سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے۔
یہ لوگ کوئی معجزہ مانگتے اور آپ اسے پیش نہ کرتے تو کہتے کہ نبی ہوتا تو ایسا کرلیتا، بنا لیتا، اللہ سے مانگ لیتا، اپنے آپ گھڑ لیتا، آسمان سے گھسیٹ لاتا۔ الغرض معجزہ طلب کرتے اور وہ طلب بھی سرکشی اور عناد کے ساتھ ہوتی۔ جیسے فرمان قرآن ہے آیت (اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ اٰيَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِيْنَ) 26۔ الشعراء :4) اگر ہم چاہتے تو کوئی نشان ان پر آسمان سے اتارتے جس سے ان کی گردنین جھک جاتیں۔ وہ لوگ حضور سے کہتے رہتے تھے کہ جو ہم مانگتے ہیں وہ معجزہ اپنے رب سے طلب کر کے ہمیں ضرور دکھا دیجئے۔ تو حکم دیا کہ ان سے فرما دیجئے…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 151
کفار کے اس سوال میں ایک صریح طعن کا انداز پایا جاتا تھا۔ یعنی ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ میاں جس طرح تم نبی بن بیٹھے ہو اسی طرح کوئی معجزہ بھی چھانٹ کر اپنے لیے بنا لائے ہوتے۔ لیکن آگے ملاحظہ ہو کہ اس طعن کا جواب کس شان سے دیا جاتا ہے۔
سورة الْاَعْرَاف 152
یعنی میرا منصب یہ نہیں ہے کہ جس چیز کی مانگ ہو یا جس کی میں خود ضرورت محسوس کروں اسے خود ایجاد یا تصنیف کر کے پیش کردوں۔ میں تو ایک رسول ہوں اور میرا منصب صرف یہ ہے کہ جس نے مجھے بھیجا ہے اس کی ہدایت پر عمل کروں۔ معجزے کے بجائے میرے بھیجنے والے نے جو چیز میرے پاس بھیجی ہے وہ یہ قرآن ہے۔ اس کے اندر بصیرت افروز روشنیاں…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور جب آپ (ان کے فرمائشی معجزات میں سے جن کی فرمائش براہ عناد کرتے تھے) کوئی معجزہ ان کے سامنے ظاہر نہیں کرتے (بوجہ اس کے کہ حق تعالیٰ اس معجزہ کو بمقتضائے حکمت پیدا نہیں کرتے) تو وہ لوگ (بقصد نفی رسالت آپ سے) کہتے ہیں کہ آپ (اگر نبی ہیں تو) یہ معجزہ کیوں نہ (ظہور میں) لائے، آپ فرما دیجئے کہ (میرا کام معجزات باختیار خود لانا نہیں بلکہ میرا اصلی کام یہ ہے کہ میں اس کا اتباع کرتا ہوں جو مجھ پر میرے رب کی طرف سے حکم بھیجا گیا ہے (اس میں تبلیغ بھی آگئی البتہ نبوت کے اثبات کے لئے نفس معجزہ ضروری ہے سو ان کا وقوع ہوچکا ہے چناچہ ان میں سب سے اعظم ایک یہی قرآن ہے جس کی شان یہ ہے کہ) یہ…
Read the full tafseer →وَاِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰيَةٍ قَالُوْا لَوْلَا اجْتَبَيْتَهَا ۭقُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ مِنْ رَّبِّيْ ۚ هٰذَا بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔
شیطانی طعنے اور ان کا مقابلہ : یہ ان شیطانی طعنوں اور نزغات کی ایک مثال بیان ہوئی ہے جن سے کفار کے ہاتھوں آنحضرت ﷺ کو ہر وقت سابقہ تھا۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم ان کے مطالبہ پر ان کے انتخاب کے مطابق معجزہ نہیں دکھاتے تو یہ تمہیں طعنہ دیتے ہیں کہ یہ کہیں سے کیوں نہیں چھانٹ لائے ؟ اس قول سے ظالموں کا مطلب یہ ہوتا کہ جہاں تک قرآن کا تعلق ہے اس کا معاملہ تو بہت آسان ہے۔ ادھر ادھر سے جو باتیں اگلوں…
Read the full tafseer →23۔ 1 مراد ایسا معجزہ جو ان کے کہنے پر ان کی خواہش کے مطابق دکھایا جائے۔ جیسے ان کے بعض مطا بات سورة بنی اسرائیل، آیت 90۔ 93 میں بیان کئے گئے ہیں۔
23۔ 2 لَوْلَا اَجْتَبْیتَھَا کے معنی ہیں، تو اپنے پاس سے ہی کیوں نہیں بنا لاتا ؟ اس کے جواب میں بتایا گیا کہ آپ فرما دیں، معجزات پیش کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے میں تو صرف وحی الٰہی کا پیروکار ہوں۔ ہاں البتہ یہ قرآن جو میرے پاس آیا ہے۔ یہ بجائے خود ایک بہت بڑا معجزہ ہے، اس میں تمہارے رب کی طرف سے بصائر (دلائل وبراہین) اور ہدایت و رحمت ہے۔ بشرطیکہ کوئی ایمان لائے۔
Read the full tafseer →102: آنحضرت ﷺ کے بہت سے معجزے ان لوگوں کے سامنے آ چکے تھے، لیکن وہ ضد میں آکر نئے نئے معجزات کا مطالبہ کرتے تھے، یہ اس کا جواب ہے کہ میں اپنی طرف سے کوئی کام نہیں کرسکتا۔ میں تو ہر بات میں وحی الٰہی کا اتباع کرتا ہوں۔
