Explained with ayahs 189–190
ایک ہی باپ ایک ہی ماں اور تمام نسل آدم
تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے صرف حضرت آدم ؑ سے ہی پیدا کیا۔ انہی سے ان کی بیوی حضرت حوا کو پیدا کیا پھر ان دونوں سے نسل انسان جاری کی۔ جیسے فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ 13) 49۔ الحجرات :13) لوگو ہم نے تمہیں ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے پھر تمہارے کنبے اور قبیلے بنا دیئے تاکہ آپس میں ایک وسرے کو پہچانتے رہو۔ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ ذی عزت وہ ہے جو پرہیزگاری میں سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
سورة الْاَعْرَاف 146
یہاں مشرکین کی جاہلانہ گمراہیوں پر تنقید کی گئی ہے۔ تقریر کا مدعا یہ ہے کہ نوع انسانی کو ابتداء وجود بخشنے والا اللہ تعالیٰ ہے جس سے خود مشرکین کو بھی انکار نہیں۔ پھر ہر انسان کو وجود عطا کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس بات کو بھی مشرکین جانتے ہیں۔ عورت کے رحم میں نطفے کو ٹھیرانا، پھر اس خفیف سے حمل کو پرورش کرکے ایک زندہ بچے کی صورت دینا، پھر اس بچے کے اندر طرح طرح کی قومیں اور قابلیتیں ودیعت کرنا اور اس کو صحیح وسالم انسان بنا کر پیدا کرنا، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اگر اللہ عورت کے پیٹ میں بندر یا سانپ یا کوئی اور عجیب الخلقت حیوان پیدا کردے، یا…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں عقیدہ توحید کا ذکر ہے جو اسلام کا سب سے بڑا بنیادی عقیدہ ہے اور اس کے ساتھ شرک کے باطل اور نامعقول ہونے کا بیان کسی قدر تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔
شروع آیت میں حق تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا ایک مظہر حضرت آدم و حواء کی پیدائش سے اس طرح بیان فرمایا (آیت) هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا، یعنی اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے جس نے سارے بنی آدم کو ایک ذات آدم سے پیدا کیا اور انہیں سے ان کی بی بی حضرت حواء کو پیدا کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ آدم ؑ کو ایک ہم جنس ہم دم کے ذریعہ سکون حاصل ہو۔
اللہ تعالیٰ کی اس صنعت عجیبہ کا تقاضہ یہی…
Read the full tafseer →هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا۔ اس ٹکڑے کے مضمرات پر ہم سورة نساء آیت 1 کے تحت بحث کر آئے ہیں یہاں جعل منہا زوجہا لیسکن الیھا سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ مرد اور عورت کا باہمی تعلق کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے۔ کہ دونوں کے درمیان کوئی فطری مناسبت تو نہ ہو، محض اتفاق سے وہ ایک دوسرے کے لیے سازگار، ہم جنس، سرمایہ تسکین، راحت جان و دل اور ذریعہ اولاد و احفاد بن گئے ہوں بلکہ سورج کی طرح یہ چیز روشن نظر آتی ہے کہ خالق کائنات نے مرد کے اندر عورت کے لیے اضطراب اور تڑپ پیدا کی ہے اور اپھر اس کے اس اضطراب اور اس کی اس ٹرپ کی…
Read the full tafseer →189۔ 1 ابتدا یعنی حضرت آدم ؑ سے۔ اسی لئے انسان اول اور ابو البشر کہا جاتا ہے۔
189۔ 2 اس سے مراد حضرت حوا ہیں، جو حضرت آدم ؑ کی زوج بنیں۔ ان کی تخلیق حضرت آدم ؑ سے ہوئی، جس طرح کہ منھا کی ضمیر سے، جو نفس واحدۃ کی طرف راجع ہے اور واضح ہے (مزید دیکھئے سورت نساء کا حاشیہ)
189۔ 3 یعنی اس سے اطمینان و سکون حاصل کرے۔ اس لئے کہ ایک جنس اپنے ہی ہم جنس سے صحیح معنوں میں مانوس اور قریب ہوسکتی ہے جو سکون حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔ قربت کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–194
97:”ایک جان“ سے مراد حضرت آدم ؑ ہیں، اور ان کی بیوی سے مراد حضرت حواء (علیہما السلام)
98: اب یہاں سے حضرت آدم ؑ کی ایسی اولاد کا ذکر ہورہا ہے جس نے بعد میں شرک کا راستہ اختیار کیا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–198
تفسیر آیات 189 تا 198:۔
عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
