Al-A'raaf 7:190

Al-A'raaf · from ayah 190

7:190

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا ۚ— فَتَعٰلَی اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ ۟فَلَمَّاۤ اٰتٰٮهُمَا صَالِحًـا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِيۡمَاۤ اٰتٰٮهُمَا‌ ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ

جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے تو اس (بچے) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں۔ جو وہ شرک کرتے ہیں (خدا کا رتبہ) اس سے بلند ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But when He gives them a good [child], they ascribe partners to Him concerning that which He has given them. Exalted is Allah above what they associate with Him.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 24 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:190

مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح و سالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی اِس بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھیرانے لگے اللہ بہت بلند و برتر ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے تو اس (بچے) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں۔ جو وہ شرک کرتے ہیں (خدا کا رتبہ) اس سے بلند ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

سو جب اللہ نے دونوں کو صحیح سالم اوﻻد دے دی تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وه دونوں اللہ کے شریک قرار دینے لگے، سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے

— مولانا محمد جوناگڑہی

لیکن جب اللہ نے ان کو ایک تندرست بچہ دے دیا تو ان دونوں نے اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانا شروع کردیا، حالانکہ اللہ ان کا مشرکانہ باتوں سے کہیں بلند اور برتر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جب اس نے انہیں جیسا چاہیے بچہ عطا فرمایا انہوں نے اس کی عطا میں اس کے ساجھی ٹھہرائے تو اللہ کو برتری ہے ان کے شرک سے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب اس نے انہیں تندرست بچہ عطا فرما دیا تو دونوں اس (بچے) میں جو انہیں عطا فرمایا تھا اس کے لئے شریک ٹھہرانے لگے تو اللہ ان کے شریک بنانے سے بلند و برتر ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر جب اس نے انھیں تندرست بچہ عطا کیا تو دونوں نے اس کے لیے اس میں شریک بنا لیے جو اس نے انھیں عطا کیا تھا، پس اللہ اس سے بہت بلند ہے جو وہ شریک بناتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب اللہ نے انہیں تندرست لڑکا دے دیا تو وہ اللہ کی بخشش میں دوسروں کو شریک بنانے لگے جبکہ اللہ ایسی چیزوں سے بلند تر ہے جو یہ لوگ شریک ٹھہراتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو جب اللہ ان کو تندرست اولاد دے دیتا ہے تو اس کی بخشی ہوئی چیز میں وہ اس کے لیے دوسرے شریک ٹھہراتے ہیں۔ اللہ برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر جب اللہ نے ان کو صحیح سالم بچہ دے دیا تو انہوں نے اس کے شریک بنا دیئے اس (نعمت) میں جو اسی نے ان کو بخشی تھی، سو بالا وبرتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

لیکن جب (اللہ) انہیں جیتی جاگتی (اولاد) دے دیتا ہے تو وہ لوگ (اللہ) کی دی ہوئی چیز میں (اللہ کے) شریک قرار دینے لگتے ہیں۔ تو پاک ہے اللہ ان کے شرک سے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر جب اللہ نے انہیں عطا کردیا صحیح سالم بچہ تو ٹھہرا لیے انہوں نے اس کے شریک اس میں جو اللہ نے ان کو عطا کیا تھا اللہ بہت بلند وبالا ہے ان کے اس شرک سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب اس نے ان کو صحیح سالم بچہ دے دیا ہے تو وہ اس میں اس کے لیے شریک بنانے لگے مگر اللہ ان کے شریک بنانے سے بلندو برتر ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But when He vouchsafes them a healthy child, they attribute to Him partners regarding what Allah had bestowed upon them. Subliminally exalted is Allah above that which they associate with Him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But when We bless them with a perfect child, they ascribe partners to Him in what He blessed them with. Indeed Allah is much higher than what they associate with Him.

— Muhammad Taqi Usmani

But when We bless them with a perfect child, they ascribe partners to Him in what He blessed them with. Indeed Allah is much higher than what they associate with Him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But when He gave them a Salih child, they ascribed partners to Him (Allah) in that which He has given to them. High be Allah, Exalted above all that they ascribe as partners to Him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But when He gave unto them aright, they ascribed unto Him partners in respect of that which He had given them. High is He Exalted above all that they associate (with Him).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But when He gives them a good [child], they ascribe partners to Him concerning that which He has given them. Exalted is Allah above what they associate with Him.

— Saheeh International

When they were given a healthy son, they began to love him as much as they loved God. God is too exalted to be loved equally to anything else.

— Muhammad Sarwar

But when He gives them a good one, they set up with Him associates in what He has given them; but high is Allah above what they associate (with Him).

— Muhammad Habib Shakir

But when He vouchsafeth the twain a goodly child they set up unto Him associates in respect of that which He hath vouchsafed to them. Exalted be Allah far from that which they associate!

