Explained with ayahs 191–198
انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے
جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو بوجتے ہیں وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں وہی ان کا پالنے والا ہے وہ بالکل بےاختیار ہیں کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا تندرست اور اجھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں کان بھی ہیں یہ بیوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ لوگو آؤ ایک لطیف مثال سنو تم جنہیں پکار رہے ہو یہ سارے ہی…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 149
یہ جواب ہے مشرکین کی ان دھمکیوں کا جو وہ نبی ﷺ کو دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر تم ہمارے ان معبودوں کی مخالفت کرنے سے باز نہ آئے اور ان کی طرف سے لوگوں کے عقیدے اسی طرح خراب کرتے رہے تو تم پر ان کا غضب ٹوٹ پڑے گا اور وہ تمہیں الٹ کر رکھ دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–198
معارف و مسائل
(آیت) اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ، یہاں ولی کے معنی محافظ و مددگار کے ہیں، اور کتاب سے مراد قرآن اور صالحین سے مراد بقول ابن عباس وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو برابر نہ کریں، اس میں انبیاء (علیہم السلام) سے لے کر عام نیک مسلمانوں تک سب داخل ہیں۔
اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ مجھے تمہاری مخالفت کی اس لئے پرواہ نہیں کہ میرا محافظ و مددگار اللہ تعالیٰ ہے جس نے مجھ پر قرآن نازل کیا ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ کی سب صفات میں سے قرآن نازل کرنے کو خصوصیت سے اس لئے ذکر کیا کہ تم جو میری عداوت و مخالفت پر جمے ہو، اس کی وجہ قرآن کی تعلیم و…
Read the full tafseer →اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ۔ ولی کے معنی ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہی، حامی و ناصر اور مرجع و کارساز کے آتے ہیں۔ اوپر آیات 192۔ 193 میں گزر چکا ہے کہ یہ بت جن کو یہ مشرکین پوجتے ہیں ان کی تو کیا مدد کریں گے خود اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے اور اگر یہ ان کو مدد و نصرت اور حمایت و ہدایت کے لیے پکاریں تو ان کا پکارنا اور نہ پکارنا دونوں یکساں ہے، وہ ان کی مدد ور ہنمائی کے لیے کبھی نہیں پہنچیں گے۔ اب یہ پیغمبر ﷺ کی زبان سے اللہ تعالیٰ جل شانہ کی شان بیان ہو رہی ہے کہ میرا حامی و ناصر وہ اللہ ہے جس نے میری اور خلق کی ہدایت کے لیے نہایت اہتمام کے ساتھ کتاب اتاری ہے اور جو اپنے نیکو کار اور صالح بندوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–196
195۔ 1 یعنی اب ان میں سے کوئی چیز بھی ان کے پاس موجود نہیں۔ مرنے کے ساتھ ہی دیکھنے سننے، سمجھنے اور چلنے کی طاقت ختم ہوگئی۔ اب ان کی طرف منسوب یا تو پتھر یا لکڑی کی خود تراشیدہ مورتیاں ہیں۔ یا گنبد، قبے اور آستانے ہیں جو ان کی قبروں پر بنالیے گئے اور یوں استخواں فروشی کا کاروبار فروغ پذیر ہے۔
195۔ 2 یعنی اگر تم دعوے میں سچے ہو کہ یہ تمہارے مددگار ہیں تو ان سے کہو کہ میرے خلاف تدبیر کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–199
99: کفار مکہ آنحضرت ﷺ کو ڈرایا کرتے تھے کہ آپ ہمارے دیوتاؤں کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہیں کہ ان میں کچھ بھی طاقت نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے ہمارے دیوتا آپ کو (معاذ اللہ) سزا دیں گے۔ یہ آیت اس کا جواب دے رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–198
