؟ سیدھا اور صاف جواب یہ کہ ممکن کیوں نہیں پیغمبر سے صرف صدور معصیت ممتنع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–206
آیت نمبر 189 تا 206
ترجمہ : وہ یعنی اللہ ہی ہے جس نے تم کو ایک جان یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا حوّاء کو پیدا کیا تاکہ اس سے سکون حاصل کرے اور اس سے الفت کرے، چناچہ جب اس کو ڈھانپ لیا یعنی اس سے مجامعت کی، اگر اس کو ہلکا سا حمل رہ گیا، اور اس بات سے خوفزدہ ہوئے کہ وہ (حمل) کوئی جانور نہ ہو تو انہوں نے اپنے رب اللہ سے دعاء کی، اگر آپ ہمیں نیک صحیح سالم بچہ عطا فرمائیں تو ہم اس پر آپ کے شکر گذار ہوں گے، چناچہ جب ان کو صحیح سالم اولاد دیدی تو دونوں (بیوی) نے (اللہ کے) عطا کردہ بچے کا نام عبدالحارث رکھ کر خدا کا شریک قراردیدیا، اور ایک قراءت میں شین کے کسرہ اور…
Read the full tafseer →واما ینزغنک من الشیطن نزغ فاستعذ باللہ انہ سمیع علیم : اور اگر شیطان کی طرف سے وسوسہ آنے لگے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کیجئے۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔
واما ینزغنک۔ اِمَّا میں ما زائد ہے اِنْشرطیہ ہے نَزْغٌکا معنی ہے انگلیوں کے پوروں سے کچو کا دینا ٹھوکا دینا۔ اس جگہ مراد ہے شر پر برانگیختہ کرنا ‘ ابھارنا ‘ وسوسہ ڈالنا۔
عبدالرحمن بن زید کا بیان ہے جب آیت خذ العفونازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے عرض کیا میرے رب سخت غصہ (کی حالت) ہو تو عفو کی کیا صورت ہوگی اس پر آیت (وما ینزغنک من الشیطن نزغ۔۔ ) نازل ہوئی۔
فاستعذ باللّٰہتو اللہ سے بچاؤ کی طلب کرو اللہ کی پناہ مانگو۔ امر…
Read the full tafseer →(200) اور اگر کوئی وسوسہ غصہ کا آنے لگے تو شیطان کے وسوسہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگیے وہ اچھی طرح سننے والا اور آپ کے وسوسہ کے خیالات کو جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ۔۔ : قرآن میں تین مقامات پر معروف کا حکم دینے، درگزر کرنے، بہترین طریقے سے جواب دینے اور جاہلوں سے اعراض کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک پچھلی آیت میں، دوسرا سورة مومنون (96 تا 98) میں اور تیسرا حم السجدہ (34 تا 36) میں اور حم السجدہ میں اس کا فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ دشمن بھی متاثر ہو کر دلی دوست کی طرح ہوجائے گا، مگر شیطان پر احسان کسی طرح اثر انداز نہیں ہوتا، کیونکہ وہ کھلا دشمن ہے اور ہر موقع پر انسان کو اکساتا اور غصہ دلاتا ہے۔ اس شیطانی حملے کا مقابلہ انسان کے بس کی بات نہیں، اس لیے تینوں آیات میں حکم دیا کہ اگر معلوم ہو کہ شیطان مجھے بھڑکا رہا ہے،…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 200
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : 1
جب ارشاد باری تعالیٰ : آیت : خذ العفو نازل ہوا تو حضور ﷺ نے کہا : اے میرے رب ! کیسے غصہ سے بچ سکتا ہوں ؟ تب یہ آیت نازل ہوئی آیت : واما ینزغنک اور نزغ الشیطان سے مراد اس کے وساوس ہیں۔ اس میں دو لغتیں ہیں : نزغ اور نغز۔ کہا جاتا ہے : ایاک والنزاغ والنغاز وساوس سے بچ، درآنحالیکہ وہ ( فساد پر) بھڑکانے اور ابھارنے والے ہیں۔ زجاج نے کہا ہے : النزغ سے مراد تھوڑی سی حرکت ہوتی ہے اور شیطان کی طرف سے ادنی سا وسوسہ ہوتا ہے۔
