Al-A'raaf 7:193

Al-A'raaf · from ayah 193

7:193

وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَی الْهُدٰی لَا یَتَّبِعُوْكُمْ ؕ— سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ۟وَاِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ اِلَى الۡهُدٰى لَا يَتَّبِعُوۡكُمۡ‌ ؕ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ اَدَعَوۡتُمُوۡهُمۡ اَمۡ اَنۡـتُمۡ صٰمِتُوۡنَ

اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں۔ تمہارے لیے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے ہو رہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if you [believers] invite them to guidance, they will not follow you. It is all the same for you whether you invite them or you are silent.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 24 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:193

اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں، تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی رہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں۔ تمہارے لیے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے ہو رہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اگر تم ان کو کوئی بات بتلانے کو پکارو تو تمہارے کہنے پر نہ چلیں تمہارے اعتبار سے دونوں امر برابر ہیں خواه تم ان کو پکارو یا تم خاموش رہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر تم انہیں کسی صحیح راستے کی طرف دعوت دو تو وہ تمہاری بات نہ مانیں، (بلکہ) تم انہیں پکارو یا خاموش رہو، ان کے لیے دونوں باتیں برابر ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر تم انہیں راہ کی طرف بلاؤ تو تمہارے پیچھے نہ آئیں تم پر ایک سا ہے چاہے انہیں پکارو یا چپ رہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر تم ان کو (راہِ) ہدایت کی طرف بلاؤ تو تمہاری پیروی نہ کریں گے۔ تمہارے حق میں برابر ہے خواہ تم انہیں (حق و ہدایت کی طرف) بلاؤ یا تم خاموش رہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر تم انھیں سیدھے راستے کی طرف بلاؤ تو وہ تمہارے پیچھے نہیں آئیں گے، تم پر برابر ہے کہ تم نے انھیں بلایا ہو، یا تم خاموش ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر تم انہیں راہ راست کی طرف بلاؤ تو تمہاری پیروی نہیں کریں گے۔ تم انہیں بلاؤ یا خاموش رہو، تمہارے لیے ایک ہی بات ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر تم ان کو رہنمائی کے لیے پکارو وہ تمہارے ساتھ نہ لگیں گے، یکساں ہے، خواہ تم ان کو پکارا یا تم خاموش رہو ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر تم انہیں سیدھی راہ کی طرف بلاؤ تو وہ تمہارے کہنے پر نہ چلیں، برابر ہے تمہارے حق میں کہ خواہ تم انہیں پکارو یا تم خاموش ہو (وہ بہرحال سننے ماننے کے نہیں)

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر تم انہیں کوئی بات بتلانے کو پکارو تو تمہاری پیروی نہ کرسکیں برابر ہیں (دونوں امر) تمہارے اعتبار سے کہ خواہ انہیں پکارو خواہ خاموش رہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر تم انہیں پکارو راہنمائی کے لیے (کہ تمہیں راستہ دکھا دیں) تو وہ تمہاری طرف توجہ ہی نہیں کرسکیں گے برابر ہے تمہارے لیے کہ تم انہیں پکارو یا خاموش رہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر تم ان کو سیدھے راستے کی طرف بلائو تو تمہارا کہا نہ مانیں۔ تمہارے لیے برابر ہے تم ان کو بلائو یا خاموش رہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And if you call them to true guidance, they will not follow you. It is all the same for you whether you call them to true guidance or keep silent.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If you call them to the right path, they will not follow you. It is all the same for them whether you call them or remain silent.

— Muhammad Taqi Usmani

If you call them to the right path, they will not follow you. It is all the same for them whether you call them or remain silent.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And if you call them to guidance, they follow you not. It is the same for you whether you call them or you keep silent.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if ye call them to the Guidance, they follow you not. Whether ye call them or are silent is all one for you.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if you [believers] invite them to guidance, they will not follow you. It is all the same for you whether you invite them or you are silent.

— Saheeh International

Believers, even if you invite them to true guidance, they will not follow you. It makes no difference whether you invite them or whether you keep quiet.

— Muhammad Sarwar

And if you invite them to guidance, they will not follow you; it is the same to you whether you invite them or you are silent.

— Muhammad Habib Shakir

And if ye call them toward guidance they follow you not: it is the same to you whether ye call them or are silent.

— Abdul Majid Daryabadi

If ye call them to guidance, they will not obey: For you it is the same whether ye call them or ye hold your peace!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:193

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 191–198

انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو بوجتے ہیں وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں وہی ان کا پالنے والا ہے وہ بالکل بےاختیار ہیں کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا تندرست اور اجھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں کان بھی ہیں یہ بیوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ لوگو آؤ ایک لطیف مثال سنو تم جنہیں پکار رہے ہو یہ سارے ہی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 191–193

سورة الْاَعْرَاف 147 یعنی ان مشرکین کے معبود ان باطل کا حال یہ ہے کہ سیدھی راہ دکھانا اور اپنے پرستاروں کی رہنمائی کرنا تو درکنار، وہ بیچارے تو کسی رہنما کی پیروی کرنے کے قابل بھی نہیں، حتیٰ کہ کسی پکارنے والے کی پکار کا جواب تک نہیں دے سکتے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 190–193