تفسیر آیات 189 تا 198:۔
عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ…
Read the full tafseer →2 یعنی جس نے مجھ پر کتاب نازل کی اور منصب رسالت پر فائز کیا وہ ہی ساری دنیا کے مقابلہ میں میری حمایت و حفاظت کرے گا۔ کیونکہ اپنے نیک بندوں کی حفاظت و اعانت وہ ہی کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–198
آیت 195 اَلَہُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِہَآز
تم نے ان کے پاؤں اگر بنا بھی دیے ہیں تو کیا وہ ایک قدم چلنے کی سکت بھی رکھتے ہیں ؟
قُلِ ادْعُوْا شُرَکَآءَ کُمْ ثُمَّ کِیْدُوْنِ فَلاَ تُنْظِرُوْنِ ۔
رسول اللہ ﷺ سے ڈنکے کی چوٹ یہ اعلان کرایا جا رہا ہے کہ میں تم سے کوئی درخواست نہیں کرتا کہ میرے ساتھ نرمی کرو یا مجھے مہلت دے دو۔ تم اپنے تمام معبودوں کو بلا لو اور میرے خلاف جو بھی اقدام کرسکتے ہو کر گزرو۔ یہ اسی طرح کا قول فیصل ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اعلان برا ءت کرایا گیا تھا : اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ الانعام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–197
195 جب میرا سرپرست اور کارساز اللہ تعالیٰ ہے جس نے یہ قرآن نازل کیا ہے تو پھر مجھے تمہارے ان معبودوں سے نقصان پہنچنے کا کیا خطرہ ہوسکتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ بات صرف مجھی پر منحصر نہیں اللہ اپنے سب نیک بندوں کی سرپرستی فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی یہ سرپرستی کیا کم ہے کہ اس نے قرآن جیسی بابرکت کتاب ہمارے لیے نازل فرمائی ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔
Read the full tafseer →288 ۔ (تو پھر اپنے نبی اور نبی بھی کیسا افضل الانبیاء کی کارسازی کیوں نہ کرے گا ؟ یہاں اکیلے اور سچے معبود کے دو وصف بیان کردیئے ہیں۔ ایک یہ کہ اس نے کتاب نازل کی ہے جو دنیا وآخرت میں نافع اور سارے علوم کی جامع ہے دوسرے یہ کہ وہ صالح بندوں کی نصرت وکار سازی کرتا ہے دیوی دیوتا نام کے معبود ان دونوں ہی وصفوں سے عاجز و عاری ! اے ومن عادتہ تعالیٰ ان یتولی الصالحین من عبادہ فضلا عن انبیاۂ (بیضاوی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–206
آیت نمبر 189 تا 206
ترجمہ : وہ یعنی اللہ ہی ہے جس نے تم کو ایک جان یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا حوّاء کو پیدا کیا تاکہ اس سے سکون حاصل کرے اور اس سے الفت کرے، چناچہ جب اس کو ڈھانپ لیا یعنی اس سے مجامعت کی، اگر اس کو ہلکا سا حمل رہ گیا، اور اس بات سے خوفزدہ ہوئے کہ وہ (حمل) کوئی جانور نہ ہو تو انہوں نے اپنے رب اللہ سے دعاء کی، اگر آپ ہمیں نیک صحیح سالم بچہ عطا فرمائیں تو ہم اس پر آپ کے شکر گذار ہوں گے، چناچہ جب ان کو صحیح سالم اولاد دیدی تو دونوں (بیوی) نے (اللہ کے) عطا کردہ بچے کا نام عبدالحارث رکھ کر خدا کا شریک قراردیدیا، اور ایک قراءت میں شین کے کسرہ اور…
Read the full tafseer →ان ولی اللہ الذی نزل الکتب وہو یتولی الصلحین : بیشک میرا حامی اللہ ہی ہے جس نے کتاب نازل فرمائی ہے اور وہی نیک بندوں کی مدد کیا کرتا ہے۔
اِنَّ وَلِیّ َبے شک میرا حامی اور محافظ اللہ ہے جس نے کتاب یعنی قرآن نازل فرمایا ہے اور وہی اپنے نیک بندوں کی حفاظت و مدد کرتا ہے انبیاء کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا جو لوگ اللہ کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے ان کی مدد کا ذمہ دار اللہ ہوتا ہے دشمنوں کی دشمنی ان کو ضرر نہیں پہنچا سکتی۔ والذین سے ینصرون تک پروا نہ کرنے کی علت کی تکمیل ہے۔