حضرت سعید بن مسیب ؓ نے بیان فرمایا : میں حضرت عثمان اور حضرت علی ؓ کے پاس حاضر تھا اور ان کے درمیان شیطان کی جانب سے وسوسہ پیدا…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) ” خذ العفوا وامر بالعرف واعرض عن الجھلین “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے میرے رب غصہ کے وقت کس طرح کریں ! تو (یہ آیت) ” واما ینزغنک من الشیطن “ نازل ہوئی۔ (یعنی جب آپ کو یطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پہنچے تو فورا اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگیں) ۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واما ینزغنک من الشیطن “ سے مراد ہے کہ یہ دشمن وسوسہ اندازی کو چاہنے اور اس کا ارادہ کرنے والا ہے۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے ”…
Read the full tafseer →[ وَاِمَّا : اور اگر ] [ يَنْزَغَنَّكَ : اکسائے ہی آپ کو ] [ مِنَ الشَّيْطٰنِ : شیطان سے ] [ نَزْغٌ: کوئی اکساہٹ ] [ فَاسْتَعِذْ : تو آپ پناہ مانگیں ] [ بِاللّٰهِ : اللہ سے ] [ ۭاِنَّهٗ : یقینا وہ ] [ سَمِيْعٌ: سننے والا ہے ] [ عَلِيْمٌ: جاننے والا ہے ]
ن ز غ ۔ (ف) : نزغ بگاڑ پیدا کرنا ۔ (1) کسی کو کسی کے خلاف ابھارنا ۔ ناچاقی پیدا کرنا ۔ ان الشیطن ینزغ بینہم [ بیشک شیطان ناچاقی ڈالتا ہے ان کے مابین ] 17: 53 ۔ (2) کسی غلط کام پر اکسانا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 200 ۔ نزغ ، اسم ذات بھی ہے ۔ ناچاقی ۔ اکساہٹ ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 200 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–200
اخلاق عالیہ کی تلقین اور شیطان کے وسوسے آنے پر اللہ تعالیٰ کی پناہ لینے کا حکم
پہلی آیت میں تین باتوں کا حکم دیا اوّل یہ کہ معاف کیا کیجیے، دوسرا یہ کہ بھلائی کا حکم کیجیے اور تیسرا یہ کہ جاہلوں سے اعراض کیجیے۔ اس آیت شریفہ میں مکارم اخلاق بیان فرمائے ہیں۔ صحیح بخاری ص 669 ج 2 میں حضرت عبداللہ بن الزبیر ؓ سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا ہے کہ لوگوں کے ساتھ برتاؤ کرنے میں معافی کا رویہ اختیار فرمائیں۔ تفسیر ابن کثیر ص 667 ج 2 میں ہے کہ آیت بالا نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرائیل سے سوال فرمایا کہ اس آیت کا کیا مطلب ہے ؟ حضرت جبرائیل نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–202
اثبات توحید وابطال شرک
قال اللہ تعالیٰ ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ثم لا یقصرون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور کمال علم و حکمت کا ذکر تھا کہ وہی ہر نفع اور ضرر کا مالک ہے اور وہی عالم الغیب ہے اور شروع سورت میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہا السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اب سورت قریب الختم ہے اس لیے حضرت آدم اور حوا کا قصہ اجمالی طور پر دوبارہ ذکر فرماتے ہیں جس سے مقصود توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال ہے اگرچہ گزشتہ آیات میں بھی توحید خداوندی کا مختصر سا ذکر ہوا ہے لیکن ان آیات میں اس مضمون کو قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہی اللہ ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–200
190: یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ “ وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّکَ الخ ”، “ نَزْغٌ ” سے شیطان کا وسوسہ ڈالنا مراد ہے۔ یعنی میں نے جو احکام صادر کیے ہیں۔ اگر شیطان ان کی مخالفت کا وسوسہ ڈالنے کی کوشش کرے تو آپ اللہ سے پناہ مانگیں۔ اس میں خطاب آنحضرت ﷺ کو ہے۔ مگر مراد آپ کی وساطت سے ہر مخاطب ہے۔ “ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ” یہ ما قبل کی علت ہے “ اي ینخسنک بان یحملک بوسوة علی ما لا لیق فاطلب العیاذة بالله منه ” (بحر ج 4 ص 448) ۔ حم اسلجدة رکوع 5 میں ہے۔ “ اِنَّه ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ” یہاں ضمیر فصل اور خبر پر لام تعریف مفید حصر ہے یعنی چونکہ اللہ ہی سننے والا اور جاننے والا ہے اس لیے اسی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–203
