Al-A'raaf 7:192

Al-A'raaf · from ayah 192

7:192

وَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ ۟وَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ لَهُمۡ نَـصۡرًا وَّلَاۤ اَنۡفُسَهُمۡ يَنۡصُرُوۡنَ

اور نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the false deities are unable to [give] them help, nor can they help themselves.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 24 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:192

جو نہ ان کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور وه ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے اور وه خود بھی مدد نہیں کرسکتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو نہ ان لوگوں کی کوئی مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور نہ وہ ان کو کوئی مدد پہنچاسکیں اور نہ اپنی جانو ں کی مدد کریں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور نہ وہ ان (مشرکوں) کی مدد کرنے پر قدرت رکھتے ہیں اور نہ اپنے آپ ہی کی مدد کرسکتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور نہ ان کی کوئی مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ نہ تو ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ ہی اپنی مدد کرسکتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور نہ وہ ان کی کسی قسم کی مدد کرسکتی ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتی ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ نہ ان کی کسی قسم کی کوئی مدد کرسکتے ہیں اور نہ وہ خود اپنی ہی کوئی مدد کرسکتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

وہ انہیں کسی قسم کی مدد بھی نہیں دے سکتے ہیں (بلکہ) خود اپنی ہی مدد نہیں کرسکتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہ وہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ وہ اپنی مدد پر قادر ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد کرسکتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They have no power to help others. nor can they help themselves.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And they (the alleged partners) cannot extend to them any help, nor can they help themselves.

— Muhammad Taqi Usmani

And they (the alleged partners) cannot extend to them any help, nor can they help themselves.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

No help can they give them, nor can they help themselves.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And cannot give them help, nor can they help themselves?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the false deities are unable to [give] them help, nor can they help themselves.

— Saheeh International

The idols are things that are not able to help others or even themselves.

— Muhammad Sarwar

And they have no power to give them help, nor can they help themselves.

— Muhammad Habib Shakir

And who cannot succour them, nor can succour themselves.

— Abdul Majid Daryabadi

No aid can they give them, nor can they aid themselves!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:192

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 191–198

انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو بوجتے ہیں وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں وہی ان کا پالنے والا ہے وہ بالکل بےاختیار ہیں کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا تندرست اور اجھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں کان بھی ہیں یہ بیوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ لوگو آؤ ایک لطیف مثال سنو تم جنہیں پکار رہے ہو یہ سارے ہی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 191–193

سورة الْاَعْرَاف 147 یعنی ان مشرکین کے معبود ان باطل کا حال یہ ہے کہ سیدھی راہ دکھانا اور اپنے پرستاروں کی رہنمائی کرنا تو درکنار، وہ بیچارے تو کسی رہنما کی پیروی کرنے کے قابل بھی نہیں، حتیٰ کہ کسی پکارنے والے کی پکار کا جواب تک نہیں دے سکتے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 190–193

تیسری آیت کے آخر میں ان لوگوں کی بےراہی اور کجروی کو واضح کرنے کیلئے فرمایا (آیت) فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ، یعنی پاک ہے اللہ تعالیٰ اس شرک سے جس کو ان لوگوں نے اختیار کیا۔ آیات مذکورہ کی اس تفسیر سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اس آیت کے پہلے جملہ میں حضرت آدم و حواء کا ذکر کرکے اولاد آدم کو ان کے اتباع اور شکر گزری کی تعلیم دی گئی ہے، اور آخری جملوں میں بعد کی آنے والی اولاد آدم کی گمراہی اور کجروی کا بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے بجائے شکر گزاری کے شرک کو اختیار کرلیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ شرک اختیار کرنے والوں کے معاملہ کا تعلق حضرت آدم و حواء سے مطلق نہیں جس کے سبب حضرت آدم ؑ کی عصمت پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 191–192

اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ۔ یہ تعالیٰ اللہ عما یشرکون کے مضمون کی وضاحت ہے کہ خدا ہی سب کا خالق اور سب کا ناصر ہے تو ان چیزوں کو خدا کی خدائی میں شرک بنانے کا کیا تک ہے جو کسی چیز کو بھی خلق نہیں کرتی ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں اور جو نہ تو ان کی کوئی مدد کرسکنے پر قادر ہیں اور نہ اپنی ہی کوئی مدد کرسکتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 190–192