Read the full tafseer →(196) یقیناً میرا معین و مددگار اللہ ہے، جس نے بذریعہ جبریل ؑ مجھ پر کتاب اتاری ہے۔
Read the full tafseer →اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ۔۔ : یہ جواب ہے مشرکین کی ان دھمکیوں کا جو وہ نبی ﷺ کو دیا کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ تم ہمارے ان معبودوں کو برا کہنے سے باز آجاؤ، ورنہ تم ان کے غضب میں گرفتار ہو کر تباہ ہوجاؤ گے۔ فرمایا میرا یارومددگار اللہ ہے، مجھے تمہاری دھمکیوں کی کوئی پروا نہیں۔ نیز اس میں توحید کی دعوت بھی ہے کہ جب یہ اصنام قدرت و علم سے محروم ہیں تو جو لوگ عقل و فکر رکھتے ہیں ان کو چاہیے کہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کریں، جس نے انسانوں کی ہدایت کے لیے کامل کتاب نازل فرمائی اور وہ ہر طرح سے نیک لوگوں کا یارومددگار بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–196
آیت نمبر : 194۔ 196
قولہ تعالیٰ : آیت : ان الذین تدعون من دون اللہ عباد امثالکم ( اللہ تعالیٰ نے) بتوں کی پوجا کے بارے میں ان سے جھگڑا کیا ہے۔ تدعون یہ تعبدون کے معنی میں ہے یعنی جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : تم انہیں ( بتوں کو) الٰہ پکارتے ہو۔ من دون اللہ یعنی من غیر اللہ، اللہ کے سوا کو۔ اور بتوں کو عباد کہا گیا ہے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مسخر ہیں۔ حسن نے کہا ہے : اس کا معنی ہے کہ بت تمہاری طرح مخلوق ہیں جب مشرکین نے یہ اعتقاد بنا لیا کہ بت نفع اور نقصان پہنچا سکتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں لوگوں کے قائم مقام قرار دیا اور فرمایا : فادعوھم اور یہاں فادعوھن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–197
(1) امام ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ سورج اور چاند کو اللہ تعالیٰ کے سامنے لایا جائے گا اور ان کو بھی لایا جائے گا جو ان کی عبادت کرتے تھے۔ اور اس سے کہا جائے گا۔ لفظ آیت ” فادعوہم فلیستجیبوا لکم ان کنتم صدقین “ (یعنی ان کو پکارو جو ان کی عبادت کرتے تھے اور اس سے کہا جائے گا۔ لفظ آیت ” فادعوھم فلیستجیبوا لکم ان کنتم صدقین “ (یعنی ان کو پکارو پھر ان کو چاہئے کہ تمہاری پکار کو قبول کریں اگر تم سچے ہو) ۔
Read the full tafseer →اِنَّ : بیشک ] [ وَلِيّۦ : میرے کارساز ] [ اللّٰهُ الَّذِيْ : وہ اللہ ہے جس نے ] [ نَزَّلَ : اتارا ] [ الْكِتٰبَ ڮ : کتاب کو ] [ وَهُوَ : اور وہ ] [ يَتَوَلَّى: دوست رکھتا ہے ] [ الصّٰلِحِيْنَ : نیک لوگوں کو ]
(آیت ۔ 196) ولیے قرآن کا خصوصی املا ہے ۔ یہ دراصل ولی ہے یعنی ولی پر مضاف الیہ کے طور پر یائے متکلم لگی ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–198
معبود ان باطلہ نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں نہ عبادت گزاروں کی مدد کرسکتے ہیں
اوپر کی آیت میں اولاد کے سلسلہ میں شرک اختیار کرنے کا ذکر تھا ان آیات میں بھی مشرکین کو تنبیہ فرمائی ہے اور شرک اختیار کرنے میں جو انہوں نے حماقت کی ہے اسے بیان فرمایا ہے، اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے اسی نے سب کچھ پیدا فرمایا جس نے سب کچھ پیدا فرمایا وہی عبادت کے لائق ہے جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود اپنے خالق جل مجدہ کی مخلوق ہیں وہ کیسے عبادت کے مستحق ہوگئے ؟ مشرکین کا یہ طریقہ ہے کہ جب غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں تو یہ سمجھ کر کرتے ہیں کہ یہ آڑے وقت میں ہماری مدد کریں گے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–202