تیسری آیت کے آخر میں ان لوگوں کی بےراہی اور کجروی کو واضح کرنے کیلئے فرمایا (آیت) فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ، یعنی پاک ہے اللہ تعالیٰ اس شرک سے جس کو ان لوگوں نے اختیار کیا۔ آیات مذکورہ کی اس تفسیر سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اس آیت کے پہلے جملہ میں حضرت آدم و حواء کا ذکر کرکے اولاد آدم کو ان کے اتباع اور شکر گزری کی تعلیم دی گئی ہے، اور آخری جملوں میں بعد کی آنے والی اولاد آدم کی گمراہی اور کجروی کا بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے بجائے شکر گزاری کے شرک کو اختیار کرلیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ شرک اختیار کرنے والوں کے معاملہ کا تعلق حضرت آدم و حواء سے مطلق نہیں جس کے سبب حضرت آدم ؑ کی عصمت پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ۔ مطلب یہ ہے کہ معبود سے عابد کی سب سے بڑی احتیاج تو یہ ہوتی ہے کہ وہ زندگی کے ہر مرحلہ میں رہنمائی فرماتا ہے لیکن تم جن معبودوں کو پوجتے ہو اگر تم ان کو زندگی کے کسی موڑ پر پکارو کہ وہ تمہاری رہنمائی کریں تو نہ وہ سنیں گے اور نہ تمہاری رہنمائی کے لیے تمہارے ساتھ لگیں گے۔ لفظ اتباع، یہاں اپنے ابتدائی لغوی مفہوم میں ہوگا۔ اتبع، مشی خلفہ، مضی معہ، لحقہ، اس کے پیچھے چلا اس کے ساتھ ہو لیا، اس کو جا پہنچا۔ آگے اس مضمون کی وضاحت یوں ہوئی ہے۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

193۔ 1 یعنی تمہاری بتلائی ہوئی بات پر عمل نہیں کریں گے۔ ایک دوسرا مفہوم یہ ہے اگر تم ان سے رشدو ہدایت طلب کرو تو وہ تمہاری بات نہیں مانیں گے۔ نہ تمہیں کوئی جواب دیں گے (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 189–194

97:”ایک جان“ سے مراد حضرت آدم ؑ ہیں، اور ان کی بیوی سے مراد حضرت حواء (علیہما السلام) 98: اب یہاں سے حضرت آدم ؑ کی ایسی اولاد کا ذکر ہورہا ہے جس نے بعد میں شرک کا راستہ اختیار کیا

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 189–198

تفسیر آیات 189 تا 198:۔ عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 192–195

1 جن بتوں کو تم نے معبود ٹھہرایا ہے اور خدائی کا حق دیا ہے، وہ تمہارے کام تو کیا آتے، خود اپنی حفاظت پر بھی قادر نہیں اور باوجود مخلوق ہونے کے ان کمالات سے محروم ہیں جن سے کسی مخلوق کو دوسری پر تفوق و امتیاز حاصل ہوسکتا ہے۔ گو ان کے ظاہری ہاتھ پاؤں، آنکھ، کان سب کچھ تم بناتے ہو، لیکن ان اعضاء میں وہ قوتیں نہیں جن سے انہیں اعضاء کہا جاسکے۔ نہ تمہارے پکارنے پر مصنوعی پاؤں سے چل کر آسکتے ہیں، نہ ہاتھوں سے کوئی چیز پکڑ سکتے ہیں، نہ آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں، نہ کانوں سے کوئی بات سنتے ہیں۔ اگر پکارتے پکارتے تمہارا گلا پھٹ جائے گا تب بھی وہ تمہاری آواز سننے والے اور اس پر چلنے والے یا اس کا جواب دینے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 192–193

آیت 192 وَلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ لَہُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَہُمْ یَنْصُرُوْنَ ۔ وہ تو سب کے سب خود اللہ کے بندے ہیں۔ اب یہاں بات تدریجاً بتوں کی طرف لائی جا رہی ہے۔ نظریاتی طور پر تو ان کے فلسفی بت پرستی کا جواز یہ بتاتے ہیں کہ وہ ان پتھر کے بتوں کی پوجا نہیں کرتے بلکہ ان مورتیوں کی حیثیت علامتی ہے۔ اصل دیوتا اور دیویاں چونکہ ہمارے سامنے موجود نہیں ہیں اس لیے ان کے بارے میں توجہ کے ارتکاز کے لیے ہم بتوں کو علامت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ اس فلسفہ کا خلاصہ ہے جو انڈیا کے ڈاکٹر رادھا کرشنن وغیرہ بیان کرتے رہے ہیں ‘ مگر ان کے عوام تو ان بتوں ہی کو معبود مانتے ہیں ‘ ان ہی کی پوجا کرتے ہیں ‘…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 192–193

