Al-A'raaf 7:199

Al-A'raaf · from ayah 199

7:199

خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ ۟خُذِ الۡعَفۡوَ وَاۡمُرۡ بِالۡعُرۡفِ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡجٰهِلِيۡنَ

(اے محمدﷺ) عفو اختیار کرو اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Take what is given freely, enjoin what is good, and turn away from the ignorant.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 24 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:199

اے نبیؐ، نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو، معروف کی تلقین کیے جاؤ، اور جاہلوں سے نہ الجھو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے محمدﷺ) عفو اختیار کرو اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ درگزر کو اختیار کریں نیک کام کی تعلیم دیں اور جاہلوں سے ایک کناره ہو جائیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) درگزر کا رویہ اپناؤ، اور (لوگوں کو) نیکی کا حکم دو ، اور جاہلوں کی طرف دھیان نہ دو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے محبوب! معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیرلو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے حبیبِ مکرّم!) آپ درگزر فرمانا اختیار کریں، اور بھلائی کا حکم دیتے رہیں اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کرلیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

در گزر اختیار کر اور نیکی کا حکم دے اور جاہلوں سے کنارہ کر۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اے نبی !) درگزر کرنے کا رویہ اختیار کیجئے، معروف کاموں کا حکم دیجئے۔ اور جاہلوں سے کنارہ کیجئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

درگزر کرو، نیکی کا حکم دو اور جاہلوں سے اعراض کرو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

عفو (ودرگزر) ہی کو اپنائے رکھو، آپ (اے پیغمبر !) نیکی کی تلقین کرتے رہو، اور کنارہ کش رہو جاہلوں (کے الجھاؤ) سے،

— مولانا اسحاق مدنی

درگزر اختیار کیجیے اور نیک کام کا حکم دیتے رہیے اور جاہلوں سے کنارہ کش ہوجایا کیجیے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) آپ درگزر کو تھام لیجیے اور بھلی بات کا حکم دیتے رہیے اور جاہلوں سے اعراض کریں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اے نبی ﷺ !) درگزر کرو اور معروف کام کرنے کا حکم دو۔ اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کرو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

[O Prophet!] Show forgiveness, enjoin equity, and avoid the ignorant.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(O Prophet,) take forgiveness (as your habit), enjoin virtue, and ignore the ignorant.

— Muhammad Taqi Usmani

(O Prophet,) take forgiveness (as your habit), enjoin virtue, and ignore the ignorant.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Show forgiveness, enjoin Al-'Urf (the good), and turn away from the foolish (don't punish them).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Keep to forgiveness (O Muhammad), and enjoin kindness, and turn away from the ignorant.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Take what is given freely, enjoin what is good, and turn away from the ignorant.

— Saheeh International

Have forgiveness, preach the truth, and keep away from the ignorant ones.

— Muhammad Sarwar

Take to forgiveness and enjoin good and turn aside from the ignorant.

— Muhammad Habib Shakir

Use thou indulgence and enjoin seemliness and turn away from the ignorant.

— Abdul Majid Daryabadi

Hold to forgiveness; command what is right; But turn away from the ignorant.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:199

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 199–200

اچھے اعمال کی نشاندہی ابن عباس فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ان سے وہ مال لے جو ان کی ضرورت سے زیادہ ہوں اور جسے یہ بخوشی اللہ کی راہ میں پیش کریں۔ پہلے چونکہ زکوٰۃ کے احکام بہ تفصیل نہیں اترے تھے اس لئے یہی حکم تھا۔ یہ بھی معنی کئے گئے ہیں کہ ضرورت سے زائد چیز اللہ کی راہ میں خرچ کردیا کرو۔ یہ بھی مطلب ہے کہ مشرکین سے بدلہ نہ لے دس سال تک تو یہی حکم رہا کہ درگذر کرتے ہو پھر جہاد کے احکام اترے۔ یہ بھی مطلب ہے کہ لوگوں کے اچھے اخلاق اور عمدہ عادات جو ظاہر ہوں انہی پر نظریں رکھ ان کے باطن نہ ٹٹول، تجسس نہ کرو۔ حضرت عبداللہ بن زبیر وغیرہ سے بھی یہی تفسیر مروی ہے یہی قول زیادہ مشہور ہے حدیث میں ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 197–202

