Explained with ayahs 191–198
انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے
جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو بوجتے ہیں وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں وہی ان کا پالنے والا ہے وہ بالکل بےاختیار ہیں کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا تندرست اور اجھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں کان بھی ہیں یہ بیوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ لوگو آؤ ایک لطیف مثال سنو تم جنہیں پکار رہے ہو یہ سارے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–202
سورة الْاَعْرَاف 150
ان آیات میں نبی ﷺ کو دعوت تبلیغ اور ہدایت و اصلاح کی حکمت کے چند اہم نکات بتائے گئے ہیں اور مقصود صرف حضور ہی کو تعلیم دینا نہیں ہے بلکہ حضور کے ذریعہ سے ان سب لوگوں کو بھی حکمت سکھانا ہے جو حضور کے قائم مقام بن کر دنیا کو سیدھی راہ دکھانے کے لیے اٹھیں۔ ان نکات کو سلسلہ وار دیکھنا چاہیے۔
(1) داعی حق کے لیے جو صفات سب سے زیادہ ضروری ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسے نرم خو متحمل اور عالی ظرف ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے ساتھیوں کے لیے شفیق، عامتہ الناس کے لیے رحیم اور اپنے مخالفوں کے لیے حلیم ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے رفقا کی کمزوریوں کو بھی برداشت کرنا چاہیے اور اپنے مخالفین کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–198
معارف و مسائل
(آیت) اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ، یہاں ولی کے معنی محافظ و مددگار کے ہیں، اور کتاب سے مراد قرآن اور صالحین سے مراد بقول ابن عباس وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو برابر نہ کریں، اس میں انبیاء (علیہم السلام) سے لے کر عام نیک مسلمانوں تک سب داخل ہیں۔
اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ مجھے تمہاری مخالفت کی اس لئے پرواہ نہیں کہ میرا محافظ و مددگار اللہ تعالیٰ ہے جس نے مجھ پر قرآن نازل کیا ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ کی سب صفات میں سے قرآن نازل کرنے کو خصوصیت سے اس لئے ذکر کیا کہ تم جو میری عداوت و مخالفت پر جمے ہو، اس کی وجہ قرآن کی تعلیم و…
Read the full tafseer →وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ۔ اوپر آیت 193 کے مضمون کی وضاحت ہے یہاں لایسمعوا کا لفظ لا یتبعوکم کے صحیح مفہوم پر روشنی ڈال رہا ہے۔
اعجاز بیان کی ایک مثال : وَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ، اس ٹکڑے میں رویت، نظر، اور ابصار کے الفاظ اس خوبی سے استعمال ہوئے ہیں کہ بس قرآن کا اعجاز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بےبصرو، تم تو یہ خیال کر رہے ہو کہ یہ تمہیں ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہے ہیں لیکن انہیں سوجھتا سجھاتا کچھ بھی نہیں۔
تراھم میں واحد کا خطاب، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، جمع کے مفہوم میں…
Read the full tafseer →198۔ 1 اس کا وہی مفہوم ہے جو آیت 193 کا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–199
99: کفار مکہ آنحضرت ﷺ کو ڈرایا کرتے تھے کہ آپ ہمارے دیوتاؤں کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہیں کہ ان میں کچھ بھی طاقت نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے ہمارے دیوتا آپ کو (معاذ اللہ) سزا دیں گے۔ یہ آیت اس کا جواب دے رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–198
تفسیر آیات 189 تا 198:۔
عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–198