اثبات توحید وابطال شرک
قال اللہ تعالیٰ ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ثم لا یقصرون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور کمال علم و حکمت کا ذکر تھا کہ وہی ہر نفع اور ضرر کا مالک ہے اور وہی عالم الغیب ہے اور شروع سورت میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہا السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اب سورت قریب الختم ہے اس لیے حضرت آدم اور حوا کا قصہ اجمالی طور پر دوبارہ ذکر فرماتے ہیں جس سے مقصود توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال ہے اگرچہ گزشتہ آیات میں بھی توحید خداوندی کا مختصر سا ذکر ہوا ہے لیکن ان آیات میں اس مضمون کو قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہی اللہ ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–196
188: اس سے معبودان باطلہ مراد ہیں اور یہاں ہر لحاظ سے ان کا عجز بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ حاجات و مشکلات میں مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ “ بعد ما بین ان شرکاءھم لا یقدرون علی شء ما اصلاً امر رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم بان یناصبھم للمحاجة ” (ابو السعود ج 4 ص 495) یا اس سے کفار ماد ہیں جیسا کہ اسی سورت کے رکوع 22 میں گذر چکا ہے۔ “ لَھُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَھُونَ بِھَا وَ لَھُمْ اَعْیُنٌ لَّایُبْصِرُوْنَ بِھَا وَ لَھُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِھَا الخ ”۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–199
ربط آیات
گزشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید کے سلسلے میں بت پرستی کا رد فرمایا اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہیں ان سے حات روائی اور مشکل کشائی کی توقع رکھتے ہیں ان کی بھی تردید فرمائی گزشتہ درس میں یہ بھی ارشاد ہوچکا ہے کہ تم اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہو وہ تو تمہاری طرح عاجز بندے ہیں وہ تمہاری مدد کیسے کرسکتے ہیں وہ نہ تو تمہاری مشکل آسان کرسکتے ہیں اور نہ بگڑی بنا سکتے ہیں فرمایا اگر کچھ زعم ہے تو ان کو پکار کر دیکھ لو کہ وہ تمہاری بات کو سن کر تمہاری کون سی مشکل کشائی کرتے ہیں وہ تو تمہاری طرح مخلوق ہیں اور تمہارے کچھ کام نہیں آسکتے مٹی اور پتھر کے بتوں کے رد میں خاص…
Read the full tafseer →اِنَّ وَلِيِّۦ اللہُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ 0 ۡ ۖ وَہُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ 196
ولي
والوَلِيُّ والمَوْلَى يستعملان في ذلك كلُّ واحدٍ منهما يقال في معنی الفاعل . أي : المُوَالِي، وفي معنی المفعول . أي : المُوَالَى، يقال للمؤمن : هو وَلِيُّ اللهِ عزّ وجلّ ولم يرد مَوْلَاهُ ، وقد يقال : اللهُ تعالیٰ وَلِيُّ المؤمنین ومَوْلَاهُمْ ، فمِنَ الأوَّل قال اللہ تعالی: اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] ، إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ [ الأعراف/ 196] ، وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 68] ، ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا[ محمد/ 11] ، نِعْمَ الْمَوْلى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–197
