Explained with ayahs 191–198
انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے
جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو بوجتے ہیں وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں وہی ان کا پالنے والا ہے وہ بالکل بےاختیار ہیں کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا تندرست اور اجھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں کان بھی ہیں یہ بیوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ لوگو آؤ ایک لطیف مثال سنو تم جنہیں پکار رہے ہو یہ سارے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–202
سورة الْاَعْرَاف 150
ان آیات میں نبی ﷺ کو دعوت تبلیغ اور ہدایت و اصلاح کی حکمت کے چند اہم نکات بتائے گئے ہیں اور مقصود صرف حضور ہی کو تعلیم دینا نہیں ہے بلکہ حضور کے ذریعہ سے ان سب لوگوں کو بھی حکمت سکھانا ہے جو حضور کے قائم مقام بن کر دنیا کو سیدھی راہ دکھانے کے لیے اٹھیں۔ ان نکات کو سلسلہ وار دیکھنا چاہیے۔
(1) داعی حق کے لیے جو صفات سب سے زیادہ ضروری ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسے نرم خو متحمل اور عالی ظرف ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے ساتھیوں کے لیے شفیق، عامتہ الناس کے لیے رحیم اور اپنے مخالفوں کے لیے حلیم ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے رفقا کی کمزوریوں کو بھی برداشت کرنا چاہیے اور اپنے مخالفین کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–198
معارف و مسائل
(آیت) اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ، یہاں ولی کے معنی محافظ و مددگار کے ہیں، اور کتاب سے مراد قرآن اور صالحین سے مراد بقول ابن عباس وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو برابر نہ کریں، اس میں انبیاء (علیہم السلام) سے لے کر عام نیک مسلمانوں تک سب داخل ہیں۔
اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ مجھے تمہاری مخالفت کی اس لئے پرواہ نہیں کہ میرا محافظ و مددگار اللہ تعالیٰ ہے جس نے مجھ پر قرآن نازل کیا ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ کی سب صفات میں سے قرآن نازل کرنے کو خصوصیت سے اس لئے ذکر کیا کہ تم جو میری عداوت و مخالفت پر جمے ہو، اس کی وجہ قرآن کی تعلیم و…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْن۔ یہ اوپر آیت 192 کا مضمون کسی قدر اسلوب کی تبدیلی کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →197۔ 1 جو اپنی مدد آپ کرنے پر قادر نہ ہو وہ بھلا دوسروں کی مدد کیا کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–199
99: کفار مکہ آنحضرت ﷺ کو ڈرایا کرتے تھے کہ آپ ہمارے دیوتاؤں کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہیں کہ ان میں کچھ بھی طاقت نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے ہمارے دیوتا آپ کو (معاذ اللہ) سزا دیں گے۔ یہ آیت اس کا جواب دے رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–198
تفسیر آیات 189 تا 198:۔
عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–198
3 یعنی بظاہر آنکھیں بنی ہوئی ہیں، پر ان میں بینائی کہاں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–198
آیت 195 اَلَہُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِہَآز
تم نے ان کے پاؤں اگر بنا بھی دیے ہیں تو کیا وہ ایک قدم چلنے کی سکت بھی رکھتے ہیں ؟
قُلِ ادْعُوْا شُرَکَآءَ کُمْ ثُمَّ کِیْدُوْنِ فَلاَ تُنْظِرُوْنِ ۔