1 خدا نے سب انسانوں کو آدم سے پیدا کیا۔ آدم کے انس اور سکون وقرار حاصل کرنے کے لیے اسی کے اندر اس کا جوڑا (حواء) بنایا۔ پھر دونوں سے نسل چلی۔ جب مرد نے عورت سے فطری خواہش پوری کی تو عورت حاملہ ہوئی، حمل کی ابتدائی حالت میں کوئی گرانی نہ تھی۔ عورت حسب معمول چلتی پھرتی اور اٹھتی بیٹھتی رہی۔ جب پیٹ بڑھ گیا، اور یہ کون جان سکتا تھا کہ اس کے اندر کیا چیز پوشیدہ ہے، تب مرد و عورت دونوں نے حق تعالیٰ کی جناب میں عرض کیا کہ اگر آپ اپنے فضل سے بھلا چنگا کار آمد بچہ عنایت فرمائیں گے تو ہم دونوں (بلکہ ہماری نسل بھی) تیرا شکر ادا کرتی رہے گی۔ خدا نے جب ان کی یہ تمنا پوری کردی تو ہماری دی ہوئی چیز میں…
Read the full tafseer →آیت 189 ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّجَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا لِیَسْکُنَ اِلَیْہَا ج۔
اس نکتے کی وضاحت سورة البقرۃ کی آیت 187 وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْص کے مطالعے کے دوران گزر چکی ہے۔ شوہر اور بیوی کے تعلقات میں جہاں اولاد کا معاملہ ہے وہاں تسکین اور سکون کا پہلو بھی ہے۔
فَلَمَّا تَغَشّٰٹہَا حَمَلَتْ حَمْلاً خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِہٖ ج۔
ابتدا میں حمل اتنا خفیف ہوتا ہے کہ پتا بھی نہیں چلتا کہ کوئی حمل ٹھہر گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–189
188 علم غیب جاننے کے فائدے غیب کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے علم غیب جاننے کے دو فائدے بتلائے ہیں۔ ایک یہ کہ علم غیب جاننے والا اپنے لیے بہت سی بھلائیاں جمع کرسکتا ہے مثلاً ایک عام مثال لیجئے اگر کسی کو یہ بات یقینی طور پر معلوم ہو کہ فلاں وقت فلاں چیز کا بھاؤ اس حد تک چڑھ جائے گا تو وہ آسانی سے بہت نفع حاصل کرسکتا اور بہت سا مال و دولت کما سکتا ہے اور دوسرا یہ کہ ایسے شخص کو کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی۔ اس لیے کہ وہ بروقت یا وقت سے پہلے اس کا علاج سوچ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میں تو اپنے بھی نفع و نقصان کا کچھ اختیار…
Read the full tafseer →277 ۔ یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے۔ نہ کہ متعدد مورثوں سے۔ قال جمھور المفسرین المراد بالنفس الواحدۃ ادم (قرطبی) (آیت) ” خلقکم “۔ میں ضمیر نوع انسان کی جانب ہے، یعنی کل نسل انسانی ایک ہی ابو البشر کی اولاد میں ہے۔ یہ نہیں کہ مختلف قوموں، نسلوں قبیلوں کے مورث اعلی بھی الگ الگ ہوں۔
278 ۔ یعنی حضرت حوا کو۔ (آیت) ” منھا “۔ ضمیر نفس کی طرف بالکل ظاہر ہے لیکن خود نفس سے مراد جنس بھی لی جاسکتی ہے اور لی گئی ہے۔ قیل یرید بہ الجنس (جصاص) والمراد خلق من النوع الانسانی زوجۃ ادم والمقصود التنبیہ علی انہ تعالیٰ جعل زوج ادم انسانا مثلہ (کبیر) ای من جنسھا (روح) ملاحظہ ہو پارہ 4 سورة النساء کی آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–206
آیت نمبر 189 تا 206
ترجمہ : وہ یعنی اللہ ہی ہے جس نے تم کو ایک جان یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا حوّاء کو پیدا کیا تاکہ اس سے سکون حاصل کرے اور اس سے الفت کرے، چناچہ جب اس کو ڈھانپ لیا یعنی اس سے مجامعت کی، اگر اس کو ہلکا سا حمل رہ گیا، اور اس بات سے خوفزدہ ہوئے کہ وہ (حمل) کوئی جانور نہ ہو تو انہوں نے اپنے رب اللہ سے دعاء کی، اگر آپ ہمیں نیک صحیح سالم بچہ عطا فرمائیں تو ہم اس پر آپ کے شکر گذار ہوں گے، چناچہ جب ان کو صحیح سالم اولاد دیدی تو دونوں (بیوی) نے (اللہ کے) عطا کردہ بچے کا نام عبدالحارث رکھ کر خدا کا شریک قراردیدیا، اور ایک قراءت میں شین کے کسرہ اور…