103: یعنی قرآن کریم بذات خود ایک معجزہ ہے، اس میں جو بصیرتیں ہیں، وہ ایک امی کی زبان پر جاری ہو رہی ہیں جس نے کبھی لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا۔ اس کے بعد کسی معجزے کی ضرورت ہے۔
Read the full tafseer →مشرکین مکہ حضور ﷺ سے معجزات کا مطالبہ ہر وقت کرتے رہتے تھے۔ یہاں ان کے بعض اقوال کو نقل کرکے دکھایا جاتا ہے کہ وہ کس قدر جاہل تھے اور رسالت کی حقیقت سے کس قدر بیخبر تھے۔
وَاِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰيَةٍ قَالُوْا لَوْلَا اجْتَبَيْتَهَا۔ اے نبی جب تم ان لوگوں کے سامنے کوئی نشانی پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ تم نے اپنے لیے کوئی نشانیوں کیوں نہ انتخاب کرلی۔ یعنی تم نے اصرار رب العالمین کے سامنے کیوں نہ کیا کہ مجھے یہ نشانی اور معجزہ دیا جائے یا یہ مطلب تھا کہ تم نے از خود معجزے کا صدور کیوں نہ کیا۔ کیا تم نبی نہیں ہو ؟
حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ رسالت کی ماہیت اور رسول کے فرائض منصبی سے واقف ہی نہ…
Read the full tafseer →1 جب کبھی وحی کے آنے میں تاخیر ہوتی، تو کفار از راہ تمسخر کہتے تھے کہ اب کوئی آیت کیوں گھڑ کر نہیں لے آتے۔ آخر سارا قرآن تم نے بنایا ہی ہے (العیاذ باللہ) ۔ اسی طرح کبھی دق کرنے کے لیے بعض ایسے نشان (معجزات) طلب کرتے جن کے دکھلانے کو خدا کی حکمت مقتضی نہ تھی۔ جب آپ دکھلانے سے انکار کرتے تو کہتے۔ " لَوْلَا اجْتَبَیْتَہَا " یعنی اپنے خدا سے کہہ کر ہمارا مانگا ہوا نشان کیوں چھانٹ کر نہ لے آئے دونوں باتوں کے جواب میں فرمایا۔ (ۭقُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ مِنْ رَّبِّيْ ) 7 ۔ الاعراف :103) یعنی ان سے کہہ دو کہ (نبی کا یہ کام نہیں کہ اپنی طرف سے خدا پر افتراء کرے، یا لوگوں کے کہنے…
Read the full tafseer →آخر میں ان دونوں سورتوں کے مضامین کے عمود کا خلاصہ بیان کیا جا رہا ہے۔ جس زمانے میں یہ دو سورتیں نازل ہوئیں اس وقت کفار مکہ کی طرف سے یہ مطالبہ تکرار کے ساتھ کیا جارہا تھا کہ کوئی نشانی لاؤ ‘ کوئی معجزہ دکھاؤ۔ جس طرح کے حسی معجزات حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملے تھے ‘ اسی نوعیت کے معجزات اہل مکہ بھی دیکھنا چاہتے تھے۔ جیسے جیسے ان کی طرف سے مطالبات آتے رہے ‘ ساتھ ساتھ ان کے جوابات بھی دیے جاتے رہے۔ اب اس سلسلے میں آخری بات ہو رہی ہے۔ آیت 203 وَاِذَا لَمْ تَاْتِہِمْ بِاٰیَۃٍ قَالُوْا لَوْلاَ اجْتَبَیْتَہَا ط
کفار مکہ کا کہنا تھا کہ جب آپ ﷺ کا دعویٰ ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ‘ اس کے…
Read the full tafseer →201 آپ پر قرآن تصنیف کرنے کا الزام اور اس کا جواب :۔ اس آیت سے موضوع سخن بدل گیا ہے اور اس میں کافروں کے ایک مطالبہ کا اور اس کے جواب کا ذکر ہے اگر اس آیت کا معنی قرآن کی کوئی آیت ہی کیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جب کوئی قرآنی سورت یا آیات کے نازل ہونے میں دیر واقع ہوجاتی تو کافر کہنے لگتے کہ اپنی مرضی کی کوئی آیت تمہیں اب تک لے آنا چاہیے تھی اور ایسے استہزاء سے ان کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ پہلے جو قرآن تم ہمیں سناتے ہو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ نہیں بلکہ تمہارا اپنا ہی تصنیف کردہ ہے لہذا اب اگر دیر ہوگئی تو کیا ہوا ؟ کچھ اور بھی اپنی پسندیدہ آیات تمہیں اب تک تصنیف کر کے پیش کردینا…
Read the full tafseer →296 ۔ (کہ جب آپ نبی ٹھیرے تو سب کچھ آپ کے اختیار میں ہوگا) (آیت) ” لم تاتھم بایۃ “۔ یعنی ہمارے فرمایشی معجزوں میں سے آپ کوئی معجزہ کیوں نہیں لاتے۔ کانوا یطلبون ایات معینۃ وممعجزات مخصوصۃ علی سبیل التعنت (کبیر)
297 ۔ یعنی میرا کام تو صرف فرائض رسالت کو انجام دینا ہے، نہ کہ تمہارے فرمایشی معجزات بہ اختیار خود دلانا۔ جاہلی مشرک قوموں کے سمجھانے کے لئے جو نبوت کو الوہیت کی کوئی شاخ قرار دینے پر مصررہتے ہیں، قرآن مجید نے اس حقیقت کو بیسیوں مرتب مختلف طریقوں سے ادا کیا ہے، عارفوں نے یہیں سے یہ نکتہ بھی نکالا ہے کہ نبوت نام ہے کمال عبدیت و عبودیت کا، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں تصریح ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–206