ربط آیات
پہلے اللہ تعالیٰ نے شرک کرنے والوں کا رد کیا اور پھر اسی سلسلے میں مکارم اخلاق کی تعلیم دی ظاہر ہے کہ جب مشرکین کے کمزور دلائل کو رد کیا جائے گا تو وہ لاجواب ہو کر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئیں گے اور بےہودہ باتیں کرنے لگیں گے جاہلوں کا ہمیشہ یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب وہ دلائل کا سامنا کرنے سے عاجز آجاتے ہیں تو دنگا فساد اور گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں ایسی حرکات کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو فرمایا خذالعفو کہ آپ درگزر کرنے اور معاف کرنے کی عادت ڈالیں البتہ وامربالمعروف نیکی کی تلقین کرتے رہیں اور توحید کے دلائل دیتے رہیں گویا اللہ تعالیٰ نے مکارم اخلاق کی تعلیم دی حدیث شریف میں…
Read the full tafseer →وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ 0 ۭ اِنَّہٗ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ 200
نزع
نَزَعَ الشیء : جَذَبَهُ من مقرِّه كنَزْعِ القَوْس عن کبده، ويُستعمَل ذلک في الأعراض، ومنه : نَزْعُ العَداوة والمَحبّة من القلب . قال تعالی:
وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] . وَانْتَزَعْتُ آيةً من القرآن في كذا، ونَزَعَ فلان کذا، أي : سَلَبَ. قال تعالی: تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] ، وقوله : وَالنَّازِعاتِ غَرْقاً [ النازعات/ 1] قيل : هي الملائكة التي تَنْزِعُ الأرواح عن الأَشْباح، وقوله :إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً فِي يَوْمِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 198–201
ترکیب : وان شرطیہ تدعو شرط لا یسمعوا جواب ینظرون الیک مفعول ثانی وھم لایبصرون جملہ حال ہے فاعل ینظرون سے
واما شرط فاستعذباللّٰہ جواب از الخ جملہ محل علت میں ہے فاستعذ سے الذین موصول اتقوا صلہ مجموعہ اسم ان اذا مَسَّہُمْ شرط تذکروا جواب مجموعہ خبران النزغ الوسوسۃ وکذا النغز والنخس والنسغ۔
تفسیر : بت پرستی کرنے سے مشرکینِ کا حسن باطن جاتا رہا ہے اور اسی لئے سچی بات ان کے دل تک نہیں پہنچتی۔ یہاں اس کی تصویر کھینچی جاتی ہے کہ اگر تم ان کو ہدایت کی طرف بلاؤ تو وہ تمہاری بات ہی نہیں سنتے یعنی سماعت باطنی جاتی رہی باوجودیکہ اے نبی ! تجھ کو وہ ظاہر دیکھتے ہیں حالانکہ نہیں دیکھتے بصارت باطنی جاتی رہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–200
ارشاد ہوتا ہے :
خُذِالْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰھِلِیْنَ وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِطاِنَّہٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ (الاعراف : 199، 200)
” اے پیغمبر ! نرمی اور درگزر کی عادت بنالو، معروف کا حکم دو اور جاہلوں سے اعراض کرو اور اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ چاہو، بیشک وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے “۔
دعوتِ حق کی انجام دہی کے لیے ناگزیر ہدایات
ان آیات پر غور کرتے ہوئے مختلف باتوں کی طرف راہنمائی ملتی ہے جن میں سے ایک ایک بات دعوتی نقطہ نگاہ اور انسانی نفسیات کے حوالے سے اس قابل ہے کہ اسے سونے میں تولا جائے ہم میں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–202