Read the full tafseer →ہو الذی خلقکم من نفس واحدۃ وجعل منہا زوجہا لیسکن الیہا فلما تغشہا حملت حملا خفیفا فمرت بہ فلما اثقلت دعوا اللہ ربہما لئن اتیتنا صالحا لنکونن من الشکرین : اللہ وہی ہے جس نے تم کو ایک تن واحد (آدم) سے پیدا کیا اور اسی (کے اندر) سے اس کا جوڑا (حواء کو) پیدا کیا تاکہ وہ اپنے جوڑے سے سکون خاطر حاصل کرے پھر جب میاں نے بیوی سے قربت کی تو اس نے ہلکا سا بوجھ اٹھا لیا اتنا کہ اس کو لئے پھرتی رہی پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں میاں بی بی نے اللہ سے جو ان کا رب تھا دعا کی کہ اگر تو نے ہمیں صحیح سالم بچہ دے دیا تو ہم بڑے شکر گزار ہوں گے۔
من نفس واحدۃ ایک شخص سے یعنی حضرت آدم ( علیہ السلام) سے وجعل منہا…
Read the full tafseer →(189) تم سب لوگوں کو آدم ؑ کے نفس سے پیدا کیا اور انھیں کے نفس سے ان کی بیوی حضرت حواء (علیہا السلام) کو پیدا کیا، پھر میاں بیوی نے قربت کی تو ہلکا ساحمل لیے ہوئے چلتی پھرتی رہی، پھر جب حمل بوجھل ہوا تو ابلیس کے وسوسہ سے یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ کہیں کوئی جانور تو نہ ہو تو دعا کی کہ اگر یہ صحیح سالم اولاد ہو تو ہم اس پر خوب صبر کریں گے ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ۔۔ : ایک جان، یعنی آدم ؑ سے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نساء کی پہلی آیت۔
لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا۔۔ : معلوم ہوا میاں بیوی کے تعلق کا اصل سکون و راحت ہے۔ دیکھیے سورة روم (21) ”فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا“ جس مقصد کے لیے قرآن مجید نے یہ الفاظ استعمال فرمائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ ان سے بڑھ کر ادب، حیا، پردے اور پاکیزگی کے ساتھ وہ مطلب ادا کرنے والے اور لفظ ملنا مشکل ہیں۔ ”صَالِحًا“ یعنی صحیح و سالم بچہ، جس میں کوئی جسمانی نقص نہ ہو۔
اس آیت کی صحیح تفسیر جسے حافظ ابن کثیر اور دوسرے محققین نے اختیار فرمایا ہے، وہ ہے جو حسن بصری ؓ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
آیت نمبر : 189۔ 190
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبرا :
قولہ تعالیٰ : آیت : ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ جمہور مفسرین نے کہا ہے : اس میں نفس واحد ( ایک نفس) سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ آیت : وجعل منھا زوجھا) اور بنایا اس نے جوڑا) یعنی حواء (علیہا السلام) سے۔ آیت : لیسکن الیھا تاکہ وہ اس سے انس حاصل کریں اور اطمینان پائیں اور یہ سب جنت میں ہوا۔ پھر دوسری حالت کا آغاز ہوا جو ان دونوں کے زمین پر اترنے کے بعد دنیا میں پیش آئی۔ پس فرمایا : آیت : فلما تغشھا یہ جماع سے کنایہ ہے۔ آیت : حملت حملا خفیفا ہر وہ شے ہے جو پیٹ میں ہو یا درخت کے اوپر ہو تو وہ حمل کہلاتی ہے ( یعنی اس میں حا مفتوح ہے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–193
(1) امام احمد، ترمذی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور ھاکم نے (ترمذی نے اس کو حسن اور حاکم نے صحیح کہا) سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب حواء کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اس کے گرد ابلیس گھوما اور لڑکا زندہ نہیں رہتا تھا شیطان نے کہا اس کا نام عہد الحارث رکھ دو ۔ تو وہ زندہ رہے گا تو انہوں نے اس کا نام عبد الحارث رکھ دیا تو وہ زندہ رہا۔ تو یہ شیطان کے الہام میں سے تھا اور اس کو حکم تھا۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن مردویہ نے سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فلما اتھا صالحا جعلا لہ شرکاء “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اس (لڑکے) کا نام عبد…
Read the full tafseer →[ هُوَ : وہ ] [ الَّذِيْ : وہ ہے جس نے ] [ خَلَقَكُمْ : پیدا کیا تم لوگوں کو ] [ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ : ایک جان سے ] [ وَّجَعَلَ : اور اس نے بنایا ] [ مِنْهَا : اس (جان ) سے ] [ زَوْجَهَا : اس کا جوڑا ] [ لِيَسْكُنَ : تاکہ وہ سکون پکڑے ] [ اِلَيْهَا ۚ : اس سے ] [ فَلَمَّا : پھر جب ] [ تَغَشّٰىهَا : اس (مذکر) نے ڈھانپ لیا اس (مؤنث ) نے اٹھایا ] [ حَمَلَتْ : تو اس (مونث) نے اٹھایا ] [ حَمْلًا خَفِيْفًا : ایک ہلکا بوجھ ] [ فَمَرَّتْ : پھر وہ چلی ] [ بِهٖ ۚ : اس کے ساتھ ] [ فَلَمَّآ : پھر جب ] [ اَثْقَلَتْ : اس نے بوجھ لادا ] [ دَّعَوَا : تو دونوں نے پکارا ] [ اللّٰهَ : اللہ کو ] […