رسول اللہ ﷺ سے ڈنکے کی چوٹ یہ اعلان کرایا جا رہا ہے کہ میں تم سے کوئی درخواست نہیں کرتا کہ میرے ساتھ نرمی کرو یا مجھے مہلت دے دو۔ تم اپنے تمام معبودوں کو بلا لو اور میرے خلاف جو بھی اقدام کرسکتے ہو کر گزرو۔ یہ اسی طرح کا قول فیصل ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اعلان برا ءت کرایا گیا تھا : اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ الانعام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–197
195 جب میرا سرپرست اور کارساز اللہ تعالیٰ ہے جس نے یہ قرآن نازل کیا ہے تو پھر مجھے تمہارے ان معبودوں سے نقصان پہنچنے کا کیا خطرہ ہوسکتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ بات صرف مجھی پر منحصر نہیں اللہ اپنے سب نیک بندوں کی سرپرستی فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی یہ سرپرستی کیا کم ہے کہ اس نے قرآن جیسی بابرکت کتاب ہمارے لیے نازل فرمائی ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔
Read the full tafseer →289 ۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبرت 284، اصل مقصود ان معبودوں کا کمال عجز دکھانا تھا اس لیے اس پر توجہ اس آیت میں دلائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–206
آیت نمبر 189 تا 206
ترجمہ : وہ یعنی اللہ ہی ہے جس نے تم کو ایک جان یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا حوّاء کو پیدا کیا تاکہ اس سے سکون حاصل کرے اور اس سے الفت کرے، چناچہ جب اس کو ڈھانپ لیا یعنی اس سے مجامعت کی، اگر اس کو ہلکا سا حمل رہ گیا، اور اس بات سے خوفزدہ ہوئے کہ وہ (حمل) کوئی جانور نہ ہو تو انہوں نے اپنے رب اللہ سے دعاء کی، اگر آپ ہمیں نیک صحیح سالم بچہ عطا فرمائیں تو ہم اس پر آپ کے شکر گذار ہوں گے، چناچہ جب ان کو صحیح سالم اولاد دیدی تو دونوں (بیوی) نے (اللہ کے) عطا کردہ بچے کا نام عبدالحارث رکھ کر خدا کا شریک قراردیدیا، اور ایک قراءت میں شین کے کسرہ اور…
Read the full tafseer →والذین تدعون من دونہ لا یستطیعون نصرکم ولا انفسہم ینصرون : اور جن کو اللہ کو چھوڑ کر تم پوجتے ہو وہ تمہاری مدد بالکل نہیں کرسکتے اور نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →(197) اور تم جن بتوں کی پوجا کرتے ہو وہ تمہیں نہ فائدہ پہنچا سکتے اور نہ تم سے کسی چیز کو ٹال سکتے ہیں بلکہ وہ تو خود اپنے ہی اوپر سے کسی مصیبت کو نہیں ہٹا سکتے۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ۔۔ : یہ بات پہلے بھی بیان فرمائی تھی، اس کا دوبارہ تذکرہ اس لیے کیا گیا کہ ان مشرکین کی بےوقوفی خوب واضح ہوجائے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–198
آیت نمبر : 197۔ 198
قولہ تعالیٰ : آیت : والذین تدعون من دونہ اسے مکرر ذکر فرمایا تاکہ وہ یہ بیان کرے کہ جن کی وہ پوجا کرتے ہیں وہ نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ آیت : وان تدعوھم الی الھدی یہ شرط ہے اور جواب شرط لا یسمعوا ہے۔ وترھم یہ جملہ مستانفہ ہے۔ ینظرون الیک یہ حال کے محل میں واقع ہے مراد بت ہیں۔ اور نظر کا معنی ہے اس کی طرف دونوں آنکھوں کو کھول کر دیکھنا جس کی طرف دیکھا جا رہا ہے، یعنی تو نہیں دیکھے گا جیسے وہ تیری طرف آنکھیں کھولے ہوئے ہیں۔ ان کے بارے میں خبر واو ( مراد جمع مذکر کا صیغہ ہے) کے ساتھ دی حالانکہ وہ جماد ہیں جو نہیں دیکھ سکتے، اس لیے کہ یہ خبر اس کے فعل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–197
(1) امام ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ سورج اور چاند کو اللہ تعالیٰ کے سامنے لایا جائے گا اور ان کو بھی لایا جائے گا جو ان کی عبادت کرتے تھے۔ اور اس سے کہا جائے گا۔ لفظ آیت ” فادعوہم فلیستجیبوا لکم ان کنتم صدقین “ (یعنی ان کو پکارو جو ان کی عبادت کرتے تھے اور اس سے کہا جائے گا۔ لفظ آیت ” فادعوھم فلیستجیبوا لکم ان کنتم صدقین “ (یعنی ان کو پکارو پھر ان کو چاہئے کہ تمہاری پکار کو قبول کریں اگر تم سچے ہو) ۔