191 محتاج الٰہ نہیں ہوسکتا :۔ یعنی ایک تو اللہ کی جاندار مخلوق ہے جسے تم الٰہ بناتے ہو جیسے فرشتے یا انبیاء و اولیاء وغیرہ جنہیں حاجت روا اور مشکل کشا تصور کیا جاتا ہے یا کیا جاتا رہا ہے یہ بھی الٰہ نہیں ہوسکتے تو پھر جو تم پتھر کے بت بنا کر اور انہیں خدائی کا درجہ دے کر ان کی پوجا پاٹ شروع کردیتے ہو وہ کیسے الٰہ ہوسکتے ہیں وہ تو اپنے منہ سے مکھی بھی نہیں اڑا سکتے وہ تمہاری مدد کیا کریں گے ؟ اور تمہاری کیا رہنمائی کریں گے کہ اگر تم خود انہیں راہ کی طرف بلاؤ تو وہ آ بھی نہیں سکتے تم انہیں بلاؤ یا نہ بلاؤ ایک ہی بات ہے کیونکہ وہ تو حرکت کر ہی نہیں سکتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

285 ۔ (آیت) ” تدعوھم الی الھدی “۔ کے ایک معنی تو یہی ہیں کہ اگر تم انہیں اس غرض سے پکارو کہ یہ تمہیں کوئی راہ بتلائیں تو تمہارا کہنا یہ نہ کرسکیں۔ یعنی راہ نہ بتلا سکیں۔ اور دوسرے معنی یہ ہوسکتے ہیں کہ اگر تم انہیں اس لئے پکارو کہ تم انہیں راہ دکھلادو تو یہ تمہارے کہنے پر نہ چلیں یعنی ہدایت پر عمل نہ کرسکیں۔ (آیت) ” تدعوھم “۔ میں خطاب مشرکین سے ہے اور ضمیر ھم اصنام کی جانب ہے۔ قیل الخطاب للمشرکین وھم ضمیر الاصنام (بیضاوی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 189–206

آیت نمبر 189 تا 206 ترجمہ : وہ یعنی اللہ ہی ہے جس نے تم کو ایک جان یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا حوّاء کو پیدا کیا تاکہ اس سے سکون حاصل کرے اور اس سے الفت کرے، چناچہ جب اس کو ڈھانپ لیا یعنی اس سے مجامعت کی، اگر اس کو ہلکا سا حمل رہ گیا، اور اس بات سے خوفزدہ ہوئے کہ وہ (حمل) کوئی جانور نہ ہو تو انہوں نے اپنے رب اللہ سے دعاء کی، اگر آپ ہمیں نیک صحیح سالم بچہ عطا فرمائیں تو ہم اس پر آپ کے شکر گذار ہوں گے، چناچہ جب ان کو صحیح سالم اولاد دیدی تو دونوں (بیوی) نے (اللہ کے) عطا کردہ بچے کا نام عبدالحارث رکھ کر خدا کا شریک قراردیدیا، اور ایک قراءت میں شین کے کسرہ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان تدعو ہم الی الہدی لا یتعبوکم سوآء علیکم ادعوتموہم ام انتم صامتون : اور اگر تم ان کو راہ راست کی طرف بلاؤ تو تمہارے کہنے پر نہیں چلتے تمہارے اعتبار سے دونوں امر برابر ہیں خواہ تم ان کو پکارو یا خاموش رہو۔ سواء علیکم ادعوتموہم ام انتم صامتون بجائے (صمتم) فعل کے (صامتون) اسم فاعل ذکر کیا یا تو صرف آیات کے مقاطع کے لحاظ سے یا غیر مفید ہونے کو پُر زور طور پر ظاہر کرنے کے لئے کہ تمہارا ان کو پکارا بھی خاموش رہنے کے برابر بےسود ہے (نہ پکارنے سے تم کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے نہ خاموش رہنے سے) یا اسلوب ادا کو بدلنے کی یہ وجہ ہے کہ (فعل حدوث و تجدد پر دلالت کرتا ہے اور اسم دوام و استمرار پر اور)…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(193) اے محمد ﷺ ! اگر آپ کافروں کی توحید کی طرف دعوت دیں تو یہ آپ کی بات کو نہیں مانیں گے اور یہ کافر اس بات سے خاموش ہیں یا یہ کہ اے منکروں کی جماعت اگر تم ان بتوں کو ہدایت کی طرف بلاؤ تو یہ تمہاری بات کا جواب نہیں دیں گے، خواہ ان کو بلاؤ یا خاموش رہو وہ کسی قسم کا جواب نہیں دیں گے اور نہ ہی تمہاری پکار کو سنیں گے کیوں کہ یہ مردہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ۔۔ : اوپر کی آیات میں بتوں سے ہر قسم کی قدرت کی نفی تھی، اب ان سے ہر طرح کے علم کی نفی کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بت، جن کی یہ پوجا کر رہے ہیں، ان میں نہ تو نفع و نقصان پہنچانے کی قدرت ہے، نہ سننے یا دیکھنے یا کسی اور طرح سے تمہاری حالت سے باخبر ہونے کی۔ (دیکھیے مریم : 42) پھر تم کتنے احمق ہو کہ ان سے امید رکھتے ہو کہ تمہیں سیدھے راستے پر لگائیں گے، یا تم انھیں سیدھے راستے پر چلنے کی دعوت دو گے تو تمہارے پیچھے چلے آئیں گے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ تم ان کے لیے کسی کام کے ہو نہ وہ تمہارے لیے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 192–193