Read the full tafseer →بیوی قلبی سکون کے لیے ہے
ان آیات میں اول تو اللہ جل شانہٗ نے اولاد آدم کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا۔ پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا۔ پھر جب انہوں نے تنہائی محسوس کی اور طبعی طور پر انس و الفت کی ضرورت محسوس کرنے لگے تو ان کی بائیں پسلی سے ان کا جوڑا پیدا فرما دیا۔ جس کا نام حواء تھا۔ اس جوڑے کی ضرورت ظاہر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (لِیَسْکُنَ اِلَیْھَا) تاکہ وہ اپنے جوڑے کے پاس قرار پکڑے۔ تھکا ماندہ اپنے گھر آئے تو اپنے گھر کو آرام کی جگہ پائے۔
سورۂ روم میں فرمایا (وَ مِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا وَ جَعَلَ بَیْنَکُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–202
اثبات توحید وابطال شرک
قال اللہ تعالیٰ ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ثم لا یقصرون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور کمال علم و حکمت کا ذکر تھا کہ وہی ہر نفع اور ضرر کا مالک ہے اور وہی عالم الغیب ہے اور شروع سورت میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہا السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اب سورت قریب الختم ہے اس لیے حضرت آدم اور حوا کا قصہ اجمالی طور پر دوبارہ ذکر فرماتے ہیں جس سے مقصود توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال ہے اگرچہ گزشتہ آیات میں بھی توحید خداوندی کا مختصر سا ذکر ہوا ہے لیکن ان آیات میں اس مضمون کو قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہی اللہ ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
185: یہ دوسرے دعوی سے متعلق ہے یعنی اولاد کے لیے غیر اللہ کی نذریں نیازیں دیتے ہیں۔ مفسرین کے نزدیک “ نَفْسٍ وَّاحِدَةً ” حضرت آدم (علیہ السلام) مراد ہیں۔ ان آیتوں میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے بعض لوگ اس کو حضرت آدم و حوا (علیہما السلام) کی طرف منسوب کرتے ہیں اور ایک روایت سے تمسک کرتے ہیں۔ محققین نے اس روایت کو غیر معتبر اور اسرائیلیات سے قراردیا ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ “ فَلَمَّا تَغَشّٰھَا ” سے روئے سخن بنی آدم کی طرف ہوگیا ہے اور تثنیہ کے صیغوں سے اولاد آدم میں سے مشرک خاوند بیوی مراد ہیں کہ وہ پہلے تو اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہیں کہ ان کے گھر میں صحیح اور تندرست بیٹا پیدا ہوا اور وہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
ربط آیات
گزشتہ سے پیوستہ رکوع کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنہ کا ذکر فرمایا اور حکم دیا کہ مجھے انہی ناموں سے پکارا کرو اور یہ کہ ان ناموں میں الحاد نہ کرو یعنی اللہ تعالیٰ کا اہم خاص غیر اللہ پر مت بولو ، اس کی صفت اور اسم کو غلط معنی نہ پہنائو یا ان کو غلط جگہ پر استعمال نہ کرو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارض وسما کی سلطنت میں غور وفکر کی دعوت دی جس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا بیان کرنا اور اس کی وحدانیت کو سمجھنا مقصود ہعے اس کے ساتھ معاذ کا بیان بھی ہوا کہ لوگ آپ سے وقوع قیامت کے وقت کے متعلق دریافت کرتے ہیں تو اس کا جواب یہ دیا گیا کہ یہ چیز باری تعالیٰ کی ذات کے ساتھ مختص…
Read the full tafseer →ہُوَالَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّجَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا لِيَسْكُنَ اِلَيْہَا 0 ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىہَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِہٖ 0 ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللہَ رَبَّہُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ 189