Read the full tafseer →[ وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ جن کو ] [ تَدْعُوْنَ : تم لوگ پکارتے ہو ] [ مِنْ دُوْنِهٖ : اس کے علاوہ ] [ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ : وہ استطاعت نہیں رکھتے ] [ نَصْرَكُمْ : تمہاری مدد کی ] [ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ : اور نہ ہی اپنے آپ کی ] [ يَنْصُرُوْنَ : وہ مدد کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–198
معبود ان باطلہ نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں نہ عبادت گزاروں کی مدد کرسکتے ہیں
اوپر کی آیت میں اولاد کے سلسلہ میں شرک اختیار کرنے کا ذکر تھا ان آیات میں بھی مشرکین کو تنبیہ فرمائی ہے اور شرک اختیار کرنے میں جو انہوں نے حماقت کی ہے اسے بیان فرمایا ہے، اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے اسی نے سب کچھ پیدا فرمایا جس نے سب کچھ پیدا فرمایا وہی عبادت کے لائق ہے جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود اپنے خالق جل مجدہ کی مخلوق ہیں وہ کیسے عبادت کے مستحق ہوگئے ؟ مشرکین کا یہ طریقہ ہے کہ جب غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں تو یہ سمجھ کر کرتے ہیں کہ یہ آڑے وقت میں ہماری مدد کریں گے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–202
اثبات توحید وابطال شرک
قال اللہ تعالیٰ ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ثم لا یقصرون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور کمال علم و حکمت کا ذکر تھا کہ وہی ہر نفع اور ضرر کا مالک ہے اور وہی عالم الغیب ہے اور شروع سورت میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہا السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اب سورت قریب الختم ہے اس لیے حضرت آدم اور حوا کا قصہ اجمالی طور پر دوبارہ ذکر فرماتے ہیں جس سے مقصود توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال ہے اگرچہ گزشتہ آیات میں بھی توحید خداوندی کا مختصر سا ذکر ہوا ہے لیکن ان آیات میں اس مضمون کو قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہی اللہ ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–198
189: جن کو تم اللہ کے سوا حاجت و مشکلات میں مدد کے لیے پکارتے ہو وہ تو اپنی مدد نہیں کرسکتے تمہاری کیا خاک مدد کریں گے۔ اور “ وَاِنْ تَدْعُوْھُمْ الخ ” اس میں بھی دو قول ہیں۔ اول خطاب مشرکین سے ہے، اور ضمیر منصوب سے معبودان باطلہ مراد ہیں یعنی اگر تم ان کو اپنے مقاصد میں راہنمائی کے لیے پکارو تو وہ تمہاری پکار سن ہی نہیں سکتے تو مدد کیا کریں گے۔ “ اي الی ان یھدوکم الی ما تحصلون به مقاصد کو م (لَا یَسْمَعُوْا دُعَاءَکُمْ ) فضلاً عن المساعة والامداد ” (روح ج 9 ص 146) ۔ دوم خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے اور ضمیر منصوب سے مشرکین مراد ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ مشرکین کی جہالت و حماقت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–199
ربط آیات
گزشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید کے سلسلے میں بت پرستی کا رد فرمایا اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہیں ان سے حات روائی اور مشکل کشائی کی توقع رکھتے ہیں ان کی بھی تردید فرمائی گزشتہ درس میں یہ بھی ارشاد ہوچکا ہے کہ تم اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہو وہ تو تمہاری طرح عاجز بندے ہیں وہ تمہاری مدد کیسے کرسکتے ہیں وہ نہ تو تمہاری مشکل آسان کرسکتے ہیں اور نہ بگڑی بنا سکتے ہیں فرمایا اگر کچھ زعم ہے تو ان کو پکار کر دیکھ لو کہ وہ تمہاری بات کو سن کر تمہاری کون سی مشکل کشائی کرتے ہیں وہ تو تمہاری طرح مخلوق ہیں اور تمہارے کچھ کام نہیں آسکتے مٹی اور پتھر کے بتوں کے رد میں خاص…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَہُمْ يَنْصُرُوْنَ 197