سورة الْاَعْرَاف 150 ان آیات میں نبی ﷺ کو دعوت تبلیغ اور ہدایت و اصلاح کی حکمت کے چند اہم نکات بتائے گئے ہیں اور مقصود صرف حضور ہی کو تعلیم دینا نہیں ہے بلکہ حضور کے ذریعہ سے ان سب لوگوں کو بھی حکمت سکھانا ہے جو حضور کے قائم مقام بن کر دنیا کو سیدھی راہ دکھانے کے لیے اٹھیں۔ ان نکات کو سلسلہ وار دیکھنا چاہیے۔ (1) داعی حق کے لیے جو صفات سب سے زیادہ ضروری ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسے نرم خو متحمل اور عالی ظرف ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے ساتھیوں کے لیے شفیق، عامتہ الناس کے لیے رحیم اور اپنے مخالفوں کے لیے حلیم ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے رفقا کی کمزوریوں کو بھی برداشت کرنا چاہیے اور اپنے مخالفین کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر لوگوں سے یہ برتاؤ رکھئے کہ ان کے اعمال و اخلاق میں سے) سرسری (نظر میں جو) برتاؤ معقول و مناسب معلوم ہوں ان) کو قبول کرلیا کیجئے (ان کی تہ اور حقیقت کی تلاش نہ کیجئے بلکہ ظاہری نظر میں سرسری طور پر جو کام کسی سے اچھا ہو اس کو بھلائی پر محمول کیجئے، باطن کا حال اللہ کے سپرد کیجئے کیونکہ پورا اخلاص و نیز شرائط قبول کی جامعیت اخص الخواص کا حصہ ہے، حاصل یہ کہ معاشرت میں سہولت رکھئے تشدد نہ کیجھئے، یہ برتاؤ تو اچھے کاموں میں ہے) اور (جو کام ظاہر نظر میں بھی برا ہو اس میں یہ برتاؤ رکھئے کہ اس باب میں) نیک کام کی تعلیم کردیا کیجئے اور جاہلوں سے ایک کنارہ ہوجایا کیجئے (اور ان کے بہت درپے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ۔ پیغمبر اور مسلمانوں کو بعض ہدایات : اب یہ سورة کے آخر میں پیگمبر ﷺ کو اور آپ کے واسطہ سے مسلمانوں کو بعض مناسب وقت ہدایات دی گئی ہیں۔ لفظ عفو جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے، اس طرح کے سیاق وسباق میں جب آتا ہے تو دل سے معاف کردینے کے معنی میں نہیں بلکہ جرد درگزر کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ عوف ایسی بات کو کہتے ہیں جو عقل اور فطرت اور معقول لوگوں کے نزدیک جانی پہچانی ہوئی ہو۔ یہاں اس سے مراد توحید و معاد اور نیکی و عدل کی وہی باتیں ہیں جن کی اس دور میں اہل عرب کو دعوت دی جا رہی تھی اور جو یکسر عقل و فطرت کی شہادت پر مبنی اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

199۔ 1 بعض علماء نے اس کے معنی کئے ہیں ' ضرورت سے زائد مال ہو، وہ لے لو ' اور یہ زکوٰۃ کی فضیلت سے قبل کا حکم ہے، لیکن دوسرے مفسرین نے اس سے اخلاقی ہدایت یعنی عفو و درگزر مراد لیا ہے اور امام بن جری اور امام بخاری وغیرہ نے اس کو ترجیح دی ہے، چناچہ امام بخاری نے اس کی تفسیر میں حضرت عمر کا واقعہ نقل کیا ہے کہ عیینہ بن حصن حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آ کر تنقید کرنے لگے کہ آپ زکوٰۃ میں نہ پوری عطاء دیتے ہیں اور نہ ہمارے درمیان انصاف کرتے ہیں جس پر حضرت عمر غضب ناک ہوئے یہ صورت حال دیکھ کر حضرت عمر کے مشیر حر بن قیس نے (جو عیینہ کے بھتیجے تھے) حضرت عمر سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 195–199

99: کفار مکہ آنحضرت ﷺ کو ڈرایا کرتے تھے کہ آپ ہمارے دیوتاؤں کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہیں کہ ان میں کچھ بھی طاقت نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے ہمارے دیوتا آپ کو (معاذ اللہ) سزا دیں گے۔ یہ آیت اس کا جواب دے رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 82 ایک نظر میں اس سورة کے آخر میں یہ ربانی ہدایت ہیں ، اللہ کی جانب سے خاص اپنے دوستوں کو یہ نصیحت کی جا رہی ہے۔ ان میں حضور اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں سے خطاب ہے۔ اس وقت یہ لوگ ابھی مکہ ہی میں تھے۔ یہ ہدایات انہیں اس ہمہ گیر جاہلیت کے مقابلے کے لیے دی جا رہی ہیں جو مکہ اور اس کے ارد گرد پوری دنیا پر چھائی ہوئی تھی۔ یہ ہدایات اس ہمہ گیر جاہلیت کے مقابلے کے لیے خاص طور پر جاری ہوئی ہیں اور گمراہ انسانیت کو راہ ہدایت دکھانے کے لیے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کو بحیثیت قائد دعوت یہ حکم دیا جاتا ہے کہ لوگوں کے لیے نہایت ہی یسر اور نرمی کے ساتھ پیش آئیں اور ایسی باتوں کا حکم دیں جنہیں سلیم فطرت انسانی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 199–200