190۔ 1 شریک قرار دینے سے مراد یا تو بچے کا نام ایسا رکھنا ہے، مثلاً امام بخش، پیراں دیتا، عبدالشمس، بندہ علی وغیرہ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بچہ فلاں بزرگ، فلاں پیر کی (نعوذ باللہ) نظر کرم کا نتیجہ ہے۔ یا پھر اس اپنے عقیدے کا اظہار کرکے کہ ہم فلاں بزرگ فلاں قبر پر گئے تھے جس کے نتیجہ میں بچہ پیدا ہوا ہے، جو بدقسمتی سے مسلمان عوام میں بھی عام ہیں۔ اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ شرک کی تردید فرما رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 189–194

97:”ایک جان“ سے مراد حضرت آدم ؑ ہیں، اور ان کی بیوی سے مراد حضرت حواء (علیہما السلام) 98: اب یہاں سے حضرت آدم ؑ کی ایسی اولاد کا ذکر ہورہا ہے جس نے بعد میں شرک کا راستہ اختیار کیا

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 189–198

تفسیر آیات 189 تا 198:۔ عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 192–195

1 جن بتوں کو تم نے معبود ٹھہرایا ہے اور خدائی کا حق دیا ہے، وہ تمہارے کام تو کیا آتے، خود اپنی حفاظت پر بھی قادر نہیں اور باوجود مخلوق ہونے کے ان کمالات سے محروم ہیں جن سے کسی مخلوق کو دوسری پر تفوق و امتیاز حاصل ہوسکتا ہے۔ گو ان کے ظاہری ہاتھ پاؤں، آنکھ، کان سب کچھ تم بناتے ہو، لیکن ان اعضاء میں وہ قوتیں نہیں جن سے انہیں اعضاء کہا جاسکے۔ نہ تمہارے پکارنے پر مصنوعی پاؤں سے چل کر آسکتے ہیں، نہ ہاتھوں سے کوئی چیز پکڑ سکتے ہیں، نہ آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں، نہ کانوں سے کوئی بات سنتے ہیں۔ اگر پکارتے پکارتے تمہارا گلا پھٹ جائے گا تب بھی وہ تمہاری آواز سننے والے اور اس پر چلنے والے یا اس کا جواب دینے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 192–193

آیت 192 وَلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ لَہُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَہُمْ یَنْصُرُوْنَ ۔ وہ تو سب کے سب خود اللہ کے بندے ہیں۔ اب یہاں بات تدریجاً بتوں کی طرف لائی جا رہی ہے۔ نظریاتی طور پر تو ان کے فلسفی بت پرستی کا جواز یہ بتاتے ہیں کہ وہ ان پتھر کے بتوں کی پوجا نہیں کرتے بلکہ ان مورتیوں کی حیثیت علامتی ہے۔ اصل دیوتا اور دیویاں چونکہ ہمارے سامنے موجود نہیں ہیں اس لیے ان کے بارے میں توجہ کے ارتکاز کے لیے ہم بتوں کو علامت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ اس فلسفہ کا خلاصہ ہے جو انڈیا کے ڈاکٹر رادھا کرشنن وغیرہ بیان کرتے رہے ہیں ‘ مگر ان کے عوام تو ان بتوں ہی کو معبود مانتے ہیں ‘ ان ہی کی پوجا کرتے ہیں ‘…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 192–193

191 محتاج الٰہ نہیں ہوسکتا :۔ یعنی ایک تو اللہ کی جاندار مخلوق ہے جسے تم الٰہ بناتے ہو جیسے فرشتے یا انبیاء و اولیاء وغیرہ جنہیں حاجت روا اور مشکل کشا تصور کیا جاتا ہے یا کیا جاتا رہا ہے یہ بھی الٰہ نہیں ہوسکتے تو پھر جو تم پتھر کے بت بنا کر اور انہیں خدائی کا درجہ دے کر ان کی پوجا پاٹ شروع کردیتے ہو وہ کیسے الٰہ ہوسکتے ہیں وہ تو اپنے منہ سے مکھی بھی نہیں اڑا سکتے وہ تمہاری مدد کیا کریں گے ؟ اور تمہاری کیا رہنمائی کریں گے کہ اگر تم خود انہیں راہ کی طرف بلاؤ تو وہ آ بھی نہیں سکتے تم انہیں بلاؤ یا نہ بلاؤ ایک ہی بات ہے کیونکہ وہ تو حرکت کر ہی نہیں سکتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

