Explained with ayahs 191–198
انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے
جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو بوجتے ہیں وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں وہی ان کا پالنے والا ہے وہ بالکل بےاختیار ہیں کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا تندرست اور اجھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں کان بھی ہیں یہ بیوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ لوگو آؤ ایک لطیف مثال سنو تم جنہیں پکار رہے ہو یہ سارے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–195
سورة الْاَعْرَاف 148
یہاں ایک بات صاف طور پر سمجھ لینی چاہیے۔ مشرکانہ مذاہب میں تین چیزیں الگ الگ پائی جاتی ہیں۔ ایک تو وہ اصنام، تصاویر یا علامات جو مرجع پرستش (Objects of worship) ہوتی ہیں۔ دوسرے وہ اشخاص یا ارواح یا معانی جو دراصل معبود قرار دیے جاتے ہیں اور جن کی نمائندگی اصنام اور تصاویر وغیرہ کی شکل میں کی جاتی ہے۔ تیسرے وہ اعتقادات جو ان مشرکانہ عبادات و اعمال کی تہ میں کار فرما ہوتے ہیں۔ قرآن مختلف طریقوں سے ان تینوں چیزوں پر ضرب لگاتا ہے۔ اس مقام پر اس کی تنقید کا رخ پہلی چیز کی طرف ہے یعنی وہ بت محل اعراض ہیں جن کے سامنے مشرکین اپنے مراسم عبادت ادا کرتے اور اپنی عرضیاں اور نیازیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–195
خلاصہ تفسیر
(غرض) واقعی تم خدا کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وہ بھی تم ہی سے (اللہ کے مخلوق) بندے ہیں (یعنی تم سے بڑھ کر نہیں خواہ گھٹے ہوئے ہوں) سو (ہم تو تم کو سچا جب جانیں کہ) تم (تو) ان کو پکارو (اور) پھر ان کو چاہئے کہ تمہارا کہنا کردیں، اگر تم (ان کے اعتقاد الوہیت میں) سچے ہو (اور وہ بیچارے تمہارا کہنا تو کیا کریں گے، کہنا ماننے کے آلات تک ان کو نصیب نہیں، دیکھ لو) کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہوں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے کسی چیز کو تھام سکیں یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہوں یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہوں (جب ان میں قوٰی فاعلہ تک نہیں تو کوئی فعل ان سے کیا صادر ہوگا اور)…
Read the full tafseer →اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ۔
بت پرستی کی تردید اس کے ظاہری اور باطنی، دونوں پہلوؤوں سے : بت پرستی دو جزوں سے مرکب ہوتی ہے۔ ایک تو وہ ذوات ہیں جن کو بت پرست اپنے زعم کے مطابق، خدائی میں شریک مانتے اور ان کو الہ قرار دیتے ہیں۔ دوسرے وہ پتھر اور سونے یا چاندی کی مورتیں ہیں جن کو وہ ان ذوات کے پیکر اور قالب کی حیثیت سے ڈھالتے یا تراشتے ہیں اور یہ گمان رکھتے ہیں ان مظاہر کے اندر ان کے مزعوم دیوتا حلول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–196
195۔ 1 یعنی اب ان میں سے کوئی چیز بھی ان کے پاس موجود نہیں۔ مرنے کے ساتھ ہی دیکھنے سننے، سمجھنے اور چلنے کی طاقت ختم ہوگئی۔ اب ان کی طرف منسوب یا تو پتھر یا لکڑی کی خود تراشیدہ مورتیاں ہیں۔ یا گنبد، قبے اور آستانے ہیں جو ان کی قبروں پر بنالیے گئے اور یوں استخواں فروشی کا کاروبار فروغ پذیر ہے۔
195۔ 2 یعنی اگر تم دعوے میں سچے ہو کہ یہ تمہارے مددگار ہیں تو ان سے کہو کہ میرے خلاف تدبیر کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–199
99: کفار مکہ آنحضرت ﷺ کو ڈرایا کرتے تھے کہ آپ ہمارے دیوتاؤں کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہیں کہ ان میں کچھ بھی طاقت نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے ہمارے دیوتا آپ کو (معاذ اللہ) سزا دیں گے۔ یہ آیت اس کا جواب دے رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–198
تفسیر آیات 189 تا 198:۔
عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–195