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–193
ترکیب : الاماشاء اللّٰہ استثناء ہے جنس سے ولوکنت شرط لا ستکثرت جواب وما نا فیہ مسنی الخ معطوف ہے لا ستکثرت پر تتّمہ جواب ہے جعل بمعنی خلق زوجہا اس کا مفعول فلما تغشاھا شرط حملت الخ جواب فمرت بہ تشدید راء سے پڑھا جاوے گا تو مرور سے مشتق ہوگا اور بالتخفیف والالف مارت من المور وھوالذہاب والبحئی فلما آتاھما الخ شرط جعلالہ جواب شرکاء جمع شریک مفعول جعلا فیما آتاھما جار متعلق فعل سے۔
تفسیر : دوسرا شبہ : دوسرا شبہ منکرین کا آنحضرت (علیہ السلام) کی نبوت پر یہ تھا کہ اگر آپ نبی برحق ہیں تو ہمارے کہنے کے موافق کیوں ہمارے دنیاوی مضرات دور نہیں کردیتے ٗ قحط کھودو ٗ ہم محتاج ہیں غنی کر دو ۔ ہمارے فلاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–192
گمراہی کے دوسبب :
پیشِ نظر رکوع شروع کرنے سے پہلے دو باتیں ذہن نشین کرلینی چاہییں۔
1 قومیں جن اسباب سے گمراہی کا شکار ہوتی ہیں ان میں کبھی تو یہ سبب ہوتا ہے کہ وہ پیغمبر کی حیثیت اور اس کے مقام کو نہ سمجھنے کے باعث اس پر ایمان لانے سے محروم رہتی ہیں اور اس سے وہ مطالبات کرتی چلی جاتی ہیں جن کا تعلق نبوت سے نہیں ہوتا اس لحاظ سے وہ نبوت اور الوہیت کو خلط ملط کردیتی ہیں۔ پیغمبر ان کے لیے اسوہ حسنہ بن کر آتا ہے اور وہ اسے الوہیت کے مقام پر فائز دیکھنا چاہتی ہیں۔ نتیجہ واضح ہے کہ یہ دونوں چیزیں چونکہ الگ الگ حقیقت رکھتی ہیں اس لیے دونوں کی پہچان کا دارومدار الگ الگ حقیقت کو سمجھنے پر ہے جب قومیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–193
فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں یہ ثابت کیا گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ مختار کل اور عالم الغیب نہیں۔ مختار کل اور غیب کا علم جاننے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وہی ذات ہے جس نے پہلے انسان کو پیدا کیا اور پھر اس سے اس کی بیوی کو پیدا فرمایا ہے۔
عقیدۂ توحید دین کی روح اور اس کی بنیاد ہے۔ اسے سمجھانے کے لیے قرآن مجید نے کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیزوں سے استدلال کرکے عقیدۂ توحید کو واضح کیا ہے۔ سب سے پہلا توحید کے لیے جو استدلال پیش کیا گیا ہے وہ انسان کی تخلیق کے متعلق ہے۔ پہلی وحی میں فرمایا گیا کہ اس رب کے نام کے ساتھ پڑھیے جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا سورة النساء…
Read the full tafseer →آدم ( علیہ السلام) و حو ّا ( علیہ السلام) کی پیدائش :
آیت 189: ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ (وہی ہے جس نے تم کو ایک جسم سے پیدا کیا) وہ آدم کی ذات ہے وَّجَعَلَ مِنْھَا زَوْجَھَا (اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حواء۔ ان کو آدم کے جسم کی پسلیوں میں سے کسی پسلی سے پیدا فرمایا لِیَسْکُنَ اِلَیْھَا (تاکہ وہ اپنے اس جوڑے سے انس حاصل کرے) تاکہ وہ مطمئن اور مائل ہوں کیونکہ جنس جنس کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہے۔ خاص طور پر جبکہ وہ اس کا ایک حصہ ہو جیسا کہ انسان اپنے بیٹے سے مانوس ہوتا ہے اور اس سے اس طرح محبت کرتا ہے جیسا اپنی جان سے محبت کرتا ہے کیونکہ وہ اس کا ٹکڑا ہے۔
مسئلہ : لیسکن…
Read the full tafseer →189(ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ) یعنی آدم (علیہ السلام) سے (وجھل منھا زوجھا) یعنی حواء (علیہما السلام) (لیسکن الیھا) تاکہ اس سے انس حاصل کرے (فلما تغشھا) یعنی جماع کیا (حملت حملاً خفیفاً ) یہ نطفہ سے حمل کی ابتداء ہے کہ ابتداء میں عورت پر ہلکا ہوتا ہے (فمرت بہ) یعنی اس حمل کے ساتھ چلتی پھرتی اٹھتی بیٹھتی رہی، کوئی بوجھ محسوس ن ہوا (فلما اثقلت ) یعنی بچہ اس کے پی ٹ میں بڑا ہوگیا اور اپنے حمل سے بوجھل ہوگئی اور اس کی ولادت قریب ہوگئی۔
(دعوا اللہ ربھما) یعنی آدم (علیہ السلام) اور حواء عل یہما السلام نے (لئن اتیتنا صالحا) یعنی ہمارے جیسا تندرست بچہ (لنکونن من الشکرین) مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