— Abdul Majid Daryabadi

But when He giveth them a goodly child, they ascribe to others a share in the gift they have received: but Allah is exalted high above the partners they ascribe to Him.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:190

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 189–190

ایک ہی باپ ایک ہی ماں اور تمام نسل آدم تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے صرف حضرت آدم ؑ سے ہی پیدا کیا۔ انہی سے ان کی بیوی حضرت حوا کو پیدا کیا پھر ان دونوں سے نسل انسان جاری کی۔ جیسے فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ 13؀) 49۔ الحجرات :13) لوگو ہم نے تمہیں ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے پھر تمہارے کنبے اور قبیلے بنا دیئے تاکہ آپس میں ایک وسرے کو پہچانتے رہو۔ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ ذی عزت وہ ہے جو پرہیزگاری میں سب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 189–190

سورة الْاَعْرَاف 146 یہاں مشرکین کی جاہلانہ گمراہیوں پر تنقید کی گئی ہے۔ تقریر کا مدعا یہ ہے کہ نوع انسانی کو ابتداء وجود بخشنے والا اللہ تعالیٰ ہے جس سے خود مشرکین کو بھی انکار نہیں۔ پھر ہر انسان کو وجود عطا کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس بات کو بھی مشرکین جانتے ہیں۔ عورت کے رحم میں نطفے کو ٹھیرانا، پھر اس خفیف سے حمل کو پرورش کرکے ایک زندہ بچے کی صورت دینا، پھر اس بچے کے اندر طرح طرح کی قومیں اور قابلیتیں ودیعت کرنا اور اس کو صحیح وسالم انسان بنا کر پیدا کرنا، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اگر اللہ عورت کے پیٹ میں بندر یا سانپ یا کوئی اور عجیب الخلقت حیوان پیدا کردے، یا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 190–193

تیسری آیت کے آخر میں ان لوگوں کی بےراہی اور کجروی کو واضح کرنے کیلئے فرمایا (آیت) فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ، یعنی پاک ہے اللہ تعالیٰ اس شرک سے جس کو ان لوگوں نے اختیار کیا۔ آیات مذکورہ کی اس تفسیر سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اس آیت کے پہلے جملہ میں حضرت آدم و حواء کا ذکر کرکے اولاد آدم کو ان کے اتباع اور شکر گزری کی تعلیم دی گئی ہے، اور آخری جملوں میں بعد کی آنے والی اولاد آدم کی گمراہی اور کجروی کا بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے بجائے شکر گزاری کے شرک کو اختیار کرلیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ شرک اختیار کرنے والوں کے معاملہ کا تعلق حضرت آدم و حواء سے مطلق نہیں جس کے سبب حضرت آدم ؑ کی عصمت پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قرآن میں انسانی فطرت کا یہ خاص پہلو جگہ جگہ بیان ہوا ہے کہ انسان انی اصل ضرورت اور اصل احیتاج کے وقت تو اپنے رب ہی کی طرف متوجہ ہوتا ہے لیکن جب وہ احتیاج پوری ہوجاتی ہے تو اس کو دوسرے اسباب و وسائل کا کرشمہ قرار دینے لگتا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس کا تجربہ ہر شخص خود اپنے اندر کرسکتا ہے۔ انسان کی عام حالت یہی ہے اور یہاں عام حالت ہی بیان ہوئی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ ایسے بلید بھی پائے جاتے ہوں جو کسی حال میں بھی خدا کی طرف متوجہ نہ ہوتے ہوں لیکن فرعون تک کا حال قرآن میں بیان ہوا ہے کہ ڈوبتے وقت اسے بھی خدا یاد آیا۔ بہرحال مستثنیات سے یہ کلیہ ٹوٹ نہیں جاتا۔ آدی پر جب حقیق افتقار کی حالت طاری…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 190–192

190۔ 1 شریک قرار دینے سے مراد یا تو بچے کا نام ایسا رکھنا ہے، مثلاً امام بخش، پیراں دیتا، عبدالشمس، بندہ علی وغیرہ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بچہ فلاں بزرگ، فلاں پیر کی (نعوذ باللہ) نظر کرم کا نتیجہ ہے۔ یا پھر اس اپنے عقیدے کا اظہار کرکے کہ ہم فلاں بزرگ فلاں قبر پر گئے تھے جس کے نتیجہ میں بچہ پیدا ہوا ہے، جو بدقسمتی سے مسلمان عوام میں بھی عام ہیں۔ اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ شرک کی تردید فرما رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 189–194

97:”ایک جان“ سے مراد حضرت آدم ؑ ہیں، اور ان کی بیوی سے مراد حضرت حواء (علیہما السلام) 98: اب یہاں سے حضرت آدم ؑ کی ایسی اولاد کا ذکر ہورہا ہے جس نے بعد میں شرک کا راستہ اختیار کیا

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 189–198

تفسیر آیات 189 تا 198:۔ عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 189–190

1 خدا نے سب انسانوں کو آدم سے پیدا کیا۔ آدم کے انس اور سکون وقرار حاصل کرنے کے لیے اسی کے اندر اس کا جوڑا (حواء) بنایا۔ پھر دونوں سے نسل چلی۔ جب مرد نے عورت سے فطری خواہش پوری کی تو عورت حاملہ ہوئی، حمل کی ابتدائی حالت میں کوئی گرانی نہ تھی۔ عورت حسب معمول چلتی پھرتی اور اٹھتی بیٹھتی رہی۔ جب پیٹ بڑھ گیا، اور یہ کون جان سکتا تھا کہ اس کے اندر کیا چیز پوشیدہ ہے، تب مرد و عورت دونوں نے حق تعالیٰ کی جناب میں عرض کیا کہ اگر آپ اپنے فضل سے بھلا چنگا کار آمد بچہ عنایت فرمائیں گے تو ہم دونوں (بلکہ ہماری نسل بھی) تیرا شکر ادا کرتی رہے گی۔ خدا نے جب ان کی یہ تمنا پوری کردی تو ہماری دی ہوئی چیز میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 190 فَلَمَّآ اٰتٰٹہُمَا صَالِحًا جَعَلاَ لَہٗ شُرَکَآءَ فِیْمَآاٰتٰٹہُمَا ج۔ کہ ہم فلاں بزرگ کے مزار پر گئے تھے ‘ ان کی نگاہ کرم ہوئی ہے ‘ یا فلاں دیوی یا دیوتا کی کرپا کی وجہ سے ہمیں اولاد مل گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