4 خُذِ الْعَفْوَ ، کے معنی کئے گئے ہیں۔ اکثر کا حاصل یہ ہے کہ سخت گیری اور تندخوئی سے پرہیز کیا جائے اسی کو مترجم محقق نے " درگزر کی عادت " سے تعبیر فرمایا ہے۔ گزشتہ آیات میں بت پرستوں کی جو تحمیق و تجہیل کی گئی تھی بہت ممکن تھا کہ جاہل مشرکین اس پر برہم ہو کر ناشائستہ حرکت کرتے یا برا لفظ زبان سے نکالتے، اس لیے ہدایت فرما دی کہ عفو و درگزر کی عادت رکھو، نصیحت کرنے سے مت رکو، معقول بات کہتے رہو اور جاہلوں سے کنارہ کرو یعنی ان کی جہالت آمیز حرکتوں پر روز روز سے الجھنے کی ضرورت نہیں۔ جب وقت آئے گا ذرا سی دیر میں ان کا سب حساب بےباق ہوجائے گا۔ اور اگر کسی وقت بمقتضائے بشریت ان کی کسی نالائق حرکت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 199 خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بالْعُرْفِ جیسا کہ مکی سورتوں کے آخر میں اکثر حضور ﷺ سے خطاب اور التفات ہوتا ہے یہاں بھی وہی انداز ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں سے بہت زیادہ بحث مباحثہ میں نہ پڑیں ‘ ان کے رویے سے درگزر کریں اور اپنی دعوت جاری رکھیں۔ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰہِلِیْنَ ۔ یہ جاہل لوگ آپ ﷺ سے الجھنا چاہیں تو آپ ﷺ ان سے کنارہ کشی کرلیں۔ جیسا کہ سورة الفرقان میں فرمایا : وَاِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا۔ اور جب جاہل لوگ ان رحمن کے بندوں سے الجھنا چاہتے ہیں تو وہ ان کو سلام کہتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ سورة القصص میں بھی اہل ایمان کا یہی طریقہ بیان کیا گیا ہے : سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ ز لَا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

197 داعی حق کے لئے ہدایات۔ 1۔ عفو و درگزر 2۔ اچھی باتوں کا حکم 3۔ بحث میں پرہیز۔ 4۔ جوابی کارروائی سے اجتناب :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہایت مختصر الفاظ میں تین نصیحتیں بیان فرمائی ہیں جو ہر داعی حق کے لیے نہایت اہم ہیں گویا داعی حق کو درپیش مسائل کا حل چند الفاظ میں بیان کر کے دریا کو کوزہ میں بند کردیا گیا ہے اور وہ یہ ہیں۔ 1۔ پچھلی چند آیات میں مشرکین کے معبودان باطل پر اور خود مشرکوں پر سنجیدہ الفاظ میں تنقید کی گئی ہے۔ جس کا یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ وہ آپ کے خلاف زہر اگلنا یا آپ کو برا بھلا کہنا شروع کردیں۔ اندریں صورت آپ کو درگزر کرنے کی روش اختیار کرنا چاہیے، حوصلہ اور برداشت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

292 ۔ (اور بہت زیادہ ان کے درپے نہ ہوجئے) (آیت) ” خذالعفو “۔ یعنی ان لوگوں کی جاہلانہ اور اشتعال انگیز حماقتوں سے درگزر ہی کرتے رہیے۔ اے خذ العفو عن المذنبین والمراد اعف عنھم والی ھذا ذھب جمع من السلف یشھد لہ ما اخر جہ ابن جریر وابن المنذر وغیرھما عن الشعبی (روح) آیت سے محققین نے طرح طرح کے سبق حاصل کیے ہیں، تحصیل علم، اعراض اہل ظلم اور ترک مجادلہ سفہاء وغیرہ کے۔ الحض علی التخلق بالعلم والاعراض عن اھل الظلم والتنزہ عن منازعۃ السفھاء (قرطبی) اور جعفر صادق (رح) سے منقول ہے کہ اس سے زیادہ کوئی آیت اخلاق کی جامع نہیں۔ (روح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں لوگوں کے ساتھ تسامح اور شفقت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 189–206

آیت نمبر 189 تا 206 ترجمہ : وہ یعنی اللہ ہی ہے جس نے تم کو ایک جان یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا حوّاء کو پیدا کیا تاکہ اس سے سکون حاصل کرے اور اس سے الفت کرے، چناچہ جب اس کو ڈھانپ لیا یعنی اس سے مجامعت کی، اگر اس کو ہلکا سا حمل رہ گیا، اور اس بات سے خوفزدہ ہوئے کہ وہ (حمل) کوئی جانور نہ ہو تو انہوں نے اپنے رب اللہ سے دعاء کی، اگر آپ ہمیں نیک صحیح سالم بچہ عطا فرمائیں تو ہم اس پر آپ کے شکر گذار ہوں گے، چناچہ جب ان کو صحیح سالم اولاد دیدی تو دونوں (بیوی) نے (اللہ کے) عطا کردہ بچے کا نام عبدالحارث رکھ کر خدا کا شریک قراردیدیا، اور ایک قراءت میں شین کے کسرہ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

خذ العفوا وامر بالعرف واعرض عن الجہلین : سرسری برتاؤ قبول کرلیا کیجئے اور نیک کام کی تعلیم کردیا کیجئے اور جاہلوں سے کنارہ کش ہوجایا کیجئے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ اور مجاہد ؓ : کا بیان ہے کہ اللہ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ لوگوں کی طرف سے سرسری برتاؤ اور سہل ترین اعمال کو قبول کریں مثلاً کوئی عذر کرے تو عذر قبول کرلیں عفو اور سہولت سے کام لیں چھان بین اور احوال کا تجسس نہ کریں ایسی بات کے لوگوں سے طلبگار نہ ہوں جس کو پیش کرنا ان کے لئے دشوار اور ناگوار ہو۔ اس تفسیر پر عفو کا معنی ہوگا سرسری برتاؤ۔ کوشش اور جہد کی ضد۔ بعض علماء کے نزدیک عفو سے مراد ہے مجرموں اور گناہگاروں کو معاف کردینا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(199) نیکی اور احسان کا حکم کیجیے اور ابوجہل اور اس کے ساتھی جو مذاق اڑاتے ہیں ان سے درگزر کیجیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