ترکیب : عباد خبر ان امثالکم اس کی صفت فلیستجیبوا مجزوم ہے جواب امر فادعوا کی وجہ سے اور فادعوھم جملہ دال برجزا ہے ان کنتم صادقین سے آ استفہام کے لئے ارجل رجل بالکسر کی جمع موصوف یمشون بہا اس کی صفت مجموعہ مبتدا لہم خبر مقدم اسی طرح اس کے مابعد کے جملہ ہیں اور یہ استفہام انکاری ہے کیدون اصل میں کیدونی تھا ی مفعول کو حذف کرکے کسرہ اس کے قائم مقام چھوڑ دیا گیا ہے تاکہ حذف ی پر دلالت کرے۔
تفسیر : یہاں سے ان کے معبودوں کی اور ایک حالت بیان فرماتا ہے کہ جس سے وہ قابل پرستش نہیں ہوسکتے۔ وہ یہ کہ خدا کے سوا جن چیزوں کو تم پوجتے ہو مانا کہ ان پتھروں کے بتوں کو نہیں پوجتے بلکہ ان کو کہ جن کی یہ فرضی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–196
ارشاد فرمایا :
اَلَہُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِھَآز اَمْ لَھُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِھَآز اَمْ لَھُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِھَآ ز اَمْ لَھُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِھَآط قُلِ ادْعُوْا شُرَکَآئَ کُمْ ثُمَّ کِیْدُوْنِ فَلاَ تُنْظِرُوْنَ اِنَّ وَلِیِّیَ اللّٰہُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتٰبَ ز صلے وَھُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ (الاعراف : 195، 196)
کیا ان کے پائوں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں ؟ کیا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہیں ؟ کیا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں ؟ کیا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں ؟ کہہ دو ! تم اپنے شریکوں کو بلائو پھر میرے خلاف چالیں چل کر دیکھو اور مجھے مہلت نہ دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–198
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کی مذمت اور توحید کے دلائل جاری ہیں۔
سورۂ نور آیت 117 میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو الٰہ مانتا ہے۔ اس کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ حق دلائل پر قائم ہے اور جھوٹ کی کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ لہٰذا شرک کی حمایت میں جتنے بھی جھوٹے دلائل دیے جاتے ہیں وہ دلیل کے ترازو میں پورے نہیں اترتے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہم نے شرک کے لیے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ (یوسف : 40) یہی وجہ ہے جب بھی مشرک سے اس کے باطل معبودوں کے بارے میں جواب طلب کیا جاتا ہے تو وہ بہکی بہکی باتیں کرنے کے سوا کوئی جواب نہیں دے پاتا۔ یہاں ان کے…
Read the full tafseer →میرا کارساز اللہ ہے اس کا یہ حکم نامہ ہے :
آیت 196: اِنَّ وَلِیِّ یَ (یقینا میرا مددگار اللہ تعالیٰ ہے) تمہارے خلاف میرا مددگار اللّٰہُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتٰبَ (جس نے یہ کتاب اتاری) جس نے میری طرف وحی بھیجی اور رسالت کے اعزاز سے نوازا۔ وَھُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ (اور وہ نیکوں کی مدد کیا کرتا ہے) اس کا طریقہ یہی ہے کہ وہ اپنے بندوں میں سے صالحین کی مدد کرتا ہے اور ان کو رسوا نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →(196) (ان ولی اللہ الذی نزل الکتب) یعنی قرآن کہ اس نے میری مدد کی کتاب اتار کر (وھو یتولی الصلحین) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ لوگ مراد ہیں جو اللہ کے برابر کسی کو نہیں کرتے تو اللہ اپنی مدد سے ان کی حمایت کرتا ہے ان کے دشمنوں کی دشمنی ان کو نقصان نہیں دیتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–198