189 اولاد کے بارے میں شرکیہ افعال :۔ ترمذی میں ایک روایت آتی ہے کہ آدم و حوا (علیہما السلام) کے ہاں جو بچے پیدا ہوتے وہ مرجاتے تھے کیونکہ وہ کمزور الخلقت ہوتے تھے۔ ایک دفعہ جب سیدہ حوا (علیہا السلام) کو حمل ہوا تو آدم و حوا (علیہا السلام) دونوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اگر تندرست بچہ پیدا ہوا تو ہم اللہ کے شکر گزار ہوں گے۔ اسی دوران شیطان نے حوا (علیہا السلام) کو پٹی پڑھائی کہ اگر وہ اس ہونے والے بچے کا نام عبدالحارث رکھیں تو ان کا بچہ یقیناً تندرست ہوگا اور زندہ رہے گا۔ حارث دراصل ابلیس کا نام تھا اور جن دنوں وہ فرشتوں میں ملا ہوا تھا اسی نام سے پکارا جاتا تھا۔ چناچہ حوا (علیہا السلام) نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

282 ۔ آیت کے اندر شرک کی ساری قسمیں آگئیں۔ (آیت) ” جعلا “۔ کی ضمیر تثنیہ کس کی جانب ہے ؟ بعض اس طرف گئے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) وحوا مراد ہیں۔ لیکن قول محقق یہ ہے کہ بنی آدم میں سے ہر نفس اور زوج نفس مراد ہیں بعض تابعین سے بھی یہی منقول ہے۔ قال الحسن وقتادۃ الضمیر فی جعلا عائد الی النفس وزوجہ من والد ادم لا الی ادم وحواء (جصاص) جعل الزوج والزوجۃ للہ شرکاء (کبیر۔ عن القفال) امام رازی (رح) نے قفال کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یہ قصہ بہ طور تمثیل کے مشرکین کی عام حالت کو بیان کررہا ہے اور اس تفسیر کو بہت ہی پسند فرمایا ہے۔ ھذا جواب فی غایۃ الصحۃ والسداد (کبیر) اور محققین نے یہ بھی کہا ہے کہ آیت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 189–206

آیت نمبر 189 تا 206 ترجمہ : وہ یعنی اللہ ہی ہے جس نے تم کو ایک جان یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا حوّاء کو پیدا کیا تاکہ اس سے سکون حاصل کرے اور اس سے الفت کرے، چناچہ جب اس کو ڈھانپ لیا یعنی اس سے مجامعت کی، اگر اس کو ہلکا سا حمل رہ گیا، اور اس بات سے خوفزدہ ہوئے کہ وہ (حمل) کوئی جانور نہ ہو تو انہوں نے اپنے رب اللہ سے دعاء کی، اگر آپ ہمیں نیک صحیح سالم بچہ عطا فرمائیں تو ہم اس پر آپ کے شکر گذار ہوں گے، چناچہ جب ان کو صحیح سالم اولاد دیدی تو دونوں (بیوی) نے (اللہ کے) عطا کردہ بچے کا نام عبدالحارث رکھ کر خدا کا شریک قراردیدیا، اور ایک قراءت میں شین کے کسرہ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلما اتہما صالحا جعلا لہ شرکآء فیما اتہما فتعلی اللہ عما یشرکون : لیکن جب اللہ نے ان کو صحیح سالم بچہ دے دیا تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں دوسروں کو ساجھی قرار دینے لگے سو ان کے شرک سے اللہ پاک ہے۔ فتعالی اللّٰہ عما یشرکونپس اللہ برتر ہے ان چیزوں سے جن کو وہ شریک کرتے ہیں یعنی بتوں سے (اس صورت میں ما مصدری نہ ہوگا بلکہ موصولہ ہوگا) بغوی نے لکھا ہے بعض علماء کا خیال ہے یہ کلام ابتدائی ہے (پہلے کلام سے مربوط نہیں ہے) اور مشرکوں سے مراد ہیں کفار مکہ اور اگر پہلے کلام سے اس کو مربوط بھی قرار دیا جائے اور مذکورہ بالا اشخاص ہی مراد ہوں تب بھی مطلب صحیح ہوجائے گا (اور شرک سے مراد ہوگا نام رکھنے میں شرک…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(190) جب میاں بیوی کو صحیح سالم اولاد دے دی تو اس کے نام رکھنے میں ابلیس کو شریک ٹھہرانے لگے چناچہ عبداللہ اور عبدالحارث نام رکھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 189–190

هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ۔۔ : ایک جان، یعنی آدم ؑ سے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نساء کی پہلی آیت۔ لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا۔۔ : معلوم ہوا میاں بیوی کے تعلق کا اصل سکون و راحت ہے۔ دیکھیے سورة روم (21) ”فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا“ جس مقصد کے لیے قرآن مجید نے یہ الفاظ استعمال فرمائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ ان سے بڑھ کر ادب، حیا، پردے اور پاکیزگی کے ساتھ وہ مطلب ادا کرنے والے اور لفظ ملنا مشکل ہیں۔ ”صَالِحًا“ یعنی صحیح و سالم بچہ، جس میں کوئی جسمانی نقص نہ ہو۔ اس آیت کی صحیح تفسیر جسے حافظ ابن کثیر اور دوسرے محققین نے اختیار فرمایا ہے، وہ ہے جو حسن بصری ؓ سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 189–190