خُذِ الْعَفْوَ : یعنی توحید کی دعوت کے جواب میں آپ کو مشرکوں اور جاہلوں کی طرف سے بہت تکلیف اٹھانا پڑے گی۔ دیکھیے آل عمران (186) اور بقرہ (109) آپ اس کے مقابلے میں درگزر سے کام لیں۔ یہاں آپ ﷺ کو حسن اخلاق کی تعلیم دی ہے اور آپ کے واسطے سے ہر وہ شخص مخاطب ہے جو اسلام کی دعوت کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے، جیسے فرمایا : (وَجَادِلْهُمْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭ) [ النحل : 125 ] ”اور ان سے اس طریقے سے بحث کر جو سب سے اچھا ہے۔“ اور فرمایا : (وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ ۠) [ آل عمران : 159 ] ”اور اگر تو بدخلق سخت دل ہوتا تو یقیناً وہ تیرے گرد سے منتشر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 199 اس میں تین مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : 1 یہ آیت تین کلمات پر مشتم ہے، جو مامورات اور منہیات میں قواعد شریعت کو متضمن ہیں۔ پس قول باری تعالیٰ : خذ العفو میں قطع تعلقی کرنے والوں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا، گنہگاروں سے معذرت قبول کر کے انہیں معاف کرنا، مومنین کے ساتھ نرمی کا برتاو کرنا اور علاوہ ازین اطاعت شعاروں کے اخلاق داخل ہیں۔ اور قول باری تعالیٰ : آیت : وامر بالعرف میں رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا، حلال و حرام کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا، آنکھوں کو نیچا رکھنا اور دار آکرت کے لیے تیاری کرنا داخل ہے۔ اور قول باری تعالیٰ : آیت : واعرض عن الجھلین میں علم کے ساتھ تعلق قائم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، بخاری، ابو داؤد، نسائی، نحاس نے ناسخ میں، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں عبد اللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت لوگوں کے اخلاق کے بارے میں نازل ہوئی (یعنی) لفظ آیت ” خزو العفو وامر بالعرف واعرض عن الجھلین “ اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم فرمایا لوگوں کے اخلاق میں سے درگزر کو اختیار کریں۔ (2) امام ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، طبرانی نے الاوسط میں، ابن مردویہ اور حاکم نے (آپ نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ” خذو العفوا “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ خُذِ : آپ پکڑیں ] [ الْعَفْوَ : درگزر کو ] [ وَاْمُرْ : اور حکم دیں ] [ بِالْعُرْفِ : نیکی کا ] [ وَاَعْرِضْ : اور کنارہ کشی کریں ] [ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ : جاہلوں سے ] نوٹ ۔ 1: جب آیت نمبر 199 اتری تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبریل (علیہ السلام) سے پوچھا کہ اس سے کیا مقصد ہوا تو جبریل (علیہ السلام) نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ جو تمہاری ذات پر کوئی زیادتی کرے تو اس کو معاف کردیا کرو ، جو تم کو نہ دے اس کو دو ، جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے تعلق جوڑو۔ (ابن کثیر ) لفظ عفو کے کئی معنی ہیں اور اس موقع پر ہر معنی کی گنجائش ہے۔ اسی لیے علماء تفسیر نے مختلف معنی لیے ہیں ۔ جمہور مفسرین کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 199–200

اخلاق عالیہ کی تلقین اور شیطان کے وسوسے آنے پر اللہ تعالیٰ کی پناہ لینے کا حکم پہلی آیت میں تین باتوں کا حکم دیا اوّل یہ کہ معاف کیا کیجیے، دوسرا یہ کہ بھلائی کا حکم کیجیے اور تیسرا یہ کہ جاہلوں سے اعراض کیجیے۔ اس آیت شریفہ میں مکارم اخلاق بیان فرمائے ہیں۔ صحیح بخاری ص 669 ج 2 میں حضرت عبداللہ بن الزبیر ؓ سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا ہے کہ لوگوں کے ساتھ برتاؤ کرنے میں معافی کا رویہ اختیار فرمائیں۔ تفسیر ابن کثیر ص 667 ج 2 میں ہے کہ آیت بالا نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرائیل سے سوال فرمایا کہ اس آیت کا کیا مطلب ہے ؟ حضرت جبرائیل نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 189–202

اثبات توحید وابطال شرک قال اللہ تعالیٰ ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ثم لا یقصرون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور کمال علم و حکمت کا ذکر تھا کہ وہی ہر نفع اور ضرر کا مالک ہے اور وہی عالم الغیب ہے اور شروع سورت میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہا السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اب سورت قریب الختم ہے اس لیے حضرت آدم اور حوا کا قصہ اجمالی طور پر دوبارہ ذکر فرماتے ہیں جس سے مقصود توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال ہے اگرچہ گزشتہ آیات میں بھی توحید خداوندی کا مختصر سا ذکر ہوا ہے لیکن ان آیات میں اس مضمون کو قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہی اللہ ہے جس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 199–200