284 ۔ مشرکوں کی کمال، حماقت دکھائی ہے کہ ایسوں کے آگے جھکتے ہیں اور کرتے ہیں۔ جو کسی کو تو پیدا کیا کرتے خود اپنے پیدا کرنے پر قادر نہیں۔ بلکہ اپنی پیدائش تک کے لئے دوسرے ہی کے تمام تر محتاج ہیں۔ دوسری آیت میں ترقی کرکے ارشاد ہوا ہے کہ اتناہی نہیں بلکہ تخلیق الگ رہی وہ تو امداد تک پر قادر نہیں۔ نہ کسی دوسرے کی نہ خود اپنی ہی ! حیرت اور کمال حیرت ہے کہ ایسی بےبس ہسیتوں کو معبود کے درجہ پر رکھا جائے !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 189–206

آیت نمبر 189 تا 206 ترجمہ : وہ یعنی اللہ ہی ہے جس نے تم کو ایک جان یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا حوّاء کو پیدا کیا تاکہ اس سے سکون حاصل کرے اور اس سے الفت کرے، چناچہ جب اس کو ڈھانپ لیا یعنی اس سے مجامعت کی، اگر اس کو ہلکا سا حمل رہ گیا، اور اس بات سے خوفزدہ ہوئے کہ وہ (حمل) کوئی جانور نہ ہو تو انہوں نے اپنے رب اللہ سے دعاء کی، اگر آپ ہمیں نیک صحیح سالم بچہ عطا فرمائیں تو ہم اس پر آپ کے شکر گذار ہوں گے، چناچہ جب ان کو صحیح سالم اولاد دیدی تو دونوں (بیوی) نے (اللہ کے) عطا کردہ بچے کا نام عبدالحارث رکھ کر خدا کا شریک قراردیدیا، اور ایک قراءت میں شین کے کسرہ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولا یستطیعون لہم نصرا ولا انفسہم ینصرون : اور وہ ان کو کسی طرح کی مدد بھی نہ دے سکتے ہوں اور نہ اپنی مدد کرسکتے ہوں۔ ولا یستطیعون اور بت طاقت نہیں رکھتے لہم نصراً ان مشرکوں کی مدد کرنے کی جو ان کے پجاری ہیں۔ ولا انفسہم ینصرون اور نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں کہ نامناسب ناگوار چیز کو دفع کرسکیں مثلاً اگر کوئی ان کو توڑے تو اپنے کو محفوظ رکھ سکیں۔ وان تدعوہم الی الہدی اور اگر تم مشرکوں کو اسلام کی طرف بلاؤ۔ بعض علماء کے نزدیک تدعوا سے خطاب مشرکوں کو ہے اور ہم ضمیر بتوں کی طرف راجع ہے یعنی اے مشرکو اگر تم بتوں کو بلاؤ کہ وہ تم کو ہدایت کریں راستہ بتلا دیں تو وہ تمہارے کہنے پر عمل نہیں کرسکتے یعنی تم…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 191–192

اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا۔۔ : اس سلسلۂ کلام سے مقصود بتوں کی پرستش کی تردید ہے کہ ان میں معبود ہونے کی کوئی صفت نہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ انھوں نے کوئی چیز پیدا ہی نہیں کی، حتیٰ کہ وہ سب جمع بھی ہوجائیں تو مکھی تک بنانا بلکہ اس سے چھینی ہوئی چیز واپس لینا بھی ان کے اختیار میں نہیں۔ دیکھیے سورة حج (73) وہ خود مخلوق ہیں، اپنے پوجنے والوں کی مدد تو درکنار اگر خود انھیں کوئی توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے تو وہ اپنے آپ کو بھی نہیں بچا سکتے، تو پھر خالق کو چھوڑ کر اس بےبس مخلوق کی پوجا کیوں ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 192–193

آیت نمبر : 192 قولہ تعالیٰ : آیت : وان تدعوھم الی الھدی لا یتبعوکم اخفش نے کہا ہے : اگر تم بتوں کو ہدایت کی طرف بلاو تو وہ تمہاری پیروی نہ کریں گے۔ آیت : سواء علیکم ادعوتموھم ام انتم صامتون احمد بن یحییٰ نے کہا ہے : کیونکہ یہ راس الآیہ ہے، مراد یہ ہے کہ فرمایا : ام انتم صامتون اور یہ نہیں فرمایا : ام صمتم اور صامتون اور صمتم سیبویہ کے نزدیک ای ہی معنی میں ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : اس سے مراد وہ ہیں جن کے بارے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ آیت : لا یتبعوکم کو مشدد اور مخفف دونوں طرح پڑھا گیا ہے یہ دونوں لغتیں ہم معنی ہیں۔ اور بعض اہل لغت نے کہا ہے : اتبعہ جب مخفف ہو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 189–193