آیت نمبر : 189۔ 190 اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبرا : قولہ تعالیٰ : آیت : ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ جمہور مفسرین نے کہا ہے : اس میں نفس واحد ( ایک نفس) سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ آیت : وجعل منھا زوجھا) اور بنایا اس نے جوڑا) یعنی حواء (علیہا السلام) سے۔ آیت : لیسکن الیھا تاکہ وہ اس سے انس حاصل کریں اور اطمینان پائیں اور یہ سب جنت میں ہوا۔ پھر دوسری حالت کا آغاز ہوا جو ان دونوں کے زمین پر اترنے کے بعد دنیا میں پیش آئی۔ پس فرمایا : آیت : فلما تغشھا یہ جماع سے کنایہ ہے۔ آیت : حملت حملا خفیفا ہر وہ شے ہے جو پیٹ میں ہو یا درخت کے اوپر ہو تو وہ حمل کہلاتی ہے ( یعنی اس میں حا مفتوح ہے)…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 189–193

(1) امام احمد، ترمذی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور ھاکم نے (ترمذی نے اس کو حسن اور حاکم نے صحیح کہا) سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب حواء کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اس کے گرد ابلیس گھوما اور لڑکا زندہ نہیں رہتا تھا شیطان نے کہا اس کا نام عہد الحارث رکھ دو ۔ تو وہ زندہ رہے گا تو انہوں نے اس کا نام عبد الحارث رکھ دیا تو وہ زندہ رہا۔ تو یہ شیطان کے الہام میں سے تھا اور اس کو حکم تھا۔ (2) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن مردویہ نے سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فلما اتھا صالحا جعلا لہ شرکاء “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اس (لڑکے) کا نام عبد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَلَمَّآ : پھر جب ] [ اٰتٰىهُمَا : اس نے دیا انہیں ] [ صَالِحًا : ایک نیک (اولاد)] [ جَعَلَا : تو دونوں نے بنایا ] [ لَهٗ : اس کے لیے ] [ شُرَكَاۗءَ : کچھ شریک ] [ فِيْمَآ : اس میں جو ] [ اٰتٰىهُمَا ۚ : اس نے دیا ان کو ] [ فَتَعٰلَى: تو بلند ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ عَمَّا : اس سے جو ] [ يُشْرِكُوْنَ : یہ لوگ شریک بناتے ہیں ] نوٹ ۔ 2ـ : آیت نمبر ۔ 189 ۔ 190 میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ نوح انسانی کا پہلا جوڑا ، جس سے آفرنیش کی ابتدا ہوئی ، اس کا خالق بھی اللہ ہی تھا ، کوئی دوسرا اس کار تخلیق میں شریک نہیں تھا ۔ پھر ہر مرد وعورت کے ملاپ سے جو اولاد پیدا ہوتی ہے ، اس کا خالق بھی اللہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اولاد کو شرک کا ذریعہ بنانے کی تردید : مذکورہ بالا آیت سے معلوم ہوا کہ انسانوں میں اولاد کی پرورش اور ان کے زندہ رہنے کی امید اور ان کی موت کے ڈر سے ماں باپ افعال شرکیہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں شرک کی ابتداء بچے کے پیدا ہونے کی امید ہی سے شروع ہوجاتی ہے اس کے صحیح سالم پیدا ہونے کے لیے نذریں ماننے لگتے ہیں۔ یہ نذریں غیر اللہ کے لیے بھی ہوتی ہیں، پھر جب بچہ پیدا ہوجاتا ہے تو شرکیہ نام رکھتے اور شرکیہ کام کرتے ہیں۔ بعض علاقوں میں اسے چھاج میں رکھ کر گھسیٹتے ہیں اور اس کا نام گھسیٹا رکھ دیتے ہیں یا کسی پیر فقیر کے نام پر کان چھید کر بندا ڈال دیتے ہیں اور لڑکے کا نام بندو رکھ دیتے ہیں اور بعض لوگ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 189–202

اثبات توحید وابطال شرک قال اللہ تعالیٰ ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ثم لا یقصرون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور کمال علم و حکمت کا ذکر تھا کہ وہی ہر نفع اور ضرر کا مالک ہے اور وہی عالم الغیب ہے اور شروع سورت میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہا السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اب سورت قریب الختم ہے اس لیے حضرت آدم اور حوا کا قصہ اجمالی طور پر دوبارہ ذکر فرماتے ہیں جس سے مقصود توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال ہے اگرچہ گزشتہ آیات میں بھی توحید خداوندی کا مختصر سا ذکر ہوا ہے لیکن ان آیات میں اس مضمون کو قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہی اللہ ہے جس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 189–190