3 یعنی بظاہر آنکھیں بنی ہوئی ہیں، پر ان میں بینائی کہاں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–198
آیت 195 اَلَہُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِہَآز
تم نے ان کے پاؤں اگر بنا بھی دیے ہیں تو کیا وہ ایک قدم چلنے کی سکت بھی رکھتے ہیں ؟
قُلِ ادْعُوْا شُرَکَآءَ کُمْ ثُمَّ کِیْدُوْنِ فَلاَ تُنْظِرُوْنِ ۔
رسول اللہ ﷺ سے ڈنکے کی چوٹ یہ اعلان کرایا جا رہا ہے کہ میں تم سے کوئی درخواست نہیں کرتا کہ میرے ساتھ نرمی کرو یا مجھے مہلت دے دو۔ تم اپنے تمام معبودوں کو بلا لو اور میرے خلاف جو بھی اقدام کرسکتے ہو کر گزرو۔ یہ اسی طرح کا قول فیصل ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اعلان برا ءت کرایا گیا تھا : اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ الانعام۔
Read the full tafseer →196 مجسموں کی کیفیت :۔ اس آیت میں پھر مشرکوں کے مجسموں کا ذکر ہے کہ وہ ان کی آنکھیں ایسی موٹی موٹی اور کھلی ہوئی بناتے ہیں جن سے آپ کو ایسا معلوم ہو کہ وہ آپ کو دیدے پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے ہیں حالانکہ ان میں بصارت نام کو نہیں ہوتی۔ نیز اس آیت کے مخاطب خود مشرکین اور منکرین بھی قرار دیئے جاسکتے ہیں جو ظاہری آنکھوں سے تو دیکھتے معلوم ہوتے ہیں لیکن دل کی آنکھوں سے کچھ نہیں دیکھتے اور اپنی بصیرت سے کوئی کام نہیں لیتے۔
Read the full tafseer →290 ۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 285 ۔ (آیت) ” لایسمعوا “۔ ابھی اوپر کی ایک آیت میں اسی مضمون کے خاتمہ پر (آیت) ” لایتبعوکم “۔ وارد ہوا ہے۔ یہاں اس سے ترقی کرکے (آیت) ” لایسمعوا “۔ ہے۔ عدم اسماع یقیناً عدم اتباع سے بڑھ کر ابتر وصف ہے یہ معبود ان باطل اتباع تو کیا کرتے سننے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے۔ (آیت) ” ھذا ابلغ من نفع الاتباع (روح)
291 ۔ ترھم “۔ میں ضمیر انہی معبود ان باطل کی طرف ہے۔ صناع مشرک وجاہلی قومیں اپنی صناعی کے زور سے جیسی ” جاندار “۔ مورتیں تراش لیتی ہیں، ان کے اوپر قرآن مجید کا یہ بیان کس قدر صادق آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–206
آیت نمبر 189 تا 206
ترجمہ : وہ یعنی اللہ ہی ہے جس نے تم کو ایک جان یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا حوّاء کو پیدا کیا تاکہ اس سے سکون حاصل کرے اور اس سے الفت کرے، چناچہ جب اس کو ڈھانپ لیا یعنی اس سے مجامعت کی، اگر اس کو ہلکا سا حمل رہ گیا، اور اس بات سے خوفزدہ ہوئے کہ وہ (حمل) کوئی جانور نہ ہو تو انہوں نے اپنے رب اللہ سے دعاء کی، اگر آپ ہمیں نیک صحیح سالم بچہ عطا فرمائیں تو ہم اس پر آپ کے شکر گذار ہوں گے، چناچہ جب ان کو صحیح سالم اولاد دیدی تو دونوں (بیوی) نے (اللہ کے) عطا کردہ بچے کا نام عبدالحارث رکھ کر خدا کا شریک قراردیدیا، اور ایک قراءت میں شین کے کسرہ اور…
Read the full tafseer →وان تدعوہم لی الہدی لا یسمعوا وترہم ینظرون الیک وہم لا یبصرون : اگر ان کو کوئی بات بتانے کو پکارو تو نہیں سنتے آپ کو نظر آتا ہے کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔
لا یسمعواوہ یعنی بت نہیں سنتے۔ وتراہم اور اے مخاطب تجھے وہ نظر آتے ہیں کہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ کچھ نہیں دیکھتے چونکہ مشرکوں نے اپنے معبودوں کی مورتیاں انسانی شکل کی بنا رکھی تھیں تو دیکھنے والوں کو محسوس ہوتا تھا کہ یہ ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔ حسن بصری نے لا یسمعوا اور تراہم کی ضمیریں مشرکوں کی طرف راجع کی ہیں یعنی اگر مشرکوں کو آپ اسلام کی دعوت دیں تو وہ دلوں سے نہیں سنتے کچھ نہیں سمجھتے بظاہر…