(1) امام احمد، ترمذی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور ھاکم نے (ترمذی نے اس کو حسن اور حاکم نے صحیح کہا) سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب حواء کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اس کے گرد ابلیس گھوما اور لڑکا زندہ نہیں رہتا تھا شیطان نے کہا اس کا نام عہد الحارث رکھ دو ۔ تو وہ زندہ رہے گا تو انہوں نے اس کا نام عبد الحارث رکھ دیا تو وہ زندہ رہا۔ تو یہ شیطان کے الہام میں سے تھا اور اس کو حکم تھا۔ (2) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن مردویہ نے سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فلما اتھا صالحا جعلا لہ شرکاء “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اس (لڑکے) کا نام عبد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ : اور وہ لوگ استطاعت نہیں رکھتے ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ] [ نَصْرًا : کسی مدد کی ] [ وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ : اور نہ ہی اپنے آپ کی ] [ يَنْصُرُوْنَ : وہ لوگ مدد کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 191–198

معبود ان باطلہ نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں نہ عبادت گزاروں کی مدد کرسکتے ہیں اوپر کی آیت میں اولاد کے سلسلہ میں شرک اختیار کرنے کا ذکر تھا ان آیات میں بھی مشرکین کو تنبیہ فرمائی ہے اور شرک اختیار کرنے میں جو انہوں نے حماقت کی ہے اسے بیان فرمایا ہے، اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے اسی نے سب کچھ پیدا فرمایا جس نے سب کچھ پیدا فرمایا وہی عبادت کے لائق ہے جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود اپنے خالق جل مجدہ کی مخلوق ہیں وہ کیسے عبادت کے مستحق ہوگئے ؟ مشرکین کا یہ طریقہ ہے کہ جب غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں تو یہ سمجھ کر کرتے ہیں کہ یہ آڑے وقت میں ہماری مدد کریں گے یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 189–202

اثبات توحید وابطال شرک قال اللہ تعالیٰ ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ثم لا یقصرون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور کمال علم و حکمت کا ذکر تھا کہ وہی ہر نفع اور ضرر کا مالک ہے اور وہی عالم الغیب ہے اور شروع سورت میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہا السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اب سورت قریب الختم ہے اس لیے حضرت آدم اور حوا کا قصہ اجمالی طور پر دوبارہ ذکر فرماتے ہیں جس سے مقصود توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال ہے اگرچہ گزشتہ آیات میں بھی توحید خداوندی کا مختصر سا ذکر ہوا ہے لیکن ان آیات میں اس مضمون کو قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہی اللہ ہے جس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 191–193

186: مشرکین کی انتہائی کم عقلی اور ہٹ دھرمی کا ذکر فرمایا کہ وہ کیسی عاجز مخلوق کو خدا کے ساتھ شریک بناتے ہیں وہ اس قدر عاجز و لاچار ہیں کہ اپنی مدد نہیں کرسکتے تو ان کی کیا مدد کریں گے۔ “ وَ اِنْ تَدْعُوْھُمْ اِلَی الْھُدٰي الخ ” خطاب مشرکین سے ہے اور اس میں ان کے معبودوں کی انتہائی بےبسی کا بیان ہے۔ یعنی تمہاری مدد کرنا تو درکنار وہ تو تمہاری بات کا جواب بھی نہیں دے سکت۔ ان میں اتنی قدرت ہی نہیں۔ “ والمعنی ان ھذا المعبود الذي یعبدہ المشرکون معلوم من حاله انه کما لا ینفع ولا یضر فکذا لا یصح فیه اذا دعی الی الخیر الاتباع ” (کبیر ج 4 ص 492) یا خطاب آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام سے ہے اور “ اَلْھُدٰي…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 191–195

