Explained with ayahs 191–198
انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے
جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو بوجتے ہیں وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں وہی ان کا پالنے والا ہے وہ بالکل بےاختیار ہیں کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا تندرست اور اجھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں کان بھی ہیں یہ بیوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ لوگو آؤ ایک لطیف مثال سنو تم جنہیں پکار رہے ہو یہ سارے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–193
سورة الْاَعْرَاف 147
یعنی ان مشرکین کے معبود ان باطل کا حال یہ ہے کہ سیدھی راہ دکھانا اور اپنے پرستاروں کی رہنمائی کرنا تو درکنار، وہ بیچارے تو کسی رہنما کی پیروی کرنے کے قابل بھی نہیں، حتیٰ کہ کسی پکارنے والے کی پکار کا جواب تک نہیں دے سکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–193
تیسری آیت کے آخر میں ان لوگوں کی بےراہی اور کجروی کو واضح کرنے کیلئے فرمایا (آیت) فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ، یعنی پاک ہے اللہ تعالیٰ اس شرک سے جس کو ان لوگوں نے اختیار کیا۔
آیات مذکورہ کی اس تفسیر سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اس آیت کے پہلے جملہ میں حضرت آدم و حواء کا ذکر کرکے اولاد آدم کو ان کے اتباع اور شکر گزری کی تعلیم دی گئی ہے، اور آخری جملوں میں بعد کی آنے والی اولاد آدم کی گمراہی اور کجروی کا بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے بجائے شکر گزاری کے شرک کو اختیار کرلیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ شرک اختیار کرنے والوں کے معاملہ کا تعلق حضرت آدم و حواء سے مطلق نہیں جس کے سبب حضرت آدم ؑ کی عصمت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ۔ یہ تعالیٰ اللہ عما یشرکون کے مضمون کی وضاحت ہے کہ خدا ہی سب کا خالق اور سب کا ناصر ہے تو ان چیزوں کو خدا کی خدائی میں شرک بنانے کا کیا تک ہے جو کسی چیز کو بھی خلق نہیں کرتی ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں اور جو نہ تو ان کی کوئی مدد کرسکنے پر قادر ہیں اور نہ اپنی ہی کوئی مدد کرسکتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–192
190۔ 1 شریک قرار دینے سے مراد یا تو بچے کا نام ایسا رکھنا ہے، مثلاً امام بخش، پیراں دیتا، عبدالشمس، بندہ علی وغیرہ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بچہ فلاں بزرگ، فلاں پیر کی (نعوذ باللہ) نظر کرم کا نتیجہ ہے۔ یا پھر اس اپنے عقیدے کا اظہار کرکے کہ ہم فلاں بزرگ فلاں قبر پر گئے تھے جس کے نتیجہ میں بچہ پیدا ہوا ہے، جو بدقسمتی سے مسلمان عوام میں بھی عام ہیں۔ اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ شرک کی تردید فرما رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–194
97:”ایک جان“ سے مراد حضرت آدم ؑ ہیں، اور ان کی بیوی سے مراد حضرت حواء (علیہما السلام)
98: اب یہاں سے حضرت آدم ؑ کی ایسی اولاد کا ذکر ہورہا ہے جس نے بعد میں شرک کا راستہ اختیار کیا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–198
تفسیر آیات 189 تا 198:۔
عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ…