1 جن بتوں کو تم نے معبود ٹھہرایا ہے اور خدائی کا حق دیا ہے، وہ تمہارے کام تو کیا آتے، خود اپنی حفاظت پر بھی قادر نہیں اور باوجود مخلوق ہونے کے ان کمالات سے محروم ہیں جن سے کسی مخلوق کو دوسری پر تفوق و امتیاز حاصل ہوسکتا ہے۔ گو ان کے ظاہری ہاتھ پاؤں، آنکھ، کان سب کچھ تم بناتے ہو، لیکن ان اعضاء میں وہ قوتیں نہیں جن سے انہیں اعضاء کہا جاسکے۔ نہ تمہارے پکارنے پر مصنوعی پاؤں سے چل کر آسکتے ہیں، نہ ہاتھوں سے کوئی چیز پکڑ سکتے ہیں، نہ آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں، نہ کانوں سے کوئی بات سنتے ہیں۔ اگر پکارتے پکارتے تمہارا گلا پھٹ جائے گا تب بھی وہ تمہاری آواز سننے والے اور اس پر چلنے والے یا اس کا جواب دینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–198
آیت 195 اَلَہُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِہَآز
تم نے ان کے پاؤں اگر بنا بھی دیے ہیں تو کیا وہ ایک قدم چلنے کی سکت بھی رکھتے ہیں ؟
قُلِ ادْعُوْا شُرَکَآءَ کُمْ ثُمَّ کِیْدُوْنِ فَلاَ تُنْظِرُوْنِ ۔
رسول اللہ ﷺ سے ڈنکے کی چوٹ یہ اعلان کرایا جا رہا ہے کہ میں تم سے کوئی درخواست نہیں کرتا کہ میرے ساتھ نرمی کرو یا مجھے مہلت دے دو۔ تم اپنے تمام معبودوں کو بلا لو اور میرے خلاف جو بھی اقدام کرسکتے ہو کر گزرو۔ یہ اسی طرح کا قول فیصل ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اعلان برا ءت کرایا گیا تھا : اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ الانعام۔
Read the full tafseer →193 جو بت مشرکوں نے بنا رکھے تھے ان کے ہاتھ، پاؤں، ناک، کان، آنکھیں وغیرہ سب کچھ ہوتا تھا اللہ تعالیٰ مشرکوں سے یہ پوچھتے ہیں کہ ان بتوں کے جو تم نے پاؤں بنا رکھے ہیں کیا یہ ان کے ساتھ چل بھی سکتے ہیں کیونکہ پاؤں بنانے کا مقصد تو یہی ہوتا ہے کہ ان سے چلا جاسکے پھر جب یہ پاؤں اپنی غرض اور مقصد پورا نہیں کرسکتے تو ایسے پاؤں بنانے کا فائدہ کیا ہے ؟ اسی طرح ان کے جو تم نے ہاتھ بنا رکھے ہیں ان سے یہ پکڑ بھی نہیں سکتے۔ تمہاری بنائی ہوئی آنکھوں سے یہ دیکھ بھی نہیں سکتے اور نہ کانوں سے سن سکتے ہیں تو ایسے مصنوعی اعضاء بنانے کا فائدہ کیا ہے جو اپنی غرض پوری نہیں کرتے۔
شرک کی مختلف صورتیں :۔ مشرکوں کے…
Read the full tafseer →287 ۔ یعنی تم مع اپنے گونگے بہرے معبودوں کے سب مل کر اپنے دل کا ارمان نکال لو، اور میری مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا کر دیکھ لو کہ مجھے کہاں تک نقصان پہنچا سکتے ہو۔ (آیت) ” قل ادعوا شرکآء کم ثم کیدون فلا تنظرون “۔ خطاب پیغمبر سے ہے کہ آپ ان بت پرستوں سے ان پر ان کے معبودوں کی بےکسی اور بےبسی واضح کرنے کو یوں فرمائیے۔ (آیت) ” الھم۔۔۔ یسمعون بھا “۔ جسمانیات میں کمال کا تحقق انہی آلات واعضاء پر موقوف ہے۔ اس لیے ان پر جرح تفصیل سے فرمائی گئی۔ آیت میں یہ پہلو بھی آگیا ہے کہ انسان میں قوت وقدرت کے ظاہری آلات، پیر، ہاتھ، آنکھ کان تو کم سے کم ہیں بھی۔ یہ بےجان وبے حس بت تو ان سے بھی محروم ہیں پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–206
آیت نمبر 189 تا 206
ترجمہ : وہ یعنی اللہ ہی ہے جس نے تم کو ایک جان یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا حوّاء کو پیدا کیا تاکہ اس سے سکون حاصل کرے اور اس سے الفت کرے، چناچہ جب اس کو ڈھانپ لیا یعنی اس سے مجامعت کی، اگر اس کو ہلکا سا حمل رہ گیا، اور اس بات سے خوفزدہ ہوئے کہ وہ (حمل) کوئی جانور نہ ہو تو انہوں نے اپنے رب اللہ سے دعاء کی، اگر آپ ہمیں نیک صحیح سالم بچہ عطا فرمائیں تو ہم اس پر آپ کے شکر گذار ہوں گے، چناچہ جب ان کو صحیح سالم اولاد دیدی تو دونوں (بیوی) نے (اللہ کے) عطا کردہ بچے کا نام عبدالحارث رکھ کر خدا کا شریک قراردیدیا، اور ایک قراءت میں شین کے کسرہ اور…