ربط آیات گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اولین انسان اور اس کے جوڑے کی پیدائش کا تذکرہ فرمایا اور اس پیدائش کی غرض وغایت بھی بیان فرمائی پھر انسان کے شرک میں مبتلا ہونے کی مثال بیان فرمائی کہ میاں بیوی کی مقاربت سے ہلکا سا حمل ٹھہرتا ہے جب یہ بڑھتا ہے تو میاں بیوی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحیح سلامت ، صحت مند بچہ عطا فرمائے پھر جب بچہ کی پیدائش ٹھیک طریقے سے ہوجاتی ہے تو اللہ کے ساتھ شریک بنانے لگتے ہیں اول تو بچے کا نام ہی شرکیہ رکھتے ہیں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کی بجائے غیروں کی طرف منسوب کرتے ہیں حالانکہ اس کی پیدائش ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَہُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَہُمْ يَنْصُرُوْنَ۝ 192 الاستطاعۃ . وَالاسْتِطَاعَةُ : استفالة من الطَّوْعِ ، وذلک وجود ما يصير به الفعل متأتّيا، الاسْتِطَاعَةُ أخصّ من القدرة . قال تعالی: لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 43] ( ط و ع ) الطوع الاستطاعۃ ( استفعال ) یہ طوع سے استفعال کے وزن پر ہے اور اس کے معنی ہیں کسی کام کو سر انجام دینے کے لئے جن اسباب کی ضرورت ہوتی ہے ان سب کا موجہ ہونا ۔ اور استطاعت قدرت سے اخص ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 43] وہ نہ تو آپ اپنی مدد کرسکتے ہیں ۔ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 188–193

ترکیب : الاماشاء اللّٰہ استثناء ہے جنس سے ولوکنت شرط لا ستکثرت جواب وما نا فیہ مسنی الخ معطوف ہے لا ستکثرت پر تتّمہ جواب ہے جعل بمعنی خلق زوجہا اس کا مفعول فلما تغشاھا شرط حملت الخ جواب فمرت بہ تشدید راء سے پڑھا جاوے گا تو مرور سے مشتق ہوگا اور بالتخفیف والالف مارت من المور وھوالذہاب والبحئی فلما آتاھما الخ شرط جعلالہ جواب شرکاء جمع شریک مفعول جعلا فیما آتاھما جار متعلق فعل سے۔ تفسیر : دوسرا شبہ : دوسرا شبہ منکرین کا آنحضرت (علیہ السلام) کی نبوت پر یہ تھا کہ اگر آپ نبی برحق ہیں تو ہمارے کہنے کے موافق کیوں ہمارے دنیاوی مضرات دور نہیں کردیتے ٗ قحط کھودو ٗ ہم محتاج ہیں غنی کر دو ۔ ہمارے فلاں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 189–192

گمراہی کے دوسبب : پیشِ نظر رکوع شروع کرنے سے پہلے دو باتیں ذہن نشین کرلینی چاہییں۔ 1 قومیں جن اسباب سے گمراہی کا شکار ہوتی ہیں ان میں کبھی تو یہ سبب ہوتا ہے کہ وہ پیغمبر کی حیثیت اور اس کے مقام کو نہ سمجھنے کے باعث اس پر ایمان لانے سے محروم رہتی ہیں اور اس سے وہ مطالبات کرتی چلی جاتی ہیں جن کا تعلق نبوت سے نہیں ہوتا اس لحاظ سے وہ نبوت اور الوہیت کو خلط ملط کردیتی ہیں۔ پیغمبر ان کے لیے اسوہ حسنہ بن کر آتا ہے اور وہ اسے الوہیت کے مقام پر فائز دیکھنا چاہتی ہیں۔ نتیجہ واضح ہے کہ یہ دونوں چیزیں چونکہ الگ الگ حقیقت رکھتی ہیں اس لیے دونوں کی پہچان کا دارومدار الگ الگ حقیقت کو سمجھنے پر ہے جب قومیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 189–193

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں یہ ثابت کیا گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ مختار کل اور عالم الغیب نہیں۔ مختار کل اور غیب کا علم جاننے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وہی ذات ہے جس نے پہلے انسان کو پیدا کیا اور پھر اس سے اس کی بیوی کو پیدا فرمایا ہے۔ عقیدۂ توحید دین کی روح اور اس کی بنیاد ہے۔ اسے سمجھانے کے لیے قرآن مجید نے کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیزوں سے استدلال کرکے عقیدۂ توحید کو واضح کیا ہے۔ سب سے پہلا توحید کے لیے جو استدلال پیش کیا گیا ہے وہ انسان کی تخلیق کے متعلق ہے۔ پہلی وحی میں فرمایا گیا کہ اس رب کے نام کے ساتھ پڑھیے جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا سورة النساء…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اپنا بچائو نہیں کرسکتے : آیت 192: وَلَایَسْتَطِیْعُوْنَ لَھُمْ نَصْرًا (اور وہ ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے) اپنے عابدین کے لیے وَّ لَآ اَنْفُسَھُمْ یَنْصُرُوْنَ (اور وہ خود اپنی بھی مدد نہیں کرسکتے) کہ جس سے اپنے اوپر آنیوالے حوادث توڑ پھوڑ کا بچائو کرلیں بلکہ ان کے پجاری ان سے یہ حوادث دور کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