189۔ 190۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے کفار مکہ کو خطاب کر کہ فرمایا کہ اللہ نے تم لوگوں کو ایک جان آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا اس ذکر سے اصل میں اللہ پاک اپنی نعمتوں اور احسانوں کو جتلاتا ہے جو اس نے اپنے بندروں پر کئے اور بندے اس کی شکر گذاری عاجز ہیں فرمایا کہ آدم ( علیہ السلام) کو پیدا کر کے پھر ان کی پسلی سے ان کی بیوی حوا کو پیدا کیا تاکہ آدم (علیہ السلام) اور حوا دونوں میں انسیت ہو کیونکہ آدمی کا آدمی کے ساتھ جی لگتا ہے پھر اس میں بھی یہ بہت بڑی حکمت تھی کہ مرد کے واسطے عورت کو پیدا کیا اس کی نسل کا قائم رکھنا منظور تھا اور جو انسیت مرد کو عورت کے ساتھ ہوتی ہے وہ ایک مرد کو ایک مرد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 179–193
آیت 179
اللہ تبارک و تعالیٰ راہ راست سے بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں اور شیطان لعین کے پیروکاروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد ذرانا ) ” اور ہم نے پیدا کیا۔ “ یعنی ہم نے پیدا کیا اور پھیلایا (لجھنم کثیراً من الجن والانس) ” جہنم کے لئے بہت سے جن اور آدمی “ پس چوپائے بھی ان سے بہتر حالت میں ہیں (لھم قلوب لایفقھون بھا) ” ان کے دل ہیں، جن سے وہ سمجھتے نہیں “ یعنی علم اور سمجھ ان تک راہ نہیں پاتے، سوائے ان کے خلاف قیام حجت کے (ولھم اعین لایبصرون بھا) ” ان کی آنکھیں ہیں، جن سے وہ دیکھتے نہیں “ یعنی وہ ان آنکھوں سے اس طرح نہیں دیکھتے کہ دیکھنا ان کے لئے فائدہ مند ہو بلکہ انہوں نے اپنی بینائ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–193
تخلیق انسانی
قول باری ہے ھوالذی خالقکم من نفس واحدۃ وجعل منھا زوجھا۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا) ایک قول ہے کہ ہر جان سے اس کا جوڑا بنایا۔ گویا یوں فرمایا ” جان سے اس کا جوڑا بنایا “۔ اور اس سے جنس مراد لیا۔ آیت کی عبارت میں لفظ جنس پوشیدہ ہے۔ ایک قول ہے کہ آدم (علیہ السلام) و حوا (علیہ السلام) سے پیدا کیا۔ قول باری ہے لئن اتیتنا صالحاً ۔ اگر تو نے ہم کو اچھا سا بچہ دیا) حسن کا قول ہے ” ایک صحیح و سالم بچہ “ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” ایک سالم انسان “ اس لئے کہ ماں باپ کو یہ خوف کھائے جاتا تھا کہ کہیں چوپائے کی شکل کی کوئی مخلوق نہ آجائے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–191
268 اولاد آدم میں شرک کا ارتکاب : یعنی آدم و حوا ۔ علیہا الصلوۃ والسلام ۔ تو اس طرح شرک کے ہر شائبہ سے محفوظ رہے مگر ان کے بعدان کی اولاد نے اس شرک کا ارتکاب کیا اور انہوں نے " عبد الشمس "، " عبد العزی "، " عبد مناف "، " عبد النبی "، " عبد الرسول "، " عبد الحسین " جیسے شرکیہ نام رکھے اور آج تک رکھ رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ یہ قول حضرت حسن بصری کا ہے اور اسی کو محققین نے اختیار کیا ہے۔ رہ گیا دوسرا قول کہ ضمیر تثنیہ کا مرجع آدم و حوا ہیں اور یہ کہ اس شرک کا آغاز انہی سے ہوا تھا تو یہ قول مرجوح ہے اور اس بارے جو آثار و روایات وارد ہیں وہ ضعیف اور ناقابل اعتبار ہیں۔ علامہ ابن کثیر جیسے محققین نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–203
انسان کی حقیقت اور مشرکوں کے طریقے
تشریح : یوں تو پورا قرآن پاک ہی ہدایت اور رہنمائی سے بھرا پڑا ہے۔ مگر ان آیات میں خاص طور سے پھر انسان کو اپنی پیدائش کا طریقہ بتایا گیا ہے اور پھر گھریلو زندگی اور پرسکون خاندان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) بغیر باپ اور ماں کے اللہ کی قدرت سے پیدا ہوئے سیدہ سیدنا حوا (علیہا السلام) ان سے پیدا ہوئیں مگر بغیر ماں کے، سیدنا عیسیٰ بغیر باپ کے اور پھر اس کے بعد نسل انسانی ماں اور باپ دونوں کے میاں بیوی بن کر آپس کے ملاپ سے مگر اللہ کی قدرت سے بڑھنی شروع ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ جب میاں اور بیوی میں شادی کا رشتہ بن جاتا ہے تو پھر دونوں ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–206