Read the full tafseer →الہم ارجل یمشون بہا ام لہم اید یبطشون بہا ام لہم اعین یبصرون بہا ام لہم اذان یسمعون بہا قل ادعوا شرکآء کم ثم کیدون فلا تنظرون : کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے پکڑتے ہوں یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہوں یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہوں یعنی تمہاری طرح نہ ان کے ہاتھ پاؤں ہیں نہ آنکھ کان پھر اپنے سے کمتر درجہ والوں کی پوجا تم کس طرح کرتے ہو آپ کہہ دیجئے کہ تم اپنے سب معبودوں کو جن کو تم اللہ کا شریک قرار دیتے ہو بلا لو پھر میری ضرر رسانی کی تدبیر کرلو پھر مجھے ذرا مہلت مت دو ۔
ثم کیدونی یا متکلم محذوف ہے اسی طرح فلا تنظرون میں بھی یاء محذوف ہے یعنی تم اور…
Read the full tafseer →(195) کیا ان بتوں کے ہاتھ ہیں کہ وہ کسی چیز کو لے سکیں اور دے سکیں یا آنکھیں اور کان ہیں کہ وہ تمہاری عبادت کو دیکھ سکیں اور تمہاری آواز کو بھی سن سکیں۔
اے محمد ﷺ آپ مکہ کے مشرکوں سے فرما دیجیے اپنے بتوں سے مدد طلب کرو اور پھر تم اور تمہارے بت بھی میری ضرر رسانی کی تدبیر کریں اور مجھے ذرا مہلت بھی نہ دو۔
Read the full tafseer →اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ۔۔ : تو پھر تمہاری عقل کہاں چلی گئی کہ انھیں مدد کے لیے پکارتے ہو اور ان کے سامنے ماتھے رگڑتے ہو۔ اس آیت سے مقصد یہ ہے کہ بیشک تم نے ان بتوں کے ہاتھ، پاؤں، آنکھیں اور کان بنا رکھے ہیں، مگر زندہ انسان بہرحال ان بتوں سے بہتر ہے، کیونکہ ان چاروں اعضا کی وجہ سے وہ احساس بھی رکھتا ہے اور حرکت بھی کرسکتا ہے۔ رہے یہ بت، تو ان میں نہ شعور و احساس ہے نہ حس و حرکت۔
قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ۔۔ : یعنی اپنا جو زور میرے خلاف لگا سکتے ہو لگا لو، جو خفیہ سے خفیہ تدبیر میرے خلاف کرسکتے ہو اس میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–196
آیت نمبر : 194۔ 196
قولہ تعالیٰ : آیت : ان الذین تدعون من دون اللہ عباد امثالکم ( اللہ تعالیٰ نے) بتوں کی پوجا کے بارے میں ان سے جھگڑا کیا ہے۔ تدعون یہ تعبدون کے معنی میں ہے یعنی جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : تم انہیں ( بتوں کو) الٰہ پکارتے ہو۔ من دون اللہ یعنی من غیر اللہ، اللہ کے سوا کو۔ اور بتوں کو عباد کہا گیا ہے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مسخر ہیں۔ حسن نے کہا ہے : اس کا معنی ہے کہ بت تمہاری طرح مخلوق ہیں جب مشرکین نے یہ اعتقاد بنا لیا کہ بت نفع اور نقصان پہنچا سکتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں لوگوں کے قائم مقام قرار دیا اور فرمایا : فادعوھم اور یہاں فادعوھن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–197
(1) امام ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ سورج اور چاند کو اللہ تعالیٰ کے سامنے لایا جائے گا اور ان کو بھی لایا جائے گا جو ان کی عبادت کرتے تھے۔ اور اس سے کہا جائے گا۔ لفظ آیت ” فادعوہم فلیستجیبوا لکم ان کنتم صدقین “ (یعنی ان کو پکارو جو ان کی عبادت کرتے تھے اور اس سے کہا جائے گا۔ لفظ آیت ” فادعوھم فلیستجیبوا لکم ان کنتم صدقین “ (یعنی ان کو پکارو پھر ان کو چاہئے کہ تمہاری پکار کو قبول کریں اگر تم سچے ہو) ۔
Read the full tafseer →[ اَ : کیا ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ] [ اَرْجُلٌ: پیر ہیں ] [ يَّمْشُوْنَ : وہ چلتے ہیں ] [ بِهَآ ۡ : جن سے ] [ اَمْ : یا ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ] [ اَيْدٍ : ہاتھ ہیں ] [ يَّبْطِشُوْنَ : وہ پکڑتے ہیں ] [ بِهَآ ۡ : جن سے ] [ اَمْ : یا ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ] [ اَعْيُنٌ: آنکھیں ہیں ] [ يُّبْصِرُوْنَ : وہ دیکھتے ہیں ] [ بِهَآ ۡ : جن سے ] [ اَمْ : یا ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ] [ اٰذَانٌ: کان ہیں ] [ يَّسْمَعُوْنَ : وہ سنتے ہیں ] [ بِهَا : جن سے ] [ ۭقُلِ : آپ کہہ دیجیے ] [ ادْعُوْا : تم لوگ پکارو ] [ شُرَكَاۗءَكُمْ : اپنے شریکوں کو ] [ ثُمَّ : پھر ] [ كِيْدُوْنِ : تدبیر کرو میرے خلاف ] [ فَلَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–198
معبود ان باطلہ نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں نہ عبادت گزاروں کی مدد کرسکتے ہیں