Read the full tafseer →(198) اور اگر ان کو حق کی طرف بلاؤ تو چوں کہ وہ مردہ اور بےروح ہیں کسی بات کا بھی جواب نہیں دیں گے اور محمد ﷺ ! آپ ان بتوں کو دیکھتے ہیں گویا کہ آنکھیں کھول کر آپ کو دیکھ رہے ہیں مگر وہ تو بےجان ہیں۔
Read the full tafseer →وَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ۔۔ : یعنی مشرکین اپنے بتوں کی صورتیں بناتے وقت ان کی آنکھیں ایسی بناتے کہ ان کی طرف دیکھنے والے کو ایسا معلوم ہو کہ وہ سچ مچ دیکھ رہے ہیں، مگر جب وہ بےجان بت ہیں تو دیکھیں گے کیسے ؟ (ابن جریر) یا آیت کے معنی یہ ہیں کہ مشرکین بظاہر تو آنکھیں رکھتے ہیں مگر بصیرت کے اندھے ہیں، اس لیے کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–198
آیت نمبر : 197۔ 198
قولہ تعالیٰ : آیت : والذین تدعون من دونہ اسے مکرر ذکر فرمایا تاکہ وہ یہ بیان کرے کہ جن کی وہ پوجا کرتے ہیں وہ نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ آیت : وان تدعوھم الی الھدی یہ شرط ہے اور جواب شرط لا یسمعوا ہے۔ وترھم یہ جملہ مستانفہ ہے۔ ینظرون الیک یہ حال کے محل میں واقع ہے مراد بت ہیں۔ اور نظر کا معنی ہے اس کی طرف دونوں آنکھوں کو کھول کر دیکھنا جس کی طرف دیکھا جا رہا ہے، یعنی تو نہیں دیکھے گا جیسے وہ تیری طرف آنکھیں کھولے ہوئے ہیں۔ ان کے بارے میں خبر واو ( مراد جمع مذکر کا صیغہ ہے) کے ساتھ دی حالانکہ وہ جماد ہیں جو نہیں دیکھ سکتے، اس لیے کہ یہ خبر اس کے فعل کے…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” ینظرون الیک “ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے مشرکین مراد ہیں۔
(2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وترھم ینظرون الیک وھم لا یبصرون “ اور تو دیکھے گا کہ وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ ان کو نظر ہی نہیں آتا۔ جس ہدایت کی طرف تم ان کو بلا رہے ہو۔
Read the full tafseer →[ وَاِنْ : اور اگر ] [ تَدْعُوْهُمْ : تم لوگ پکاروان کو ] [ اِلَى الْهُدٰى: ہدایت کی طرف ] [ لَا يَسْمَعُوْا : تو وہ لوگ نہیں سنتے ] [ ۭوَتَرٰىهُمْ : اور آپ دیکھتے ہیں ان کو ] [ يَنْظُرُوْنَ : (کہ ) وہ تکتے ہیں ] [ اِلَيْكَ : آپ کی طرف ] وَ : اس حال میں کہ ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ لَا يُبْصِرُوْنَ : دیکھ کر سمجھتے نہیں ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–198
معبود ان باطلہ نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں نہ عبادت گزاروں کی مدد کرسکتے ہیں
اوپر کی آیت میں اولاد کے سلسلہ میں شرک اختیار کرنے کا ذکر تھا ان آیات میں بھی مشرکین کو تنبیہ فرمائی ہے اور شرک اختیار کرنے میں جو انہوں نے حماقت کی ہے اسے بیان فرمایا ہے، اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے اسی نے سب کچھ پیدا فرمایا جس نے سب کچھ پیدا فرمایا وہی عبادت کے لائق ہے جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود اپنے خالق جل مجدہ کی مخلوق ہیں وہ کیسے عبادت کے مستحق ہوگئے ؟ مشرکین کا یہ طریقہ ہے کہ جب غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں تو یہ سمجھ کر کرتے ہیں کہ یہ آڑے وقت میں ہماری مدد کریں گے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–202
اثبات توحید وابطال شرک
قال اللہ تعالیٰ ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ثم لا یقصرون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور کمال علم و حکمت کا ذکر تھا کہ وہی ہر نفع اور ضرر کا مالک ہے اور وہی عالم الغیب ہے اور شروع سورت میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہا السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اب سورت قریب الختم ہے اس لیے حضرت آدم اور حوا کا قصہ اجمالی طور پر دوبارہ ذکر فرماتے ہیں جس سے مقصود توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال ہے اگرچہ گزشتہ آیات میں بھی توحید خداوندی کا مختصر سا ذکر ہوا ہے لیکن ان آیات میں اس مضمون کو قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہی اللہ ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–198