آیت نمبر 189 تا 206
ترجمہ : وہ یعنی اللہ ہی ہے جس نے تم کو ایک جان یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا حوّاء کو پیدا کیا تاکہ اس سے سکون حاصل کرے اور اس سے الفت کرے، چناچہ جب اس کو ڈھانپ لیا یعنی اس سے مجامعت کی، اگر اس کو ہلکا سا حمل رہ گیا، اور اس بات سے خوفزدہ ہوئے کہ وہ (حمل) کوئی جانور نہ ہو تو انہوں نے اپنے رب اللہ سے دعاء کی، اگر آپ ہمیں نیک صحیح سالم بچہ عطا فرمائیں تو ہم اس پر آپ کے شکر گذار ہوں گے، چناچہ جب ان کو صحیح سالم اولاد دیدی تو دونوں (بیوی) نے (اللہ کے) عطا کردہ بچے کا نام عبدالحارث رکھ کر خدا کا شریک قراردیدیا، اور ایک قراءت میں شین کے کسرہ اور…
Read the full tafseer →واذا لم تاتہم بایۃ قالوا لو لا اجتبیتہا قل انما اتبع ما یوحی الی من ربی ہذا بصآئر من ربکم وہدی ورحمۃ لقوم یومنون۔ اور اگر آپ کوئی معجزہ ان پر پیش نہیں کرتے تو کہتے ہیں آپ معجزہ کیوں نہیں لائے آپ کہہ دیجئے کہ میں اس حکم کا اتباع کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے میرے پاس وحی کے ذریعہ سے پہنچتا ہے یہ حکمتوں کا مجموعہ ہے تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت و رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔
بٰایٰۃٍآیت سے مراد قرآن مجید کی آیات۔ یا کافروں کا طلب کیا ہوا معجزہ۔
لو لا اجتبیتہا آپ از خود تراش کیوں نہیں لائے۔ عرب کہتے ہیں اجتبیت الکلام میں نے بات خود گڑھ لی۔ کلبی کا بیان ہے کہ مکہ والے محض ضد اور…
Read the full tafseer →(203) مکہ والوں کے مطالبہ پر جب کوئی نبی ؑ پر معجزہ ظاہر نہیں ہوتا تو کہتے ہیں کہ اللہ کی جانب سے معجزہ کوئی نہیں لائے یا اپنی طرف سے کیوں نہیں لائے۔
آپ ان سے کہہ دیجیے کہ میں اپنے قول وعمل میں اسی کی پیروی کرتا ہوں جو حکم میرے رب کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔ یہہ قرآن حکیم اوامرو نواہی کو بیان کرتا ہے اور جو لوگ قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں ان کے لیے عذاب سے رحمت ہے۔
Read the full tafseer →وَاِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰيَةٍ۔۔ : اس آیت میں شیاطین کے بھائیوں کی گمراہی اور بےجا ضد کی ایک مثال بیان فرمائی ہے، یعنی وہ پیغمبر سے ازراہ عناد کہتے ہیں کہ تم اپنے پاس ہی سے کوئی آیت (معجزہ) کیوں نہیں لے آتے۔ فرمایا میں تو صرف وحی الٰہی کا تابع ہوں اور اپنی طرف سے کوئی معجزہ پیش نہیں کرسکتا۔ دیکھیے سورة یونس (15 تا 17)۔
هٰذَا بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ۔۔ : اس میں اشارہ ہے کہ قرآن کریم ہی بڑا کافی معجزہ ہے، اس کے ہوتے ہوئے مزید معجزوں کی طلب محض نہ ماننے کا بہانہ ہے۔ دیکھیے سورة عنکبوت (50، 51) پھر یہاں قرآن کے تین بڑے اوصاف بیان فرمائے ہیں، جو صرف اس معجزے کی خصوصیت ہیں۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 203
قولہ تعالیٰ : آیت : واذالم تاتیھم بایۃ یعنی جب آپ ان پر کوئی آیت نہیں پڑھتے۔ آیت : قالوا لولا اجتبیتھا اس میں لولا بمعنی ھلا ( کیوں نہیں) ہے، اور اس معنی پر اس کے متصل بعد صرف فعل آسکتا ہے چاہے وہ ظاہر ہو یا مضمر ہو، اس بارے میں مکمل گفتگو سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔
اور اجتبیتھا کا معنی ہے تو نے اسے گھڑ لیا اپنی طرف سے۔ پس آپ انہیں آگاہ کر دیجئے کہ آیات اللہ عزوجل کی جانب سے آتی ہیں اور یہ کہ آپ ان پر نہیں پڑھتے مگر وہی جو اللہ تعالیٰ آپ پر نازل فرماتا ہے۔ کہا جاتا ہے : اجتبیت الکلام ای ارتجلتہ واختلقتہ واخترعتہ جب تو اپنی طرف سے کوئی کلام لائے ( تو تب مذکورہ جملہ کہتا ہے) آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–203
(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” ان الذین اتقوا “ سے مراد ہیں ایمان والے لوگ۔
(2) امام ابن ابی شیبہ عبد بن حمید، ابن ابی الدنیا نے ذم الغضب میں، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اذ مسھم طئف من الشیطن “ سے مراد ہے غصہ۔