185: یہ دوسرے دعوی سے متعلق ہے یعنی اولاد کے لیے غیر اللہ کی نذریں نیازیں دیتے ہیں۔ مفسرین کے نزدیک “ نَفْسٍ وَّاحِدَةً ” حضرت آدم (علیہ السلام) مراد ہیں۔ ان آیتوں میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے بعض لوگ اس کو حضرت آدم و حوا (علیہما السلام) کی طرف منسوب کرتے ہیں اور ایک روایت سے تمسک کرتے ہیں۔ محققین نے اس روایت کو غیر معتبر اور اسرائیلیات سے قراردیا ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ “ فَلَمَّا تَغَشّٰھَا ” سے روئے سخن بنی آدم کی طرف ہوگیا ہے اور تثنیہ کے صیغوں سے اولاد آدم میں سے مشرک خاوند بیوی مراد ہیں کہ وہ پہلے تو اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہیں کہ ان کے گھر میں صحیح اور تندرست بیٹا پیدا ہوا اور وہ اس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 189–190

ربط آیات گزشتہ سے پیوستہ رکوع کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنہ کا ذکر فرمایا اور حکم دیا کہ مجھے انہی ناموں سے پکارا کرو اور یہ کہ ان ناموں میں الحاد نہ کرو یعنی اللہ تعالیٰ کا اہم خاص غیر اللہ پر مت بولو ، اس کی صفت اور اسم کو غلط معنی نہ پہنائو یا ان کو غلط جگہ پر استعمال نہ کرو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارض وسما کی سلطنت میں غور وفکر کی دعوت دی جس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا بیان کرنا اور اس کی وحدانیت کو سمجھنا مقصود ہعے اس کے ساتھ معاذ کا بیان بھی ہوا کہ لوگ آپ سے وقوع قیامت کے وقت کے متعلق دریافت کرتے ہیں تو اس کا جواب یہ دیا گیا کہ یہ چیز باری تعالیٰ کی ذات کے ساتھ مختص…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمَّآ اٰتٰىہُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَہٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىہُمَا۝ 0 ۚ فَتَعٰلَى اللہُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۝ 190 لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 188–193

ترکیب : الاماشاء اللّٰہ استثناء ہے جنس سے ولوکنت شرط لا ستکثرت جواب وما نا فیہ مسنی الخ معطوف ہے لا ستکثرت پر تتّمہ جواب ہے جعل بمعنی خلق زوجہا اس کا مفعول فلما تغشاھا شرط حملت الخ جواب فمرت بہ تشدید راء سے پڑھا جاوے گا تو مرور سے مشتق ہوگا اور بالتخفیف والالف مارت من المور وھوالذہاب والبحئی فلما آتاھما الخ شرط جعلالہ جواب شرکاء جمع شریک مفعول جعلا فیما آتاھما جار متعلق فعل سے۔ تفسیر : دوسرا شبہ : دوسرا شبہ منکرین کا آنحضرت (علیہ السلام) کی نبوت پر یہ تھا کہ اگر آپ نبی برحق ہیں تو ہمارے کہنے کے موافق کیوں ہمارے دنیاوی مضرات دور نہیں کردیتے ٗ قحط کھودو ٗ ہم محتاج ہیں غنی کر دو ۔ ہمارے فلاں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 189–192

گمراہی کے دوسبب : پیشِ نظر رکوع شروع کرنے سے پہلے دو باتیں ذہن نشین کرلینی چاہییں۔ 1 قومیں جن اسباب سے گمراہی کا شکار ہوتی ہیں ان میں کبھی تو یہ سبب ہوتا ہے کہ وہ پیغمبر کی حیثیت اور اس کے مقام کو نہ سمجھنے کے باعث اس پر ایمان لانے سے محروم رہتی ہیں اور اس سے وہ مطالبات کرتی چلی جاتی ہیں جن کا تعلق نبوت سے نہیں ہوتا اس لحاظ سے وہ نبوت اور الوہیت کو خلط ملط کردیتی ہیں۔ پیغمبر ان کے لیے اسوہ حسنہ بن کر آتا ہے اور وہ اسے الوہیت کے مقام پر فائز دیکھنا چاہتی ہیں۔ نتیجہ واضح ہے کہ یہ دونوں چیزیں چونکہ الگ الگ حقیقت رکھتی ہیں اس لیے دونوں کی پہچان کا دارومدار الگ الگ حقیقت کو سمجھنے پر ہے جب قومیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 189–193

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں یہ ثابت کیا گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ مختار کل اور عالم الغیب نہیں۔ مختار کل اور غیب کا علم جاننے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وہی ذات ہے جس نے پہلے انسان کو پیدا کیا اور پھر اس سے اس کی بیوی کو پیدا فرمایا ہے۔ عقیدۂ توحید دین کی روح اور اس کی بنیاد ہے۔ اسے سمجھانے کے لیے قرآن مجید نے کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیزوں سے استدلال کرکے عقیدۂ توحید کو واضح کیا ہے۔ سب سے پہلا توحید کے لیے جو استدلال پیش کیا گیا ہے وہ انسان کی تخلیق کے متعلق ہے۔ پہلی وحی میں فرمایا گیا کہ اس رب کے نام کے ساتھ پڑھیے جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا سورة النساء…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