189: جن کو تم اللہ کے سوا حاجت و مشکلات میں مدد کے لیے پکارتے ہو وہ تو اپنی مدد نہیں کرسکتے تمہاری کیا خاک مدد کریں گے۔ اور “ وَاِنْ تَدْعُوْھُمْ الخ ” اس میں بھی دو قول ہیں۔ اول خطاب مشرکین سے ہے، اور ضمیر منصوب سے معبودان باطلہ مراد ہیں یعنی اگر تم ان کو اپنے مقاصد میں راہنمائی کے لیے پکارو تو وہ تمہاری پکار سن ہی نہیں سکتے تو مدد کیا کریں گے۔ “ اي الی ان یھدوکم الی ما تحصلون به مقاصد کو م (لَا یَسْمَعُوْا دُعَاءَکُمْ ) فضلاً عن المساعة والامداد ” (روح ج 9 ص 146) ۔ دوم خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے اور ضمیر منصوب سے مشرکین مراد ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ مشرکین کی جہالت و حماقت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–199
ربط آیات
گزشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید کے سلسلے میں بت پرستی کا رد فرمایا اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہیں ان سے حات روائی اور مشکل کشائی کی توقع رکھتے ہیں ان کی بھی تردید فرمائی گزشتہ درس میں یہ بھی ارشاد ہوچکا ہے کہ تم اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہو وہ تو تمہاری طرح عاجز بندے ہیں وہ تمہاری مدد کیسے کرسکتے ہیں وہ نہ تو تمہاری مشکل آسان کرسکتے ہیں اور نہ بگڑی بنا سکتے ہیں فرمایا اگر کچھ زعم ہے تو ان کو پکار کر دیکھ لو کہ وہ تمہاری بات کو سن کر تمہاری کون سی مشکل کشائی کرتے ہیں وہ تو تمہاری طرح مخلوق ہیں اور تمہارے کچھ کام نہیں آسکتے مٹی اور پتھر کے بتوں کے رد میں خاص…
Read the full tafseer →وَاِنْ تَدْعُوْہُمْ اِلَى الْہُدٰى لَا يَسْمَعُوْا 0 ۭ وَتَرٰىہُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَہُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ 198
هدى
الهداية دلالة بلطف،
وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه :
الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل،
والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى
[ طه/ 50] .
الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء،
وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا
[ الأنبیاء/ 73] .
الثالث : التّوفیق الذي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 198–201
ترکیب : وان شرطیہ تدعو شرط لا یسمعوا جواب ینظرون الیک مفعول ثانی وھم لایبصرون جملہ حال ہے فاعل ینظرون سے
واما شرط فاستعذباللّٰہ جواب از الخ جملہ محل علت میں ہے فاستعذ سے الذین موصول اتقوا صلہ مجموعہ اسم ان اذا مَسَّہُمْ شرط تذکروا جواب مجموعہ خبران النزغ الوسوسۃ وکذا النغز والنخس والنسغ۔
تفسیر : بت پرستی کرنے سے مشرکینِ کا حسن باطن جاتا رہا ہے اور اسی لئے سچی بات ان کے دل تک نہیں پہنچتی۔ یہاں اس کی تصویر کھینچی جاتی ہے کہ اگر تم ان کو ہدایت کی طرف بلاؤ تو وہ تمہاری بات ہی نہیں سنتے یعنی سماعت باطنی جاتی رہی باوجودیکہ اے نبی ! تجھ کو وہ ظاہر دیکھتے ہیں حالانکہ نہیں دیکھتے بصارت باطنی جاتی رہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–198
ارشاد ہوتا ہے :
وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَکُمْ وَلَآ اَنْفُسَھُمْ یَنْصُرُوْنَ وَاِنْ تَدْعُوْھُمْ اِلَی الْھُدٰی لَایَسْمَعُوْاط وَتَرٰھُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ وَھُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ
(الاعراف : 197، 198)
” اور جن کو تم اللہ کے ماسوا پکارتے ہو نہ وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں اگر تم ان کو راہنمائی کے لیے پکارو تو وہ تمہاری بات نہیں سنیں گے اور تم ان کو دیکھتے ہو کہ وہ تمہاری طرف تاک رہے ہیں لیکن انھیں سوجھتا کچھ بھی نہیں “۔
تم جن بتوں کو پکارتے ہو یا جن دیوی دیوتائوں اور مقدس شخصیتوں سے مدد طلب کرتے ہو وہ اسی بنیاد پر کرتے ہو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–198
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کی مذمت اور توحید کے دلائل جاری ہیں۔
سورۂ نور آیت 117 میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو الٰہ مانتا ہے۔ اس کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ حق دلائل پر قائم ہے اور جھوٹ کی کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ لہٰذا شرک کی حمایت میں جتنے بھی جھوٹے دلائل دیے جاتے ہیں وہ دلیل کے ترازو میں پورے نہیں اترتے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہم نے شرک کے لیے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ (یوسف : 40) یہی وجہ ہے جب بھی مشرک سے اس کے باطل معبودوں کے بارے میں جواب طلب کیا جاتا ہے تو وہ بہکی بہکی باتیں کرنے کے سوا کوئی جواب نہیں دے پاتا۔ یہاں ان کے…
Read the full tafseer →198: وَاِنْ تَدْ عُوْھُمْ اِلَی الْھُدٰی لَایَسْمَعُوْا وَتَرٰ ھُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ (اور اگر تم انکو کوئی بات بتلانے کیلئے پکارو تو نہیں سنتے اور آپ دیکھتے ہیں کہ گویا وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں) وہ تمہاری طرف دیکھنے والوں کے مشابہ ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے بتوں کی تصاویر ایسی بنا رکھی تھیں جیسے کوئی کسی چیز کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہا ہو۔ وَھُمْ لَایُبْصِرُوْنَ (حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے) دیکھی ہوئی چیز۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 198–199
199 (خذالعفو) عبداللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ لوگوں کے اخلاق سے چشم پوشی کریں اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی لوگوں کے اخلاق میں چشم پوشی کریں اور ان کے اعمال کو بغیر تجسس کے قبول کرلیں۔ مثلاً عذر کو قبول کرنا اور عفو چشم پوشی اور اشیاء کی تفتیش کو چھوڑنا۔ روایت کیا گیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو کہا کہ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا جب تک اللہ تعالیٰ سے پوچھ نہ لوں کچھ نہیں جانتا، پھر لوٹے اور کہا کہ بیشک آپ کا رب آپ کو حکم دے رہا ہے کہ جو آپ علیہ ال سلام سے رشتہ توڑے اس سے جوڑیں اور جو آپ کو محروم کرے اس کو دیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–198
191۔ 198۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے مشرکوں کو یہ تنبیہ فرمائی کہ کیا تم ایسی چیزوں کو معبود ٹھہراتے ہو جن میں کسی شے کے پیدا کرنے کی قدرت نہیں ہے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں اور عبادت تو خالق کارساز کو زیبا ہے مخلوق کسی طرح عبادت کی مستحق نہیں ہے ان بتوں سے تو ہزار درجہ تم بہتر ہو کر تم میں چلنے پھرنے کی طاقت ہے کھاتے پیتے ہو بتوں میں کیا قدرت ہے اگر کوئی آکر ان کے ٹکڑے کر ڈالے تو یہ کیا بچاؤ اپنا کرسکتے ہیں پھر جب اپنا اختیار انہیں نہیں ہے اور اپنے نفع نقصان سے بالکل یہ بیخبر ہیں تو تمہاری کیا مدد کرسکتے ہیں ایک مکھی جس میں کچھ بھی سکت نہیں ہے اگر ان کے پاس سے کوئی کھانے کی چیز لے بھاگے تو ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–198