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی توحید بتلانے اور سمجھانے پر مشرک اور کافر اشتعال میں آکر بد کلامی کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں درگزر کرنے کا حکم۔
یہاں مبلغ کو چار ہدایات دی گئی ہیں۔
1۔ اختلاف اور اشتعال کے مقابلہ میں حوصلہ رکھنا اور درگزر کرنا۔
2۔ عرف کے مطابق تبلیغ کرنا۔
3۔ جہلا سے اعراض برتنا۔
4۔ انسان ہونے کے ناتے سے طبیعت میں غصہ اور اشتعال پیدا ہو تو شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنا۔
تبلیغ کے میدان میں ایک مبلغ کو ہر قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس لیے اسے سمجھ داری اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اگر دین کا کارکن اور مبلغ مشتعل ہوجائے تو کام آگے بڑھنے کے بجائے نہ صرف رک جاتا ہے…
Read the full tafseer →وسوسہ کے ازالہ کے لئے استعاذہ ضروری :
آیت 200: وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ (اور اگر کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آنے لگے) اگر شیطان کی طرف سے پہنچے اس طرح کہ وہ وسوسہ اندازی سے اس کے خلاف آمادہ کرنے کو کوشش کرے۔ جس کا آپ کو حکم ملا ہے۔ فَاسْتَعِذْبِاللّٰہِ (تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کریں) اس کی بات مت مانیں۔ نمبر 1۔ النزغ اور النخس کا معنی چوکا لگانا۔ گویا وہ لوگوں کو انگلیوں سے کچو کا لگاتا ہے جب کہ ان کو گنا ہوں پر آمادہ کرتا ہے۔ یہاں النزغ کو النازغ قرار دیا۔ کہا جاتا ہے جَدّ جِدّہ اس نے پورا زور لگایا۔ نمبر 2۔ نزغ شیطان سے مراد غصہ بھڑکانا۔ جیسا کہ ابوبکر صدیق ؓ کا قول ان…
Read the full tafseer →تفسیر 200 (واما ینزغنک من الشیطن) شیطان کا نزغ اس کا وسوسہ ہے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ نزغ کی نسبت آدمی کی طرف ہو تو تھوڑی سی حرکت اور شیطان کی طرف ہو تو تھوڑا سا وسوسہ کا معنی ہوتا ہے۔ عبدالرحمٰن بن زید (رح) فرماتے ہیں کہ آیت ” خذالعفو “ نازل ہوئی تو آپ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب ! یہ کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ غصہ بھی تو ہے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی (واما ینزغنک من الشیطن نزع فاستعد باللہ انہ سمیع علیم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–200
199۔ 200۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو آنحضرت نے جبرئیل سے پوچھا کہ خذ العفو کا کیا مطلب ہے جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا میں بغیر اللہ تعالیٰ سے پوچھے اس کا مطلب نہیں بتلا سکتا اور پلٹ کر گئے اور آکر یہ کہا کہ آپ صلہ رحمی کریں ان لوگوں کے ساتھ جو آپ سے محبت کو قطع کرنا چاہیں اور جو آپ کی عزت حرمت کرے اس پر بخشش کریں اور جو شخص آپ سے سختی برتے اس کو معاف کیجئے پھر اللہ پاک نے یہ خطاب کیا کہ آپ لوگوں کو معروف باتوں کا حکم دیں معروف کے معنی وہ نیک خصلت ہے جس کو عقلمند آدمی پسند کرے اور جس سے دل کو اطمینان حاصل ہو مراد اس سے احکام شرع کو نرمی سے پہنچانا ہے۔
پھر فرمایا کیا گروہ لوگ آپ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–201
آیت 200