(3) امام عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت ” اذا مستھم طیف من الشیطن من طائف “ الف کے ساتھ پڑھا ہے (پھر فرمایا) ” تذکروا “ یعنی کہ وہ برائی کا ارادہ کرتا ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا۔
(5) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” اذا مسھم…
Read the full tafseer →[ وَاِذَا : اور جب ] [ لَمْ تَاْتِهِمْ : آپ نہیں لاتے ان کے پاس ] [ بِاٰيَةٍ : کوئی آیت ] [ قَالُوْا : تو وہ کہتے ہیں ] [ لَوْلَا : کیوں نہیں ] [ اجْتَبَيْتَهَا ۭ : تصنیف کیا آپ نے اس کو ] [ قُلْ : آپ کہہ دیجیے ] [ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ : میں تو بس پیروی کرتا ہوں ] [ مَا : اس کی جو ] [ يُوْحٰٓى: وحی کیا گیا ] [ اِلَيَّ : میری طرف ] [ مِنْ رَّبِّيْ ۚ : میرے رب سے ] [ هٰذَا : یہ ] [ بَصَاۗىِٕرُ : دلیلیں ہیں ] [ مِنْ رَّبِّكُمْ : تمہارے رب کی طرف سے ] [ وَهُدًى: اور ہدایت ہے ] [ وَّرَحْمَةٌ: اور رحمت ہے ] [ لِّقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لیے ] [ يُّؤْمِنُوْنَ : جو ایمان رکھتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 202–203
فرمائشی معجزات طلب کرنے والوں کا جواب
آنحضرت سرور عالم ﷺ دلائل واضحہ کے ساتھ دعوت حق دیتے تھے حق پہچاننے کے لیے سب سے بڑی چیز دلائل عقلیہ ہی ہیں اس کے باو جود اللہ جل شانہٗ کی طرف سے معجزات کا ظہور بھی ہوتا رہتا تھا لیکن معاندین کہتے تھے کہ جو معجزہ ہم چاہیں ایسا معجزہ ظاہر ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ چاہتا تو لوگوں کے فرمائشی معجزے بھی ظاہر فرما دیتا لیکن اللہ تعالیٰ کسی کا پابند نہیں کہ لوگوں کے کہنے کے مطابق معجزہ ظاہر فرمائے پھر ان لوگوں کا فرمائشی معجزہ طلب کرنا بھی عناد اور تعنت کے طور پر تھا۔ حق قبول کرنا مقصود نہ تھا اسی لیے معجزات کو جادو بتا دیتے تھے۔ بعض مرتبہ ایسا ہوا کہ معجزہ…
Read the full tafseer →جواب شبہ کفار دربارۂ رسالت
قال اللہ تعالیٰ واذا لم تاتھم بایۃ۔۔۔ الی۔۔۔ لقوم یؤمنون
(ربط) گزشتہ آیات میں توحید کے ساتھ رسالت کا بھی ذکر تھا اب اس آیت میں کفار کے ایک شبہ کا جواب دیتے ہیں۔ بعض لوگ کج بحثی اور شرارت کی بناء پر آنحضرت ﷺ سے خاص معجزات کوئی خاص فرمائشی معجزہ ان کے سامنے ظاہر نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ آپ نے اس معجزہ کو کیوں نہیں بنالیا جس طرح آپ اور طرح طرح کی نشانیاں بنا کر لاتے ہیں اسی طرح ہماری فرمائش کے مطابق بھی ایک نشان بنا کر دکھا دیجئے آپ ان کے جواب میں کہدیجئے کہ معجزہ دکھلانا میرا کام نہیں۔ یہ سب اللہ کے اختیار میں ہے جز ایں نیست میرا اصلی کام یہ ہے کہ میں صرف اس چیز کی…
Read the full tafseer →193: یہ شکویٰ ہے اگر وحی میں ذرا تراخی ہوجائے تو مشرکین کہتے ہیں آپ اپنے پاس سے آیت بنا کر کیوں نہیں سنا دیتے “ قُلْ اِنَّمَا اَتَّبِعُ الخ ” یہ جواب شکویٰ ہے یعنی آپ فرما دیں میں تو اللہ تعالیٰ کی وحی کا تابع ہوں میرے پاس اللہ کی طرف سے جو کچھ وحی آتی ہے وہی سناتا ہوں اپنے پاس سے بنانے کا مجھے اختیار نہیں۔ “ وَ اِذَا لَمْ تَاتِھِمْ بِاٰيَةٍ من القراٰن عند تراخی الوحی لما روي ان مجاھد و قتادة۔۔۔۔۔” (روح ج 9 ص 146) ۔ “ ھٰذَا ” یہ جو کچھ پہلے مذکور ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–203
ربط آیات
پہلے اللہ تعالیٰ نے شرک کرنے والوں کا رد کیا اور پھر اسی سلسلے میں مکارم اخلاق کی تعلیم دی ظاہر ہے کہ جب مشرکین کے کمزور دلائل کو رد کیا جائے گا تو وہ لاجواب ہو کر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئیں گے اور بےہودہ باتیں کرنے لگیں گے جاہلوں کا ہمیشہ یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب وہ دلائل کا سامنا کرنے سے عاجز آجاتے ہیں تو دنگا فساد اور گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں ایسی حرکات کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو فرمایا خذالعفو کہ آپ درگزر کرنے اور معاف کرنے کی عادت ڈالیں البتہ وامربالمعروف نیکی کی تلقین کرتے رہیں اور توحید کے دلائل دیتے رہیں گویا اللہ تعالیٰ نے مکارم اخلاق کی تعلیم دی حدیث شریف میں…