آیت 197
یہ آیت بھی ان بتوں کی عبادت کے عدم استحقاق کو بیان کرتی ہے جن کی یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں، کیونکہ یہ خود اپنی مدد کرنے کی استطاعت اور قدرت رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کی مدد کرسکتے ہیں ان میں قوت عقل ہے نہ جواب دینے کی طاقت۔ اگر تو ان کو ہدایت کی طرف بلائے تو ان کی طرف نہیں آئیں گے کیونکہ یہ تو زندگی کے بغیر محض تصویریں ہیں تو ان کو دیکھے گا کہ گویا وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں مگر حقیقت میں وہ دیکھ نہیں سکتے، کیونکہ مصوروں نے ان کو انسانوں وغیرہ جانداروں کی صورت دی ہے، ان کی آنکھیں اور دیگر اعضاء بنائے ہیں۔ جب تو ان کی طرف دیکھے گا تو کہہ اٹھے گا کہ یہ زندہ ہیں مگر جب تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–198
معبودان باطل بھی اللہ کی ملکیت ہیں
قول باری ہے ان الذین تدعون من دوان اللہ عبادا مثالکم فادعوھم تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو) پہلی دعا اور پکار سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے بتوں کو معبودوں کے نام سے موسوم کردیا تھا جبکہ دوسری دعا اور پکار سے منافع کی طلب اور آنے والی مصیبتوں سے رہائی مراد ہے۔ اس بارے میں انہیں ان کی طرف سے مکمل مایوسی کا سامنا ہے قول باری عبادا مثالکم کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ ان معبودان باطل کو عباد اس لئے کہا گیا کہ یہ بھی اللہ کی ملکیت ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ مشرکین کو یہ وہم تھا کہ یہ معبودان باطل نفع و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 198–200
277 اللہ کے سوا جن کو پوجا پکارا جاتا ہے وہ سب بےحقیقت ہیں : کہ وہ دیکھنے کی صلاحیت ہی سے محروم ہیں۔ سو کتنا محروم اور بدنصیب ہے وہ انسان جو ان سے حاجت روائی اور مشکل کشائی کی توقع رکھتا، ان کے آگے جھکتا اور ان کے لئے پھیرے لگاتا اور چکر کاٹتا ہے۔ اور طرح طرح سے ذلیل ہوتا ہے کہ ان میں ایسی کوئی صلاحیت سرے سے ہے ہی نہیں کہ وہ کسی کی کوئی مدد کرسکیں۔ سو اللہ کے سواجن کو پوجا پکارا جاتا ہے وہ سب بےحقیقت ہیں۔ اور ان کے آگے مراسم عبادت بجا لانا خود اپنی تذلیل و تحقیر کا سامان کرنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ روایات میں وارد و منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آوری پر جب حضرت معاذ بن عمرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–203
انسان کی حقیقت اور مشرکوں کے طریقے
تشریح : یوں تو پورا قرآن پاک ہی ہدایت اور رہنمائی سے بھرا پڑا ہے۔ مگر ان آیات میں خاص طور سے پھر انسان کو اپنی پیدائش کا طریقہ بتایا گیا ہے اور پھر گھریلو زندگی اور پرسکون خاندان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) بغیر باپ اور ماں کے اللہ کی قدرت سے پیدا ہوئے سیدہ سیدنا حوا (علیہا السلام) ان سے پیدا ہوئیں مگر بغیر ماں کے، سیدنا عیسیٰ بغیر باپ کے اور پھر اس کے بعد نسل انسانی ماں اور باپ دونوں کے میاں بیوی بن کر آپس کے ملاپ سے مگر اللہ کی قدرت سے بڑھنی شروع ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ جب میاں اور بیوی میں شادی کا رشتہ بن جاتا ہے تو پھر دونوں ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–206
رکوع نمبر 24 ۔ آیات 189 ۔ تا۔ 206
جہاں تک علوم غیبیہ اور نفع و نقصان کا تعلق ہے تو یہ اوصاف تو اس ذات حمید کے ہیں جس نے تمہیں ایک وجود یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا اور ایسا کریم ہے کہ انسان کی نسل بقا کے لیے اسی وجود میں سے اس کا جوڑا یعنی حوا کو پیدا فرما