191۔ 198۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے مشرکوں کو یہ تنبیہ فرمائی کہ کیا تم ایسی چیزوں کو معبود ٹھہراتے ہو جن میں کسی شے کے پیدا کرنے کی قدرت نہیں ہے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں اور عبادت تو خالق کارساز کو زیبا ہے مخلوق کسی طرح عبادت کی مستحق نہیں ہے ان بتوں سے تو ہزار درجہ تم بہتر ہو کر تم میں چلنے پھرنے کی طاقت ہے کھاتے پیتے ہو بتوں میں کیا قدرت ہے اگر کوئی آکر ان کے ٹکڑے کر ڈالے تو یہ کیا بچاؤ اپنا کرسکتے ہیں پھر جب اپنا اختیار انہیں نہیں ہے اور اپنے نفع نقصان سے بالکل یہ بیخبر ہیں تو تمہاری کیا مدد کرسکتے ہیں ایک مکھی جس میں کچھ بھی سکت نہیں ہے اگر ان کے پاس سے کوئی کھانے کی چیز لے بھاگے تو ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–196
آیت 194
یہ بتوں کے پوجنے والے مشرکین کو مقابلے کی دعوت ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت):” جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، تم جیسے ہی بندے ہیں “ انکے اور تمہارے درمیان کوئی فرق نہیں، تم سب اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے غلام ہو۔ اگر تم اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہو کہ یہ ہستیاں جن کو تم نے معبود بنا رکھا ہے عبادت کی مستحق ہیں (فادعوھم فلیستجیبوا لکم) ” تو تم انہیں پک اور، پس چاہیے کہ وہ تمہاری پکار کا جواب دیں “ پس اگر وہ تمہاری پکار کا جواب دے دیں اور تمہارا مطلوب حاصل ہوجائے۔۔۔ ورنہ ثابت ہوگیا کہ تم اپنے دعوے میں جھوٹے ہو اور اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان لگا رہے ہو۔
یہ چیز کوئی وضاحت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–198
معبودان باطل بھی اللہ کی ملکیت ہیں
قول باری ہے ان الذین تدعون من دوان اللہ عبادا مثالکم فادعوھم تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو) پہلی دعا اور پکار سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے بتوں کو معبودوں کے نام سے موسوم کردیا تھا جبکہ دوسری دعا اور پکار سے منافع کی طلب اور آنے والی مصیبتوں سے رہائی مراد ہے۔ اس بارے میں انہیں ان کی طرف سے مکمل مایوسی کا سامنا ہے قول باری عبادا مثالکم کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ ان معبودان باطل کو عباد اس لئے کہا گیا کہ یہ بھی اللہ کی ملکیت ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ مشرکین کو یہ وہم تھا کہ یہ معبودان باطل نفع و…
Read the full tafseer →273 کارساز و کارفرما سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ : جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور حاکم و متصرف ہے۔ اور اسی کے قبضہ قدرت میں ہر چیز کی باگ ڈور ہے۔ مجھے تم لوگوں کے ان خود ساختہ مشکل کشاؤں اور حاجت رواؤں کی کوئی پرواہ نہیں جن کو تم لوگ پوجتے پکارتے ہو کہ ان میں کچھ کرسکنے کی سرے سے کوئی طاقت ہی نہیں۔ اور میرا بھروسہ بہرحال اپنے رب ہی پر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ وہ سب کا حاجت روا و مشکل کشا اور کارساز و کارفرما ہے۔ اس کے سوا باقی سب فرضی اور بےحقیقت ہیں۔ بہرکیف اس ارشاد میں پیغمبر کی زبان سے اس حقیقت کا اعلان کروا دیا گیا ہے کہ میرا ولی و کار ساز وہ اللہ ہی ہے جس نے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–203
انسان کی حقیقت اور مشرکوں کے طریقے