Read the full tafseer →وَاِذَا لَمْ تَاْتِہِمْ بِاٰيَۃٍ قَالُوْا لَوْلَا اجْتَبَيْتَہَا 0 ۭ قُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِــعُ مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ مِنْ رَّبِّيْ 0 ۚ ہٰذَا بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَہُدًى وَّرَحْمَۃٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ 203
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 202–203
1 ؎ شیاطین
ترکیب : اخوانہم مبتداء یمدونہم جملہ خبر واذ الم الخ شرط قالو الخ جواب لولا ہلا اجتبیتہا انشاء تہامن قبل نفسک ذلک مقولتھم ماموصولہ یوحی الی جملہ صلہ مجموعہ مفعول ہے اتبع کا۔ من ربی یوحی سے متعلق ھذا مبتداء بصائر موصوف من ربکم صفت مجموعہ خبر وھدی ورحمۃ خبر پر معطوف لقوم رحمۃ سے متعلق البصائر جمع بصیرۃ وہی لحجوالبراہین۔
تفسیر : غضب کی حالت میں پرہیزگاروں کی یہ حالت بیان کی تھی کہ جب وہ خدا تعالیٰ کو یا اس کے صفات قاہرہ کو یاد کرتے ہیں تو اس کی تاریکی جسمانیت سے باہر آکر دفعۃً بینا ہوجاتے ہیں یعنی یکایک آنکھیں سی کھل جاتی ہیں۔ خلاف شیاطین کے بھائیوں کے یعنی غیر خدا پرست لوگوں کے کہ غصہ…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
وَاِذَا لَمْ تَاْتِھِمْ بِاٰیَۃٍ قَالُوْا لَوْلَا اجْتَبَیْتَھَاط قُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَایُوٓحٰٓی اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْج ھٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّکُمْ وَھُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (الاعراف : 203)
اور تم جب ان کے پاس نشانی نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ اسے کیوں نہ گھڑ لائے۔ کہہ دیجئے ! میں تو اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے مجھ پر وحی کی جاتی ہے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھولنے ولی آیات اور ہدایت و رحمت ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے۔
اذیتوں کے مقابلہ میں آنحضرت ﷺ کا اسوہ
اس آیت کریمہ میں ایک لفظ آیا ہے اجتَبَیْتَھَا۔ اجتبائ اس کا مصدر ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 203–204
فہم القرآن
ربط کلام : یہ شیطان کی شیطنت کا نتیجہ ہے کہ دلائل اور معجزات دیکھنے اور جاننے کے باوجود کفار ہر روز نئے سے نیا مطالبہ کرتے تھے کہ ہمیں مزید معجزات دکھائے جائیں۔
یہاں اس کا جواب دیا گیا ہے کہ قرآن سے بڑھ کر کونسا معجزہ ہوسکتا ہے۔ مکہ کے کفار اور مدینہ کے اہل کتاب نبی اکرم ﷺ سے ایک سے ایک بڑھ کر سوال اور معجزات طلب کیا کرتے تھے۔ ان کے ہر معقول سوال کا مؤثر اور مدلل جواب دیا گیا اور ان کے مطالبہ پر بڑے بڑے معجزات بھی پیش کیے گئے۔ لیکن ان کے دل میں کھوٹ اور طبیعت میں بہانہ سازی کا عنصر غالب تھا جس وجہ سے وہ ایک مطالبہ پورا ہونے کے بعد دوسرا پیش کردیا کرتے تھے۔ اور کبھی کہتے یہ تو تیری…
Read the full tafseer →مُنہ مانگی نشانی طلب کرنے والوں کو جواب :
آیت 203: وَاِذَا لَمْ تَاْتِھِمْ بِٰایَۃٍ (اور جب آپ کوئی معجزہ ان کے سامنے ظاہر نہیں کرتے) جو وہ منہ سے مانگتے تھے۔ قَالُوْا لَوْلَا اجْتَبَیْتَھَا (تو وہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ یہ معجزہ کیوں نہ لائے) تم کیوں نہ گھڑ لائے جیسا کہ پہلے گھڑ کر لائے۔ ( نعوذ باللہ) قُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَایُوْحـٰٓی اِلَیَّ مِنْ رَّبِیْ (تو آپ کہہ دیں کہ میں اس کا اتباع کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے میرے پاس وحی کے ذریعے پہنچتا ہے) میں ان کو اپنی طرف سے ایجاد کرنے والا نہیں ہوں۔ ھٰذَا بَصَآپرُ مِنْ رَّبِّکُمْ (یہ تمہارے رب کی طرف سے حکمتوں کا مجموعہ ہے) یہ قرآن تمہارے لیے…