اوپر کی آیت میں اولاد کے سلسلہ میں شرک اختیار کرنے کا ذکر تھا ان آیات میں بھی مشرکین کو تنبیہ فرمائی ہے اور شرک اختیار کرنے میں جو انہوں نے حماقت کی ہے اسے بیان فرمایا ہے، اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے اسی نے سب کچھ پیدا فرمایا جس نے سب کچھ پیدا فرمایا وہی عبادت کے لائق ہے جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود اپنے خالق جل مجدہ کی مخلوق ہیں وہ کیسے عبادت کے مستحق ہوگئے ؟ مشرکین کا یہ طریقہ ہے کہ جب غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں تو یہ سمجھ کر کرتے ہیں کہ یہ آڑے وقت میں ہماری مدد کریں گے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–202
اثبات توحید وابطال شرک
قال اللہ تعالیٰ ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ثم لا یقصرون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور کمال علم و حکمت کا ذکر تھا کہ وہی ہر نفع اور ضرر کا مالک ہے اور وہی عالم الغیب ہے اور شروع سورت میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہا السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اب سورت قریب الختم ہے اس لیے حضرت آدم اور حوا کا قصہ اجمالی طور پر دوبارہ ذکر فرماتے ہیں جس سے مقصود توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال ہے اگرچہ گزشتہ آیات میں بھی توحید خداوندی کا مختصر سا ذکر ہوا ہے لیکن ان آیات میں اس مضمون کو قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہی اللہ ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–196
188: اس سے معبودان باطلہ مراد ہیں اور یہاں ہر لحاظ سے ان کا عجز بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ حاجات و مشکلات میں مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ “ بعد ما بین ان شرکاءھم لا یقدرون علی شء ما اصلاً امر رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم بان یناصبھم للمحاجة ” (ابو السعود ج 4 ص 495) یا اس سے کفار ماد ہیں جیسا کہ اسی سورت کے رکوع 22 میں گذر چکا ہے۔ “ لَھُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَھُونَ بِھَا وَ لَھُمْ اَعْیُنٌ لَّایُبْصِرُوْنَ بِھَا وَ لَھُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِھَا الخ ”۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–195
ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اولین انسان اور اس کے جوڑے کی پیدائش کا تذکرہ فرمایا اور اس پیدائش کی غرض وغایت بھی بیان فرمائی پھر انسان کے شرک میں مبتلا ہونے کی مثال بیان فرمائی کہ میاں بیوی کی مقاربت سے ہلکا سا حمل ٹھہرتا ہے جب یہ بڑھتا ہے تو میاں بیوی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحیح سلامت ، صحت مند بچہ عطا فرمائے پھر جب بچہ کی پیدائش ٹھیک طریقے سے ہوجاتی ہے تو اللہ کے ساتھ شریک بنانے لگتے ہیں اول تو بچے کا نام ہی شرکیہ رکھتے ہیں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کی بجائے غیروں کی طرف منسوب کرتے ہیں حالانکہ اس کی پیدائش ،…
Read the full tafseer →اَلَہُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِہَآ 0 ۡاَمْ لَہُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِہَآ 0 ۡاَمْ لَہُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِہَآ 0 ۡاَمْ لَہُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِہَا 0 ۭ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ 195
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–197
ترکیب : عباد خبر ان امثالکم اس کی صفت فلیستجیبوا مجزوم ہے جواب امر فادعوا کی وجہ سے اور فادعوھم جملہ دال برجزا ہے ان کنتم صادقین سے آ استفہام کے لئے ارجل رجل بالکسر کی جمع موصوف یمشون بہا اس کی صفت مجموعہ مبتدا لہم خبر مقدم اسی طرح اس کے مابعد کے جملہ ہیں اور یہ استفہام انکاری ہے کیدون اصل میں کیدونی تھا ی مفعول کو حذف کرکے کسرہ اس کے قائم مقام چھوڑ دیا گیا ہے تاکہ حذف ی پر دلالت کرے۔