رکوع نمبر 24 ۔ آیات 189 ۔ تا۔ 206
جہاں تک علوم غیبیہ اور نفع و نقصان کا تعلق ہے تو یہ اوصاف تو اس ذات حمید کے ہیں جس نے تمہیں ایک وجود یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا اور ایسا کریم ہے کہ انسان کی نسل بقا کے لیے اسی وجود میں سے اس کا جوڑا یعنی حوا کو پیدا فرما
کر ان میں باہمی محبت و الفت اور ایک لذت وصال رکھ دی کہ انسان نہ صرف بقائے نسل کا کام کرے بلکہ ایک دوسرے سے انس اور روحت بھی حاصل کریں۔ یہ اس کے احسانات ہیں۔
مگر انسانوں کا یہ حال ہے کہ مرد و عورت جمع ہوئے اور حمل قرار پا گیا اب خالق کو اس کا علم ہے جس کی پشت میں تھا وہ بیخبر رہا جس کے پیٹ میں پہنچا اسے پتہ نہیں بغیر کسی پرواہ کے…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی آدم ( علیہ السلام) سے مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورة نسا آیت 1)7 یعنی صحیح وسالم بچہ کوئی جسمانی نقص نہ ہو ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
(7:189) زوجھا۔ اس (مؤنث ) کو جوڑا یعنی خاوند اور زوجہ اس (مذکر) کا جوڑا ۔ یعنی اس کی بیوی۔ گویا زوج کا مطلب ہوا بالمقابل صنف سے ساتھی۔
لیسکن تاکہ تسکین پائے۔ اطمینان حاصل کرے۔ اس میں فاعل نفس ہے جو کہ مؤنث استعمال ہوا ہے۔ لیکن یہاں صیغہ مذکر کا لایا گیا۔ نفس کے معنی کے لحاظ سے کیونکہ اس سے مراد یہاں آدم (مرد) ہے۔ اور اسی مناسبت سے زوج کا لفظ جو اس آیت میں استعمال ہوا ہے اس سے مراد بیوی ہے۔
تغشھا۔ اس (مرد) نے اس (عورت) کو ڈھانکا۔ کنایہ۔ اس مرد نے اس عورت سے ہمبستری کی۔ تغشی المرأۃ۔ وہ عورت کے پاس گیا۔ (اس سے مجامعت کی) غشاوۃ سے پردہ جس سے کوئی شے ڈھانپ دی جائے۔
فمرت بہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
لغات القرآن۔
زوج۔ جوڑا۔ لیسکن۔ تاکہ وہ سکون حاصل کرے۔ تغشی۔ وہ چھا جاتا ہے۔ حملت۔ اس نے اٹھا لیا۔ حملا خفیفا۔ ہلکا سا بوجھ۔ مرت۔ وہ چلی۔ پھری۔
تشریح : ان آیات میں چند باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
1۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے پہلا انسان (حضرت آدم (علیہ السلام) اور پہلی عورت (حضرت حوا) کو پیدا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اپنے دست قدرت سے بنایا۔ میاں اور بیوی کے بنانے اور پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں ذہنی سکون، جسمانی لذت اور راحت حاصل کرین۔
2۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ ان دونوں کے ملنے سے محض جسمانی سکون اور لذت ہی حاصل نہ ہو بلکہ ایسی نسلیں تیار ہوں جن سے کائنات میں…
Read the full tafseer →بچے کا نام نیک رکھنے کی ہدایت
ان آیتوں میں فرمایا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرکے پھر ان کی پسلی سے ان کی بیوی حوا کو پیدا کیا تاکہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا (علیہما السلام) دونوں میں انسیت ہو اور نسل قائم ہو۔ جب جنت سے حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا (علیہما السلام) روئے زمین پر اتار دیے گئے تو فرمایا کہ جب حضرت حضرت آدم (علیہ السلام) حوا کے ساتھ ہم بستر ہوئے تو حوا کو حمل رہ گیا۔ اور جب تک حمل کا ابتدائی زمانہ رہا کوئی تکلیف حوا کو نہیں ہوئی۔ نہ چلنے پھرنے میں نہ کھانے پینے میں، نہ کام کاج میں، سب آصانی سے کرلیا کرتی تھیں۔ پھر کچھ دنوں کے بعد حوا کو بوجھ معلوم ہوتا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–189
[75] یعنی آدم سے۔
[76] مرد کا ڈھانپ لینا کنایہ ہے جماع کرنے سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–197