192 (ولا یستطیعون لھم نصراً ) یعنی بت اپنا کہنا ماننے والوں کی مدد نہیں کرسکتے (ولا انفسھم ینصرون) حسن (رح) فرماتے ہیں کہ جو کوئی ان کو توڑنا چاہے تو وہ اپنے سے اس کو دور نہیں کرسکتے۔ پھر مئومنین کو خطاب کر کے فرمایا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 191–198

191۔ 198۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے مشرکوں کو یہ تنبیہ فرمائی کہ کیا تم ایسی چیزوں کو معبود ٹھہراتے ہو جن میں کسی شے کے پیدا کرنے کی قدرت نہیں ہے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں اور عبادت تو خالق کارساز کو زیبا ہے مخلوق کسی طرح عبادت کی مستحق نہیں ہے ان بتوں سے تو ہزار درجہ تم بہتر ہو کر تم میں چلنے پھرنے کی طاقت ہے کھاتے پیتے ہو بتوں میں کیا قدرت ہے اگر کوئی آکر ان کے ٹکڑے کر ڈالے تو یہ کیا بچاؤ اپنا کرسکتے ہیں پھر جب اپنا اختیار انہیں نہیں ہے اور اپنے نفع نقصان سے بالکل یہ بیخبر ہیں تو تمہاری کیا مدد کرسکتے ہیں ایک مکھی جس میں کچھ بھی سکت نہیں ہے اگر ان کے پاس سے کوئی کھانے کی چیز لے بھاگے تو ان کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 179–193

آیت 179 اللہ تبارک و تعالیٰ راہ راست سے بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں اور شیطان لعین کے پیروکاروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد ذرانا ) ” اور ہم نے پیدا کیا۔ “ یعنی ہم نے پیدا کیا اور پھیلایا (لجھنم کثیراً من الجن والانس) ” جہنم کے لئے بہت سے جن اور آدمی “ پس چوپائے بھی ان سے بہتر حالت میں ہیں (لھم قلوب لایفقھون بھا) ” ان کے دل ہیں، جن سے وہ سمجھتے نہیں “ یعنی علم اور سمجھ ان تک راہ نہیں پاتے، سوائے ان کے خلاف قیام حجت کے (ولھم اعین لایبصرون بھا) ” ان کی آنکھیں ہیں، جن سے وہ دیکھتے نہیں “ یعنی وہ ان آنکھوں سے اس طرح نہیں دیکھتے کہ دیکھنا ان کے لئے فائدہ مند ہو بلکہ انہوں نے اپنی بینائ کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 189–193

تخلیق انسانی قول باری ہے ھوالذی خالقکم من نفس واحدۃ وجعل منھا زوجھا۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا) ایک قول ہے کہ ہر جان سے اس کا جوڑا بنایا۔ گویا یوں فرمایا ” جان سے اس کا جوڑا بنایا “۔ اور اس سے جنس مراد لیا۔ آیت کی عبارت میں لفظ جنس پوشیدہ ہے۔ ایک قول ہے کہ آدم (علیہ السلام) و حوا (علیہ السلام) سے پیدا کیا۔ قول باری ہے لئن اتیتنا صالحاً ۔ اگر تو نے ہم کو اچھا سا بچہ دیا) حسن کا قول ہے ” ایک صحیح و سالم بچہ “ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” ایک سالم انسان “ اس لئے کہ ماں باپ کو یہ خوف کھائے جاتا تھا کہ کہیں چوپائے کی شکل کی کوئی مخلوق نہ آجائے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