تفسیر : یہاں سے ان کے معبودوں کی اور ایک حالت بیان فرماتا ہے کہ جس سے وہ قابل پرستش نہیں ہوسکتے۔ وہ یہ کہ خدا کے سوا جن چیزوں کو تم پوجتے ہو مانا کہ ان پتھروں کے بتوں کو نہیں پوجتے بلکہ ان کو کہ جن کی یہ فرضی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–196
ارشاد فرمایا :
اَلَہُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِھَآز اَمْ لَھُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِھَآز اَمْ لَھُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِھَآ ز اَمْ لَھُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِھَآط قُلِ ادْعُوْا شُرَکَآئَ کُمْ ثُمَّ کِیْدُوْنِ فَلاَ تُنْظِرُوْنَ اِنَّ وَلِیِّیَ اللّٰہُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتٰبَ ز صلے وَھُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ (الاعراف : 195، 196)
کیا ان کے پائوں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں ؟ کیا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہیں ؟ کیا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں ؟ کیا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں ؟ کہہ دو ! تم اپنے شریکوں کو بلائو پھر میرے خلاف چالیں چل کر دیکھو اور مجھے مہلت نہ دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–198
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کی مذمت اور توحید کے دلائل جاری ہیں۔
سورۂ نور آیت 117 میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو الٰہ مانتا ہے۔ اس کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ حق دلائل پر قائم ہے اور جھوٹ کی کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ لہٰذا شرک کی حمایت میں جتنے بھی جھوٹے دلائل دیے جاتے ہیں وہ دلیل کے ترازو میں پورے نہیں اترتے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہم نے شرک کے لیے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ (یوسف : 40) یہی وجہ ہے جب بھی مشرک سے اس کے باطل معبودوں کے بارے میں جواب طلب کیا جاتا ہے تو وہ بہکی بہکی باتیں کرنے کے سوا کوئی جواب نہیں دے پاتا۔ یہاں ان کے…
Read the full tafseer →بےبسوں کی عبادت کیوں ؟
آیت 195: اَلَھُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِھَآ (کیا ان کے پائوں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں) تمہاری طرح چلنا۔ اَمْ لَھُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِہَا (یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے کسی چیز کو پکڑتے ہیں) جن سے وہ چیزیں لیں۔ پکڑیں اَمْ لَھُمْ اَعُیْنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِھَا (یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہوں) اَمْ لَھُمْ ٰاذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِھَا (یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہوں) پس پھر تم ان کی کیوں عبادت کرتے ہو جو تم سے کم تر ہیں۔
میرے خلاف زور لگالو :
قُلِ ادْعُوْا شُرَکَآئَ کُمْ (آپ کہہ دیں کہ تم اپنے سب شرکاء کو بلالو) میری دشمنی میں ان سے مدد حاصل کرو۔ ثُمَّ کِیْدُوْنِ…
Read the full tafseer →تفسیر 195 (الھم ارجل یمشون بھا ام لھم ایدیبطشون بھآ) ابو جعفر نے یہاں اور سورة قصص اور دخان میں طاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے طاء کی زیر کے ساتھ (ام لھم اعین یبصرون بھآ ام لھم اذان یسمعون بھا) مراد یہ ہے کہ مخلوق کی قدرت ان اعضاء اور آلات کے ذریعے ہے اور بتوں کے تو یہ آلات ہی نہیں ہیں تو ان بتوں سے تو تم خود افضل ہو کہ چلنے کے لئے پائوں اور پکڑنے کے لئے ہاتھ اور دیکھنے کے لئے آنکھیں اور سننے کے لئے کان ہیں تو تم ان کی کیسے عبادت کرتے ہو جن سے تم افضل ہو اور تمہاری قدرت ان سے زیادہ ؟ (قل ادعوا شرکآء کم) اے مشرکوں کی جماعت (ثم کیدون) تم اور وہ مل کر (فلا تنظرون) میری برائی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–198