کر ان میں باہمی محبت و الفت اور ایک لذت وصال رکھ دی کہ انسان نہ صرف بقائے نسل کا کام کرے بلکہ ایک دوسرے سے انس اور روحت بھی حاصل کریں۔ یہ اس کے احسانات ہیں۔
مگر انسانوں کا یہ حال ہے کہ مرد و عورت جمع ہوئے اور حمل قرار پا گیا اب خالق کو اس کا علم ہے جس کی پشت میں تھا وہ بیخبر رہا جس کے پیٹ میں پہنچا اسے پتہ نہیں بغیر کسی پرواہ کے…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی مشرکین نے اپنے بتوں کی صورتیں بناتے وقت ان کیا آنکھیں ایسی بناتے کہ ان کی طرف دیکھنے والے کو ایس امعلوم ہو کہ وہ سچ مچ دیکھ کر رہے ہیں مگر جب درحقیقت دیکھنے والے کو ایسامعلوم ہو کہ وہ سچ مچ دیکھ کر رہے ہیں مگر جب در حقیقت وہ بےجان بت ہیں تو دیکھوں گے کیسے ( ابن جریر) یا آیت کے معنی یہ کہ مشرکین بظاہر تو آنکھیں رکھتے ہیں مگر بصیرت کے اندھے ہیں اس لیے کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی ( جامع البیان، ابن کثیر )
Read the full tafseer →(7:198) وان تدعوہم الی الھدی۔ ملاحظہ ہو (7:193) ۔
اگر یہاں ہم کی ضمیر مشرکون کی طرف راجع ہے جیسا کہ الحسن کا قول ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا۔ کہ اگر تم ان (مشرکین) کو ہدایت کی طرف پکارو تو وہ نہیں سنیں گے اور تو ان کو دیکھے گا کہ وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں لیکن کچھ دیکھ پا نہیں رہے (یونہی پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ لیکن حقیقت میں پکار کو سمجھ نہیں رہے) ۔
لیکن اکثر مفسرین کے نزدیک ہم کی ضمیر کا مرجع وہ اصنام و اوثان ہیں جن کو مشرکین اللہ کے شریک ٹھہرا رہے تھے۔ اور مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان کو ہدایت کی طرف بلاؤ (یا ہدایت کے لئے بلاؤ) تو اپنی مصنوعی آنکھوں سے معلوم دیں گے کہ دیکھ رہے ہیں لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–198
لغات القرآن ۔
لا یخلق۔ پیدا نہیں کیا۔ لا یتبعوکم۔ وہ تمہاری پیروی نہ کریں گے۔ صامتون۔ چپ رہنے والے۔ عباد۔ (عبد) ۔ بندے۔ فلیستجیبوا۔ پھر چاہیے کہ وہ کہا مانیں۔ ارج۔ (رجل) ۔ پاؤں۔ یمشون۔ وہ چلتے ہیں۔ یبطشون۔ وہ پکڑتے ہیں۔ کیدون۔ تم میرے خلاف تدبیریں کرو۔ لا تنظرون۔ مجھے مہلت نہ دو ۔ ولی اللہ۔ میرا حمایتی اللہ ہے۔ یتولی۔ وہ سنھالتا ہے۔
تشریح : سورة الاعراف چونکہ ختم پر ہے چناچہ اس سورت کی تمام باتوں کو شرک کی نفی میں مختصر جملوں میں سمیٹ دیا گیا ہے۔ اور یاددھانی کے طور پر ان کا نچوڑ پیش کردیا گیا ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ کو بھی ضروری ہدایات دی جا رہی ہیں۔
یہ سورة مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی جس سے اندازہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–199
اس آیت میں صلہ رحمی اور لوگوں سے نرمی کے ساتھ پیش آنے اور غصہ کے وقت اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے کا ذکر ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھنے سے آدمی کا غصہ اتر جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–203
[79] نشانی سے مراد ہے معجزہ۔
[80] یعنی جب تم نبی ٹھہرے تو سب کچھ تمہارے اختیار میں ہونا چاہئے۔
Read the full tafseer →(ف 1) اس سے قبل بتوں کا ذکر ہے کہ ان میں کوئی خصوصیت نہیں وہ بھی تمہاری طرح عبودیت وتذلل کی زنجیر میں بندھے ہوئے ہیں اور پھر اس درجہ بےبس ہیں کہ چل پھر نہیں سکتے ، نہ ہاتھوں سے چھو سکتے ہیں اور نہ کان ہیں کہ سن کسیں ، اس کے بعد بت پرستوں سے کہا کہ تم ان کو مقابلے کے لئے آمادہ کرو ، اور دیکھو ، اللہ کی دوستی اور حمایت کس طرح روئے کار آتی ہے ، اس کے بعد کی آیات میں تعریض ہے کہ بتوں سے نصرت کی توقع نہیں ہو سکتی ، وہ نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں اور نہ تمہاری اس کے بعد خطاب مشرکین سے ہے کہ اگر ان کو ہدایت کی طرف دعوت دی جائے ، تو غور وفکر کی غرض سے کان نہیں دھرتے ، باوجود ان حقائق کے بتوں کی بیچارگی…