دون
يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم :
هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ،
( د و ن ) الدون
جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔
الاستطاعۃ
.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–197
ترکیب : عباد خبر ان امثالکم اس کی صفت فلیستجیبوا مجزوم ہے جواب امر فادعوا کی وجہ سے اور فادعوھم جملہ دال برجزا ہے ان کنتم صادقین سے آ استفہام کے لئے ارجل رجل بالکسر کی جمع موصوف یمشون بہا اس کی صفت مجموعہ مبتدا لہم خبر مقدم اسی طرح اس کے مابعد کے جملہ ہیں اور یہ استفہام انکاری ہے کیدون اصل میں کیدونی تھا ی مفعول کو حذف کرکے کسرہ اس کے قائم مقام چھوڑ دیا گیا ہے تاکہ حذف ی پر دلالت کرے۔
تفسیر : یہاں سے ان کے معبودوں کی اور ایک حالت بیان فرماتا ہے کہ جس سے وہ قابل پرستش نہیں ہوسکتے۔ وہ یہ کہ خدا کے سوا جن چیزوں کو تم پوجتے ہو مانا کہ ان پتھروں کے بتوں کو نہیں پوجتے بلکہ ان کو کہ جن کی یہ فرضی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–198
ارشاد ہوتا ہے :
وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَکُمْ وَلَآ اَنْفُسَھُمْ یَنْصُرُوْنَ وَاِنْ تَدْعُوْھُمْ اِلَی الْھُدٰی لَایَسْمَعُوْاط وَتَرٰھُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ وَھُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ
(الاعراف : 197، 198)
” اور جن کو تم اللہ کے ماسوا پکارتے ہو نہ وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں اگر تم ان کو راہنمائی کے لیے پکارو تو وہ تمہاری بات نہیں سنیں گے اور تم ان کو دیکھتے ہو کہ وہ تمہاری طرف تاک رہے ہیں لیکن انھیں سوجھتا کچھ بھی نہیں “۔
تم جن بتوں کو پکارتے ہو یا جن دیوی دیوتائوں اور مقدس شخصیتوں سے مدد طلب کرتے ہو وہ اسی بنیاد پر کرتے ہو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–198
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کی مذمت اور توحید کے دلائل جاری ہیں۔
سورۂ نور آیت 117 میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو الٰہ مانتا ہے۔ اس کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ حق دلائل پر قائم ہے اور جھوٹ کی کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ لہٰذا شرک کی حمایت میں جتنے بھی جھوٹے دلائل دیے جاتے ہیں وہ دلیل کے ترازو میں پورے نہیں اترتے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہم نے شرک کے لیے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ (یوسف : 40) یہی وجہ ہے جب بھی مشرک سے اس کے باطل معبودوں کے بارے میں جواب طلب کیا جاتا ہے تو وہ بہکی بہکی باتیں کرنے کے سوا کوئی جواب نہیں دے پاتا۔ یہاں ان کے…
Read the full tafseer →جو اپنی مدد نہ کرسکے تمہاری کیا مدد کرے گا :
آیت 197: وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ (اور تم جن لوگوں کی اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو) اللہ تعالیٰ کے سواء۔ لَایَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَکُمْ وَلَآ اَنْفُسَھُمْ یَنْصُرُوْنَ (وہ تمہاری کچھ مدد نہیں کرسکتے نہ وہ اپنی مدد کرسکتے ہیں)