Read the full tafseer →2 پہلے ایک طرح کے شرک کا ذکر تھا اس کی مناسبت سے ان آیات میں بت پرستی کا رد فرماتے ہیں۔ یعنی جو کسی کو پیدا نہ کرسکے بلکہ خود تمہارا بنایا ہوا ہو وہ تمہارا خدایا معبود کیسے بن سکتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 191 اَیُشْرِکُوْنَ مَالاَ یَخْلُقُ شَیْءًا وَّہُمْ یُخْلَقُوْنَ ۔
فرشتے ‘ جنات ‘ انبیاء اور اولیاء اللہ سب کے سب خود اللہ کی مخلوق ہیں۔
Read the full tafseer →190 مخلوق الٰہ نہیں ہوسکتی :۔ اس آیت میں الوہیت کا یہ معیار پیش کیا گیا ہے کہ جو مخلوق ہو وہ الٰہ نہیں ہوسکتی۔ اس معیار کے مطابق اللہ کے سوا سب الٰہ باطل قرار پاتے ہیں خواہ وہ فرشتے ہوں یا انبیاء ہوں، یا شجر و حجر ہوں یا اولیاء و بزرگ ہوں، خواہ وہ زندہ ہوں یا فوت شدہ۔ کیونکہ ان میں سے ہر چیز اللہ کی مخلوق ہے اور جو مخلوق ہے وہ فانی بھی ہوگا اور جو فانی ہے وہ الٰہ نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →283 ۔ اس میں مورتیوں بت، عناصر طبعی وغیرہ سارے ہی معبودان باطل آگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–206
آیت نمبر 189 تا 206
ترجمہ : وہ یعنی اللہ ہی ہے جس نے تم کو ایک جان یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا حوّاء کو پیدا کیا تاکہ اس سے سکون حاصل کرے اور اس سے الفت کرے، چناچہ جب اس کو ڈھانپ لیا یعنی اس سے مجامعت کی، اگر اس کو ہلکا سا حمل رہ گیا، اور اس بات سے خوفزدہ ہوئے کہ وہ (حمل) کوئی جانور نہ ہو تو انہوں نے اپنے رب اللہ سے دعاء کی، اگر آپ ہمیں نیک صحیح سالم بچہ عطا فرمائیں تو ہم اس پر آپ کے شکر گذار ہوں گے، چناچہ جب ان کو صحیح سالم اولاد دیدی تو دونوں (بیوی) نے (اللہ کے) عطا کردہ بچے کا نام عبدالحارث رکھ کر خدا کا شریک قراردیدیا، اور ایک قراءت میں شین کے کسرہ اور…
Read the full tafseer →ایشرکون ما لا یخلق شیئا وہم یخلقون : کیا ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہ کرسکیں اور خود ہی (اللہ کی قدرت سے) سے پیدا کئے جاتے ہوں۔
ایشرکون کیا اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہیں۔ ما لا یخلقجو کسی چیز کو پیدا نہ کرسکیں۔ یعنی ابلیس اور بت۔ وہم یخلقون۔ ہُمضمیر بتوں کی طرف راجع ہے۔ (اگر چہھم کی ضمیر جمع اصحاب عقل کی طرف راجع ہونا چاہئے اور بت جامد چیز ہے لیکن) بتوں کو مشرک معبود قرار دیتے تھے (اس لئے بت بھی اصحاب عقل کے حکم میں ہوگئے)
Read the full tafseer →(191) اللہ تعالیٰ ان بتوں کے شرک سے بالکل پاک ہے، یہ بت کسی کو بھی پیدا نہیں کرسکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا۔۔ : اس سلسلۂ کلام سے مقصود بتوں کی پرستش کی تردید ہے کہ ان میں معبود ہونے کی کوئی صفت نہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ انھوں نے کوئی چیز پیدا ہی نہیں کی، حتیٰ کہ وہ سب جمع بھی ہوجائیں تو مکھی تک بنانا بلکہ اس سے چھینی ہوئی چیز واپس لینا بھی ان کے اختیار میں نہیں۔ دیکھیے سورة حج (73) وہ خود مخلوق ہیں، اپنے پوجنے والوں کی مدد تو درکنار اگر خود انھیں کوئی توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے تو وہ اپنے آپ کو بھی نہیں بچا سکتے، تو پھر خالق کو چھوڑ کر اس بےبس مخلوق کی پوجا کیوں ؟
Read the full tafseer →آیت نمبر : 191