(ینزغنک من الشیطن نزع) ” ابھارے آپ کو شیطان کی چھیڑ “ یعنی کسی وقت اور کسی حال میں بھی اگر آپ شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ، بھلائی کے راستے میں رکاوٹ، برائی کی ترغیب اور اکتاہٹ محسوس کریں (فاستعذ باللہ) ” تو اللہ تعالیٰ کی پناہ لیجیے “ اور اس کی حفاظت میں آ کر محفوظ ہوجایئے (انہ سمیع) ” بیشک وہ سننے والا ہے۔ “ آپ جو کچھ کہتے ہیں اللہ اسے سنتا ہے۔ (علیم) ” جاننے والا ہے۔ “ آپ کی نیت، آپ کی کمزوری اور آپ کی پناہ لینے کی قوت کو خوب جانتا ہے، وہ آپ کو اس کے فتنے سے محفوظ رکھے گا اور آپ کو اس کے وسوسوں سے بچائے گا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے (آیت):” کہو میں پناہ مانگتا ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–203
نزغ شیطان کی حقیقت
قول باری ہے واما ینزغنک من الشیطان نزغ فاستعذباللہ انہ سمیع علیم۔ اور اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو وہ سننے اور جاننے والا ہے) نزع شیطان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ دل میں وسوسہ پیدا کر کے راہ راست سے بھٹکانے کی صورت میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ یہ زیادہ تر اس وقت ہوتا ہے جب انسان پر غصے اور غضب کا غلبہ ہوتا ہے۔ ایک قول ہے کہ اس لفظ کے اصل معنی برائی کی طرف اکسانے کے ہیں ۔ شر اور برائی کی طرف دعوت دینے والی خصلت کو کہا جاتا ہے کہ یہ نزغہ شیطانی ہے جب اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ شیطان ہمیں برائی پر اکسائے گا تو اس نے ہمیں اس کے مکروہ فریب اور اس کے شر سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 198–200
277 اللہ کے سوا جن کو پوجا پکارا جاتا ہے وہ سب بےحقیقت ہیں : کہ وہ دیکھنے کی صلاحیت ہی سے محروم ہیں۔ سو کتنا محروم اور بدنصیب ہے وہ انسان جو ان سے حاجت روائی اور مشکل کشائی کی توقع رکھتا، ان کے آگے جھکتا اور ان کے لئے پھیرے لگاتا اور چکر کاٹتا ہے۔ اور طرح طرح سے ذلیل ہوتا ہے کہ ان میں ایسی کوئی صلاحیت سرے سے ہے ہی نہیں کہ وہ کسی کی کوئی مدد کرسکیں۔ سو اللہ کے سواجن کو پوجا پکارا جاتا ہے وہ سب بےحقیقت ہیں۔ اور ان کے آگے مراسم عبادت بجا لانا خود اپنی تذلیل و تحقیر کا سامان کرنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ روایات میں وارد و منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آوری پر جب حضرت معاذ بن عمرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–203
انسان کی حقیقت اور مشرکوں کے طریقے
تشریح : یوں تو پورا قرآن پاک ہی ہدایت اور رہنمائی سے بھرا پڑا ہے۔ مگر ان آیات میں خاص طور سے پھر انسان کو اپنی پیدائش کا طریقہ بتایا گیا ہے اور پھر گھریلو زندگی اور پرسکون خاندان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) بغیر باپ اور ماں کے اللہ کی قدرت سے پیدا ہوئے سیدہ سیدنا حوا (علیہا السلام) ان سے پیدا ہوئیں مگر بغیر ماں کے، سیدنا عیسیٰ بغیر باپ کے اور پھر اس کے بعد نسل انسانی ماں اور باپ دونوں کے میاں بیوی بن کر آپس کے ملاپ سے مگر اللہ کی قدرت سے بڑھنی شروع ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ جب میاں اور بیوی میں شادی کا رشتہ بن جاتا ہے تو پھر دونوں ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–206
رکوع نمبر 24 ۔ آیات 189 ۔ تا۔ 206
جہاں تک علوم غیبیہ اور نفع و نقصان کا تعلق ہے تو یہ اوصاف تو اس ذات حمید کے ہیں جس نے تمہیں ایک وجود یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا اور ایسا کریم ہے کہ انسان کی نسل بقا کے لیے اسی وجود میں سے اس کا جوڑا یعنی حوا کو پیدا فرما
کر ان میں باہمی محبت و الفت اور ایک لذت وصال رکھ دی کہ انسان نہ صرف بقائے نسل کا کام کرے بلکہ ایک دوسرے سے انس اور روحت بھی حاصل کریں۔ یہ اس کے احسانات ہیں۔