آیت نمبر : 192 قولہ تعالیٰ : آیت : وان تدعوھم الی الھدی لا یتبعوکم اخفش نے کہا ہے : اگر تم بتوں کو ہدایت کی طرف بلاو تو وہ تمہاری پیروی نہ کریں گے۔ آیت : سواء علیکم ادعوتموھم ام انتم صامتون احمد بن یحییٰ نے کہا ہے : کیونکہ یہ راس الآیہ ہے، مراد یہ ہے کہ فرمایا : ام انتم صامتون اور یہ نہیں فرمایا : ام صمتم اور صامتون اور صمتم سیبویہ کے نزدیک ای ہی معنی میں ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : اس سے مراد وہ ہیں جن کے بارے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ آیت : لا یتبعوکم کو مشدد اور مخفف دونوں طرح پڑھا گیا ہے یہ دونوں لغتیں ہم معنی ہیں۔ اور بعض اہل لغت نے کہا ہے : اتبعہ جب مخفف ہو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 189–193

(1) امام احمد، ترمذی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور ھاکم نے (ترمذی نے اس کو حسن اور حاکم نے صحیح کہا) سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب حواء کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اس کے گرد ابلیس گھوما اور لڑکا زندہ نہیں رہتا تھا شیطان نے کہا اس کا نام عہد الحارث رکھ دو ۔ تو وہ زندہ رہے گا تو انہوں نے اس کا نام عبد الحارث رکھ دیا تو وہ زندہ رہا۔ تو یہ شیطان کے الہام میں سے تھا اور اس کو حکم تھا۔ (2) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن مردویہ نے سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فلما اتھا صالحا جعلا لہ شرکاء “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اس (لڑکے) کا نام عبد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِنْ : اور اگر ] [ تَدْعُوْهُمْ : تم لوگ پکارو گے ان کو ] [ اِلَى الْهُدٰى: ہدایت کی طرف ] [ لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ: تو وہ پیروی نہیں کریں گے تمہاری ] [ سَوَاۗءٌ: برابر ہے ] [ عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ : خواہ تم لوگ پکاروان کو ] [ اَمْ : یا ] [ اَنْتُمْ : تم لوگ ] [ صَامِتُوْنَ : خاموش رہنے والے ہو ] ص م ت ۔ (ن) : صمتا ۔ خاموش رہنا ۔ صامت ۔ اسم الفاعل ہے۔ خاموش رہنے والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 193 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 191–198

معبود ان باطلہ نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں نہ عبادت گزاروں کی مدد کرسکتے ہیں اوپر کی آیت میں اولاد کے سلسلہ میں شرک اختیار کرنے کا ذکر تھا ان آیات میں بھی مشرکین کو تنبیہ فرمائی ہے اور شرک اختیار کرنے میں جو انہوں نے حماقت کی ہے اسے بیان فرمایا ہے، اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے اسی نے سب کچھ پیدا فرمایا جس نے سب کچھ پیدا فرمایا وہی عبادت کے لائق ہے جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود اپنے خالق جل مجدہ کی مخلوق ہیں وہ کیسے عبادت کے مستحق ہوگئے ؟ مشرکین کا یہ طریقہ ہے کہ جب غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں تو یہ سمجھ کر کرتے ہیں کہ یہ آڑے وقت میں ہماری مدد کریں گے یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 189–202

اثبات توحید وابطال شرک قال اللہ تعالیٰ ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ثم لا یقصرون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور کمال علم و حکمت کا ذکر تھا کہ وہی ہر نفع اور ضرر کا مالک ہے اور وہی عالم الغیب ہے اور شروع سورت میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہا السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اب سورت قریب الختم ہے اس لیے حضرت آدم اور حوا کا قصہ اجمالی طور پر دوبارہ ذکر فرماتے ہیں جس سے مقصود توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال ہے اگرچہ گزشتہ آیات میں بھی توحید خداوندی کا مختصر سا ذکر ہوا ہے لیکن ان آیات میں اس مضمون کو قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہی اللہ ہے جس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 191–193

186: مشرکین کی انتہائی کم عقلی اور ہٹ دھرمی کا ذکر فرمایا کہ وہ کیسی عاجز مخلوق کو خدا کے ساتھ شریک بناتے ہیں وہ اس قدر عاجز و لاچار ہیں کہ اپنی مدد نہیں کرسکتے تو ان کی کیا مدد کریں گے۔ “ وَ اِنْ تَدْعُوْھُمْ اِلَی الْھُدٰي الخ ” خطاب مشرکین سے ہے اور اس میں ان کے معبودوں کی انتہائی بےبسی کا بیان ہے۔ یعنی تمہاری مدد کرنا تو درکنار وہ تو تمہاری بات کا جواب بھی نہیں دے سکت۔ ان میں اتنی قدرت ہی نہیں۔ “ والمعنی ان ھذا المعبود الذي یعبدہ المشرکون معلوم من حاله انه کما لا ینفع ولا یضر فکذا لا یصح فیه اذا دعی الی الخیر الاتباع ” (کبیر ج 4 ص 492) یا خطاب آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام سے ہے اور “ اَلْھُدٰي…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 191–195