(ف 1) عام مفسرین نے یہاں یہ قصہ بیان کیا ہے کہ حواء جب حاملہ ہوئیں ، تو شیطان ان کے پاس آیا اور کہنے لگا جانتی ہو ، اب کیا ہوگا ، تیرے پیٹ سے جانور پیدا ہوگا ، اور خدا جانے کس تکلیف کے انداز میں پیدا ہو ، یا انسانی بچہ پیدا ہو تو ناقص ہو ، میں اللہ کا مقرب ہوں ، اگر میری مانو اور ہونے والے بچے کا نام عبدالحارث رکھو ، تو کوئی اندیشہ نہیں ، حواء اس پر راضی ہوگئیں ، اور بچے کا نام عبدالحارث رکھا ، جو شیطان کا نام ہے ، یہ آیت اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے ، مگر یہ واقعہ حقیقت درست نہیں کیونکہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ خدا کا پیغمبر دوبارہ شیطان کے دھوکے میں آگیا ، حالانکہ مرد مومن بھی دو دفعہ دھوکا نہیں…
Read the full tafseer →189 وہ اللہ تعالیٰ وہ ہے اور اس کی شان ایسی ہے جس نے تم کو نفسِ واحدہ اور ایک جاندار سے پیدا کیا یعنی سب کو حضرت آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا اور اسی جاندار سے اس کا جوڑا بنایا یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے ان کی بیوی حواؔ کو نکالا تاکہ وہ آدم (علیہ السلام) اس سے سکون و اطمینان حاصل کرے جیسا کہ عام طور پر مردو عورت میں باہمی انس ہوتا ہے پھر جب مرد عورت سے ہم بستر اور ہم فراش ہوا تو عورت کو حمل ہوگیا جو ابتدائً ہلکا سا تھا کہ وہ اس حمل کو لئے ہوئے ہر طرف چلتی پھرتی رہی پھر جب وہ زیادہ بوجھل ہوگئی تو دونوں میاں بیوی اللہ تعالیٰ سے جو ان کا رب ہے یوں دعا کرنے لگے کہ اگر تو نے ہم کو صحیح سالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–189
ف 2۔ یعنی دوسرے کسی کو اس کی اطلاع نہیں۔
3۔ اور وہ ظاہر کرنا یہ ہوگا کہ اس کو واقع کردے گا اس وقت سب کو پوری خبر ہوجائے گی۔
4۔ بعض علوم اللہ نے اپنے خزانہ علم میں مکنون رکھے ہیں انبیاء کو بھی تفصیلا اطلاع نہیں دی اس آیت سے اور حدیث ما المسول عنہا باعلم من السائل۔ رواہ الشیخان۔ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یقین و تفصیل کے ساتھ قیامت کی اطلاع آپ سے بھی مخفی تھی۔
Read the full tafseer →سارے انسانوں کو ایک جنس واحد بنانے کا اعلان الٰہی :
216: نفس واحدۃ ای من جنس واحدۃ یعنی ایک جنس سے پیدا کیا ۔ منھا زوجھا اس سے یعنی اس کی جنس ہی سے اس کا جوڑا بھی لیسکن الیھا تاکہ وہ اس سے راحت و سکون حاصل کرے ۔ تغشٰھا غشی ڈھانک لینا ، پردہ ڈالنا ۔ کنایہ ہے وظیفہ زوجیت سے ۔ انسانی زندگی کا یہ فطری ملاپ بھی تو حدو الٰہی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔ آیت کے معنی بالکل صاف ہیں لیکن اس ( نفس واحدۃ ) کے لفظ نے اکثر مفسرین کو اس طرف مائل کردیا ہے کہ اس جگہ بھی آدم و حوا علیہھما السلام مراد ہیں حالانکہ اس کی کوئی اصل نہیں اور نہ ہی اس سلسلہ میں کوئی صحیح حدیث موجود ہے بلکہ یہ بیان ہے اس اضطراب…
Read the full tafseer →The next verse 189 speaks of the most basic belief of Islam that is Tauhid and, at the same time, brings out the falsity of believing in more than one god. In the beginning of the verse Allah سُبحَانہ و تعالیٰ has mentioned the creation of Sayyidna 'Adam and Sayyidah Hawwa' (علیہما السلام) which was a manifestation of His perfect power. The verse said:
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا
"He is the One who has created you from a single soul and from him created his wife, so that he may find comfort in her."
This manifestation of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
146. The present and succeeding verses (190-8) seek to refute polytheism. These verses are devoted to highlighting the implications of the postulate which even the polytheists affirmed - that it is God Who originally created the human species. They also acknowledge that every human being owes his existence to God. God also holds absolute power over the entire process leading to man's birth, right from the fertilization of the ovurn in the uterus to its onward development in the form of a living being, then investing it with numerous faculties and ensuring its birth as a sound, healthy baby.…
Read the full tafseer →