قولہ تعالیٰ : آیت : ایشرکون مالا یخلق شیا یعنی کیا ہو اس کی عبادت کرتے ہیں جو کسی شے کو تخلیق کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ آیت : وھم یخلقون یعنی بت (خود) پیدا کیے گئے ہیں۔ اور فرمایا یخلقون یہ واو اور نون کے ساتھ ہے، کیونکہ وہ یہ اعتقس رکھتے تھے کہ بت نقصان اور نفع پہنچا سکتے ہیں، لہٰذا انہیں الناس ( لوگوں) کے قائم مقام قرار دیا گیا ( اس لیے جمع واو نون کے ساتھ لائی گئی) جیسا کہ اس ارشاد میں ہے : کل فی فلک یسبحون (الانبیائ) ( سب ( اپنے اپنے) مدار میں تیر رہے ہیں) اور یہ ارشاد ہے : آیت : یایھا النملادخلوا مسکنکم ( النمل : 18) ( اے چیونٹیو ! گھس جاؤ اپنی بلوں میں) آیت : ولا یستطیوون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–193
(1) امام احمد، ترمذی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور ھاکم نے (ترمذی نے اس کو حسن اور حاکم نے صحیح کہا) سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب حواء کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اس کے گرد ابلیس گھوما اور لڑکا زندہ نہیں رہتا تھا شیطان نے کہا اس کا نام عہد الحارث رکھ دو ۔ تو وہ زندہ رہے گا تو انہوں نے اس کا نام عبد الحارث رکھ دیا تو وہ زندہ رہا۔ تو یہ شیطان کے الہام میں سے تھا اور اس کو حکم تھا۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن مردویہ نے سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فلما اتھا صالحا جعلا لہ شرکاء “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اس (لڑکے) کا نام عبد…
Read the full tafseer →[ اَيُشْرِكُوْنَ : کیا یہ لوگ شریک بناتے ہیں ] [ مَا : اس کو جو ] [ لَا يَخْلُقُ : تخلیق نہیں کرتا ہے ] [ شَـيْــــًٔـا : کوئی چیز ] [ وَّهُمْ : اور وہ (خود بھی ) ] [ يُخْلَقُوْنَ : پیدا کیے جاتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–198
معبود ان باطلہ نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں نہ عبادت گزاروں کی مدد کرسکتے ہیں
اوپر کی آیت میں اولاد کے سلسلہ میں شرک اختیار کرنے کا ذکر تھا ان آیات میں بھی مشرکین کو تنبیہ فرمائی ہے اور شرک اختیار کرنے میں جو انہوں نے حماقت کی ہے اسے بیان فرمایا ہے، اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے اسی نے سب کچھ پیدا فرمایا جس نے سب کچھ پیدا فرمایا وہی عبادت کے لائق ہے جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود اپنے خالق جل مجدہ کی مخلوق ہیں وہ کیسے عبادت کے مستحق ہوگئے ؟ مشرکین کا یہ طریقہ ہے کہ جب غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں تو یہ سمجھ کر کرتے ہیں کہ یہ آڑے وقت میں ہماری مدد کریں گے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–202
اثبات توحید وابطال شرک
قال اللہ تعالیٰ ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ثم لا یقصرون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور کمال علم و حکمت کا ذکر تھا کہ وہی ہر نفع اور ضرر کا مالک ہے اور وہی عالم الغیب ہے اور شروع سورت میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہا السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اب سورت قریب الختم ہے اس لیے حضرت آدم اور حوا کا قصہ اجمالی طور پر دوبارہ ذکر فرماتے ہیں جس سے مقصود توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال ہے اگرچہ گزشتہ آیات میں بھی توحید خداوندی کا مختصر سا ذکر ہوا ہے لیکن ان آیات میں اس مضمون کو قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہی اللہ ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–193