ربط آیات گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اولین انسان اور اس کے جوڑے کی پیدائش کا تذکرہ فرمایا اور اس پیدائش کی غرض وغایت بھی بیان فرمائی پھر انسان کے شرک میں مبتلا ہونے کی مثال بیان فرمائی کہ میاں بیوی کی مقاربت سے ہلکا سا حمل ٹھہرتا ہے جب یہ بڑھتا ہے تو میاں بیوی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحیح سلامت ، صحت مند بچہ عطا فرمائے پھر جب بچہ کی پیدائش ٹھیک طریقے سے ہوجاتی ہے تو اللہ کے ساتھ شریک بنانے لگتے ہیں اول تو بچے کا نام ہی شرکیہ رکھتے ہیں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کی بجائے غیروں کی طرف منسوب کرتے ہیں حالانکہ اس کی پیدائش ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنْ تَدْعُوْہُمْ اِلَى الْہُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ۝ 0 ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْہُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ۝ 193 تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے سواء ومکان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 188–193

ترکیب : الاماشاء اللّٰہ استثناء ہے جنس سے ولوکنت شرط لا ستکثرت جواب وما نا فیہ مسنی الخ معطوف ہے لا ستکثرت پر تتّمہ جواب ہے جعل بمعنی خلق زوجہا اس کا مفعول فلما تغشاھا شرط حملت الخ جواب فمرت بہ تشدید راء سے پڑھا جاوے گا تو مرور سے مشتق ہوگا اور بالتخفیف والالف مارت من المور وھوالذہاب والبحئی فلما آتاھما الخ شرط جعلالہ جواب شرکاء جمع شریک مفعول جعلا فیما آتاھما جار متعلق فعل سے۔ تفسیر : دوسرا شبہ : دوسرا شبہ منکرین کا آنحضرت (علیہ السلام) کی نبوت پر یہ تھا کہ اگر آپ نبی برحق ہیں تو ہمارے کہنے کے موافق کیوں ہمارے دنیاوی مضرات دور نہیں کردیتے ٗ قحط کھودو ٗ ہم محتاج ہیں غنی کر دو ۔ ہمارے فلاں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد ہوتا ہے : وَاِنْ تَدْعُوْھُمْ اِلَی الْھُدٰی لَا یَتَّبِعُوْکُمْ سَوَآئٌ عَلَیْکُمْ اَدَعَوْتُمُوْھُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ (الاعراف : 193) اگر تم ان کو راہنمائی کے لیے پکارو تو وہ تمہارے پیچھے نہیں چلیں گے خواہ تم ان کو پکارو یا خاموش رہو۔ بت پرستی پر تنقید مخلوقات میں سے اللہ تعالیٰ نے جسے بھی خلق فرمایا ہے اس کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے لیے زندگی گزارنے کا طریقہ کیا ہے اور یہ ضرورت ایسی ہے جس میں انسان کی تخصیص نہیں بلکہ ہر مخلوق اس ضرورت کی پوری طرح محتاج ہے۔ البتہ ! یہ ضرور ہے کہ انسان اس ضرورت کے حوالے سے دوسری مخلوقات کی نسبت کچھ زیادہ ہی محتاج…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 189–193

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں یہ ثابت کیا گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ مختار کل اور عالم الغیب نہیں۔ مختار کل اور غیب کا علم جاننے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وہی ذات ہے جس نے پہلے انسان کو پیدا کیا اور پھر اس سے اس کی بیوی کو پیدا فرمایا ہے۔ عقیدۂ توحید دین کی روح اور اس کی بنیاد ہے۔ اسے سمجھانے کے لیے قرآن مجید نے کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیزوں سے استدلال کرکے عقیدۂ توحید کو واضح کیا ہے۔ سب سے پہلا توحید کے لیے جو استدلال پیش کیا گیا ہے وہ انسان کی تخلیق کے متعلق ہے۔ پہلی وحی میں فرمایا گیا کہ اس رب کے نام کے ساتھ پڑھیے جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا سورة النساء…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اگر بتوں کو پکارو و ُ ہ اس پکار تک نہ نہ پہنچ سکیں : آیت 193: وَاِنْ تَدْعُوْھُمْ (اور اگر تم ان کو پکارو) اگر تم ان بتوں کو بلائو اِلَی الْھُدٰی (بات بتلانے کیلئے) جو کہ ہدایت ورشد ہے نمبر 2۔ اس بات کے لیے کہ تمہاری راہنمائی کردیں یعنی تم ان سے خیر و ہدایت اسی طرح طلب کرو۔ جیسا اللہ تعالیٰ سے طلب کرتے ہو۔ لَا یَتَّبِعُوْکُمْ (وہ تمہارے کہنے پر نہ چلیں گے) یعنی تمہاری مراد اور طلب کی طرف وہ تمہیں جواب نہیں دے سکتے۔ جیسے اللہ تعالیٰ تمہیں جواب دیتے ہیں۔ قراءت : لایتبعوکم نافع نے پڑھا ہے۔ سَوَآ ئٌ عَلَیْکُمْ اَدَعَوْ تُمُوْھُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ (تمہارے لحاظ سے دونوں امر برابر ہیں خواہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