Read the full tafseer →وہ بتوں کی طرف دیکھتے ہیں (وھم لایبصرون ) یہاں حقیقتاً دیکھنا مراد نہیں ہے کہ مقابلہ مراد ہے عرب کہتے ہیں داری تنظیر الی دارک یعنی اس کے مقابل ہے اور بعض نے کہا ہے وتراھم ینظرون الیک یعنی گویا کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول (وتری الناس سکاری) ہے یعنی گویا کہ وہ نشہ میں ہیں یہ مفسرین کا قول ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین نہ سنتے ہیں اور نہ اپنے دل سے اس کو سمجھتے ہیں اور آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ آنکھوں سے تو آپ کو دیکھتے ہیں لیکن اپنے دل سے نہیں دیکھتے اور سمجھتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–198
191۔ 198۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے مشرکوں کو یہ تنبیہ فرمائی کہ کیا تم ایسی چیزوں کو معبود ٹھہراتے ہو جن میں کسی شے کے پیدا کرنے کی قدرت نہیں ہے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں اور عبادت تو خالق کارساز کو زیبا ہے مخلوق کسی طرح عبادت کی مستحق نہیں ہے ان بتوں سے تو ہزار درجہ تم بہتر ہو کر تم میں چلنے پھرنے کی طاقت ہے کھاتے پیتے ہو بتوں میں کیا قدرت ہے اگر کوئی آکر ان کے ٹکڑے کر ڈالے تو یہ کیا بچاؤ اپنا کرسکتے ہیں پھر جب اپنا اختیار انہیں نہیں ہے اور اپنے نفع نقصان سے بالکل یہ بیخبر ہیں تو تمہاری کیا مدد کرسکتے ہیں ایک مکھی جس میں کچھ بھی سکت نہیں ہے اگر ان کے پاس سے کوئی کھانے کی چیز لے بھاگے تو ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–198
آیت 197
یہ آیت بھی ان بتوں کی عبادت کے عدم استحقاق کو بیان کرتی ہے جن کی یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں، کیونکہ یہ خود اپنی مدد کرنے کی استطاعت اور قدرت رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کی مدد کرسکتے ہیں ان میں قوت عقل ہے نہ جواب دینے کی طاقت۔ اگر تو ان کو ہدایت کی طرف بلائے تو ان کی طرف نہیں آئیں گے کیونکہ یہ تو زندگی کے بغیر محض تصویریں ہیں تو ان کو دیکھے گا کہ گویا وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں مگر حقیقت میں وہ دیکھ نہیں سکتے، کیونکہ مصوروں نے ان کو انسانوں وغیرہ جانداروں کی صورت دی ہے، ان کی آنکھیں اور دیگر اعضاء بنائے ہیں۔ جب تو ان کی طرف دیکھے گا تو کہہ اٹھے گا کہ یہ زندہ ہیں مگر جب تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–198
معبودان باطل بھی اللہ کی ملکیت ہیں
قول باری ہے ان الذین تدعون من دوان اللہ عبادا مثالکم فادعوھم تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو) پہلی دعا اور پکار سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے بتوں کو معبودوں کے نام سے موسوم کردیا تھا جبکہ دوسری دعا اور پکار سے منافع کی طلب اور آنے والی مصیبتوں سے رہائی مراد ہے۔ اس بارے میں انہیں ان کی طرف سے مکمل مایوسی کا سامنا ہے قول باری عبادا مثالکم کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ ان معبودان باطل کو عباد اس لئے کہا گیا کہ یہ بھی اللہ کی ملکیت ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ مشرکین کو یہ وہم تھا کہ یہ معبودان باطل نفع و…
Read the full tafseer →276 اللہ کے سوا جن کو بھی پوجا و پکارا جاتا ہے وہ کوئی مدد نہیں کرسکتے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک جن کو تم لوگ پوجتے پکارتے ہو اس وحدہ لا شریک کے سوا وہ تمہاری کسی بھی طرح کی کوئی مدد نہیں کرسکتے اور نہ ہی وہ خود اپنی ہی کوئی مدد کرسکتے ہیں کہ ان کے اندر اس کی اہلیت اور صلاحیت ہی نہیں کہ لکڑی پتھر کے بت تو سرے سے کچھ کرنے کے قابل ہیں ہی نہیں۔ وہ تو محض بےبس اور بےجان ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کے نیک بندے بھی بغیر اسباب و وسائل کے اور مرنے کے بعد کچھ نہیں کرسکتے کہ خلاف اسباب اور مافوق الاسباب طریقے سے کسی کی مدد کرنا اللہ وحدہ لاشریک ہی کی شان اور اسی کا اختصاص ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–203
انسان کی حقیقت اور مشرکوں کے طریقے