190: یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ “ وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّکَ الخ ”، “ نَزْغٌ ” سے شیطان کا وسوسہ ڈالنا مراد ہے۔ یعنی میں نے جو احکام صادر کیے ہیں۔ اگر شیطان ان کی مخالفت کا وسوسہ ڈالنے کی کوشش کرے تو آپ اللہ سے پناہ مانگیں۔ اس میں خطاب آنحضرت ﷺ کو ہے۔ مگر مراد آپ کی وساطت سے ہر مخاطب ہے۔ “ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ” یہ ما قبل کی علت ہے “ اي ینخسنک بان یحملک بوسوة علی ما لا لیق فاطلب العیاذة بالله منه ” (بحر ج 4 ص 448) ۔ حم اسلجدة رکوع 5 میں ہے۔ “ اِنَّه ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ” یہاں ضمیر فصل اور خبر پر لام تعریف مفید حصر ہے یعنی چونکہ اللہ ہی سننے والا اور جاننے والا ہے اس لیے اسی سے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 196–199

ربط آیات گزشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید کے سلسلے میں بت پرستی کا رد فرمایا اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہیں ان سے حات روائی اور مشکل کشائی کی توقع رکھتے ہیں ان کی بھی تردید فرمائی گزشتہ درس میں یہ بھی ارشاد ہوچکا ہے کہ تم اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہو وہ تو تمہاری طرح عاجز بندے ہیں وہ تمہاری مدد کیسے کرسکتے ہیں وہ نہ تو تمہاری مشکل آسان کرسکتے ہیں اور نہ بگڑی بنا سکتے ہیں فرمایا اگر کچھ زعم ہے تو ان کو پکار کر دیکھ لو کہ وہ تمہاری بات کو سن کر تمہاری کون سی مشکل کشائی کرتے ہیں وہ تو تمہاری طرح مخلوق ہیں اور تمہارے کچھ کام نہیں آسکتے مٹی اور پتھر کے بتوں کے رد میں خاص…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

خُذِ الْعَفْوَوَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰہِلِيْنَ۝ 199 عفو فالعَفْوُ : هو التّجافي عن الذّنب . قال تعالی: فَمَنْ عَفا وَأَصْلَحَ [ الشوری/ 40] وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوى [ البقرة/ 237] ( عو ) عفوت عنہ کے معنی ہیں میں نے اس سے درگزر کرتے ہوئے اس کا گناہ متادینے کا قصد کیا ز لہذا یہاں اصل میں اس کا مفعول ترک کردیا گیا ہے اور عن کا متعلق مخذوف ہی یا قصدت ازالتہ ذنبہ سار فا عنہ پس عفو کے معنی گناہ سے درگزر کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ فَمَنْ عَفا وَأَصْلَحَ [ الشوری/ 40] مگر جو درگزر کرے اور معاملہ کو درست کرلے وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوى [ البقرة/ 237] اور اگر تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 198–201

ترکیب : وان شرطیہ تدعو شرط لا یسمعوا جواب ینظرون الیک مفعول ثانی وھم لایبصرون جملہ حال ہے فاعل ینظرون سے واما شرط فاستعذباللّٰہ جواب از الخ جملہ محل علت میں ہے فاستعذ سے الذین موصول اتقوا صلہ مجموعہ اسم ان اذا مَسَّہُمْ شرط تذکروا جواب مجموعہ خبران النزغ الوسوسۃ وکذا النغز والنخس والنسغ۔ تفسیر : بت پرستی کرنے سے مشرکینِ کا حسن باطن جاتا رہا ہے اور اسی لئے سچی بات ان کے دل تک نہیں پہنچتی۔ یہاں اس کی تصویر کھینچی جاتی ہے کہ اگر تم ان کو ہدایت کی طرف بلاؤ تو وہ تمہاری بات ہی نہیں سنتے یعنی سماعت باطنی جاتی رہی باوجودیکہ اے نبی ! تجھ کو وہ ظاہر دیکھتے ہیں حالانکہ نہیں دیکھتے بصارت باطنی جاتی رہی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 199–200

ارشاد ہوتا ہے : خُذِالْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰھِلِیْنَ وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِطاِنَّہٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ (الاعراف : 199، 200) ” اے پیغمبر ! نرمی اور درگزر کی عادت بنالو، معروف کا حکم دو اور جاہلوں سے اعراض کرو اور اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ چاہو، بیشک وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے “۔ دعوتِ حق کی انجام دہی کے لیے ناگزیر ہدایات ان آیات پر غور کرتے ہوئے مختلف باتوں کی طرف راہنمائی ملتی ہے جن میں سے ایک ایک بات دعوتی نقطہ نگاہ اور انسانی نفسیات کے حوالے سے اس قابل ہے کہ اسے سونے میں تولا جائے ہم میں وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 199–202