269 جو خود محتاج ہیں وہ دوسروں کی مدد کیا کریں گے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ ان کو خدا کا شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود مخلوق ہیں اور وہ نہ ان کی کوئی مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی کوئی مدد کرسکتے ہیں۔ سو جو خود اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے وہ دوسروں کی کوئی مدد کس طرح کرسکیں گے ؟ اور جو خود موت کے منہ میں چلے گئے اور چلے جائیں گے وہ دوسروں کو کسی آفت سے کیسے بچاسکتے ہیں ؟ افسوس کہ اتنی جلی اور واضح حقیقت بھی کچھ لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی اور وہ ایمان و توحید کے بلند بانگ دعو وں کے باوجود طرح طرح کی شرکیات میں ملوث و مبتلاء ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حضرت خالق ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 189–203

انسان کی حقیقت اور مشرکوں کے طریقے تشریح : یوں تو پورا قرآن پاک ہی ہدایت اور رہنمائی سے بھرا پڑا ہے۔ مگر ان آیات میں خاص طور سے پھر انسان کو اپنی پیدائش کا طریقہ بتایا گیا ہے اور پھر گھریلو زندگی اور پرسکون خاندان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) بغیر باپ اور ماں کے اللہ کی قدرت سے پیدا ہوئے سیدہ سیدنا حوا (علیہا السلام) ان سے پیدا ہوئیں مگر بغیر ماں کے، سیدنا عیسیٰ بغیر باپ کے اور پھر اس کے بعد نسل انسانی ماں اور باپ دونوں کے میاں بیوی بن کر آپس کے ملاپ سے مگر اللہ کی قدرت سے بڑھنی شروع ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ جب میاں اور بیوی میں شادی کا رشتہ بن جاتا ہے تو پھر دونوں ایک دوسرے کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 189–206

رکوع نمبر 24 ۔ آیات 189 ۔ تا۔ 206 جہاں تک علوم غیبیہ اور نفع و نقصان کا تعلق ہے تو یہ اوصاف تو اس ذات حمید کے ہیں جس نے تمہیں ایک وجود یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا اور ایسا کریم ہے کہ انسان کی نسل بقا کے لیے اسی وجود میں سے اس کا جوڑا یعنی حوا کو پیدا فرما کر ان میں باہمی محبت و الفت اور ایک لذت وصال رکھ دی کہ انسان نہ صرف بقائے نسل کا کام کرے بلکہ ایک دوسرے سے انس اور روحت بھی حاصل کریں۔ یہ اس کے احسانات ہیں۔ مگر انسانوں کا یہ حال ہے کہ مرد و عورت جمع ہوئے اور حمل قرار پا گیا اب خالق کو اس کا علم ہے جس کی پشت میں تھا وہ بیخبر رہا جس کے پیٹ میں پہنچا اسے پتہ نہیں بغیر کسی پرواہ کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 191–192

ف 10 اس سلسلئہ کلام سے مقصود بتوں کی تردید ہے کہ ان میں الو ہیت کی کوئی صفت بھی موجود نہیں مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ان کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے بھی کر ڈالے تو بھی وہ اپنے آپ کو نہیں بچا سکتے یا یہ نہ تو اپنے خدمت گاروں کو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ اپنے مخالفین ہی کو مضرت تو پھر ان کی پو جا کیوں ؟ ( رازی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:192) لا یستطیعون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب (باب استفعال ) وہ استطاعت نہیں رکھتے۔ وہ قدرت نہیں رکھتے۔ وہ طاقت نہیں رکھتے۔ طوع مادہ۔ لہم میں ہم کا مرجع مشرکین ہیں اور انفسہم میں ضمیر ہم وہ بت ہیں جن کو مشرکین نے اللہ کا شریک بنایا ہوا تھا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 191–198

لغات القرآن ۔ لا یخلق۔ پیدا نہیں کیا۔ لا یتبعوکم۔ وہ تمہاری پیروی نہ کریں گے۔ صامتون۔ چپ رہنے والے۔ عباد۔ (عبد) ۔ بندے۔ فلیستجیبوا۔ پھر چاہیے کہ وہ کہا مانیں۔ ارج۔ (رجل) ۔ پاؤں۔ یمشون۔ وہ چلتے ہیں۔ یبطشون۔ وہ پکڑتے ہیں۔ کیدون۔ تم میرے خلاف تدبیریں کرو۔ لا تنظرون۔ مجھے مہلت نہ دو ۔ ولی اللہ۔ میرا حمایتی اللہ ہے۔ یتولی۔ وہ سنھالتا ہے۔ تشریح : سورة الاعراف چونکہ ختم پر ہے چناچہ اس سورت کی تمام باتوں کو شرک کی نفی میں مختصر جملوں میں سمیٹ دیا گیا ہے۔ اور یاددھانی کے طور پر ان کا نچوڑ پیش کردیا گیا ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ کو بھی ضروری ہدایات دی جا رہی ہیں۔ یہ سورة مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی جس سے اندازہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 192–199