تشریح : یوں تو پورا قرآن پاک ہی ہدایت اور رہنمائی سے بھرا پڑا ہے۔ مگر ان آیات میں خاص طور سے پھر انسان کو اپنی پیدائش کا طریقہ بتایا گیا ہے اور پھر گھریلو زندگی اور پرسکون خاندان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) بغیر باپ اور ماں کے اللہ کی قدرت سے پیدا ہوئے سیدہ سیدنا حوا (علیہا السلام) ان سے پیدا ہوئیں مگر بغیر ماں کے، سیدنا عیسیٰ بغیر باپ کے اور پھر اس کے بعد نسل انسانی ماں اور باپ دونوں کے میاں بیوی بن کر آپس کے ملاپ سے مگر اللہ کی قدرت سے بڑھنی شروع ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ جب میاں اور بیوی میں شادی کا رشتہ بن جاتا ہے تو پھر دونوں ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–206
رکوع نمبر 24 ۔ آیات 189 ۔ تا۔ 206
جہاں تک علوم غیبیہ اور نفع و نقصان کا تعلق ہے تو یہ اوصاف تو اس ذات حمید کے ہیں جس نے تمہیں ایک وجود یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا اور ایسا کریم ہے کہ انسان کی نسل بقا کے لیے اسی وجود میں سے اس کا جوڑا یعنی حوا کو پیدا فرما
کر ان میں باہمی محبت و الفت اور ایک لذت وصال رکھ دی کہ انسان نہ صرف بقائے نسل کا کام کرے بلکہ ایک دوسرے سے انس اور روحت بھی حاصل کریں۔ یہ اس کے احسانات ہیں۔
مگر انسانوں کا یہ حال ہے کہ مرد و عورت جمع ہوئے اور حمل قرار پا گیا اب خالق کو اس کا علم ہے جس کی پشت میں تھا وہ بیخبر رہا جس کے پیٹ میں پہنچا اسے پتہ نہیں بغیر کسی پرواہ کے…
Read the full tafseer →ف 6 یہ جواب ہے مشرکین کی ان دھمکیوں کا جو وہ نبی ﷺ کو دیا کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ تم ہمارے ان معبودوں کو برا کہنے سے باز جاؤ ورنہ تم ان کے غضب میں گرفتار ہو کر بتا ہوجاؤ گے نیز اس میں توحید کی دعوت بھی ہے کہ جب یہ اصنام قدرت و علم سے جاری ہیں تو لوگ عقل و فکر رکھتے ہیں ان کو چاہیے کہ اللہ تعال وحدہ لا شریک کی عبادت کریں جس نے انسانوں کو ہدایت کے لے کتاب کامل نازل فرمائی ہے اور وہ ہر طرح سے محافظ بھی ہے۔ (کبیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–197
(7:196) ولی۔ میرا حمایتی۔ میرا مددگار۔ میرا ناصر۔ الکتاب۔ القرآن۔ یتولی۔ جو مدد کرتا ہے ۔ جو دوست رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–198
لغات القرآن ۔
لا یخلق۔ پیدا نہیں کیا۔ لا یتبعوکم۔ وہ تمہاری پیروی نہ کریں گے۔ صامتون۔ چپ رہنے والے۔ عباد۔ (عبد) ۔ بندے۔ فلیستجیبوا۔ پھر چاہیے کہ وہ کہا مانیں۔ ارج۔ (رجل) ۔ پاؤں۔ یمشون۔ وہ چلتے ہیں۔ یبطشون۔ وہ پکڑتے ہیں۔ کیدون۔ تم میرے خلاف تدبیریں کرو۔ لا تنظرون۔ مجھے مہلت نہ دو ۔ ولی اللہ۔ میرا حمایتی اللہ ہے۔ یتولی۔ وہ سنھالتا ہے۔
تشریح : سورة الاعراف چونکہ ختم پر ہے چناچہ اس سورت کی تمام باتوں کو شرک کی نفی میں مختصر جملوں میں سمیٹ دیا گیا ہے۔ اور یاددھانی کے طور پر ان کا نچوڑ پیش کردیا گیا ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ کو بھی ضروری ہدایات دی جا رہی ہیں۔
یہ سورة مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی جس سے اندازہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–199
اس آیت میں صلہ رحمی اور لوگوں سے نرمی کے ساتھ پیش آنے اور غصہ کے وقت اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے کا ذکر ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھنے سے آدمی کا غصہ اتر جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–203
[79] نشانی سے مراد ہے معجزہ۔
[80] یعنی جب تم نبی ٹھہرے تو سب کچھ تمہارے اختیار میں ہونا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–197