فرد سے جنس کی طرف التفات : آیت 190: فَلَمَّآ ٰاتَاھُمَا صَالِحًا (پھر جب اللہ نے ان کو صحیح سالم اولاد دے دی) ان کو دے دیا جو انہوں نے تندرست وسالم بچہ مانگا۔ جَعَلَالَہٗ شُرَکَآ ئَ (تو دونوں اللہ کا شریک قرار دینے لگے) یعنی ان کی اولاد نے اس کے لیے شریک بنائے۔ : گویا مضاف محذوف ہے۔ اور مضاف الیہ کو اس کا قائم مقام بنادیا۔ فِیْمَآ ٰاتٰہُمَا (اللہ کی دی ہوئی چیز میں) یعنی ان کی اولاد کو جو دیا اس کی دلیل آیت کا یہ حصہ۔ فَتَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (پس اللہ تعالیٰ پاک ہے ان کے شرک سے) ہے اس لئے کہ ضمیر جمع کی لائی گی اور اس لیے بھی کہ آدم و حوا (علیہما السلام) شرک سے بری ہیں۔۔ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر اور بعض نے کہا کہ آیت میں یہود و نصاریٰ مراد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اولاد دی تو ان کو یہودی اور نصرانی بنادیا۔ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں کہ کفار مراد ہیں کہ انہوں نے اپنی اولاد کا نام عبدالعزیٰ اور عبداللات اور عبد مناۃ رکھا اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ تمام مخلوق مخاطب ہے۔ اپنے قول ” خلقکم “ کے ساتھ یعنی ہر ایک کو اس کے باپ سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی بنائی یعنی اس کی جنس سے اس کی بیوی بنائی اور یہ حسن (رح) کا قول ہے۔ اگر اسلاف میں سے عبد اللہ بن عباس ؓ ، مجاہد، سعید بن مسیب اور مفسرین رحمہما اللہ کی ایک جماعت کا یہ قول نہ ہوتا کہ یہ آیت آدم و حوا (علیہما السلام) کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 189–190

189۔ 190۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے کفار مکہ کو خطاب کر کہ فرمایا کہ اللہ نے تم لوگوں کو ایک جان آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا اس ذکر سے اصل میں اللہ پاک اپنی نعمتوں اور احسانوں کو جتلاتا ہے جو اس نے اپنے بندروں پر کئے اور بندے اس کی شکر گذاری عاجز ہیں فرمایا کہ آدم ( علیہ السلام) کو پیدا کر کے پھر ان کی پسلی سے ان کی بیوی حوا کو پیدا کیا تاکہ آدم (علیہ السلام) اور حوا دونوں میں انسیت ہو کیونکہ آدمی کا آدمی کے ساتھ جی لگتا ہے پھر اس میں بھی یہ بہت بڑی حکمت تھی کہ مرد کے واسطے عورت کو پیدا کیا اس کی نسل کا قائم رکھنا منظور تھا اور جو انسیت مرد کو عورت کے ساتھ ہوتی ہے وہ ایک مرد کو ایک مرد کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 179–193

آیت 179 اللہ تبارک و تعالیٰ راہ راست سے بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں اور شیطان لعین کے پیروکاروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد ذرانا ) ” اور ہم نے پیدا کیا۔ “ یعنی ہم نے پیدا کیا اور پھیلایا (لجھنم کثیراً من الجن والانس) ” جہنم کے لئے بہت سے جن اور آدمی “ پس چوپائے بھی ان سے بہتر حالت میں ہیں (لھم قلوب لایفقھون بھا) ” ان کے دل ہیں، جن سے وہ سمجھتے نہیں “ یعنی علم اور سمجھ ان تک راہ نہیں پاتے، سوائے ان کے خلاف قیام حجت کے (ولھم اعین لایبصرون بھا) ” ان کی آنکھیں ہیں، جن سے وہ دیکھتے نہیں “ یعنی وہ ان آنکھوں سے اس طرح نہیں دیکھتے کہ دیکھنا ان کے لئے فائدہ مند ہو بلکہ انہوں نے اپنی بینائ کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 189–193

تخلیق انسانی قول باری ہے ھوالذی خالقکم من نفس واحدۃ وجعل منھا زوجھا۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا) ایک قول ہے کہ ہر جان سے اس کا جوڑا بنایا۔ گویا یوں فرمایا ” جان سے اس کا جوڑا بنایا “۔ اور اس سے جنس مراد لیا۔ آیت کی عبارت میں لفظ جنس پوشیدہ ہے۔ ایک قول ہے کہ آدم (علیہ السلام) و حوا (علیہ السلام) سے پیدا کیا۔ قول باری ہے لئن اتیتنا صالحاً ۔ اگر تو نے ہم کو اچھا سا بچہ دیا) حسن کا قول ہے ” ایک صحیح و سالم بچہ “ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” ایک سالم انسان “ اس لئے کہ ماں باپ کو یہ خوف کھائے جاتا تھا کہ کہیں چوپائے کی شکل کی کوئی مخلوق نہ آجائے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 189–191

268 اولاد آدم میں شرک کا ارتکاب : یعنی آدم و حوا ۔ علیہا الصلوۃ والسلام ۔ تو اس طرح شرک کے ہر شائبہ سے محفوظ رہے مگر ان کے بعدان کی اولاد نے اس شرک کا ارتکاب کیا اور انہوں نے " عبد الشمس "، " عبد العزی "، " عبد مناف "، " عبد النبی "، " عبد الرسول "، " عبد الحسین " جیسے شرکیہ نام رکھے اور آج تک رکھ رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ یہ قول حضرت حسن بصری کا ہے اور اسی کو محققین نے اختیار کیا ہے۔ رہ گیا دوسرا قول کہ ضمیر تثنیہ کا مرجع آدم و حوا ہیں اور یہ کہ اس شرک کا آغاز انہی سے ہوا تھا تو یہ قول مرجوح ہے اور اس بارے جو آثار و روایات وارد ہیں وہ ضعیف اور ناقابل اعتبار ہیں۔ علامہ ابن کثیر جیسے محققین نے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 189–203