191۔ 198۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے مشرکوں کو یہ تنبیہ فرمائی کہ کیا تم ایسی چیزوں کو معبود ٹھہراتے ہو جن میں کسی شے کے پیدا کرنے کی قدرت نہیں ہے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں اور عبادت تو خالق کارساز کو زیبا ہے مخلوق کسی طرح عبادت کی مستحق نہیں ہے ان بتوں سے تو ہزار درجہ تم بہتر ہو کر تم میں چلنے پھرنے کی طاقت ہے کھاتے پیتے ہو بتوں میں کیا قدرت ہے اگر کوئی آکر ان کے ٹکڑے کر ڈالے تو یہ کیا بچاؤ اپنا کرسکتے ہیں پھر جب اپنا اختیار انہیں نہیں ہے اور اپنے نفع نقصان سے بالکل یہ بیخبر ہیں تو تمہاری کیا مدد کرسکتے ہیں ایک مکھی جس میں کچھ بھی سکت نہیں ہے اگر ان کے پاس سے کوئی کھانے کی چیز لے بھاگے تو ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–196
آیت 194
یہ بتوں کے پوجنے والے مشرکین کو مقابلے کی دعوت ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت):” جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، تم جیسے ہی بندے ہیں “ انکے اور تمہارے درمیان کوئی فرق نہیں، تم سب اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے غلام ہو۔ اگر تم اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہو کہ یہ ہستیاں جن کو تم نے معبود بنا رکھا ہے عبادت کی مستحق ہیں (فادعوھم فلیستجیبوا لکم) ” تو تم انہیں پک اور، پس چاہیے کہ وہ تمہاری پکار کا جواب دیں “ پس اگر وہ تمہاری پکار کا جواب دے دیں اور تمہارا مطلوب حاصل ہوجائے۔۔۔ ورنہ ثابت ہوگیا کہ تم اپنے دعوے میں جھوٹے ہو اور اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان لگا رہے ہو۔
یہ چیز کوئی وضاحت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–198
معبودان باطل بھی اللہ کی ملکیت ہیں
قول باری ہے ان الذین تدعون من دوان اللہ عبادا مثالکم فادعوھم تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو) پہلی دعا اور پکار سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے بتوں کو معبودوں کے نام سے موسوم کردیا تھا جبکہ دوسری دعا اور پکار سے منافع کی طلب اور آنے والی مصیبتوں سے رہائی مراد ہے۔ اس بارے میں انہیں ان کی طرف سے مکمل مایوسی کا سامنا ہے قول باری عبادا مثالکم کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ ان معبودان باطل کو عباد اس لئے کہا گیا کہ یہ بھی اللہ کی ملکیت ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ مشرکین کو یہ وہم تھا کہ یہ معبودان باطل نفع و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–195
271 جن کو تم لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تم ہی جیسے بندے ہیں : عاجز اور مخلوق ہونے میں۔ تو پھر اپنی ہی جیسی کسی عاجز اور بےبس مخلوق کو حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے پکارنا کس طرح جائز اور درست ہوسکتا ہے ؟ سو حاجت روا و مشکل کشا ایک اور صرف ایک ہی ہے۔ یعنی اللّٰہ ۔ جَلَّ جلالہٗ ۔ جو اس ساری کائنات کا بلاشرکت غیرے خالق بھی ہے اور مالک بھی۔ مدبر بھی اور متصرف بھی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس وحدہ لاشریک کے سوا کسی کو بھی اپنی حاجت روائی و مشکل کشائی کیلئے بلانا پکارنا حماقت اور اپنی ذلت کا سامان کرنا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اہل بدعت عام طور پر کہتے رہتے ہیں کہ یہ بتوں کے بارے میں ہے اور بس۔ سو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–203
انسان کی حقیقت اور مشرکوں کے طریقے