Read the full tafseer →203 (واذا لم تاتھم بایۃ) یعنی جب مشرکین کے پاس کوئی نشانی نہ آئے۔ تو کہتے ہیں کیوں نہ چھانٹ لایا تو نے اس کو اپنی طرف سے اور اپنے اختیار سے کیوں نہ کیا ؟ عرب کہتے ہیں ” اجتبت الکلام ‘ ذ جب تو اس کو گھڑ لے۔ تو کچھ اپنی طرف سے ) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اہل مکہ ضد کی وجہ سے نبی کریم ﷺ سے نشانیوں کا مطالبہ کرتے تھے جب آپ تاخیر کرتے تو وہ کہتے کہ اپنی طرف سے کیوں نہیں ایجاد کرلیتے ؟ (قالوا لولا اجتبیتھا ط قل انما اتبع ما یوحی الی من ربی ھذا بصآئر من ربکم) (قل) کہہ دیجیے اے محمد (انما اتبع ما یوحی الی من ربی ھذا بصائر من ربکم) اس کا واحد بصیرت ہے۔ اس کا اصل معنی شے کا ظاہر اور پختہ ہوتا تاکہ اس کو…
Read the full tafseer →203۔ کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ ہماری فرمائش کے مطابق معجزہ دکھلائیے اور جب ان کی خواہش کے موافق کوئی معجزہ نہیں دکھلایا جاتا تھا تو کہنے لگتے تھے کہ آپ تو خدا کے رسول ہیں خدا سے التجا کیجئے وہ معجزہ آپ کو عطا کرے گا اور نہیں تو آپ خود اپنے جی سے کوئی بات بنا لیجئے اسی کو اللہ پاک نے بیان فرمایا کہ اے رسول اللہ کے جب تم ان کو ایسی نشانی دکھلاتے ہو جو ان کی مرضی کے موافق ہو تو کہتے ہیں کہ تم نے اپنے جی سے یہ معجزہ گھڑ لیا ہے مثلا شق القمر جیسے بڑے معجزہ کو ان لوگوں نے جادو کا اثر بتلایا اس لئے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں اپنے جی سے کوئی کام نہیں کرسکتا میں تو خدا کا فرماں بردار ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 202–203
آیت 202
یہ جھٹلانے والے آپ کے ساتھ عناد رکھتے ہی رہیں گے خواہ ان کے پاس رشد و ہدایت پر کتنے ہی دلائل کیوں نہ آجائیں۔ پس جب آپ ان کو کوئی ایسی دلیل دیتے ہیں جو آپ کی صداقت پر دلالت کرتی ہے، تو یہ اسے تسلیم نہیں کرتے۔ (واذالم تاتھم بایۃ) ” اور جب تم ان کے پاس کوئی آیت نہیں لاتے۔ “ یعنی جب ان کے حسب خواہش آیات و معجزات نہیں لاتے (قالوا لولا اجتبیتھا) ” تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں بنا لی۔ “ یعنی کہتے ہیں کہ تم فلاں آیت اور فلاں معجزہ کیوں نہیں لاتے گویا کہ آیات اور معجزات آپ نازل کرتے ہیں اور تمام مخلوقات کی تدبیر آپ کرتے ہیں۔ حالانکہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ آپ تو کسی چیز کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–203
نزغ شیطان کی حقیقت
قول باری ہے واما ینزغنک من الشیطان نزغ فاستعذباللہ انہ سمیع علیم۔ اور اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو وہ سننے اور جاننے والا ہے) نزع شیطان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ دل میں وسوسہ پیدا کر کے راہ راست سے بھٹکانے کی صورت میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ یہ زیادہ تر اس وقت ہوتا ہے جب انسان پر غصے اور غضب کا غلبہ ہوتا ہے۔ ایک قول ہے کہ اس لفظ کے اصل معنی برائی کی طرف اکسانے کے ہیں ۔ شر اور برائی کی طرف دعوت دینے والی خصلت کو کہا جاتا ہے کہ یہ نزغہ شیطانی ہے جب اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ شیطان ہمیں برائی پر اکسائے گا تو اس نے ہمیں اس کے مکروہ فریب اور اس کے شر سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–204
280 تقویٰ حفاظت و بچاؤ کا ذریعہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ سے ڈرنے اور اس کی نافرمانی و ناراضی سے بچنے والوں کو جب شیطان کی طرف سے کوئی خیال چھو جاتا ہے تو وہ فورا چونک جاتے ہیں۔ اور چونک کر وہ اس " عُدوِّ مُبِیْن " کے وار سے محفوظ ہوجاتے ہیں پس تقویٰ حفاظت کا ذریعہ اور عظیم بچاؤ ہے شیطان کے وار سے ۔ اللہ نصیب فرمائے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اس دولت تقویٰ سے سرشار رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری حفاظت و بچاؤ کا اہم ذریعہ و وسیلہ ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ جہالت کی بجائے تقویٰ و پرہیزگاری کی روش کو اپناتے ہیں، ان کو شیطان کی طرف سے جب کوئی اُکساہٹ پیش آتی ہے تو وہ فورًا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–203
انسان کی حقیقت اور مشرکوں کے طریقے