انسان کی حقیقت اور مشرکوں کے طریقے تشریح : یوں تو پورا قرآن پاک ہی ہدایت اور رہنمائی سے بھرا پڑا ہے۔ مگر ان آیات میں خاص طور سے پھر انسان کو اپنی پیدائش کا طریقہ بتایا گیا ہے اور پھر گھریلو زندگی اور پرسکون خاندان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) بغیر باپ اور ماں کے اللہ کی قدرت سے پیدا ہوئے سیدہ سیدنا حوا (علیہا السلام) ان سے پیدا ہوئیں مگر بغیر ماں کے، سیدنا عیسیٰ بغیر باپ کے اور پھر اس کے بعد نسل انسانی ماں اور باپ دونوں کے میاں بیوی بن کر آپس کے ملاپ سے مگر اللہ کی قدرت سے بڑھنی شروع ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ جب میاں اور بیوی میں شادی کا رشتہ بن جاتا ہے تو پھر دونوں ایک دوسرے کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 189–206

رکوع نمبر 24 ۔ آیات 189 ۔ تا۔ 206 جہاں تک علوم غیبیہ اور نفع و نقصان کا تعلق ہے تو یہ اوصاف تو اس ذات حمید کے ہیں جس نے تمہیں ایک وجود یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا اور ایسا کریم ہے کہ انسان کی نسل بقا کے لیے اسی وجود میں سے اس کا جوڑا یعنی حوا کو پیدا فرما کر ان میں باہمی محبت و الفت اور ایک لذت وصال رکھ دی کہ انسان نہ صرف بقائے نسل کا کام کرے بلکہ ایک دوسرے سے انس اور روحت بھی حاصل کریں۔ یہ اس کے احسانات ہیں۔ مگر انسانوں کا یہ حال ہے کہ مرد و عورت جمع ہوئے اور حمل قرار پا گیا اب خالق کو اس کا علم ہے جس کی پشت میں تھا وہ بیخبر رہا جس کے پیٹ میں پہنچا اسے پتہ نہیں بغیر کسی پرواہ کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 شرک یہ تھا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کا نام عبدالحارث رکھا ( حارث ابلس کا نام تھا جس وہ گروہ ملائ کہ میں مشہور تھا ، ) ،۔ یہ تشریح جمہور مفسرین کی تفسیر کے مطابق ہے اور کی بنیاد حضرت سمر و ؓ کی ترمذی اور حاکم میں یہ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا۔ جب حوا ( علیہ السلام) چبہ جنا تو ابلیس ان کے پاس آیا، ان کا کوئی لڑا کا زندہ نہ رہتا تھا۔ ابلیس کہنے لگا اس کا نام عبد الحارث رکھو تو وہ زندہ رہے گا چناچہ انہوں نے بچہ کا نام عبدالحارث رکھا اور وہ زندہ بچ گیا۔ یہ سب کچھ شیطان کے اشارے سے تھا لیکن حافظ ابن کثیر اور بعض دوسرے محقق مفسرین نے اس روایت کو ضعیف اور اسرائیلیات سے ما خو ذ قرار دیا ہے خصو صا جب…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 189–190

(7:189) زوجھا۔ اس (مؤنث ) کو جوڑا یعنی خاوند اور زوجہ اس (مذکر) کا جوڑا ۔ یعنی اس کی بیوی۔ گویا زوج کا مطلب ہوا بالمقابل صنف سے ساتھی۔ لیسکن تاکہ تسکین پائے۔ اطمینان حاصل کرے۔ اس میں فاعل نفس ہے جو کہ مؤنث استعمال ہوا ہے۔ لیکن یہاں صیغہ مذکر کا لایا گیا۔ نفس کے معنی کے لحاظ سے کیونکہ اس سے مراد یہاں آدم (مرد) ہے۔ اور اسی مناسبت سے زوج کا لفظ جو اس آیت میں استعمال ہوا ہے اس سے مراد بیوی ہے۔ تغشھا۔ اس (مرد) نے اس (عورت) کو ڈھانکا۔ کنایہ۔ اس مرد نے اس عورت سے ہمبستری کی۔ تغشی المرأۃ۔ وہ عورت کے پاس گیا۔ (اس سے مجامعت کی) غشاوۃ سے پردہ جس سے کوئی شے ڈھانپ دی جائے۔ فمرت بہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 189–190

لغات القرآن۔ زوج۔ جوڑا۔ لیسکن۔ تاکہ وہ سکون حاصل کرے۔ تغشی۔ وہ چھا جاتا ہے۔ حملت۔ اس نے اٹھا لیا۔ حملا خفیفا۔ ہلکا سا بوجھ۔ مرت۔ وہ چلی۔ پھری۔ تشریح : ان آیات میں چند باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ 1۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے پہلا انسان (حضرت آدم (علیہ السلام) اور پہلی عورت (حضرت حوا) کو پیدا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اپنے دست قدرت سے بنایا۔ میاں اور بیوی کے بنانے اور پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں ذہنی سکون، جسمانی لذت اور راحت حاصل کرین۔ 2۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ ان دونوں کے ملنے سے محض جسمانی سکون اور لذت ہی حاصل نہ ہو بلکہ ایسی نسلیں تیار ہوں جن سے کائنات میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 190–191