186: مشرکین کی انتہائی کم عقلی اور ہٹ دھرمی کا ذکر فرمایا کہ وہ کیسی عاجز مخلوق کو خدا کے ساتھ شریک بناتے ہیں وہ اس قدر عاجز و لاچار ہیں کہ اپنی مدد نہیں کرسکتے تو ان کی کیا مدد کریں گے۔ “ وَ اِنْ تَدْعُوْھُمْ اِلَی الْھُدٰي الخ ” خطاب مشرکین سے ہے اور اس میں ان کے معبودوں کی انتہائی بےبسی کا بیان ہے۔ یعنی تمہاری مدد کرنا تو درکنار وہ تو تمہاری بات کا جواب بھی نہیں دے سکت۔ ان میں اتنی قدرت ہی نہیں۔ “ والمعنی ان ھذا المعبود الذي یعبدہ المشرکون معلوم من حاله انه کما لا ینفع ولا یضر فکذا لا یصح فیه اذا دعی الی الخیر الاتباع ” (کبیر ج 4 ص 492) یا خطاب آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام سے ہے اور “ اَلْھُدٰي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–195
ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اولین انسان اور اس کے جوڑے کی پیدائش کا تذکرہ فرمایا اور اس پیدائش کی غرض وغایت بھی بیان فرمائی پھر انسان کے شرک میں مبتلا ہونے کی مثال بیان فرمائی کہ میاں بیوی کی مقاربت سے ہلکا سا حمل ٹھہرتا ہے جب یہ بڑھتا ہے تو میاں بیوی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحیح سلامت ، صحت مند بچہ عطا فرمائے پھر جب بچہ کی پیدائش ٹھیک طریقے سے ہوجاتی ہے تو اللہ کے ساتھ شریک بنانے لگتے ہیں اول تو بچے کا نام ہی شرکیہ رکھتے ہیں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کی بجائے غیروں کی طرف منسوب کرتے ہیں حالانکہ اس کی پیدائش ،…
Read the full tafseer →اَ يُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّہُمْ يُخْلَقُوْنَ 191 ۡۖ
شرك
وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان :
أحدهما : الشِّرْكُ العظیم،
وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ،
والثاني : الشِّرْكُ الصّغير،
وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
[ الأعراف/ 190] ،
( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ
دین میں شریک دو قسم پر ہے
۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–193
ترکیب : الاماشاء اللّٰہ استثناء ہے جنس سے ولوکنت شرط لا ستکثرت جواب وما نا فیہ مسنی الخ معطوف ہے لا ستکثرت پر تتّمہ جواب ہے جعل بمعنی خلق زوجہا اس کا مفعول فلما تغشاھا شرط حملت الخ جواب فمرت بہ تشدید راء سے پڑھا جاوے گا تو مرور سے مشتق ہوگا اور بالتخفیف والالف مارت من المور وھوالذہاب والبحئی فلما آتاھما الخ شرط جعلالہ جواب شرکاء جمع شریک مفعول جعلا فیما آتاھما جار متعلق فعل سے۔
تفسیر : دوسرا شبہ : دوسرا شبہ منکرین کا آنحضرت (علیہ السلام) کی نبوت پر یہ تھا کہ اگر آپ نبی برحق ہیں تو ہمارے کہنے کے موافق کیوں ہمارے دنیاوی مضرات دور نہیں کردیتے ٗ قحط کھودو ٗ ہم محتاج ہیں غنی کر دو ۔ ہمارے فلاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–192
گمراہی کے دوسبب :
پیشِ نظر رکوع شروع کرنے سے پہلے دو باتیں ذہن نشین کرلینی چاہییں۔
1 قومیں جن اسباب سے گمراہی کا شکار ہوتی ہیں ان میں کبھی تو یہ سبب ہوتا ہے کہ وہ پیغمبر کی حیثیت اور اس کے مقام کو نہ سمجھنے کے باعث اس پر ایمان لانے سے محروم رہتی ہیں اور اس سے وہ مطالبات کرتی چلی جاتی ہیں جن کا تعلق نبوت سے نہیں ہوتا اس لحاظ سے وہ نبوت اور الوہیت کو خلط ملط کردیتی ہیں۔ پیغمبر ان کے لیے اسوہ حسنہ بن کر آتا ہے اور وہ اسے الوہیت کے مقام پر فائز دیکھنا چاہتی ہیں۔ نتیجہ واضح ہے کہ یہ دونوں چیزیں چونکہ الگ الگ حقیقت رکھتی ہیں اس لیے دونوں کی پہچان کا دارومدار الگ الگ حقیقت کو سمجھنے پر ہے جب قومیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–193
فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں یہ ثابت کیا گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ مختار کل اور عالم الغیب نہیں۔ مختار کل اور غیب کا علم جاننے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وہی ذات ہے جس نے پہلے انسان کو پیدا کیا اور پھر اس سے اس کی بیوی کو پیدا فرمایا ہے۔
عقیدۂ توحید دین کی روح اور اس کی بنیاد ہے۔ اسے سمجھانے کے لیے قرآن مجید نے کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیزوں سے استدلال کرکے عقیدۂ توحید کو واضح کیا ہے۔ سب سے پہلا توحید کے لیے جو استدلال پیش کیا گیا ہے وہ انسان کی تخلیق کے متعلق ہے۔ پہلی وحی میں فرمایا گیا کہ اس رب کے نام کے ساتھ پڑھیے جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا سورة النساء…
Read the full tafseer →خالق کے ساتھ مخلوق کو شریک کرلیا :
آیت 191: اَیُشْرِکُوْنَ مَالَا یَخْلُقُ شَیْئًا (کیا وہ ان کو شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو بنانہ سکیں) یعنی بت وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ (اور وہ خود ہی بنائے جاتے ہیں) یہاں اصنام کو اہل علم کے قائم مقام رکھا گیا کیونکہ انکا اعتقاد بتوں کے متعلق اسی طرح تھا۔ مطلب یہ ہے کیا وہ ان کو شریک کر رہے ہیں۔ جو کسی چیز کو پیدا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ حالانکہ وہ پیدا کئے گئے ہیں کیونکہ ان کا خالق تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ نمبر 2۔ ہم یخلقون کی ضمیر عابدین کی طرف لوٹتی ہے یعنی کیا ان کو شریک کرتے ہیں جو ذرہ بھر پیدا نہیں کرسکتے۔ اور وہ خود اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ پس ان کے لیے…
Read the full tafseer →تفسیر 191 (ایشرکون مالا یخلق شیئاً ) یعنی ابلیس اور بتوں کو (وھم یخلفون) یعنی وہ خود مخلوق ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–198
191۔ 198۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے مشرکوں کو یہ تنبیہ فرمائی کہ کیا تم ایسی چیزوں کو معبود ٹھہراتے ہو جن میں کسی شے کے پیدا کرنے کی قدرت نہیں ہے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں اور عبادت تو خالق کارساز کو زیبا ہے مخلوق کسی طرح عبادت کی مستحق نہیں ہے ان بتوں سے تو ہزار درجہ تم بہتر ہو کر تم میں چلنے پھرنے کی طاقت ہے کھاتے پیتے ہو بتوں میں کیا قدرت ہے اگر کوئی آکر ان کے ٹکڑے کر ڈالے تو یہ کیا بچاؤ اپنا کرسکتے ہیں پھر جب اپنا اختیار انہیں نہیں ہے اور اپنے نفع نقصان سے بالکل یہ بیخبر ہیں تو تمہاری کیا مدد کرسکتے ہیں ایک مکھی جس میں کچھ بھی سکت نہیں ہے اگر ان کے پاس سے کوئی کھانے کی چیز لے بھاگے تو ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 179–193
آیت 179
اللہ تبارک و تعالیٰ راہ راست سے بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں اور شیطان لعین کے پیروکاروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد ذرانا ) ” اور ہم نے پیدا کیا۔ “ یعنی ہم نے پیدا کیا اور پھیلایا (لجھنم کثیراً من الجن والانس) ” جہنم کے لئے بہت سے جن اور آدمی “ پس چوپائے بھی ان سے بہتر حالت میں ہیں (لھم قلوب لایفقھون بھا) ” ان کے دل ہیں، جن سے وہ سمجھتے نہیں “ یعنی علم اور سمجھ ان تک راہ نہیں پاتے، سوائے ان کے خلاف قیام حجت کے (ولھم اعین لایبصرون بھا) ” ان کی آنکھیں ہیں، جن سے وہ دیکھتے نہیں “ یعنی وہ ان آنکھوں سے اس طرح نہیں دیکھتے کہ دیکھنا ان کے لئے فائدہ مند ہو بلکہ انہوں نے اپنی بینائ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–193