تشریح : یوں تو پورا قرآن پاک ہی ہدایت اور رہنمائی سے بھرا پڑا ہے۔ مگر ان آیات میں خاص طور سے پھر انسان کو اپنی پیدائش کا طریقہ بتایا گیا ہے اور پھر گھریلو زندگی اور پرسکون خاندان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) بغیر باپ اور ماں کے اللہ کی قدرت سے پیدا ہوئے سیدہ سیدنا حوا (علیہا السلام) ان سے پیدا ہوئیں مگر بغیر ماں کے، سیدنا عیسیٰ بغیر باپ کے اور پھر اس کے بعد نسل انسانی ماں اور باپ دونوں کے میاں بیوی بن کر آپس کے ملاپ سے مگر اللہ کی قدرت سے بڑھنی شروع ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ جب میاں اور بیوی میں شادی کا رشتہ بن جاتا ہے تو پھر دونوں ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–206
رکوع نمبر 24 ۔ آیات 189 ۔ تا۔ 206
جہاں تک علوم غیبیہ اور نفع و نقصان کا تعلق ہے تو یہ اوصاف تو اس ذات حمید کے ہیں جس نے تمہیں ایک وجود یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا اور ایسا کریم ہے کہ انسان کی نسل بقا کے لیے اسی وجود میں سے اس کا جوڑا یعنی حوا کو پیدا فرما
کر ان میں باہمی محبت و الفت اور ایک لذت وصال رکھ دی کہ انسان نہ صرف بقائے نسل کا کام کرے بلکہ ایک دوسرے سے انس اور روحت بھی حاصل کریں۔ یہ اس کے احسانات ہیں۔
مگر انسانوں کا یہ حال ہے کہ مرد و عورت جمع ہوئے اور حمل قرار پا گیا اب خالق کو اس کا علم ہے جس کی پشت میں تھا وہ بیخبر رہا جس کے پیٹ میں پہنچا اسے پتہ نہیں بغیر کسی پرواہ کے…
Read the full tafseer →ف 7 یہی بات پہلے بھی بیان فرمائی تھی اس کا دوبارہ تذکرہ اس لیے کیا گیا ان پر مشرکین کے بو قوفی خوب واضح ہوجائے ( شو کانی )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–197
(7:196) ولی۔ میرا حمایتی۔ میرا مددگار۔ میرا ناصر۔ الکتاب۔ القرآن۔ یتولی۔ جو مدد کرتا ہے ۔ جو دوست رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–198
لغات القرآن ۔
لا یخلق۔ پیدا نہیں کیا۔ لا یتبعوکم۔ وہ تمہاری پیروی نہ کریں گے۔ صامتون۔ چپ رہنے والے۔ عباد۔ (عبد) ۔ بندے۔ فلیستجیبوا۔ پھر چاہیے کہ وہ کہا مانیں۔ ارج۔ (رجل) ۔ پاؤں۔ یمشون۔ وہ چلتے ہیں۔ یبطشون۔ وہ پکڑتے ہیں۔ کیدون۔ تم میرے خلاف تدبیریں کرو۔ لا تنظرون۔ مجھے مہلت نہ دو ۔ ولی اللہ۔ میرا حمایتی اللہ ہے۔ یتولی۔ وہ سنھالتا ہے۔
تشریح : سورة الاعراف چونکہ ختم پر ہے چناچہ اس سورت کی تمام باتوں کو شرک کی نفی میں مختصر جملوں میں سمیٹ دیا گیا ہے۔ اور یاددھانی کے طور پر ان کا نچوڑ پیش کردیا گیا ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ کو بھی ضروری ہدایات دی جا رہی ہیں۔
یہ سورة مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی جس سے اندازہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–199
اس آیت میں صلہ رحمی اور لوگوں سے نرمی کے ساتھ پیش آنے اور غصہ کے وقت اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے کا ذکر ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھنے سے آدمی کا غصہ اتر جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–203
[79] نشانی سے مراد ہے معجزہ۔
[80] یعنی جب تم نبی ٹھہرے تو سب کچھ تمہارے اختیار میں ہونا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–197
(ف 1) عام مفسرین نے یہاں یہ قصہ بیان کیا ہے کہ حواء جب حاملہ ہوئیں ، تو شیطان ان کے پاس آیا اور کہنے لگا جانتی ہو ، اب کیا ہوگا ، تیرے پیٹ سے جانور پیدا ہوگا ، اور خدا جانے کس تکلیف کے انداز میں پیدا ہو ، یا انسانی بچہ پیدا ہو تو ناقص ہو ، میں اللہ کا مقرب ہوں ، اگر میری مانو اور ہونے والے بچے کا نام عبدالحارث رکھو ، تو کوئی اندیشہ نہیں ، حواء اس پر راضی ہوگئیں ، اور بچے کا نام عبدالحارث رکھا ، جو شیطان کا نام ہے ، یہ آیت اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے ، مگر یہ واقعہ حقیقت درست نہیں کیونکہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ خدا کا پیغمبر دوبارہ شیطان کے دھوکے میں آگیا ، حالانکہ مرد مومن بھی دو دفعہ دھوکا نہیں…