193 (وان تدعوھم الی الھدیٰ ) اگر تم مشرکین کو اسلام کی طرف بلائو (لایتبعو کم) نافع (رح) نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی طرح ” یتبعھم الغارون “ شعراء میں پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے دونوں میں شد کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دونوں فصیح لغتیں ہیں۔ کہا جاتا ہے ” تبعہ تبعا واتبعہ اتباعا “ (سوآء علیکم ادعو تموھم ام انتم صامتون) ان کو پکارنے سے وہ ایمان نہ لائیں گے۔ جیسا کہ فرمایا ہے ” سواء علیھم انذرتھم ام لم تنذرھم لایئومنون “ اور بعض نے کہا ہے کہ اگر تم ان بتوں کو ہدایت کی طرف بلائو تو وہ تمہاری پیروی نہ کریں گے اس لئے کہ وہ عقل نہیں رکھتے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 191–198

191۔ 198۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے مشرکوں کو یہ تنبیہ فرمائی کہ کیا تم ایسی چیزوں کو معبود ٹھہراتے ہو جن میں کسی شے کے پیدا کرنے کی قدرت نہیں ہے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں اور عبادت تو خالق کارساز کو زیبا ہے مخلوق کسی طرح عبادت کی مستحق نہیں ہے ان بتوں سے تو ہزار درجہ تم بہتر ہو کر تم میں چلنے پھرنے کی طاقت ہے کھاتے پیتے ہو بتوں میں کیا قدرت ہے اگر کوئی آکر ان کے ٹکڑے کر ڈالے تو یہ کیا بچاؤ اپنا کرسکتے ہیں پھر جب اپنا اختیار انہیں نہیں ہے اور اپنے نفع نقصان سے بالکل یہ بیخبر ہیں تو تمہاری کیا مدد کرسکتے ہیں ایک مکھی جس میں کچھ بھی سکت نہیں ہے اگر ان کے پاس سے کوئی کھانے کی چیز لے بھاگے تو ان کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 179–193

آیت 179 اللہ تبارک و تعالیٰ راہ راست سے بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں اور شیطان لعین کے پیروکاروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد ذرانا ) ” اور ہم نے پیدا کیا۔ “ یعنی ہم نے پیدا کیا اور پھیلایا (لجھنم کثیراً من الجن والانس) ” جہنم کے لئے بہت سے جن اور آدمی “ پس چوپائے بھی ان سے بہتر حالت میں ہیں (لھم قلوب لایفقھون بھا) ” ان کے دل ہیں، جن سے وہ سمجھتے نہیں “ یعنی علم اور سمجھ ان تک راہ نہیں پاتے، سوائے ان کے خلاف قیام حجت کے (ولھم اعین لایبصرون بھا) ” ان کی آنکھیں ہیں، جن سے وہ دیکھتے نہیں “ یعنی وہ ان آنکھوں سے اس طرح نہیں دیکھتے کہ دیکھنا ان کے لئے فائدہ مند ہو بلکہ انہوں نے اپنی بینائ کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 189–193

تخلیق انسانی قول باری ہے ھوالذی خالقکم من نفس واحدۃ وجعل منھا زوجھا۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا) ایک قول ہے کہ ہر جان سے اس کا جوڑا بنایا۔ گویا یوں فرمایا ” جان سے اس کا جوڑا بنایا “۔ اور اس سے جنس مراد لیا۔ آیت کی عبارت میں لفظ جنس پوشیدہ ہے۔ ایک قول ہے کہ آدم (علیہ السلام) و حوا (علیہ السلام) سے پیدا کیا۔ قول باری ہے لئن اتیتنا صالحاً ۔ اگر تو نے ہم کو اچھا سا بچہ دیا) حسن کا قول ہے ” ایک صحیح و سالم بچہ “ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” ایک سالم انسان “ اس لئے کہ ماں باپ کو یہ خوف کھائے جاتا تھا کہ کہیں چوپائے کی شکل کی کوئی مخلوق نہ آجائے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

270 حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ ہی ہے : سو اللہ کے سوا کسی کو بھی مافوق الاسباب اور خرق عادت کے طور پر حاجت روائی اور مشکل کشائی کیلئے پکارنا پرلے درجے کی حماقت ہے کہ وہ سننے والے ہی نہیں ہیں کہ ان کے اندر اس کی اہلیت اور صلاحیت ہی نہیں۔ تو پھر ان کو حاجت روا و مشکل کشا ماننا کس قدر حماقت اور کیسی بلادت ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان میں سے جو لکڑی پتھر وغیرہ کے خود ساختہ اور من گھڑت بت ہیں ان میں تو ایسی کوئی صلاحیت سرے سے تھی ہی نہیں۔ اور ہوسکتی ہی نہیں کہ وہ کسی کی بات کو سن سکیں۔ رہیں وہ زندہ اور بزرگ ہستیاں جو اپنی زندگی میں دوسروں کی بات سنتے تھیں، اپنی موت کے بعد وہ بھی اس قابل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 189–203