تخلیق انسانی
قول باری ہے ھوالذی خالقکم من نفس واحدۃ وجعل منھا زوجھا۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا) ایک قول ہے کہ ہر جان سے اس کا جوڑا بنایا۔ گویا یوں فرمایا ” جان سے اس کا جوڑا بنایا “۔ اور اس سے جنس مراد لیا۔ آیت کی عبارت میں لفظ جنس پوشیدہ ہے۔ ایک قول ہے کہ آدم (علیہ السلام) و حوا (علیہ السلام) سے پیدا کیا۔ قول باری ہے لئن اتیتنا صالحاً ۔ اگر تو نے ہم کو اچھا سا بچہ دیا) حسن کا قول ہے ” ایک صحیح و سالم بچہ “ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” ایک سالم انسان “ اس لئے کہ ماں باپ کو یہ خوف کھائے جاتا تھا کہ کہیں چوپائے کی شکل کی کوئی مخلوق نہ آجائے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–191
268 اولاد آدم میں شرک کا ارتکاب : یعنی آدم و حوا ۔ علیہا الصلوۃ والسلام ۔ تو اس طرح شرک کے ہر شائبہ سے محفوظ رہے مگر ان کے بعدان کی اولاد نے اس شرک کا ارتکاب کیا اور انہوں نے " عبد الشمس "، " عبد العزی "، " عبد مناف "، " عبد النبی "، " عبد الرسول "، " عبد الحسین " جیسے شرکیہ نام رکھے اور آج تک رکھ رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ یہ قول حضرت حسن بصری کا ہے اور اسی کو محققین نے اختیار کیا ہے۔ رہ گیا دوسرا قول کہ ضمیر تثنیہ کا مرجع آدم و حوا ہیں اور یہ کہ اس شرک کا آغاز انہی سے ہوا تھا تو یہ قول مرجوح ہے اور اس بارے جو آثار و روایات وارد ہیں وہ ضعیف اور ناقابل اعتبار ہیں۔ علامہ ابن کثیر جیسے محققین نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–203
انسان کی حقیقت اور مشرکوں کے طریقے
تشریح : یوں تو پورا قرآن پاک ہی ہدایت اور رہنمائی سے بھرا پڑا ہے۔ مگر ان آیات میں خاص طور سے پھر انسان کو اپنی پیدائش کا طریقہ بتایا گیا ہے اور پھر گھریلو زندگی اور پرسکون خاندان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) بغیر باپ اور ماں کے اللہ کی قدرت سے پیدا ہوئے سیدہ سیدنا حوا (علیہا السلام) ان سے پیدا ہوئیں مگر بغیر ماں کے، سیدنا عیسیٰ بغیر باپ کے اور پھر اس کے بعد نسل انسانی ماں اور باپ دونوں کے میاں بیوی بن کر آپس کے ملاپ سے مگر اللہ کی قدرت سے بڑھنی شروع ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ جب میاں اور بیوی میں شادی کا رشتہ بن جاتا ہے تو پھر دونوں ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–206
رکوع نمبر 24 ۔ آیات 189 ۔ تا۔ 206
جہاں تک علوم غیبیہ اور نفع و نقصان کا تعلق ہے تو یہ اوصاف تو اس ذات حمید کے ہیں جس نے تمہیں ایک وجود یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا اور ایسا کریم ہے کہ انسان کی نسل بقا کے لیے اسی وجود میں سے اس کا جوڑا یعنی حوا کو پیدا فرما
کر ان میں باہمی محبت و الفت اور ایک لذت وصال رکھ دی کہ انسان نہ صرف بقائے نسل کا کام کرے بلکہ ایک دوسرے سے انس اور روحت بھی حاصل کریں۔ یہ اس کے احسانات ہیں۔
مگر انسانوں کا یہ حال ہے کہ مرد و عورت جمع ہوئے اور حمل قرار پا گیا اب خالق کو اس کا علم ہے جس کی پشت میں تھا وہ بیخبر رہا جس کے پیٹ میں پہنچا اسے پتہ نہیں بغیر کسی پرواہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