تشریح : یوں تو پورا قرآن پاک ہی ہدایت اور رہنمائی سے بھرا پڑا ہے۔ مگر ان آیات میں خاص طور سے پھر انسان کو اپنی پیدائش کا طریقہ بتایا گیا ہے اور پھر گھریلو زندگی اور پرسکون خاندان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) بغیر باپ اور ماں کے اللہ کی قدرت سے پیدا ہوئے سیدہ سیدنا حوا (علیہا السلام) ان سے پیدا ہوئیں مگر بغیر ماں کے، سیدنا عیسیٰ بغیر باپ کے اور پھر اس کے بعد نسل انسانی ماں اور باپ دونوں کے میاں بیوی بن کر آپس کے ملاپ سے مگر اللہ کی قدرت سے بڑھنی شروع ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ جب میاں اور بیوی میں شادی کا رشتہ بن جاتا ہے تو پھر دونوں ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–206
رکوع نمبر 24 ۔ آیات 189 ۔ تا۔ 206
جہاں تک علوم غیبیہ اور نفع و نقصان کا تعلق ہے تو یہ اوصاف تو اس ذات حمید کے ہیں جس نے تمہیں ایک وجود یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا اور ایسا کریم ہے کہ انسان کی نسل بقا کے لیے اسی وجود میں سے اس کا جوڑا یعنی حوا کو پیدا فرما
کر ان میں باہمی محبت و الفت اور ایک لذت وصال رکھ دی کہ انسان نہ صرف بقائے نسل کا کام کرے بلکہ ایک دوسرے سے انس اور روحت بھی حاصل کریں۔ یہ اس کے احسانات ہیں۔
مگر انسانوں کا یہ حال ہے کہ مرد و عورت جمع ہوئے اور حمل قرار پا گیا اب خالق کو اس کا علم ہے جس کی پشت میں تھا وہ بیخبر رہا جس کے پیٹ میں پہنچا اسے پتہ نہیں بغیر کسی پرواہ کے…
Read the full tafseer →ف 4 تو پھر تمہاری عقل کہاں چر گئی کہ انہیں مدد کے لیے پکارتے اور ان کے سامنے ماتھے رگڑ تے ہو ؟ اس آیت سے مقصد یہ ہے کہ انسان بہر حال ان بتوں سے بہتر ہے کیونکہ ان اعظا اربعہ کی وجہ سے اس میں قویٰ مدر کہ اور محر کہ پائے جاتے ہیں اور اصنام میں کسی قسم کی حس و حرکت نہیں ہے۔ ( کبیر)5 یعنی پنا جو زور میرے خلاف لگا سکتے ہو لگا لو اس میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھو
Read the full tafseer →(7:195) قل۔ ای قل یا محمد ﷺ ۔
کیدون۔ میرے خلاف تدبیریں کرلو۔ میرے خلاف سازش کرلو۔ (تم سب اور تمہارے شرکائ)
فلا تنظرون۔ تم مجھے ڈھیل مت دو ۔ تم مجھے مہلت نہ دو ۔ انظار (افعال) سے مضارع منفی جمع مذکر حاضر۔ ی ضمیر واحد متکلم ۔ محذوف ہے (یعنی تم جو دھمکی دیتے ہو کہ تمہارے بت اگر ناراض ہوگئے تو میری خیر نہیں تو بلا لو اپنے ان شرکاء کو اور خود بھی ان کے ساتھ مل کر میرے خلاف جو سازش چاہو تیار کرلو تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ کیونکہ مجھے اللہ کی حمایت پر یقین ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–198
لغات القرآن ۔
لا یخلق۔ پیدا نہیں کیا۔ لا یتبعوکم۔ وہ تمہاری پیروی نہ کریں گے۔ صامتون۔ چپ رہنے والے۔ عباد۔ (عبد) ۔ بندے۔ فلیستجیبوا۔ پھر چاہیے کہ وہ کہا مانیں۔ ارج۔ (رجل) ۔ پاؤں۔ یمشون۔ وہ چلتے ہیں۔ یبطشون۔ وہ پکڑتے ہیں۔ کیدون۔ تم میرے خلاف تدبیریں کرو۔ لا تنظرون۔ مجھے مہلت نہ دو ۔ ولی اللہ۔ میرا حمایتی اللہ ہے۔ یتولی۔ وہ سنھالتا ہے۔
تشریح : سورة الاعراف چونکہ ختم پر ہے چناچہ اس سورت کی تمام باتوں کو شرک کی نفی میں مختصر جملوں میں سمیٹ دیا گیا ہے۔ اور یاددھانی کے طور پر ان کا نچوڑ پیش کردیا گیا ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ کو بھی ضروری ہدایات دی جا رہی ہیں۔
یہ سورة مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی جس سے اندازہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–199
اس آیت میں صلہ رحمی اور لوگوں سے نرمی کے ساتھ پیش آنے اور غصہ کے وقت اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے کا ذکر ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھنے سے آدمی کا غصہ اتر جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–203
[79] نشانی سے مراد ہے معجزہ۔
[80] یعنی جب تم نبی ٹھہرے تو سب کچھ تمہارے اختیار میں ہونا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–197