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی توحید بتلانے اور سمجھانے پر مشرک اور کافر اشتعال میں آکر بد کلامی کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں درگزر کرنے کا حکم۔ یہاں مبلغ کو چار ہدایات دی گئی ہیں۔ 1۔ اختلاف اور اشتعال کے مقابلہ میں حوصلہ رکھنا اور درگزر کرنا۔ 2۔ عرف کے مطابق تبلیغ کرنا۔ 3۔ جہلا سے اعراض برتنا۔ 4۔ انسان ہونے کے ناتے سے طبیعت میں غصہ اور اشتعال پیدا ہو تو شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنا۔ تبلیغ کے میدان میں ایک مبلغ کو ہر قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس لیے اسے سمجھ داری اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اگر دین کا کارکن اور مبلغ مشتعل ہوجائے تو کام آگے بڑھنے کے بجائے نہ صرف رک جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عفو و درگزر سے کام لیں اور جاہلوں کو منہ نہ لگائیں : آیت 199: خُذِ الْعَفْوََ (سرسری برتائو کو آپ قبول کریں) یہ جہد کی ضد ہے۔ یعنی لوگوں کے اخلاق و افعال میں سے جو آپ معاف فرمائیں اور ان سے ایسی مشقت نہ لیں جو ان پر گراں گزرے جس سے وہ متنفر ہوجائیں۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے خود ارشاد فرمایا یَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا ( بخاری و مسلم) آسانی کرو۔ تنگی نہ کرو۔ وَامُرْ بِالْعُرْفِ (اور نیک بات کی تعلیم کردیا کریں) عمدہ افعال یا ہر وہ خصلت جو عقل کی نگاہ میں درست ہو اور شرع بھی اس کو قبول کرے۔ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰھِلِیْنَ (اور جاہلوں سے کنارہ کش ہوجایا کریں) بیوقوفوں سے انکے افعال کا بدلہ اسی طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 198–199

199 (خذالعفو) عبداللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ لوگوں کے اخلاق سے چشم پوشی کریں اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی لوگوں کے اخلاق میں چشم پوشی کریں اور ان کے اعمال کو بغیر تجسس کے قبول کرلیں۔ مثلاً عذر کو قبول کرنا اور عفو چشم پوشی اور اشیاء کی تفتیش کو چھوڑنا۔ روایت کیا گیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو کہا کہ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا جب تک اللہ تعالیٰ سے پوچھ نہ لوں کچھ نہیں جانتا، پھر لوٹے اور کہا کہ بیشک آپ کا رب آپ کو حکم دے رہا ہے کہ جو آپ علیہ ال سلام سے رشتہ توڑے اس سے جوڑیں اور جو آپ کو محروم کرے اس کو دیں اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 199–200

199۔ 200۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو آنحضرت نے جبرئیل سے پوچھا کہ خذ العفو کا کیا مطلب ہے جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا میں بغیر اللہ تعالیٰ سے پوچھے اس کا مطلب نہیں بتلا سکتا اور پلٹ کر گئے اور آکر یہ کہا کہ آپ صلہ رحمی کریں ان لوگوں کے ساتھ جو آپ سے محبت کو قطع کرنا چاہیں اور جو آپ کی عزت حرمت کرے اس پر بخشش کریں اور جو شخص آپ سے سختی برتے اس کو معاف کیجئے پھر اللہ پاک نے یہ خطاب کیا کہ آپ لوگوں کو معروف باتوں کا حکم دیں معروف کے معنی وہ نیک خصلت ہے جس کو عقلمند آدمی پسند کرے اور جس سے دل کو اطمینان حاصل ہو مراد اس سے احکام شرع کو نرمی سے پہنچانا ہے۔ پھر فرمایا کیا گروہ لوگ آپ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 199 یہ آیت کریمہ لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق اور ان کے ساتھ رویئے کے بارے میں جامع آیت ہے۔ لوگوں کے ساتھ معاملے میں مناسب رویہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ عفو و درگزر، آسان اعمال و اخلاق اور نرمی سے پیش آیا جائے، ان کو کسی ایسی بات کا مکلف نہ کیا جائے جس کو ان کی طبائع قبول نہ کریں بلکہ ہر شخص کی بات اور اچھے یا برے فعل کو قبول کیا جائے، ان کی کوتاہی سے درگزر کیا جائے اور ان کے نقائص سے چشم پوشی کی جائے۔ کسی چھوٹے کے ساتھ اس کے چھوٹا ہونے، کسی ناقص العقل کے ساتھ اس کے نقص اور کسی محتاج کے ساتھ اس کی محتاجی کی بنا پر تکبر سے پیش نہ آیا جائے، بلکہ تمام لوگوں کے ساتھ لطف و کرم کا اور احوال کے تقاضے کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

دعوت الی اللہ کا صحیح طریق کار قول باری ہے خذالعفو وامر بالعرف۔ اے نبی ﷺ ! نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو اور معروف کی تلقین کیے جائو) ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ سے قول باری خذالعفو وامربالعرف واعرض عن الجاھلین، اے نبی ﷺ ! نرمی اور درگزر کا طریقہ اختیار کرو، معروف کی تلقین کئے ج اور اور جاہلوں سے نہ الجھو) کی تفسیر میں روایت کی ہے۔ انہوں نے فرمایا : بخدا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت لوگوں کے اخلاق کے بارے میں نازل کی ہے “۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا اثقل شئی فی میزان المومن یوم القیامۃ الخلق الحسن، قیامت کے دن ایک مومن کے میزان عمل میں اس کے عمدہ اخلاق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 198–200