تشریح : یوں تو پورا قرآن پاک ہی ہدایت اور رہنمائی سے بھرا پڑا ہے۔ مگر ان آیات میں خاص طور سے پھر انسان کو اپنی پیدائش کا طریقہ بتایا گیا ہے اور پھر گھریلو زندگی اور پرسکون خاندان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) بغیر باپ اور ماں کے اللہ کی قدرت سے پیدا ہوئے سیدہ سیدنا حوا (علیہا السلام) ان سے پیدا ہوئیں مگر بغیر ماں کے، سیدنا عیسیٰ بغیر باپ کے اور پھر اس کے بعد نسل انسانی ماں اور باپ دونوں کے میاں بیوی بن کر آپس کے ملاپ سے مگر اللہ کی قدرت سے بڑھنی شروع ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ جب میاں اور بیوی میں شادی کا رشتہ بن جاتا ہے تو پھر دونوں ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–206
رکوع نمبر 24 ۔ آیات 189 ۔ تا۔ 206
جہاں تک علوم غیبیہ اور نفع و نقصان کا تعلق ہے تو یہ اوصاف تو اس ذات حمید کے ہیں جس نے تمہیں ایک وجود یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا اور ایسا کریم ہے کہ انسان کی نسل بقا کے لیے اسی وجود میں سے اس کا جوڑا یعنی حوا کو پیدا فرما
کر ان میں باہمی محبت و الفت اور ایک لذت وصال رکھ دی کہ انسان نہ صرف بقائے نسل کا کام کرے بلکہ ایک دوسرے سے انس اور روحت بھی حاصل کریں۔ یہ اس کے احسانات ہیں۔
مگر انسانوں کا یہ حال ہے کہ مرد و عورت جمع ہوئے اور حمل قرار پا گیا اب خالق کو اس کا علم ہے جس کی پشت میں تھا وہ بیخبر رہا جس کے پیٹ میں پہنچا اسے پتہ نہیں بغیر کسی پرواہ کے…
Read the full tafseer →(5 اس آیت میں شیاطین کے بھائیوں کی ضلالت اور عناد کیا یک مثال ایتہ ( معجزہ) اپنے پاس سے ہی لے آؤ ( کبیر)6 یعنی میں تو وحی الہیٰ کا تابع ہوں اور اپنی طرف سے کوئی چیز بنا کر پیش نہیں کرسکتا، اس میں اشارہ ہے کہ قرآن کریم ہی ایک بڑ امعجزہ ہے پھر یہاں قرآن کے تین بڑے اوصاف بیان فرمائے ہیں ، ( کبیر )
Read the full tafseer →(7:203) لم تاتہم۔ تو نہیں لاتا ان کے پاس۔ نفی جحد بلم۔ واحد مذکر حاضر ھم ضمیر جمع مذکر غائب۔
لولا۔ کیوں نہ۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 6:43 ۔
اجتبیتھا۔ جبی (ضرب) جبی الماء فی الحرض۔ اس نے حوض میں پانی جمع کیا۔ بڑے حوض کو جابیۃ کہتے ہیں اور اس کی جمع جواب ہے قرآن میں ہے وجفان کالجواب (34:13) اور (ایسے) لگن جیسے بڑے بڑے حوض۔ باب افتعال سے اجتباء انتخاب کے طور پر کسی چیز کو جمع کرنا۔ جیسے المجتبی منتخب شدہ۔ برگزیدہ۔
آیت ہذا میں اجتبیت بمعنی اخترت واخلفت کے ہے۔ کیوں نہیں تم خود گھڑ لیتے ۔ کیوں نہیں تم خود بنا لیتے۔ کیوں نہیں تم خود اختراع کرلیتے (جیسا کہ بقول کافرین کے وہ یعنی رسول اکرم ﷺ قرآن حکیم…
Read the full tafseer →لغات القرآن۔
اجتبیت۔ تو نے پسند کیا۔ بصائر۔ بصرتیں۔ سمجھ کی باتیںَ
تشریح : کفار اور مشرکین اعتراض برائے اعتراض کے طور پر کہتے تھے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے نبی اور رسول ہیں… لیکن ہم اس بات کو کیسے تسلیم کرلیں۔ آپ ہمیں کوئی معجزہ دکھائے کوئی ایسی چیز لا کر دکھائیے جسے دیکھ کر ہم یقین کرلیں کہ واقعی آپ اللہ کی طرف سے بھیجئے ہوئے ہیں۔ قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ ہر نبی نے جب بھی اللہ کے دین کی طرف بلایا تو جن لوگوں کو ماننا تھا انہوں نے مان لیا لیکن جن کو نہیں ماننا تھا وہ یہی کہتے تھے کہ ہمیں پہلے معجزہ دکھائو تو ہم تمہارے اوپر ایمان لائیں گے۔ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 202–203
کفار مکہ کو تنبیہ
کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے طرح طرح کے معجزوں کی خواہش کرتے ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل فرمائی کہ اے رسول اللہ ﷺ کے ! جب تم ان کو ایسی نشانی دکھاتے ہو جو ان کی مرضی کے موافق ہو تو کہتے ہیں کہ تم نے اپنے جی سے یہ معجزہ گھڑلیا ہے مثلا شق القمر جیسے معجزہ کو جادو کا اثر بتلایا۔ اس لئے تم ان لوگوں سے کہ دو کہ میں اپنے جی سے کوئی کام نہیں کرسکتا میں خدا کا فرمانبردار ہوں۔ خدا جو وحی کے ذریعہ سے مجھ کو بتلادیتا ہے میں وہی کرتا ہوں۔ اور قرآن سے بڑھ کر کیا معجزہ ہوسکتا ہے اگر تم ایمان لانا چاہو تو یہی کا فی ہے، اور یہ قرآن پاک مومنوں کے واسطے بصیرت و ہدایت اور رحمت ہے اہل ایمان کے تین درجے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–203