(ف 1) عام مفسرین نے یہاں یہ قصہ بیان کیا ہے کہ حواء جب حاملہ ہوئیں ، تو شیطان ان کے پاس آیا اور کہنے لگا جانتی ہو ، اب کیا ہوگا ، تیرے پیٹ سے جانور پیدا ہوگا ، اور خدا جانے کس تکلیف کے انداز میں پیدا ہو ، یا انسانی بچہ پیدا ہو تو ناقص ہو ، میں اللہ کا مقرب ہوں ، اگر میری مانو اور ہونے والے بچے کا نام عبدالحارث رکھو ، تو کوئی اندیشہ نہیں ، حواء اس پر راضی ہوگئیں ، اور بچے کا نام عبدالحارث رکھا ، جو شیطان کا نام ہے ، یہ آیت اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے ، مگر یہ واقعہ حقیقت درست نہیں کیونکہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ خدا کا پیغمبر دوبارہ شیطان کے دھوکے میں آگیا ، حالانکہ مرد مومن بھی دو دفعہ دھوکا نہیں…
Read the full tafseer →195 کیا ان معبودان ِ باطلہ کے پائوں ہیں جن سے یہ چل سکتے ہیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے کسی چیز کو پکڑ سکتے ہیں یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے کسی چیز کو دیکھ سکتے ہیں یا ان کے کان ہیں جن سے کچھ سن سکتے ہیں اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم اپنے تجویز کردہ شرکاء کو بلالو اور ان کو اکٹھا کرلو اور میرے خلاف اور مجھے نقصان پہنچانے کے لئے جو تدبیر کرسکتے ہو اور جو کارروائی کرنی چاہو وہ کرو اور مجھ کو بالکل مہلت نہ دو یعنی اگر ان معبودانِ باطلہ میں کسی کو نفع یا نقصان پہنچانے کی صلاحیت ہے تو تم ان سے فائدہ حاصل کرکے اور مجھ کو ان سے نقصان پہنچوا کر دکھائو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 193–197
ف 6۔ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ تم ان کو پکارو کہ وہ تم کو کوئی بات بتلادیں تو تمہارا کہنا نہ کریں یعنی نہ بتلادیں اور دوسرے اس سے زیادہ یہ کہ تم ان کو پکارو کہ آو ہم تم کو کچھ بتلادیں تو تمہارے کہنے پر نہ چلیں یعنی تمہاری بتلائی ہوئی بات پر عمل نہ کرسکیں۔
1۔ خلاصہ یہ کہ جو کام سب سے سہل تر ہے کہ کوئی بات بتلانے کے لیے پکارنے کو سن لینا وہ اسی سے عاجز ہیں تو جو اس سے مشکل ہے کہ اپنی حفاظت کریں اور پھر جو اس سے بھی مشکل ہے کہ دوسروں کی امداد کرنا اور پھر جو ان سب سے دشوار تر ہے کہ کسی شے کو پیدا کرنا ان سے تو بدرجہ اولی زیادہ ترعاجز ہوں گے پھر ایسے عاجز محتاج کب معبودیت کے لائق ہوسکتے…
Read the full tafseer →بت پرستی کی ظاہری اور باطنی دونوں پہلوئوں سے تردید فرما دی گئی :
223: بت پرستی کیا ہے ؟ بت پرستی ، مظاہر پرستی اور قبر پرستی کا کوئی فرق ؟ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ یاد رہے کہ مشرکانہ مذاہب میں تین چیزیں الگ الگ پائی جاتی ہیں ایک تو وہ اصنام ، تصا ویر یا علامات خواہ وہ قبریں ہوں یا کچھ اور جو مرجع پر ستش ہوتی ہیں ۔ دوسرے وہ اشخاص یا ارواح یا معانی در حقیقت معبود قرار دئیے جاتے ہیں جن کی نمائندگی پہلی چیزیں کرتی ہیں یعنی اصنام ، تصاویر اور علامات وغیرہ۔ تیسرے وہ اعتقادات جو ان مشرکانہ عبادات و اعمال کی تہ میں کار فرما ہوتے ہیں ۔ اسلام نے ان تینوں چیزوں کی جابجا تردید کی ہے اور قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–195
The Holy Prophet ﷺ has been asked to say to the unbelievers that your false gods are nothing but slaves like you, and being devoid of essential faculties of moving, seeing, hearing and speaking cannot help themselves, far from coming to your help in your need. If you are not sure, then "Call them and they should respond to you," and "Call to your associate-gods, then plot against me and allow me no respite."
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–195
148. Polytheistic religions seem to have three characteristics: (1) idols and images that are held as objects of worship; (2) some persons and spirits that are considered deities represented in the form of idols and images, etc.; and (3) certain beliefs which underlie their polytheistic rites. The Qur'an denounces all these. At this place, however, the attack is directed against the objects to which the polytheists directed their worship.
Read the full tafseer →