انسان کی حقیقت اور مشرکوں کے طریقے تشریح : یوں تو پورا قرآن پاک ہی ہدایت اور رہنمائی سے بھرا پڑا ہے۔ مگر ان آیات میں خاص طور سے پھر انسان کو اپنی پیدائش کا طریقہ بتایا گیا ہے اور پھر گھریلو زندگی اور پرسکون خاندان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) بغیر باپ اور ماں کے اللہ کی قدرت سے پیدا ہوئے سیدہ سیدنا حوا (علیہا السلام) ان سے پیدا ہوئیں مگر بغیر ماں کے، سیدنا عیسیٰ بغیر باپ کے اور پھر اس کے بعد نسل انسانی ماں اور باپ دونوں کے میاں بیوی بن کر آپس کے ملاپ سے مگر اللہ کی قدرت سے بڑھنی شروع ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ جب میاں اور بیوی میں شادی کا رشتہ بن جاتا ہے تو پھر دونوں ایک دوسرے کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 189–206

رکوع نمبر 24 ۔ آیات 189 ۔ تا۔ 206 جہاں تک علوم غیبیہ اور نفع و نقصان کا تعلق ہے تو یہ اوصاف تو اس ذات حمید کے ہیں جس نے تمہیں ایک وجود یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا اور ایسا کریم ہے کہ انسان کی نسل بقا کے لیے اسی وجود میں سے اس کا جوڑا یعنی حوا کو پیدا فرما کر ان میں باہمی محبت و الفت اور ایک لذت وصال رکھ دی کہ انسان نہ صرف بقائے نسل کا کام کرے بلکہ ایک دوسرے سے انس اور روحت بھی حاصل کریں۔ یہ اس کے احسانات ہیں۔ مگر انسانوں کا یہ حال ہے کہ مرد و عورت جمع ہوئے اور حمل قرار پا گیا اب خالق کو اس کا علم ہے جس کی پشت میں تھا وہ بیخبر رہا جس کے پیٹ میں پہنچا اسے پتہ نہیں بغیر کسی پرواہ کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 اوپر کی آیتوں میں بتوں سے ہر قسم کی قدرت کی نفی تھی اب اس آیت میں ان سے علم کی نفی کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے بت جن کی یہ پوجا کر رہے ہیں ان میں نہ تو نفع و نقصان پہنچا نے کی قدرت ہے اور از علم و شعور رہی ہے تو پھر تم کتنے احمق ہو کہ ان سے یہ امید رکھتے ہو کہ وہ تمہیں سیدگے راستے پر چلائیں گے، ( کبیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:193) تدھوہم۔ تم ان کو پکارتے ہو۔ تم ان کو بلاتے ہو۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تدعون تھا۔ ان شرطیہ کے آنے سے نون اعرابی حذف ہوگیا۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب اصنام و اوثان کے لئے ہے۔ ان تدعوھم الی الھدی لا یتبعوکم۔ ای الیٰ ما ھو ھدی ورشاد والیٰ ان بھدوکم والمعنی وان تطلبوا منھم کما تطلبون من اللہ الخیر والھدیٰ لا یتبعوکم الی مرادکم طلبتکم ولا یجیبوکم کما یجیبکم اللہ الی الھدی رشد و ہدایت کی طرف اس واسطے کہ تمہیں راہ ہدایت دکھائیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان سے خیروہدایت کے لئے دعا کرو۔ جیسا کہ تم اللہ تعالیٰ سے خیر و ہدایت کی دعا کرتے ہو تو جس طرح اللہ تعالیٰ تمہاری پکار کو سن کر پورا کرتا ہے یہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 191–198

لغات القرآن ۔ لا یخلق۔ پیدا نہیں کیا۔ لا یتبعوکم۔ وہ تمہاری پیروی نہ کریں گے۔ صامتون۔ چپ رہنے والے۔ عباد۔ (عبد) ۔ بندے۔ فلیستجیبوا۔ پھر چاہیے کہ وہ کہا مانیں۔ ارج۔ (رجل) ۔ پاؤں۔ یمشون۔ وہ چلتے ہیں۔ یبطشون۔ وہ پکڑتے ہیں۔ کیدون۔ تم میرے خلاف تدبیریں کرو۔ لا تنظرون۔ مجھے مہلت نہ دو ۔ ولی اللہ۔ میرا حمایتی اللہ ہے۔ یتولی۔ وہ سنھالتا ہے۔ تشریح : سورة الاعراف چونکہ ختم پر ہے چناچہ اس سورت کی تمام باتوں کو شرک کی نفی میں مختصر جملوں میں سمیٹ دیا گیا ہے۔ اور یاددھانی کے طور پر ان کا نچوڑ پیش کردیا گیا ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ کو بھی ضروری ہدایات دی جا رہی ہیں۔ یہ سورة مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی جس سے اندازہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 192–199

اس آیت میں صلہ رحمی اور لوگوں سے نرمی کے ساتھ پیش آنے اور غصہ کے وقت اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے کا ذکر ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھنے سے آدمی کا غصہ اتر جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 191–194

[78] عرب جن بتوں کو پوجتے تھے وہ ان کے گمان کے مطابق فرشتوں، جنوں اور گزرے ہوئے صالحین انسانوں کے بت تھے، اس وجہ سے فرمایا کہ وہ تمہارے ہی جیسے بندے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 189–197