(ف 1) عام مفسرین نے یہاں یہ قصہ بیان کیا ہے کہ حواء جب حاملہ ہوئیں ، تو شیطان ان کے پاس آیا اور کہنے لگا جانتی ہو ، اب کیا ہوگا ، تیرے پیٹ سے جانور پیدا ہوگا ، اور خدا جانے کس تکلیف کے انداز میں پیدا ہو ، یا انسانی بچہ پیدا ہو تو ناقص ہو ، میں اللہ کا مقرب ہوں ، اگر میری مانو اور ہونے والے بچے کا نام عبدالحارث رکھو ، تو کوئی اندیشہ نہیں ، حواء اس پر راضی ہوگئیں ، اور بچے کا نام عبدالحارث رکھا ، جو شیطان کا نام ہے ، یہ آیت اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے ، مگر یہ واقعہ حقیقت درست نہیں کیونکہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ خدا کا پیغمبر دوبارہ شیطان کے دھوکے میں آگیا ، حالانکہ مرد مومن بھی دو دفعہ دھوکا نہیں…
Read the full tafseer →196 یقیناً میرا حمایتی اور میرا مددگار و محافظ وہی اللہ تعالیٰ ہے جس نے اس کتاب یعنی قرآن کریم کو نازل فرمایا ہے اور وہی عام طور سے اپنے نیک بندوں کی مدد کیا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 193–197
ف 6۔ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ تم ان کو پکارو کہ وہ تم کو کوئی بات بتلادیں تو تمہارا کہنا نہ کریں یعنی نہ بتلادیں اور دوسرے اس سے زیادہ یہ کہ تم ان کو پکارو کہ آو ہم تم کو کچھ بتلادیں تو تمہارے کہنے پر نہ چلیں یعنی تمہاری بتلائی ہوئی بات پر عمل نہ کرسکیں۔
1۔ خلاصہ یہ کہ جو کام سب سے سہل تر ہے کہ کوئی بات بتلانے کے لیے پکارنے کو سن لینا وہ اسی سے عاجز ہیں تو جو اس سے مشکل ہے کہ اپنی حفاظت کریں اور پھر جو اس سے بھی مشکل ہے کہ دوسروں کی امداد کرنا اور پھر جو ان سب سے دشوار تر ہے کہ کسی شے کو پیدا کرنا ان سے تو بدرجہ اولی زیادہ ترعاجز ہوں گے پھر ایسے عاجز محتاج کب معبودیت کے لائق ہوسکتے…
Read the full tafseer →کار ساز حقیقی تو بس اللہ ہی ہے جس نے کتاب نازل فرمائی :
225: اے پیغمبر اسلام ! ان سے بر ملا کہہ دیجئے کہ میرا کار ساز اور میری بگڑی بنانے والا تو بس اللہ ہی ہے ۔ وہ آج تک سارے نیکو کار اور صالحین کی کارسازی کرتا رہا ہے اور کر رہا ہے اور یقیناً کرتا رہے گا تو پھر وہ اپنے نبی یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی کارسازی کیوں نہیں کرے گا جو سارے نبیوں سے افضل و اعلیٰ ہیں اور وہی ہے جس نے نبی اعظم وآخر ﷺ پر کتاب نازل فرمائی ۔ جو دنیا اور آخرت میں نافع اور سارے علوم کی جامع اور لوگوں کے بنائے ہوئے ادیان کی ناسخ ہے اور ان معبودان باطل کی حیثیت اس خالق ومالک حقیقی کے سامنے کیا ہے ؟ یعنی کچھ بھی نہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–198
The verse 196 has said:
إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّـهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ ۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ ﴿196﴾
"Surely my protector is Allah who has revealed the Book and who does protect the righteous."
The Arabic word ولی rendered here as 'protector' also means helper. The word ~ISJI (The Book) here refers to the Holy Qur'an, and the word صَلِحِین (the righteous), according to Sayyidna Ibn ` Abbas J.II L, , here refers to all those who do not take any one equal to Allah, including the prophets and other faithful Muslims:
The Holy Prophet ﷺ has been asked to declare that he was not…
Read the full tafseer →149. This is in response to the threats held out by the polytheists to the Prophet (peace he on him). They used to tell the Prophet (peace be on him) that if he did not give up opposing their deities and denouncing them, he would be overwhelmed by the wrath of those deities and court utter disaster.
Read the full tafseer →