اس آیت میں صلہ رحمی اور لوگوں سے نرمی کے ساتھ پیش آنے اور غصہ کے وقت اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے کا ذکر ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھنے سے آدمی کا غصہ اتر جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 191–194

[78] عرب جن بتوں کو پوجتے تھے وہ ان کے گمان کے مطابق فرشتوں، جنوں اور گزرے ہوئے صالحین انسانوں کے بت تھے، اس وجہ سے فرمایا کہ وہ تمہارے ہی جیسے بندے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 189–197

(ف 1) عام مفسرین نے یہاں یہ قصہ بیان کیا ہے کہ حواء جب حاملہ ہوئیں ، تو شیطان ان کے پاس آیا اور کہنے لگا جانتی ہو ، اب کیا ہوگا ، تیرے پیٹ سے جانور پیدا ہوگا ، اور خدا جانے کس تکلیف کے انداز میں پیدا ہو ، یا انسانی بچہ پیدا ہو تو ناقص ہو ، میں اللہ کا مقرب ہوں ، اگر میری مانو اور ہونے والے بچے کا نام عبدالحارث رکھو ، تو کوئی اندیشہ نہیں ، حواء اس پر راضی ہوگئیں ، اور بچے کا نام عبدالحارث رکھا ، جو شیطان کا نام ہے ، یہ آیت اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے ، مگر یہ واقعہ حقیقت درست نہیں کیونکہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ خدا کا پیغمبر دوبارہ شیطان کے دھوکے میں آگیا ، حالانکہ مرد مومن بھی دو دفعہ دھوکا نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

192 اور ان معبودان ِ باطلہ کی حالت یہ ہے کہ وہ نہ ان مشرکوں کی کچھ مدد کرسکتے ہیں اور نہ وہ خود اپنی ہی کوئی مدد کرسکتے ہیں یعنی غیروں کی مدد تو کیا کریں گے خود اپنی بھی مدد نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 190–192

ف 5۔ یہاں تک تو اللہ تعالیٰ کی صفات مذکور تھیں جو مقتضی ہیں اس کے استحقاق معبودیت کو آگے آلہہ باطلہ کے نقائص کا ذکر ہے جو مقتضی ہیں ان کے عدم استحقاق معبودیت کو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان میں نہ کسی کی مدد کی طاقت ہے اور نہ ہی وہ اپنی ذات کی مدد کرسکتے ہیں : 220: مطلب یہ ہے کہ پیدا کرنا تو ایک بہت بڑا کام ہے وہ تو کسی کی مدد بھی نہیں کرسکتے اور کسی کا مشکل کشا ہونا بھی اس کے مقابلہ میں بڑی بات ہے کہ انسان اپنی مدد کرے یہ اپنی ہی ہر حاجت پوری کرسکے فرمایا ان میں تو اتنی بھی طاقت نہیں کہ وہ کسی دوسرے کی بجائے اپنی ہی مدد کرسکیں وہ تو اپنی مدد کے لئے بھی اللہ کے محتاج ہیں تو پھر جو ان کی احتیاج کو پورا کرتا ہے وہ سارے انسانوں کی احتیاجوں کو بھی پورا کرنے والا ہے ۔ پھر افسوس ہے کہ اصل حاجت روا اور مشکل کشا کو چھوڑ کر ایسی بےبس ہستیوں کو معبود کے درجہ پر رکھا جائے ۔ مختصر یہ کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 190–193

In short, all the above acts or beliefs are different forms of 'Shirk' ~,. and the worst kind of ungratefulness to Allah, their Lord. The last sentence of this verse confirms misguidance of such people by saying: فَتَعَالَى اللَّـهُ عَمَّا يُشْرِ‌كُونَ "So far beyond is Allah than what they associate with Him." The above interpretation of this verse has made it clear that by referring to the Prophet 'Adam and Hawwa' (Eve) (علیہما السلام) in the first sentence of this verse, the children of 'Adam have been asked to follow him and show their gratefulness to Allah, while the rest of the verse…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 191–193

147. As to the false gods set up by the polytheists, what is the extent of their power? Not only, do they not have the power to guide others, they do not even have the power to follow others or even to answer the call of their devotees.

Read the full tafseer →