Read the full tafseer →197 اور اللہ تعالیٰ کے سواجن کو تم اپنی مدد کے لئے بلائوگے ان کی حالت یہ ہے کہ وہ نہ تمہاری کچھ مدد کرسکتے ہیں نہ وہ اپنی ہی کچھ مدد کرسکتے ہیں یعنی بالکل بےکار ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 193–197
ف 6۔ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ تم ان کو پکارو کہ وہ تم کو کوئی بات بتلادیں تو تمہارا کہنا نہ کریں یعنی نہ بتلادیں اور دوسرے اس سے زیادہ یہ کہ تم ان کو پکارو کہ آو ہم تم کو کچھ بتلادیں تو تمہارے کہنے پر نہ چلیں یعنی تمہاری بتلائی ہوئی بات پر عمل نہ کرسکیں۔
1۔ خلاصہ یہ کہ جو کام سب سے سہل تر ہے کہ کوئی بات بتلانے کے لیے پکارنے کو سن لینا وہ اسی سے عاجز ہیں تو جو اس سے مشکل ہے کہ اپنی حفاظت کریں اور پھر جو اس سے بھی مشکل ہے کہ دوسروں کی امداد کرنا اور پھر جو ان سب سے دشوار تر ہے کہ کسی شے کو پیدا کرنا ان سے تو بدرجہ اولی زیادہ ترعاجز ہوں گے پھر ایسے عاجز محتاج کب معبودیت کے لائق ہوسکتے…
Read the full tafseer →اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ تو مدد کی قدرت بھی نہیں رکھتے :
226: اس میں بھی آیت 192 کی طرح مشرکوں کی حماقت دکھائی گئی ہے کہ یہ عقل کے اندھے ایسوں کے آگے جھکتے ہیں جن کو خود ہی اپنے ہاتھوں سے انہوں نے یا ان جیسے دوسرے انسانوں نے تراشا ہے یا قبروں اور تصویروں کی شکلوں میں بنایا ہے یا ایک گڑھے میں میت کو اپنے ہاتھوں رکھ کر اس پر سینکڑوں من مٹی ڈالی ہے لیکن اس کے باوجود اس کو حاجت روا اور مشکل کشا بھی تسلیم کیا ہے ۔ واہ رے تمہاری عقل اور واہ رے تمہارا دین و مذہب اور واہ رے تمہارے پیر ومرشد جنہوں نے تمہیں یہ راہ بتائی ہے ۔ اچھا کان کھول کر سن لو کہ جن جن کو بھی تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–198
The verse 196 has said:
إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّـهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ ۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ ﴿196﴾
"Surely my protector is Allah who has revealed the Book and who does protect the righteous."
The Arabic word ولی rendered here as 'protector' also means helper. The word ~ISJI (The Book) here refers to the Holy Qur'an, and the word صَلِحِین (the righteous), according to Sayyidna Ibn ` Abbas J.II L, , here refers to all those who do not take any one equal to Allah, including the prophets and other faithful Muslims:
The Holy Prophet ﷺ has been asked to declare that he was not…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–202
150. Here some important directives are addressed to the Prophet (peace be on him) regarding how he should preach the Message of Islam and how he should guide and reform people. The object of these directives is not merely to instruct the Prophet (peace be on him), but also to instruct all those who would shoulder the same responsibility after the Prophet (peace be on him) was no longer amidst them. The major directives are as follows:
(1) The most important qualities that must be cultivated by anyone who calls others to the truth are tenderness, magnanimity, and forbearing. Such a person…
Read the full tafseer →