277 اللہ کے سوا جن کو پوجا پکارا جاتا ہے وہ سب بےحقیقت ہیں : کہ وہ دیکھنے کی صلاحیت ہی سے محروم ہیں۔ سو کتنا محروم اور بدنصیب ہے وہ انسان جو ان سے حاجت روائی اور مشکل کشائی کی توقع رکھتا، ان کے آگے جھکتا اور ان کے لئے پھیرے لگاتا اور چکر کاٹتا ہے۔ اور طرح طرح سے ذلیل ہوتا ہے کہ ان میں ایسی کوئی صلاحیت سرے سے ہے ہی نہیں کہ وہ کسی کی کوئی مدد کرسکیں۔ سو اللہ کے سواجن کو پوجا پکارا جاتا ہے وہ سب بےحقیقت ہیں۔ اور ان کے آگے مراسم عبادت بجا لانا خود اپنی تذلیل و تحقیر کا سامان کرنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ روایات میں وارد و منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آوری پر جب حضرت معاذ بن عمرو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 189–203

انسان کی حقیقت اور مشرکوں کے طریقے تشریح : یوں تو پورا قرآن پاک ہی ہدایت اور رہنمائی سے بھرا پڑا ہے۔ مگر ان آیات میں خاص طور سے پھر انسان کو اپنی پیدائش کا طریقہ بتایا گیا ہے اور پھر گھریلو زندگی اور پرسکون خاندان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) بغیر باپ اور ماں کے اللہ کی قدرت سے پیدا ہوئے سیدہ سیدنا حوا (علیہا السلام) ان سے پیدا ہوئیں مگر بغیر ماں کے، سیدنا عیسیٰ بغیر باپ کے اور پھر اس کے بعد نسل انسانی ماں اور باپ دونوں کے میاں بیوی بن کر آپس کے ملاپ سے مگر اللہ کی قدرت سے بڑھنی شروع ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ جب میاں اور بیوی میں شادی کا رشتہ بن جاتا ہے تو پھر دونوں ایک دوسرے کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 189–206

رکوع نمبر 24 ۔ آیات 189 ۔ تا۔ 206 جہاں تک علوم غیبیہ اور نفع و نقصان کا تعلق ہے تو یہ اوصاف تو اس ذات حمید کے ہیں جس نے تمہیں ایک وجود یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا اور ایسا کریم ہے کہ انسان کی نسل بقا کے لیے اسی وجود میں سے اس کا جوڑا یعنی حوا کو پیدا فرما کر ان میں باہمی محبت و الفت اور ایک لذت وصال رکھ دی کہ انسان نہ صرف بقائے نسل کا کام کرے بلکہ ایک دوسرے سے انس اور روحت بھی حاصل کریں۔ یہ اس کے احسانات ہیں۔ مگر انسانوں کا یہ حال ہے کہ مرد و عورت جمع ہوئے اور حمل قرار پا گیا اب خالق کو اس کا علم ہے جس کی پشت میں تھا وہ بیخبر رہا جس کے پیٹ میں پہنچا اسے پتہ نہیں بغیر کسی پرواہ کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 خذ العفو، یعنی حتی الو سع تحمل اور صبر سے کام لو اور یہاں پر آنحضرت ﷺ کو حسن اخلاق کی تعلیم دی ہے اور آنحضرت ﷺ کے واسطہ سے ہر وہ شخص مخاطب ہے جو دعوت اسلامی کافر یضہ سرانجام دے رہاہو جیسے فرمایا وجا دلھم بالتیھی احسن ولو کنت فظاغلیظ القلب ال ان فضو امن حولک ( کبیر) اس کے بعد وامر بالعرف کے حک سے اشارہ فرمایا کہ عفودر گذر کا تعلق صرف حسن اخلاق کی حد تک ہے ورنہ اقامت حدود میں کسی قسم کی چشم پوشی ہوسکتی، ( ایضا)10 یعنی اگر معاندا رویہ اختیار کریں اور بےفائدہ تکرار کریں تو بجائے الجھنے کے خامشی اختیار کرلو خواہ وہ اس خاموشی کو کوئی معنی پہنادیں شعبی کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی صلعم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:199) خذ۔ تو پکڑ۔ تو لے۔ تو اختیار کر۔ اخذ سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ العفو۔ آسان ۔ حاجت سے زیادہ ۔ معاف کردینا ۔ عفا یفعوا (باب نصر) کا مصدر ہے اور اسم بھی ہے۔ عربی میں کہتے ہیں خذ ما عفالک جو تمہیں بآسانی بغیر مشقت کے ملے وہ لے لو۔ اور قرآن میں ہے : وسیئلونک ماذا ینفقون قل العفوا (2:219) (اے محمد) لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ خدا کی راہ میں کیا مال خرچ کریں۔ تو ان سے کہہ دو جو تمہاری حاجت سے زیادہ ہو (جس کے خرچ سے تمہیں تکلیف نہ ہو (جس کے خرچ سے تمہیں تکلیف ہو) اور معاف و درگزر کرنے کے معنوں میں قرآن اکثر استعمال ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے عفو ہے۔ ان اللہ کان عفوا غفورا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 199–202