[79] نشانی سے مراد ہے معجزہ۔
[80] یعنی جب تم نبی ٹھہرے تو سب کچھ تمہارے اختیار میں ہونا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 203–204
قرآن معجزہ ہے !:
(ف 2) اس سے پیشتر کی آیت میں مکہ والوں کا قول نقل ہے کہ آپ مطلوبہ معجزہ کیوں نہیں دکھلاتے ہیں کہ جواب میں آپ نے قرآن کی زبان میں فرمایا میں وحی والہام کا پابند ہوں اپنی طرف سے کچھ ایزاد نہیں کرسکتا ، اور قرآن میں تمہارے لئے بصائر اور دلائل ہیں ، (آیت) ” ھذا بصآئر من ربکم “۔ یعنی اگر اطمینان مقصود ہے تو قرآن کو پڑھو ، اور اگر یہ نہ ہو سکے ، تو کم از کم جب قرآن پڑھا جائے ، غور سے سنو ، پھر دیکھو قرآن کی صداقت کس طرح تمہیں اپنی جانب کھینچ لیتی ہے اور کیونکہ تمہیں سزاوار کرم بنا دیتی ہے ، ۔
یعنی قرآن بجائے خود معجزہ ہے ، ایک علمی حارقہ ہے ۔ نہایت درجے کا موثر کلام ہے ، اس کو پڑھ…
Read the full tafseer →203 اور جب آپ ان کے پاس کچھ دنوں کوئی آیت ہیں لاتے یا ان کا کوئی منہ مانگا معجزہ ان کی خواہش کے مطابق ان کو نہیں دکھاتے تو یہ کہتے ہیں تو خود کوئی آیت کیوں نہیں بنا لاتا یا اپنے خدا سے کہہ کر ہمارا منہ مانگا معجزہ کیوں نہیں چھانٹ لاتا آپ فرما دیجئے میں تو فقط اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب کی جانب سے مجھ پر بھیجی جاتی ہے۔ یہ قرآن کریم تمہارے رب کی جانب سے بصیرت افروز دلائل کا مجموعہ ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے ایک… مخصوص ہدایت و رحمت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کسی وقت نزول قرآن کریم میں تاخیر ہوجاتی یا جو معجزہ منکر طلب کرتے اور وہ حکمت ِ الٰہی اور منشائے خداوندی کے خلاف ہوتا تو معاندانہ طور…
Read the full tafseer →ف 5۔ حاصل جواب یہ ہے کہ نبوت کی غایت اصلی اصلاح ہے۔
Read the full tafseer →نبی اعظم و آخر ﷺ پر کفار کا ایک نیا طعن :
232: نت نئے مطالبات کرنے والوں نے نبوت کو سمجھنے کی بجائے ایک مذاق بنا رکھا تھا ۔ ظاہر ہے کہ یہ مذاق کرنے والے مسلمان تو ہو نہیں سکتے تھے کفار ہی کا یہ شیوہ تھا کہ وہ آپ ﷺ سے شرارتا کوئی نہ کوئی فرمائش کرتے رہتے کہ آپ ﷺ یہ معجزہ دکھا دیں اور ہماری اس بات کا جواب دے دیں تو ہم ایمان لے آئیں گے ۔ پھر جب تک ان کا وہ مطالبہ پورا نہ کرتے تو وہ کہتے کہ آپ ﷺ کو کیسے نبی مان لیں جب آپ ﷺ اپنی نبوت کی کوئی دلیل نہیں رکھتے۔
زیر نظر آیت میں ایک لفظ لو لا اجتبیتھا آیا ہے اجتبیٰ کے معنی چن لینے یا انتخاب کرلینے کے ہوتے ہیں لیکن اس جگہ اپنی طرف سے گھڑ لینے کے معنوں…
Read the full tafseer →Commentary
Mentioned in the verses cited above is the proof that the Holy Prophet ﷺ the true Messenger of Allah. Also answered there are doubts raised by his antagonists. Then, as a corollary, some religious injunctions have been taken up.
To prove that they are Messengers of Allah, all prophets, may peace be upon them all, are given miracles. It was in consonance with it that the Holy Prophet ﷺ the foremost among prophets, was blessed with so many miracles which exceed the number of those given to past prophets and which are clear too.
The miracles of the Holy Prophet ﷺ as proved from the…
Read the full tafseer →151. This question is a taunt rather than a simple query. What the utterance implies is that if the claim to prophethood is genuine, it should have been supported by some miracle. The next verse contains a fitting rejoinder to the taunt.
152. The Prophet (peace be on him) is being made to tell his opponents in clear terms that he has no power to get whatever he wants. Being God's Messenger, he is required to follow the directives of the One Who has sent him and has granted him the Qur'an which has the light of guidance. The major characteristic of this Book is that those who seek guidance…
Read the full tafseer →