مشرکین کو تنبیہ اور صلہ رحمی کا ذکر ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ کیا تم ایسی چیزوں کو معبود ٹھراتے ہو جن میں کسی شے کے پیدا کرنے کی قدرت نہیں ہے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں، اور عبادت تو خالق کارساز کو زیبا ہے مخلوق کسی طرح عبادت کی مستحق نہیں ہے۔ ان بتوں سے تو ہزات درجہ تم بہتر ہو کہ تم میں چلنے پھرنے کی طاقت ہے، کھاتے پیتے ہو، بتوں میں کیا قدرت ہے۔ اگر کوئی آکر ان کے ٹکڑے کرڈالے تو یہ کیا اپنا بچاؤ کرسکتے ہیں ؟ پھر جب اپنا اختیار نہیں ہے اور اپنے نفع و نقصان سے یہ بالکل نے خبر ہیں تو تمہاری کیا مدد کرسکتے ہیں اور نہ ان میں سماعت ہے نہ بصارت۔ تم انسان اشرف المخلوقات…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[77] مشرکین عرب صحیح وسالم اولاد کے پیدا ہونے کے لئے تو اللہ ہی سے دعائیں مانگتے تھے لیکن جب صحیح و تندرست بچہ پیدا ہوجاتا تو اللہ کی اس بخشش کے شکریئے میں دوسری ہستیوں کو شریک کرتے تھے۔ لیکن آج کل کے مسلمانوں کی حالت اس سے بھی بدتر ہے۔ یہ تو اولاد کے لئے بھی دوسری ہستیوں کو پکارتے ہیں اور بچہ پیدا ہونے کے بعد نذریں بھی انہی کے آستانوں پر چڑھاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 189–197

(ف 1) عام مفسرین نے یہاں یہ قصہ بیان کیا ہے کہ حواء جب حاملہ ہوئیں ، تو شیطان ان کے پاس آیا اور کہنے لگا جانتی ہو ، اب کیا ہوگا ، تیرے پیٹ سے جانور پیدا ہوگا ، اور خدا جانے کس تکلیف کے انداز میں پیدا ہو ، یا انسانی بچہ پیدا ہو تو ناقص ہو ، میں اللہ کا مقرب ہوں ، اگر میری مانو اور ہونے والے بچے کا نام عبدالحارث رکھو ، تو کوئی اندیشہ نہیں ، حواء اس پر راضی ہوگئیں ، اور بچے کا نام عبدالحارث رکھا ، جو شیطان کا نام ہے ، یہ آیت اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے ، مگر یہ واقعہ حقیقت درست نہیں کیونکہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ خدا کا پیغمبر دوبارہ شیطان کے دھوکے میں آگیا ، حالانکہ مرد مومن بھی دو دفعہ دھوکا نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

190 پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان میاں بیوی کو صحیح سالم اولاد عطا فرمادی تو اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی چیز میں اور اس کی دی ہوئی اولاد میں یہ دونوں خدا کا شریک مقرر کرنے لگے حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کے اس شرک سے بہت پاک و بالاتر ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 190–192

ف 5۔ یہاں تک تو اللہ تعالیٰ کی صفات مذکور تھیں جو مقتضی ہیں اس کے استحقاق معبودیت کو آگے آلہہ باطلہ کے نقائص کا ذکر ہے جو مقتضی ہیں ان کے عدم استحقاق معبودیت کو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کے عطا کردہ فرزند میں دوسروں کو شریک کرنے لگے : 218: جب اللہ نے ان دونوں یعنی ہونے والے (ولد ) کے بننے والے (والد ) اور (والدہ ) کی دعائیں سن لیں اور ایک خوبصورت بچہ یعنی (ولد ) عطا کردیا تو اب شکر گزاری کی بجائے شرک میں مبتلا ہوگئے اور یہ (ولد ) ہی ان کے شرک میں مبتلا ہونے کا باعث بن گیا ۔ جس کی مختلف صورتیں ہیں کبھی تو عقیدہ فاسد ہوگیا اور یوں سمجھ بیٹھے کی یہ بیٹا فلاں ولی یا بزرگ نے دیا ہے کبھی یہ ہوا کہ عملا اس بچہ کو کسی زندہ یا مردہ بزرگ کی طرف منسوب کرنے لگے اور ان کے نام کی نذر و نیاز تقسیم کرنے لگے یا بچہ کو ان کے سامنے لے جا کر پیش کردیا اور ان کے نام کے ( سلام ) بھرنے لگے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 190–193

In short, all the above acts or beliefs are different forms of 'Shirk' ~,. and the worst kind of ungratefulness to Allah, their Lord. The last sentence of this verse confirms misguidance of such people by saying: فَتَعَالَى اللَّـهُ عَمَّا يُشْرِ‌كُونَ "So far beyond is Allah than what they associate with Him." The above interpretation of this verse has made it clear that by referring to the Prophet 'Adam and Hawwa' (Eve) (علیہما السلام) in the first sentence of this verse, the children of 'Adam have been asked to follow him and show their gratefulness to Allah, while the rest of the verse…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 189–190

146. The present and succeeding verses (190-8) seek to refute polytheism. These verses are devoted to highlighting the implications of the postulate which even the polytheists affirmed - that it is God Who originally created the human species. They also acknowledge that every human being owes his existence to God. God also holds absolute power over the entire process leading to man's birth, right from the fertilization of the ovurn in the uterus to its onward development in the form of a living being, then investing it with numerous faculties and ensuring its birth as a sound, healthy baby.…

Read the full tafseer →