لغات القرآن۔ خذ۔ اختیار کر۔ العفو۔ درگزر کرنا۔ وامر بالعرف۔ اور نیک کا حکم کر۔ اعرض۔ منہ پھیر لے۔ پرواہ نہ کر۔ ینزغن۔ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے۔ نزغ۔ وسوسہ ۔ کوئی خیال۔ یمدون۔ وہ کھینچتے ہیں۔ الغی۔ گمراہی۔ لا یقصرون۔ وہ کمی نہیں کرتے ہیں۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو اخلاق کریمانہ کے مقا پر فائز فرمایا ہے۔ آپ کی شان یہ ہے کہ خلق عظیم آپ کی سیرت کا اعلیٰ ترین پہلو ہے، ۔ آپ نے دشمنوں کے ساتھ بھی کرم کے وہ اندازہ اختیار فرمائے ہیں جس کی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ آپ ساری کائنات کے لئے رحمت ہی رحمت ہیں لیکن زندگی میں بعض ایسے مواقع بھی آجایا کرتے ہیں جہاں انسانی جذباتی طور پر ہل کر رہ جاتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 192–199

اس آیت میں صلہ رحمی اور لوگوں سے نرمی کے ساتھ پیش آنے اور غصہ کے وقت اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے کا ذکر ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھنے سے آدمی کا غصہ اتر جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 195–203

[79] نشانی سے مراد ہے معجزہ۔ [80] یعنی جب تم نبی ٹھہرے تو سب کچھ تمہارے اختیار میں ہونا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) مقصد یہ ہے کہ حضور ﷺ ان مشرکین کے طعن وتشنیع سے درگزر فرمائیں ، ان کی زیادتیوں پر توجہ نہ دیں اور اپنا کام وقار ومتانت سے انجام دیتے رہیں ‘ یہ جہالت ونادانی کی وجہ سے مجبور ہیں ۔ درحقیقت یہ حکم حضور ﷺ کی سیرت مرحمانہ کا ایک تابناک صفحہ ہے ، آپ نے ہمیشہ عفو وکرم سے کام لیا ہے ، اور کبھی کسی شخص سے ذاتی انتقام نہیں لیا ۔ حل لغات : العرف : یعنی معروف ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

199 اے پیغمبر ! آپ درگزر کرنے اور معاف کردینے کا شیوہ اختیار کیجئے اور بھلے کاموں کے کرنے کا حکم دیتے رہئے اور بیوقوفوں اور جاہلوں کو منہ نہ لگائیے اور ایسے لوگوں سے کنارہ کشی اور اغراض اختیار کیجئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ یعنی لوگوں کے اعمال و اخلاق میں تہ اور حقیقت تلاش نہ کیجیے بلکہ ظاہری نظر میں سرسری طور پر جو کام کسی سے اچھا ہو اس کو بھلائی پر محمول کیجیے باطن کا حال اللہ کے سپرد کیجیے حاصل یہ کہ معاشرت میں سہولت رکھیے تشدد نہ کیجیے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نرمی سے کام لینے ، نیکی کا حکم دینے اور جاہلوں سے الگ رہنے کا حکم : 228: زیر نظر آیت قرآنی اخلاق فاضلہ کا ایک جامع ہدایت نامہ ہے اور اس میں تین امور کے متعلق ہدایت فرمائی گئی ہے ۔ 1 ۔ (خذ العفو ) جو قصور وار معذرت طلب کرتا ہوا آپ ﷺ کے پاس آئے اس کمال فراخ دلی سے معاف کر دیجئیے اور بدلہ و انتقام لینے پر اصرار نہ کیجئیے ۔ (روح المعانی) 2 ۔ (وامر بالعرف ) کی اچھی اور مفید چیزوں کے کرنے کا آپ ﷺ لوگوں کو حکم دیجئیے۔ ( بیضاوی) 3 ۔ (وا عرض عن الجاھلین ) اور جاہل اور نہ سمجھ لوگ اگر آپ کو برا بھلا کہیں تو ان سے مت الجھئے (قرطبی) بلا شبہ ہر مومن و مسلم کو ان صفات حسنہ سے متصف ہونا چاہیے اور خصوصا اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The Ideal Manifesto of Qur'anic Ethics The above verse provides us with a perfect code and model discipline of moral excellences. It was through this discipline that the Holy Prophet ﷺ was trained and then was conferred with the title of صاحِب خُلق عظیم (The manifestation of all moral excellences) which is unique to him out of the whole mankind. After giving a description of obstinate ignorance, and immoral behaviour of the adversaries of Islam in the foregoing verses, the Holy Qur'an, in contrast to the above, provides the Holy Prophet ﷺ with some moral teachings. The first is خُذِ الْعَفْوَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 197–202

150. Here some important directives are addressed to the Prophet (peace be on him) regarding how he should preach the Message of Islam and how he should guide and reform people. The object of these directives is not merely to instruct the Prophet (peace be on him), but also to instruct all those who would shoulder the same responsibility after the Prophet (peace be on him) was no longer amidst them. The major directives are as follows: (1) The most important qualities that must be cultivated by anyone who calls others to the truth are tenderness, magnanimity, and forbearing. Such a person…

Read the full tafseer →