مگر انسانوں کا یہ حال ہے کہ مرد و عورت جمع ہوئے اور حمل قرار پا گیا اب خالق کو اس کا علم ہے جس کی پشت میں تھا وہ بیخبر رہا جس کے پیٹ میں پہنچا اسے پتہ نہیں بغیر کسی پرواہ کے…
Read the full tafseer →ف 1 امر بالمعروف کے سلسلہ میں بعض اوقات انسان غصہ میں بھی آجاتا ہے تو فرمایا غصہ آنے پر اعو ذ بااللہ من الشیطان الرجیم۔ پڑھ لیا کرو۔ ابن زید ؓ کہتے ہیں کہ جب اوپر کی آیت خذالعفو نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے عرض کی کیف باالغضب یارب کہ اے پروردگار غصہ کو کیا کروں ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ( ابن جریر۔ کبیر )
Read the full tafseer →(7:200) اما۔ ان شرطیہ اور ما زائدہ سے مرکب ہے۔ اگر ۔ یا۔ ملاحظہ ہو 7:115 ۔
ینزغنک۔ مضارع واحد مذکر غائب بانون ثقیلہ نزغ سے ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ نزغ کے معنی انگلیوں کے پودوں سے کسی کو گدگدانا۔ کسی کو برائی پر اکسانا۔ اور کسی گناہ پر آمادہ کرنا۔ النزغ الضرب برؤس الاصابع والمراد ھھنا التحریک الی الشر والاغواء والوسوسۃ (مظہری)
المفردات میں ہے النزغ کے معنی کسی کام کو بگاڑنے کے لئے اس میں دکل انداز ہونا۔ من بعد ان نزغ الشیطن بینی وبین اخوتی (12:100) بعد اس کے کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا۔ یہاں بمعنی وسوسہ میں ڈالے، برائی پر اکسائے
فاستعذ۔ تو پناہ مانگ۔ استعاذۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–202
لغات القرآن۔
خذ۔ اختیار کر۔ العفو۔ درگزر کرنا۔ وامر بالعرف۔ اور نیک کا حکم کر۔ اعرض۔ منہ پھیر لے۔ پرواہ نہ کر۔ ینزغن۔ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے۔ نزغ۔ وسوسہ ۔ کوئی خیال۔ یمدون۔ وہ کھینچتے ہیں۔ الغی۔ گمراہی۔ لا یقصرون۔ وہ کمی نہیں کرتے ہیں۔
تشریح :
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو اخلاق کریمانہ کے مقا پر فائز فرمایا ہے۔ آپ کی شان یہ ہے کہ خلق عظیم آپ کی سیرت کا اعلیٰ ترین پہلو ہے، ۔ آپ نے دشمنوں کے ساتھ بھی کرم کے وہ اندازہ اختیار فرمائے ہیں جس کی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ آپ ساری کائنات کے لئے رحمت ہی رحمت ہیں لیکن زندگی میں بعض ایسے مواقع بھی آجایا کرتے ہیں جہاں انسانی جذباتی طور پر ہل کر رہ جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–201
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ متقی ہیں، جب وہ شیطان کے وسوسہ میں پڑجاتے ہیں اور اس کے ورغلانے سے کوئی لغزش ان سے ہوجاتی ہے، تو وہ فورا خدا کے عذاب کو یاد کر کے توبہ و استغفار کرلیتے ہیں۔ یہ لوگ صاحب بصیرت ہیں، ان کے دلوں کے اندر آنکھیں ہیں جن سے یہ خدا کو دیکھتے ہیں اور پہچانتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس دوسری قسم کے آدمیوں کا حال بیان فرمایا کہ جو لوگ کافر فاجر ہیں وہ اخوان الشیاطین ہیں۔ شیطان ان کو ہمیشہ گمراہی کی طرف کھینچتا چلا جاتا ہے اور یہ بھی اس کے ساتھ کھنچے جاتے ہیں۔ نہ شیطان ان کے بہکانے میں کمی کرتا ہے نہ یہ لوگ اس کی پیروی میں کمی کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–203
[79] نشانی سے مراد ہے معجزہ۔
[80] یعنی جب تم نبی ٹھہرے تو سب کچھ تمہارے اختیار میں ہونا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–202
کشاکش نفس اور پیغمبر :
(ف 1) نزع سے مراد وسوسہ اندازی ہے یعنی جب آپ کے دل میں ان لوگوں کی کجروی اور مخالفت کی وجہ سے شیطان غم وغصہ کی آگ بھڑکانا چاہئے ، تو آپ اللہ کی پناہ میں آجائیں وہ آپ کی دعاؤں کو سنتا اور آپ کے حالات کو جانتا ہے ۔