(ف 1) عام مفسرین نے یہاں یہ قصہ بیان کیا ہے کہ حواء جب حاملہ ہوئیں ، تو شیطان ان کے پاس آیا اور کہنے لگا جانتی ہو ، اب کیا ہوگا ، تیرے پیٹ سے جانور پیدا ہوگا ، اور خدا جانے کس تکلیف کے انداز میں پیدا ہو ، یا انسانی بچہ پیدا ہو تو ناقص ہو ، میں اللہ کا مقرب ہوں ، اگر میری مانو اور ہونے والے بچے کا نام عبدالحارث رکھو ، تو کوئی اندیشہ نہیں ، حواء اس پر راضی ہوگئیں ، اور بچے کا نام عبدالحارث رکھا ، جو شیطان کا نام ہے ، یہ آیت اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے ، مگر یہ واقعہ حقیقت درست نہیں کیونکہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ خدا کا پیغمبر دوبارہ شیطان کے دھوکے میں آگیا ، حالانکہ مرد مومن بھی دو دفعہ دھوکا نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

193 اور اگر اے مشرکین تم ان کو کوئی بات بتانے کے لئے پکارو تو وہ تمہارے کہنے اور بتانے پر نہ چلیں تمہارے لئے دونوں باتیں برابر ہیں تم ان کو پکارو یا تم خاموش رہو۔ مطلب یہ ہے کہ تم ان کو خواہ بھلی بات بتانے کے لئے پکارو یا تم ان سے کوئی بھلی بات حاصل کرنے کے لئے ان کو پکارو دونوں حالتوں میں وہ تمہارے کہنے پر چلنے کو تیار نہیں ان کو پکارنا نہ پکارنا دونوں باتیں برابر ہیں۔ غرض ! اپنے بھلے کو بلائو جب بےکار بلکہ ان کے بھلے کو بلائو جب بےکار نہ تمہاری مدد کی طاقت نہ اپنی مدد کی صلاحیت۔ نہ کسی کو پیدا کرنے کی قابلیت بلکہ خود دوسرے کی مخلوق یہ حقیقت ہے ان معبود ان باطلہ کی جن کے یہ مشرک پجاری بنے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 193–197

ف 6۔ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ تم ان کو پکارو کہ وہ تم کو کوئی بات بتلادیں تو تمہارا کہنا نہ کریں یعنی نہ بتلادیں اور دوسرے اس سے زیادہ یہ کہ تم ان کو پکارو کہ آو ہم تم کو کچھ بتلادیں تو تمہارے کہنے پر نہ چلیں یعنی تمہاری بتلائی ہوئی بات پر عمل نہ کرسکیں۔ 1۔ خلاصہ یہ کہ جو کام سب سے سہل تر ہے کہ کوئی بات بتلانے کے لیے پکارنے کو سن لینا وہ اسی سے عاجز ہیں تو جو اس سے مشکل ہے کہ اپنی حفاظت کریں اور پھر جو اس سے بھی مشکل ہے کہ دوسروں کی امداد کرنا اور پھر جو ان سب سے دشوار تر ہے کہ کسی شے کو پیدا کرنا ان سے تو بدرجہ اولی زیادہ ترعاجز ہوں گے پھر ایسے عاجز محتاج کب معبودیت کے لائق ہوسکتے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تم ان کو ہدایت کی طرف بلائو تو وہ تمہاری پیروی نہیں کریں گے : 221: زیر نظر آیت کے دو مفہوم سمجھ میں آتے ہیں اور دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پر صحیح ہیں ۔ 1 ۔ اگر تم ان مشرکوں کو ہدایت کی طرف بلائو تو وہ کبھی تمہاری پیروی کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے ۔ باوجود اس کے کہ وہ بات کو سمجھیں گے اور جو سمجھ سوچ کر فیصلہ کے ساتھ کسی کی بات سننے کے لئے تیار نہ ہو ایسوں کو تم بلائو یعنی ہدایت کی طرف دعوت دو یا نہ دو دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک ہی رہے گا کیونکہ یہ بھینس کے سامنے بین بجانے کے مترادف ہے ۔ جب ان کو ہر سنی ان سنی کر دینی ہے اور نہ ماننے کی انہوں نے قسم کھالی ہے تو ان پر کسی دلیل کا کوئی اثر ممکن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 190–193

In short, all the above acts or beliefs are different forms of 'Shirk' ~,. and the worst kind of ungratefulness to Allah, their Lord. The last sentence of this verse confirms misguidance of such people by saying: فَتَعَالَى اللَّـهُ عَمَّا يُشْرِ‌كُونَ "So far beyond is Allah than what they associate with Him." The above interpretation of this verse has made it clear that by referring to the Prophet 'Adam and Hawwa' (Eve) (علیہما السلام) in the first sentence of this verse, the children of 'Adam have been asked to follow him and show their gratefulness to Allah, while the rest of the verse…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 191–193

147. As to the false gods set up by the polytheists, what is the extent of their power? Not only, do they not have the power to guide others, they do not even have the power to follow others or even to answer the call of their devotees.

Read the full tafseer →