Read the full tafseer →198 اور ان کی عاجزی اور درماندگی کی تو یہ حالت ہے کہ اگر تم ان کو کسی بھلی بات بتانے اور ان کی صحیح رہنمائی کے لئے بھی بلائو تب بھی وہ کچھ نہیں سنتے یعنی سننے سے بالکل عاجز ہیں۔ اور اے مخاطب تو ان کو دیکھتا ہے جیسے وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں دیکھ رہے۔ مطلب یہ ہے کہ بت پرست بتوں میں انسانی چہرہ بناتے ہیں اور کان اور آنکھیں وغیرہ تراشتے ہیں دیکھنے والے کو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ دیکھنے والے کو دیکھ رہا ہے حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں دیکھتا وہ ایک پتھر کا محض مجسمہ ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →ف 2۔ اوپر جہلاء مشرکین سے محاجہ بلیغہ تھا چونکہ باوجود اس محاجہ کے بھی وہ لوگ غایت عناد سے اپنی جہالت پر مصر رہتے تھے جو مظنہ ہے غصہ کا اسلیے آگے رسول اللہ کو حکم ہے ملاطفت کا اور غصہ آجانے پر تعلیم استعاذہ کا۔ اور بیان ہے ان کے مبتلائے غی رہنے کا جس سے اقناط کلی ہوجائے تاکہ غصہ نہ آئے۔
Read the full tafseer →اگر تم ان کو ہدایت کی طرف بلائو تو وہ نہ سنیں وہ دیکھتے ہیں پر نہیں دیکھتے :
227: اس آیت میں خطاب مسلمانوں کو ہے کہ اگر تم ان کفار کو ہدایت کی طرف بلائو تو یہ بھی نہیں سنتے اور یہاں سننے سے مراد قبول کرنا ہے اور اس طرح یہ بھی فرمایا کہ نظر تو وہ تیری طرف کرتے ہیں مگر ایسی نظر کرنے کا کیا فائدہ جس میں سب کچھ دیکھا ان دیکھا کردیا جائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ (تراھم ) میں ضمیر انہی معبودان باطل کی طرف ہو اس لئے مشرک قوموں نے ایسے مجسمے گھڑ لئے تھے اور اپنی صناعی کے زور سے جانداروں کی سی مورتیں تراش لی تھیں جس سے ایسا نظر آئے کہ گویا وہ دیکھنے والے کی طرف دیکھ رہے ہیں حالانکہ پتھر ، لکڑی ، سونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–198
The verse 196 has said:
إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّـهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ ۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ ﴿196﴾
"Surely my protector is Allah who has revealed the Book and who does protect the righteous."
The Arabic word ولی rendered here as 'protector' also means helper. The word ~ISJI (The Book) here refers to the Holy Qur'an, and the word صَلِحِین (the righteous), according to Sayyidna Ibn ` Abbas J.II L, , here refers to all those who do not take any one equal to Allah, including the prophets and other faithful Muslims:
The Holy Prophet ﷺ has been asked to declare that he was not…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–202
150. Here some important directives are addressed to the Prophet (peace be on him) regarding how he should preach the Message of Islam and how he should guide and reform people. The object of these directives is not merely to instruct the Prophet (peace be on him), but also to instruct all those who would shoulder the same responsibility after the Prophet (peace be on him) was no longer amidst them. The major directives are as follows:
(1) The most important qualities that must be cultivated by anyone who calls others to the truth are tenderness, magnanimity, and forbearing. Such a person…
Read the full tafseer →