عصمت انبیاء کا مفہوم یہ نہیں کہ انبیاء کے دل میں خیالات کی کشاکش نہیں ہوتی یا نفس بشری بیکار ہوجاتا ہے ۔
عصمت کا مفہوم یہ ہے کہ انبیاء باوجود زبردست کشاکش نفسی کے پیغمبرانہ وظائف سے محروم نہیں ہوتے ، اور وہ ہر ترغیب وتحریص کو پوری قوت سے وہ کردیتے ہیں جس میں برائی کو ذرا بھی دخل ہو ، بھی ان کے دل میں بتقاضائے بشری وسوسہ اندازی ہوتی ہے ، مگر وہ باطنی قوت سے اس…
Read the full tafseer →200 اور اگر آپ کو کسی وقت شیطانی وسوسہ ابھارے اور انتقام لینے پر آمادہ کرے جیسا کہ شیطان کا قاعدہ ہے کہ وہ فتنہ و فساد کو بڑھانے کے لئے غصہ دلاتا اور گد گداتا ہے تو آپ اسی وقت اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کیا کیجئے بلاشبہ وہی خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ یعنی جھگڑنے کے وقت شیطان گدگداتا اور کچو کہ لگاتا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہئے اور اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم کہنا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–202
ف 4۔ اما ینزغنک۔ کا مضمون مسئلہ عصمت انبیاء کے منافی نہیں کیونکہ عصمت کا حاصل یہ کہ شیطان گناہ نہیں کراسکتا یہ نہیں کہ گناہ کی رائے نہیں دے سکتا۔
Read the full tafseer →شیطان کی طرف سے کوئی و سوسہ اندازی ہو تو اللہ سے پناہ طلب کرو :
229: (ینزغن نزغ ) کے اصل معنی سوئی یا کسی نوکدار چیز کو چمڑہ میں داخل کرنے کے ہیں اور اسی نسبت سے کسی امر میں اس کو بگاڑنے کے لئے مداخلت کرنا کے بیان کئے جاتے ہیں جیسے قرآن کریم میں دوسری جگہ بیان ہوا کہ نزغ ال شیطان بینی و بین اخوتی (یوسف 12ـ:100) یعنی شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈلوا دیا ۔ و اما ینز غنک من الشیطن اور اگر ایسا ہوا کہ شیطان کی طرف سے وسوسہ کی کوئی خلش محسوس ہو گویا یہ تدبیر بیان فرمائی ہے روش عفو پر قائم رہنے اور جاہلوں کی روش سے اعراض اور ان کے طعنوں کے صدمات سے اپنے دل کو محفوظ رکھنے کی ۔ مطلب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–202
In the second verse, it was said: وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ ۚ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (And if you are stricken with a strike from the Shaitan, seek refuge with Allah - 200).
This verse too is really a complement of the subject taken up in the first verse which instructs that the error made by the unjust and the ignorant should be forgiven and the evil done by them should not be answered by counter evil. This is heavy duty. In fact, doing something like this is most irksome and hard on human temperament. Particularly on occasions such as this, the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–202
150. Here some important directives are addressed to the Prophet (peace be on him) regarding how he should preach the Message of Islam and how he should guide and reform people. The object of these directives is not merely to instruct the Prophet (peace be on him), but also to instruct all those who would shoulder the same responsibility after the Prophet (peace be on him) was no longer amidst them. The major directives are as follows:
(1) The most important qualities that must be cultivated by anyone who calls others to the truth are tenderness, magnanimity, and forbearing. Such a person…
Read the full tafseer →