ف 10 اس سلسلئہ کلام سے مقصود بتوں کی تردید ہے کہ ان میں الو ہیت کی کوئی صفت بھی موجود نہیں مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ان کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے بھی کر ڈالے تو بھی وہ اپنے آپ کو نہیں بچا سکتے یا یہ نہ تو اپنے خدمت گاروں کو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ اپنے مخالفین ہی کو مضرت تو پھر ان کی پو جا کیوں ؟ ( رازی )
Read the full tafseer →(7:191) مالا یخلق۔ میں ما موصولہ ہے۔ لا یخلق اور ہم یخلقون میں دونوں ضمیروں کا مرجع ما موصولہ ہے۔ لیکن یخلق میں ھو (مستتر) ضمیر واضد ہے اور یخلقون میں ہم ضمیر جمع ہے اس کی توضیح علماء نے یوں کی ہے کہ ما موصولہ کی دو حیثیتیں ہیں۔ لفظی اعتبار سے وہ واحد ہے اور لا یخلق میں اس کی اسی حیثیت کو معتبر رکھا گیا ہے اور معنوی لحاظ سے جمع ہے اور ہم یخلقون میں اسی معنوی حیثیت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔
دوسری بات جو یہاں غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ شرکاء سے یہاں مراد بت ہیں۔ اور وہ بےجان تھے قاعدہ کے مطابق تو ان کے لئے ضمیر مؤنث ہونی چاہیے تھی لیکن یہاں جمع مذکر کا صیغہ استعمال ہوا ہے اس کی توجیہہ یوں کی گئی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–198
لغات القرآن ۔
لا یخلق۔ پیدا نہیں کیا۔ لا یتبعوکم۔ وہ تمہاری پیروی نہ کریں گے۔ صامتون۔ چپ رہنے والے۔ عباد۔ (عبد) ۔ بندے۔ فلیستجیبوا۔ پھر چاہیے کہ وہ کہا مانیں۔ ارج۔ (رجل) ۔ پاؤں۔ یمشون۔ وہ چلتے ہیں۔ یبطشون۔ وہ پکڑتے ہیں۔ کیدون۔ تم میرے خلاف تدبیریں کرو۔ لا تنظرون۔ مجھے مہلت نہ دو ۔ ولی اللہ۔ میرا حمایتی اللہ ہے۔ یتولی۔ وہ سنھالتا ہے۔
تشریح : سورة الاعراف چونکہ ختم پر ہے چناچہ اس سورت کی تمام باتوں کو شرک کی نفی میں مختصر جملوں میں سمیٹ دیا گیا ہے۔ اور یاددھانی کے طور پر ان کا نچوڑ پیش کردیا گیا ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ کو بھی ضروری ہدایات دی جا رہی ہیں۔
یہ سورة مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی جس سے اندازہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–191
مشرکین کو تنبیہ اور صلہ رحمی کا ذکر
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ کیا تم ایسی چیزوں کو معبود ٹھراتے ہو جن میں کسی شے کے پیدا کرنے کی قدرت نہیں ہے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں، اور عبادت تو خالق کارساز کو زیبا ہے مخلوق کسی طرح عبادت کی مستحق نہیں ہے۔ ان بتوں سے تو ہزات درجہ تم بہتر ہو کہ تم میں چلنے پھرنے کی طاقت ہے، کھاتے پیتے ہو، بتوں میں کیا قدرت ہے۔ اگر کوئی آکر ان کے ٹکڑے کرڈالے تو یہ کیا اپنا بچاؤ کرسکتے ہیں ؟ پھر جب اپنا اختیار نہیں ہے اور اپنے نفع و نقصان سے یہ بالکل نے خبر ہیں تو تمہاری کیا مدد کرسکتے ہیں اور نہ ان میں سماعت ہے نہ بصارت۔ تم انسان اشرف المخلوقات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–194
[78] عرب جن بتوں کو پوجتے تھے وہ ان کے گمان کے مطابق فرشتوں، جنوں اور گزرے ہوئے صالحین انسانوں کے بت تھے، اس وجہ سے فرمایا کہ وہ تمہارے ہی جیسے بندے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–197
(ف 1) عام مفسرین نے یہاں یہ قصہ بیان کیا ہے کہ حواء جب حاملہ ہوئیں ، تو شیطان ان کے پاس آیا اور کہنے لگا جانتی ہو ، اب کیا ہوگا ، تیرے پیٹ سے جانور پیدا ہوگا ، اور خدا جانے کس تکلیف کے انداز میں پیدا ہو ، یا انسانی بچہ پیدا ہو تو ناقص ہو ، میں اللہ کا مقرب ہوں ، اگر میری مانو اور ہونے والے بچے کا نام عبدالحارث رکھو ، تو کوئی اندیشہ نہیں ، حواء اس پر راضی ہوگئیں ، اور بچے کا نام عبدالحارث رکھا ، جو شیطان کا نام ہے ، یہ آیت اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے ، مگر یہ واقعہ حقیقت درست نہیں کیونکہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ خدا کا پیغمبر دوبارہ شیطان کے دھوکے میں آگیا ، حالانکہ مرد مومن بھی دو دفعہ دھوکا نہیں…
Read the full tafseer →191 کیا یہ لوگ ایسوں کو خدا کا شریک تجویز کرتے ہیں اور ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کرسکتے اور ان کی حالت یہ ہے کہ وہ خود ہی مخلوق اور اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ یعنی لوگوں کو حالت یہ ہے کہ جب حمل ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہیں کہ ساتھ خیر کے تندرست اور صحیح سالم بچہ عنایت فرما جب بچہ حسب منشا ہوجاتا ہے تو دوسروں کی طرف اس اولاد کو منسوب کرتے ہیں کہ فلاں بزرگ یا فلاں پیر یا فلاں دیوتا نے دیا ہے یا اس کے شرکیہ نام رکھتے ہیں یا غیروں کے روبرو بچہ سے ماتھارکھواتے ہیں کہ تم نے یہ اولاد دی ہے۔
یہ سب باتیں شرک ہیں جو پیر یا دیوتا خود ہی پیدا ہونے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–192
ف 5۔ یہاں تک تو اللہ تعالیٰ کی صفات مذکور تھیں جو مقتضی ہیں اس کے استحقاق معبودیت کو آگے آلہہ باطلہ کے نقائص کا ذکر ہے جو مقتضی ہیں ان کے عدم استحقاق معبودیت کو۔
Read the full tafseer →یہ لوگ ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جو خود مخلوق ہیں اور وہ کچھ پیدا نہیں کرسکتے :
219: ایشرکون ؟ یہ لوگ اللہ کے ساتھ کن ہستیوں کو شریک ٹھہراتے ہیں ؟ ـ مالا یخلق شیئا ایسوں کو جو کوئی چیز پیدا نہیں کرسکتے۔ وھم یخلقون وہ تو خود پیدا کئے گئے ہیں ۔ بات کتنی واضح فرما دی کہ جو خود مخلوق ہیں وہ دوسروں کو کیا پیدا کرسکتے ہیں ؟ ذرا غور کرو کہ کیا مسیح (علیہ السلام) بھی مخلوق تھے یا نہیں ؟ یقیناً مخلوق تھے ۔ عیسائیوں نے آپ کو خالق بنا دیا لیکن مسلمانوں نے بڑی سادگی سے ان کے خالق ہونے کو تسلیم کرلیا اور اس بات کو بھی بیان کرتے رہے کہ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں ۔ جب کسی نے ان کی توجہ اس بات کی طرف مبذول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–193
In short, all the above acts or beliefs are different forms of 'Shirk' ~,. and the worst kind of ungratefulness to Allah, their Lord. The last sentence of this verse confirms misguidance of such people by saying:
فَتَعَالَى اللَّـهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
"So far beyond is Allah than what they associate with Him."
The above interpretation of this verse has made it clear that by referring to the Prophet 'Adam and Hawwa' (Eve) (علیہما السلام) in the first sentence of this verse, the children of 'Adam have been asked to follow him and show their gratefulness to Allah, while the rest of the verse…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–193
147. As to the false gods set up by the polytheists, what is the extent of their power? Not only, do they not have the power to guide others, they do not even have the power to follow others or even to answer the call of their devotees.
Read the full tafseer →